Baaghi TV

Author: +9251

  • مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان چینی وزارت خارجہ

    مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے،امریکہ زبان سنبھال کربولے: ترجمان چینی وزارت خارجہ

    سنکیانگ:چین نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ سے پیچھے نچلے نہ بیٹھے رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘مشرق وسطیٰ کسی کے گھر کا پچھواڑا نہیں ہے۔’ چینی وزارت خارجہ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے پس منظر میں یہ بات کہی ہے۔

    وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ‘مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے اور نہ ہی خطے میں ایسا کوئی خلا ہے’ جسے امریکہ بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چینی ترجمان نے اپنے ملک کی فروغ امن اور مسائل کے منصفانہ حل کے لیے کوششوں کے حوالے سے کہا چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ امن کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھ سکے۔’

    چینی ترجمان وانگ نے یہ بھی کہا ‘چین پوری طرح پیسفک آئی لینڈ کے ملکوں کی خواہش کو سنے گا اور ان کی خواہش کا احترام کرے گا۔’ واضح رہے چین کی طرف سے یہ بات پیسفک آئی لینڈ فورم کی طرف سے الزامات سامنے آنے کے بعد کہی گئی ہے۔ پی آئی ایف کا کہنا ہے کہ چین ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو ہر چیز بشمول سکیورٹی اور ماہی گیری ہر چیز پر محیط ہے۔

    چینی ترجمان کے بیان سے محض ایک روز پہلے جمعرات کے دن پی آئی ایف کے سیکرٹری جنرل ہنری پونا نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا’ چینی وزیر خارجہ وانگ بحرالکاہل ملکوں میں اپنے پہلے سے تیار کردہ دستاویز کے ساتھ آئے تاکہ متعلقہ ملکوں سے مشاورت کر سکیں۔ لیکن یہ ابھی نہیں ہوسکی ہے۔

    اس موقع پر وانگ نے اس پر اصرار کیا تھا کہ چین نے بحرالکاہل کے ملکوں سے بڑی سنجیدہ مشاورت کی ہے۔ ہم اس پراسس کو جاری رکھیں گے۔’

    وانگ نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سری لنکا کے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بیجنگ نے سری لنکا کے لیے 75 ملین ڈالر کی امداد کا پہلے ہی وعدہ کر رکھا ہے۔ جبکہ خوراک کی دوسری شپمنٹ بھی بھیج چکا ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے سنکیانگ کا دورہ کیا ہے ۔ سنکیانگ کے سفر کے دوران صدر شی کی طرف سے خصوصی تو جہ اور اہم ہدایات کا خلاصہ چار کلیدی نکات میں کیا جا سکتا ہے۔آج ہفتے کے روز صدر شی جن پنگ نے کہا ، “سنکیانگ کا سب سے طویل المدتی مسئلہ نسلی اتحاد کا مسئلہ ہے،” اور “سنکیانگ میں سب سے بڑا کام نسلی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی ہے۔”انہوں نے کہا کہ اتحاد شناخت سے الگ نہیں ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ ثقافتی شناخت سب سے بنیادی شناخت ہے، قومی اتحاد کی جڑ اور قومی ہم آہنگی کی روح ہے۔

    انہوں نے مز ید کہا کہ سنکیانگ کے مسائل کے حل کے لیے ترقی بنیادی کلید ہے۔ سنکیانگ کے لیے طویل مدتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے اہم چیز لوگوں کے دلوں میں سکون ہے۔ سنکیانگ کے اس معائنہ کے دوران صدر شی نے زور دیا، “ہمیں ترقی اور استحکام، لوگوں کی روزی، اور ترقی اور لوگوں کے دلوں کے درمیان قریبی تعلق کو گہرائی سے سمجھنا چاہیے، اور لوگوں کی روزی روٹی کو بہتر بنانے اور لوگوں کے دلوں کو متحد کرنے کے لیے ترقیاتی ثمرات کو لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔

    اس معائنہ کے دوران صدر شی نے واضح طور پر تجویز پیش کی کہ ہمیں سنکیانگ میں بنیادی اور طویل مدتی امور پر توجہ دینی چاہیے جو طویل مدتی استحکام سے متعلق ہیں۔ سنکیانگ کی سماجی صورتحال کے مجموعی اور طویل مدتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سنکیانگ میں قانون کی حکمرانی کو زیادہ نمایاں اور اہم مقام پر رکھا جائے ۔

  • اقوام متحدہ ایران کے معاملے میں جانبداری دکھا رہا ہے:ایرانی عدلیہ کا اظہارناراضگی

    اقوام متحدہ ایران کے معاملے میں جانبداری دکھا رہا ہے:ایرانی عدلیہ کا اظہارناراضگی

    تہران :ایران کی عدلیہ میں انسانی حقوق کمیٹی نے ایک ایرانی شہری کے سلسلے میں سویڈن کی عدالت کے فیصلے کی حمایت کرنے پر ایران کے امور میں اقوام متحدہ کے ہیومن راٹس رپورٹر کی حمایت پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

    حمید نوری ایک ایرانی شہری ہیں جو دوہزار انیس میں اپنے گھریلو مسائل کے حل کے سلسلے میں سویڈن گئے تھے جہاں پہنچتے ہی انہیں سویڈن کے سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھا اور اب وہ تقریبا بتیس مہینوں سے جیل میں قید ہیں۔

    نوری پر سویڈن میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ چونتیس سال قبل ایران میں انجام دئے گئے بعض اقدامات میں دخیل تھے اور الزام عائد کرنے والوں کا تعلق ایران مخالف دہشتگرد تنظیم مجاہدین خلق یا ایم کے او سے ہے۔ سویڈن کی ایک عدالت سترہ ہزار بے گناہ ایرانی شہریوں کا قتل کرنے والے دہشتگرد گروہ ایم کے او کے عناصر کی شکایت پر حمید نوری پر مقدمہ دائر کیا اور اس کیس پر سماعت کے بعد انہیں جمعرات کے روز عمر قید کی سزا سنا دی۔

    سویڈن کی عدالت کے اس فیصلے سے اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس رپورٹر جاوید رحمان نے بھی اپنی حمایت کا اعلان کیا جس پر ایرانی عدلیہ کے ہیومن راٹس کمیشن نے سخت برہمی ظاہر کی ہے۔

    ایران کی عدلیہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جاوید رحمان بجائے اس کے کہ سویڈن میں ایک شخص کے خودسرانہ طور پر گرفتار کئے جانے اور پھر مسلسل اسکے بنیادی حقوق کی پامالی پر اعتراض اور سویڈن کے حکام کو جوابدہ بناتے، وہ انکی حمایت پر اتر آئے ہیں۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ جاوید رحمان کے بیان سے یہ ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ وہ ایران کے سلسلے میں اپنی پوزیشن سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں جسے برطانیہ کی بھی حمایت حاصل ہے اور وہ بنیادہ انسانی حقوق کی پامالی کی قیمت پر ایران مخالف عناصر کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

  • کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    برلن :کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا،اطلاعات کے مطابق جرمن میڈیا گروپ (RND) نے جمعہ کو اگلے سال کے بجٹ سے متعلق ملکی وزارت خزانہ کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 2023 میں حکومتی قرضوں کی فراہمی پر جرمنی کو اس وقت لگ بھگ دوگنا لاگت آئے گی جو اس وقت بڑھتی ہوئی افراط زر کی وجہ سے خرچ کرتا ہے۔

     

     

     

    آراین ڈی میڈیا گروپ کی طرف سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پچھلی حکومتوں کی افراط زر کی پیشن گوئیوں میں غلط حساب کتاب کی وجہ سے، جرمنی کی اس کے عوامی قرضوں پر سود کی ادائیگی 16 بلین یورو ($16.09 بلین) سے بڑھ کر اگلے سال تقریباً 30 بلین یورو ہو جائے گی،

     

     

     

    نیوزآؤٹ لیٹ میں کہا گیا ہے کہ برلن نے افراط زر میں اضافے کے خطرے کو کم سمجھا اور اس کے نتیجے میں اب اسے ان بانڈز کی کے ذریعے بہت زیادہ رقم فراہم کرنے کی ضرورت کا سامنا ہے۔

     

     

    "2023 کے بجٹ کے مسودے کی دستاویزات کے مطابق، آنے والے سال میں افراط زر سے منسلک بانڈز کی ادائیگی کے لیے تقریباً 7.6 بلین یورو مختص کیے جائیں گے۔ یہ اس سال کے مقابلے میں €3 بلین یورو زیادہ ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 7 بلین یورو زیادہ ہے،

     

     

    رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جن بینکوں، انشورنس کمپنیوں یا فنڈز نے جرمن حکومت کو قرضے فراہم کیے ہیں، بنیادی طور پر اس صورت حال سے فائدہ اٹھائیں گے، کیونکہ انہیں سود کی ادائیگی میں زیادہ رقم ملے گی۔ تاہم، جرمن ٹیکس دہندگان کے خوش ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ یہ ان کی رقم ہے جو سود کی ادائیگی پر خرچ کی جائے گی۔

     

     

     

    جرمن پارلیمان کے بائیں بازو کے دھڑے کے رہنما، ڈائٹمار بارٹش نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’قرض لیتے وقت افراطِ زر کی حد سے کم شرح پر شرط لگانا ایک غلطی تھی جو اب ٹیکس دہندگان کے لیے بہت مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے پچھلی حکومتوں کی قرضہ پالیسیوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

  • امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سے بازآ جائے:چین کا انتباہ

    بیجنگ:امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت سےبازآجائے:چین کا انتباہ ،اطلاعات کے مطابق چین نےامریکہ اورمغرب کوخبردارکرتےہوئے کہا ہےکہ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مداخلت بند کریں اور مُلکوں کوان کے اپنے آئین ، اصول اورمعیار کے مطابق چلنے دیں

    امریکی مداخلت پر سخت تنقید کرتے ہوئے چینی ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات اپنے شامی ہم منصب فیصل مقداد کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔وزیرخارجہ وانگ نے کہا کہ چین ترقی کے راستے کی آزادانہ تلاش میں مشرق وسطیٰ کے عوام کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور علاقائی سلامتی کے مسائل کو اتحاد اور خود بہتری کے ذریعے حل کرنے میں ممالک کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی وزیرخارجہ نے شامی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکز ہے اور اسے عالمی برادری کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، وانگ نے کہا کہ چین مسئلہ فلسطین کو دوبارہ بین الاقوامی ایجنڈے میں سرفہرست رکھنے کے لیے تیار ہے۔

     

    چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    چینی وزیرخارجہ وانگ نےامریکہ اورمغرب پر زوردیتے ہوئےکہا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے پاس امن و استحکام کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنےاورمسائل کو حل کرنےکی صلاحیت اوردانشمندی ہے۔پھرامریکہ ان کو ان کی مرضی سےیہ معاملات حل کرنے میں آزاد کیوں نہیں رہنےدے رہا،وانگ نےمزید کہا کہ خطے کےممالک کی خودمختاری کا صحیح معنوں میں احترام کرتےہیں،اورایسےکام کرتے ہیں جو خطےکےعوام کی ضروریات کی بنیاد پر خطے کی پرامن ترقی کے لیے سازگار ہوں۔

    وانگ نے کہا کہ چینی فریق شامی فریق کے ساتھ مل کر دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے اور چین اور شام کے تعلقات کی پائیدار، مستحکم اور صحت مند ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے ۔اس موقع پرچینی وزیرخارجہ نے کہا کہ چین شام کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کی حفاظت کے بیانیے پر قائم ہے ، اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں شام کی حمایت کریں، اور شام میں امن اور استحکام کی جلد بحالی کی خواہش کریں۔

     

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    اس موقع پر شامی وزیرخارجہ مقداد نے کہا کہ چین ہمیشہ ایک عقلی اور منصفانہ موقف پر قائم رہا ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو ایک ساتھ ترقی کرنے میں مدد کی ہے اور عالمی کثیر پولرائزیشن اور انسانی ترقی اور پیشرفت کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔

     

    بیلٹ اینڈ روڈکی تعمیر سےسنکیانگ ایک کلیدی علاقہ بن چکا ہے:چینی صدر

    مقداد نے کہا کہ شامی فریق اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں چین کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، میکداد نے مزید کہا کہ سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تبت کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں امریکہ اور مغرب کی طرف سے پھیلائی جائیں گی۔

    مقداد نے یہ بھی کہا کہ شامی فریق مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے تیار ہے جس سے عالمی امن اور ترقیاتی تعاون کے وسیع امکانات کھلیں گے۔

     

     

     

  • بلال مقصود وزیراعظم بننے کے بعد پہلا کام کیا کریں گے

    بلال مقصود وزیراعظم بننے کے بعد پہلا کام کیا کریں گے

    انور مقصود اور معروف گلوکار و کمپوزر بلال مقصود سے حال ہی میں ایک انٹرویو ہوا ہے اس میں ان سے سوال پوچھا گیا کہ فرض کریں آپ وزیراعظم بن گئے ہیں تو سب سے پہلا کام کیا کریں گے تو بلال نے کہا کہ میں سب سے پہلا کام یہ کروں گا کہ پاکستان کا نام امریکہ رکھ دوں گا ایسا کرنے سے کافی مسئلے حل ہو جائیں گے. بلال مقصود کا یہ جواب سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے ان کے پرستار اس جواب پر طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں. بلال مقصود بہت کم انٹرویوز دیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی بہت

    کم کسی کے سوال کا جواب دیتے ہیں ان کے حالیہ جواب کو بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے. یا د رہے کہ بلال مقصود نے کافی عرصہ تک کوک سٹوڈیو بھی کیا ہے. ان کا معروف بینڈ سٹرنگز نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی بہت شہرت پائی ان کے گانے بھارتی میوزک چارٹ میں نمبر ون کی پوزیشن پر کئی ہفتوں تک قائم رہے. بلال مقصود اپنے والد انور مقصود کی طرح بہت بولڈ ہیں بولتے کم ہیں لیکن جب بھی بولتے ہیں جو بھی دل میں آتا ہے کہ بغیر ڈرے کہہ ڈالتے ہیں پھر چاہے کوئی کتنا بھی ناراض ہی کیوں‌نہ ہوجائے.اس کا اندازہ ان کے حالیہ جواب سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں‌نے برملا کہا کہ میں اگر وزیراعظم بنا تو پاکستان کانام امریکہ رکھ دوں گا.

  • ماریہ واسطی نے بتا دیا انہیں کس چیز کا شوق ہے سب سے زیادہ ؟

    ماریہ واسطی نے بتا دیا انہیں کس چیز کا شوق ہے سب سے زیادہ ؟

    اداکارہ ماریہ واسطی جو اپنی الگ اور منفرد اداکاری کی وجہ سے جانی جاتی ہیں.وہ کم مگر معیاری کام کرتی ہیں. حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ مجھے کتابیں‌پڑھنے کا بہت زیادہ شوق ہے جتنی مرضی مصروفیت ہو لیکن میں کتابیں‌پڑھنا نہیں چھوڑتی. اداکارہ ماریہ واسطی نے کہاکہ میں بیک وقت دو کتابیں پڑھتی ہوں اور کوشش ہوتی ہے کہ دونوں کتابوں کو ایک ساتھ ختم کروں . مجھے بہت افسوس ہے کہ کتب بینی کا رجحان ختم ہو رہا ہے ایسا نہیں ہو رہا ہے.ماریہ واسطی نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو کتابیں‌پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے.ماریہ واسطی نے

    مزید کہا کہ میں مقابلے پر یقین نہیں‌رکھتی بس اچھا کام کرنے پر یقین رکھتی ہوں. میرے حساب سے ہر فنکار اپنے حساب سے اچھی اداکاری کرتا ہے اور میں ہر فنکار کے کام کی معترف ہوں. میں سمجھتی ہوں کہ مقابلہ اپنے آپ سے ہونا چاہیے اپنے کام سے ہونا چاہیے تاکہ پہلے سے زیادہ بہتر کام کر سکیں. ماریہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی کے ساتھ مقابلہ کرنے کی بجائے اپنی خامیوں کو دور کروں. اداکارہ نے کہا کہ میں ٹی وی ڈرامے بہت کم دیکھتی ہوں کم دیکھنے کی وجہ وقت کی کمی ہے.انہوں‌نے یہ بھی کہا کہ آج کا ڈرامہ بہت اچھا بن رہا ہے.

  • ملک میں سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی. وفاقی وزیر قادر پٹیل

    ملک میں سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی. وفاقی وزیر قادر پٹیل

    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کی ہدایت کردی ہے.

    ایک بیان میں عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ وزارت صحت سیلاب سے پیدا صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات یقینی بنا رہی ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی بیماریوں کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جراثیم کش ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنا رہے ہیں، بلوچستان میں ملیریا کی وباء سے نمٹنے کے لیے کیڑے مار ادویات فراہم کی جائیں گی.

    وزیر صحت کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ملیریا کے مریضوں کو 100 فیصد مفت علاج اور خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، خیبر پختونخوا کے 2 اضلاع میں مچھروں سے بچاؤ کی جالیاں مفت تقسیم کی جائیں گی۔

    عبدالقادر پٹیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ کے پی کے میں ملیریا کے مریضوں کو 100 فیصد مفت علاج اور خدمات دی جارہی ہیں۔ 

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کیے ہیں

  • امریکہ:2018 سے2022 تک4لاکھ 60 ہزارامریکیوں نے خود کُشی کی:شرح میں مزید اضافہ

    امریکہ:2018 سے2022 تک4لاکھ 60 ہزارامریکیوں نے خود کُشی کی:شرح میں مزید اضافہ

    واشنگٹن:جدید سہولیات ، بہترین معالج اور زندگی کی رنگینیون کے باوجود امریکی زندگی سے اُکتانے لگے، چند ہی سالوں میں خودکُشی کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہوگئی ، ادھر اس حوالے سے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی ہدایت پرواشنگٹن نے امریکا میں خودکشی روکنے اور ذہنی دباؤ کا شکار افراد کی فوری مدد کے لیے ہیلپ لائن 988 متعارف کروا دی ہے

     

     

     

    ورلڈ پاپولیشن ریویو کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں 41 ہزار سے زائد لوگوں نے امریکا میں خودکشی کی اور یہ اعداد و شمار سنہ 2020 میں 45979 تک جا پہنچے۔

     

     

    ڈائریکٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف اسٹیٹ مینٹل ہیلتھ پروگرام ڈاکٹر برائن ہیپبرن کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کی بہبود کے حوالے اس ہیلپ لائن کا قیام ضروری تھا کیونکہ دن بدن امریکہ میں خودکشی کے اعداد و شمار بڑھتے جا رہے ہیں.

     

     

     

    امریکا میں ذہنی صحت سے متاثرہ افراد کی فلاح بہبود کیلئے ایک خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے جس کا مقصد ہر سطح پر لوگوں کی رہنمائی کرنا اور انہیں الجھاؤ کا شکار ذہنی کیفیت سے باہر نکالنا ہے۔ ذہنی صحت کو ملکی سطح پر بہتر بنانے کیلئے موبائل مینٹل ہیلتھ کرائسس ٹیم اور ایمرجنسی مینٹل ہیلتھ سینٹرز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

     

     

    یاد رہے امریکہ میں مایوسی، ذہنی دباؤ اور اعصابی تنائو میں گھرے ہوئے لوگوں کی دن بدن بڑھتی ہوئی تعداد امریکی حکومت کے لئے چیلنج بن چکی ہے اور انہی مسائل کی وجہ سے ملک میں ہونے والی خودکشیوں کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔

     

  • اصل فنکار وہ ہوتا ہے جو رسک لے جاوید شیخ

    اصل فنکار وہ ہوتا ہے جو رسک لے جاوید شیخ

    لالی وڈ کے سینئر اداکار جاوید شیخ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ اصل فنکار تو وہ ہوتا ہے جو کیرئیر کے عروج پر رسک لے. اور میں نے اپنے کیرئیر میں بہت سارے رسک لئے جیسا کہ میں نے فلم جو ڈر گیا وہ مر گیا میں ولن کا کردار ادا کیا. میرے اس کردار کو بہت سراہا گیا. میں وہ خوش نصیب ہوں جسے شائقین نے ہر حال میں پسند کیا چاہے وہ مثبت کردار ہوں یا منفی. جاوید شیخ نے مزید یہ بھی کہا کہ بطور ہیرو کام کرنے والے کے لئے بہت بڑا رسک ہوتا ہے اگر وہ منفی کردار

    قبول کرتا ہے. میں تو ہمیشہ ہی رسک لینے کا قائل رہا ہوں . جاوید شیخ نے نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی فلموں میں بھی کام کیا اور پذیرائی ھاصل کی.جاوید شیخ نے بھارتی اداکار شاہ رخ خان کے ساتھ کام کیا. جاوید شیخ ورسٹائل اداکار ہیں جنہوں نے سنجیدہ اور کامیڈی ہر قسم کے کردار کر کے داد سمیٹی. جاوید شیخ کیرئیر کے عروج میں بہت سارے سکینڈلز کی زد میں بھی رہے ان کا نام اپنے دور کی بڑی ہیروئینز کے ساتھ آتا رہا.یاد رہےکہ جاوید شیخ کا شمار ان اداکاروں میں‌ہوتا ہے جو اپنے سے جونئیرز کو سراہتے ہیں. جاوید شیخ کو ان کی خدمات کی اعتراف میں ایوارڈز سے بھی نوازا گیا. ہنستے مسکراتے جاوید شیخ کو ہر روپ میں ان کے پرستار سراہتے ہیں.

  • حکومت کو کچھ سمجھ نہیں، معیشت کا بیڑہ غرق کردیا. شوکت ترین

    حکومت کو کچھ سمجھ نہیں، معیشت کا بیڑہ غرق کردیا. شوکت ترین

    سابق وزیر خزانہ اور رہنماء تحریک انصاف شوکت ترین نے کہا کہ ہمارے دور میں ‏کرنٹ اکاونٹ خسارہ 3 اعشاریہ 8 فیصد تھا اور ہم ٹیکس وصولی 8 ٹریلین پر لے کر جارہے تھے.

    شوکت ترین نے دعوی کیا ہے کہ: ہم نے 1400 ارب روپے کا ریونیو بڑھایا جبکہ ‏یہ لوگ (موجودہ حکومت) عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا: ان کا دعوی غلط ہے کہ ہم نے 20ارب ڈالر قرض لیا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ساڑھے 18 ارب ڈالر کے قرض لیے.

    ‏ترین کے مطابق: ان کی اپنی جاری کردہ رپورٹ میں ہماری کارکردگی کا ذکر ہے، ان کی اپنی رپورٹ کے مطابق17 سال میں زیادہ ترقی پی ٹی آئی دور میں ہوئی مہنگائی34سے35فیصد تک چلی گئی ہے یہ کس کو بےوقوف بنا رہے ہیں۔

    شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو کچھ سمجھ نہیں انہوں نے معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔