Baaghi TV

Author: +9251

  • شہباز گل نے جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے ملازم کا موبائل اور پرس رکھ لیا

    شہباز گل نے جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے ملازم کا موبائل اور پرس رکھ لیا

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ ہاؤس سے گرفتار شخص کے معاملے پر اسلام آباد پولیس کا موقف سامنے آگیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بنی گالہ کے بیریئر سے پولیس کے حوالے کیا گیا شخص عاشر سیکٹر جی 8 کا رہائشی ہے، وہ بطور خاکروب 5 سال سے بنی گالہ ہاؤس کا ملازم ہے۔

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، شہباز گل یا بنی گالہ ہاؤس سے کسی نے اس شخص سے متعلق معلومات نہیں دیں۔

    پولیس کے مطابق اس شخص نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل اور عمران خان کے ملازمین نے 2 روز سے حبس بےجا میں رکھا ہوا تھا، عمران خان کی رہائش گاہ پر تعینات گلگت بلتستان پولیس کے اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔اس شخص کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا گیا کہ موبائل، شناختی کارڈ شہباز گل نے واپس نہیں کیا۔

    پولیس حکام کے مطابق عمران خان کے کسی نمائندے یا پی ٹی آئی رہنما نے واقعے سے متعلق پولیس کو کوئی اطلاع یا درخواست نہیں دی، عمران خان یا ان کے ملازمین درخواست نہیں دیتے تو پولیس کیسے کوئی کارروائی کرسکتی ہے۔

    حکام کا کہنا تھا کہ یہ شخص تشدد، موبائل اور پرس وغیرہ واپس لینے کی درخواست دے تو کارروائی کریں گے، بنی گالہ ہاؤس میں تعینات ملازمین کی لسٹ ابھی تک فراہم نہیں کی گئی۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص کی جسمانی اور دماغی حالت جاننے کے لئے میڈیکل ٹیسٹ کروایا جائے گا۔

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملازمین کی لسٹ دینے کے حوالے سے عمران خان سے متعدد بار درخواست کی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بنی گالہ ہاؤس میں کام کرنے والے ملازمین کی شناخت ایک چیلنج ہے، جب تک ملازمین کی مکمل لسٹ فراہم نہیں کی جاتی ان کا بیک گراؤنڈ معلوم نہیں کیا جاسکتا۔

  • جمشید ظفر کا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے مصطفی قریشی

    جمشید ظفر کا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے مصطفی قریشی

    اداکار مصطفی قریشی نے کہا کہ ہے فلم انڈسٹری جب بہت بلندیوں پر تھی، فلمیں‌بہت زیادہ بزنس دے رہیں تھیں، کروڑ ہا روپے حکومت کے خزانے میں‌ ریونیو کی صورت میں دیتی تھی اس وقت سال میں دو سو فلمیں بنتی تھیں. جمشید ظفر اس وقت بہت بڑا نام تھے وہ ہر دوسری فلم کو پرڈیوس کر رہے تھے شمیم آراء نے بطور ڈائریکٹر جتنی بھی فلمیں‌ بنائیں ان کو فنانس جمشید ظفر نے ہی کیا تھا. جمشید ظفر کا شمار فلم انڈسٹری کے نامور پرڈیوسرز میں‌ہوتا تھا. ان کی بہت سلجھی ہوئی سوچ تھی اور یہی سوچ فلموں میں بھی نظر آتی تھی، بعض لوگوں نے گندی فلمیں بھی بنائیں لیکن جمشید ظفر کبھی بھی ان میں سے ایک نہیں‌ رہے. میں‌جمشید ظفر کی بہت ساری فلموں میں‌ کام کیا ان کے ساتھ کام کرنے بہت مزا آتا تھا نہایت ہی نفیس انسان تھے.ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی پرڈیوسر کو پیسے کی کمی ہو جاتی تھی تو جمشید ظفر اسکی مدد کیا کرتے تھے اسکی مثال یہ ہے کہ ہم ایک فلم کی شوٹنگ کے

    لئے ترکی گئے ہوئے تھے تو وہاں اس فلم کے پرڈیوسر کے پاس پیسوں کی کمی ہو گئی ادائیگی کرنے کےلئے پیسے نہ تھے تو جمشید ظفر نے اس پرڈیوسر کی مدد کی تو یوں وہ دوسروں‌ کے کام بھی آیا کرتے تھے. پچانوے فیصد ڈائریکٹر اور فنانسرز تو انتقال کر چکے ہیں جمشید ظفر جیسے اکا دکا لوگ ہیں آج جمشید ظفر بھی چل بسے. فلم انڈسٹری پہلے ہی نقصان میں جا رہی تھی بلکہ انڈسٹری ہے ہی کہاں.بلکہ میں‌ تو یہ کہوں گا کہ جمشید ظفرکا انتقال فلمی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے .

  • گیشربرم2سرکرنےوالی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما:کے2کوسرکرنے کےلیےمنزل کی طرف چل پڑیں

    گیشربرم2سرکرنےوالی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما:کے2کوسرکرنے کےلیےمنزل کی طرف چل پڑیں

    اسکردو:گیشربرم2سرکرنےوالی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما:کے2کوسرکرنے کےلیےمنزل کی طرف چل پڑیں،اس وقت یہ اطلاعات گردش کررہی ییں کہ گزشتہ سال پاکستان میں گیشر برم 2 سر کر کے 8 ہزار میٹر سے بلند کسی چوٹی کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والی نائلہ کیانی نے اب کے ٹو مہم کا آغاز کردیا ہے۔

    نائلہ کیانی کی اس کامیابی کو اس امر نے مزید دلچسپ بنا دیا کہ انہوں نے گزشتہ سال زندگی میں پہلی بار کوئی پہاڑ سر کرنے کی ٹھانی تھی اور بیٹی کی پیدائش کے محض 7 ماہ بعد 8ہزار 35 میٹر بلند گیشر برم پہاڑ سر کرلیا۔

    دبئی میں مقیم، بیکنگ کے شعبے سے وابستہ نائلہ کیانی نے بتایا کہ ’میری بیٹی محض ساڑھے 7 ماہ کی تھی جب میں نے گیشر برم 2 سر کیا‘۔

    پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما اگلے ماہ "کے ٹو” سرکرنے کی مہم پر نکلیں گی

    ٹیم بریفنگ کے بعد سکردو کے لیے روانہ ہونے والی نائلہ کیانی کے ہمراہ پاکستانی کوہ پیما سرباز خان اور سہیل سخی بھی ہوں گے جو مرحوم علی رضا سدپارہ کے ساتھ گیشر برم 2 سر کیے جانے کے وقت بھی ان کے ساتھ تھے۔

    نائلہ کیانی نے کہا کہ ’گیشر برم 2 سر کرنے والی ٹیم ہی اب کے ٹو سر کرنے جارہی ہے، ہم نے یہ مہم چچا علی رضا سدپارہ کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

    ساجد سدپارہ کی صحت کے متعلق تشویشناک خبرسامنے آ گئی:افسوسناک ویڈیو وائرل

    نائلہ کیانی نے علی رضا سدپارہ کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب میں گیشر برم 2 سر کرنے کے بعد بیس کیمپ پہنچی تو یہ علی رضا چاچا ہی تھے جنہوں نے مجھے کہا کہ آپ کے ٹو بھی سر کرسکتی ہیں، مجھے یہ اعتماد انہوں نے ہی دیا‘۔

    انہوں نے کہا کہ ’ان کے بارے میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی وہ شاندار حس مزاح تھی، ان کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی، مہم کے دوران جب کوئی کٹھن لمحہ آتا تو وہ کوئی لطیفہ سناتے اور ہم سب ہنس پڑتے‘۔

    8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں سے مشکل ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کے لیے اپنی تیاری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میرے لیے یہ ناقابل یقین حد تک مشکل رہا ہے، میں زچگی کی چھٹیوں کے دوران گیشر برم-2 سر کرنے نکل گئی تھی اور مہم سے واپس آنے کے بعد فوراً کام پر چلی گئی تھی‘۔

    پنجاب حکومت کاطلحہ طالب، ارشد ندیم اور کوہ پیماؤں ساجد علی سدپارہ اور شہروز کاشف…

    اپنی کم عمر بیٹی کے علاوہ نائلہ کیانی ایک 3 سالہ بیٹے کی بھی ماں ہیں اور اس مہم میں ایک ماہ سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، اس مشکل فیصلے کے حوالے سے سوال پر نائلہ کیانی نے جواب دیا کہ ’ہم یہ سوال مردوں سے نہیں پوچھتے، حتیٰ کہ بیرون ملک بھی لوگوں نے مجھ سے یہ سوال پوچھا کیونکہ ماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کریں نہ کہ اس قسم کے سرگرمیوں پر توجہ دیں‌

    انہوں نے بتایا کہ گیشر برم 2 کی مہم پر سرباز خان میرے ہمراہ تھے جبکہ میری بیٹی کی پیدائش کے ایک دن بعد ان کی بھی بیٹی پیدا ہوئی لیکن کسی نے ان سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ آپ 14 چوٹیوں کے مشن پر کیسے گئے اور سال کے بیش تر وقت گھر سے دور کیسے رہ لیتے ہیں؟

    انٹرنیشنل کوہ پیما ساجد علی سدپارہ کا ریسکیو ہیڈکوارٹر کا دور:ڈی جی ریسکیونے کے…

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو غیرمعمولی شرح اموات کے باوجود خصوصاً پاکستانی کوہ پیماؤں کے لیے کشش رکھتی ہے، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے نائلہ کیانی نے کہا کہ ’یہاں جو سکون ملتا ہے وہ آپ کو ان پہاڑوں میں واپس لاتا رہتا ہے، جب میں نے اپنی پہلی مہم کا منصوبہ بنایا تھا اس وقت میں صرف اپنی جسمانی اور ذہنی طاقت کو جانچنا چاہتی تھی، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ میں کتنی بلندی پر جا سکتی ہوں‘۔

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

  • جمشید ظفر نے فلم انڈسٹری اور فنکاروں کے لئے بہت کام کیا نشو

    جمشید ظفر نے فلم انڈسٹری اور فنکاروں کے لئے بہت کام کیا نشو

    ماضی کی نامور اداکارہ نشو نے کہا کہ میری جمشید ظفر سے بہت ملاقاتیں ہیں انہوں‌ نے پاکستان فلم انڈسٹری کو جو فلمیں‌ دیں‌ ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ان کا شاندار کام ان کو ہمیشہ زندہ رکھے گا.مجھے ان کے انتقال کی خبر نے نہایت ہی افسردہ کر دیا ہے. نشو نے مزید کہا کہ جمشید ظفر نہایت ہی فرینڈلی تھے، ذمہ دار شخص تھے وہ جانتے تھے کہ کام کیسے کرنا ہے اور اپنی ذمہ داریوں‌ کو کیسے نبھانا ہے. وہ جب پرڈیوسر ایسوسی ایشن کے صدر تھے انہوں نے اپنی ذمہ داریوں‌ کو ذمہ داری سے نبھایا انہوں نے فلم انڈسٹری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا، ایسے اقدامات کئے کہ جس سے انڈسٹری کو سہارا ملے ان کے قدامات قابل غور بھی ہیں اور قابل فخر بھی ہیں.جمشید ظفر نے ایسی فلمیں بنائیں کہ جنہوں‌ نے فلم انڈسٹری کو سنبھالا دئیے ر کھا.آج ایک ایسا شخص دنیا سے چلا گیا ہے جو پاکستان فلم انڈسٹری کا پلر تھا.ان کا نعم البدل کوئی بھی نہیں‌ہو سکتا.
    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
    میرا ان سے صرف کام کی حد تک تعلق نہیں تھا میرے ان سے فیملی تعلقات تھے میرا بیٹا حمزہ پاشا اور جمشید ظفر کا بیٹا مومن آپس میں‌بہت دوست ہیں ہمارا ایک دوسرے کے گھروں میں بہت زیادہ آنا جانا تھا.ابھی چھ ماہ پہلے ہی تو ان کے بیٹے کی شادی میں‌ ہم شریک ہوئے. صرف ان کے ساتھ کام کرکے بہت کچھ سیکھنے کو نہیں‌ ملتا تھا بلکہ ان کی محفل میں‌ بیٹھ کر بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا.

  • مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا جمشید نہیں‌ رہے ریمبو

    مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا جمشید نہیں‌ رہے ریمبو

    اداکار ریمبو کہتے ہیں‌ کہ جمشید ظفر انتقال کر گئے ہیں مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا ہے کوئی کہہ رہا جب کہ جمشید دنیا سے چلے گئے تو دل نہیں‌ مان رہا. وہ بیمار تھے مجھے اتنا تو پتہ تھا لیکن اتنی جلدی ہمیں چھوڑ جائیں گے آئیڈیا نہیں تھا. ریمبو نے کہا کہ ہم نے ایک ساتھ بہت زیادہ کام کیا کچھ نہیں تو دس فلمیں تو ایکساتھ کی ہی تھیں. اُس دور میں بننے والی فلمیں ساری تقریبا باہر کے ملک میں‌ بنتی تھیں ملک میں کم ہی فلمیں بنتی تھیں اور جمشید ظفر نے مجھے جس فلم میں‌ بھی لیا وہ میرے لئے یادگار بن گئی. وہ بہت زیادہ عاجز انسان تھے دھیمہ بولتے تھے عام فلمسازوں والی ان میں‌ کوئی بات ہی نہیں تھی.ان کو ہم نے کبھی یہ کہتے نہیں‌ سنا کہ وقت پر نہ آئے تو یہ کر دوں گا وہ کردوں گا. مجھے یاد ہے کہ میں اگر کبھی لیٹ بھی پہنچتا تھا میں‌ کیا کاسٹ کا کوئی بھی بندہ لیٹ پہنچتا تھا تو جمشید ظفر ڈانٹتے نہیں تھے نہ ہی کہتے تھے کہ تم لوگوں کی وجہ سے میرا نقصان ہو گیا ہے بلکہ وہ تو کہہ دیا کرتے تھے کوئی نہیں ہم کل یہ کام کر لیں گے. کبھی کسی آرٹسٹ کو ڈیٹ دینے میں اوپر نیچے ہو جاتی تو برہم نہیں‌ ہوتے تھے بلکہ کہتے تھے کوئی نہیں‌ مینج کر لیں‌ گے. ہم چند لوگوں‌ کا گروپ تھا جس میں بابر علی ، ریما ، صاحبہ اور میں ہم سب کے ساتھ وہ بہت محبت کرتے تھے.ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے تھے. جمشید ظفر نہایت ہی ملنسار تھے ان کے ساتھ تعلق کام کی حد تک نہیں تھا بلکہ ان کی فیملی کے ساتھ بھی ہمارا تعلق تھا.

  • پی کے 7 سوات:پی ٹی آئی کے فضل مولاکامیاب ہو گئے

    پی کے 7 سوات:پی ٹی آئی کے فضل مولاکامیاب ہو گئے

    سوات: خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ 7 میں ضمنی الیکشن میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار فضل مولا کامیاب ہوگئے۔خیبر پختون خوا کے ضلع سوات میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مار کر 12 جماعتی اتحاد کو شکست سے دو چار کر دیا۔

     

    ضمنی الیکشن،عمران خان کاحکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ ،اتوار کو دورہ لاہور

    تفصیلات کے مطابق ضلع سوات کے انتخابی حلقے پی کے 7 پر ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے فضل مولا اور اے این پی کے حسین احمد خان سمیت 4 امیدوار اس نشست پر مد مقابل ہوئے۔

    پی کے 7 کے 124پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پی ٹی آئی کے فضل مولا 18 ہزار 42 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ اے این پی کے حسین احمد 14 ہزار 665 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    عامر لیاقت کی سیٹ پر پی ٹی آئی کا امیدوار کون ہو گا؟ سابق گورنر سندھ نے بتا دیا

    خیال رہے کہ یہ نشست اے این پی کے وقار خان کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی، جس پر آج صبح 8 بجے پولنگ کا عمل شروع ہوا اور شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔

    یہ نشست اے این پی کے ایم پی اے وقار احمد خان کی 30 اپریل کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔پی ٹی آئی کے حاجی فضل مولا، اے این پی کے حسین احمد خان، تحریک انقلاب پولیٹیکل موومنٹ کے دولت خان اور آزاد امیدوار محمد علی شاہ میدان میں ہیں۔

    پی ٹی آئی کے علاوہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں نے 2007-09 کی سوات کی شورش کے دوران مقتول کے خاندان کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    پی کے 7 پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر مواصلات مراد سعید کا آبائی حلقہ ہے۔ اے این پی پہلے ہی صوبائی وزراء کی جانب سے پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار کے لیے ‘سرگرم مہم’ کی شکایت کر چکی ہے۔

    عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے لہذا پی ٹی آئی ایم این ایز اسپیکر سے رجوع کریں

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس حلقے میں 183,308 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 102,088 مرد اور 81,220 خواتین شامل ہیں۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہو کر شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ضمنی انتخاب کے لیے کل 124 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 41 کو حساس اور 12 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

  • نوے کی دہائی میں سپر ہٹ فلمیں بنانے والے جمشید ظفر دنیا چھوڑ گئے

    نوے کی دہائی میں سپر ہٹ فلمیں بنانے والے جمشید ظفر دنیا چھوڑ گئے

    نوے کی دہائی میں‌ پاکستان فلم اندسٹری کو لازوال فلمیں دینے والے جمشید ظفر انتقال کر گئے ہیں.اُس دور کے تمام بڑے آرٹسٹوں کے ساتھ کیا. جمشید ظفر فلم پرڈیوسیر ایسوسی ایشن کے بانی ہیں.منجھے ہوئے فلم ساز اور پرڈیوسر جمشید ظفر ڈسٹری بیوٹر بھی رہے انہوں‌ نے کچھ فلمیں بھی ڈستڑی بیوٹ کیں. ایک عرصہ سے فلم انڈسٹری سے پیچھے ہٹ گئے تھے ان کے کام کرنے کا انداز نہایت ہی سنجیدہ تھا جب پنجابی فلموں‌ نے زور پکڑا تو وہ گھر بیٹھ گئے کسی سے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا.ویسے تو ان کے کریڈٹ پر بے شمار ہٹ فلمیں ہیں لیکن دوپٹہ جل رہا ہے ،ڈاکو ،کرفیو جیسی فموں‌ نے انکی شہرت میں مزید اضافہ کیا. فلمسٹار میرا نے خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جمشید ظفر نہایت ہی شفیق انسان تھے عاجزی ان یمں‌ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی میں نے ان کے ساتھ بہت سار فلموں میں کام کیا وہ مجھے فلم انڈسٹری کے ماتھے کا جھومر کہا کرتے تھے.فلمسٹار ریشم نے کہا کہ میں نے ان کے ساتھ دوپٹہ جل رہا ہے کی تھی بہت خوبصورت یادیں ہیں جو دل کو راحت دیتی ہیں ان کی طبیعت میں‌گرمی نہیں‌تھی وہ کسی سے بھی غصے یا بدتمیزی سے بات نہ کرتے میری ان کے ساتھ پہلی ملاقات سید نور کے زریعے ہوئے تھی اس کے بعد مجھے فلم دوپٹہ جل رہا ہے ملی. یاد رہے کہ جمشید ظفر نے فلم انڈسٹری کے لئے بہت سے اقدامات کئے ان کی وجہ سے فنکاروں‌کو بہت سارے فوائد ملے. پرڈیوسر ایسوسی ایشن کےساتھ جب تک منسلک رہے فنکاروں‌ کی سنی جاتی رہی . جمشید ظفر نے چند ماہ قبل اپنے بیٹے کی شادی کی تھی جس میں فلم انڈسٹری سے جڑے تمام ستاروں کو بلایا وہ گردوں کے عارضوں میں‌ مبتلا تھے طبیعت کچھ اچھی نہیں‌رہتی تھی.

  • سابق وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری باغی ٹی وی کے ساتھ منسلک ہوگئے

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری باغی ٹی وی کے ساتھ منسلک ہوگئے

    لاہور:ڈیجٹل دنیا میں بڑا نام رکھنے والے باغی ٹی وی کے ساتھ اب پاکستان کی بڑی بڑی شخصیات منسلک ہورہی ہیں‌،اس سلسلے میں باغی ٹی وی کے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین مری نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا گروپ باغی ٹی وی میں بطور تجزیہ کار شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    اس اہم موقع پرباغی ٹی وی اپنے پلیٹ فارم پر تجزیہ کار کے طور پر علاؤالدین مری کا خیر مقدم کرتا ہے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہے۔

    باغی ٹی وی کو بلوچستان کی آواز کو مین اسٹریم میڈیا میں شامل کرنے کے لیے بلوچستان کی اہم شخصیت کواپنی ٹیم کا حصہ بنانے پرفخرہے

    بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معزز تجزیہ کار باغی ٹی وی کے پروگراموں میں دکھائی دیں گے اور اپنے ٹیلی ویژن کے ناظرین اور ڈیجیٹل سامعین کے لیے صوبے کے دیرینہ مسائل کو اجاگر کریں گے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ماہرین اوردیگراسٹیک ہولڈرز کو بھی صونے کی ترقی کے لیے اپنے پروگرام کا حصہ بنائیں گے

    باغی ٹی وی ہرممکن کوریج اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متحرک ڈیجیٹل میڈیا سامعین کی موجودگی کے ذریعے بلوچستان کے مسائل اور ان کے ممکنہ حل کو اب عوام کی بڑی حد تک پہنچایا جائے گا۔یاد رہے کہ علاؤالدین مری نے 8 جون 2018 سے 19 اگست 2018 تک بلوچستان کے نگراں وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کیا۔

  • سابق آئی بی آفیسرنوید الٰہی باغی ٹی وی کے ساتھ بطورسیکورٹی تجزیہ کارمنسلک ہوگئے

    سابق آئی بی آفیسرنوید الٰہی باغی ٹی وی کے ساتھ بطورسیکورٹی تجزیہ کارمنسلک ہوگئے

    لاہور:باغی ٹی وی کو یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ انٹیلی جنس بیورو (IB) کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل نوید الٰہی باغی ٹی وی کی خصوصی قومی اور بین الاقوامی سیکیورٹی تجزیہ ٹیم میں بطور سیکیورٹی تجزیہ کار شامل ہو گئے ہیں۔

    پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا گروپ نے ستارہ شجاعت (سٹار آف گیلنٹری) حاصل کرنے والے نوید الٰہی کی باغی ٹی وی جو انسداد دہشت گردی اور دہشت گردی کے اسباب اور دیگرعوامل پر اپنے تجربات اوران تجربات کی بنیاد پرخیالات کا اظہارکیا کریں گے

    باغی ٹی وی ذرائع کاکہنا ہےکہ نوید الٰہی باغی ٹی وی کے پروگراموں میں نظر آئیں گے اور سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی، کاؤنٹر انٹیلی جنس، کوآرڈینیشن اور ڈپلومیسی پر اپنے تاثرات شیئر کریں گے۔

    باغی ٹی وی کا کہنا ہےکہ عالمی اورخطے کے بڑی تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظرنوید الٰہی کی اس پلیٹ فارم میں شمولیت یقینی طور پر حساس معاملات بالخصوص پیچیدہ سکیورٹی پہلوؤں پر باخبر رائے فراہم کرے گی۔

    نوید الٰہی رہنمائی اور تربیت کے میدان میں بھی ایک نمایاں نام ہے۔ وہ BS-21 افسر کی حیثیت سے سروس سے ریٹائر ہوئے۔

    نوید الٰہی ایک پڑھے لکھے اورقابل آفیسر رہےہیں ، انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز، پنجاب یونیورسٹی۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، لاہور۔ آئی بی اکیڈمی، اسلام آباد۔ سکول آف سٹریٹجک سٹڈیز سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی

    اس سے قبل وہ اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل کوآرڈینیشن اور خارجہ امورکے عہدے پر فائز رہے۔ قونصلر، قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، دبئی، یو اے ای۔ ڈی آئی جی/ایس ایس پی، پنجاب پولیس۔ سپیشل برانچ اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD)۔ ڈائرکٹنگ سٹاف، نیشنل سکول آف پبلک پالیسی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، لاہور۔ ڈپٹی کمانڈنٹ انٹیلی جنس بیورو (IB) اکیڈمی میں ان کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے

    نوید الہی پی ایچ ڈی۔ کنگز بزنس اسکول، کنگز کالج لندن۔ مینجمنٹ اسٹڈیز میں U.K. پی ایچ ڈی۔ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز، پنجاب یونیورسٹی، لاہور۔ ایم اے انٹرنیشنل سیکیورٹی، وار اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ، کنگز کالج لندن، یوکے۔ ایم اے۔ صحافت، پنجاب یونیورسٹی، لاہور۔ ایم فل۔ ماس کمیونیکیشن، پنجاب یونیورسٹی لاہور۔ ایل ایل بی، پنجاب یونیورسٹی لاہورسے تعلیم یافتہ ہیں‌

    انہوں نے درج ذیل کتابیں لکھیں: ملٹی نیشنل انٹرپرائزز اینڈ ٹیررازم۔ 2020 ایمرالڈ پبلشرز۔ لندن۔ برطانیہ. پاکستان میں دہشت گردی۔ 2019. آئی بی ٹورس۔ لندن۔ برطانیہ. پاکستان کی دلدل۔ 2010. کنٹینیوم پریس۔ لندن۔ برطانیہ. مندر میں طوفان۔ 1994. جنگ پبلشرز۔2013. لاہور۔ ’ہم شاعر‘ (شاعری کا انگریزی ترجمہ) شامل ہیں

    اس کے علاوہ نوید الہی کالم اور مضامین روزنامہ جنگ اور ڈیلی ٹائمز میں بھی شائع ہوتے ہیں اور وہ اس سے قبل دی نیوز اور دی نیشن کے لیے بھی لکھتے ہیں۔

  • زرنش خان نے جلدی عمر میں شادی کی وجہ بتا دی۔

    زرنش خان نے جلدی عمر میں شادی کی وجہ بتا دی۔

    زرنش خان نے جلدی عمر میں شادی کی وجہ بتا دی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آپ کو ایک اہم خبر سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ پاکستانی اسٹار زرنش خان جو کہ بہت سے پاکستانی ڈراموں میں کام کر چکی ہیں۔ اور مزید یہ بہت سے ڈراموں میں حال ہی میں کام کر رہی ہیں۔ ان کے بہت سے ڈراموں کو مقبولیت ملی۔ عوام ان کے بہت سے ڈراموں کو بہت شوق سے دیکھنا پسند کرتی ہے۔ انہوں نے شادی بہت ہی کم عمر میں کی تھی۔ جب انہوں نے شادی کی تو ان کی عمر 17 سال تھی۔ ان کے بہت سے فین یہ جاننے کے شدید خواہش مند ہیں۔کہ زرنش خان نے اتنی کم عمر کیوں شادی کی تھی۔ تو بہرحال زرنش خان نے خود ہی اس بات کو بیان کر دیا۔کہ انہوں نے کیوں شادی اتنی کم عمر میں کی تھی۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اانہوں نے حال ہی میں تابش ہاشمی کے ٹاک شو ’ہنسا منع ہے‘ میں اداکارہ نے کم عُمری میں شادی کی وجہ بتائی دی ۔ان کا کہنا تھا کہ میری جلدی شادی کی وجہ صرف یہ تھی کیونکہ میں ایک پٹھان فیملی سے تعلق رکھتی ہوں ۔اور پٹھانوں میں شادیاں جلدی کی جاتی ہیں۔اسلئیے میری بھی شادی جلدی ہوئی۔ لیکن میں چونکہ شوبز سے تعلق رکھتی تھی۔ میں نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ اور میں نے شادی کر لی۔ اور 17 سال کی عمر میں میرے لیے شادی کا فیصلہ کرنا درست ثابت ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جلدی عمر میں شادی کرنا میری زندگی کا بہت اچھا فیصلہ تھا۔