Baaghi TV

Author: +9251

  • قائم مقام چیئرمین نیب نے مزید 5 ایڈیشنل ڈائریکٹرز اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے تبادلے کردیے

    قائم مقام چیئرمین نیب نے مزید 5 ایڈیشنل ڈائریکٹرز اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے تبادلے کردیے

    نیب میں تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے قائم مقام چیئرمین نے مزید 5 ایڈیشنل ڈائریکٹرز اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے تبادلے کردیے ہیں۔

    تفصیلات  کے مطابق نیب میں تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے اور قائمقام چیئرمین نیب نے مزید 5 ایڈیشنل ڈائریکٹرز اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے تبادلے کردیے ہیں۔

    جن افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں ان میں ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب کراچی محمد رفیع کو پشاور ٹرانسفر کردیا گیا جب کہ نیب پشاور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر روفی صاحبزادہ کا کراچی تبادلہ کردیا گیا ہے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر نیب ہیڈ کوارٹرز ظہیر احمد کا تبادلہ ملتان جب کہ نیب لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر عدنان ندیم کو اسلام آباد ہیڈ کوارٹر بھیج دیا گیا ہے۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹرمحمد طارق بلوچستان سے لاہور اور محمد فاروق لاہور سے بلوچستان ٹرانسفر کیے گئے ہیں۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب پشاور ناصر الدین عباس ملتان جب کہ نیب راولپنڈی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر حماد حسن اب بلوچستان میں ذمے داریاں سنبھالیں گے.

    اسی طرح نیب ملتان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر آفتاب احمد کا خیبرپختونخوا، نیب بلوچستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر اللہ رکھا کا راولپنڈی ٹرانسفر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب ضمنی انتخابات سے قبل بھی نیب میں کئی افسران کے تبادلے کیے گئے تھے جس پر الیکشن کمیشن نے ایکشن لیتے ہوئے تبادلے منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

  • ق لیگ کے ووٹ مسترد۔ حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب

    ق لیگ کے ووٹ مسترد۔ حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب

    پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے ووٹنگ ہوئی جس میں حمزہ شہباز نے اکثریت کی حمایت حاصل کرلی جبکہ چوہدری پرویزالہیٰ کو شکست کا سامنا کرنا پرا .وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس تقریباً پونے تین گھنٹے کی تاخیر سے شام 7 بجے شروع ہوا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ووٹنگ کا عمل شروع کرایا۔

    ووٹنگ کے نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے۔ تاہم ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کے خط کو پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے ق لیگ کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

    ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے ق لیگ کے تمام ووٹ مسترد کر دیئے۔ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور پی ٹی آئی رہنما راجہ بشارت نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے پرویزالہیٰ کوووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔اس پر دوست محمد مزاری نے کہا کہ انہیں اختیارہی نہیں ہے، چودھری شجاعت سے 3 مرتبہ فون پررابطہ کیا۔

    اس پر پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آپ کے پاس یہ اختیارنہیں کون ووٹ دے سکتا ہے کون نہیں،جس پر جواب دیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ڈی سیٹ ہونے والوں کے خلاف رولنگ دی ہوئی ہے۔اس پر راجہ بشارت نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین مجازہی نہیں۔ ووٹ کی ڈائریکشن دینے کے لیے کس کوحق حاصل ہیں۔

    تاہم ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق اورسپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جتنے بھی ووٹ ق لیگ کے کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد کرتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں۔اس موقع پر ق لیگ اور تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا لیکن ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اگر وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے تو اسے عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔

    قبل ازیں وزیراعلیٰ کےانتخاب کیلئےپنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 50منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ،ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی،وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب اورووٹنگ کاعمل پر امن طریقے سے مکمل ہوا،تحریک انصاف کے نو منتخب رکن پنجاب اسمبلی زین قریشی نےپہلا ووٹ کاسٹ کیا.حمزہ شہبازاور پرویز الہی سمیت ق لیک کے ارکان نے بھی اپنا اپنا ووٹ کاسٹ کیا.

    قبل ازیں پیجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن نے پی پی 167سے پی ٹی آئی کے شبیر گجر کے حلف پر اعتراض اٹھا یا گیا،اجلاس شروع ہوتے ہی پی پی 7روالپنڈی سےکامیاب ن لیگ کے امیدوار راجہ صغیر احمد نے حلف اٹھایا. اجلاس نماز مغرب کے وقفہ کیلئے 10 منٹ تک ملتوی کیا گیا.اس سے پہلے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ 25منحرف ارکان کے ووٹ ختم کرنے کے بعد حمزہ شہباز کو 172ووٹ حاصل ہیں، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں دوبارہ ووٹنگ ہوگی،تحریک انصاف کے رہنما زین قریشی ووٹ ڈال سکتےہیں،زین قریشی قومی اسمبلی چھوڑ کر ہمارے ساتھ رہنا چاہتےہیں،ووٹنگ کا طریقہ کار وہی رہے گا جو پہلے اختیار کیا گیا تھا،کوئی بھی رکن 186ووٹ حاصل نہیں کرسکا، اس لئے رن آف الیکشن ہوگا، رن آف الیکشن میں 186ووٹ کی ضرورت نہیں، سادہ اکثریت رکھنے والا وزیراعلیٰ بنے گا، پرویزالٰہی کو ووٹ دینے والے ارکان بائیں اورحمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے دائیں طرف لابی میں گئے.پنجاب اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 371ہے

    چوہدری پرویز الہیٰ کے صاحبزادےمونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے پرویزالہٰی کو متفقہ امیدوار نامزد کیا تھا.


    دوسری جانب مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے پرویزالٰہی کی حمایت سے انکار کردیا تھا،اس کی تصدیق مونس الہیٰ نے کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بھی ہار گیا ،عمران خان بھی ہار گیا ، زرداری جیت گیا .انہوں نے بتایا کہ ماموں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے امیدوار کی حمایت نہیں کروں گا،نجی ٹی وی جیو کے مطابق حامد میر سے بات کرتے ہوئے مونس الہیٰ نے یہ بات کی تھی،مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت نے کہا ہے کہ عمران خان کےامیدوار کی حمایت نہیں کروں گا.

    ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت حسین کی ہدایت کے مطابق مسلم لیگ ق کے ارکان پیجاب اسمبلی پعمران خان کے امیدوار کو ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے،اگر مسلم لیگ ق کے ارکان پنجاب اسمبلی ووٹ کاسٹ کریں گے تو ان کے ووٹ گے تو ان کے ووٹ مسترد تصور کئے جائیں. ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت حسین نے اس معاملے پر پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کو خط لکھ دیا ہے کہ مسلم لیگ ق کے ارکان کے ووٹ اگر عمران خان کے وزارت اعلی کے امیدوار کو دیئے جائیں تو انہیں مسترد کر دیا جائے.موجودہ صورتحال میں پرویز الہی خود کو بھی ووٹ نہیں ڈال سکیں گے اور اگر ووٹ ڈالا تو آرٹیکل تریسٹھ اے لگے گا اور اسپیکر کی نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے.

    اجلس کے موقع پر سیکیوعتی کیلئے پولیس کے تازہ دم دستے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں تعینات کیا گیا،پولیس کے اہلکاروں کو ایوان کے اندر تعینات کر دیا گیا،پولیس اہلکار ڈپٹی اسپیکر کی سیٹ کے پیچھے تعینات کئے گئے تھے،پولیس اہلکاروں کو سارجنٹ ایٹ آرمز کے خصوصی اختیار دئیے گئے ، اجلاس شروع ہوتے ہی پنجاب اسمبلی گیٹ کو تالے لگا دیئے گئے اورکسی بھی شخص کو اندر آنے اور باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی.

    پیجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے مونس الہیٰ نے شجاعت حسین سے ملاقات کی ، دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری بھی چودھری شجاعت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے.

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے آج کے اجلاس کیلئے 4 بجے کا وقت دیا گیا تھا.وزیراعلی پنجاب کیلئے مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز اور مسلم لیک ق کے چوہدری پرویز الہی مدمقابل تھے تاہم جیت کیلئے دونوں ہی پر عزم تھے.

    وزیراعلی پنجاب کو منتخب کرنے کیلئے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پنجاب اسمبلی پکو بسوں میں پنجاب اسمبلی لایا گیا، زرائع کے مطابق ارکان پیجاب اسمبلی کی کڑی نگرانی بھی کی گئی اور ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے تک ارکان کو اسمبلی کی عمارت سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی.پ

    مسلم لیگ ن کی رکن پیجاب اسمبلی عظمی ضعیم قادری بھی کورونا کے باوجود پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے پہنچی تھیں.اجلاس سے قبل پنجاب اسمبلی کے باہر ن لیگ اور اسمبلی کے سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھگڑا بھی ہوا، رانا مشہود کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی والوں نے ہمارے سٹاف کو اندر جانے سے روکا .

  • وفاقی حکومت کا میرا پاکستان میرا گھر ہاؤسنگ اسکیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا میرا پاکستان میرا گھر ہاؤسنگ اسکیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ

    مسلم لیگ ن حکومت نے پی ٹی آئی دور حکومت کی میرا پاکستان میرا گھر ہاؤسنگ اسکیم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اپنے ٹویٹ میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک میں ابھی میٹنگ ہوئی ہے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت ان تمام لوگوں کے لیے ایم پی ایم جی (میرا پاکستان میرا گھر) ہاوٴسنگ لون اسکیم جاری رکھے گی جن کی قرض کی درخواستیں منظور ہوچکی ہیں۔


    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم بینکوں سے بھی کہیں گے کہ وہ شرح سود کو کم کریں، ہم ابھی بھی اسکیم کو سستا اور زیادہ وسیع بنانے کے لیے اس کی تشکیل کے عمل میں ہیں، اس نظر ثانی شدہ اسکیم کو جلد ہی متعارف کرایا جائے گا۔

  • حکومت کی جانب سےٹورازم کوریڈورپروجیکٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے:وزیراعظم آزادکشمیر

    حکومت کی جانب سےٹورازم کوریڈورپروجیکٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے:وزیراعظم آزادکشمیر

    مظفرآباد:ریاست کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے سیاحتی مقامات سے نوازا ہے اب ان مقامات کودنیا کے لیے عام کرنے کے لیے بڑی سطح پر منصوبہ سازی کی جارہی ہے، اس حوالے سےوزیراعظم آزاد جموں کشمیر سردار تنویرالیاس خان نے ریاست میں اس کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئےکہا ہے کہ سیاحت کو بطور صنعت پروان چڑھانے کی ضرورت ہے تاہم ماحولیات کے تحفظ اور جنگلات کی حفاظت کےلیے کوئی کمی نہیں چھوڑی جائے گی۔

     

     

    پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط 

    آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کیے جارہےہیں ، اس سے متعلق اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتےہوئے وزیراعظم آزاد جموں کشمیر سردار تنویرالیاس خان نے کہا کہ ٹورازم اتھارٹی کا قیام سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    وزیراعظم آزادکشمیر نے اپنی ترجیحات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاحت کا فروغ نہ صرف خطے کی معاشی صورتحال کو بہتر کرے گی ، وزیراعظم ازادکشمیر سردار تنویرالیاس نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ بےروزگاراور پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کے ان گنت مواقع بھی فراہم کرےگا۔وزیراعظم آزادجموں کشمیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹورازم کوریڈور پروجیکٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے تاہم اس میں مزید بہتری لائی جاسکے۔

    شہریوں کو آئندہ ہفتے سیاحتی مقامات کی طرف جانے سے گریز کرنے کی ہدایت

    سردار تنویرالیاس کا کہنا تھا کہ سیاحتی مقامات پر حکومت کی جانب سے مقامی آبادی اور سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ سیاحوں کی تفریحی مقامات تک باآسانی رسائی کےلیے حکومت نے اقدامات تیز کردئیے ہیں۔اس کےعلاوہ دریاؤں اورجھیلوں کے کنارے نئے سیاحتی اور تفریحی مقامات قائم کئے جائے گے تاکہ سیاحت کو مزید آگے لے جایا جاسکے۔

    ملک میں سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیرِ اعظم

    انھوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچائے،اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے سیاحتی مقامات کوبین الاقوامی معیار کی طرز پربنانے کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان کیا تھا ، سردار تنویر الیاس نے انہیں ترجیحات پر ریاست میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیےنئے انقلابی منصوبے کی بنیاد رکھی ہے

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع،آئی جی پنجاب کا تبادلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع،آئی جی پنجاب کا تبادلہ

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع ہو گئے

    فیصل شاہکار کو آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا راو سردار کو آئی جی ریلویز تعینات کر دیا گیا،اس ضمن میں نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا ہے

    فیصل شاہکار پاکستان پولیس سروس کے گریڈ 21 کے آفیسر ہیں۔ان کا تعلق 16 کامن سے ہے ،فیصل شاہکار نے 1988میں بطور اے ایس پی پاکستان پولیس سروس جوائن کی ،فیصل شاہکار نے لگ بھگ تین برس ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کے عہدے پر خدمات سر انجام دیں۔ فیصل شاہکار ساہیوال اور گوجرانوالہ میں ریجنل پولیس آفیسر کے عہدوں پر بھی تعینات رہے۔

    فیصل شاہکار تین باراقوام متحدہ مشن پربوسنیا اور لائبریا سمیت دیگر ممالک میں بھی فرائض اداکر چکے ہیں۔فیصل شاہکار لاہور، شیخوپورہ، ساہیوال، ملتان، پاکپتن، ٹوبہ ٹیک سنگھ، تھرپارکر، ننکانہ اور گوجرانوالہ میں اہم عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔فیصل شاہکار اے آئی جی آپریشنز، سنٹرل پولیس آفس لاہور میں بھی فرائض ادا کر چکے ہیں۔ فیصل شاہکار ڈی آئی جی پولیٹیکل سپیشل برانچ کے عہدے پر بھی دو برس تعینات رہے۔فیصل شاہکار نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد اور ڈی آئی جی ویلفیئر پنجاب کے عہدے پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ فیصل شاہکار ان دنوں وفاق میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ فیصل شاہکار کو ملکی وعالمی سطح پر اہم عہدوں پر فرائض کی ادائیگی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ فیصل شاہکار کا شمار پاکستان پولیس کے انتہائی پروفیشنل، فرض شناس اور تجربہ کار پولیس افسران میں ہوتا ہے

    پی ٹی آئی کا وزارت اعلیٰ کا مضبوط امیدوار ہونے کی وجہ سے کہا جا رہا تھا کہ افسران نے تبادلوں کے لئے کہا ہے، آئی جی پنجاب راو سردار علی نے اپنے عہدے پر مزید کام کرنے سے معذرت کی تھی جس پر انکا تبادلہ کر دیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب میں عمران خان کے انتقام کی وجہ سے تبادلے کروا رہے ہیں کیونکہ عمران خان جلسوں میں کہہ چکے ہیں کہ میں سب کو دیکھ لوں گا پنجاب میں افسران میں نے ہی لگائے تھے سب کے چہرے یاد ہیں، اب پنجاب میں پی ٹی آئی کی دوبارہ متوقع حکومت کے بعد ان افسران کے خلاف کاروائی متوقع تھی اسی لئے افسران تبادلوں پر غور کر رہے ہیں

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”520972″ /]

    پنجاب کا چوہدری کون ہو گا ؟ فیصلہ آج ہو گا

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    ادھر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر حکمرانی کیلئے نئے وزیراعلیٰ کا چناؤ ابھی تھوڑی دیربعد ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مسلم لیگ قائداعظم (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی آمنے سامنے ہیں۔

    فرح خان کیس ،عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے لگا

  • عمران سیاسی عدم استحکام کے ذریعے معاشی عدم استحکام چاہتے ہیں۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب

    عمران سیاسی عدم استحکام کے ذریعے معاشی عدم استحکام چاہتے ہیں۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام چور، منافق اور جھوٹوں کی سیاست مسترد کرچکے ہیں۔

    انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فواد چوہدری کےبیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا انتخابی فریم ورک 2018 ، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان، سینیٹ اور ڈسکہ الیکشن میں نظر آ گیا تھا۔چار سال انتخابی فریم ورک کہاں تھا۔


     ن لیگی رہنما نے کہا کہ عمران خان ملک میں سیاسی عدم استحکام کے ذریعے معاشی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اوراس کے عوام عمران، بشری، گوگی مافیاز اور کارٹلز کی چوریوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ تین اپریل کو عمران خان اقتدار سے الگ ہو چکے ہیں۔ گالی اور دھمکی کے دن گزر گئے، آرام کریں، منہ بند رکھیں اور کام کرنے دیں

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    لاہور:پنجاب میں کچھ دیر بعد وزیراعلی کا انتخاب ہونے جارہا ہے دوسری طرف یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ چوہدری نثار کا فیصلہ بھی بہت اہمیت اختیار کرسکتا ہے ، لیکن انہیں خبروں کے وائرل ہونے کے ساتھ ہی یہ معلوم ہوا ہے کہ چوہدری نثارفیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں

    سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار آج بھی پنجاب اسمبلی کی کارروائی میں شریک نہیں ہونگے۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار لاہور جانے کے بجائے راولپنڈی میں موجود ہیں۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی س چوہدری نثار نے فیض آباد راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ کے قریب نماز جمعہ ادا کی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر جب چوہدری نثآر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ لاہور جارہے ہیں تو چوہدری نثارعلی خان نے جواب دیا کہ لاہور جانے کا آج کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    پنجاب کا چوہدری کون ہو گا ؟ فیصلہ آج ہو گ

    چوہدری نثار سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آپ کولگتا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا انتخابی عمل آج مکمل ہوجائے گا؟۔ اس پران کا کہنا تھا کہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل چوہدری نثار نے پہلے وزیراعلیٰ کے انتخاب ميں کسی امیدوار کو ووٹ نہیں ڈالا تھا۔

    موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے،عمران خان

    چوہدری نثار 2018 کے انتخابات میں راولپنڈی سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ چوہدری نثار نے گزشتہ سال قانونی پابندی کے باعث رکن صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھایا تھا۔

    ادھر دوسری طرف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر حکمرانی کیلئے نئے وزیراعلیٰ کا چناؤ آج تھوڑی دیربعد ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مسلم لیگ قائداعظم (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی آمنے سامنے ہیں۔

    وزیراعلی پنجاب کا انتخاب،آصف زرداری کی شجاعت حسین سے دوسری اہم ملاقات،رات گئے تک جوڑ توڑ

    ضمنی انتخاب میں کامیاب لودھراں سے منتخب ہونے والے رکن پیر رفیع الدین بخاری نے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کا اعلان کردیا۔ پیر رفیع الدین کا کہنا ہے کہ وزارت اعلی کے لیے حمزہ شہباز کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی کسی جماعت میں شامل نہیں ہورہا فی الحال حمزہ شہباز کا ساتھ دے رہا ہوں۔

  • ملک میں 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کا شکار ہے

    ملک میں 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کا شکار ہے

    دماغی فعلیات (فزیالوجی) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کم ازکم 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کی شکار ہے جن میں دردِ سر عام کیفیت ہے۔ یہ بات انہوں نے عالمی یومِ دماغی صحت کی مناسبت سے کہی ہے۔

    ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق: ہر سال، 22 جولائی دماغی صحت کے عالمی دن کے لیے وقف ہے،اس سال ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی (ڈیلیو ایف این) نے دماغی صحت بہتر بنانے اور دماغی و اعصابی بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے کی مشترکہ کوشش پر توجہ مرکوز کی ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان میں دماغی امراض روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسکے باوجو کہ ملکی سطح پر آبادی کی بنیاد پر دماغی امراض کی کوئی مربوط تحقیق نہیں ہوئی اسکے باوجود ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کی 10 فیصد آبادی مختلف دماغی امراض میں مبتلا ہے۔

    22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف50 کے قریب مراکز میں نیورولوجسٹ کی سہولتیں میسر ہیں۔ پاکستان میں 1998 کے بعد سے نیشنل ہیلتھ سروے نہیں کیا جاسکاجبکہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ملک میں دماغی امراض سمیت مختلف بیماریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ بیماریوں کے بوجھ میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے مریضوں کے اہلخانہ پر معاشی ناہمواریوں کا بھی سامنا ہے۔

    ڈاکٹر نادر نے کہا کہ اس وقت دنیا میں ہر سال 9 ملین افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے مختلف دماغی امراض میں مبتلا ہو کر موت کا شکار ہو رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت تیزی کے ساتھ فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اگر اس صورتحال کا بروقت تدارک نہیں کیا گیا توآنے والے دنوں میں دماغی امراض اور اموات کی شرح میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی سطح پر فضائی آلودگی کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ آنے والی نسل کو آلودگی سے بچایا جا سکے۔

    مقررین نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت آلودگی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے صاف ہوا،ماحول کی صفائی اور شجر کاری کا کوئی انتظام نہیں جس سے آلودگی پر قابو پایا جاسکے،ہمارے شہروں میں صنعتی زون قائم ہونے کی وجہ سے زہر آلود دھواں سانس اور دیگر زہنی امراض میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسانی دماغ کو صاف ستھرا اور پرسکون ماحول درکار ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کا بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام مضبوط ہوتا جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ماحول دوستی کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر کوئی انتظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ آئندہ سالوں میں دماغی امراض کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ اموات میں بھی اضافے کا امکان ہے۔

    اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک نے پریس کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی معذوری کی نمبر ایک وجہ دماغی امراض ہیں،امراض کے نتیجے میں اموات ہونے میں دماغی امراض کا بوجھ دوسرے نمبر پر ہے،ہر تین میں سے ایک انسان کو دماغی مرض لاحق ہے۔

    دنیا بھر میں دماغی امراض بہت بڑی تعداد میں انسان صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ مائیگرین (درد شقیقہ) دنیا کے تقریبا تین بلین انسانوں کی روزمرہ زندگی نہ صرف متاثر کرتا ہے بلکے مختلف تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر پرائمری قسم کے سر درد 50 سال سے کم عمر کے انسانوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں اور اسطرح کے سر درد کی وجہ سے جہاں انسان کی معیار زندگی خراب ہو جایا کرتی ہے وہیں بیماری کی وجہ سے روز مرہ کام کاج متاثر ہونے کے بعد ایک معاشی بحران کا باعث بن جایا کرتا ہے۔ فالج، کمزور یادداشت(الزائمر)، رعشہ، مرگی سمیت دیگر دماغی امراض پاکستان سمیت دنیا بھی کی آبادی میں بڑے تناسب سے پائے جاتے ہیں۔ ان دماغی عارضہ کے باعث جہاں جسمانی نظام صحت خرابی کا شکار ہو جاتا ہے وہیں ان امراض کے باعث خاندان سمیت معاشرے کو صحت مند انسانوں کی کمی واقع ہو جایا کرتی ہیں جسکے باعث فرد، خاندان و معاشرے ایک معاشی بحران کی جانب گامزن ہو جاتا ہے۔

    شرکا نے کہا کہ عالمی یوم دماغ 2022 کے موقع پر آئیں سب مل کر دماغی امراض کے حوالے سے “آگاہی” پیدا کریں کیونکہ دماغی صحت ذہنی، سماجی و جسمانی تندرستی کے لیے “بنیاد” ہے۔ دماغی امراض سے “بچاؤ” کیلئے مشترکہ کوششیں کریں کیونکہ دماغ کے بہت سے امراض سے “بچاؤ” ممکن ہے۔ ان امراض کے حوالے سے وکالت کریں تاکہ عالمی سطح پر ہونیوالی دماغی صحت کی کوششوں کا حصہ بنیں۔

  • بچوں کا جنسی استحصال: 20لاکھ کیسز کے باوجود رپورٹ صرف 343 ہوئے

    بچوں کا جنسی استحصال: 20لاکھ کیسز کے باوجود رپورٹ صرف 343 ہوئے

    جہاں 2021 میں ملک میں بچوں کے استحصال کی تصاویر کے 20 لاکھ سے زیادہ کیسز فیس بک پر اپ لوڈ کیے گئے، وہیں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 343 بتاتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کیسز کو رپورٹ کریں اور جنسی استحصال کرنے والوں کے خلاف شکایات درج کروائیں۔

    ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل محمد طاہر رائے نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اور یہاں قوانین کا نفاذ میرا فرض ہے، سائبر اسپیس میں بچوں کے حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے، بدقسمتی سے ہم ان ممالک میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ واقعات ہیں جن کی تعداد 2021 میں 21 لاکھ تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ لیکن ہماری قوم ان کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میٹا کو بھی نہیں دے رہی، اس کی وجہ سے پچھلے پانچ سالوں میں صرف 343 ایسے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، مجھے خوشی ہے کہ میٹا اپنے پلیٹ فارم سے اس طرح کے مواد کو ہٹا رہا ہے۔

    ایف آئی اے کے سربراہ حسین آباد کے گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج آف ایجوکیشن میں میٹا کے اشتراک اور زندگی ٹرسٹ کے تعاون سے منعقدہ ایک تقریب میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ڈیجیٹل سیفٹی ڈائیلاگ سے خطاب کر رہے تھے۔

    ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے نمائندوں کے ہمراہ طاہر رائے نے پاکستان میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی کمی کی نشاندہی کی اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایف آئی اے کو فوری کارروائی کرنے میں مدد کے لیے کیسز کو رپورٹ کریں اور جنسی استحصال کرنے والوں کے خلاف شکایات درج کریں۔

    میٹا کے مطابق پاکستان میں 2021 میں بچوں کے استحصال کی تصاویر فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کے 20 لاکھ سے زیادہ واقعات ہوئے۔
    میٹا میں ٹرسٹ اینڈ سیفٹی، لا انفورسمنٹ اور آؤٹ ریچ کے مینیجر مائیکل یون نے آن لائن شرکت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر سائبر کرائمز بشمول بلیک میل، بھتہ خوری، دہشت گردی وغیرہ میں ملوث مجرموں کو پکڑنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    میٹا میں حفاظتی پالیسی کی سربراہ شیریں وکیل نے بھی آن لائن شرکت کرتے ہوئے سامعین کو میٹا پر نوجوان صارفین کے لیے دستیاب حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ آن لائن شکار کرنے والوں سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    بچوں کے حقوق سے متعلق قومی کمیشن کے رکن اقبال ڈیتھو نے پاکستان الیکٹرانک کرمنل ایکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان پینل کوڈ پر نظرثانی کرنے اور ڈیجیٹل جگہوں میں بچوں کی حفاظت کے لیے ترامیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    انہوں نے انصاف دلانے اور متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لیے صوبائی سطح پر پالیسی سازی کے نفاذ پر بھی زور دیا۔

    ڈائریکٹر پبلک پالیسی، جنوبی ایشیا میٹا صارم عزیز نے کہا کہ بچوں کے استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد کے لیے ان کے پاس عدم برداشت کی پالیسی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد سے متعلق مواد کو روکنے، ان کا پتہ لگانے اور ہٹانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، اس لیے ہم اپنے ایپس کے خاندان کو اس طرح کے بدنیتی پر مبنی مواد سے پاک رکھنے کے لیے ایک جامع طریقہ اختیار کرتے ہیں اور مقامی حکام، حقوق کے اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ متاثرین کو شیئر کرنے سے بار بار صدمے کا سامنا نہ ہو۔

    مہم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے زندگی ٹرسٹ کے بانی اور صدر شہزاد رائے نے کہا کہ جب بھی انہیں پریشان کن مواد کا سامنا ہوا، تو وہ اسے شیئر کرنا چاہیں گے تاکہ اس سے مجرم کو تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔

  • قیمتیں بڑھنے سے سعودیہ سے ملنے والے تیل کی مقدار کم

    قیمتیں بڑھنے سے سعودیہ سے ملنے والے تیل کی مقدار کم

    ترجمان پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں برھنے سے سعودیہ سے ملنے والے تیل کی مقدار کم ہو گئی.

    ترجمان پیٹرولیم ڈویژن سید ذکریا علی شاہ کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے سعودی عرب سے پاکستان کو ملنے والے تیل کی مقدار بھی کم ہو گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سید ذکریا علی شاہ نے بتایا کہ سعودی عرب پاکستان کو ماہانہ 10 کروڑ ڈالر کا تیل فراہم کر رہا ہے، سعودی عرب سے یہ تیل پاکستان کو تاخیری ادائیگیوں پر مل رہا ہے۔

    ترجمان پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان کو فراہم کیے جانے والے تیل کی مقدار کم ہو گئی ہے تاہم سعودی عرب سے یہ سہولت بڑھانے کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔

    سید ذکریا علی شاہ نے بتایا کہ پاکستان چاہتا ہے سعودی عرب سے کم ازکم اتنا تیل مل سکے کہ قیمتیں بڑھنے کے باوجود مقدار کم نہ ہو تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا