Baaghi TV

Author: +9251

  • باپ کو بزنس میں نقصان ہوا تو گھر کی تمام ذمہ داری مجھ پر آ گئی  ہمایوں سعید

    باپ کو بزنس میں نقصان ہوا تو گھر کی تمام ذمہ داری مجھ پر آ گئی ہمایوں سعید

    کامیاب اداکار اور پرڈیوسر ہمایوں سعید نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ انہوں‌نے بچپن میں بہت برے حالات دیکھے ہیں اور پڑھنے لکھنے کی عمر میں گھر کی زمہ داریوں کو نبھانے میں لگ گئے. اداکار ہمایوں سعید نے کہا کہ میرے والد کو بزنس میں بہت بڑا نقصان ہوا پھر میرا چھوٹا بھائی کسی حادثے میں ٹانگوں سے معذور ہو گیا. یوں گھریلو حالات ایکدم خراب ہو گئے میں چونکہ پڑھ لکھ رہا تھا اور بڑا تھا مجھ پہ تمام تر ذمہ داریاں آن پڑیں. میرے والدین میرے چھوٹے بھائی کی معذوری کی وجہ سے بہت دکھی ہوئے اس دکھ نے ان کی صحت پر بہت زیادہ اثر
    ڈالا . ہمایوں سعید نے انٹرویو میں اپنے مشکل کے دنوں کو یاد کیا اور بتایا کہ وہ اور ان کی پوری فیملی بے حد مشکل وقت سے گزری. کہیں کسی

    خوشی اور بہتری کی امید نظر نہیں آتی تھی لیکن وہ وقت بھی گزر گیا آج اللہ کا ہر حوالے سے کرم ہے اس نے مجھے عزت دی ہمارے گھر کے
    حالات بدلے. یاد رہے کہ ہمایوں سعید کے چار بھائی ہیں ایک اداکاری کے میدان میں ہے دوسرا ڈائریکشن کے میدان میں ہے. ہمایوں سعید کے جو بھائی ٹانگوں سے معذور ہیں کبھی نہیں چل ہیں پائیں گے وہ ہمایوں سعید کے ڈائریکٹر بھائی کے ساتھ رہتے ہیں جبکہ ہمایوں کا ایک بھائی امریکہ میں مقیم ہے.

  • پی آئی اے کا دشمن وہ ہے جس نے بزنس کلاس ختم کی ، چیئرمین پی اے سی

    پی آئی اے کا دشمن وہ ہے جس نے بزنس کلاس ختم کی ، چیئرمین پی اے سی

    قومی ائرلائن کی پریمیئر سروس شروع کرنے، سروس میں 3 ارب 19 کروڑ کا نقصان ہونے اور انکوائری بند کرنے سے متعلق بحث کے دوران چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ پی آئی اے کا دشمن وہ ہے جس نے بزنس کلاس ختم کی

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں ایوی ایشن ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ 2019-20ء کا جائزہ لیا گیا۔پی اے سی نے گوادر ائرپورٹ کے لیے مختص 1.8 ارب کے فنڈز استعمال نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کو بیرونی اور بعض اندرونی قوتیں سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چیئرمین ، نور عالم خان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں دستیاب فنڈز استعمال نہ کرنا بڑی غفلت ہے۔ ایوی ایشن ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فارن گرانٹ چینی کمپنی کے ذریعے خرچ ہورہی ہے۔

    رکن کمیٹی شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ نیو اسلام آباد ائرپورٹ کے رن وے پر دڑاریں پڑ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دیگر کئی شکایات ہیں۔ چیئرمین نور عالم خان نے کہا کہ نیو اسلام آباد ائرپورٹ کی انکوائری ایف آئی اے کو سونپی گئی تھی، ابھی تک پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔مشاہد حسین سید نے کہا کہ گوادر سی پیک منصوبے کا مرکز ہے۔ سی پیک کے لیے ملنے والی گرانٹ استعمال نہ کرنا مجرمانہ غفلت ہے جب کہ ہم ایک ایک ڈالر کو ترس رہے ہیں۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گوادر ائرپورٹ کے لیے ملنے والی گرانٹ استعمال نہ ہونے پر انکوائری کا حکم دیتے ہوئے سول ایوی ایشن اور آڈیٹر جنرل کو ذمے داری کا تعین کرنے کی ہدایت کردی۔

    دریں اثنا آڈٹ حکام نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بتایا کہ پی آئی اے پریمیئر سروس میں 3 ارب 19 کروڑ کا نقصان ہوا، جس پر چیئرمین نور عالم خان نے کہا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچا، کیا کارروائی کی گئی۔ ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ شواہد نہ ملنے پر انکوائری بند کردی گئی۔ چیئرمین نے استفسار کیا کہ کس کے کہنے پر اور کیوں انکوائری بند کی گئی۔ پی اے سی نے ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرلیا۔ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پریمیئر سروس سابق وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر شروع کی گئی۔ پی آئی اے بورڈ اجلاس میں پریمیئر سروس شروع کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ سروس سے امیج بہتر ہوگا لیکن یہ معاشی طور پر فائدہ مند نہیں۔ پریمیئر سروس شروع کرنے کا فیصلہ بورڈ کا مشترکہ تھا، جس پر کسی نے اختلاف نہیں کیا۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ کسی کو سہولت دینے کے لیے نظریہ ضرورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔پی آئی اے کا دشمن وہ ہے جس نے بزنس کلاس ختم کی۔ پی آئی اے مالیاتی خسارے کا شکار ہے اور افسران اور ان کے اہل خانہ کو مفت ٹکٹ دیے جا رہے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی آئی اے کو فری ٹکٹس ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

  • کیا سیلاب متاثرین میں امدادی رقم کی تقسیم شفافیت سے ہورہی؟

    کیا سیلاب متاثرین میں امدادی رقم کی تقسیم شفافیت سے ہورہی؟

    کیا واقعی سیلاب متاثرین میں امدادی رقم کی تقسیم شفافیت سے ہورہی ہے؟

    جبکہ اس حوالے سے ڈیرہ اسماعیل خان سے کچھ خواتین نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے عملہ کی نالائقی دو نمبری کی شکایت ی ہیں. بختو مائی (فرضی نام) نے باغی ٹی وی اسلام آباد کے نمائندہ خصوصی ملک رمضان اسراء کو بتایا کہ: "میں بینظیر سنٹر پر رقم لینے گئی اور وہاں محسوس کیا کہ عملہ غریب خواتین سے پیسے بھی طلب کررہا تھا. جب بختو مائی سے سوال کیا گیا کہ عملہ کس مد میں رقم طلب کررہے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ: جو خواتین پیسے دے رہی تھی انہیں فورا رقم دی جارہی تھی جبکہ پیسے نہ دینی والی خواتین کے ساتھ بدتعمیزی کی جارہی تھی.

    انہوں نے مزید کہا کہ: میری متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ اس طرح دینے کے بجائے ہمارے پرانے اے ٹی ایم کارڈ بحال کیئے جائیں یا پھر نئے اے ٹی ایم کارڈ دیئے جائیں تاکہ ہم آسانی اور عزت کیساتھ اپنی رقم اے ٹی ایم سے نکلوا سکیں. ان کا کہنا تھا کہ: اس سے قبل ہمیں بے نظیر اسکیم میں اے ٹی ایم دیئے گئے تھے جس کے زریعے آسانی رقم نکلتی تھی تاہم بعد میں انہیں بلاک کردیا گیا تھا لیکن میری حکومت سے التماس ہے کہ اگر سب سے کارڈ بحال یا نئے نہیں بنا سکتے تو کم از کم ایک ایسا آپشن ضرور رکھیں جو خواتین اپنی مرضی سے اے ٹی ایم کارڈ لینا چاہیں انہین فراہم کیا جائے.

    چیئرپرسن پنجاب احساس پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیر صدارت سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے امدادی کارروائیوں سے متعلق اجلاس ہوا جس میں بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود ، ڈی آئی جی آپریشنز پی آئی ٹی بی فاروق یوسف و دیگر نےشرکت کی.
    انہوں نے مزید دعوی کیا کہ: امدادی رقم کی تقسیم کی شفافیت کیلئے شناختی کارڈ نمبر اور بائیو میٹرک تصدیق لازم ہے۔

    نجی ٹی وی مطابق ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیر صدارت اجلاس میں پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کی گئی امدادی رقوم کی تقسیم کیلئے سیلاب زدگان کی رجسٹریشن کے طریقہ کار ، امدادی رقوم کی فراہمی کے حوالے سے مکینزم پر گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر ثانیہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بنک آف خیبر اور بنک آف پنجاب کے تعاون سے امدادی رقوم متاثرین میں تقسیم کی جائیں گی، ضرورت پڑی تو دیگربنکوں کو بھی پراگرام کا حصہ بنا سکتے ہیں.

    چیئرپرسن پنجاب احساس پروگرام کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان نے سیلاب متاثرین بھائیوں کیلئے عطیات جمع کرنے کی مہم شروع کی اور صرف چند گھنٹوں کی ٹیلی تھون سے عمران خان نے 5 ارب سے زائد کے عطیات جمع کئے جنہیں مستحقین تک پہنچانے کی ذمہ داری میری زیر نگرانی ایک کمیٹی کو سونپی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے فلڈ ریلیف کیش اسسٹنس کے تحت سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کو 25000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس پروگرام کے تحت اب تک 190,326 متاثرہ خاندانوں میں مجموعی طور پر 4,784,057,630 روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔اس سلسلے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ادائیگی کے خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

    سندھ میں 170، پنجاب میں 23، بلوچستان میں 97 اور کے پی میں 84 کیمپ سائٹس قائم کی گئی ہیں۔اب تک بلوچستان میں 36,728 متاثرہ خاندانوں کو 927,798,712 روپے؛ سندھ میں 112,159 خاندانوں کو 2,815,360,366 روپے؛خیبر پختونخواہ میں 11,409 خاندانوں کو 286,557,000 روپے اور پنجاب میں 30,030 خاندانوں کو 754,341,552 روپے تقسیم کئے جاچکے ہیں۔وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ / چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شازیہ مری کی ہدایت پر متاثرین کو امدادی رقوم کی ادائیگیوں کے لیے تمام ادائیگی مراکز بروز ہفتہ کھلے رکھے گئے۔

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ نے کیمپ سائٹس پر موجود متعلقہ عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کو مکمل تعاون اور سہولت فراہم کریں۔متاثرہ خاندان فلڈ ریلیف کیش اسسٹنس پروگرام میں رجسٹریشن کے لیے اپنا سی این آئی سی نمبر 8171 پر بھیج سکتے ہیں اور ادائیگی کا پیغام موصول ہونے پر وہ اپنی رقم حاصل کرنے کے لیے اپنی قریبی کیمپ سائٹ پر جا سکتے ہیں۔

    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ہیڈ کوارٹر میں ایک کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ ادائیگیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ امداد اور دیگر متعلقہ معلومات کے لیے لوگ صبح 8:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک BISP ہیڈ کوارٹر جا سکتے ہیں یا 051-9246312 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • ڈسکشن کرتے رہنا ہے یا سیلاب متاثرین کی مدد بھی کرنی ہے؟‌  جگن کاظم

    ڈسکشن کرتے رہنا ہے یا سیلاب متاثرین کی مدد بھی کرنی ہے؟‌ جگن کاظم

    اداکارہ ، ماڈل و میزبان جگن کاظم نے کہا کہ جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ پاکستان ڈوب رہا ہے اور یہ ہم سب کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے ، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر خبریں ہی دیکھنی ہیں ، ہونے والی تباہی اور بربادی کو ڈسکس کرنا ہے یا باہر نکل کر مدد بھی کرنی ہے؟‌ جگن کاظم نے کہا کہ ہر کسی کے پاس اربوں کروڑوں روپے نہیں ہیں لیکن ہر کسی کے پاس ایکسٹرا کپڑے ضرور ہوتے ہیں جن کو سیلاب متاثرین کے لئے بھیجا جا سکتا ہے. کسی کے پاس کچھ دینے کو نہیں بھی ہے تو یہ دیکھیں کہ گھر میں کونسی ایسی چیزیں ہیں جن کا استعمال نہیں ہوتا وہ چیزیں سیلاب متاثرین کو دے دیں. صاحب استعداد لوگ جتنا ہو سکے مدد کریں ، کسی کے پاس اگر کوئی پن بھی ہے تو

    عطیہ کردیں، اس وقت ہر طرف پانی ہے لیکن پینے کے لئے ایک قطرہ بھی نہیں ہے. فارما سوٹیکل والے ادویات کے لئے اور ڈیزائنرز کپڑوں کے لئے آگے بڑھیں ، دودھ ، جوسسز ، بسکٹس اور جو بھی بھیجا جا سکتا ہے خدا کے لئے بھیجیں اور اپنی ساری مدد کسی مستند جگہ پر دیں تاکہ آپ کی عطیہ کی ہوئی چیزیں حقداروں تک پہنچ سکیں. جگن کاظم نے کہا کہ یہ وقت صرف سیلاب متاثرین کے لئے نہیں ہم سب کے لئے مشکل ہے ہم سب کو اس سے مل جل کر نکلنا ہو گا.

  • روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔

    آئی ایم ایف کی پاکستان سے پاکستان کو 1 ارب 17 ارب ڈالر قرض کی منظوری کے بعد ملک کی کرنسی مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز بھی روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ بدھ کے روز ٹریڈنگ کے آغاز میں ہی انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 1 روپے 12 پیسے کی کمی ہوئی اور ڈالر219 روپے پر آگیا۔ دوپہر 12 بجے انٹربینک میں امریکی ڈالر کی قدر 1 روپے 87 پیسے گرگئی اور امریکی ڈالر کی قیمت 218 روپے 25 پیسے پرآگئی۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 218.50 روپے میں فروخت اور 216.50 روپے میں خریدا جارہا ہے۔دو روز میں اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 12 روپے نیچے آگیا ہے۔انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 2 روز میں 4 روپے سستا ہوگیا ہے۔ کرنسی ڈیلرز نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام بحال ہونے سے روپیہ تگڑا اور ڈالر کمزور ہوا ہے۔

    منگل کو انٹر بینک میں امریکی ڈالردن کے اختتام پر220 روپے 12 پیسے پر بند ہواتھا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر دن کے اختتام پر ساڑھے 7 روپے کم ہوکر 220.50 پیسے پرآگیا تھا۔ فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے قرض فراہمی کی منظوری دے دی ہے تاہم اب تک حکومت نے رقم ملنے کی تصدیق نہیں کی۔ آئی ایم ایف سے قرض ملنے پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید تگڑا ہوسکتا ہے.

    واضح رہے کہ اس سے قبل ملک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہوا تھا اور رواں ہفتے انٹربینک میں ڈالر 6 روپے تک مہنگا ہوچکا تھا۔ آج انٹربینک میں ڈالرایک روپے 25 پیسے مہنگا ہوا تھا جس کے بعد کاروبار کے اختتام پر ایک امریکی ڈالر 220 روپے 66 پیسے کا ہوگیا تھا۔ انٹربینک میں رواں ہفتے ڈالر 6 روپے مہنگا ہوا تھا۔

  • کیا عمران خان کی ناراضگی پر وزیر خزانہ پنجاب کو تبدیل کردیا جائے گا؟

    کیا عمران خان کی ناراضگی پر وزیر خزانہ پنجاب کو تبدیل کردیا جائے گا؟

    وزیراعظم کو خط نہ لکھنے پر سابق وزیر اعظم عمران خان وزیرخزانہ پنجاب محسن لغاری سے ناراض ہیں.

    آپ کو یاد ہوگا کہ دو روز قبل سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور صوبائی وزرائے خزانہ کی ایک آڈیو لیک ہوئی تھی، جس میں شوکت ترین نے عمران خان کی ہدایت پر پنجاب کے وزیرخزانہ محسن لغاری کو وزیراعظم شہبازشریف کو آئی ایم ایف پروگرام پر خط لکھنے کو کہا تھا۔

    تاہم اب وزیراعظم شہبازشریف کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں وزیرخزانہ پنجاب محسن لغاری کو اپنی وزارت کا قربانی دینے پڑے گی، کیوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان صوبائی وزیر خزانہ سے ناراض ہوگئے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو خط نہ لکھنے پر عمران خان محسن لغاری سے ناراض ہیں، کیوں کہ محسن لغاری کی طرف سے خط نہ لکھنے پر پارٹی کو شرمندگی اٹھانا پڑی تھی.

    ذرائع کے مطابق محسن لغاری کے خط نہ لکھنے کے بعد پنجاب میں وزیرخزانہ کی تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، اور محسن لغاری کی جگہ ہاشم جواں بخت کو دوبارہ وزیرخزانہ بنائے جانے کاامکان ہے۔ ہاشم جواں بخت کوان کے بھائی خسرو بختیار کی وجہ سے وزارتِ خزانہ نہیں دی گئی تھی، تاہم اب وزارتِ خزانہ کے حصول کے لئے ہاشم جواں بخت نے عمران خان سے رابطے تیز کردی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں پنجاب کی اقتصادی صورتحال پراجلاس میں بھی وزیرخزانہ محسن لغاری کو نہیں بلایا گیا تھا، اور اجلاس میں محکمہ خزانہ کے حوالے سے ہاشم جواں بخت نے شرکت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق آئندہ دو روز میں وزیرخزانہ کی تبدیلی کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے اہم فیصلہ ہوجائے گا۔

    شوکت ترین کی وزیرخزانہ پنجاب سے ٹیلیفونک گفتگولیک

    29 اگست کو سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے پنجاب کے وزیرخزانہ کو آئی ایم ایف سے وعدے پورے نہ کرنے پراکسایا، جس کی مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی تھی۔ مبینہ ٹیلفونک گفتگو میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ یہ جو آئی ایم ایف کو 750 ارب کی کمٹمنٹ دی ہے آپ سب نے سائن کیا ہے، حکومت پردباؤ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف سے کہا جائے کہ آپ سے کمٹمنٹ سیلاب سے پہلے کی تھی، اب ہم سیلاب متاثرین پر پیسے خرچ کررہے ہیں، اس لئے ہماری لئے مشکلات ہوسکتی ہے۔

    شوکت ترین نے صوبائی وزیرخزانہ کو زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اب آئی ایم ایف کو لکھنا ہے کہ اب ہم یہ کمٹمنٹ پوری نہیں کر پائیں گے، بس یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا۔ صوبائی وزیرخزانہ محسن لغاری نے شوکت ترین سے دریافت بھی کیا کہ کیا اس سے ریاست کومشکل نہیں ہوگی۔

    جس پر شوکت ترین نے پارٹی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے چئیرمین سے کس طرح ٹریٹ کررہی ہے، یہ تو نہیں ہوسکتا کہ وہ ہم پر کیسز کرتے رہیں، بلیک میل کرتے رہیں اور ہم ان کی مدد کرتے رہیں گے۔

  • ہمیں‌پتہ چلے کل قیامت ہے تو ہم جائے نماز اور تسبیح بھی مہنگی کر دیں گے ارسلان نصیر پھٹ پڑے

    ہمیں‌پتہ چلے کل قیامت ہے تو ہم جائے نماز اور تسبیح بھی مہنگی کر دیں گے ارسلان نصیر پھٹ پڑے

    اداکار ارسلان نصیر جو اپنی بہترین اداکاری کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، ان کو ان کے مداح کامیڈی کردارں میں بہت سراہتے ہیں . انہوں نے حال ہی میں ایک سنجیدہ وڈیو پیغام جاری کیا ہے اس میں وہ برس پڑے ہیں عوام پر. انہوں نے سیدھے سیدھے الفاظ میں سنا دی ہیں عوام کو. ارسلان نصیر نے کہا ہے کہ ہم ہر بار کہتے ہیں کہ ہم پر برا وقت کیوں آیا ہے بھئی میں ہزار بار کہہ چکا ہوں ہوں کہ ہم چور ہیں زخیرہ اندوز ہیں. ہم یہ نہیں‌کہہ سکتے ہیں کہ حکمران چوری کررہے ہیں ، ہمارے ملک میں بہت پوٹینشل تھی حکمران اچھے نہیں ملے ، بھئی حکمرانوں کو چھوڑیں اس ملک کو ہم لوگ اچھے نہیں ملے. ہم ہر بار ہر لیول پر جا کر زخیرہ اندوزی کرتے ہیں. ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہمیں اگر پتہ چل جائے کہ کل قیامت ہے تو

    ہم جائے نماز اور تسبیح بھی مہنگی کر دیں گے اور سوچیں گے کہ کل کی کل دیکھی جائے گی آج تو پیسہ بنائو، ہم لوگ پیسہ بنا کر قیامت کا انتظار کررہے ہیں.ارسلان نصیبر کے اس وڈیو پیغام کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے انہوں نے اس وڈیو پیغام میں جو بھی کہا ہے اس سے کافی لوگ متفق بھی ہیں.اور غالبا ارسلان نصیر نے اس قسم کی باتیں دکانداروں کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی وجہ سے کی ہیں.

  • سیلاب متاثرین کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں لیکن امیر شاہ جیلانی مینرل واٹر سے جوتے صاف کررہے

    سیلاب متاثرین کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں لیکن امیر شاہ جیلانی مینرل واٹر سے جوتے صاف کررہے

    ایک طرف سیلاب متاثرین کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو دوسری طرف ممبر قومی اسمبلی امیر شاہ جیلانی مینرل واٹر سے جوتے صاف کررہے ہیں اور زمین پر بیٹھے سیلاب زدگان سے ملاقات کے دوران ایم این اے پیر امیر شاہ جیلانی سجی ہوئی چارپائی پر بیٹھ کر ناصرف کولڈرنک پی رہے بلکہ سیگریٹ بھی سلگا رہے ہیں.

    پورا سندھ سیلابی پانی میں ڈوب گیا جبکہ وڈیرہ تھرپارکر اور ایم این اے پیر امیر شاہ جیلانی سیلاب متاثرین سے ملاقات کے وقت ایسے ملاقات کی جیسے اپنے ووٹر سپورٹرز پر احسان کرنے آیا ہو. اس دوران ایک بوڑھے متاثر شخص نے ہاتھ جوڑ کر فریاد کرنے کی کوشش کی تو پیر امیر شاہ کے گن مینوں نے بوڑھے کو روک دیا.


    پیر امیر شاہ کی ویڈیو وائرل ہے سنجے سادھوانی نے یہ ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں لکھا: سیلاب اور وڈیرے کے بیٹے ۔ فرش پر بیٹھی غریب عوام ہے ۔ چارپائی پر بیٹھا کولڈ ڈرنک پیتے یہ ایم این اے پیر امیر علی شاہ جیلانی ہے ۔ سائیں بوتل پینے کے بعد سگریٹ سُلگاتے ہیں ۔ پھر پیر صاحب منرل واٹر پانی سے اپنا جوتا صاف کرتے ہیں۔ ہائے میری سندھ کے نصیب

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے کہا کہ: اس صورتحال پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو فوری نوٹس لینا چاہئے.

    این اے 221 تھرپارکر سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی پیر امیر علی شاہ کی چارپائی پر بیٹھے کولڈ ڈرنک پیتے جبکہ غریب عوام ان کے سامنے فرش پر بیٹھے ہونے کی ویڈیو جس میں ایم این اے پیر امیر علی شاہ جیلانی بوتل پینے کے بعد سگریٹ سُلگاتے ہیں اور پھر پیر صاحب منرل واٹر پانی سے اپنا جوتا صاف کرتے ہیں پر سوشل میڈیا صارفین نے شدیدردعمل کا اظہار کیا ہے اور پیرامیرعلی شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
    https://twitter.com/JaniLarik/status/1564222473205387264
    ایک صارف نے کہا کہ: سندھ کا یہ مرشد سائین سیلاب متاثرین کے دکھ میں برابر کا شریک ہونے آیا ہے۔ اس کی سادگی پہ میں تو مر مٹا ہوں.


    ایک اور صارف شاہد نے کہا کہ: سندھ میں سیلاب پر جو کہتے ہیں عوامی نمائندے اور قیادت کہاں؟ یہ پیپلزپارٹی کے تھر سے رکن قومی اسمبلی پیر امیر علی شاہ جیلانی ہیں۔کولڈڈرنک ٹن سے شغل اور منرل واٹر سے جوتے دھوتے ’سائیں‘ سگریٹ نوشی جب کہ ’تھرکی عوام‘ جانےکس آسرے میں قدموں تک محدود ہے۔

  • سیلاب متاثرین کی مددکریں  انجمن کا جذباتی وڈیو  پیغام سوشل میڈیا پر وائرل

    سیلاب متاثرین کی مددکریں انجمن کا جذباتی وڈیو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل

    سینئر اداکارہ انجمن نے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر ایک وڈیو پیغام جاری کیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں کئی برس سے آپ سب سے محبتیں سمیٹ رہی ہوں ،مجھے یقین ہے کہ آپ لوگ میری بات ضرور سنیں گے. انجمن نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہمیں سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے.سیلاب کی وجہ سے لوگوں‌کے گھر بربار ہو گئے ہیں اور بے سرو سامانی کے عالم میں لوگ آپ کی مدد کے منتظر ہیں. ہم سب کو سیلاب متاثرین کا درد محسوس کرنا چاہیے ،تین کروڑ لوگ سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہیں بستیاں اجڑ گئی ہیں. مال مویشی ، کچے پکے مکان سیلاب بہا کر لے گیا ہے.بوڑھے جوان مرد خواتین اور بچے کھلے آسمان کی چھت کے نیچے ہماری مدد کے منتظر ہیں . میں آپ سب سے التماس کرتی ہوں کہ خدا کے لئے

    ان کی مدد کریں. اپنے سکھ اور خوشیوں‌کو ان کے دکھوں میں شامل کر کے ان کو بھی خوشیاں دیں. اگر تھوڑا ہے تو تھوڑے سے تھوڑا سیلاب متاثرین کو دے دیں اگر زیادہ ہے تو اس میں‌ سے کچھ تقسیم کریں.ان کو ان کی مسکراہٹیں واپس دینے کی کوشش کریں. .اللہ کی خوشنودی انسانیت کی خدمت کرنے میں ہے،سب کچھ دنیا میں رہ جانا ہے صرف ہمارے اعمال ہمارے ساتھ جانے ہیں. اللہ نے ہمیں دکھی انسانیت کی خدمت کرنےکا موقع دیا ہے. ہم سب کو چاہیے کہ ہم روتے ہوئوں کو گلے لگا لیں. میں اپنے ملک کے لئے دعا گو ہوں اللہ کرے یہاں خوشحالی ایکبار پھر سے آجائے. ہمارے لوگ ہنستے بستے رہیں.

  • سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا سوال

    سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا سوال

    اداکارہ، ماڈل اور میزبان فضا علی ہیں کافی پریشان وہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے اپنے تائیں جتنا ہو سکے آواز اٹھا رہی ہیں. فضا علی نے حال ہی میں ایک وڈیو جا ری کی ہے جس میں وہ سوال اٹھاتی نظر آرہی ہیں، انہوں نے اس وڈیو میں کہا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا ہے تو غریب کا ہی گھر تباہ کیوں ہوتا ہے اسی کا گھر کیوں ٹوٹتا ہے اسی کا نقصان کیوں ہوتا ہے. امیر کا گھر کبھی کیوں نہیں ٹوٹا ، کبھی اس کے گھر پانی سے تباہی کیوں نہیں‌ہوئی. لاہور کراچی اور اسلام آباد و دیگر شہروں کی بڑی بڑی سوسائٹیز سیلاب آنے سے متاثر کیوں نہیں‌ہوتیں؟. کیوں ہماری حکومتیں مس مینجمنٹ کرتی ہیں وہ جانتی ہیں ہ سیلاب ہر سال آتا ہے تو کیوں وہ کوئی سلسلہ ایسا نہیں بناتی کہ لوگوں کے گھروں کی تباہی نہ

    ہو جانی نقصان نہ ہو. فضا علی نے مزید یہ بھی کہا کہ انڈیا نے ڈیمز بنائے لیکن ہم نے ڈیم نہیں بنائے، جب ہمارے ہاں سیلاب آتا ہے انڈیا جان بوجھ کر شرارت کرتا ہے اور پانی چھوڑ دیتا ہے ہم مزید متاثر ہوتے ہیں. کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیوں رکی ہوئی ہے؟ کیوں اسکی تعمیر کو انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے کیوں اس کو بنانے پر کسی کا اتفاق نہیں ہے.فضا علی نے کہا غریب کا حوصلہ ہے کہ اتنے مشکل حالات میں وہ جیتا ہے.