Baaghi TV

Author: +9251

  • لاہور:پی ٹی آئی نےمخالف جماعت کی بڑی وکٹ گرادی

    لاہور:پی ٹی آئی نےمخالف جماعت کی بڑی وکٹ گرادی

    لاہور:لاہور:پی ٹی آئی نےمخالف جماعت کی بڑی وکٹ گرادی ،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے ضمنی الیکشن میں لاہور کے حلقہ پی پی 158 سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار زاہد خان نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔

    ذرائع کے مطابق ضمنی الیکشن کی پولنگ سے چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور لاہور سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 158 سے اے این پی کے امیدوار زاہد خان نے پی ٹی آئی میں شولیت کا اعلان کردیا ہے۔

    زاہد خان نے پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا اور حلقے سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہونے کا بھی اعلان کیا۔

     

    اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے کہا کہ زاہد خان کا تحریک انصاف میں آنا بہت بڑی کامیابی ہے، میں ڈور ٹو ڈور آرہا ہوں ہمارا ووٹ بینک بہت ہے، لوگ ہماری طرف ہی ہیں کانٹے کا مقابلہ ہے ہی نہیں۔

     

    https://twitter.com/Saniya__Hassan/status/1546867104502235136

    حماد اظہر نے کہا کہ چیف سیکریٹری اور الیکشن کمیشن کی انتظامیہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی اور مداخلت نہ کریں۔

  • لوگوں کو تکلیف دینا ن لیگ کا پسندیدہ مشغلہ ہے،چودھری پرویزالٰہی

    لوگوں کو تکلیف دینا ن لیگ کا پسندیدہ مشغلہ ہے،چودھری پرویزالٰہی

    پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے سابق ایم این اے چودھری نذیر احمد جٹ اور ان کی صاحبزادی عارفہ نذیرجٹ نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

    چودھری حفیظ ہیئر، ڈاکٹر سرفراز احمد وڑائچ، چودھری صباحت الٰہی اور رانا خالد بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں وہاڑی میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ لوگوں کو تکلیف دینا ن لیگ کا پسندیدہ مشغلہ ہے، ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ چار ماہ کے دوران انہوں نے عوام کو ریلیف نہیں صرف تکلیف دی ہے، حکمران عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے، صرف مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھرمار ان کا کارنامہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان جعلی حکمرانوں کا ایجنڈا صرف ذاتی کیسوں کا خاتمہ ہے، مہنگائی کا طوفان برپا کرنے والوں کو عوام ووٹ کی طاقت سے سبق سکھائیں گے، ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کی برتری واضح ہے، عوام 17 جولائی کو ان جعلی حکمرانوں کے خلاف ووٹ کیلئے نکلیں گے.

    چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ ضمنی انتخابات میں عوام حکمرانوں سے مہنگائی کا حساب لیں گے۔ عوام اور کارکن دھاندلی کے ہر منصوبے کو روکنے کیلئے پولنگ اسٹیشنوں پر اپنے ووٹ کا پہرہ دیں گے۔

  • صدر مملکت سے مختلف افراد کی ملاقات،عید کی مبارکباد دی

    صدر مملکت سے مختلف افراد کی ملاقات،عید کی مبارکباد دی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے عید کے موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے گورنر ہاؤس کراچی میں ملاقات کی.صدر مملکت نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں عید الاضحٰی کے پر مسرت موقع پر مبارکباد پیش کی.مہمانوں نے بھی صدر مملکت کو اس خوشی کے موقع پر مبارکباد پیش کی.

    اس موقع پر خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی بھی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ تھیں،عید ملن میں اراکین پارلیمنٹ، سفارتکاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، صدر مملکت سے ملاقات کرنے والوں میں امریکہ، افغانستان، ایران، کویت ، جرمنی، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور ترکی کے قونصل جنرلوں کے جنرل شامل ہیں جبکہ رکن قومی اسمبلی صائمہ ندیم، غزالہ سیفی اور رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے بھی صدر مملکت سے ملاقات کی.

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بارش کے اعداد و شمار جاری کردیے۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈسٹرکٹ کیماڑی میں سب سے زیادہ 231.75 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اس کے بعد ڈسٹرکٹ ایسٹ میں 203.3 ملی میٹر بارش ہوئی۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ڈسٹرکٹ کورنگی میں 191 ملی میٹر، ڈسٹرکٹ ساؤتھ 132، ڈسٹرکٹ سینٹرل 129.8، ڈسٹرکٹ ملیر 98 اور ڈسٹرکٹ ویسٹ میں 53.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    علاوہ ازیں کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں کورونا کے 408 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 161 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ محکمہ صحت کے مطابق شہر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کی شرح 39.46 فیصد رہی۔

  • مون سون بارشیں،وزیراعظم نےوفاق اور صوبائی محکموں کو الرٹ کر دیا

    مون سون بارشیں،وزیراعظم نےوفاق اور صوبائی محکموں کو الرٹ کر دیا

    وزیراعظم شہبازشریف نےجمعرات سے ملک میں مزید مون سون بارشوں پر وفاق اور صوبائی محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی،وزیراعظم نے سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں عوام کے تحفظ کے اقدامات کی کڑی نگرانی کرنے کی ہدایت کی ہے.

    کراچی میں بارش کے بعد تا حال علاقوں میں بجلی غائب

    وزیراعظم نے وفاق کی طرف سے صوبائی حکومتوں اور اداروں کو مکمل معاونت فراہم کرنے پراین ڈی ایم اے کو شاباش دی.وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ اتحاد، تعاون ، اشتراک عمل اور عوام کی خدمت کا بے لوث جذبہ ہی ہماری قوت اورکامیابی ہے،وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں اور اداروں کو بھی عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے خدمات پر خراج تحسین پیش کیا.

    وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ عوام کی خدمت کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں، آپ کا جذبہ اور خدمات لائق تحسین ہیں، اللہ تعالی کی مخلوق کی خدمت کا جذبہ ہی دراصل سب سے عظیم جذبہ ہے،وزیراعظم نے انتظامی افسروں کو کہا کہ عید کی تعطیلات میں عوامی خدمت کے شاندار جذبے کا آپ نے مظاہرہ کیا،انہوں نے کہا کہ پولیس سمیت میونسپل اور شہری انتظامات کے ذمہ دار تمام اداروں کی تحسین کرتا ہوں.

    دوسری طرف محکمہ موسمیات نے کراچی میں جمعرات سے مزید تیز بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارشوں کا ایک اور مضبوط سسٹم شہر قائد کی جانب رواں دواں ہے۔ ذرائع کے مطابق محکہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ حالیہ بارشوں کے سسٹم کا پھیلاؤ کراچی اور زیریں سندھ پر اب بھی موجود ہے، شہر میں کبھی تیز اور کبھی معتدل بارش ہورہی ہے۔

    چیف میٹرو لوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق 14 جولائی کی شام سے ایک اور سسٹم سندھ میں داخل ہونے کی توقع ہے، مون سون بارشوں کا سبب بننے والا نیا سسٹم 18 جولائی تک اثرانداز رہے گا۔

  • چین سری لنکا میں صورتحال کی بہتری کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں

    چین سری لنکا میں صورتحال کی بہتری کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں

    بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے کہا ہے کہ چین کو سری لنکا کو درپیش مشکلات اور چیلنجز پر ہمدردی ہے اور سری لنکا کو خوراک اور ادویات سمیت ہنگامی انسانی امداد فراہم کی گئی ہے۔ منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ایک پر یس بر یفنگ میں تر جمان نے کہا کہ چین نے مرکزی حکومت، مقامی حکومتوں اور دوستانہ تنظیموں جیسے چینلز کے ذریعے سری لنکا میں زندگی کے تمام شعبوں کو امداد کی مختلف کھیپیں بھی فراہم کی ہیں۔

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق مدد کی فراہمی جاری رکھے گا اور سری لنکا کی اقتصادی بحالی اور لوگوں کے معاش کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔ جہاں تک سری لنکا پر چین کے قرضوں کا تعلق ہے تو چین سری لنکا کے ساتھ گفت و شنید اور مناسب حل تلاش کرنے کے لیے متعلقہ مالیاتی اداروں کی حمایت کرتا ہے۔ ہم سری لنکا میں حالیہ مشکلات سے نمٹنے، قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے لیے متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

    چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے آسیان سیکرٹریٹ میں کھلی علاقائیت پر عمل کرنے کے بارے میں ایک تقریر کی ۔ اس موقع پر انہوں نے آبنائے تائیوان کی کشیدہ صورتحال سے متعلق کیے جانے والے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہاکہ آبنائے تائیوان میں استحکام کی بنیاد ایک چین کا اصول ہے۔

    منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ ای نے کہا کہ تاریخ اور عمل نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب ایک چین کے اصول کو پوری طرح سے تسلیم کیا جائے اور اس پرسنجیدگی کے ساتھ عمل کیا جائے تو آبنائے تائیوان میں سکون رہتا ہے اور آبنائے کے دونوں کنارے پرامن ترقی کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ایک چین کے اصول کو نتائج کی پرواہ کیے بغیر چیلنج کیا جائے یا اسےنقصان پہنچتا ہے،تو آبنائے تائیوان پر سیاہ بادل چھائیں گے نیز شدید طوفان آئے گا۔

    وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے۔ کسی فرد ، کسی طاقت یا کسی ملک کو کبھی یہ سوچنا بھی نہیں چاہیے کہ تائیوان کو چین سےعلیحدہ کیا جائے گا۔ ایک چین کا اصول چین اور مختلف ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کا بنیادی اصول بھی ہے اور یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظام کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے اس امید اور یقین کا اظہار کیا کہ تمام ممالک “تائیوان کی علیحدگی” سے ہونے والے خطرناک نقصان کا صحیح ادراک کرسکتے ہیں اور چین کے ساتھ مل کر ایک چین کے اصول کی مشترکہ حفاظت کر سکتے ہیں۔

    جاپان کے “نِکئی ایشیا” میگزین کی ویب سائٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایک نظریہ یہ ہے کہ کووڈ-۱۹ کی وبا سے نمٹنے کے لیے ” ڈائنامک کلیئرنگ پالیسی” سے چین کے علاقائی اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچے گالیکن درحقیقت خطے میں چین کا اقتصادی اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔

    منگل کے روز ایک مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 2020 اور 2021 میں، مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے چین کے لیے برآمدات ان ممالک کی کل برآمدات کا 27 فی صد تھیں۔ تجارتی شراکت دار کے طور پر چین کی اہمیت ان ممالک کے لیے بھی بڑھ گئی ہے جو چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکی قیادت میں کی جانے والی کوششوں میں شامل ہیں۔ وبا سے پہلے کے مقابلے میں جاپان اور نیوزی لینڈ کی کل تجارت میں چین کا تناسب بھی بڑھ گیا ہے۔

    2020 اور 2021 میں،دنیا کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں چین کا حصہ 1990 کی دہائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب جاپان کی بجائے چین، خطے میں سرمایہ کاری کا اہم ترین منبع بن چکا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں چین سے ہونے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 300 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    امریکی صدرجو بائیڈن اس ہفتےاسرائیل، فلسطین کےمغربی کنارے اورسعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ یہ امریکی صدرکا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا مشرق وسطیٰ کا پہلا دورہ ہے۔ امریکی نشریاتی ادارےسی این این نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ روس- یوکرین تنازع کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈی میں ہنگامہ آرائی کے بغیر امریکی صدر مشرق وسطیٰ بالکل نہیں جا سکتے تھے۔

     

     

     

    منگل کے روز چینی میڈ یا کےمطابق اس وقت وسط مدتی انتخابات کا سامنا کرنے والی بائیڈن انتظامیہ پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، شدید افراط زر اور امریکہ میں معاشی کساد بازاری کے خدشات کا “شدید دباؤ” ہے ایسے میں تیل پیدا کرنے والا ملک سعودی عرب، اس صورتحال کو بدلنے کی کنجی ہے۔

     

     

    مشرق وسطیٰ کے دورے پر اپنے مضمون میں،جو بائیڈن نے اس دورے کی اہمیت پر زور دیا اور مزید کہا کہ “چین کے ساتھ مقابلہ جیتنا ہے”۔یہ توجہ ہٹانے اور سعودی عرب کے دورے کو جواز فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

     

    بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال سے زیادہ عرصے میں، ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ کی عالمی حکمت عملی میں مشرق وسطیٰ کا مقام کم ہو گیا ہے۔

     

    اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کا خطہ “دی بیلٹ اینڈ روڈ” کی تعمیر کے مرکز کے طور پر، چین کے ساتھ تعاون میں مسلسل نئے نتائج حاصل کر رہا ہےجس سے امریکی سیاستدانوں کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ان کے اثر و رسوخ پر اثر پڑے گا۔ عام طور پر بیرونی دنیا کا یہ ماننا ہے کہ امریکہ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے علاقائی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے، یا یہاں تک کہ “نیٹو کا مشرق وسطیٰ ورژن” تشکیل دے رہا ہے۔ تاہم کوئی بھی ملک امریکی تسلط کے لیے اپنے مفادات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔

  • سنت ابراہیمی کا حقیقی فلسفہ اللہ تعالیٰ کی ہر حال میں اطاعت ہے : مفتی محمد فیض احمد قادری

    سنت ابراہیمی کا حقیقی فلسفہ اللہ تعالیٰ کی ہر حال میں اطاعت ہے : مفتی محمد فیض احمد قادری

    کراچی : سنت ابراہیمی کا حقیقی فلسفہ اللہ تعالیٰ کی ہر حال میں اطاعت ہے،دوسری جانب راضی بہ رضاکے ساتھ ساتھ والد کی فرمانبرداری کا عظیم الشان مظاہرہ ہے جو ان لوگوں کے لئے لمحہء فکریہ ہے جن کے والدین اولاد سے بات کرنے کو ترستے ہیں اور بیٹاقیمتی ترین بیل خرید کر قربانی کرتاہے۔یہ باتیں جماعت غوثیہ اہلسنّت پاکستان کے امیر مفتی محمدفیض احمدقادری نے دارالعلوم غوثیہ طفیلیہ گلفشاں سوسائٹی عظیم پورہ،شاہ فیصل کالونی میں اجتماعی قربانی کے گوشت کی تقسیم کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

    انہوں نے کہاکہ قربانی عاجزی اور انکساری کا درس دیتی ہے، سنت ابراہیمی کا مقصد صرف اورصرف اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنی پسندیدہ اور عزیز ترین شے کو قربان کردینا ہے۔قربانی کے گوشت پر غریب اور نادار افراد کا حق ہے، گوشت کی تقسیم سے ہی سنت ابراہیمی کا حق ادا ہوگا۔
    انہوں نے کہاکہ گوشت کی منصفانہ تقسیم سے حقوق العباد بھی ممکن ہے۔مخیر حضرات سفید پوش خاندانوں کا خصوصی خیال رکھیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان آنے سے عوام فاقوں پر مجبور ہوچکے ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے بعد ہی خوشحالی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ عیدالاضحی کے موقع پر عید گاہیں کچرا کنڈی کا منظر پیش کرتی ر ہیں،عید سے پہلے ہونے والی بارشوں کے پانی کی نکاسی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے متبادل مقامات پر عیدالاضحی کی نماز اداکی گئی،دوسری جانب علاقوں میں جمع پانی سے عوام پریشان ہیں اورحیرت کی بات ہے کہ کوئی پرسان حال نہیں ہے۔عیدالاضحی کے موقع پر صفائی ستھرائی کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت تھی لیکن اداروں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

    انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت فوری طور پر مہنگائی میں کمی لائے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے،موجودہ دورمیں بدترین اور ہوش ربا مہنگائی عوام پر عذاب بن کر نازل ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عوام غربت کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشی پر مجبور ہیں ایسے میں حکومت کوچاہئے کہ غریب عوام کی داد رسی کے لئے فوری طور پر پیکیج کا اجراء کرے۔

  • یوم ملالہ: گل مکئی کی کامیابی کے پیچھے چھپا اصل کردار

    یوم ملالہ: گل مکئی کی کامیابی کے پیچھے چھپا اصل کردار

    بارہ جولائی کو عالمی طور پر ملالہ ڈے منایا جاتا ہے، 12 جولائی، 2013ء کو ملالہ کی سولہویں سالگرہ تھی جب ملالہ نے حملہ کے بعد پہلی تقریر کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے عالمی خواندگی کے بارے خطاب کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس واقعے کو ملالہ ڈے یعنی یومِ ملالہ قرار دے دیا تھا۔

      نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی آج پچیس سال کی ہوگئی ہے وہ 12 جولائی 1997 کو ماہر تعلیم اور سماجی کارکن ضیاء الدین یوسف زئی کے گھر سوات کے ایک چھوٹے سے گاؤں برکانہ میں پیدا ہوئی تھی۔

    ملالہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد اور مقامی اسکول سے حاصل کی تاہم عالمی منظر نامے پر ان کا نام اس وقت آیا جب طالبان نے سوات میں خواتین کی تعلیم پر مکمل پابندی لگا دی تھی تاہم اس دوران یہ بچی اپنے والد کی مدد سے برطانوی نشریاتی ادارے کیلئے فرضی طور پر گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھتی رہی جس میں انہوں نے عالمی دنیا کو اس وقت کی موجودہ صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا۔

    یوم ملالہ پر ضیاء الدین یوسف زئی نے ملالہ کی بچپن کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: جنم دن مبارک ہو جان من، آپ ہماری زندگی میں ایک صبح کی ستارے کی مانند ہیں۔

    اس پر ملالہ نے والد کو جواب میں لکھا: شکریہ ابا


    ملالہ نے خود اپنی سلور جوبلی پر کہا: ملالہ فنڈ نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اقدامات کرنے کے 25 طریقوں کی ایک فہرست جمع کی ہے۔

     میں اپنی سالگرہ کے اعزاز میں آپ سب کی حمایت کے لئے بہت شکر گزار ہوں۔


    ملالہ کے شوہر ملک عصر نے بھی انہیں اپنی زندگی کا خوب صورت شخصیت قرار دیتے ہوئے جنم دن کی مبارک دی۔


    تیرہ سال کی عمر میں اسکول کھولنے مطالبہ
    آج سے تقریبا تیرہ سال قبل معروف صحافی حامد میر کو ایک بچی جس کا نام ملالہ ہے سوات کے شہر مینگورہ میں ملی جس کی عمر اس وقت گیارہ سال تھی اور وہ اس وقت سوات کے اسکولوں کو کھولنے کا مطالبہ کررہی تھی کیونکہ ان دنوں سوات کے اکثر اسکولز پر طالبان کا قبضہ تھا.

    حامد میربتاتے ہیں: ان دنوں ناصرف بچیوں کے اسکولوں کو بمبوں سے اڑایا جارہا تھا بلکہ بچیوں کے تمام اسکول بند ہوچکے تھے لہذا ملالہ نے کہا میرا اسکول کھولا جائے کیونکہ میں نے اسکول جانا ہے اور تعلیم حاصل کرنی ہے۔

    حامد میر کہتے ہیں کہ: میرے پروگرام کیپٹل ٹاک کی ریکارڈنگ کے دوران جب ملالہ اسکول کھولنے کی بات کررہی تھی تو اس دوران ان کے اردگرد مسلح افراد کھڑے ہوئے تھے۔ اور وہ یہ ساری باتیں سن رہے ہیں تھے۔

    اس انٹرویو سے حامد میر کے ذریعے ملالہ کی آواز پورے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیل گئی، بعدازاں اسکول بھی کھل گئے لیکن جب ملالہ 9 اکتوبر 2012 کو اسکول سے واپس آرہی تھی تو ان کی گاڑی جس میں باقی طالبات بھی موجود تھیں کو نامعلوم افراد نے روک کر پوچھا کہ ملالہ یوسفزئی کون ہے؟

     جب انہوں نے ملالہ کو شناخت کرلیا تو ان پر فورا گولیاں چلا دیں جس سے یہ بچی شدید زخمی ہوگئی اور اسکی دو ساتھی شازیہ اور کائنات بھی زخمی ہوئی تھی تاہم اس وقت کی سول حکومت اور فوج نے انہیں فوری علاج کیلئے بیرون ملک بھیج دیا تھا۔

    واضح رہے کہ ملالہ پر حملہ کی مذمت کرنے پر حامد میر کی کار کے نیچے بمب رکھا گیا تھا۔ جس کی تصدیق اس وقت کے ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بھی کی تھی اور کہا تھا کہ حامد میر کو کئی بار روکا گیا کہ آپ ملالہ یوسفزئی کی حمایت نہ کریں لیکن وہ باز نہیں آئے لہذا انہیں سبق سکھانے کیلئے بمب رکھا گیا۔

    ملالہ یوسفزئی نے برطانیہ میں علاج کے ساتھ ساتھ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم بھی حاصل کی اور وہ حملہ کے بعد پاکستان بھی ایک بار آچکی ہیں۔ 

    سال 2021 میں ملالہ نے ملک عصرسے شادی کرلی اور آکسفورڈ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اب وہ اپنے قائم کردہ ملالہ فنڈ کیلئے متحرک ہیں۔

    ملالہ سے وابستہ غلط فہمیاں اور حقائق

    ملالہ پر حملہ کے بعد 13 اکتوبر 2012 کو ڈاکٹر سمیعہ رحیل قاضی نے ایک ٹوئیٹ میں تصویر شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کرتے ہوئے لکھا تھا: "ملالہ امریکی فوجی حکام کے ساتھ، علاوہ ازیں شیئر کی گئی پر لکھا ہوا ہے "ملالہ اپنے (ضیاء الدین یوسف زئی) والدہ (تورپکئی) کے ہمراہ امریکہ فوجی حکام کے ساتھ اجلاس میں”

    جبکہ یہ الزام سراسر غلط عائد کیا گیا جس کی حقیقت یہ ہے کہ جولائی 2009 میں امریکا کی طرف سے افغانستان اور پاکستان کے لیے مقرر کردہ نمائندہ خصوصی رچرڈ ہال بروک، سیرینہ ہوٹل اسلام آباد میں وزیرستان اور سوات سے تعلق رکھنے والے آئی ڈی پیز سمیت کچھ سول سوسائٹی کے لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں جن میں ملالہ اور ان کے والد کو بھی امتیاز نامی (صحافی) دوست بلوا لیتا ہے کیونکہ وہ ان کے دفتر میں کام کرتا تھا۔

     یہ ملاقات کوئی چوری چھپے نہیں ہوئی تھی بلکہ اس میں بہت سارے لوگ موجود تھے۔ لیکن کچھ انتہاء پسندوں اور محب وطن نے اس ملاقات کی ایک تصویر نکالی اور جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلاتے ہوئے ملاقات میں موجود سماجی خاتون شاد بیگم کو ملالہ کی والدہ یعنی تورپکئی قرار دے دیا اور رچرڈ ہال بروک کو سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے عام لوگوں میں یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ جیسے ملالہ خاندان پہلے سے سی آئی اے سے ملا ہوا تھا۔

     یہ وہ جھوٹ ہے جس کے نہ ہاتھ ہیں اور نہ ہی پاؤں۔ اس کی حقیقت جاننے کےلیے میٹنگ میں شریک شاد بیگم سمیت متعدد لوگوں سے میں نے بذاتِ خود رابطہ کرکے تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ ملاقات بہت سارے لوگوں کی موجودگی میں ایک ساتھ ہوئی نہ کہ بطور خاص ملالہ سے، کیونکہ وہ تو انہیں ملاقات سے قبل جانتے تک نہیں تھے۔

     یاد رکھیے کہ رچرڈ ہال بروک وہ انسان تھے جنہوں نے بوسنیا کی جنگ کی روک تھام میں مسلمانوں کے لیے ایک مثالی کردار ادا کیا تھا۔ اگر یقین نہ آئے تو تاریخ کا مطالعہ کرلیجیے۔

    ایک اور بےبنیاد پروپیگنڈہ یہ ہے کہ ملالہ یوسفزئی، تسلیمہ نسرین (ملعونہ) کی موجودگی میں سلمان رشدی (ملعون) سے ایوارڈ وصول کر رہی ہے جبکہ اس کی حقیقت بھی کچھ اور ہے۔ 

    سخاروف ایوارڈ کے لیے ملالہ کو بلایا جاتا ہے جس میں تسلیمہ نسرین بھی موجود ہے۔ کیونکہ جس طرح ماضی کے انعام یافتہ لوگوں کو نوبیل امن ایوارڈ کی تقریب میں ہر سال بلایا جاتا ہے، اسی طرح انہیں بھی بلایا گیا تھا لیکن ملالہ اس سے قبل اس موصوفہ کو جانتی تک نہیں تھی اور نہ ہی اب کوئی ان سے تعلق یا واسطہ ہے۔

     ملالہ کے ساتھ اس تقریب میں کھڑا شخص سلمان رشدی نہیں بلکہ یورپین پارلیمنٹ کا صدر مارٹن شولز ہے جسے ایوارڈ دینے کےلیے بطور خاص بلایا گیا تھا۔

    ملالہ کی کامیابی کے پیچھے چھپا اصل کردار
    ملالہ یوسفزئی کی کامیابیوں کا اصل راز ان کا والد ضیاء الدین یوسف زئی اور انکی والدہ تور پکئی ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں ملالہ جیسی بچیاں تو ہزاروں ہیں لیکن ان کے پاس ضیاء الدین یوسف زئی جیسا باپ نہیں جو ان کے پر نہ کاٹے اور پرواز کرنے دے۔

  • صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان نے بھی اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔

    صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان نے بھی اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔

    لاہور:صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان نے بھی اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے ملک احمد خان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک احمد خان نے ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کیلئے استعفیٰ دیا، ملک احمد خان جنوبی  پنجاب میں ن لیگ کی انتخابی مہم کی نگرانی کریں گے۔

    واضح رہے کہ سردار اویس لغاری نے بھی وزرات سے استعفیٰ دے دیا، اویس لغاری نے استعفیٰ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بجھوا دیا۔

    اس موقع پر مسلم لیگ (ن) پنجاب کے جنرل سیکرٹری اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر استعفیٰ دے رہا ہوں۔

    اس سے قبل خواجہ سلمان رفیق نے بھی صوبائی وزارت سے استعفیٰ دیا تھاواجہ سلمان رفیق نے ذاتی وجوہات کی بنا پر صوبائی وزارت سے استعفی دیا، خواجہ سلمان رفیق نے اپنا استعفی وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کو بجھوا دیا تھا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے خواجہ سلمان رفیق کا استعفی بھی منظور کر لیا ہے۔

  • قاتلانہ حملے میں ہلاک سابق جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کی آخری رسومات ادا

    قاتلانہ حملے میں ہلاک سابق جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کی آخری رسومات ادا

    ٹوکیو:قاتلانہ حملے میں ہلاک سابق جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کی آخری رسومات ادا کردی گئی یہن اور ان رسومات مین بڑی تعداد مین لوگوں نے شرکت کی ہے ، جاپانی عوام نے آج اپنے سابق وزیراعظم شنزو ایبے کو آخری بار الوداع کہا۔ شنزو ایبے چند روز قبل ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ایبے ملک کے طویل عرصے تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے رہنما تھے۔ اُنہیں گزشتہ جمعہ کو مغربی شہر نارا میں ایک انتخابی مہم کی تقریب سے خطاب کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

    منگل 12 جولائی کو آبے کے جنازے میں روایتی سیاہ لباس میں ملبوس ہزاروں افراد نے شرکت کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ ٹوکیو کے مرکز میں واقع زوجوجی مندر کے سامنے ان کا جنازہ جلوس کی شکل میں پہنچایا گیا۔ شنزو ایبے پہلی بار 1991ء میں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ دو برس قبل عہدے سے مُستعفی ہونے کے باوجود وہ انتہائی بااثر سیاستدان مانے جاتے تھے۔

    شنزو ایبے کی آخری رسومات میں بیوہ، خاندان کے قریبی اراکین، موجودہ وزیراعظم فومیو کیشیدا اور سینیئر پارٹی اراکین نے شرکت کی۔ ایبے کے تابوت کو گاڑی پر رکھ کر پہلے ٹوکیو کے مرکزی سیاسی ہیڈکوارٹر نگاتاچو کے گرد چکر لگایا گیا۔ یہاں ایبے نے تین دہائیوں سے زیادہ وقت گزارا تھا۔ ان کی سیاسی پارٹی کے سینیئر اراکین اور قانون ساز قطار میں کھڑے تھے۔ اس کے بعد ایبے کے تابوت کو وزیراعظم کے دفتر کی طرف لے جایا گیا جہاں اُنہوں نے تقریباً ایک عشرے تک ملک و قوم کے لیے خدمات انجام دی تھیں۔

    موجودہ وزیراعظم فومیو کیشیدا اور ان کی کابینہ کے اراکین نے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے تابوت کے سامنے احتراماً سر جھکایا جس کے بعد آبے کے جسد خاکی کو آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے زوجوجی مندر لے جایا گیا۔

    ایبے کی چونکا دینے والی موت کے دو دن بعد اتوار کو ان کی حکمراں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے بھاری اکثریت سے ایوان بالا میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سے وزیراعظم فومیو کیشیدا کو 2025ء میں ہونے والے انتخابات تک بلاتعطل حکومت کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • امریکہ نےگرین ہاوس گیسوں کےاخراج کےاثرات سےدنیا2ٹریلین ڈالرزکانقصان پہنچایا

    امریکہ نےگرین ہاوس گیسوں کےاخراج کےاثرات سےدنیا2ٹریلین ڈالرزکانقصان پہنچایا

    لاہور:امریکہ نےگرین ہاوس گیسوں کےاخراج کےاثرات سےدوسری دنیا کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ، اس حوالے سے تازہ رپورٹ مین نکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے اپنے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اثرات سے دوسرے ممالک تقریبا 2 ٹریلین امریکی ڈالرز کے لگ بھگ نقصان پہنچایا، ایک نئے تجزیے کے مطابق جس نے موسمیاتی بحران کو روکنے میں اقوام کی ذمہ داری کی پہلی عالمی رپورٹ پیش کی ہے ،

    سیارے کو گرم کرنے والی گیسوں کی بڑی مقدار جو کہ سب سے بڑا تاریخی اخراج کرنے والا امریکہ ہے، نے گرمی کی لہروں، فصلوں کی کم پیداوار اور دیگر نتائج کے ذریعے دوسرے، زیادہ تر غریب ممالک کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ دنیا ہل کر رہ گئی ہے

    ین نے رپورٹ کیا.

    یہ امریکہ کو چین سے آگے رکھتا ہے، جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اخراج کرنے والا ملک ہے، روس، ہندوستان اور برازیل بھی شامل ہیں ، تاہم ان پانچ سرکردہ ملکوں نے 1990 سے اب تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر 6ٹریلین سے زائد یا سالانہ عالمی GDP کا تقریباً 11%، ماحولیاتی خرابی کو ہوا دے کر نقصان پہنچایا ہے۔

    "یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے،” ڈارٹ ماؤتھ کالج کے ایک محقق اور مجموعی معاشی نقصان کے مطالعہ کے سرکردہ مصنف کرس کالہان ​​نے کہا، "یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ امریکہ اور چین اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں لیکن نمبر واقعی بہت حساس ہیں

    ہم یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ کسی ملک کے اخراج کو مخصوص نقصان کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔”ڈارٹ ماؤتھ کے محققین نے متعدد مختلف ماڈلز کو یکجا کیا، جن میں اخراج، مقامی آب و ہوا کے حالات اور اقتصادی تبدیلیوں جیسے عوامل کو دکھایا گیا، تاکہ موسمیاتی بحران میں کسی فرد ملک کی شراکت کے صحیح اثرات کا پتہ لگایا جا سکے

    کولمبیا لا سکول میں سبین سنٹر برائے موسمیاتی تبدیلی کے قانون کے ڈائریکٹر مائیکل جیرارڈ نے کہا، "ایک ملک کی طرف سے آب و ہوا کو پہنچنے والے نقصانات کے لیے دوسرے ملک کے دعووں میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی سائنسی بنیاد نہیں ہے، یہ ان کی قانونی بنیاد ہے۔” زیادہ تر قسم کے مقدمات کے خلاف خود مختار استثنیٰ جب تک کہ وہ اسے معاف نہ کر دیں۔”

    اس تعطل کا مطلب ہے کہ کسی قسم کی بات چیت کا معاہدہ سب سے زیادہ ممکنہ طریقہ ہے کہ آب و ہوا کے اثرات کی عدم مساوات کو کم کیا جائے۔

    یاد رہے کہ برطانوی اخبار "گارجیئن” نے پچھل سال بھی اپنی 10جنوری کی رپورٹ میں بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2021 میں تیزی سے اضافہ ہوا، جو کہ 2020 کے مقابلے میں 6.2 فیصد زیادہ ہے۔ وبا کے بعد جیسے ہی زندگی معمول پر آئے گی، یہ اخراج معیشت سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھے گا۔

    روڈیم گروپ نامی ایک امریکی تحقیقی فرم کی رپورٹ کے مطابق گیسز کا اخراج متعدد وجوہات کی بناپر بڑھ رہا ہے، بشمول کووڈ-۱۹ کی وبا کاپھیلاو جس کی وجہ سے لوگوں کے معمولات اور رویوں میں تبدیلی آئی ہے۔ وبا کے پہلے سال میں بہت سے لوگ جو گھروں میں رہے، انہوں نے بڑی مقدار میں فوسل فیولز کا استعمال کیا ۔اس کے علاوہ ایک ہی وقت میں، اشیائے صرف کی زیادہ مانگ نے نقل و حمل میں بھی اضافہ کیا ہے۔

    گلوبل وارمنگ نے موسموں کی شدت کو بے حد بڑھا دیا ہے اور یہ صورتِ حال بار بار وقوع پذیر ہو رہی ہے ۔ 10 جنوری کو امریکہ کی قومی بحری و ماحولیاتی انتظامیہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، 2021 شدید موسمی صورتِ حال اور موسمیاتی آفات کے لیے بدترین سالوں میں سے ایک تھا، جس میں 20 مختلف قدرتی آفات میں 688 افراد ہلاک اور مجموعی طور پر 145 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔