Baaghi TV

Author: +9251

  • دیر میں بم پھٹنے سے پاک فوج کے دوجوان شہید

    دیر میں بم پھٹنے سے پاک فوج کے دوجوان شہید

    دیر:دیر میں بم پھٹنے سے پاک فوج کے دوجوان شہید ،اطلاعات کے مطابق کے پی کے ضلع دیر کے علاقے باروال میں سیکیورٹی فورسزدہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف تھیں جب ایک بم پھٹنے کے نتیجے میں سپاہی ساجد علی (عمر 30 سال جوکہ کوٹلی آزاد کشمیر کے رہنے والے تھے اور سپاہی عدنان ممتاز عمر 32 سال، پونچھ، بھی آزاد کشمیرسے تعلق رکتھے تھے شہید ہوگئے

    پاک فوج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے علاقے کی کلیئرنس کی جا رہی ہے۔ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

    اس سے پہلے آئی ایس پی آر نے سوات میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مسلح ارکان کی مبینہ موجودگی کی خبروں کو گمراہ کن قرار دے دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سوشل میڈیا پر سوات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی کی خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی کے مسلح ارکان کی موجودگی کی رپورٹس مبالغہ آمیز ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوات اور دیر کے درمیان چند پہاڑی چوٹیوں پر کچھ افراد کی موجودگی دیکھی گئی، یہ مسلح افراد آبادی سے بہت دور موجود پائے گئے ہیں، بظاہر یہ افراد آبائی علاقوں میں دوبارہ آباد ہونے افغانستان سے آئے تھے۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہاڑوں میں محدود موجودگی، نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھی ہے، سیکیورٹی حکام نے ملحقہ علاقوں کے عوام کی حفاظت کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں

    ترجمان نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی کسی بھی جگہ موجودگی کو برداشت نہیں کرینگے، ضرورت پڑنے پر مسلح افراد سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

  • صدر پاکستان کا پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے افسروں اور جوانوں کو ملٹری ایوارڈزدینے کا اعلان

    صدر پاکستان کا پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے افسروں اور جوانوں کو ملٹری ایوارڈزدینے کا اعلان

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے مسلح افواج کے افسران، جوانوں اور شہدا کے لیے ایوارڈز کا اعلان کیا گیا ہے۔مسلح افواج کے 2 افسران کے لیے ستارہ، 68 افسران، جوانوں اور شہدا کے لیے تمغہ بسالت، 33 افسران، جوانوں اور شہدا کے لیے امتیازی سند جبکہ 68 افسران اور جوانوں کے لیے آرمی چیف کے تعریفی کارڈز کا اعلان کیا گیا ہے۔

    22 افسران اور جوانوں کے لیے آرمی چیف کے ہلال امتیاز ملٹری، 102 افسران اور جوانوں کے لیے آرمی چیف کے ستارہ امتیاز ملٹری، 130 افسران اور جوانوں کے لیے آرمی چیف کے تمغہ امتیاز ملٹری کا اعلان کیا گیا۔

    ستارہ بسالت حاصل کرنے والوں میں میجر شجاعت حسین شہید اور کپٹن محمد بلال خلیل شہید، تمغہ بسالت حاصل کرنے والوں میں بریگیڈیئر عامر نوید اور کیپٹن سعید حیدر عباس شہید شامل جبکہ کیپٹن محمد سعاد بن عامر شہید، شیر محمد شہید اور محمد اسلم شہید تمغہ بسالت حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔

    درج ذیل افسران اور جوانوں کو تمغہ بسالت سے نوازا گیا ہے۔
    بریگیڈیئر عامر نوید حسین، ٹی بی ٹی اینڈ بار ایس آئی (ایم) سی ایم آئی، کیپٹن سید حیدر عباس (شہید) ایس ایس جی، کیپٹن محمد سعد بن عامر (شہید) آرٹی، ایس ایم شیر محمد (شہید) سندھ، ایس ایم محمد اسلم (شہید)، ایف سی بلن (ن)، سب صفدر حیات (شہید)، ایف ایف، سب زبید علی (شہید)، سندھ، سب شاہد اللہ (شہید)، ایف سی بلین (ایس)، حوا زاہد گل ( شہید)، ایف سی کے پی (ایس) اور محمد نذیر خان (شہید)، ایف سی بلین (ایس)۔ حافط آیت اللہ (شہید)، ایف ایف، حول محمد منور (شہید)، ایف ایف، حول محمد اسحاق (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، حول سہیل اقبال (شہید)، سندھ، حافط عبدالحنان (شہید)، این ایل آئی ، این کے زین العابدین (شہید)، ایف سی بلین (ایس)، این کے نور مر جان (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، این کے خلیل اللہ (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، این کے سونا خان (شہید)، پنجاب ، این کے رحمان اللہ (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، این کے طاہر رسول (شہید)، ایف سی بلین (ایس)، این کے عنایت اللہ (شہید)، ایف سی بلین (ایس)، ایل این کے عارف اللہ (شہید)، ایف سی کے پی (ایس) ایس)، ایل این کے واحد علی (شہید)، ایف سی بلین (ایس)، ایل این کے ریاض خان (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، ایل این کے زاہد احمد (شہید)، پنجاب، ایل این کے علی غلام (شہید)، سندھ، ایل این کے محمد اسلم (شہید)، ایف سی بلین، ایل این کے ولی رحمان (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، بابر حفیظ عاصم (شہید)، ایف سی بلین (ایس)، ایل این کے عبدالمجید (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، ایل این کے لیاقت اقبال (شہید)، ایف سی بلین (ایس)، ایل این کے محمد فہد (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، سپاہی تنویر احمد (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، سپاہی محمد سہیل (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، ستمبر محمد خالد (شہید)، ایف سی کے پی (ایس)، سیف اللہ (شہید)، FC KP (S)، Sep الیاس خان (شہید)، FC KP (S)، سپاہی محمد رمضان (شہید) FC KP (S)، سپر شبیر علی (شہید)، انجینئرز، سپاہی شاکر اللہ (شہید) , FC KP (S), Sep محمد خداداد (شہید), پنجاب, Sep نثار احمد (شہید), SSG, Sep ظفر محمود خان (شہید), FF, Sep قیصر (شہید), FF, Sep فرحان (شہید), FF ستمبر ذکاء اللہ (شہید)، ایف ایف، ستمبر شوکت علی (شہید)، ایف ایف، ستمبر فرید اللہ (شہید)، ایف ایف، ستمبر شعیب حسن (شہید)، ایف ایف، ستمبر محمد شیراز (شہید)، ایف ایف، ستمبر وقاص احمد (شہید) شہید، ایف ایف، ستمبر مسکین علی (شہید)، سندھ، ستمبر میر (شہید)، سندھ، ستمبر محمد الیاس (شہید)، سندھ، ستمبر محمد قیصر (شہید)، بلوچ، ستمبر عمران خان (شہید)، بلوچ، ستمبر محمد عامر اقبال (شہید)، اے کے، ستمبر عمر یعقوب (شہید)، ایس ایس جی، سپاہی روحیل حسین علی (شہید)، اے کے، ستمبر محمد نوید عمر (شہید)، ایف سی بلن (ایس)، ستمبر غفور جان (شہید)، ایف سی۔ کے پی (ایس)، سیپتمبر مدثر محمد (شہید)، ایف سی کے پی (ن)، سیپ جمشید (شہید)، ایف سی کے پی (ن)، ستمبر ہدایت اللہ (شہید)، ایف سی کے پی (این)، سپاہی محمد رمضان (شہید)، ایف سی بلن (ایس)، سپاہی فرزند علی (شہید)، ایف سی بلین (ایس) اور سپاہی کلرک صابر اقبال، ایف سی بلن (ایس)۔

    درج ذیل افسران اور جوانوں کو امتیازی سند سے نوازا گیا ہے۔
    میجر جنرل اظہر وقاص، پنجاب، بریگیڈیئر خرم شہزادہ، ایس آئی (ایم) پنجاب، لیفٹیننٹ کرنل عاطف اسلم، سگ، لیفٹیننٹ کرنل محمد نعمان احمد، ایون، لیفٹیننٹ کرنل سلمان طارق، پنجاب، لیفٹیننٹ کرنل سکموئیل احمد، ای ایم ای، میجر ظہیر عباس۔ ایون، میجر محمد انور کمال بھٹہ، بلوچ، میجر ملک محمد سبل رحمان، ایف ایف، میجر سید ارسلان حیدر، پنجاب، کیپٹن سدر حسین، آرٹی، کیپٹن محمد حسین اقبال، ایف ایف، کیپٹن سلیمان خان، ایف ایف، کیپٹن حسن علی، ایف ایف، کیپٹن حسن علی، ایف ایف۔ ، لیفٹیننٹ محمد احمد، پنجاب، سب منیر احمد، ایف سی بلین (این)، حول ضمیر گل، ایف سی کے پی (ایس)، این کے جنرل خالد حسین، آرٹی، سیپ محمد یاسین، انجینئر، سپر محمد ادریس، انجینئر، ستمبر/کلک( U) محمد عثمان، بلوچ، CDT-I برکت علی، نیوی، گروپ کیپٹن فیصل الرحمان، جی ڈی (پی)، فضائیہ، گروپ کیپٹن عباس علی شاہ، جی ڈی (پی)، فضائیہ، گروپ کیپٹن نوفل ذبیح، جی ڈی ( P)، فضائیہ، ونگ کمانڈر وجاہت عبداللہ سید، جی ڈی (پی)، فضائیہ، ونگ کمانڈر محمد حسن طفیل، جی ڈی (پی)، فضائیہ، گروپ کیپٹن علی جاوید، انجینئر، فضائیہ، گروپ کیپٹن محمد عرفان رفیق، انجینئر، ایئر فورس، Gr oup کیپٹن مجاہد محسن، انجینئر، ایئر فورس، ونگ کمانڈر عثمان رفیق، انجینئر، ایئر فورس، گروپ کیپٹن محمد شکیل، اے ڈی، ایئر فورس اور گروپ کیپٹن وقار علی خان، لاگ، ایئر فورس۔

    درج ذیل افسران اور جوانوں کو COAS تعریفی کارڈز سے نوازا گیا ہے۔

    بریگیڈیئر محمد عبدالعزیز، سی ایم آئی، بریگیڈیئر عاطف رفیق، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل خالد اقبال، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل سید فیصل علی شاہ، ایف ایف، لیفٹیننٹ کرنل احتشام ستار، ایف ایف، لیفٹیننٹ کرنل سلیمان بنارس ملک، انجینئرز، لیفٹیننٹ کرنل یسرب علی شاہ، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل خلدون بن نذیر، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل محمد زین العابدین، ایف ایف، لیفٹیننٹ کرنل عمر شیر یار، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل عمران احمد خان، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل سید عمر محمود، ای ایم ای، لیفٹیننٹ کرنل جمشید خان، ایس ایس جی، میجر سید وقار حسین شاہ، اے سی، میجر حفیظ اللہ، سی ایم آئی، میجر سید محسن علی، ای ایم ای، میجر عبدالصابر، سندھ، میجر برہان ربانی، سی ایم آئی، میجر فیصل ایوب، ایف ایف، میجر ولید بشیر، آئی سی ٹی او، میجر نقاش علی خان، پنجاب، میجر محمد جمیل، ای ایم ای، میجر محمد سہیل بندگی جھنڈیر، ایم ایف، کیپٹن محمد طیب خلیل، سندھ، کیپٹن مزمل امداد، سی ایم آئی، کیپٹن محمد فیضان، پنجاب، کیپٹن احتشام ریاض، اے کے، کیپٹن افتخار احمد، ایس ایس جی، کیپٹن محمد معید۔ حیدر شفیق، اے سی، کیپٹن محمد ایاز، ایس ایس جی، کیپٹن محمد بلال، پنجاب، کیپٹن محمد حمزہ تقی، پنجاب، کیپٹن نعمان عالم ملک، ایف ایف، لیفٹیننٹ سمیر شریف، پنجاب، این/سب محمد اشتیاق،انجینئر این/سب شفیع اللہ خان، ایف ایف، این/سب برکت علی، سندھ، این/سب دیس محمد، سی ایم آئی، این/سب غازی الرحمان، ایف سی کے پی (ایس)، حول قاسم خان، ایف سی کے پی (ایس)، حافظ رحمت اللہ، ایف سی بلین (این)، حافظ احسان اللہ، سی ایم آئی، حافظ شعیب احمد، ای ایم ای، حافظ رفیع اللہ، ای ایم ای، ایل/ہول عبدالمجید، پنجاب، این کے ضیاء مصطفی، ای ایم ای، این کے عمر زمان کے پی (ایس)، این کے شفیق احمد، ایف سی بلین (ایس)، این کے محمد یاسین، ایف سی بلین (ایس)، این کے شاہد الرحمان، ایف سی بلین (این)، ایل این کے خادم علی، ایف سی کے پی (ایس)، ایل این کے محمد اجمل، پنجاب، ایل این کے ایڈریس مسیح، انجینئرز، ایل این کے محمد بلال، ایف سی بلین (ایس)، ایل این کے عبدالمحمود، ایف سی بلین (ایس)، ایل این کے مزمل حسین، ایف سی بلین (ایس)، سیپ عبدالستار، پنجاب، سیپٹر ظہیر حسین شاہ، اے کے , ظہیر حسین شاہ، اے کے، ستمبر محمد عاطف، ایف سی کے پی (ایس)، ستمبر وقاص محمود، ایف ایف، ستمبر سدی احمد، سندھ، ستمبر محمد نواز، ایف ایف، ستمبر منتظر شاہ، ایف سی بلین (ایس)، ستمبر محمد دانش، ایس ایس جی، ستمبر افسر علی، SSG، Sep رضا خان، SSG اور سپاہی محمد ارشد خان شامل ہیں

    درج ذیل افسران کو ہلال امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا ہے۔
    میجر جنرل خرم نثار، ٹی آئی(ایم)، ٹی ایس او، میجر جنرل عادل رحمانی، ٹی بی ٹی، ایف ایف، میجر جنرل محمد حسن خٹک، ایف ایف، میجر جنرل محمد شجاع انور، آرٹی، میجر جنرل ماجد جہانگیر، پنجاب، میجر جنرل اظہر وقاص، پنجاب، میجر جنرل آصف محمود گورایہ، اے ڈی، میجر جنرل عاکف اقبال، پنجاب، میجر جنرل راشد محمود، اے سی، میجر جنرل محمد عرفان، پنجاب، میجر جنرل دلاور خان، آرٹی، میجر جنرل عبدالمعید، اے سی، میجر جنرل قمر النساء۔ چودھری، اے ایم سی سپیک، میجر جنرل عرفان علی مرزا، اے ایم سی سپیک، میجر جنرل محمد رفیق ظفر، اے ایم سی سپیک، میجر جنرل محمد سہیل امین، اے ایم سی سپیک، میجر جنرل محمد علیم، ایچ سی اے، ریئر ایڈمرل محمد سہیل ارشد، ایس آئی (ایم) بحریہ، ریئر ایڈمرل سلمان الیاس، ایس آئی (ایم)، بحریہ، ایئر مارشل چودھری احسن رفیق، جی ڈی (پی)، فضائیہ، ایئر مارشل وقاص احمد سلہری، جی ڈی (پی)، ایئر فورس، اور ایئر وائس مارشل سلمان عباس شاہ، انجینئرنگ، ایئر فورس.

    درج ذیل افسران کو ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا ہے۔
    بریگیڈیئر عمران اقبال، پنجاب، بریگیڈیئر سید عمران اختر، آئی سی ٹی او، بریگیڈیئر ذیشان فیصل خان، جی ایل، بریگیڈیئر سلمان مجید، پی ایچ ڈی، ٹی ایس او، بریگیڈیئر رفاقت اسلام، اے ای سی، بریگیڈیئر فیصل نواز جنجوعہ، آئی سی ٹی او، بریگیڈیئر محمد ظفر اقبال، ای ایم ای، بریگیڈیئر احسن۔ محمود کیانی اے ڈی، بریگیڈیئر محمد ندیم اسلم، پنجاب، بریگیڈیئر نذیر حسین، بلوچ، بریگیڈیئر شاہد اقبال ملک، اے کے، بریگیڈیئر تابش سجاد، آرٹی، بریگیڈیئر ہاشم علی خان، آرٹی، بریگیڈیئر ندیم اختر حسین، پنجاب، بریگیڈیئر وقار حیدر اکبر، سگس، بریگیڈیئر چوہدری جہانزیب مرتضیٰ، اے سی، بریگیڈیئر عرفان افتخار، سندھ، بریگیڈیئر ظفر اقبال، انجینیئر، بریگیڈیئر محمد عمران شفیع، آرٹی، بریگیڈیئر تمور داؤد خان، اے سی، بریگیڈیئر سہیل احمد، آرٹی، بریگیڈیئر منیر احمد اسد، اے کے، بریگیڈیئر شہزاد۔ اکرم، اے کے، بریگیڈیئر محمد امین خان، سندھ، بریگیڈیئر محمد راشد منہاس، بلوچ، بریگیڈیئر غفران حمید، اے سی، بریگیڈیئر آفتاب رمیز، اے کے، بریگیڈیئر محمد طارق محمود، اے ایس سی، بریگیڈیئر شیخ عدیل خالق، اے ایس سی، بریگیڈیئر حیدر علی، اے ایس سی، بریگیڈیئر خاور ظفر، آرٹی، بریگیڈیئر محمد کامران افسر، آرڈر، بریگیڈیئر رضوان افضل ملک، سندھ، بریگیڈیئر عمران عزیز، اے ایس سی، بریگیڈیئر ممتاز علی، اے ڈی۔ ، بریگیڈیئر محمد کاشف بٹ، بلوچ، بریگیڈیئر منظر جاوید، بلوچ، بریگیڈیئر عامر علی قریشی، سی ایم آئی، بریگیڈیئر کاشف اعجاز چوہدری، آرٹی، بریگیڈیئر تمسیل داؤد، آئی سی ٹی او، بریگیڈیئر خان امجد آزاد، ایف ایف، بریگیڈیئر بابر ظفر خان نیازی، بریگیڈیئر بابر ظفر خان نیازی نسیم احمد، اے ڈی، بریگیڈیئر نعیم فخر ملک، بلوچ، بریگیڈیئر ممتاز احمد راجہ، آرڈ، بریگیڈیئر عبدالمجید منظور، اے سی، بریگیڈیئر محمد عمر حیات، اے ایس سی، بریگیڈیئر سعید ہارون، ای ایم ای، بریگیڈیئر شعیب احمد، اے ایم سی سپیک، بریگیڈیئر گلناز احمد، ایچ سی اے، بریگیڈیئر امتیاز عالم شاہ، ایچ سی اے، بریگیڈیئر عامر وحید بٹ، اے ایم سی سپیک، بریگیڈیئر ارم لہراسب، ایچ سی اے، بریگیڈیئر سید گلزار علی بخاری، اے ڈی سی، کرنل کاشف امین اے سی، کرنل محمد عمران اشرف، آرٹی، کرنل محمد عاقب، آرٹی، کرنل محمد عاقب، اے ڈی سی۔ فرحت نعیم احمد، آرٹی، کرنل مبشر حسین، آرٹی، کرنل تبسم بشیر، اے ڈی، کرنل محمد سہیل اشرف، اے ڈی، کرنل محمد عثمان نسیم، انجینئرز، کرنل ارشد علی فاروقی، سگس، کرنل اشتیاق الرحمان، سگ، کرنل محمد طاہر، ایف ایف، کرنل تسبیح الحسن، پنجاب، کرنل سعید احمد بھٹی، پنجاب، کرنل سید علی رضا شاہ، بلوچ، کرنل مظہر حسین، سندھ، کرنل شوکت ہے پر، بلوچ، کرنل عرفان رستم، ایف ایف، کرنل وقار احمد، اے کے، کرنل یاسر مختار،بلوچ، کرنل شاہد حسین ترمذی، این ایل آئی، کرنل عاصم رسول، پنجاب، کرنل عباس حیدر، ایف ایف، کرنل گلاب خان، آئی سی ٹی او، کموڈور عامر حنیف، نیوی، کموڈور فاروق اقبال خان خٹک، نیوی، کموڈور شرجیل افتخار، نیوی، کموڈور سید۔ طلعت حسین، بحریہ، ایئر کموڈور سجاد نوری، جی ڈی (پی)، ایئر فورس، ایئر کموڈور محمد عاصم رانا، جی ڈی (پی)، ایئر فورس، ایئر کموڈور سید انعام اللہ، جی ڈی (پی)، ایئر فورس، ایئر کموڈور ذیشان سعید , GD(P), ائیر فورس, ائیر کموڈور نعمان خلیل, GD(P), ائیر فورس, ائیر کموڈور سہیل عجائب, GD(P), ائیر فورس, ائیر کموڈور احسن یوسف, GD(P), ائیر فورس, ائیر کموڈور حسن فیصل، جی ڈی (پی)، ایئر فورس، ایئر کموڈور محمد عاصم، جی ڈی (پی)، ایئر فورس، ایئر کموڈور عمر رشید، جی ڈی (پی)، ایئر فورس، ایئر کموڈور سید بابر علی شمس، انجینئر، ایئر فورس، ایئر فورس کموڈور عدنان لطیف مغل، انجینئر، ایئر فورس، ایئر کموڈور سلمان احمد ملک، انجینئر، ایئر فورس، ایئر کموڈور توصیف الرحمان، انجینئر، ایئر فورس، ایئر کموڈور عبدالمتین، انجینئر، ایئر فورس، ایئر کموڈور علی عطا اے حسن، انجینئر، ایئر فورس، ایئر کموڈور ساجد رشید، اے ڈی، ایئر فورس، ایئر کموڈور محمد فاروق، اے ڈی، ایئر فورس، ایئر کموڈور ارمغان حیدر، اے ڈی، ایئر فورس، ایئر کموڈور مقصود اختر، اے اینڈ ایس ڈی، ایئر فورس، اور ایئر کموڈور اسد نعیم، اے اینڈ ایس ڈی، ایئر فورس۔

    درج ذیل افسران کو تمغہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا ہے۔
    لیفٹیننٹ کرنل ساجد قیوم، اے سی، لیفٹیننٹ کرنل شاہد عمران تارڑ، اے سی، لیفٹیننٹ کرنل محمد بلال، اے سی، لیفٹیننٹ کرنل محمد طاہر، اے سی، لیفٹیننٹ کرنل افتخار محمد فضل، اے سی، لیفٹیننٹ کرنل فیصل سعید، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل محمد کاشف نذیر، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل محمد سالک صدیقی، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل محمد ندیم ارشاد، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل عبدالحمید، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل محمد عثمان خالد، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل نوید احمد خان، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل محمد رضوان بیگ، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل محمد رضوان بیگ۔ کرنل احمد رضا خان، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل افتخار علی، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل منصور الٰہی، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل محمد طلحہ جمال، آرٹی، لیفٹیننٹ کرنل جاوید اکبر، اے ڈی، لیفٹیننٹ کرنل محمد نعیم یوسف، اے ڈی، لیفٹیننٹ کرنل رب نواز، اے ڈی۔ لیفٹیننٹ کرنل محمد بابر نذر، انجینئرز، لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحمان، انجینئر، لیفٹیننٹ کرنل طارق فاروق، انجینئر، لیفٹیننٹ کرنل صفوان نواز، انجینئر، لیفٹیننٹ کرنل محمد احمد، انجینئر، لیفٹیننٹ کرنل امتیاز ظفر، انجینئر، لیفٹیننٹ کرنل علی رضا، انجینئر لیفٹیننٹ کرنل وقار حیدرانجینئر لیفٹیننٹ کرنل ناصر محمود، سگ، لیفٹیننٹ کرنل کاشف اعجاز، سگ، لیفٹیننٹ کرنل اسد اللہ عامر صادق، سگ، لیفٹیننٹ کرنل جواد ریاض، سگ، لیفٹیننٹ کرنل احمد عثمان، سگ، لیفٹیننٹ کرنل عمران گھا فور، سگز، لیفٹیننٹ کرنل نعیم اقبال، پنجاب، لیفٹیننٹ کرنل محمد وقار نوازش، پنجاب، لیفٹیننٹ کرنل محمد پرویز، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل سہیل خان، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل فراز ولی خان، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل محمد عارف، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل محمد عارف افتخار حسین بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل عظمت عباس خان، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل شیخ راحیل نثار، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل خالد یوسف، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل نوید وقاص، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل محمد اکرام، بلوچ، لیفٹیننٹ کرنل عبدالنعیم خان بنگش، ایف ایف۔ لیفٹیننٹ کرنل محمد طفیل، ایف ایف، لیفٹیننٹ کرنل شہزاد یونس، ٹی بی ٹی، ایف ایف، لیفٹیننٹ کرنل محسن علی، ایف ایف، لیفٹیننٹ کرنل کاشف ملک، ایف ایف، لیفٹیننٹ کرنل سید علی عدنان حسنی، اے کے، لیفٹیننٹ کرنل فرخ اکرام، اے کے، لیفٹیننٹ کرنل فرخ اکرام۔ وسیم عباس، اے کے، لیفٹیننٹ کرنل علی مدد، اے کے، لیفٹیننٹ کرنل جواد حفیظ، ٹی بی ٹی، اے کے، لیفٹیننٹ کرنل محمد قیصر گل، سندھ، لیفٹیننٹ کرنل سکندر حیات، سندھ، لیفٹیننٹ کرنل رضوان اختر، سندھ، لیفٹیننٹ کرنل نوید ظفر عباسی، لیفٹیننٹ کرنل عرفان اسلم، ایس بی ٹی، ایون، لیفٹیننٹ کرنل خرم رسول، ایون، لیفٹیننٹ کرنل فرحان اعظم گھمن، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل عثمان ابو بکر، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل شکیل احمد، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل خادم حسین، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل خادم حسین کرنل عتیق الرحمان n نیازی، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل محمد علی، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل خرم علی، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل عامر اقبال خان، سی ایم آئی، لیفٹیننٹ کرنل ریاض الحق، اے ایس سی، لیفٹیننٹ کرنل زاہد بشیر کیانی، اے ایس سی، لیفٹیننٹ کرنل عبدالرحیم، اے ایس سی، لیفٹیننٹ کرنل محمد اسجد مجید، اے ایس سی، لیفٹیننٹ کرنل عثمان خالد سید، آرڈر، لیفٹیننٹ کرنل سید عمر رضوان بخاری، آرڈر، لیفٹیننٹ کرنل سید گل حسن نقوی، ای ایم ای، لیفٹیننٹ کرنل احسن نواز، ای ایم ای، لیفٹیننٹ کرنل محمد مدثر الحسن، ای ایم ای، لیفٹیننٹ کرنل محمد مراد تاجور، ای ایم ای، لیفٹیننٹ کرنل رضوان علی خان، ای ایم ای، لیفٹیننٹ کرنل محمد جاوید اقبال، ٹی ایس او، لیفٹیننٹ کرنل نعمان رزاق، ٹی ایس او، لیفٹیننٹ کرنل حامد اشرف، ٹی ایس او، لیفٹیننٹ کرنل راحت علی، ٹی ایس او، لیفٹیننٹ کرنل طاہر اقبال، ٹی ایس او، لیفٹیننٹ کرنل محمد منور خان، اے ای سی، لیفٹیننٹ کرنل محمد الیاس، اے ای سی، لیفٹیننٹ کرنل محمد عمران مسعود خان، آر وی اینڈ ایف سی، لیفٹیننٹ کرنل محمد غنی، آر وی اینڈ ایف سی، لیفٹیننٹ کرنل شاہ جہاں، جے اے جی، لیفٹیننٹ کرنل بلال اجمل، آئی سی ٹی او، لیفٹیننٹ کرنل سید۔ آصف حسین، ایچ سی اے، لیفٹیننٹ کرنل عمر خان، ایچ سی اے، لیفٹیننٹ کرنل سعدیہ فاطمہ، اے ایم سی سپیک، لیفٹیننٹ کرنل ہمایوں منیر تارڑ، اے ایم سی سپیک، لیفٹیننٹ کرنل ادیبہ اختر خلیل، اے ایم سی سپیک، لیفٹیننٹ کرنل سید نعیم رضا ہمدانی، اے ایم سی سپیک، لیفٹیننٹ کرنل سید نعیم رضا ہمدانی۔ رخسانہ پروین، اے ایف این ایس، میجر سلمان مظہر، آرٹی، میجر ساجد، آرڈر، میجر فیصل احمد خان، اے ایم سی جی ڈی ایم او، میجر سلطانہ یاسمین، اے ایف این ایس، میجر راشدہ پروین، اے ایف این ایس، میجر سوریہ صغیر، اے ایف این ایس، میجر مسرت بی بی، اے ایف این ایس، کمانڈر احمد سعد بن عثمان، نیوی کمانڈر کبیر یحییٰ خان، بحریہ، کمانڈر محمد عاطف خان، بحریہ، لیفٹیننٹ کمانڈر کامران جاوید، بحریہ، لیفٹیننٹ کمانڈر فیصل ایوب، بحریہ، لیفٹیننٹ کمانڈر سید ایم حسن رضوی، بحریہ، ونگ کمانڈر محمد طلحہ سعید، جی ڈی (پی)، ایئر فورس، ونگ کمانڈر فہد عزیز بن حدید، جی ڈی (پی)، فضائیہ، ونگ کمانڈر محمد کاشف اقبال، جی ڈی (پی)، فضائیہ، ونگ کمانڈر محمد آصف بھٹی، جی ڈی (پی)، فضائیہ، ونگ کمانڈر ذیشان اللہ بریار ,جی ڈی (پی)، فضائیہ، ونگ کمانڈر محمد راحیل شوکت، جی ڈی (پی)، فضائیہ، ونگ کمانڈر حافظ محمد یاسر خان، جی ڈی (پی)، فضائیہ، ونگ کمانڈر محمد عثمان خان نیازی، جی ڈی (پی)، ایئر فورس فورس، ونگ کمانڈر بلال امین، انجینئر، ایئر فورس، ونگ کمانڈر جمشید مہدی، انجینئر، ایئر فورس، ونگ کمانڈر عبداللہ قادر وڑائچ، انجینئر، ایئر فورس، ونگ کمانڈر عامر عباس لاشاری، انجینئر، ایئر فورس، ونگ کمانڈر ایس انور حسین کاظمی اے ڈی، ایئر فورس، ونگ کمانڈر رفعت مسعود، اے ڈی، ایئر فورس، ونگ کمانڈر کاشف بلال احمد، اے اینڈ ایس ڈی، ایئر فورس، ونگ کمانڈر سمرین عثمان، اے اینڈ ایس ڈی، ایئر فورس، ونگ کمانڈر زاہد مقبول احمد، لاگ، ایئر فورس، اور ونگ کمانڈر محمد ہمایوں کلیم، ایڈو، ایئر فورس شامل ہیں

  • یوم آزادی پاکستان، صدر، وزیراعظم کا قوم کے نام پیغام

    یوم آزادی پاکستان، صدر، وزیراعظم کا قوم کے نام پیغام

    صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یوم آزادی پرقوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کے پر مسرت موقع پر پوری قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ دن ہمیں مادر وطن "پاکستان” کے حصول کیلئے قائداعظم محمد علی جناح کی متحرک قیادت میں بانیانِ پاکستان کی لاتعداد قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ آج ہم نظریہ ِپاکستان کو برقرار رکھنے اور پاکستان کو ایک مثالی جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

    اس سال ہم آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی بھی منا رہے ہیں اور اس سلسلے میں ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ان تقریبات کا مقصد عوام بالخصوص پاکستان کے نوجوانوں میں قومی یکجہتی ، نظریہ ِپاکستان اور تحریکِ آزادی کے بارے میں شعوراجاگر کرنا ہے ۔ اس تاریخی موقع کو منانے کے حوالے سے تمام اداروں کی کاوشیں لائق ِ تحسین ہیں۔

    ڈائمنڈ جوبلی کے اس موقع پر ہمیں اپنی کامیابوں اور خامیوں کا بھی احاطہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اپنی 75 سالہ تاریخ میں ہم نے مختلف مشکلات پر کامیابی سے قابو پایا۔ ہم نہ صرف ایک ایٹمی قوت بن کر ابھرے ، بلکہ دہشت گردی کے عفریت کو بھی شکست دی۔ حالیہ ماضی میں ہم نے کورونا وبا پر بھی کامیابی سے قابو پایا۔ اس تاریخی موقع پر ، ہم افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مادر وطن کے دفاع اور سلامتی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ میں پاکستان کے محنت کشوں ، مزدوروں ، خواتین ، کاروباری برادری ، اقلیتوں اور اُن تمام لوگوں کی کوششوں کو سراہتا ہوں جنہوں نے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ اگرچہ آج کے پاکستان کو معاشی اور سیاسی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے مگر میرا قوی یقین ہے کہ یہ قوم اپنی اولوالعزمی ، پختہ ارادے، حب الوطنی ، شبانہ روز محنت ، اتحاد، تنظیم ، باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی سے ان مشکلات سے بھی سرخرو ہوکر نکلے گے۔

    ہمیں آج یوم ِ آزادی مناتے ہوئے غیر قانونی طور پر بھارتی زیرِتسلط جموں و کشمیر کے مظلوم اور بھارتی جبر و استبداد کے شکار بہن بھائیوں کو بھی نہیں بھولنا چاہئے۔ بھارت کئی دہائیوں سے کشمیر میں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے اور بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 ء کو آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی قانونی حیثیت ختم کرنے کے یکطرفہ اقدامات کو بھی تین سال مکمل ہوگئے ہیں۔ میں اپنے کشمیری بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اقوام ِمتحدہ کی قرادادوں کے مطابق ان کے حق خودارادیت کے حصول کی جائز جدوجہد کی ہر ممکن سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

    آخر میں ، میں قوم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک کی تعمیرو ترقی کے لیے ثابت قدم رہتے ہوئے دلجمعی سے کام جاری رکھیں ۔ آج پاکستانی قوم کو درپیش معاشرتی، معاشی اور سلامتی کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے متحد رہنے کی ضرورت ہے۔ آ ئیے ، عہد کریں کہ ہم اس وطن کے لوگوں کے وقار اور عزت نفس، اور اِس مادر وطن کی عظمت اور سربلندی کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انشاءاللہ !

    علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ، کھلے دل سے اس سچائی کا اعتراف کرنا ہو گا کہ ہم اپنی نسلوں کو وہ پاکستان نہیں دے سکے جس کا خواب قائد اور اقبال نے دیکھا تھا ۔

    ہم نے تہیہ کیا ہے کہ پاکستان کو معاشی خود انحصاری کے راستے پر لیکر جائیں گے ، معاشی آزادی کے بغیر حقیقی آزادی کا تصور ناممکن ہے اپوزیشن لیڈر کے طور پر میثاق معیشت کی پیشکش کا بطور وزیراعظم آج ایک مرتبہ پھر خلوص دل سے اعادہ کر رہا ہوں ، اس کی پیشکش کررہا ہوں ، وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم بحیثیت قوم درست سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھیں اور قومی مفاد کو ذاتی عناد ، ضداور ہٹ دھرمی کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں ، حقیقی سیاسی قیادت انتخابات پر نہیں آنے والی نسلوں کے مستقبل پر نظر رکھتی ہے

    ، ہمارا سامنا بے رحم حقائق سے ہے جن کا مقابلہ ہم قومی اتفاق رائے پر مبنی پالیسیوں کے تسلسل ، معاشی اور سیاسی استحکام سے کر سکتے ہیں ، ہمیں خود ی اور خود داری کے اسی جذبے کو زندہ کرنا ہے جس نے پاکستان بنایا تھا جو تحریک پاکستان کی اصل روح ہے، اسی جذبے سے تعمیر پاکستان ہو گی ،14اگست ایک دن ہے آئیں اس دن ہم ایک قوم بن جائیں ۔

    قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے لہو سے لکھی گئی داستان کا عنوان پاکستان ہے ، وطن عزیز کی 75ویں سالگرہ پر میں تحریک آزادی کے ان گنت شہداء کو خراج عقیدت اور پوری دنیا میں آباد ہر پاکستانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ آج محض ایک مبارکباد کافی نہیں یقیناً ہم ہر سال بڑی دھوم دھام اور خوشی سے یوم آزادی ، یوم پاکستان ، یوم قائداعظم اور یوم اقبال مناتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ 75سال سے ان دنوں کو صرف منایا ہے مگر ان کے اصل مقاصد کو اپنایا نہیں ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کو ایسا نہیں بنایاجسے دیکھ کر خود ہمارا دل یہ گواہی دے کہ اس سے قائد اور لاکھوں شہداء کی روحیں مطمئن اور آسودہ ہوں گی ، اسی لئے یوم آزادی کے موقع پر میرا دل خوش بھی ہے اور بے چین بھی ہے ۔ آج ہمیں کھلے دل سے یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اپنے بچوں ، اپنی نئی نسل کو وہ سب نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار ہیں ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ وہ قوم جس پر اللہ تعالی کی ہمیشہ بے پایہ رحمت رہی جس میں قائداعظم کا عمل اور اقبال کی فکر موجود ہے پھر وہ کیوں منزل کی تلاش میں بھٹک رہی ہے ، ہم ان بحرانوں سے کیوں دوچار ہیں جن میں سب سے بڑھ کر معاشی بحران ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے میں اس جذباتی بحران کا ذکر کرنا چاہوں گا جس کا آج ہمیں سامنا ہے ، یہ بحران خودی ، خود داری ، خود اعتمادی پر ہمارے یقین کا متزلزل ہونا ہے جس کے اثرات آج ہمارے قومی
    وجود کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ ہمارا قومی کردار جذبے ، ہمت ، محنت اور کر دکھانے سے عبارت ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت خود پاکستان کا قیام ہے ۔

    یہی وہ جذبہ تھا جو علامہ اقبال نے سوئی ہوئی ملت میں جگایا ، جس کی بدولت قائداعظم محمد علی جناح کی عظیم الشان قیادت نے اس خواب کو تعبیر میں بدل دیا اور پاکستان معرض وجود میں آگیا ۔ انہوں نے کہاکہ تعمیر پاکستان کے اس مشن کو ہماری قومی و سیاسی قیادت نے جمہوری و آئینی جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھایا ۔ انہوں نے کہاکہ حقائق سے نظریں نہیں چرائیں ، ہوش مندی سے سچائی کا سامنا کیا اور شدید مالی انتظامی اور ہر طرح کے مسائل کا صبر ، استقامت اور دانشمندی سے مقابلہ کیا ۔

    قوم کو متفقہ آئین دیکر ایک قومی ایجنڈے پراکٹھاکیا ، ادارے بنائے ، معیشت ، زراعت اور صنعت کو ترقی دی ، قوم کو روزگار دیا اور پاکستان کو دنیا میں قابل عزت بنایا ، یہ وہ قوم ہے جس نے وسائل نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان کے لئے جوہری پروگرام شروع کیا اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں تمام تر ترغیبات اور دبائو کے باوجود اسے مکمل کر کے قومی دفاع کو ہمیشہ کے لئے ناقابل تسخیر بنادیا

    ، اس قوم نے ہولناک زلزلوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کیا ، ہمت نہیں ہاری ، آگے بڑھتی رہی ، اسی قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں نے کھیلوں کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم سربلند کیا ، اسی مہینے میں کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم اور نوح بٹ سمیت قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں نے کامیابیاں حاصل کر کے پاکستان کا نام دنیا میں سربلند کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ اسی قوم نے ملکر دہشت گردی کو شکست فاش دی ۔

    یہ ہمارے قومی عزم اور اعتماد کی چند مثالیں ہیں ، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ہماری قوم ہر مقصد کو حاصل کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے لیکن آج قوم کو مایوسی کے ایک اور بحران کا سامنا ہے ، انتشار اور نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں ۔قوم کو تقسیم در تقسیم اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ گزشتہ حکومت کے پیدا کردہ معاشی بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ آج مالی محتاجی جیسے ہماری قومی شناخت بن گئی ہے جس کا ہمارے بزرگوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ گیارہ اپریل 2022سے اب تک بطور وزیراعظم میرا سب سے تلخ تجربہ یہی ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ میں نے آپ کو تاریخ کے آئینے میں تصویر کے دونوں رخ دکھا دیئے ہیں ایک مایوسی کا ہے اور دوسرا امید کا ہے لیکن راستہ صرف ایک یقین محکم کا ہے اور عمل پیہم ، عزم و ہمت اور امید کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم غور کریں تو ہر بحران میں مواقعے چھپے ہوتے ہیں، بس دیکھنے کو چشم اور کرنے کو عزم چاہئے ، اس جدوجہد کی ابتدا ہم کر چکے ہیں ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے مختصر وقت میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے دن رات محنت کی جو اب بھی جاری ہے ، جس کی وجہ سے پاکستانی معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ سابق حکومت نے 48ارب ڈالر کا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ چھوڑا ہے ، اس خسارے کو کم کرنے کے لئے ہمیں دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حقیقی آزادی ہے ، سابق حکومت نے پونے چار سال میں بیس ہزار ارب روپے کا تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا جس کے سود کی ادائیگی بھی محال ہو چکی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ 2017-18میں ہم پاکستان کو گندم میں خود کفیل چھوڑ کر گئے تھے آج گزشتہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ہم اربوں ڈالر کی لاگت سے گندم باہر سے منگوانے پر مجبور ہیں کیا یہ حقیقی آزادی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت نے کرپشن ، سنگین اور مجرمانہ غفلت کرتے ہوئے ایل این جی کا کوئی بھی طویل المدتی معاہدہ نہیں کیا جو اس وقت انتہائی سستے داموں مل رہی تھی ، آج لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کی بنیادی وجہ یہی ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ کیا میں یہ سوال کر سکتاہوں کہ گزشتہ حکومت نے کس کے اشارے پر سی پیک کے منصوبوں کو بند کر کے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔وزیراعظم نے کہاکہ ہماری معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں غیر ضروری درآمدات کو سختی سے کنٹرول کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں آج پاکستانی روپیہ دن با دن مضبوط ہو رہاہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ سادگی کو اپناتے ہوئے ہم خود دار قوموں کی طرح اپنے وسائل پر انحصار کریں گے۔

    اربوں ڈالر خرچ کر کے ہم باہر سے تیل اورگیس منگوا کر مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں اس کی جگہ ہم نے ہزاروں میگاواٹ سولر انرجی کے منصوبے لگانے کا فیصلہ کیا ہے ، اس سے ایک طرف اربوں ڈالر کی بچت ہوگی اور دوسری طرف عوام کو سستی بجلی بھی مہیا ہو گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے تہیہ کیا ہے کہ پاکستان کو معاشی خود انحصاری کے راستے پر لیکر جائیں گے ، کیونکہ معاشی آزادی کے بغیر آزادی کا تصور ناممکن ہے اسی لئے میں نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی اور بطور وزیراعظم آج ایک مرتبہ پھر خلوص دل سے اس کا اعادہ کر رہا ہوں ، اس کی پیشکش کررہا ہوں ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم بحیثیت قوم درست سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھیں اور قومی مفاد کو ذاتی عنا ، زد اور ہٹ دھرمی کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقی سیاسی قیادت انتخابات پر نہیں آنے والی نسلوں کے مستقبل پر نظر رکھتی ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ہمارا سامنا بے رحم حقائق سے ہے جن کا مقابلہ ہم قومی اتفاق رائے پالیسیوں کے تسلسل ، معاشی اور سیاسی استحکام سے کر سکتے ہیں ، سب سے بڑھ کر ہمیں خود ی اور خود داری کے اسی جذبے کو زندہ کرنا ہے جس نے پاکستان بنایا تھا جو تحریک پاکستان کی اصل روح ہے اسی جذبے سے تعمیر پاکستان ہو گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ 14اگست ایک دن ہے آئیں اس دن ہم ایک قوم بن جائیں ۔\

  • پاک افغان خطے کے مسائل کو اجاگر کرنے میں باغی پشتو کے کردار کا ایک سال کامیابی کے ساتھ مکمل

    پاک افغان خطے کے مسائل کو اجاگر کرنے میں باغی پشتو کے کردار کا ایک سال کامیابی کے ساتھ مکمل

    لاہور:پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم کی پشتو زبان میں نیوز ویب سائٹ باغی پشتو کا آج ایک سال کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔ باغی پشتو نے گزشتہ سال 14 اگست کو پشتو اور دری میں نشریات کا آغاز کیا تھا جس کو افغانستان اور پاکستان میں عوامی سطح پر بہت زیادہ پذیرائی ملی۔

    کراچی کی مستند آواز، اب صرف باغی ٹی وی پر.شہر کے مسائل پر ہو گی بے لاگ گفتگو،

    باغی پشتو پلیٹ فارم نے افغانستان کے گراؤنڈ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال کے تبدیلیوں اور حالات پر مصدقہ اور بروقت صحیح معلومات لوگوں تک پہنچائی اور لوگوں کے مسائل کو انتہائی مثبت انداز میں اعلی حکام تک پہنچانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

    باغی ٹی وی کی طرف سے لکھاریوں کے لیے75 سالہ جشن آزادی کی خوشی میں تحریری مقابلہ

    باغی پشتو کو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سمیت دیگر اعلی حکام کے انٹرویوز کا عزاز بھی حاصل ہے افغان حکومت کے ساتھ باغی پشتو ایک ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر رجسٹرڈ بھی ہے۔

    لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ:گلگت بلتستان سےچین تک باغی ٹی وی مقبول ہونےلگا

    باغی پشتو نے گزشتہ ایک سال میں قبائلی علاقہ جات سمیت پورے پاکستان میں لوگوں کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ باغی پشتو وہ واحد پلیٹ فارم ہے جس نے قبائلی علاقہ جات کے مسائل اور واقعات کو بروقت اور سب سے پہلے رپورٹ کیا ہے یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں خاصا مقبول حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

  • برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    برج پلئیر جہانگیر نے باغی ٹی سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پینتیس برس سے برج گیم کھیل رہا ہوں ، فی الحال جو ٹورنا منٹ ہو رہا ہے اچھا جا رہا ہے یہ تو فائنل رائونڈ ہونے کے بعد پتہ چلے گا کہ کونسی ٹیم کہاں سٹینڈ کررہی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لئے ملتان سے دو ٹیمیں آئی ہیں دو اسلام آباد سے آئی ہیں اور ایک ٹیم کراچی سے آئی ہے۔ ابھی جو زرلٹ آرہے ہیں وہ فائنل نتائج سے کافی مختلف ہوں گے۔ دیکھتے ہیں کہ کون سی ٹیم کس سے ہارتی ہے۔

     

    غیاث ملک نے کہا کہ یہ ایک مائنڈ گیم ہے دنیا بھر میں بہت پالولر ہے اور پوری دنیا میں سب سے زیادہ لٹریچر بھی اسی گیم پر لکھا گیا ہے۔ ہمارے ہاں یہ گیم لاہور کراچی، اسلام آباد اور ملتان میں کھیلی جاتی ہے۔اس گیم کو آپ کی ذہانت کی آزمائش کہا جا سکتا ہے۔اس گیم میں اس لئے بھی نوجوان نسل کی دلچپسی نہیں کیونکہ اب ہر کوئی نیٹ پر بیٹھا رہتا ہے فزیکلی لوگ کہیں کم ہی آتے جاتے ہیں۔

     

    ان کا کہنا تھا کہ عام تاثر یہ ہے کہ یہ تاش جوا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اس گیم میں نہ جوا لگتا ہے نہ ہی پیسے لگتے ہیں یہاں تک کہ کسی قسم کی کوئی شرط نہیں لگتی۔سعیداختر (صدر راولپنڈی اسلام آباد ایسوسی ایشن )نے کہا کہ یہ گیم مینٹل ایکسرسائز ہے مینٹلی الرٹ رہنے کے لیے اس گیم کو ضرور کھیلا جانا چاہیے۔

  • پاکستان اللہ کی نعمت ہے،قدر کرنی چاہیے :خواجہ سہیل منصور

    پاکستان اللہ کی نعمت ہے،قدر کرنی چاہیے :خواجہ سہیل منصور

    اسلام آباد:قومی اسمبلی میں پاکستان کی ڈائمنڈجوبلی کے حوالے سے جاری تقریب میں جہاں بہت سے مقررین اپنے اپنے انداز سے قیام پاکستان اور اس کےبعد کے حالات پر اپنے اپنے خیالات کا اظہارکررہے تھے وہاں خواجہ سہیل منصورکی گفتگو کی گفتگو نے سب کو محسور کررکھا تھا

     

    سہیل منصور نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان اللہ کی نعمت ہے ، سہیل منصور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سابق ، موجودہ ایم این ایز ، ججزاورافواج پاکستان سمیت تمام پاکستانیوں کو مبارکباد دیتا ہوں‌ کہ اس ملک میں‌عزت کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں جسے حاصل کرنے کےلیے ہمارے اباواجداد نے بڑی قربانیاں دیں‌

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مشکل میں نہیں ہے ،پاکستان بالکل محفوظ ہے ، ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ سیاستدان پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ، فوج مخلص نہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے ، ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ یہ آزاد ملک ہے ، یہاں سب کو آزادی ہے،

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ پاکستان مشکل وقت میں ایسا نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ جوکچھ ہیں پاکستان کی وجہ سے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ معیشت پاکستان کا مسئلہ ہےجس کے لیے سب کو ملکر سوچنا پڑے گا ، سب کو پاکستان کے لیے سوچنا چاہیے ،ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے غریب بھی اس ملک کا اثاثہ ہیں ، اس ملک کے مزدور کوجب تک پیٹ بھر کرروٹی نہیں دیں گے ہمارا گھر نہیں چلے گا

    ان کا کہنا تھاکہ مذہب کو اور سیاست کو الگ الگ ہونا چاہیے ،ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں اقلیتوں کو اقلیت نہ کہیں ان کو نان مسلم کہیں
    ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو بھی اپنے کردار کو دیکھنا پڑے گا ،جبتک فیصلے میرٹ پر نہیں ہوں گے تو حالات سنور نہیں سکیں ، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان زندہ باد ، پاکستان زندہ باد اور صرف اور صرف زندہ باد کہنا چاہیے

  • سوات میں کالعدم ٹی ٹی پی کے مسلح ارکان کی مبینہ موجودگی کی خبریں گمراہ کن قرار

    سوات میں کالعدم ٹی ٹی پی کے مسلح ارکان کی مبینہ موجودگی کی خبریں گمراہ کن قرار

    سوات :‌سوات میں کالعدم ٹی ٹی پی کی موجودگی،سیکورٹی ادارے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں ، آئی ایس پی آر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاک فوج نے سوات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی کی خبروں کو غلط فہمی قرار دیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق چند روز میں کالعدم ٹی ٹی پی کے مسلح افراد کی سوات میں مبینہ موجودگی کی غلط فہمی پھیلائی گئی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے وادی سوات میں کالعدم ٹی ٹی پی کی مبینہ موجودگی کی غلط فہمی پھیلائی گئی۔

    بیان کے مطابق سوات میں کالعدم تنظیم کے مسلح ارکان کی مبینہ موجودگی کی خبریں گمراہ کن ہیں۔ سوات اور دیر کے درمیان پہاڑوں پر چند مسلح افراد کی موجودگی پائی گئی۔ بظاہر یہ افراد اپنے آبائی علاقوں میں دوبارہ آباد ہونے کےلیے افغانستان سے چوری چھپے آئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پہاڑوں میں ان کی محدود موجودگی اور نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں۔ عسکریت پسندوں کی کسی بھی جگہ موجودگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر ضرورت پڑی تو ان سے بھر پور طاقت سے نمٹا جائے گا۔

  • عمران خان کا ایک بار پھر ملک گیر جلسوں کا اعلان

    عمران خان کا ایک بار پھر ملک گیر جلسوں کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ جو بھی مجھے نا اہل کرنے کے لیے سازش کررہا ہے اسے کہتا ہوں سن لومیرا مقابلہ لندن میں بیٹھے ہوئے ڈاکوسے نہ کرو، سازش کرنے والوں کان کھول کر سن لو میں کوئی ڈیل نہیں کروں گا۔عوام میں نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے ہفتے راولپنڈی ،کراچی میں جلسے کروں گا، سندھ جاؤں گا، پشاور، مردان، اٹک، ملتان، بہاولپور، سرگودھا، جہلم، گجرات، فیصل آباد والو آپ بھی تیار ہو جاؤ۔

    لاہور کے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں تحریک انصاف کے حقیقی آزادی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ اللہ صرف تیرے سے مدد مانگتے ہیں، جشن آزادی تقریب میں ماؤں، بہنوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، جہاں ایسے باشعور نوجوان ہو وہ ملک خوش قسمت ہوتے ہیں، آج میں نے حقیقی آزادی کا راستہ بتانا ہے، حقیقی آزادی کوحاصل کرنے کے لیے کیا قدم اٹھانے ہیں آج راستہ بتاؤں گا، چارقسم کی غلامی انسان کرتا ہے، قائداعظمؒ نے ہمیں ایک غلامی سے آزادی دلوائی۔

    انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے 75 سال پہلے کہا ہم انگریزکی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے، قائداعظم نے کہا ہم ایک آزاد ملک بننا چاہتے ہیں، جب پاکستان بن رہا تھا تو ایک نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا اور تیرا میرا رشتہ کیا، ضمیر کا سودا کرنے والے راہِ حق سے ہٹ کر جھوٹے خدا کے سامنے جھکتے ہیں، خوف کا بت انسان کو غلام بنادیتا ہے، غلام قوم کبھی بھی اوپرنہیں جاسکتی۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ پاکستان جب بنا تو لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں، لاکھوں قربانیوں کے بعد ہمارا ملک آزاد ہوا تھا، غلامی انسان کے اندر احساس کمتری ڈال دیتی ہے، لاہور جمخانہ، پنجاب کلب کے لوگ انگریزوں کی طرح رہتے تھے، احساس کمتری ایسی تھی پاکستانی انگریز بننا چاہتے تھے، جب بیرون ملک کرکٹ کھیلنے گیا تو سینئرز کہتے تھے انگریزسے جیتنے کا سوچنا بھی مشکل ہے۔ احساس کمتری کی وجہ سے میچ ہار جاتے تھے، جب ہم ذہنی طور پر آزاد ہوئے تو میچ جیتنا شروع ہوگئے، قائداعظم نے ہمیں غلامی سے آزاد کر دیا، چودہ اگست کا جشن یہاں منائیں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ اسلام تلوار سے نہیں پھیلا، اسلام تلوار سے نہیں پھیلا، پہلے ذہنوں کے اندر انقلاب آیا تھا، ہم نے اپنے نبیﷺ کی سیرت پرچلتے ہوئے نوجوانوں کو پہلے ذہنی طور پر آزاد کرنا ہے، پاکستانیوں آج کل آپ پر خوف طاری کیا جارہا ہے، خوف کی غلامی سب سے خوفناک غلامی ہے، مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ کربلا میں ہوا، کوفہ کے لوگوں کو پتا تھا حضرت امام حسینؑ راہ حق پرہیں، کوفہ کے لوگوں نے یزید کے خوف کی وجہ سے حضرت امام حسینؑ کی مدد نہیں کی بعد میں پچھتائے، تیسرا خوف یہ ہے نوکری یا کاروبار نہ ختم ہو جائے، ان تین خوف کی وجہ سے انسان راہ حق پر چلنے سے ڈرتا ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ مخالفین 26 سال سے میری ہر قسم کی کردار کشی کر رہے ہیں، اللہ کی شان دیکھو آپ کی تعداد میری حوصلہ افزائی کر رہی ہے، عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، جو موت سے ڈرتا ہو وہ زندگی میں کبھی بڑا کام نہیں کرسکتا، مدینہ کی ریاست میں ہمارے نبیﷺ نے انسانوں میں موت کا خوف ختم کردیا تھا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کے سب سے عظیم لیڈر کی امت ہیں، ہم دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کیوں پھرتے ہیں، اللہ نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازا ہے، غلام قوم کی پرواز کبھی اونچی نہیں جاسکتی، ہم نے اپنے بچوں کواپنے نبیﷺ کی سیرت پڑھانی ہے، جب وزیراعظم تھا تو میں نے رحمت اللعامین اتھارٹی بنائی تھی، پیارےنبی کی سیرت کو پڑھنے سے ہمیں دین اسلام بارے پتا چلے گا۔ میں اینٹی امریکن نہیں ہوں، امریکا میں سب سے طاقتور پاکستانی کمیونٹی ہے، ہماری سب سے زیادہ ایکسپورٹ امریکا سے ہے، امریکا سے دوستی چاہتا ہوں لیکن غلامی نہیں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں کسی ملک کے خلاف نہیں ہوں، امریکا، یورپ کی نفسیات کو جانتا ہوں، اگر ان کے پاؤں میں گریں گے تو وہ ہمیں استعمال کریں گے، اگر ہم ان کی چمچہ گیری کریں گے تو وہ ہماری عزت نہیں کریں گے، اگر ہم اپنے ملک کے مفاد کے لیے کھڑے ہوں گے تو ان کو اچھا نہیں لگے گا لیکن آپ کی عزت کریں گے، 26سال پہلے بھی میری یہی پالیسی تھی، 26سال پارٹی کا آغاز کیا تو میرا نصب العین یہی تھا میں خود کبھی کسی کے سامنے جھکا نہ اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دوں گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے سب سے زیادہ شہرت دی تھی، مجھے کیا ضرورت تھی سیاست میں ان گندے لوگوں کے ساتھ 26 سال ماتھا لگایا، میں نے اپنے ملک میں انگریز کی غلامی کی وجہ سے احساس کمتری دیکھی، کوئی انگریزآتا تھا تو یہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے تھے، اللہ سے وعدہ کیا تھا اگر مجھے موقع ملا تو کبھی قوم کو کسی کے آگے جھکنے نہیں دوں گا۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ سیاستدان ہمیں شرمندہ کراتے تھے، وزیردفاع خواجہ آصف کہتا ہے، امریکا نے ہمیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا ہے، خواجہ آصف سے پوچھتا ہوں ملک کو وینٹی لیٹرپرڈالا کس نے؟ 30 سال سے دو خاندان حکمرانی کرتے رہے اور قوم کو مقروض کر دیا، پہلے قوم کو مقروض کیا اور اب کہتے ہیں امریکا کی غلامی نہ کی تو مرجائیں گے، ملک کا کرائم منسٹر کہتا ہے، امریکا کے بغیرجی نہیں سکتے تو ہرے پاسپورٹ کی کیا عزت ہوگی، وزیراعظم بھکاریوں کی طرح پھرتا ہے، کرکٹر تھا جب بیرون ملک جاتے تھے تو ہمیں بے عزت ہونا پڑتا تھا، ان حکمرانوں کی جائیدادیں بیرون ملک ہے، نوازشریف جب اوباما سے ملاقات کر رہا تھا تو کانپیں ٹانگ رہی تھیں، نوازشریف اتنا گھبرایا ہوا تھا اسے اوباما کو تھینک یو بھی پڑھ کرکہنا پڑا۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا سے دوستی کر رہا تھا لیکن غلامی کے لیے تیار نہیں تھا، ڈونلڈ ٹرمپ سے میرے تعلقات اچھے تھے، ٹرمپ نے مجھے سب سے زیادہ پروٹوکول دیا تھا، امریکا نے پرویز مشرف کو جنگ میں شرکت کے لیے دھمکی دی تھی، بدقسمتی سے مشرف نے اس وقت گھٹنے ٹیک دیئے، جنگ میں شرکت پر پاکستانی قوم نے بھاری قیمت ادا کی، امریکا کی جنگ میں شرکت کر کے ہمارے فوجی، شہریوں نے قربانیاں دیں۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دہشت گرد الطاف حسین 30 سال سے برطانیہ میں بیٹھا ہوا ہے، کیا برطانیہ ہمیں الطاف حسین پر ڈرون حملے کی اجازت دے گا؟ ہم امریکا کے اتحادی تھے اور امریکا نے 400 ڈرون حملے کیے، جب ڈرون حملے ہوتے تھے تو ہمارے حکمران چوہے بیٹھے ہوئے تھے جو احتجاج نہیں کرتے تھے، نوازشریف، زرداری کے اربوں ڈالر بیرون ملک پڑے تھے، نوازشریف،زرداری پیسے کی پوجا کرتے ہیں، انہوں نے ملک میں ظلم ہونے دیا، اینٹی امریکن نہیں ہوں لیکن قوم کے مفادات پرکسی قسم کا کمپرومائزکرنے کوتیارنہیں، پاکستان میں ہمارے سفیرسے ڈونلڈ لو نے ملاقات کی، ڈونلڈ لونے پاکستانی سفیرسے کہا عمران خان کو ہٹانا ہو گا ورنہ نتائج بھگتنا ہوں گے، ڈونلڈ لونے کہا تمہارا وزیراعظم روس چلا گیا، مجھے پتا چلا تومیں نے کہا یہ کون ہوتے ہیں مجھے کہنے والے کیا میں غلام ہوں؟

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ آزادی کی جشن کی رات ہے تھکنا نہیں، روس سے 40 فیصد کم قیمت پر پاکستانیوں کو سستا تیل ملنا تھا، صدرپیوٹن سستا تیل دینے کے لیے تیارتھے، امریکا اتنا ناراض ہوا کہا کہ عمران کوہٹادو، میں پاکستانیوں کے فائدے کے لیے روس گیا تھا، بھارت امریکا کا اسٹرٹیجک پارٹنرہے، بھارتی وزیرخارجہ نے امریکا سے کہا ہمارے لوگوں کوسستے تیل کی ضرورت ہے، تم کون ہوتے ہو، امپورٹڈ حکومت میں اتنی جرات نہیں تھی۔ واضح کردوں قوم کو کبھی غلامی نہیں کرنے دونگا، ہم سب مل کر اپنے قرضے اتاریں گے، آزادی آسانی سے نہیں ملتی قربانیاں دینا پڑتی ہیں، امپورٹڈ حکومت کو فارغ کرنے تک حقیقی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی، جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا ہم سب ملکرجدوجہد جاری رکھیں گے، ہمارے حکمران امریکا کے پیروں میں لیٹے ہوئے ہیں، قانون کی حکمرانی کے بغیر لوگ آزاد نہیں ہوسکتے، دیہاتوں کے لوگ تھانے، کچہری کی سیاست میں پھنسا ہوا ہے، طاقتور چوری کرتا ہے اسے ہمارا انصاف کا نظام نہیں پکڑسکتا، ہمارے نبی نے مدینہ کی ریاست میں انصاف دے کرلوگوں کوآزاد کیا تھا، جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس حکومت کو گھر نہیں بھیجتے اور الیکشن نہیں ہوتے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ کمزوروں کوانصاف دلوانا ہو گا، 25 مئی کو ہمارے پُر امن احتجاج پر بدترین شیلنگ کی گئی، تحریک انصاف حکومت میں دو دفعہ، فضل الرحمان، ایک دفعہ کانپیں ٹانگنے والی دھرنے دیئے، ہم نے کسی پر تشدد نہیں کیا تھا، پہلے حکومت گرائی پھر پرامن احتجاج پرتشدد کیا گیا، شہبازگل کو اٹھالیا اوراس پر بھی تشدد کیا گیا، شہباز گل کو انصاف کا موقع ملنا چاہیے، شہباز گل کے ڈرائیور کی دس ماہ کی بچی کو بھی اٹھالیا گیا، یہ اس لیے آپ لوگوں کو ویڈیو دکھا رہا ہوں یہ خوف طاری کیا جا رہا ہے، جوبھی یہ سارے سازشی کررہے ہیں کان کھول کر سن لو! تم اب اس قوم کونہیں روک سکتے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ سب کو چودہ اگست کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، اپنی زندگی کی سب سے بہترین چودہ اگست کا جشن منایا، میرا دل کہہ رہا ہے اگلی چودہ اگست تک ہم اپنی حقیقی آزادی لے چکے ہوں گے۔ قوم کے خلاف سازش ہو رہی ہے، ہم نے اس سازش کو پاش پاش کرنا ہے، میر جعفر، میر صادق نے پہلے ہماری حکومت گرائی ان کا خیال تھا لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے، قوم سازش کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی، 25مئی کوانہوں نے چھاپے مار کر لوگوں کوڈرایا، جب پنجاب کے ضمنی الیکشن آئے توہم نے دھاندلی کے باوجود ان کوپھینٹا لگایا، واحد کپتان تھا بھارت کے اندر ہی بھارتی ٹیم کو پھینٹا لگا کرآیا تھا، انہوں نے انتظامیہ، امپائروں کو ساتھ ملایا ہوا تھا، چیف الیکشن کمشنرنے ہرقسم کی دھاندلی کی، بزدل آدمی کوپیچھے سے ایک جوتا پڑا تواس نے پوری مدد کی، لاہورکے لوگوں نے ضمنی الیکشن میں ان کوشکست دی۔ انہوں نے ایک نیا پلان بنایا ہے، میرے خلاف کیسز کر کے مجھے نااہل کر کے بھگوڑے کو لندن سے لانا چاہتے ہیں، جوبھی یہ سازش کررہا ہے سن لومیرا مقابلہ ڈاکوسے نہ کرو، سازش کرنے والوں کان کھول کرسن لومیں کوئی ڈیل نہیں کروں گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان جب ٹوٹا تو ملک کا نقصان ہوا، آج پھر وہی سازش اورمیرے خلاف ہرقسم کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے میں اپنے ملک کی فوج کو کمزورکروں، بیرون ملک سے اتنی سازشیں ہو رہی ہیں میں کبھی نہیں چاہوں گا فوج کمزور ہو، نوازشریف، مریم نواز، مولانا فضل الرحمان، ایازصادق، خواجہ آصف کے افواج پر تنقید کرنے والے چوہے ہمیں آج غدارکہہ رہے ہیں، یہ کمپین چلارہے ہیں تحریک انصاف فوج کے خلاف ہے، میری تنقید تعمیری ہوتی ہے جس طرح ایک باپ اپنے بچوں کی اصلاح کرتا ہے، جن کا پیسہ اورسب کچھ باہر وہ مجھے غدارکہہ رہے ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج کے خلاف کھڑا کرنا ملک کے خلاف سب سے بڑی سازش ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کو پکڑ کر کہا جا رہا ہے عمران خان کے خلاف بیان دو، عوام میں نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے ہفتے پنڈی اورپھرکراچی میں جلسے کروں گا، زرداری بڑا لیٹرا ہے اس نے سندھ کی عوام کوغلام بنایا ہوا ہے، سندھ کے لوگوں میں آ رہا ہوں، پشاور، کوئٹہ، مردان، اٹک، ملتان، بہاولپور، سرگودھا، جہلم، گجرات، فیصل آباد والو تیار ہو جاؤ۔ حقیقی آزادی کی جنگ آخری اورفیصلہ کن مرحلے میں ہے، نوجوانوں کی ٹائیگرفورس بنارہا ہوں، حقیقی آزادی کا پیغام خواتین، نوجوان گھر، گھر پہنچائیں، آپ کا کپتان خوفزدہ نہیں تو آپ کوبھی کوئی ڈرنہیں ہونا چاہیے، کارکنوں کوڈیزل باربارکیوں یاد آجاتا ہے۔

    اس سے پہلے اس سے قبل نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان میرے قائد ہیں، ان کی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے اب وہ صرف پاکستان کے نہیں دنیائے اسلام کے لیڈر بن گئے ہیں، تمام مسلمانوں کی دعا بنے ہیں، یہ سارے کا سارا کریڈٹ پورے پاکستان کو جاتا ہے، پاکستان کو دنیائے اسلام میں کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔ میں خان کے ویژن کو آگے لیکر چلوں گا، ان کی کاوشیں لیکر آگے چلوں گا، میرا محور عام آدمی، غریب آدمی اور مفت تعلیم دینا تھا، میرا ویژن تھا جہاں عوام کو تکلیف ہو وہاں سکون پہنچایا جائے، ریسکیو 1122 بہترین مثال ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے 2004ء وزیراعلیٰ پنجاب بنتے ہی تعلیم فری کر دی تھی اور کتابیں بھی فری دی تھیں، ورلڈ بینک کی میٹنگ میں میرا نام لیکر سراہا جاتا تھا، اس میٹنگ چین، اور ہندوستان کے چھوٹے صوبوں کو کہا جاتا تھا کہ پاکستانی پنجاب کو فالو کیا جائے۔ پاکستان اسلام کے نظریہ پر عمل میں آیا تھا، مسلمانوں کی بہت قربانیاں ہیں، میرے قائد اور آپ کے قائد جناب قائداعظم نے جو ویژن دیا تھا اس کو عمران خان نے آگے بڑھایا تھا۔ حضور ﷺ کے رہنمائے اصولوں کو لیکر آگے چل رہا ہوں، اس ویژن کی عملی مثال سود کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے میں قانون لا رہا ہوں جو سود کا کام کرے گا اس کو پانچ سال کی قید سنائی جائے گی۔

    پرویز الٰہی نے کہا کہ میں ڈاکٹر یاسمین راشد بیگم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے ہیلتھ کارڈ کو زبردست طریقے سے آگے بڑھایا، حمزہ شہباز کی حکومت نے اس کو بند کر دیا تھا، وہ ہم نے اتنی تیزی سے شروع کیا ہے یہ کارڈ اب ہر جگہ پہنچے گا، دیہاتوں اور صوبے کے تمام شہروں میں پہنچے گا، تاجروں کا کاروبار وفاقی حکومت نے ٹھپ دیا، میں نے تاجروں سے آتے ہی ملاقات کی اور ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ رات نو بجے دکانیں بند کرنے کا حکمنامہ واپس لے لیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے قائد عمران خان سے بات کی تھی کہ میں آپ کے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے پچیس مئی کو خوفناک تشدد کا سامنا کیا۔ جنہوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی کی ہے، ان سے بدلہ لیا جائے گا۔ ان کی سات سات پشتیں بھی یاد رکھیں گی، کہ کوئی آیا تھا تو اس نے ایسا جواب دیا کہ یہ سب یاد رکھیں گے، جو بھی کروں گا قانون کے تحت کروں گا، مجھے سب کچھ آتا ہے قانون کے تحت کرنا۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تم سن لو! تمہیں ضرور پھانسی ہو گی، میرے دل میں بات اتر گئی جب میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا 25 مئی کو گولیاں چل رہی تھیں، اس وقت حاملہ خاتون پر بھی تشدد کیا گیا، اللہ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں، رانا ثناء اللہ تم جیل کے پیچھے جانے والے ہو۔ ہم کیس لانے والے ہیں، مجھے اللہ پر پورا یقین ہے رانا ثناء اللہ کو پھانسی کی سزا ہو گی، عمران خان صاحب چاہیں تو بیشک ان کو عمر قید کی سزا سنا دیں، اب شریف خاندان کے لوگ نہیں بچیں گے۔ عمران خان نے قوم کو ایک نیا نظریہ دیا ہے، یہ لوگوں کو کسی کے سامنے نہیں جھکنے دے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ 75 ویں یوم آزادی پر ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان پیچھے رہ گیا ہے، ہمارے پاس سکیمیں ہیں، ویژن ہے، ایمان کی طاقت ہے، تمام بحرانوں کا خاتمہ کریں گے اور سب ملکوں سے آگے نکلیں گے۔ پنجاب میں خان صاحب کا ویژن آگے لیکر چلوں گا، احساس پروگرام اس کی بہترین مثال ہے، صوبے میں مہنگائی ختم کرنے کا بہترین منصوبہ میرے پاس موجود ہے۔

    پرویز الٰہی نے کہا کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں تمام دوائیاں فری ملیں گی، ریسکیو 1122 میں جدت لا رہے ہیں، جہاں پر کال آئے گی وہاں پر موٹر سائیکل بھی جائینگی، تمام سہولیات بھی ملیں گی، ڈاکٹروں کے لیے اچھی خبر ہے جو ایمرجنسی میں کام کرے گا ، اگر اس کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ہے تو جلد اڑھائی لاکھ روپے ملنا شروع ہو جائے گی۔

    پاک فوج سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پارٹی کو پاک فوج کے ساتھ لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ منصوبہ ناکام ہو گا، میں شریفوں کے لیے بری خبر ہے، پاک فوج اور عمران خان کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، ساتھ چلے تھے اور آئندہ بھی چلیں گے، کوئی بھی غلط فہمی میں نہ رہے۔ ڈان لیکس کس نے چلائی، یہ شریف خاندان کا کیا دھرا تھا، کشمیر کی سرحدوں پر پاک فوج کے جوان شہید ہو رہے تھے عین اسی وقت نواز شریف بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو ساڑھیاں بھجوا رہے تھے اور جاتی عمرہ بلا رہے تھے۔

  • برج ٹورنامنٹ میں اس بار 52 سے 60 کھلاڑی شریک ہیں احسان قادر

    برج ٹورنامنٹ میں اس بار 52 سے 60 کھلاڑی شریک ہیں احسان قادر

    گزشتہ روز لاہور میں تین روزہ پاکستان نیشنل برج ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا، آج ٹورنامنٹ کا دوسرا روز تھا ہم نے ٹورنامنٹ کی صورتحال جاننے کےلئے احسان قادر نے (سیکٹری پاکستان برج فیڈریشن) سے بات کی انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہم نے اس ٹورنامنٹ کا ایک ایونٹ ختم کر دیا ہے یہ ایونٹ گزشتہ روز ہوا اس میں پئیرز کے دو سیشنز تھے ونزر کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے ۔آج سے ٹیم ایونٹ شروع کیا گیا ہے اس میں نو رائونڈز ہیں آج پانچ روائونڈ ہوں گے کل چار رائونڈ ہو ں گے ہر ٹیم دوسری ٹیم کے ساتھ کھیلے گی جو ونر ہو گا اسکو انعام دیا جائیگا۔

    اس ٹورنامنٹ میں باون سے لیکر ساٹھ کھلاڑی شریک ہیں کچھ ٹیموں میں چار کھلاڑی ہیں کچھ میں پانچ کچھ میں چھ کھلاڑی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں چار سے چھ نئے کھلاڑی آئے ہیں یہ کھلاڑی ملتان سے آئے ہیں حالانکہ وہاں کوئی کلب نہیں ہے یہ گھروں میں کھیلتے ہیں اور کافی اچھے پلئیر ہیں اگر یہ تسلسل سے اچھا پرفارم کریں گے تو ان کو آگے بڑھنے کا یقینا ہم موقع فراہم کریں گے۔ موجودہ صورتحال دیکھی جائے تو کھلاڑیوں کا جوش و جذبہ کاقبل دید ہے۔

  • آزادی کے75سال:تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک داستان

    آزادی کے75سال:تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک داستان

    آزادی کے75سال
    آج پاکستانی قوم اپنےعزمِ عالیشان سے مُنسلِک سُنہری تاریخ کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہی ہے۔ وہ عَزم جِس کی بنیاد تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک ہے۔ آزادی لہو کا خراج مانگتی ہے،آزادی کے ان75سالوں میں ہم نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا۔

    ان گُزرے سالوں میں ہم پر دہشت اور خوف مُسلط کرنے ہمیں تقسیم اور کمزور کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی مگر پاکستانی قوم اور اِس کے محافظوں دشمن کے سامنے سینہ سَپر رہے۔Terrorism سےTourism کے اس طویل سفرمیں قوم اور افواجِ پاکستان نے اپنے خُون سے امن کی ایک لازوال داستان رقم کی ہے۔

    جدید سامانِ ضرب و حرب سے لیس، ہماری مسلح افواج دفاعِ وطن کی ضمانت ہیں۔

    قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک پاکستانی قوم نے لازوال قربانیاں دے کر وطنِ عزیز کی اپنے خون سے آبیاری کی ہے۔ پوری قوم نے سیکورٹی فورسز کے ہمراہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی ہے۔ جس کا اعتراف اقوامِ عالم نے کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک Hard Earned Successہے جس میں 46ہزار سے زائد مربع کلو میٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے خالی کروایا گیا۔ اس دوران 18ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے، 449ٹن بارودی مواد کو تلف کیا گیا۔

    سوات سے دہشتگردی کےخاتمے تک کا مرحلہ ہو یا2005کا زلزلہ،2010کا سیلاب ہو یا سانحہAPSپشاور، فروری2019کی بھارتی جارحیت ہو یا پھر صدی کی مہلک ترین وَبا کرونا، پاکستانی قوم اور افواج پاکستان نے مل کر ان کا مقابلہ کیا ہے۔ کمانڈر کلبھوشن ہو یا وِنگ کمانڈر ابھی نندن،سربجیت سنگھ ہویا چندو بابو لال افواجِ پاکستان نے دُشمن کی ہر ساز ش کو ناکام بنا کر ہمیشہ قوم کاسر فخر سے بُلند کیا ہے۔

    27فروری کا دِن ہماری تاریخ میں ایک اور روشن باب ہے جس پر ہر پاکستانی کو بجا طور پرفخر ہے۔ مسلح افواج نے عِلاقائی امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے قیام کے لئے 163قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جو عالمی امن اور سلامتی کے لئے ہماری کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عالمی امن کے لئے شاندار خدمات پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی Women Peace Keepersکی خدمات کو انتہائی متاثر کُن اور قابلِ تقلید قرار دیا ہے۔

    سبز ہلالی پرچم میں موجود سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک ہماری اقلیتی برادری نے وطن کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔وطنِ عزیز کو درپیش ہر کٹھن گھڑی میں یہ صف اول میں اپنے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ افواجِ پاکستان میں اقلیتی جانثاروں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے دِفاع وطن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔سر وکٹر ٹرنر، Robert Cornelius، چندو لال، فاسٹن ایلمر،سیسل ایڈورڈ گِبن، جمشید نُسرنجی مہتا کے ساتھ ساتھ، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، رانا بھگوان داس، جگدیش چن آنند، پروفیسر ڈاکٹر بھوانی شنکر چوہدری، ونگ کمانڈرMervyn Middlecoat اور اَنگنت گُمنام ہیروز کو جنہوں نے پاکستان بنانے اور اِس کے دِفاع کے لئے بھر پور کردار ادا کیا۔

    پا ک فوج میں ترقی پانے والے لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر اَنیل کُماراورلیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر کیلاش کُمار کی مثال دُنیا کےسامنے ہے۔ اہل وطن، بَجا طور پر اَپنے اقلیتی بھائیوں اور بہنوں پر فخر کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان نے کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سر انجام دیں۔

    ہاکی کے میدان میں بریگیڈئیر محمد ظہیر اختر نے CISMمقابلوں کے دوران برونز کا تمغہ، نائب صوبیدار محمد عمران نے بھارت اور ڈھاکہ میں 2سونے،2چاندی اور 1کانسی کا تمغہ، نائب صوبیدار رضوان نے بھارت اور ڈھاکہ میں 2سونے اور1چاندی کا تمغہ جبکہ نائیک کاشف علی نے ڈھاکہ میں ساؤتھ ایشن گیمز کے دوران سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

    باکسنگ کے میدان میں ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ برکت حسین اور صوبیدار ریٹائر صفدر حسین نے ایک ایک سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ محمد صداقت نے 5سونے،1چاندی اور3کانسی کے تمغے، ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ نادر خان نے2سونے اور2چاندی، مس نسیم حمید نے ڈھاکہ میں 1سونے اور1چاندی، صوبیدار ظفر اقبال نے کولمبو اور ڈھاکہ میں 2سونے اور2چاندی کے تمغہ جبکہ نائب صوبیدار بشارت علی نے 2سونے اور2چاندی کے تمغے حاصل کئے۔

    غوطہ خوری کے مقابلوں میں مس لیانہ ساون نے بھارت میں 1سونے،2چاندی اور1کانسی کا تمغہ، مس کرن خان نے بھارت اور ڈھاکہ میں 1سونے،1چاندی اور4کانسی کے تمغے جبکہ مس بسمہ خان نے بھارت میں 1چاندی اور4کانسی کے تمغے اپنے نام کئے۔ریسٹلنگ کے مقابلوں میں سپاہی اظہر حسین نے 1سونے اور1چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ سکواش کے میدان میں عباس شوکت نے1سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

    Volleyballکے مقابلے میں کرنل ریٹائرڈ قیصر مصطفی نے 2سونے اور2چاندی کے تمغہ اپنے نام کئے۔جوڈو کراٹے کے کھیل میں مس فوزیہ ممتاز نے ڈھاکہ اور بھارت میں 2سونے،2چاندی اور1کانسی کا تمغہ جبکہ مس سارہ ناصر نے ڈھاکہ میں 1سونے اور1کانسی کا تمغہ جیتا۔کبڈی کے کھیل میں پاکستان آرمی کی ٹیم نےAsian Beach Games 2016میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔Machine Rowingکے مقابلوں کے دوران نائب صوبیدار مقبول علی نے3ایشین سونے کے تمغے اپنے نا م کئے۔