Baaghi TV

Author: +9251

  • لاہورمیں انسداد ڈینگی ڈے،ریلیاں،آگاہی سیمیناراور واک کا اہتمام

    لاہورمیں انسداد ڈینگی ڈے،ریلیاں،آگاہی سیمیناراور واک کا اہتمام

    لاہور بھر میں انسداد ڈینگی ڈے منایاجارہاہے، شہر بھر میں ڈینگی سے آگاہی کیلئے واک اور مختلف سیمینار منعقد کئے گئے.صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق کی قیادت میں ڈی جی ہیلتھ سروسزکے دفترمیں انسدادای ڈینگی واک کا اہتمام کیا گیا.خواجہ سلمان رفیق نے شاہراہ پر شہریوں میں ماسک بھی تقسیم کئے۔

    انسداد ڈینگی واک میں ڈی جی ہیلتھ سروسزڈاکٹرہارون جہانگیر،ڈاکٹریونس،ڈاکٹرشاہدحسین مگسی،ڈاکٹرمختاراعوان اور ڈی جی ہیلتھ دفترکے تمام افسران وملازمین نے شرکت کی،افسران نے اپنے ہاتھوں میں انسدادی ڈینگی سے متعلقہ پلے کارڈزاٹھارکھے تھے۔

    صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق نے شارہ پرشہریوں کو خودماسک پہنائے۔اس موقع پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہبازکی ہدایت کے مطابق آج سارے صوبہ میں انسدادی ڈینگی ڈے منایاجارہاہے۔ پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے دفاترمیں آگاہی سیمینارزاور واکس کا اہتمام کیاجارہاہے۔ انسدادی ڈینگی ڈے منانے کا بنیادی مقصدعوام میں ڈینگی سے بچاؤ کے سلسلہ میں آگاہی پھیلاناہے۔ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی ہدایت پر تمام صوبائی سیکرٹریزاپنے محکمہ جات میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھ رہے ہیں۔

    خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ بطورشہری اپنے گھروں کوصاف ستھرارکھناہماری بھی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شہبازشریف کی قیادت میں ماضی میں پنجاب میں ڈینگی پر مکمل قابوپایاتھا۔پنجاب کے تمام محکمہ جات ڈینگی پرقابوپانے کیلئے اس وقت محنت کررہے ہیں۔ آگاہی سیمینارزاورواکس کے ذریعے عوام میں ڈینگی سے متعلق آگاہی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عوام میں ڈینگی سے متعلق آگاہی پھیلانے میں میڈیاانتہائی اہم کرداراداکررہاہے۔ شہری اپنے گھروں میں پانی بالکل جمع نہ ہونے دیں۔ شہریوں کوبرسات کے موسم میں ڈینگی سے بچاؤکیلئے زیادہ محتاط کرنی ہوگی۔

    خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اٹھاسی فیصدسے زائد شہری ویکسی نیٹڈ ہیں۔ ملک میں کوروناکے کیسزمیں بھی تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ ہمیں ڈینگی کے ساتھ ساتھ کوروناسے بچاؤکیلئے بھی احتیاطی تدابیرپرسختی سے عملدرآمدکرواناہے۔ نان ویکسینیٹڈ افرادفوری طورپرکوروناسے بچاؤکیلئے ویکسینیٹڈہوجائیں۔عوام سے اپنے گھروں میں صفائی ستھرائی رکھ کرحکومت سے مکمل تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ ڈینگی کی انسدادی سرگرمیوں میں کوتاہی برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ انشاء اللہ حمزہ شہبازہی جیتیں گے۔ الحمداللہ حمزہ شہبازکو واضح عددی برتری حاصل ہے۔ این سی اوسی کی ہدایات کے مطابق پنجاب میں ایس اوپیزپرمکمل عملدرآمدکروارہے ہیں۔ پنجاب میں پیناڈول گولیوں کی کوئی قلت نہیں ہے۔

    کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان نے بتایا کہ لاہور سمیت پوری ڈویژن میں انسداد ڈینگی آگاہی سیمینارز،واکس کا انعقاد جاری ہے۔تمام متعلقہ ادارے منظم کام کریں۔کسی ایک کی کوتاہی ساری محنت کو ضائع کرسکتی ہے۔ جاری ڈینگی سرویلنس میں لاروا مل رہا ہے۔ڈینگی ٹیموں و ذمہ دار شہریوں کو ان تھک کام کرنا ہوگا،انسداد ڈینگی ٹیموں۔ہیلتھ افسران کیلئے معمولی سی غفلت کی بھی گنجائش نہیں۔ڈینگی کے خلاف جنگ شہریوں اور تمام طبقہ ہائے فکر کے تعاون کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔تمام ڈی سیز آج آگاہی سیمینارز اور واکس کی خود قیادت کررہے ہیں۔ہم نے ملکر انسداد ڈینگی کیلئے کام کرنا ہے۔یہ قومی فریضہ اور ہر فرد کا اخلاقی فرض ہے۔لاہور میں ہر انسداد ڈینگی ورکر تربیت یافتہ ہے۔حکومت مکمل وسائل فراہم کررہی ہے۔بارش کے موسم میں انسداد ڈینگی ٹیموں اور شہریوں کو انتہائی حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔

    سیکرٹری معدنیات پنجاب محمد علی عامر کی زیر قیادت بھی ڈینگی آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، ایڈیشنل سیکرٹری سارہ رشید، ڈپٹی سیکرٹری عاتکہ عمار اور دیگرنے شرکت کی،سیکرٹری معدنیات نے دفترکے اطراف صفاٸی کا بھی جاٸزہ لیا،سیکرٹری معدنیات نے بارشوں کے دوران پانی کھڑا نہ ہونے پر بھی زور دیا،ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی سے بچاٶ کا واحد حل ماحول کو صاف رکھنا اور پانی کو جمع ہونے سے روکنا ہے۔ کھڑا پانی ڈینگی مچھر کی افزاٸش کا باعث بن سکتا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے زریعے ڈینگی کا پھیلاٶ روکنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ افسران نے ڈینگی آگاہی واک اور سیمینار ز کا انعقاد کیا ۔ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے شہریوں میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے ۔

    ایم سی ایل کے ٹاونز کے زیراہتمام بھی ریلیاں نکالی گئیں، جن کی قیادت متعلقہ اے سیز اور ٹی ایم اوز نےکی۔انسداد ڈینگی آگاہی ریلیوں میں افسران۔ڈینگی ٹیموں اور شہریوں نے شرکت کی۔انسداد ڈینگی ریلی شرکاء نے ڈینگی حفاظتی تدابیر پر مشتمل پمفلٹس بھی تقسیم کیے

    ڈائریکٹر جنرل اوقاف پنجاب ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کی سربراہی میں ڈینگی ڈے کے حوالے سے ایوان ِ اوقاف لاہور میں آگاہی واک کا انعقاد ہوا۔ آگاہی واک ایوان ِ اوقاف سے شروع ہو کر جی پی او چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔مفتی محمد رمضان سیالوی، مولانا فتح محمد راشدی، مولانا احمد رضا سیالوی،مفتی محمد عمران حنفی،مولانا شفیق احمد،مولانا مسعود احمد،محمد یوسف،آصف اعجاز، غلام عباس، شیخ قیوم، طاہر احمد، شیخ محمدجمیل و ملازمین کی کثئر تعداد میں شرکت کی۔

    اس موقع پرسیمینار کا انعقاد بھی ہوا۔سمینارسے ڈی جی اوقاف طاہر رضا بخاری و دیگر علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اوقاف و مذہبی امور نے پنجاب بھر کی مساجد میں ” ڈینگی آگاہی مہم” کے سلسلے میں مختلف تقریبات اور کانفرنسز کا اہتمام کیا ہوا ہے۔ڈینگی کے تدارک کے لیے حکومت مستعداور محراب و منبر سرگرمِ عمل ہیں۔اس موذی مرض سے بچاؤ کے سلسلے میں عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔علماء دفاع ِ وطن کے تقاضوں سے آگاہ اور استحکام پاکستان کے حوالے سے اپنا کردار اداکرتے رہیں گے۔وبائی امراض سے چھٹکارے کے لیے تعلیماتِ نبوی ﷺ سے استفادہ ضروری ہے۔ اسوہئ رسول ﷺ اور قرآنی افکار کی روشنی میں، اِس صورتحال سے نپٹنے کی بابت ہدایات عطا کیں۔ آخر میں اس موذی وبا سے بچنے کے لئے دعابھی کی گئی۔

    محکمہ جنگلات کی جانب سے بھی ڈینگی ڈے کے حوالے سے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا ،آگاہی واک فاریسٹ سیکرٹریٹ سے پنجاب اسمبلی تک کی گئی۔ واک کی قیادت چیف کنزرویٹر فاریسٹ شاہد رشید اعوان نے کی۔ واک میں محکمہ جنگلات کے سینئر افسران و ملازمین نے شرکت کی.واک کے شرکاء نے راہگیروں کو بھی ڈینگی تدارک حوالے سے آگاہی دی،راہگیروں میں ڈینگی سے آگاہی بارے پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے۔

    محکمہ ایکسائز ,ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول پنجاب کے زیر اہتمام ڈینگی آگاہی واک اور سیمینار کا اہتمام کیا گیا.واک کی قیادت سیکرٹری ایکسائز,ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول صائمہ سعید اور ڈی جی ایکسائز رفاقت علی نے کی،واک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی،شرکاء نے ڈینگی آگاہی کے حوالے سے پوسٹرز, بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے،جن پر ڈینگی سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے معلومات درج تھیں.

    اس موقع پرصائمہ سعید ,سیکرٹری ایکسائز ,ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول نے کہا کہ پنجاب حکومت ڈینگی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پر عزم ہے،بہترین شعور اور آگاہی سے ہم ڈینگی کو شکست فاش دے سکتے ہیں،ڈینگی کی روک تھام کیلئے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں ،ڈینگی آگاہی کیلئے محکمہ ایکسائز پنجاب بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے،آج کی واک اور سیمینار ڈینگی آگاہی مہم سلسلے کی کڑی ہے ،ڈینگی سے بچاؤ ہمارے ہاتھ میں ہے ,اس کیلئے ضروری ہے ماحول کو صاف ستھرا رکھا جائےرفاقت علی ڈی جی ایکسائز نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کیلئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں،گھر اور ماحول کو صاف ستھرا رکھ کر ہم ڈینگی پر قابو پا سکتے ہیں.

  • وزیراعظم شہباز شریف کا کارکن عصمی ملک کی وفات پر اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف کا کارکن عصمی ملک کی وفات پر اظہار افسوس

    وزیر شہباز شریف نے سعودیہ مقیم مسلم لیگ کے کارکن مدثر سلطان عرف عصمی ملک کی وفات پر اظہار تعزیت کرتےہوئے ایک بیان میں کہنا تھا کہ: "مجھے ابھی بتایا گیا ہے کہ پاکستانی شہری مدثر سلطان (عصمی ملک) کا سعودیہ میں انتقال ہو گیا ہے۔ اللہ پاک جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ: وہ جماعت کا قیمتی اثاثہ تھے۔ اوران کے جسد خاکی کو پاکستان لانے کے لئے پاکستانی سفارتخانے کوہدایت جاری کردی ہیں.”


    عصمی ملک سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے تھے اور انہیں مسلم لیگ ن سے خاصا لگاو تھا، وہ اکثر اوقات مسلم لیگ ن کا دفاع کرتے ہوئے نظر دکھائی دیتے تھے.
    خواجہ سعد رفیق نے بھی عصمی ملک کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے .


    سوشل میڈیا پر عصمی ملک کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں کسی ائیرپورٹ پر انہوں نے ایک بچے کو گلے لگایا ہوا ہے. باغی وی کی ریسرچ کے مطابق یہ بچہ ان بیٹا ابوبکر ہے جس سے انہیں کافی محبت تھی اور وہ ابوبکر کے ساتھ کافی تصاویر اور مزاحیہ پوسٹ کرتے تھے.

    عصمی ملک نے آخری ٹوئیٹ کو ریٹوئٹ کر رکھا ہے اس میں ایک شعر لکھا ہوا ہے:
    الفاظ میں کہاں بیان ہوتی ہیں کیفیات دل کی۔
    بتایا کہاں جاتا ہے جو محسوس کیا جاتا ہے۔
    https://twitter.com/Roshni0099/status/1542849598745608198

  • مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے

    مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے

    ماسکو:مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے،اطلاعات کے مطابق 90 سے زائد کھیل کے عالمی اداروں نے روس کے کھلاڑیوں پر پابندی عائد کر کے انہیں فی الحال کھیل سے محروم کر دیا ہے۔

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء کے ڈین نے جمعے کی شب یہ خبر دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ کے آغاز سے اب تک کھیل سے متعلق ستانوے عالمی ادارے روس کے کھلاڑیوں پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

    روس کے لیے پیغام ہےکہ21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں:یو این سیکریٹری جنرل

    یوکرین پر روس کی چڑھائی کے اب اسکے اثرات کا دائرہ سیاسی و اقتصادی شعبوں سے بڑھ کر کھیل کے میدان تک بھی جا پہنچا ہے۔ اُن اداروں میں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا، یورپی فوٹبال کی تنظیم یوفا اور اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی آئی او سی بھی اُن اداروں میں شامل ہیں جنہوں نے یوکرین جنگ کے باعث روسی کھلاڑیوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایا ہے۔

    روس ، یوکرین جنگ : کِک باکسنگ کا عالمی چیمپئن ملک کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لاء کے ڈین ویکٹر بلاجیف کا کہنا تھا کہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اولمپک اور پیرالمپک کی عالمی کمیٹیوں کے علاوہ پچانوے دیگر کھیل تنظیموں نے روسی کھلاڑیوں کو کھیل کے میدان سے محروم کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پہلے اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی آئی اور سی نے پابندیاں عائد کیں اور پھر اسکے بعد دیگر عالمی تنظیمیں بھی پابندیاں عائد کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو گئیں۔

    اقوام متحدہ میں یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد منظور

    یاد رہے کہ روس نے چوبیس فروری کو مغربی ممالک بالخصوص نیٹو کی اشتعال انگیزیوں کو وجہ بتا کر یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا جو بدستور جاری ہے اور اس کے باعث اب تک روس کے خلاف سیاسی و اقتصادی سمیت مختلف شعبوں میں وسیع پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

  • سابق وفاقی وزیر نے بغیر اختیارات جس  یادداشت پر دستخط کئے تھے اس پر عمل نہ ہوسکا

    سابق وفاقی وزیر نے بغیر اختیارات جس یادداشت پر دستخط کئے تھے اس پر عمل نہ ہوسکا

    دی نیوز کے تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اکتوبر 2020ء میں جس وقت فواد چوہدری وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی تھے، نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں برقی گاڑیاں (الیکٹرک وہیکل) بنانے والی ایک کمپنی چار ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گی اور پیداواری پلانٹ لگائے گی۔
    انہوں نے یہ بیان برطانیہ کی کمپنی ای جی وی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد دیا تھا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر جیمز او کیفی اور فواد چوہدری نے اس یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
    اس اعلان کے بعد سے میڈیا میں طوفان برپا ہوگیا اور اس تاریخی اقدام پر ہر کوئی وزیر کی تعریف کرنے لگا ۔
    فواد نے کہا تھا کہ پہلے مرحلے میں الیکٹرک بسیں اسلام آباد، کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں سڑکوں پر نظر آئیں گی، نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت 20؍ فیصد پبلک ٹرانسپورٹ کو مستقبل میں الیکٹرک وہیکلز پر منتقل کر دیا جائے گا.
    وزارت مواصلات سے کہا گیا ہے کہ موٹر ویز پر الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کیلئے انتظامات کی تنصیب پر کام کریں۔
    ایک سال نو مہینے گزر گئے، ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے 6 ماہ بعد تک فواد چوہدری کے پاس سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان رہا لیکن پریس کانفرنس کے بعد کوئی عملی کام نہیں ہوا۔
    دی نیوز کے مطابق اس حوالے سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مفاہمتی یادداشت اصل میں ایک غلط فہمی ثابت ہوئی کیونکہ فواد چوہدری کو اس یادداشت پر دستخط کرنے کے اختیارات تھے اور نہ انہوں نے ضابطے کی کارروائی پر عمل کیا جس کے باعث یہ پروجیکٹ شروع ہی نہ ہو سکا۔
    جنوری 2022ء میں ای جی وی کی پاکستانی پارٹنر کمپنی یونیکورن سولیوشنز (یو جی ایس) نے فواد چوہدری کے بعد قلمدان سنبھالنے والے وزیر شبلی فراز کو خط لکھا ٹرائل کیلئے دو بسیں آ گئی ہیں۔
    یو جی ایس کے چیف ایگزیکٹو افسر محمد اعظم خان نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو آگاہ کیا کہ پروجیکٹ کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کیلئے سرمایہ کاروں کا گروپ بھی اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔
    ایک ماہ بعد انہوں نے بورڈ آف انوسٹمنٹ سے رابطہ کرکے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو قائل کریں کہ وہ ہماری درخواست پر کام کرے۔ صدر عارف علوی نے بھی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے صورتحال معلوم کی اور اسکے بعد بالآخر مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے ابہام دور ہوگیا۔
    وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ ایسی یادداشت وزارت کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے کیونکہ یہ کام ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سے وابستہ ہے جبکہ مفاہمتی یادداشت میں جس طرح کے کام کا ذکر کیا گیا ہے وہ وزارت انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن کا ہے جو اس پر مزید کام کر سکتا ہے اور اس کیلئے اسے وزارت داخلہ، وزارت مواصلات اور وزارت ماحولیاتی تبدیلی سے مشاورت کرنا ہوگی۔
    جیسے ہی حکومت تبدیل ہوئی، موجودہ انتظامیہ کی جانب سے رپورٹ طلب کی گئی جس پر واضح جواب ملا۔
    وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے طریقہ کار کے بغیر ہی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے اور چونکہ یہ معاملہ ماس ٹرانزٹ کا ہے اسلئے یہ ایشو وزارت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ مزید برآں، وفاقی کابینہ سے منظوری تو دور کی بات؛ اسٹیک ہولڈرز (وزارت صنعت، ماحولیاتی تبدیلی، فنانس، داخلہ اور خارجہ امور) کے ساتھ مشاورت تک نہیں کی گئی اور وزارت قانون و انصاف نے بھی مفاہمتی یادداشت کی جانچ پڑتال نہیں کی تھی۔
    اس حوالے سے دی نیوز نے فواد چوہدری سے موقف لینے کیلئے سوال نامہ بھیجا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔ علاوہ ازیں یو جی ایس کے اعظم خان نے بھی خبرنگار کو کوئی موقف نہیں دیا۔

  • اگر حالات خراب ہوئے تو زمہ دار حکومتی انتظامیہ ہوگی. شیخ رشید

    اگر حالات خراب ہوئے تو زمہ دار حکومتی انتظامیہ ہوگی. شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ہنگامی بنیادوں پر ایک ویڈو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ: ہم نے جو رات تین بجے عمران خان کے بڑے بڑے پوسٹرلگائے تھے،وہ انتظامیہ نے سرکاری ٹرکوں پر اتاری اور پھر جب ہم واپس آئے تو انہوں دوبارہ انہی جگہ پر عمران خان کے خلاف نازیبا پوسٹر لگا دیئے.

    ان کا انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہناتھا کہ: انتظامیہ ان سے ملی ہوئی ہے اورمیں مقتدر حلقوں کو کہنا چاہتا ہوں، اور ساتھ میں ایجنسیز کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ (امپورٹڈ حکومت) لڑائی کرنا چاہتے ہیں، اور ہم لڑائی سے اجتناب کریں اوراس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے.

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ: جو پوسٹر شہر میں بانٹے جارہے ہیں تحقیق کی جانی چاہئے کہ ان کے پیچھے کون ہے؟ اور ایسا کیوں کیا جارہا ہے.

    ان کا کہنا تھا اگر کوئی لڑئی وغیرہ ہوئی تو آج صبح ہم نے جو صادق آباد تھانہ میں جن لوگوں کو پکڑ کر دیا ہے ان سے تفتیش ہونی چاہئے.

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر حالات خراب ہوئے تو اس کی زمہ دار یہ انتظامیہ اور امپورٹد حکومت ہوگی.


    شیخ رشید نے کہا کہ: آج 3 بجے لال حویلی سے ریلی کے ساتھ راشد شفیق کے ہمراہ رحمان آباد نکلوں گا۔22 فیصد مہنگائی52 فیصد بجلی،46 فیصد گیس،100 روپے لیٹر پیٹرول بڑھ گیا ہے۔اس لیے لوگ خود نکلیں گے۔ہمارے بینر اتارے اور عمران خان کے خلاف لگوائے جارہے ہیں۔حالات کی خرابی کی ذمّہ دار امپورٹڈ حکومت خود ہوگی۔

  • پاک آئل ریفائنریز کا روسی تیل خریدنے سے انکار

    پاک آئل ریفائنریز کا روسی تیل خریدنے سے انکار

    پاکستاں نیشنل ریفائنری لمیٹڈ نے روس سے خام تیل درآمد کرنے پر وزارت توانائی سے معذرت کر لی ہے، تمام ریفائنریوں نے کہا ہے کہ: نقل وحرکت اور سفر پر لاگت، سفر کے وقت میں اضافہ، کم صلاحیت، ادائیگی کا طریقہ کار اور مشرق وسطیٰ کے سپلائرز کے ساتھ طویل مدتی معاہدہ۔ روسی تیل کی درآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ۔

    روسی خام تیل کی درآمد پر پیٹرولیم ڈویژن کے خط کے جواب میں نیشنل ریفائنری لمیٹڈ نے کہا ہے کہ: این آر ایل کے پاس لیوب ریفائنریز ہیں اور ریفائنریز کی ترتیب فیڈ اسٹاک کی فہرست کو محدود کردیتی ہے۔ ہم وقتاً فوقتاً عربین لائٹ کروڈ کے متبادل فیڈ اسٹاک کی نشاندہی کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں، جو ریفائنری کی ترتیب کے مطابق ہے۔

    "مشرق وسطی کی بندرگاہوں سے عام جہاز رانی کا وقت تقریباً 4 دن ہوتا ہے، جب کہ سابق روس کی بندرگاہ اور ممکنہ راستے سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ سفر کا وقت (ایک طرفہ) تقریباً 20 دن کا ہوگا۔ مزید برآں، یہ راستہ جنگی علاقوں سے گزرنے کا امکان ہے،‘‘ خط میں کہا گیا۔

    واضح رہے کہ: روس سے خام تیل کی خریداری کے معاملے پر وزارت توانائی نے روس سے تیل خریداری کیلیے ریفائنریز کو خط لکھ ا تھا جس میں کہا گیا تھاکہ آئل ریفائنریز اس معاملے پر اپنی تجاویز حکومت کو بھیجیں، روس سے تیل کی مقدار اور ادائیگی کا طریقہ کیا ہو گا، تیل درآمد کرنے کے ٹرانسپورٹیشن اخراجات کیا ہوں گے؟ کیا روس سے تیل خریدنے سے عرب ممالک کے ساتھ معاہدے تو متاثر نہیں ہو نگے؟

    علاوہ ازیں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا ان کی حکومت روس سے سستا خریدنا چاہتی تھی لیکن موجودہ حکومت امریکا کے دباؤ کی وجہ سے روس سے تیل نہیں خرید رہی، یوکرین جنگ کے باعث روس پر عائد پابند یوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں بھارت شامل ہے، وہ روس سے صرف30ڈالر بیرل کے حساب سے6لاکھ بیرل یومیہ خرید رہا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں اس وقت خام تیل کی قیمت100ڈالر فی بیرل سے زائد ہے۔

  • تحریک انصاف جلسہ کی تیاریاں اور انتظامات مکمل

    تحریک انصاف جلسہ کی تیاریاں اور انتظامات مکمل

    رات گئے ہوئی پیش رفت میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے انتظامات کا معائنہ کرنے کے لیے پنڈال کا دورہ کیا اور جس میں جلسے کی اکثر تیاریاں مکمل ہوچکی تھی

    قبل ازیں ڈپٹی کمشنر نے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ کے صدر علی نواز اعوان کو آگاہ کیا تھا کہ جی ایچ کیو نے پریڈ گراؤنڈ استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    ڈان کے مطابق:ڈپٹی کمشنر نے پی ٹی آئی کو پریڈ گراؤنڈ میں عوامی اجتماع کے انعقاد کے لیے تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) جاری کیا تھا لیکن اسے جی ایچ کیو کی اجازت سے منسلک کردیا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر کی جانب سے علی نواز اعوان کو جاری کردہ خط میں کہا گیا کہ این او سی میں مذکور شق xlii کے حوالے سے آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ متعلقہ حلقوں کی جانب سے پنڈال یعنی پریڈ گراؤنڈ، اسلام آباد کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    اسلام آباد انتظامیہ کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے عوامی اجتماع کے حوالے سے متعلقہ حلقوں سے رابطہ کیا گیا تھا، پریڈ گراؤنڈ کا قبضہ فوج کے پاس ہے اور اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے جی ایچ کیو کی اجازت لینا ضروری تھا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ اس نے ریڈ زون اور اس کے آس پاس پولیس کی ایک پوری طرح سے لیس دستہ تعینات کیا ہے اور امن و امان کی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو 10 ہزار سے زائد آنسو گیس کے گولے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

    ڈان نے اپنی رپورٹ میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا: این او سی اس شرط پر دیا گیا کہ عوامی اجتماع اسلام آباد اور اس سے ملحقہ علاقوں کے شہریوں کے بنیادی حقوق میں رکاوٹ یا خلل نہیں ڈالے گا اور نہ ہی اسلام آباد ایکسپریس وے یا کسی اور سڑک کو بلاک کرے گا، مزید یہ کہ جلسہ آدھی رات کو ختم ہوجانا چاہیے۔

    این او سی کے مطابق منتظمین اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تقریب کے اختتام کے بعد شرکا منتشر ہو جائیں، کسی بھی شریک کی جانب سے مہلک یا غیر مہلک طاقت کی کوئی چیز، بشمول لاٹھی وغیرہ نہیں چلائی جائے گی اور نہ ہی شرکا تشدد یا جھڑپوں میں ملوث ہوں گے۔

    مزید برآں تصادم/تشدد کے ایسے کسی بھی واقعے کی صورت میں منتظمین ذمہ دار ہوں گے۔

    این او سی کے مطابق جلسے کی اجازت صرف 2 جولائی کے لیے قابل عمل ہوگی، ساتھ ہی اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ریڈ زون کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں افراد کے اجتماع پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، منتظمین اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی بھی شریک وہاں داخل نہ ہو۔

    پی ٹی آئی رہنماء اسد عمر کہتے ہیں کہ: ان کی پوری کوشش تھی کے اجازت میں 4 دن تاخیر کر کے جلسہ خراب کیا جائے. لیکن کل شام 3 بجے جلسہ گاہ ملنے کے بعد ٹیم نے ساری رات کام کر کے جلسے کی تیاریاں مکمل کر لی . انشاءاللہ آج ایک بار پھر دنیا دیکھے گی کے قوم عمران خان کے ساتھ امپورٹڈ حکومت کے خلاف کھڑی ہے.


    راولپنڈی پولیس نے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی، شرپسند عناصر کو قابو کرنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔
    ایس ایس پی آپریشنز وسیم ریاض کوسپروائزری آفیسر مقرر کردیا گیا
    مری روڈ سے اسلام آباد تک رابطہ سڑکیں بند رہیں گی جبکہ مری روڈ پر چلنے والی عام ٹریفک کو متبادل راستے فراہم کیے جائیں گے۔

  • فرح گوگی کیس: غیر قانونی الاٹمنٹ پر 2 ملزمان گرفتار

    فرح گوگی کیس: غیر قانونی الاٹمنٹ پر 2 ملزمان گرفتار

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی کو فیصل آباد اکنامک زون میں 10 ایکڑ انڈسٹریل پلاٹ کی غیرقانونی الاٹمنٹ کے معاملے پر اینٹی کرپشن نے 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔

    جیو نیوز کے مطابق: اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ فیڈمک کے سابق سی ای او رانا یوسف اور سیکرٹری اسپیشل اکنامک زون کمیٹی مقصود احمد کو گرفتار کیا گیا ہے،ملزمان پر فرح گوگی اور ان کی والدہ کی کمپنی کو غیرقانونی طور پر انڈسٹریل پلاٹ دینے کا الزام ہے۔

    حکام کے مطابق ملزمان نے فیصل آباد اسپیشل اکنامک زون میں قیمتی انڈسٹریل پلاٹ کوڑیوں کے بھاؤ الاٹ کیا، 60 کروڑ مالیت کا پلاٹ صرف 8 کروڑ 30 لاکھ روپےجعلی کمپنی بناکر الاٹ کروایا گیا۔

    اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ انڈسٹریل پلاٹ لینے کے لیے کمپنی کی ویلیو 2 ارب روپے ہونی چاہیے تھی، فرح گوگی کے شوہر احسن جمیل گجر نے 2 ارب روپے کی جعلی گارنٹی دی۔

    حکام کےمطابق اینٹی کرپشن فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کے اثاثوں کی چھان بین بھی کر رہی ہے، گرفتار دونوں ملزمان کے خلاف اینٹی کرپشن فیصل آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

  • بھارت میں پاکستانی ٹوئٹر اکاؤنٹ بندش پر بھارتی ناظم الامور کی طلبی

    بھارت میں پاکستانی ٹوئٹر اکاؤنٹ بندش پر بھارتی ناظم الامور کی طلبی

    پاکستان کے 80 سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کرنے پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرلیا.

    دفترخارجہ نے بھارت کے ناظم الامور کو طلب کرکے، بھارت کی طرف سے پاکستان کے 80سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کرنے پر احتجاج کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے پاکستان کے سفارتی مشنز سمیت 80 ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کر رکھے ہیں۔ان سفارتی مشنز میں ایران، ترکی، مصر ،اقوام متحدہ سمیت اہم ادارے شامل ہیں۔

    ترجمان کے مطابق: بھارتی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ یہ پابندیاں عالمی قواعد و ضوابط اور معلومات تک رسائی کے حقوق و آزادی رائے کی بنیادی آزادی کیخلاف ہے۔

  • کورونا کیسز کی شرح چار فیصد سے بڑھ گئی

    کورونا کیسز کی شرح چار فیصد سے بڑھ گئی

    پاکستان میں کورونا کے کیسز میں اضافہ جاری ہے اور مثبت کیسسز کی شرح 4 فیصد سے تجاوز کرگئی۔

    قومی ادارہ برائے صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 18 ہزار 305 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 818 افراد میں کورونا کے مثبت کیسسز کی تشخیص ہوئی۔


    محکمہ صحت کے مطابق ملک میں مثبت کیسسز کی شرح 4.47 فیصد تک پہنچ گئی ہے جب کہ 126 افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 4 ہوگئی ہے