Baaghi TV

Author: +9251

  • متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کیلئے امدادی کارروائیاں مسلسل جاری

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کیلئے امدادی کارروائیاں مسلسل جاری

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے پاکستان میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں.

    وزارت دفاع کی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ متحدہ عرب امارات کی جانب سے دوسرا امدادی طیارہ بجھوانے کے ساتھ پاکستان میں انسانی بنیادوں پراپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امداد کی دوسری کھیپ میں پاکستان سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے مزید امدادی سامان، پناہ گاہوں کا سامان، انسانی امداد، خوراک اور ادویات شامل ہیں۔ سیلاب زدہ پاکستان کی امداد کے لیے صدر شیخ محمد بن زاید آل نھیان کی ہدایت کے مطابق امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    مسلح افواج نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پرامدادی سامان کی نقل و حمل میں اپنی دستیاب صلاحیت کی وجہ سے امداد کی نقل و حمل کے لیے فوجی طیارے وقف کررکھے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے امداد ‘متحدہ عرب امارات کے 50کے اصول’ کے آرٹیکل نمبر 9 کے تحت فراہم کی جارہی ہے، اس آرٹیکل کے تحت غیر ملکی انسانی امداد کو دوست ممالک کے حوالے سے ملک کی اخلاقی وابستگی کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے.

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارت نے ہمیشہ پاکستان کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے لہذا اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس سے قبل بھی سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان بھیجوایا گیا تھا اور یو اے ای نے سیلابی صورتحال میں پاکستان کو تنہاء نہیں چھوڑا ہے.

    پاکستان موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے باعث لاکھوں مکان تباہ اور لوگ بے گھر ہوگئے ہیں جب کہ سیکڑوں کی اموات ہوچکی ہے۔ سیلاب زدگان کی بحالی اور ریلیف کےلیے وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی تھی جس پر متحدہ عرب امارات نے امدادی سامان کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچائی گئی تھی جسے وفاقی وزیر برائے مںصوبہ بندی احسن اقبال نے نور خان ایئربیس پر وصول کیا تھا، گزشتہ امداد میں میں خیمے، خوراک، ادویات اور دیگر اشیاء ضرویہ شامل تھیں جبکہ یو اے ای کی طرف سے مزید امدادی سامان 15 طیاروں کے ذریعے آئندہ چند دنوں میں پاکستان پہنچایا جانے کا بھی کہا گیا تھا.

    واضح رہے متحدہ عرب امارات ایسا ملک ہے جس نے ہمیشہ پاکستانکی مدد ہے اور ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ان کے دارلحکومت ابوظہبی میں ہمیشہ پاکستان کی آزادی کے دن کے حوالے سے بہترین تقاریب کا انقعاد کیا جات ہے جبکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مشترکہ ورثے اور کثیر الجہتی تعاون پر مبنی بہترین برادرانہ دو طرفہ تعلقات قائم ہیں. یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے جو فقیدالمثال ترقی کے مدارج طے کیے ہیں وہ متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان کی دور اندیش قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھے. اس عظیم رہنما کو پاکستان سے بہت لگاؤ ​​تھا۔ انہوں نے پاکستان میں بہت سے سماجی و اقتصادی منصوبوں میں ذاتی دلچسپی لی اور پاکستانی ورکرز کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کا موقع دیا – یہ پاکستانی، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذا متحدہ عرب امارات میں ان کے جانشین رہنما شیخ زاید کے طے کردہ اعلیٰ معیارات کی پیروی کر رہے ہیں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے کوشاں ہیں

    متحدہ عرب امارات درحقیقت سات مملکتوں کے اتحاد کا نام ہے۔ یہ جزیرہ عرب کی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع ہے۔ امارات کی تاریخ تجارت سے جڑی ہوئی ہے جو 630 میں اس خطے میں داخل ہوئی، اس کا ساحل یورپی جارحیت پسندوں کے زیر قبضہ تھا۔ یہ علاقہ انیسویں صدی میں برطانوی استعمارکے کنٹرول میں رہا، یہاں تک کہ جواہرات اور ہیروں کی کھیپ برآمد ہوئی پھر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں اسے خود مختاری مل گئی۔
    اس کے بعد امارات نے گرمیوں میں خلیجی عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے، جبکہ کھجوروں کی کاشت سردیوں میں آمدنی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے درمیان کے عشرے تک یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران تیل کمپنیوں نے تیل کی تلاش کی۔ خام تیل کی پہلی کھیپ سنہ 1962 میں ابوظہبی سے برآمد ہوئی، اسے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کیا گیا۔

    برطانوی استعمار کے خلیج سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی ابو ظہبی ، دبئی ، شارجہ ،عجمان ، ام القواین اور فجیرہ کے حکمرانوں کے مابین یک معاہدہ طے پایا۔ 2 دسمبر 1971 ء کو متحدہ عرب امارات کے نام سے مشہور فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور اگلے ہی سال میں ساتویں امارت راس الخیمہ نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔

  • یہ نہ ہو مجھ پہ مزید مقدمے درج ہو جائیں عمران خان کی حمزہ عباسی کی بات کے جواب میں طنز

    یہ نہ ہو مجھ پہ مزید مقدمے درج ہو جائیں عمران خان کی حمزہ عباسی کی بات کے جواب میں طنز

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے منعقد کی گئی لائیو ٹیلی تھون میں ان کے ساتھ اداکار حمزہ عباسی بھی تھے وہ ٹیلی تھون کے دوران عمران خان سے باتیں بھی کرتے رہے، حمزہ علی عباسی نے کہا کہ عمران خان صاحب آپ کی مقبولیت دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ اگلی حکومت بھی آپکی ہو گی، اس پر عمران خان نے ہنستے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کہیں ورنہ مجھ پر مزید مقدمات بنا دئیے جائیں گے. عمران خان کی یہ بات سن کر حمزہ علی عباسی کھل کھلا کر ہنس پڑے. حمزہ علی عباسی ایک عرصے سے سکرین سے غائب ہیں کافی وقت کے بعد وہ ٹی

    وی سکرین پر نظر آئے ہیں اور ان کا عمران خان کے لئے جذبہ اور محبت میں کسی قسم کی کمی دیکھنے کو نہیں ملی. یاد رہے کہ حمزہ عباسی کی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ 13 اکتوبر کو ریلیز ہو نے جا رہی ہے اس میں حمزہ عباسی نوری نت کا کردار کررہے ہیں اس میں انہوں نے ٹھیٹھ پنجابی بولی ہے. حمزہ علی عباسی تو ہر قدم پر عمران خان کا ساتھ دیتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ حمزہ کی فلم ریلیز ہونے کے موقع پر عمران خان کوئی ٹویٹ کرکے یا کسی پرموشن کا حصہ بن کر وش کرتے ہیں یا نہیں‌.

  • ایران اور افغانستان سے سبزی درآمدگی کا فیصلہ ہوا جبکہ بھارت سے متعلق خبریں منگھڑت. وفاقی وزیر نوید قمر

    ایران اور افغانستان سے سبزی درآمدگی کا فیصلہ ہوا جبکہ بھارت سے متعلق خبریں منگھڑت. وفاقی وزیر نوید قمر

    ایران اور افغانستان سے ٹماٹر، پیاز کی درآمد کا فیصلہ ہوا جبکہ بھارت سے متعلق خبریں جھوٹ ہیں.

    وزیر تجارت نوید قمر نے بھارت سے سبزی خریدنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن درآمد نجی شعبہ کرے گا، حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر پلوشہ خان نے بھارت سے سبزیوں کی درآمد کا معاملہ اٹھا دیا، پلوشہ خان نے سوال کیا کہ کیا وزارت خزانہ تجارت بھارت سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کرنے پر غور کررہی ہے کیوں کہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ نجی کمپنیاں بھارت سے درآمد کی تجویز دے رہی ہیں۔

    اجلاس میں موجود وزیرتجارت نوید قمر نے بھارت سے سبزی خریدنے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت سے پیاز اور ٹماٹر درآمد کرنے کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں ہوا، فی الحال ایران اور افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان ممالک سے بھی نجی شعبہ سبزیاں درآمد کرے گا حکومت صرف سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔

    نوید قمر نے بتایا کہ بھارت سے درآمد کے حوالے باتیں سامنے آرہی ہیں لیکن بھارت سے درآمد کی اب تک اجازت نہیں دی گئی ہے البتہ بھارت سے درآمد کا فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

    وزیر تجارت نے کہا کہ بھارت سے سبزیوں کی درآمد کیلئے یہ بھی دیکھا جائے گا کہ خارجہ پالیسی پر کیا اثرات پڑھیں گیں۔
    انہوں نے کہا کہ سیلاب سے زرعی شعبہ کو بہت نقصان ہوا اور آنے والے مہینوں میں ہمیں زرعی مصنوعات میں مزید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے کیوں کہ سیلاب سے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے. نوید قمر کا مزید کہنا تھا کہ نئی فصل پانی کے کھڑا ہونے سے کاشت نہیں ہوسکتی،اسی بات کا فائدہ اٹھا کر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

    سیکریٹری تجارت کا کہنا ہے کہ حکومت نے آلو کو اسٹریٹیجک ذخائر کےلیے درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ٹماٹر اور پیاز کی درامد پر 21 فی صد ٹیکس ختم کرنے کے لیے کابینہ کو سمری بھجوائی ہے۔

    یاد رہے کہ شیخ رشید احمد نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ: انڈیا سے تجارت اور دوحا میں مشکوک میٹنگ سوالیہ نشان ہے۔

    دوسری جانب چیئرمین کمیٹی شوکت ترین نے کہا کہ ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارت کی باتیں تو ہو رہی ہیں لیکن ایران اور افغانستان کے ساتھ ٹرانزکشن کا مسئلہ ہے لہذا ای کامرس کے ذریعے آڑھتی کو نکال دینے کا نظام لایا جائے۔

  • بجلی کی قیمت میں 4.34 روپے یونٹ اضافے کی منظوری

    بجلی کی قیمت میں 4.34 روپے یونٹ اضافے کی منظوری

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں 4 روپے 34 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے ایک مرتبہ پھر مہنگائی کے ستائے عوام پر بجلی بم گرا دیا، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بڑے اضافے کی منظوری دے دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی پی پی اے نے بجلی کی قیمتوں میں 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دائر کی تھی، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 4 روپے 34 پیسے کا اضافہ کردیا۔

    قیمتوں میں اضافے کی منظوری جولائی کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں دی گئی ہے، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) درخواست میں کہا تھا کہ جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 10.98 روپے فی یونٹ رہی جب کہ یشگی فیول لاگت 6.28 روپے فی یونٹ تھی۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ: بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین پر 35 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔ سی پی پی اے کے مطابق گزشتہ ماہ پانی سے 35.17 فیصد، کوئلے سے 12.74 فیصد بجلی پیدا کی گئی جب کہ ڈیزل سے 1.46 اور فرنس آئل سے 6.42 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

    سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ڈیزل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 27 روپے 88 پیسے فی یونٹ آئی۔
    سی پی پی اے کا کہنا تھا کہ فرنس آئل سے 35 روپے 69 پیسے فی یونٹ کے حساب سے بجلی پیدا کی گئی جب کہ مقامی گیس سے 10.36 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 14.98 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 28 روپے 28 پیسے فی یونٹ آئی۔
    دوسری جانب شہریوں میں بجلی مزید مہنگی کرنے کا سن کر کافی خوف پیدا ہوگیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہم پر رحم کرنا چاہئے.

  • فیٹف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی جو دو ستمبر تک پاکستان میں قیام کرے گی

    فیٹف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی جو دو ستمبر تک پاکستان میں قیام کرے گی

    فنانشل ايکشن ٹاسک فورس کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے جو دو ستمبر تک پاکستان میں قیام کرے گی۔

    فنانشل ايکشن ٹاسک فورس کے ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔ فیٹف کے ماہرین 2 ستمبر تک پاکستان میں قیام کریں گے۔ فنانشل ايکشن ٹاسک فورس کا وفد فیٹف ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا، اور ان دورے کا مقصد منی لانڈرنگ،ٹیرر فنانسنگ کیخلاف اقدامات کی آن سائٹ تصدیق ہے۔

    پاکستان فیٹف ایکشن پلان پر پہلے ہی عمل کر چکا ہے۔ اور فیٹف ٹیم دورے کے بعد پاکستان کے بارے میں رپورٹ پیش کرے گی۔

    واضح‌ رہے کہ 17 جون کو اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس کے دوران فیٹف کے سربراہ مارکس پلیئا نے کہا تھا کہ ’فیٹف نے پاکستان کے دورے کی سفارش کی ہے تاکہ دیکھا جائے کہ پاکستان کی اصلاحات اپنی جگہ پر موجود ہیں اور مستقبل کے لیے دیرپا ہیں۔

    ان کے بقول: ’پاکستان کو گرے لسٹ سے تب نکالا جائے گا جب (فیٹف ٹیم کا) دورہ کامیاب ہو جائے گا۔‘ فیٹف جب بھی کسی ملک کو گرے لسٹ میں ڈالتا ہے اس کے بعد اس ملک کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ سے متعلق نظام میں اصلاحات کے لیے کام شروع کیا جاتا ہے۔

    فیٹف ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے فیٹف کے ترجمان نے انڈیپنڈنٹ کو بتایا تھا کہ: ’کسی بھی ملک کو فیٹف مانیٹرنگ سے نکلنے کے لیے ایکشن پلان کے تمام یا تقریباً تمام نکات پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ جب فیٹف یہ تعین کر لیتا ہے کہ ایک ملک نے تمام اصلاحات کر لیں ہیں تو پھر اس ملک کا دورہ کیا جاتا ہے جس میں قانونی، ریگولیٹری اور آپریشنل اصلاحات کے نفاذ کی تصدیق کی جاتی ہے اور یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کیا ان اصلاحات کے دیرپا عمل درآمد کے حوالے سے ضروری سیاسی عزم اور ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔ اگر دورے کا نتیجہ مثبت ہوتا ہے تو فیٹف اپنے اگلے اجلاس میں اس ملک کو گرے لسٹ سے نکال دے گا۔‘

  • 700 سیاح اب بھی کالام میں پھنسے ہوئے ہیں،حکام کی وزیراعظم کو دورہ کے پی پر بریفنگ

    700 سیاح اب بھی کالام میں پھنسے ہوئے ہیں،حکام کی وزیراعظم کو دورہ کے پی پر بریفنگ

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف آج بروز بدھ 31 اگست کو خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے دورے پر کالام پہنچ گئے، جہاں حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ مزید 700 سیاح کالام میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا آمد پر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کالام میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور کالام میں پھنسے سیاحوں سے ملاقات کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کو بھرپور مدد کی یقین دہانی کروائی۔

    کالام میں موجود متاثرہ خواتین نے وزیر اعظم شہباز شریف سے شکوے بھی کیے۔ وزیر اعظم نے کالام پہنچتے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کالام میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا گیا ۔ وزیراعظم نے ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ متاثرین فکر نہ کریں ،ہم بھر پور اقدامات کررہےہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، حکومت سارے مسائل حل کرنے گی۔ وزیراعظم نے حکام اور دیگر انتظامیہ کو ریلیف کاموں میں تیزی لانے اور لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    وزیر اعظم نے کالام پہنچتے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کالام میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا گیا ۔ وزیراعظم نے ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی۔ دورے کے دوران انجینیر امیر مقام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کاموں، فنڈز کی منتقلی، متاثرین کی بحالی اور امداد کے کاموں کی خود نگرانی کروں گا۔
    انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے تباہی ہوئی کیونکہ لوگوں نے دریا کے اوپر اور اندر تعمیرات کر رکھی تھیں۔ آرمی چیف نے سیاحوں کو منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹرز فراہم کیے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دریا بپھر گئے اور سندھ میں دیہات مکمل تباہ جبکہ فصلیں متاثر ہوئیں۔ 7 لاکھ جانور پانی میں ڈوب گئے اور لاکھوں متاثرین کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، صوبائی حکومتوں اور افواج پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر داد دیتا ہوں۔ سیلاب اور بارشوں سے بہت زیادہ تباہی بڑی ہے۔ وفاقی حکومت نے این ڈی ایم اے اور بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 28 ارب روپے جاری کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سیلاب متاثرہ فی خاندان کو 25 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔

    حکام کی بریفنگ

    کے پی میں موجود پاک فوج کی جانب سے وزیراعظم کو ریلیف آپریشن پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس وقت 7 ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پھسنے ہوئے اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، 6 پاکستان آرمی اور ایک سول ہیلی کاپٹر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہے۔ کالام میں تیز بارشوں کے باعث 165گھر تباہ ہوئے۔

    بریفنگ کے دوران وزیراعظم نے سڑکوں کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا ٹاسک فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے حوالے کردیا۔ کانجو آمد پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سیلاب سے پلوں، شاہراہوں، ہوٹلوں اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ کانجو میں سیلاب سے22افراد جاں بحق ہوئے، زیر آب زمین اور راستوں کی بحالی کیلئے بھاری مشینری کے ذریعے شاہراہوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔

    دوسری جانب ن لیگی رہنما مریم نواز شریف بھی آج راجن پور اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گی۔ مریم نواز امدادی دورے میں متاثرین سے ملاقات بھی کریں گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے منگل 30 اگست کو سوات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کمراٹ اور کالام سے آرمی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ریسکیو کیے گئے افراد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بچوں، خواتین اور بزرگ افراد نے محفوظ انخلا پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے کالام، بحرین، خوازہ خیلہ اور مٹہ میں سیلابی صورت حال کا فضائی جائزہ لیا، انہوں نے آرمی دستوں کی فضائی نگرانی بھی کی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ریسکیو سرگرمیوں میں کور کمانڈر پشاور کے کام کو سراہا۔

    کانجو کینٹ ہیلی پیڈ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہناتھا کہ سیلاب کے شدید نقصانات کا درست اندازہ لگانا ابھی باقی ہے، نقصانات کا اندازہ لگانے کیلئے سروے ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومتیں اور فوج مل کر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں بھی یہاں ایسی ہی تباہی ہوئی تھی، انہی جگہوں پر دوبارہ تعمیرات کی اجازت دے کر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

    آرمی چیف نے کہاکہ کالام میں کافی نقصان ہوا ہے، بہت سے ہوٹل اور پل تباہ ہوئے ہیں، اس وقت سب سے ضروری کالام روڈ کو کھولنا ہے، امید ہے کہ چھ سے سات روز میں سڑک کھول دیں گے۔ کالام میں پھنسے لوگوں کو نکال رہے ہیں، اب وہاں بحرانی صورت حال نہیں ہے۔

  • یکم ستمبر سے پٹرول سستا ہونے کا امکان

    یکم ستمبر سے پٹرول سستا ہونے کا امکان

    یکم ستمبر سے پٹرول 2 روپے 98 پیسے سستا ہونے کا امکان ہے.

    یکم ستمبر سے پیٹرول سستا جبکہ ڈیزل اور مٹی کا تیل مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ آئل کمپنیز نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کی سفارشات اوگرا کو بھیج دیں۔اس حوالے سے اعلان آج ہوگا۔
    رپورٹ کے مطابق آئل کمپنیز نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کی سفارشات اوگرا کو بھیج دیں، جس میں پیٹرول 2.98 روپے فی لیٹر سستا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئل کمپنیز نے اپنی سفارش میں ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 88 پیسے، مٹی کا تیل 16 روپے 65 پیسے اور لائٹ ڈیزل 12 روپے 93 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش کی گئی۔

    اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیلئے سمری حکومت کو بھیجی جائے گی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کی حتمی منظوری وزیراعظم دیں گے جس کے بعد نئی قیتموں کا اعلان ہوگا۔

    پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ماہانہ 2 بار (یکم اور 16 تاریخ کو) رد و بدل کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ نئی قیمتوں کا اعلان 31 اگست کی رات ہوگا۔
    اوگرا نے واضح کیا کہ قیمتوں میں رد و بدل کی اطلاعات جھوٹی اور من گھڑت ہیں، غیر تصدیق شدہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

    اس سے قبل گزشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے یکم ستمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق سمری کی ورکنگ شروع کردی ہے۔

    بتایا گیا کہ اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت سے متعلق 2 تجاویز حکومت کو بھیجی جائیں گی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یکم ستمبر سے پیٹرول اورڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز زیرغور ہے۔ جبکہ دوسری جانب ملک میں ایل پی جی کی قیمت میں ستمبر کے آغاز سے قبل ہی اضافہ ہو گیا ہے۔ آل پاکستان ایل پی جی ایسویسن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق پہاڑی اور دور دراز دیہاتی علاقوں میں 50 روپے فی کلو بلاجواز اضافہ کر دیا گیا اوردیہاتی علاقوں میں ایل پی جی 270 روپے فی کلو فرخت ہو رہی ہے ۔

    بڑے شہروں ایل پی جی 20روپے اضافے سے240 فی کلو میں فروخت کی جارہی ہے ۔عرفان کھوکھر نے کہا کہ ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر پہنچ گئی ہے،حکومت سے اپیل ہے کہ فوری کاروائی کرے -ملک بھر میں ایل پی جی وافر مقدار میں موجود ہے ،راستوں کی بندش کو جواز بنا کر بلا جواز قیمت میں اضافہ کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اگست 2022 کے لئے اوگرا کی مقر کر دہ قیمت 218 روپے فی کلو ہے تاہم مارکیٹ میں قیمت کہیں زیادہ ہے۔

  • سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان کا اعلان

    سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان کا اعلان

    سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

    ترجمان سیکریٹری جنرل کے مطابق انتونیو گوتریس نو ستمبر کو پاکستان آئیں گے۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔ انتونیو گوتریس سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے۔

    انتونیوگوترس کا کہنا تھا کہ آج موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان تباہ ہورہا ہے۔ کل کوئی اور ملک بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہاں کے فراخ دل لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر دل ٹوٹ گیا ہے۔ اقوام متحدہ 52 لاکھ متاثر افراد کو خوراک اور دیگر ضروری اشیا فراہم کرے گا ۔

    اس سے قبل انہوں نے عالمی برادری سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلیے 160 ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کی تھی۔


    مسلسل آٹھ ہفتے کی بارش کے بعد اب پاکستان کی خشکی پر ایک چھوٹا سا سمندر بن چکا ہے۔ اس تناظر میں اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے پاکستانی برسات اور سیلاب کو آب وہوا (کلائمٹ) پرمبنی ایک سانحہ قرار دیا ہے۔

    اس کی وجہ ماہرین نے معمول سے زیادہ مون سون نظام اور ایل نینا مظہر کو قرار دیا ہے۔ اس کے بعد مسلسل 8 ہفتے تک ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پہلے بلوچستان میں سیلابی صورتحال اموات کی وجہ بنی، اس کےبعد سندھ اور پھر جنوبی پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچائی۔ سوات اور کوئٹہ میں ایک ہی وقت میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور اب یہ حال ہے کہ ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

    سیلاب سے اب تک سینکڑوں بچوں سمیت 1100 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ دس ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوچکا ہے۔ اینتونیوگیوتیرس نے کہا کہ ’اس موسمیاتی تباہی‘ پر بین الاقوامی تعاون اور اشتراک کی ضرورت ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’پاکستان تکالیف میں بہہ رہا ہے، گویا مون سون بہت طاقتور ہوگیا ہے جس کا نتیجہ بارش اور سیلاب کی صورت میں نکلا ہے۔ انہوں نے اس موقع پرکہا کہ عالمی برادری پاکستان کی مدد کرے۔

    پاکستان میں 2010 کے بعد اب شدید سیلاب کا سامنا ہے۔ یورپی سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے نظام سےوابستہ ’عالمی سیلاب نیٹ ورک‘ کے مطابق سب سے زیادہ تباہی جنوبی پاکستان میں ہوئی ہے۔ یورپی موسمیاتی سیٹلائٹ کے نیٹ ورک ’کوپرنیکس‘ کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ 26 اگست کو پاکستان میں مون سون کی معمول سے 10 گنا زائد شدت ریکارڈ کی جاچکی تھی۔

  • عمران خان کی عدالت میں پیشی، سیکیورٹی پلان تیار کرلیا گیا

    عمران خان کی عدالت میں پیشی، سیکیورٹی پلان تیار کرلیا گیا

    سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان کی آج بروز بدھ 31 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر تین ایس پیز ، 9اے ایس پیز اور ڈی ایس پیز سیکورٹی پرمعمور ہوں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے گرد ایک ہزار چھوٹی رینک کے افسران اور اہلکار تعینات کئے گئے ہیں سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ہائیکورٹ کے گرد مانٹرنگ کی جائے گی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر حفاظتی انتظامات کی زمہ داری سیکورٹی ڈویثرن کی ہوگی ، روف ٹاپ کے علاوہ تمام افسران اور اہلکار غیر مسلح ہونگے ،مجموعی طورپر ہائیکورٹ کے باہر سیکورٹی کی ذمہ داری ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر کی ہوگی ، ڈیوٹی پر تعینات کوئی بھی اہلکار موبائل فون کا استعمال نہیں کرینگے ،وائرلیس کا استعمال ڈیوٹی کیلئے ہوگی غیر ضروری استعمال پر محکمانہ کاروائی ہوگی
    ہائیکورٹ کے گرد خار دار تاریں لگا کر بند کیا جائے گا پانچ سو شارٹ رینج اور پانچ سو لانگ رینج آنسو گیس شیل اور شیلنگ والی بکتر بند گاڑی موجود ہوگی پولیس لائنز میں تین ہزار شیل اور گاڑیاں تیار کھڑی ہونگی ہائیکورٹ کے احاطے میں کاز لسٹ والے وکلا کا ہی داخلہ اور تلاشی ہوگی ،

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کے جواب میں خاتون جج زیبا چوہدری سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش کی۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس پر اپنا جواب جمع کرایا۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کو دھمکانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل لارجر بینچ نے کی تھی۔

    لارجر بینچ نے اس معاملے پر 3 سے زیادہ ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دینے کے لیے کیس چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر 26 اگست کو سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس ارسال کیا گیا۔

    ہائی کورٹ کی جانب سے رجسٹرار آفس نے عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس ارسال کیا تھا۔

    مقدمے کیلئے درخواست

    سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے الگ درخواست میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمہ خارج کرانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمہ خارج کرانے کے لیے عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

    عمران خان کا درخواست میں کہنا تھا کہ میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ غیر قانونی قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ جتوایا ، اس کے علاوہ دیگر فلاحی منصوبے لگائے۔
    عمران خان کا درخواست میں مزید کہنا تھا کہ بطور وزیر اعظم میں نے امن قائم کیا اور امریکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلا یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے دوران صحتی مراکز کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔

    عمران خان نے کیا کہا تھا

    واضح رہے کہ عمران خان نے 20 اگست کو اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دینے والی ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ آپ کے خلاف کارروائی کریں گے۔

    شہباز گل کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا اور دو دن جو تشدد کیا، اس طرح رکھا جیسا ملک کا کوئی بڑا غدار پکڑا ہو، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو ہم نے نہیں چھوڑنا، ہم نے آپ کے اوپر کیس کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ مجسٹریٹ زیبا صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کے اوپر بھی ہم ایکشن لیں گے، آپ سب کو شرم آنی چاہیے کہ ایک آدمی کو تشدد کیا، کمزور آدمی ملا اسی کو آپ نے یہ کرنا تھا، فضل الرحمٰن سے جان جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے ساتھ انہوں نے جو کیا، انہوں نے قانون کی بالادستی کی دھجیاں اڑا دیں، آج اپنے وکیلوں سے ملاقات کی ہے، آئی جی، ڈی آئی جی اور ریمانڈ دینے والی اس خاتون مجسٹریٹ پر کیس کریں گے۔

  • اگر میں وزیر خزانہ ہوتا تو اتنی مہنگائی نہ کرتا، اسحاق ڈار

    اگر میں وزیر خزانہ ہوتا تو اتنی مہنگائی نہ کرتا، اسحاق ڈار

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وہ وزیر خزانہ ہوتے تو روپے کی قدر نہ گراتے، اتنی مہنگائی نہ کرتے اور روپے کو مینیج کرتے۔

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آپس کی بات میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں ایڈونچر نہ ہوتے تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بھارت کے ساتھ تجارت کے سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے، اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اجلاس میں کیا جائے۔

    دوسری طرف وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بات زیر غور ہے، اس وقت ٹماٹر، پیاز لینے چاہئیں، وزیراعظم سے بھی بھارت سے تجارت کھولنے کے حوالے سے بات کروں گا، اس حوالے سے فیصلے میں دوسے چاردن لگیں گے۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) جانے سے کم ازکم دیوالیہ نہیں ہوئے، سیلاب کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں،عمران خان کی حکومت نے تاریخی قرض لیے،عمران خان نے اپنے دوستوں کوایمنسٹی دی۔ہم نے عام آدمی کوڈیفالٹ سے بچایا ہے،اب ہم مہنگائی کوکم کریں گے، جومشکل فیصلے تھے وہ شہبازشریف نے کرلیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگرتحریک انصاف نے روس سے کوئی تیل لینے کا معاہدہ کیا توہمیں دکھا دیں، اس حوالے سے من گھڑت باتیں کی جارہی ہیں۔ شوکت ترین کی ٹیپ سامنے آنے پر ان کے جھوٹ سامنے آگئے ہیں، ان لوگوں نے ملک کو تماشا بنا دیا تھا، حیرت ہوئی ٹیپ سامنے آنے کے بعد بھی تیمورجھگڑا،اسد عمر پریس کانفرنس کر رہے ہیں