Baaghi TV

Author: +9251

  • چین پاکستان کی خوشحالی کیلئے حمایت جاری رکھے گا.  ترجمان زاؤ لیجیان

    چین پاکستان کی خوشحالی کیلئے حمایت جاری رکھے گا. ترجمان زاؤ لیجیان

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کا کہنا ہے کہ چین پاکستان کی معاشی ترقی، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور مالی استحکام کوبرقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    انھوں نے انٹرنیشنل پریس سینٹر (آئی پی سی) میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ چین اور پاکستان سدا بہار سٹرٹیجک شراکت دار ہیں ، چین نے معاشی ترقی، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔ چین دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات استوار کرنے کیلیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور چینی سفارتخانہ چینی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے قریبی رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان حکومت نے سی پیک اور بین الحکومتی تعاون کے منصوبوں میں شامل چینی اہلکاروں کے تحفظ کیلیے ایک خصوصی سیکیورٹی فورس قائم کی اور پاکستان میں چینی عہدیداروں کی حفاظت بھی

  • ناصر بیگ کی پی ٹی آئی میں شمولیت۔

    ناصر بیگ کی پی ٹی آئی میں شمولیت۔

    ناصر بیگ کی پی ٹی آئی میں شمولیت۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک اہم خبر سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ سابق وفاقی وزیر مرزا ناصر بیگ نے پی پی 224 اور 228 کے ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران ایک پارٹی میں شرکت کا اعلان کر دیا۔ دراصل سابق وفاقی وزیر مرزا ناصر بیگ نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

    پہلے ناصر بیگ 40 سال سے زیادہ عرصے تک پیپلز پارٹی کے کارکن رہے۔ اور پیپلز پارٹی کے دور ہی میں وفاقی وزیر بھی رہے۔ 2015 میں انہوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر ن لیگ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اور اب پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ جب ناصر بیگ نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تو اس موقع پر اس پارٹی ( پی ٹی آئی ) کے رہنما عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ ناصر بیگ نے پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے بعد ہماری پارٹی کی قوت اور طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات کہتے ہوئے ایک انکشاف بھی کیا کہ ایک زمانےمیں سیاست کا محور ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ سب ان کی عزت کرتے تھے۔ ان کو سننا چاہتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آج سیاست کا محور عمران خان ہیں۔

    مزید برآں یہ کہ عامر ڈوگر نے کہا کہ پاکستان کیلئے اب فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ پاکستان فیصلہ کن وقت پر کھڑا ہے۔ اور عمران خان پاکستانیوں کیلئے آخری امید ہیں۔ مزید یہ کہ عامر ڈوگر نے دعویٰ بھی کیا کہ پنجاب کی 20 نشستوں پر پی ٹی آئی بھاری اکثریت سےکامیاب ہو گی۔

  • وزیراعظم شہبازشریف آج آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے

    وزیراعظم شہبازشریف آج آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف آج اسلام آباد میں سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے

    نجی ٹی وی ایک خبر کے مطابق ظہرانہ وزیراعظم ہاؤس میں دیاجائے گا جس میں ملک کی سیاسی صورتحال پرمشاورت اور بحث کی جائے گی.

    واضح رہے حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم نے خدشات کا اظہار کیا تھا اور اس ظہرانے میں پیپلزپارٹی سے متعلق ایم کیوایم کے خدشات پربھی بات چیت کی جائے گی.

    اس کے علاوہ ظہرانےمیں چیئرمین نیب کی تقرری سمیت حکومتی امورپربھی بات چیت کی جائے گی۔

  • آج کابینہ کی خصوصی کمیٹی 41 ارب روپے منتقلی کا جائزہ لے گی

    آج کابینہ کی خصوصی کمیٹی 41 ارب روپے منتقلی کا جائزہ لے گی

    وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی آج کو برطانیہ سے پاکستان رقم منتقلی کا جائزہ لے گی۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ سے 41 ارب روپے پاکستان منتقل کیے گئے۔

    خصوصی کمیٹی کا اجلاس وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں ہوگا، جب کہ وزیر خزانہ، قانون و انصاف، داخلہ اور مواصلات کے وفاقی وزراء، وزیر مملکت خارجہ امور اور وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر بھی شریک ہوں گے۔ اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری خارجہ، سیکرٹری کابینہ اور سیکریٹری داخلہ کو آج ہونے والے اجلاس کے دعوت نامے بھجوائے گئے ہیں۔
    سماء ٹی وی کے مطابق: آج ہونے والے خصوصی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں احمد علی ریاض اینڈ فیملی اور بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس منجمد ہونے کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ کابینہ اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ فنڈز برطانیہ سے پاکستان کے کس اکاؤنٹ میں منتقل اور کہاں استعمال ہوئے؟۔ کابینہ کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ مذکورہ رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ میں کیوں جمع کرائی گئی؟
    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے کابینہ اجلاس کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے رقم پاکستان منتقلی کی ڈیل سے متعلق خفیہ دستاویز منظر عام پر لاتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
    واضح رہے کہ سابق حکومت نے اس رقم کے حصول کیلئے کوئی کوشش نہیں کی تھی تاہم ایسٹ ریکووری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر نے اس بات کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالا تھا اور کہا تھا کہ ملک ریاض پر 460 ارب روپے کا جو جرمانہ عائد ہوا تھا یہ وہ رقم تھی جو سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی، کیوں کہ سپریم کورٹ بھی ریاست کا حصہ ہے۔
    قصہ 190 ملین پاؤنڈز کا
    ملک رياض سے جڑے 190 ملين پاؤنڈ کے تصفيے کے تذکرے نئے نہيں۔ دسمبر سال 2019 ميں غير ملکی اخبار دی گارجين نے اپنی خبر ميں لکھا تھا کہ پاکستانی بزنس ٹائيکون ملک رياض 190 ملين پاؤنڈز کی رقم اور اثاثے برطانوی حکام کے حوالے کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ دی گارجين کی خبر کے مطابق ملک رياض کيخلاف ہونے والی تحقيقات ميں 190 ملين پاؤنڈز سے زائد اثاثے ضبط کيے گئے۔
    دی گارجين کے مطابق جائیداد اور رقوم غیرقانونی ذرائع سے حاصل کیے جانے کے الزام ميں برطانیہ کی نيشنل کرائم ايجنسی نے 9 اکاؤنٹس بھی فريز کيے۔ جس ميں ايک سو چاليس ملين پاؤنڈز کے فنڈ موجود تھے۔ اخبار کا کہنا تھا کہ يہ رقم اور ضبط کيے گئے اثاثے رياست پاکستان کو لوٹا ديے جائيں گے۔ جہاں ملک رياض کے خلاف فراڈ اور کرپشن کا کيس چل رہا ہے۔
    برطانوی نيشنل کرائم ايجنسی نے سب سے پہلے سال 2018 ميں ملک رياض کی بيس ملين پاؤنڈ کی رقم منجمد کردی تھی۔ جس کے بعد اگست 2019 میں اسی تحقیقات کے سلسلے میں 8 بینک اکاؤنٹ منجمد کیے گئے تھے جن میں رقم موجود تھی، جو کہ اُس وقت کسی بھی اکاؤنٹ کی منجمد ہونے والی سب سے بڑی رقم تھی
    عدالتی اپیل
    برطانيہ ميں منجمد کی گئی بھاری رقوم کا کيس برطانوی عدالت میں چلا تھا، جس کے بعد برطانوی عدالت نے ملک رياض اوران کے بيٹے کے برطانوی ويزے منسوخ کرديئے تھے، جب کہ دس سال تک برطانيہ میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ ملک رياض نے فيصلے کے خلاف اپيل دائر کی تھی جو نومبر دو ہزاراکيس ميں مسترد کردی گئی تھی۔

    برطانوی عدالتی فیصلے میں پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلوں، احکامات نیب انکوائریز اور بحریہ ٹاؤن سے منسلک جے آئی ٹی رپورٹ کا بھی ذکر کيا گيا۔ فیصلے میں کہا گيا کہ کراچی بحریہ ٹاؤن کيس میں ملک ریاض نے سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے دینے کی حامی بھری ، جس سے بحریہ ٹاؤن کے غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔

  • مشرف کی راولپنڈی منتقلی کی خبریں بے بنیاد قرار

    مشرف کی راولپنڈی منتقلی کی خبریں بے بنیاد قرار

    سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے قریبی ذرائع نے سابق صدر کی پاکستان منتقلی اور راولپنڈی کے اسپتال میں زیر علاج ہونے کی خبروں کی تردید کرتے پوئے بتایا ہے کہ ان کی پاکستان منتقلی کی خبریں بے بنیاد ہیں اور وہ تاحال وطن واپس نہیں آرہے ہیں۔

    سابق صدر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف تاحال دبئی میں ہیں، ان کو دبئی سے پاکستان شفٹ کرنے کی سوشل میڈیا پر زیرگردش خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی ایسی خبریں آئی تھیں کہ سابق صدر پرویز مشرف وطن واپس آرہے ہیں لیکن اس وقت سابق صدر کے خاندان والوں نے ردعمل دیا تھا کہ پاکستانی حکام کی طرف سے رابطہ کیا گیا مگر وہاں پر طبعی سہولیات دستیاب نہیں ہیں.

  • پاک فوج پر تنقید ۔اینکر عمران خان پر تین مقدمے درج

    پاک فوج پر تنقید ۔اینکر عمران خان پر تین مقدمے درج

    لاہور:اینکرعمران ریاض خان پر تیسرا مقدمہ درج ،اطلاعات کے مطابق سنیئرصحافی عمران ریاض خان کے خلاف تیسرا مقدمہ درج کردیا گیاہے ،یہ مقدمہ جھنگ کے ایک تھانے میں درج کیا گیا ہے جس میں خالد محمود ولد ملک ذوالفقارعلی سکنہ صوفی ٹاون چناب موڑ کا رہائشی ہےنے پولیس اسٹیشن میں درخواست دی ہے کہ عمران ریاض خان پاک فوج کےخلاف انتہائی غلط اورمنفی قسم کی گفتگو کرتا ہے

    صحافیوں کیخلاف ایکشن پر پیمرا کا کوئی تعلق نہیں چیئرمین پیمرا کا قائمہ کمیٹی میں…

     

    درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران ریاض خان کی گفتگو سےپاک فوج کی جگ ہنسائی ہورہی ہے اوریہ پاک فوج کی بدنامی ہے ، قومی ادارے کے خلاف زبان درازی پرعمران ریاض کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، سائل کی اس درخواست پرجھنگ کے اس تھانے میں ایف آئی آر درج کردی گئی ہے ،

    ارشد شریف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی عمران ریاض خان کے خلاف دومقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں ان پرالزام ہےکہ انہوں نے پاک فوج کے خلاف منفی گفتگو کی ہیے جس کی اجازت نہیں، اس ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ عمران ریاض خان نفرت انگیز گفتگو کرتا ہے.

    اینکر عمران ریاض خان پر بھی مقدمہ درج

    یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ یہ مقدمہ سندھ کے علاقہ ٹھٹھہ کے تھانے میں ہوا ہے ، اس حوالے سے کہا جارہا ہےکہ عمران ریاض خان پرالزام ہے کہ وہ اداروں کے خلاف کھُل کربات کرتے ہیں ،

  • کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    لاہور:کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کی طرف سے پاکستان کے دورے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے، اس حوالے سے بھی یہ دورہ اہم ہےکہ آنے والے مہمان نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات کی ہے ،

    اسی حوالے سے ن لیگ کی طرف سے خوشی کااظہارکرتےہوئےکہا گیا ہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi) کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ خطے میں باہمی تعلقات کی جانب ایک اورمثبت قدم ہے

    یاد رہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi)نے اپنے دورہ پاکستان میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں

    پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    اس سلسلے میں ایک ملاقات وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ہے۔ وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر چین کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی صدر اور ہم منصب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈائریکٹر یانگ کا دورہ پاکستان ، پاک چین دوستی ، اسٹریٹجک شراکت داری کا مظہر ہے۔

    چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بڑھانے کے خواہاں ہیں :آرمی چیف

    وزیراعظم نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں مزید بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ اقتصادی تعاون وسیع پیمانے پر پاک چین شرکت داری کی بنیاد بن چکا۔ چین کی غیر متزلزل حمایت ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکے سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر بھی چین کا شکریہ ادا کیا۔

    ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

  • پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    اسلام آباد: پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق نئے بجٹ کا حجم 96 کھرب سے تجاوز کرگیا ہے اور پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

    نئے مالی سال کے بجٹ میں ترامیم کے مطابق اب نئے مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو 7445 ارب کا ٹیکس جمع کرے گا کیونکہ ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں 1340 ارب روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ سپر ٹیکس سے 200 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوگی اور سپر ٹیکس کا اطلاق یکم جولائی 2021 سے ہوگا۔

    یکم جولائی 2021 سے 30 جون 2022 کی آمدن پر سپر ٹیکس عائد ہوگا۔ فنانس بل میں پٹرولیم لیوی 30 روپے سے بڑھا کر 50 روپے فی لٹر کردی گئی ہے اور مائع پٹرولیم گیس پر 30 روپے فی کلو لیوی عائد کی جا رہی ہے۔ اس طرح پٹرول لیوی 750 کی بجائے 855 ارب روپے جمع کرنے کا تخمینہ ہے۔

    نئے مالی سال میں پنشن کے لیے 530 کی بجائے 605 ارب خرچ کا تخمینہ ہے جبکہ انتظامی امور چلانے کےلیے 550 کی بجائے 570 ارب کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے 1.9 ارب ڈالر بجٹ دستاویز میں شامل کرلیے گئے۔

    چین سے 2.3 ارب ڈالر بجٹ دستاویز میں شامل کرلیے گئے۔ فنانس بل میں ترمیم کے بعد سناروں پر 17 فی صد سیلز ٹیکس کی بجائے اب سناروں پر ماہانہ 40 ہزار روپے فکس سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

  • ٹی ٹوئنٹی میچز کی میزبانی لاہور اور کراچی کو ملنے کا امکان:ذرائع

    ٹی ٹوئنٹی میچز کی میزبانی لاہور اور کراچی کو ملنے کا امکان:ذرائع

    لاہور:مختلف ویب سائٹ کی رپورٹس کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ٹی ٹوئنٹی میچز کے لئے لاہور اور کراچی کا میزبانی ملنے کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق مختلف سائٹس کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس سال آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل لاہور اور کراچی انگلینڈ کی سات ٹی ٹوئنٹی میچوں کی میزبانی کرنے کا امکان ہے.

    انگلینڈ کی مرد اور خواتین دونوں ٹیموں کو اصل میں وائٹ بال میچز کے لیے گزشتہ سال پاکستان کا دورہ کرنا تھا لیکن کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کی وجہ سے دورہ منسوخ کر دیا گیا۔تاہم، اس دورے کو دوبارہ شیڈول کیا گیا تھا کیونکہ انگلینڈ کو اب ورلڈ کپ سے قبل سات ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان سے کھیلنے والا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بورڈ نے میچز ملتان اور فیصل آباد سمیت دیگر مقامات پر کرانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پھر یہ منصوبہ ختم کر دیا گیا۔“کراچی اور لاہور سیریز کے دو اہم مقامات ہیں اور راولپنڈی کو بھی بیک اپ کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔سائٹس کی رپورٹ کے مطابق کراچی اور لاہور میں شائقین 17 سال بعد انگلینڈ کو پاکستان میں کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے کراچی اور لاہور کو ممکنہ طور پر میزبانی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پاکستان میں تین ٹیسٹ میچز کھیلے گی۔ رپورٹس کے مطابق ٹیسٹ میچوں کی میزبانی کے لیے فیصل آباد، ملتان جیسے مقامات پر غور کیا جائے گا۔

  • یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    لاہور:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟اس حوالے سے انکشافات کرتے ہوئے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ عمران خان کے پونے چار سالہ دور اقتدار میں جس چیز پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی وہ عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس تھے۔ عمران خان نے عثمان بزدار کو ہر جگہ ڈِیفینڈ کیا، اور ہم ایک عرصہ تک یہ سنتے رہے کہ عثمان بزدار کام سیکھ رہے ہیں۔ لیکن اب حیران کن انکشاف ہوئے ہیں کہ عثمان بزدار نے اپنے پہلے سال کی نسبت چودہ گنا کام سیکھا اور کارکردگی بھی دیکھائی لیکن یہ کارکردگی ملک اور قوم کی عوام کے لیے نہیں بلکے اپنے اثاثے بنانے کے لیے دیکھائی گئی۔ عثمان بزادر پر اقتدار کے پہلے سال ایک ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے جبکہ اگلے دو سالوں میں انہوں نے مبینہ طور پر چودہ ارب روپے کی کرپشن کی۔ کرپشن کرنے کے نئی سائنسی اور پرانے روائیتی طریقوں پر انحصار کیا گیا۔ کہاں کیسے کس طرح اور کس چیز میں انہوں نے کیسے پیسے بنائے، کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی ۔۔آج میں تمام تہلکہ خیز انکشافات آپ کے سامنے رکھوں گا جو آپ نے نہ تو پہلے سنے ہوں گے اور نہ ہی کہیں دیکھے ہوں گے۔

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، جناب عثمان بزدار منظم مالی بدعنوانی کے ذریعے اختیارات کے ناجائز استعمال اور پبلک سیکٹر کے فنڈز میں غبن میں ملوث رہے۔ بدعنوانوں بیوروکریٹس کی ایک ٹیم کی مدد سے عثمان بزدار نے کرپشن میں مہارت حاصل کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کے طریقے اور غبن کا حجم بدعنوانی کے ایک نفیس اور باضابطہ نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر اپنے پہلے سال کے دوران، عثمان بزدار نےگیارہ مبینہ کیسوں میں ایک ارب سولہ کروڑ روپے بنائے۔وہ گیارہ کیس کون سے ہیں ان کی تفصیل میں آگے جا کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔لیکن اگلے تین سالوں میں عثمان بزدار نے بدعنوانی اور کرپشن کی نئی بلندیوں کو چھولیا۔ انہوں نے منظم کرپشن کے لیے ایک باضابطہ نیٹ ورک تیار کیا ہے جس میں بدمعاش بیوروکریٹس اور بدنام زمانہ فرنٹ مین شامل تھے۔ دوسرے اور تیسرے سالوں کے دوران عثمان بزدار کی مبینہ کرپشن کم از کم 15.3 بلین روپے تھی اور ہر آنے والے سال اپنے ہی ریکارڈ کو مات دی ۔آج کے پروگرام میں ۔۔ میں آپ کو یہ بھی بتاوں گا کہ عثمان بزدار اور اس کے اعلان کردہ اور بے نامی اثاثون کی ثابت شدہ ٹریل کیا ہے۔لیکن اس سے پہلے آپ کو پہلے سال میں سوا ارب کی مبینہ کرپشن کی تفصیل بنا دوں۔

    ان کا کہناتھا کہ عثمان بزدار نے اپنے ساتھی مختیار احمد جتوئی کوTMO Tounsa مقرر کیا اور 50 ملین روپے کی منظوری دی۔ ایم سی تونسہ میں ترقیاتی کاموں کے لیے زمین پر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا اور پانچ کروڑ کا چونا لگا دیا گیا۔لاہور میں Unicorn Prestige Hotelکے لیے الکوحل کا لائسنس۔ ستر لاکھ روپے لینے کا الزام۔عثمان بزدار نے سمیع اللہ چوہدری (ایم پی اے بہاولپور) کے ساتھ چینی پر سبسڈی دینے کے لیے 50 ملین روپے کی کابینہ کی منظوری کا انتظام کیا۔Hubb Gull Khanعثمان بزدار کے فرنٹ مین تھے ،نے بغیر کسی نیلامی کے ٹول ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا۔ اور تقریبا سوا کروڑ روپے سالانہ بنائے

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ ڈی ایس پی عامر تیمور (چچا) کو ڈی پی او بہاولپور تعینات کر دیا گیا۔ اسے پولیس اہلکاروں کی ہر مطلوبہ پوسٹنگ پر پانچ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے ملنا شروع ہو گئے۔کیپٹن (ر) اعجاز جعفر (کزن) Ex-ACS Punjab نے دس لاکھ سے پچاس لاکھ روپے لے کر افسران کی متواتر پوسٹنگ شروع کر دی۔ ان کی مدت کے دوران، ہر افسر کی اوسط مدت تقریبا دو ماہ تھی۔عمر خان بزدار (بھائی) نے تونسہ میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن بند کروانے کے لیے دوکاندارون سے تیس لاکھ روپے وصول کیئے۔مسلم لیگ ن کے ایم پی اے عطا الرحمان پر اکیس سالہ لڑکی سدرہ سلیم کے ساتھ گیارہ ماہ تک زیادتی کے کیس میں مدد فراہم کرنے کے لیے عثمان بزدار کے قریبی دوست طاہر چیمہ نے مبینہ طور پر پانچ کروڑ روپے وصول کیئے۔ اس کیس میں میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہو گئی تھی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار نے ڈی جی خان میں براہ راست زمینوں پر قبضہ کی سرپرستی بھی کی۔ جبکہ دوسرا بھائی طور خان بزدار اپنے فرنٹ مینوں کے لیے سڑکوں کے ٹھیکوں کا انتظام کرتا رہا۔یہ تو وہ معمولی سی مبینہ کرپشن ہے جو اناڑی عثمان بزدار نے کی، لیکن کھلاڑی عثمان بزدار نے کام سیکھ کر جو گل کھلائے ۔ آپ کو ابھی بتاتا ہوں۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگر عثمان بزدار کے مبینہ Un declared اثاثوں اور کاروبار کی بات کی جائے تو اس میں199کنال ایگری لینڈ Tuman khosa میں، بتیس کنال جگہ میاں چنوں میں، 35 کنال جگہ ملتان میں اور اکتیس مرلے رہائشی پلاٹ کی صورت میں ملتان میں ہی ہیں۔اگر کاروبار کی بات کی جائے تو ۔۔ تونسہ میں ایک پٹرول پمپ، سخی سرور روڈ ڈی جی خان میں ایک ٹیکسٹائل مل، انصاف فلور مل ۔۔کوٹ موڑ تونسہ شریف۔بحثیت انویسٹر ایک Toyota show room D G khan.Syed crush plant basti Buzdar یہ سب چیزیں وزیر اعلی کی نامزدگی کے بعد سامنے آئی ہیں جبکہ جو جائیداد وزیر اعلی بننے کے بعد بنائی ہے اس میں،4 acre Spanish villah multan.Tuff tile factory tounsaدوست محمد بزدار جو Brother in law ہے نے سوزوکی چوک ڈی جی خان میں چار کنال کمرشل جگہ کی ایک ڈیل فائنل کی جس کی مالیت ایک ارب کے قریب ہے۔عثمان بزدار کا دوست جاوید قریشی بحرین میں انویسٹمنٹ کرتا رہا۔اپنی آبائی زمینیوں پر سرکاری خرچے سے انفراسٹرکچر بنا کر ڈھائی ارب روپے کا فائدہ اٹھایا گیا۔ جبکہ درجنوں پراپرٹیز ایسی ہیں جو کبھی بھائی تو کبھی فرنٹ مین اقبال عرف دالی اور دیگر لوگوں نے مختصر عرصے میں خریدی ہیں۔

    اب بات کرتے ہیں جب عثمان بزدار کرپشن کے کھلاڑی بن گئے تو پھر کیا ہوا۔۔؟عثمان بزادر کے مرحوم والد جناب فتح محمد بزدار کے پاس پونے چار ارب روپے کی آٹھ پراپرٹیاں تھی جس کے آٹھ وارث ہیں۔ عثمان بزدار نے اپنے نام پر تقریبا بیس کروڑ روپے کی پراپرٹی ڈکلیئر کی ہیں۔ لیکن عثمان بزدار کے نام کے ساتھ بے تحاشا، غیر اعلانیہ اثاثے، کاروبار اور جائیدادیں جڑی ہوئی ہیں تقریبا بیس کروڑ روپے کے غیر اعلانیہ اثاثے۔۔ ستائیس کروڑ روپے کے کاروبار اور دس ارب روپے کی جائیدادیں اور اثاثے جو مبینہ طور پر حال ہی میں حاصل کیئے گئے ہیں۔ایک ایک کی تفصیل میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہسابق وزیر اعلی عثمان بزدار کا پنجاب میں کرپشن کا نیٹ ورک پاکستان کے دوسرے صوبوں میں پہلے سے بنے ہوئے کرپشن نیٹ ورک سے کسی بھی صورت کم نہ تھا۔اور ان کے تمام معیاروں پر پورا اترتا تھا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگرچہ پبلک سیکٹر کے فنڈز کی آمد محدود رہی ،لیکن عثمان بزدار حکومت کے دوران کرپشن نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ۔ سالانہ ترقیاتی منصوبے کی مد میں آخری سال بڑے پیمانے پر فنڈز آنے کے بعد، بزدار اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے غیر معمولی بدعنوانی کی کوشش کی گئی جس کے گورننس اور صوبے کی مالیاتی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔شروع میں بدعنوانی انفرادی سطح پر کی گئی پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ منظم کرپشن میں تبدیل ہو گئی۔ سابق پرنسپل سکریٹری مسٹر طاہر خورشید جسے عثمان بزدار کی مکمل حمایت اور منظوری حاصل تھی نے بدعنوانی کے مشترکہ ایجنڈے کے تحت کلیدی اداروں اور محکموں کے سربراہان کی تقرریاں کی ۔ اس عمل سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے اور کرپشن کے نظام کو رواں دواں رکھنے کے لیے بار بار پوسٹنگ، ٹرانسفر کا طریقہ کار اپنا یا گیا۔ پیسے بنانے کے دیگر طریقوں میں ٹھیکے دینے کے دوران رشوت اور کک بیکس کی وصولیاں بھی شامل تھیں۔

    پنجاب میں تمام مالیاتی متعلقہ تقرریاں جن میں صوبائی سیکرٹریوں سے لے کر ہائی ویز میں ایس ای ، ایکس ای اینز ، ایس ڈی اوز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور منافع بخش حلقوں کے پٹواریوں تک کو عثمان بزدار اور ان کے ساتھیوں نے فروخت کیا۔ ایسا مایوس کن معاملہ انتہائی آمرانہ حکومتوں میں بھی نہیں ہوا۔پنجاب میں بدعنوانی اور حکمرانی کا فقدان بھی بیوروکریسی کے صفوں اور فائلوں میں مایوسی اور ناراضگی کو جنم دے رہا تھا، جہاں ایماندار بیوروکریٹس کو کسی نہ کسی بہانے اہم بلوں سے انکار کیا جاتا رہا۔ عثمان بزدار کی غلط حکمرانی اور بدعنوانی کا ایسا بے لگام جادو پنجاب میں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کے لیے انتہائی نقصان دہ تھا۔ کرپشن کے دوسرے مرحلے میں طاہر خورشید، سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ سارے کھیل کے مرکزی کردار تھے،

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ جب وہ ڈی جی خان قبائلی علاقے میں خدمات انجام دے رہے تھے تو وہ عثمان بزدار سے واقف تھے۔بزدار نے انہیں اپنے ابتدائی مرحلے میں کمشنر ڈی جی خان تعینات کر دیا۔ طاہر خورشید نے بزدار خاندان کے معاملات اس قدر اچھے طریقے سے چلائے کہ وزیراعلیٰ کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو مقرر کیا جہاں انہوں نے اربوں کمائے۔ اس کیس پر ان کے خلاف نیب انکوائری بھی جاری ہے۔پنجاب حکومت نے جب لوکل گورنمنٹ اور LG &CDکے لیے پچاسی ارب روپے کی منظوری دی تو عثمان بزدار نے طاہر خورشید کو ان فنڈز کی ترسیلات کے لیے سیکرٹری LG & CD لگا دیا۔ جب عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی ایم سیکرٹریٹ تعینات کیا تو طاہر خورشید نے ہم خیال بیوروکریٹس کی پوسٹنگ کا انتظام شروع کر دیا۔ جس سے ماہانہ ایک سے پانچ کروڑ روپے رشوت کا راستہ صاف کیا گیا۔ جبکہ دیگر بیوروکریسی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لیے خوف اور غلط الزامات کا سہارا لیا گیا۔وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں طاہر خورشید کی تعیناتی نے منظم طریقے سے عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے سائنسی طریقہ کار کی راہ ہموار کی۔ایک ہاوسنگ سوسائٹی جولاہور میں ہے ۔۔ کو ٹیکنیکل Approvalکے بغیر پندرہ دن میںNOC دے دیا گیا، اور پچیس کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔نظام کو ٹھیک کرنے کے دعوے داروں نے123پٹواریوں کو ایک دن میں پندرہ لاکھ فی پٹواری حاصل کر کے تعینات کر دیا۔ اور ایک ہی دن میں اٹھارہ کروڑ چالیس لاکھ روپے بنا لیے گئے۔طاہر خورشید نے کمشنر ساہیوال پر ہڑپہ ٹیکسٹائل ملز کی 800 کنال زمین کو صنعتی سے رہائشی میں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ حثیت کی تبدیلی سے زمین کی قیمت میں چالیس ارب روپے کا اضافہ ہوا اور آٹھ ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی ڈیل کی گئی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار کو ملتان میں سٹی ہاؤسنگ کی توسیع کی منظوری دی گئی ۔ پچاس کروڑ کی مبینہ کرپشن۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمر بزدار کے فرنٹ مینوں نے ادویات کی مقامی خریداری اور ڈی جی خان میں ٹرانسپورٹ سے ٹول ٹیکس کی وصولی میں ملوث ہو کر ماہانہ ایک کروڑروپے کمائے، ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوریاں دے کر سالانہ پچاس کروڑ روپے کمائے گئے۔جعفر بزدار (بھائی) نے سرکاری پوسٹنگز کروا کر دو کروڑ روپے ماہانہ کہ بنیاد پر کمائے۔ CEO LWMCنے مشینری کی خریداری کے لیے چھ ارب روپے کے معاہدوں کو حتمی شکل دی جس میں دو ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔ محکمہ صحت میں لاہور کے پانچ بڑے ہسپتالوں میںLocal purchase کی مقدار ڈیڑھ ارب ہے، سپیشلائزڈ ہیلتھ کے ذریعے سابق وزیر اعلی کو بڑا حصہ دیا جاتا ۔ فارما کمپنیوں اور ہیلتھ انسپکٹرز کا ایک منظم گروپ تھا جو اس وصولی کا انتظام کرتا تھا۔صرف ایک ارب روپے توسرکاری افسران کی پوسٹنگ،تبادلوں پر کما لیئے گئے۔طور خان بزدار کو ڈی جی خان میں سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ چوبیس کروڑ روپے میں دیا گیا۔اورنگزیب چوہدری جو طاہر خورشید کا فرنٹ مین ہے نے ایم ایم عالم روڈ پر چار کنال کا بنگلہ خریدا۔زمین کی خریداری کے بعد، اسی گلی کو نئی سڑک کی تعمیر کے ساتھ ماڈل روڈ کا نام دیا گیا۔ اور ان سارے کاموں میں مبینہ طور پر پندرہ ارب روپے کے گھپلے کیئے گئےعمران خان کی بشری بی بی سے شادی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ عوام کو تو یہ بتایا جاتا ہےکہ بشری عمران خان کی تیسری اہلیہ ہیں مگر سرکاری کاغذات کچھ اور ہی کہانی بتاتے ہیں ۔ کیونکہ بشری بی بی کا پاسپورٹ دیکھیں ۔ ایف بی آر کے ڈاکیومنٹ دیکھیں تو اس میں ان کا نام بشری خاور فرید ہے ۔ جبکہ شوہر کانام مانیکا خاور فرید ہے ۔ پاسپورٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں ۔ اسی طرح ایف بی آر کے ڈاکیومنٹس دیکھیں تو بشری بی بی کی جانب سے 2021کا ٹیکس ریٹرن جمع کروایا گیا اس میں بھی انکا نام بشری خاور فرید مانیکا ہے ۔ اسی طرح جب عمران خان اوربشری بی بی سعودی عرب گئے تو جو ویزے کا اجراء کیا گیا اس کے مطابق بھی ان کا نام بشری خاور فرید مانیکا ہی ہے ۔

    وہ کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ پاسپورٹ سمیت ویزہ اور جو 2021 میں بشری بی بی نے اپنی پہلی ریڑن جمع کروائی اس میں ان کا پرانا نام کیوں ہے کیونکہ قوم کو تو بتایا گیا تھا کہ 2018میں عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح ہوا تھا ۔ اس سے پہلے یقیناً طلاق ہوئی ہوگی ۔ سرکاری طریقہ کار یہ ہے کہ طلاق نامہ پہلے ثالثی کونسل کے پاس جاتا ہے ۔ تو اس کا نوے دن کا procedureہوتا ہے ۔ پھر نوے دن کے بعد وہ Divorce certificateدیتی ہے ۔ وہ بڑے بڑے کھڑپینچ رپورٹرز نے کوشش کی کہ نکل آئے پاکپتن ، دیپالپور کسی جگہ سے نہیں ملا ۔ اچھا نکاح کی بات کی جائے تو اس حوالے سے دو رائے ہیں کہ بنی گالہ میں نکاح ہوا ۔ دوسرا فرح گجر کے گھر لاہور میں ہوا ۔ مگر ان دونوں جگہوں سے بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا ۔ یہاں سے اب میں آپکو پھر پیچھے لے کر جاوں گا کہ بار بار سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بشری بی بی کا پاسپورٹ ، ایف بی آر اور ویزا اجراء میں نام کیوں تبدیل نہیں ہوا ۔ پرانا نام کیوں چلا آرہا ہے ۔ کیونکہ ملکی قانون اور اسلام کے مطابق بیٹی کے ساتھ والد کا نام لگتا ہے اور شادی کے بعد یہ عورت کی چوائس ہے کہ وہ والد کانام لگائے یا شوہر کا ۔۔۔اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔ اب اس حوالے سے جب طلاق ہوجاتی ہے تو Divorce certificateملنے کے بعد نادرا کے ریکارڈ میں عورت کے نام کے ساتھ شوہر کا نام ہٹ جاتا ہے اور والد کا نام آجا تا ہے ۔ پھر جب وہ عورت شادی کرتی ہے تو نئے شوہر کا نام لگوانا چاہے تو آئی ڈی کارڈ اس حوالے سے اپڈیٹ ہوجاتا ہے ۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ یہ کہانی بڑی ہوش ربا اور انکشافات سے بھرپور ہے ۔اس حوالے سے بہت سے رپورٹ تجزیے اور خبریں ہم نے سن رکھی ہیں کہ بشری بی بی ایک روحانی خاتون ہیں اور عمران خان ان کو بہت مانتے تھے بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ بظاہر عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنے میں بشری بی بی کا بڑا اہم کردار ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بشریٰ بی بی پر پاکستان کی خاتون اول بننے کے بعد سے جادو ٹونے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ اگرچہ بشریٰ بی بی کے بارے میں زیادہ معلومات عوام کے علم میں نہیں ہیں لیکن جب دونوں کی شادی ہوئی تو پاکستانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عمران خان 2015 سے بشریٰ بی بی سے روحانی رہنمائی کے لیے آ رہے تھے اور ان کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔۔ پھر جب عمران خان اور بشری بی بی کی شادی منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں بہت سے انکشافات کیے تھے ۔ چوہدری صاحب کا لکھنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ءکو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ عمران خان الزام کے فوراً بعد تین اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ۔۔۔ آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے ۔۔۔۔ بشری بی بی کی یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ چوہدری صاحب کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی (بشری اور خاور مانیکا) عمران خان کےلئے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کےلئے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی ۔ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔