Baaghi TV

Author: +9251

  • شہزادہ چارلس کو کس نے ایک ملین یورو سے بھرا سوٹ کیس تحفے میں دیا؟حیران کُن تفصیلات آگئیں

    شہزادہ چارلس کو کس نے ایک ملین یورو سے بھرا سوٹ کیس تحفے میں دیا؟حیران کُن تفصیلات آگئیں

    لندن :شہزادہ چارلس کو کس نے ایک ملین یورو سے بھرا سوٹ کیس تحفے میں دیا؟حیران کُن تفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق بی بی سی سنڈے ٹائمز کے حوالے سے کچھ اہم انکشافات کیے ہیں ، رپورٹ کے مطابق پرنس آف ویلز یعنی شہزادہ چارلس نے ایک سابق قطری وزیراعظم سے ایک ملین یورو کیش سے بھرا سوٹ کیس بطور تحفہ وصول کیا تھا۔ خبر کے مطابق یہ کیش رقم شیخ حمد بن جاسم کی طرف سے تین ملین یورو کے تین نقد عطیات میں سے تھی، جو شہزادے نے مختلف اوقات میں وصول کی ہے۔

    کلیرنس ہاؤس نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ سابق قطری وزیراعظم کی طرف سے وصول ہونے والے عطیات فوری طور پر شہزادے کے ایک خیراتی ادارے کو بھیج دیے گئے تھے اور یہ تمام عمل درست انداز میں سرانجام پایا۔خبر کے مطابق ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ یہ رقم غیرقانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھی۔

    سنڈے ٹائمز کے مطابق شہزادہ چارلس نے سنہ 2011 اور سنہ 2015 کے درمیان سابق وزیر اعظم سے ذاتی طور پر تین نقد عطیات وصول کیے تھے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک موقع پر کلیرنس ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں رقم ایک بیگ میں دی گئی تھی۔

    ایک اور اخبار کے دعوے کے مطابق یہ نقد رقم ڈیپارٹمنٹ اسٹور فورٹنم اور میسن کے کیریئر بیگز میں دی گئی تھی۔ سنڈے ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ پرنس آف ویلز نے سابق قطری وزیر اعظم سے ایک ملین یورو نقدی پر مشتمل سوٹ کیس قبول کیا۔

    کلیرنس ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’شیخ حمد بن جاسم کی طرف سے موصول ہونے والے خیراتی عطیات فوری طور پر شہزادے کے خیراتی اداروں میں سے ایک کو بھیجے گئے، جس نے مناسب طرز حکمرانی کا مظاہرہ کیا اور ہمیں یقین دلایا کہ تمام عمل کی نگرانی کی گئی جو درست انداز میں طے پایا‘۔

    یہ فنڈز پرنس آف ویلز کے خیراتی فنڈ کے ذریعے موصول ہوئے جس کے بتائے گئے مقاصد میں تحفظ، تعلیم، صحت اور سماجی شمولیت جیسے شعبوں میں پیسے دے کر ’زندگیوں کو بدلنا اور پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر‘ کرنا شامل ہے۔

    اس سلسلے میں خیرانی ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ادارے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دیا گیا عطیہ جائز تھا اور اس کے آڈیٹرز نے عطیہ پر دستخط کر دیے تھے۔

    شہزادہ چارلس کے خیراتی اداروں کو دیے گئے عطیات حالیہ مہینوں میں اس الزام کے بعد زیرِبحث آئے ہیں کہ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کے فلاحی ادارے نے عطیات کے بدلے ایک سعودی شہری کو برطانوی اعزازات حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔یاد رہے کہ اس کے باوجود میٹروپولیٹن پولیس نے اس سال کے شروع میں کہا تھا کہ وہ آنرز (پریویونشن آف ابیوزز) ایکٹ 1925 کے تحت اس الزام کی تحقیقات کر رہی ہے۔

  • سندھ میں  بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ مین پولنگ کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 946 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج میں پاکستان پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولنگ کا وقت صبح 8 بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا تاہم کچھ حلقوں میں ووٹنگ کا عمل معطل ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت 7 بجے تک بڑھا دیا تھا۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی، 5331 نشستوں پر 21298 امیدوار مدمقابل آئے جب کہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

    اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق 14 ڈسٹرکٹ کونسلز کی نشستوں میں 7اضلاع میں پیپلزپارٹی واضح اکثریت کے ساتھ آگے ہے، پی پی مجموعی 2189 نشستوں کےساتھ پہلے نمبر پر جبکہ جمیعت علما اسلام 64 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے 43 سیٹیں حاصل کیں جبکہ پی ٹی آئی 13 امیدوار کامیاب ہوئے۔

     

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات :ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں:عمران خان، بلاول کی اپیل

     

    کشمورمین ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ نمبر 7 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار محراب علی مزاری 37 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جماعت اسلامی کے امیدوار عبید اللہ 18 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق ایس یو پی کے امیدوار 50 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پیپلزپارٹی امیدوار زبیر احمد 49 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔کشمور ٹاؤن کے 11وارڈز میں سے 7 امیدوار پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار بنا مقابلہ کامیاب ہوگئے تھے۔۔

    کشمور ٹاؤن کے بقیہ 4 وارڈ ز پر بھی پی پی پی نے مکمل طور پر سوئیپ کرلیا۔۔گڈو ٹاؤن کے ایک وارڈ پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی، جبکہ ایک وارڈ پر جماعت اسلامی، 2وارڈز پر آزاد امیدوار غیر حتمی غیر سرکاری نتائج پر کامیاب قرار پائے۔کشمورمیں بخشاپور ٹاؤن کے 3وارڈز پر تحریک انصاف کےرهنما میر غالب حسین ڈومکی کے بیٹے سالار خان ڈومکی ر غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے پرکامیاب قرار پائے۔ پاکستان تحریک انصاف کشمور کے ضلعی صدر حنیف خان ڈومکی بھی وارڈ نمبر3سے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے پر کامیاب قرار پائے.
    ٹنڈو جان محمد کے 8 وارڈ میں پپلزپارٹی کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں.وارڈ نمبر 7: پی پی پی امیدوار شہزاد احمد 297 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،وارڈ نمبر 12 : پی پی پی پی کے امیدوار شہزاد حسین 505 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار راجیش کمار 185 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں، وارڈ نمبر 10 سے پی پی پی امیدوار محمد اسماعیل 325 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار اللھ رکھیو 87 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر۔وارڈ نمبر 3 سے آزاد امیدوار صداقت ذوالفقار علی آرائیں 575ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پی پی پی امیدوار 551 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں.

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    خیرپورٹاؤن کمیٹی کوٹ ڈیجی کے وارڈ نمبر 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق جی ڈی اے امیدوار میر ڈنل تالپور 954 وقار لیکر کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے امیدوار سید انوار علی شاہ 348 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی خیرپور کی وارڈ نمبر 15 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے غلام حسین مغل 1304 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار منصور اقبال شیخ 408 لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی وارڈ 17 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار اصغر شیخ 1149 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار مجید شیخ 356 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    شہداد کوٹ میونسپل کمیٹی کے وارڈ نمبر 3 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار طارق حسین بروہی 272 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، آزاد امیدوار دلاور خان کھوسو 147 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں دنگے فساد کے واقعات بھی پیش آئے، نوشہرو فیروز کے علاقے بھریاسٹی میں ووٹرز کے درمیان تصادم ہوا، پولنگ کچھ دیر کیلئے روکی گئی جبکہ پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا۔

    کندھ کوٹ میں جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے مابین لاٹھیاں چل گئیں، تصادم کا واقعہ میونسپل کمیٹی وارڈنمبر 10 میں پیش آیا جہاں لاٹھیاں لگنے سے 30 کارکن زخمی ہو گئے جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جھگڑے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پا لیا، ٹھل کی یوسی 28 پر پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف کے کارکنان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سات افراد زخمی اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

  • پی ٹی آئی کی حکومت نے تمام ادارے تباہ کئے،رانا ثناءاللہ

    پی ٹی آئی کی حکومت نے تمام ادارے تباہ کئے،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہاہے کہ ساڑھے3 سال ملک پر مسلط رہنے والے نااہل اور نالائق ٹولہ نے ملکی ترقی و بہتری کیلئے کوئی کام نہیں کیااور اپنی ساری توجہ اپوزیشن کی کردار کشی اور بلاجواز الزام تراشیوں سمیت انتقامی کاروائیوں پر مرکوز رکھی جس سے ملکی معیشت کا جنازہ نکل گیا اور ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا جس پر ہمیں مجبوراً اقتدار سنبھالنا پڑا اوراپنی سیاست داؤ پر لگاتے ہوئے ریاست بچانے کیلئے نہ چاہنے کے باوجود مشکل فیصلے کرنا پڑے کیونکہ اگر ہم مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ جاتا۔

    فیصل آباد میں مہر حامد رشید کے ڈیرہ پر پارٹی ورکرز سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم تمام ملکی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نااہل اور نالائق ٹولہ نے اپنے دور اقتدار میں اپنے انتخابی نعروں اور وعدوں پر عمل کی بجائے صرف اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے و بے بنیاد مقدمات درج کروائے اور یہی کہتا رہا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ نیازی اپنی انتقامی کارروائیوں میں اتنا آگے چلا گیا کہ امریکہ جا کر بھی ایسی ہی باتیں کرتا رہالیکن اسے جب مخالفیں کے خلاف کچھ نہیں ملا تو اس نے ان کے خلاف جھوٹا ہیروئن کی برآمدگی کا مقدمہ بنوادیا۔رانا ثناللہ نے کہا کہ انہی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کی طرف پہنچ گیا کیونکہ انہوں نے ملکی معیشت کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔

    انہوں نے کہا کہ نیازی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جس کے اثرات مشکل فیصلوں کی صورت میں ہماری حکومت پر پڑ رہے ہیں لیکن اگر ہم یہ مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ جاتا اور سب جانتے ہیں کہ جب کوئی ملک ڈیفالٹ کرجا ئے تو اس ملک کا غریب اور متوسط طبقہ پس جاتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارے قائد شہباز شریف اور ہماری جماعت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہرگز نہیں بڑھانا چاہتی تھی اسلئے ہم نے دوسرے ملکوں کو بھی آئی ایم ایف کے ساتھ بٹھایا کہ ہم کسی اور طرح سے آپ کے پیسے پورے کردیتے ہیں لیکن آئی ایم ایف نہیں مانااور اس نے کہاکہ جوپہلی حکومت نے معاہدہ کیا ہوا ہے اسے ہی پورا کرنا ہوگا تب جا کر یہ مشکل فیصلے کرنا پڑے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایالیکن ہم اب بھی اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ معیشت میں بہتری آئے اور پاکستان 2018سے پہلے والی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جس میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے دہشت گردی پر قابو پایا،لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جبکہ اب جو لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے وہ وقت پر گیس نہ لینے کی وجہ سے ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں ڈی سی اور اے سی بھی رشوت دے کر لگتے تھے اس طرح تمام ادارے تباہ کئے گئے لہٰذا ایسے حالات میں عدم اعتماد کا فیصلہ کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ جنہوں نے دھرنوں اور جلاؤ گھیراؤ کے ارادے بنائے تھے 25مئی کو ان کا شافی علاج کردیاگیا جبکہ پورے ملک کو ڈندے کے زور پراپنی صوابدید کے تحت چلانے کے ارادوں کو ہم نے ایساروکا کہ اب مارچ کا نام نہیں لیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان کے کسی علاقے میں بھی17یا 18سو سے زائد لوگ باہر نہیں نکلے ۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ نے پریڈ گراؤنڈ کو پر امن احتجاج کیلئے مختص کیا ہوا ہے اور چونکہ پرامن جلسہ و احتجاج ہر کسی کا حق ہے اسلئے کسی کو نہیں روکا جائے گالیکن کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

  • پنجاب میں پولیس انسپکٹرز سمیت اسمگلرز کا پورا گینگ گرفتار۔

    پنجاب میں پولیس انسپکٹرز سمیت اسمگلرز کا پورا گینگ گرفتار۔

    پنجاب میں پولیس انسپکٹرز سمیت اسمگلرز کا پورا گینگ گرفتار۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پھر سے ایک جرم کی واردات سامنے آئی ہے۔ یہ جرم اس طرح سے پیش آیا کہ پنجاب میں جب رینجرز کاروائی کر رہی تھی اسمگلرز کے خلاف تو تب پولیس انسپکٹرز سمیت اسمگلرز کا پورا گینگ پکڑ لیا گیا تھا۔
    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ پنجاب رینجرز ملزمان کی بہت زیادہ کاروائی کی سرحد پر جب بھارتی فوج نے فائرنگ کی تو اس کے بعد پنجاب رینجرز نے یہ ساری کاروائی کی تھی۔اسی کاروائی کے دوران پولیس نے 4 ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ 3 ملزمان اور بھی تھے جو کہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    مزید برآں یہ کہ پولیس نے جب مزید تفتیش کی اور ملزمان کی چیکنگ بھی کی تو ملزمان سے ہیروین، موبائل فون ، دیگر سامان برآمد ہوا تھا۔اسی سامان کو لے کر ہی ملزمان نے فرار ہونے کی کوشیش کی تھی۔ کہ موقع پر ہی پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا تھا۔
    پولیس نے جن افراد کو گرفتار کیا تھا ان میں 2 پولیس انسپکٹرز شامل تھے۔ ان پولیس اہلكار میں سے ایک کا نام اعجاز اور دوسرے کا نام طاہر تھا۔ملزمان کے خلاف تھانہ ہیئر میں مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ان دونوں پولیس انسپکٹرز کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

  • کامن ویلتھ گیمز کے لیے گیارہ پاکستانی کھلاڑی کے ڈوپ ٹیسٹ مکمل

    کامن ویلتھ گیمز کے لیے گیارہ پاکستانی کھلاڑی کے ڈوپ ٹیسٹ مکمل

    لاہور: کامن ویلتھ گیمز کے لیے اولمپئن ارشد ندیم، ریسلر انعام بٹ سمیت گیارہ اتھلیٹس کے ڈوپ ٹیسٹ کرلیے گئے جب کہ چار اتھلیٹس کے ڈوپ سمپلز جمع کرنا باقی ہیں۔

    میڈیا ذرائع کے مطابق اینٹی ڈوپنگ ایجنسی آف پاکستان کی ٹیم نے اتوار کو لاہور میں کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں میں مصروف اولمپئن ارشد ندیم سمیت چھ ریسلرز اور ایک ویٹ لفٹر حیدر علی کے ڈوپنگ سمپلز لیے، اس سے پہلے ہفتے کو اسلام آباد میں جاری کیمپس میں شریک دو باکسرز اور ایک اسکواش کھلاڑی کا ڈوپ ٹیسٹ ہوا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ڈوپنگ ٹیم گوجرانوالہ میں ٹریننگ کرنے والے دو ویٹ لیفٹرز اور ایبٹ آباد میں جاری ہاکی ٹیم کے کیمپ میں سے بھی دو کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ لے گی۔
    پاکستان اسپورٹس بورڈ دس اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پانچ ڈوپ ٹیسٹ کے اخراجات برداشت کرے گی۔ڈوپنگ سمپلز کو بیرون ملک ٹیسٹنگ کے لیے بھجوایا جائے گا، منتظمین کو قومی دستے کی 23 جولائی کو برمنگھم روانگی سے پہلے ٹیسٹنگ رپورٹس ملنے کا یقین ہے۔

    پاکستان کا ایک سو چار رکنی دستہ ان گیمز میں حصہ لے رہا ہے۔ ڈوپ ٹیسٹ صرف ان کھلاڑیوں کے کیے جارہے ہیں جن سے میڈلز کی امید ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز کو ڈوپ فری بنانے کے لیے ہر ملک دستے میں شامل اپنے اتھلیٹس کی ڈوہنگ ٹیسٹنگ کروار رہا یے۔

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کچھوے اپنی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں۔

    تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کچھوے اپنی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں۔

    تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کچھوے اپنی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: اوڈینس میں ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کچھووں کی کئی اقسام ایسی پائی جاتی ہیں جن کو اس بات پر قدرت حاصل ہوتی ہے اپنی عمر رسیدگی کو روکنے اور کام کرنے پر ۔ماہرین نے کافی مطالعہ کرنے پر بعد اس بات کو واضح کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام جاندار پیدا ہوتے ہیں۔اور پھر ایک دن ان کا وقت پورا ہوتا ہے اور وہ مر جاتے ہیں۔لیکن ہر جاندار اپنے اپنے وقت پر ہی پیدا ہوتا کمزور ہوتا اور مرتا ہے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ تحقیق میں اس معلومات کو حاصل کیا گیا ہے کہ ماہرین نے پہلی دفع اس پر تحقیق کی ہے۔کہ کچھووں، مگرمچھ اور سلے مینڈر کی عمر بڑھنے کی شرح کم ہوتی ہے لیکن ان کی زندگی کا دورانیہ زیادہ ہوتا ہے۔ جونتھن دی سے شیلز نام کا 190 سالہ کچھوا دنیا میں سب سے پُرانا جانور تصور کیا جاتا ہے جو ابھی تک نہ صرف زندہ ہے بلکے تندرست بھی ہے۔
    محققین کو تحقیق کرنے سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ان کی حفاظتی خصوصیات، جیسے کہ کچھوں کے جسم پر خول پاۓ جاتے ہیں ان کی کم رفتاری سے عمر رسیدگی میں حصہ ڈالتی ہے۔ اور بہت سے معاملات میں انتہائی معمولی سطح پر عمر بڑھتی ہے۔

    نارتھ ایسٹرن اِلینوائے جن کو تحقیق کا سربراه تصور کیا جاتا ہے ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ جتنے بھی حفاظتی نظام ہوتے ہیں ان سے جانوروں کی شرح اموات کو کم کر دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے یہ دوسرے جانوروں کو نہیں کھا پاتے۔لہٰذا اس وجہ سے وہ زیادہ زندہ رہتے ہیں اور اس سےان کی عمر کے کم رفتاری سے بڑھنے پر دباؤ پڑتا ہے ۔لہٰذا اس وجہ سے وہ زیادہ زندہ رہتے ہیں۔

  • سپین:سرحد عبور کرنے کے دوران بھگدڑ؛ 30 افراد کچل کر ہلاک

    سپین:سرحد عبور کرنے کے دوران بھگدڑ؛ 30 افراد کچل کر ہلاک

    میڈرڈ: میلیلا شہر کے ذریعے اسپین میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران بھگدڑ مچ گئی اور 30 تارکین وطن کچل کر ہلاک ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مراکش اور اسپین کو جدا کرنے والے شہر میلیلا کی سرحد پر ڈھائی ہزار سے زائد افریقی تارکین وطن لوہے کی باڑ پر چڑھنے کی کوشش میں گر گئے۔ اس دوران بھگدڑ مچ گئی اور 30 افراد کچلے جانے کے باعث ہلاک ہوگئے۔

    مراکش اور اسپین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکڑوں تارکین وطن سرحدی باڑ کے پاس زمین پر نیم مردہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور خون بہہ رہا ہے جب کہ قریب ہی مراکش کی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کھڑے ہیں۔

    ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مراکش کی سیکورٹی فورس کا ایک افسر زمین پر بے سدھ گرے تارکین وطن کو لاٹھی سے مار رہا ہے۔ تمام تارکین وطن مدد ملنے تک گھنٹوں زمین پر نیم مردہ حالت میں پڑے رہے جن میں سے اکثر موقع پر دم توڑ گئے۔

    مراکش کی حکومت نے تارکین وطن پر تشدد کے الزام کو مسترد کردیا جب کہ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے بڑے پیمانے پر زبردستی سرحد عبور کرنے کی کوشش کو اسپین کی علاقائی سالمیت پر پُرتشدد حملہ قرار دیا۔

    اسپین کے وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اگر سرحد پر ہونے والی ہر چیز کا ذمہ دار کوئی ہے، تو یہ مافیاز ہیں جو انسانوں کی غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرانے کے کام میں ملوث ہیں۔

  • لوٹوں کو اپنے حلقوں میں شکست دینا ہوگی، عمران خان

    لوٹوں کو اپنے حلقوں میں شکست دینا ہوگی، عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ لاہور میں پولیس سے لوگوں کو ڈرایا جارہاہے ،غنڈہ گردی کی جارہی ہے،لوٹے ضمیر بیچ کر حلقے کے عوام کی توہین کرتے ہیں،تحریک انصاف کے مارچ کے دوران ہمارے کارکنوں پر تشدد کیاگیا،لوٹے اپنے حلقوں میں کامیاب نہیں ہوں گے.

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پی پی168 میں ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو لوٹوں کو اپنے حلقوں میں شکست دینا ہوگی. یہ اپنے حلقوں میں کامیاب نہیں ہوں گے.ایک آواز میں جواب دیں لوٹے کو ہرانے کے لئے تیار ہیں،عوام کسی صورت لوٹوں کو کامیاب نہ ہونے دے، لوٹے ضمیر بیچ کر حلقے کے عوام کی توہین کرتے ہیں، اب عوام نے بدلا لینا ہے اور ان لوٹوں کو شکست دینی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ حمزہ شریف مجرم اس کا باپ مجرم ہے، غنڈہ گردی کی جارہی ہے، ملک نواز اعوان میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، ملزم حمزہ اور اس کے والد چیری بلاسم شہباز شریف کو شکست دینی ہے۔،یہ بیرونی سازش کے ذریعے آئے ہیں،عمران خان نے کارکنوں سے کہا کہ آپ نے ہر گھر میں پیغام پہنچانا ہے.

    عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ ہمارے آئین کو توڑ کر بیرونی سازش کر کے آئے ہیں یہ امپوٹیڈ حکومت ہے جو ہمیں نا منظور ہے،.ہم نے تحریک انصاف کے امیدواروں کو جتوانا ہے اور ان لوٹوں کو شکست دینے ہے.یہ الیکشن ضمنی الیکشن نہیں پنجاب کا الیکشن اور پاکستان کا الیکشن ہے، ساری عوام آج ان لوگوں کے خلاف ہے،آئی جی راو سردار میں نے آپ کو لگوایا تھا کیونکہ آپ ایماندار ہین مجھے پتا ہے کہ آپ پر دباو ہے لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں آپ نے قانون کے مطابق چلنا ہے ،الیکشن کمیشن آج سارا پاکستان ضمنی الیکشن دیکھ رہا ہے یہ ضمنی الیکشن فیصلہ کریگا کہ آپ پر اعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں.

    چیئرمین تحریک انصاف نی کہا کہ اپمائر ان کے ساتھ ہے ہمیں پتا ہے کون کون ان کے ساتھ ہے یہ پیسہ بھی چلارہے ہین مگر آپ نے انہیں شکست دینی ہے،نوجوانون نے ہر پولنگ استیشن کو سنبھالنا ہے،امپائروں کے باوجود ہم نے ڈاکووں کو ہرانا ہے.آٹا مہنگا کر دیا ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے جو بھی آیی ایم ایف کہے گی یہ مانیں گے.ان کو شکست دیں گے اور ہمیشہ کیلئے ان کو ملک سے فارغ کریں گے.

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ورکرز کنونشن میں بد نظمی کا مظاہرہ کیا گیا.اہور میں ہونے والے تحریک انصاف کے پی پی 168 کے ورکرز کنونشن میں بد نظمی کا واقعہ پیش آیا، جہاں رش کے باعث ہال کے دروازے کا شیشہ ٹوٹ گیا جبکہ عمران خان کی روانگی کے وقت بھی کارکنان کا رش نظر آیا جبکہ اس دوران دھکم پیل بھی ہوتی رہی۔

    ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتبار نہیں رہا، الیکشن فیصلہ کرے گا کہ قوم الیکشن کمیشن پر اعتبار کر سکتی ہے یا نہیں، امپائر ان کے ساتھ ہیں، ہمیں پتہ ہے ان کے ساتھ کون کون ہے، پیسا بھی چل رہا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ 2 ماہ میں اس حکومت نے اتنی مہنگائی کردی جتنی 3 سال میں نہیں ہوئی، حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھا دیا ہے، ہمیں پتہ ہے جو آئی ایم ایف کہے گا یہ حکومت کرے گی۔

  • پاکستان: موسمیاتی  تبدیلی سے سیکڑوں بھیڑ بکریاں ہلاک

    پاکستان: موسمیاتی تبدیلی سے سیکڑوں بھیڑ بکریاں ہلاک

    سوات: پاکستان پر موسمی تبدیلی کے اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں، شمالی علاقوں میں جون میں غیر متوقع برفباری سے سیکڑوں بھیڑ بکریاں ہلاک ہو گئیں۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں موسمی تبدیلی کے اثرات کے طور پرغیر متوقع برف باری سے انسانوں کے ساتھ بڑی تعداد مں جانور بھی متاثر ہوگئے ہیں۔

     

    موسمیاتی تبدیلیوں کےاثرات:پاکستان میں تین دہائیوں میں3لاکھ افرادجان سےہاتھ…

    ضلعی انتظامیہ سوات کے مطابق دیر اور سوات کے سنگم پر چمبر بانڈہ اور لوڑہ بانڈہ میں حالیہ برف باری سے 15 سو سے زائد بھیڑ بکریاں ہلا ک ہو گئیں، جب کہ ایک چرواہے کی ہلاکت کی بھی ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کر دی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق گزشتہ روز ریسکیو 1122 کے عملے نے متاثرہ علاقے میں ریسکیو آپریشن کیا، اور چمبر بانڈہ میں 100 بھیڑوں کو بچایا۔ انتظامیہ کے مطابق پہاڑی علاقے میں غیر متوقع برف باری سے بھیڑ بکریاں چرانے والے چرواہے بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    محکمہ جنگلات کے ترجمان لطیف الرحمن نے بتایا کہ موسم گرما میں پہاڑی علاقوں کے لوگ بھیڑ بکریاں پہاڑوں کی چوٹیوں پر چرانے کے لیے لے جاتے ہیں، مئی کے مہینے سے اکتوبر تک بھیڑ بکریاں اونچے پہاڑوں پر ہوتی ہیں، لیکن حالیہ غیر متوقع برف باری نے چرواہوں اور جانوروں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

    مارچ میں شدید گرمی اور جون میں کم درجہ حرارت موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں،ماہرین

    جون کے مہینے میں پاکستان کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی پڑتی ہے، لیکن اس بار جون کے مہینے میں خیبر پختون خوا کے پہاڑی علاقوں میں غیر متوقع برف باری کی وجہ سے میدانی علاقوں میں بھی جون کے مہینے میں موسم خوش گوار رہا۔

    پشاور میں 21 اور 22 جون کو رات کے وقت درجۂ حرات 16 ڈگری سنٹی گریڈ تک گر گیا تھا، محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر فہیم احمد نے بتایا کہ شاید یہ پہلی بار ہوا کہ جون میں موسم اتنا سرد ہو گیا ہے، جون کے مہینے میں پہلی بار ایسی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔

    محمد فہیم نے بتایا کہ بابو سرٹاپ، چترال، اور سوات کے کچھ اونچے پہاڑوں پر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہلکی سی برف باری ہو جاتی ہے لیکن وہ دھوپ نکلتے ہی ختم ہو جاتی ہے، مگر یہ برف باری معمول سے زیادہ ہے، اس بار برف باری نیچے علاقوں میں بھی ہوئی ہے۔

    محکمہ ماحولیات کی جانب سے بھی جون کے مہینے میں ایسی برف باری کو پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے گہرے اثرات قرار دیے جا رہے ہیں۔