Baaghi TV

Author: +9251

  • سابق حکومت نے عوامی اہمیت کے منصوبوں کو نظر انداز کیا ،حمزہ شہباز

    سابق حکومت نے عوامی اہمیت کے منصوبوں کو نظر انداز کیا ،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے پراجیکٹ کا دورہ کیا،وزیر اعلی حمزہ شہباز نے زیر تکمیل منصوبے کے مختلف حصے دیکھے ،وزیر اعلی حمزہ شہباز مختلف فلور پر گئے اور پراجیکٹ پر کام کا جائزہ لیا ،وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی.

    حمزہ شہباز نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں شروع اس اہم پراجیکٹ کو سابق دور میں نظر انداز کیا گیا۔ گزشتہ 4 برس کے دوران سست روی کے باعث منصوبے کی لاگت میں تقریبا 3 ارب روپے سے زائد اضافہ ہوا۔ قومی وسائل کا نااہلی کی وجہ سے ضیاع مجرمانہ غفلت ہے۔ عوامی اہمیت کے منصوبے کو جلد فنکشنل کیا جائے۔

    وزیراعلی نے کہا کہ منصوبے کو آپریشنل کے لئے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے۔ منصوبے پر 3 شفٹ میں کام کرنے کا پلان بنایا جائے۔ عمارت کے اطراف بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں ،ڈی جی پی ایچ اے خود موقع پر آ کر وزٹ کریں اور اس ضمن میں جامع پلان بنائیں ،بلڈنگ کو بھی پودوں کے ساتھ گرین بنانے کا جائزہ لیا جائے۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ چند روز میں ٹائم لائن کے ساتھ منصوبے کو آپریشنل کرنے کا حتمی پلان پیش کیا جائے۔ دسمبر 2017 میں شروع کئے جانے والے اس منصوبے کو مارچ 2019 میں مکمل ہونا تھا۔وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کو سیکرٹری تعمیرات ومواصلات نے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی ،انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے.

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے ”دلکش مری“پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت کی ، وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نےسیزن کے دوران مری کے ہوٹلوں کے کرائے کا تعین کرنے کا حکم بھی دیا.اس موقع پر حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ کرائے کا تعین ہونے سے سفید پوش طبقے کو ریلیف مل سکے گا۔ مری میں ٹریل موٹر بائیک ایمبولینس چلانے کا جائزہ لے کر حتمی پلان پیش کیا جائے۔

    وزیر اعلی حمزہ شہباز نے ٹورازم پولیس کی استعداد کار بڑھانے کی ہدایت کی. ٹورازم پولیس کوہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پیشہ وارانہ ٹریننگ دی جائے۔ریسکیو 1122 کے تعاون سے ٹورازم پولیس کی پروفیشنل ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے۔ مری آنے والی ٹریفک کو کیمروں کےذریعے 24/7 مانیٹر کیا جائے۔ موثر مینجمنٹ کے ذریعے ٹریفک رواں دواں رکھنے کے جامع پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے مری سمیت سیاحتی مقامات پر سہولتیں بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سیاحوں کی سہولت کیلئے بہترین انتظامات یقینی بنانے۔مری کے دیہات میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا سسٹم وضع کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے املاک میں آتشزدگی کے واقعات کا سدباب کرنے کیلئے فائر سیفٹی پلان بھی طلب کرلیا،وزیراعلی کو بریفنگ دی گئی کہ مری کی 34کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیرو مرمت مکمل ہوچکی ہے۔کلڈنہ چوک کو ری ڈیزائن کر کے وسیع کیا جارہا ہے۔ سڑکوں کی لینڈ مارکنگ اورسائن بورڈ کی تنصیب کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ مری کی سڑکوں کے اطراف میں دوکانوں کو یونیورسل شکل دی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازشریف کی زیر صدارت مری ڈویلپمنٹ اینڈ امپرومنٹ پلان پر پیش رفت کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس میں عمران گورایہ، سیکرٹری سیاحت،سیکرٹری ہاؤسنگ، سیکرٹری تعمیرات ومواصلات ،سیکرٹری اطلاعات،ڈی جی ریسکیو1122 اورمتعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ کمشنر راولپنڈی ڈویژن، آر پی او راولپنڈی،سی پی او، ڈپٹی کمشنر،سی ٹی او اور متعلقہ حکام وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے.

  • ڈینگی ایس اوپیزکی خلاف ورزی پربلاتفریق کارروائی کی جائے،سلمان رفیق

    ڈینگی ایس اوپیزکی خلاف ورزی پربلاتفریق کارروائی کی جائے،سلمان رفیق

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری صحت علی جان خان اچانک پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچ گئے.سی ای او پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈاکٹربلال نے صوبائی وزیراور سیکرٹری صحت کا استقبال کیا۔صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے مختلف وارڈزکادورہ کرکے مریضوں کی عیادت کی اور طبی سہولیات کاجائزہ لیا۔اس موقع پر دیگر ڈاکٹرصاحبان بھی موجود تھے۔

    پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں نے طبی سہولیات بارے اظہاراطمینان کیا۔
    سی ای او پی آئی سی ڈاکٹر بلال نے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری صحت علی جان کو طبی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دل کے مریضوں کو صحت کی بہترسہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کیلئے آسانیاں پیداکررہے ہیں۔ یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے ذریعے عوام کو سرکاری ہسپتالوں سے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کریں گے۔

    خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہبازکی ہدایت کے مطابق سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کرکے طبی سہولیات کاجائزہ لیاجارہاہے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کے بہترعلاج کو یقینی بنایاجارہاہے۔

    قبل ازیں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے گرجاچوک پی ایس اوپٹرول پمپ پرمنعقدہ تقریب میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع پررکن پنجاب اسمبلی میاں نصیراحمداورپی ایس اوکے افسراننی شریک تھے۔

    صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پی ایس اوکی جانب سے الیکٹروٹیکنالوجی خوش آئندہے۔ پی ایس اوکی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کااظہارکرتے ہیں۔ جدیدٹیکنالوجی کے استعمال سے صارفین کوسہولت حاصل ہوتی ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف اداروں کی مضبوطی کیلئے اہم کرداراداکررہے ہیں۔ میاں شہبازشریف اورحمزہ شہباز کی قیادت میں عوامی خدمت کاسفرجاری رہے گا۔

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے مختلف علاقہ جات میں ڈینگی پر قابوپانے کیلئے محکمانہ سیکرٹریزکو ذمہ داریاں سونپ دیں ،خواجہ سلمان رفیق نے سول سیکرٹریٹ میں صوبائی ڈینگی مانیٹرنگ کمیٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمانہ سیکرٹریزکو ذمہ داریاں سونپی۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق اور چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل اجلاس کے دوران صوبہ بھرمیں ڈینگی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ سیکرٹری صحت علی جان خان سمیت تمام کمشنرزاورڈ ی سی حضرات نے صوبائی وزیراور چیف سیکرٹری کو ڈینگی کی صورتحال کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں تمام محکمہ جات کے سیکرٹریزسمیت کمشنرزاور ڈی سی حضرات نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل کی ڈینگی ایس اوپیز کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی ہدایت کی

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ڈینگی پر قابوپانا صرف محکمہ صحت نہیں بلکہ تمام متعلقہ محکمہ جات کی ذمہ داری ہے۔ ڈینگی کے ایس اوپیزکی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ افسران ڈینگی پر قابوپانے کیلئے خودفیلڈمیں نکلیں۔ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے عوامی نمائندگان کو بھی اپنے علاقہ جات میں ڈینگی کی انسدادی سرگرمیوں کو مانیٹرکرنے کی ہدایت کی ہے۔

    خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پوری کوشش ہے کہ اس سیزن میں ڈینگی کے پھیلاؤکوروکاجائے۔ ڈینگی بارے آگاہی کیلئے موئثرعوامی مہم چلائی جائے۔ محکمہ جات کے سیکرٹریزڈیش بورڈ کوخودمانیٹرکریں۔ حساس اضلاع میں ڈینگی کی انسدادی سرگرمیوں کو تیز کردیاگیاہے۔ سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق ایس اوپیز پر عملدرآمدکروائیں ڈینگی کی انسدادی سرگرمیوں کی بوگس رپورٹنگ کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔سیکرٹری محکمہ اوقاف تمام مساجدمیں صفائی ستھرائی کے انتظامات کو یقینی بنائیں۔ ہاٹ سپاٹس پر ڈینگی لارواء کی تلفی کو لازمی یقینی بنایاجائے۔ ڈینگی پرقابوپانے کیلئے انتظامیہ کو سنجیدگی سے کام کرناہوگی۔ پنجاب بھرمیں ڈینگی ڈے منایاجائے گا۔ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز جلدڈینگی کی صورتحال پر اجلاس کی صدارت کریں گے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ڈینگی پر قابوپانے کیلئے اپناکرداراداکرناہوگا۔

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل کا کہنا تھا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کروائے جائیں۔ ڈینگی پرقابوپانے کیلئے یہی وقت کام کرنے کا ہے۔ڈینگی ایس اوپیز پر عملدرآمدکے سلسلہ میں خامیوں کو جلدازجلددورکیاجائے۔ شہری ڈینگی کے خاتمہ کیلئے حکومتی کوششوں کا ساتھ دیں۔چیف سیکرٹری نے اپیل کی کہ گھروں میں مچھروں کی افزائش کی جگہوں کا خاتمہ یقینی بنائیں۔ صفائی کاخیال رکھیں،گھروں کی چھتوں،دیگرجگہوں پر پانی نے جمع ہونے دیں۔چیف سیکرٹری نے محکمہ کواپریٹو زکوپرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی چیکنگ کی ہدایت کی.

  • اداکارہ طوبیٰ انور کا پوسٹ مارٹم کے حکم پر سخت ردعمل

    اداکارہ طوبیٰ انور کا پوسٹ مارٹم کے حکم پر سخت ردعمل

    اداکارہ طوبیٰ انور کی جب سے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے ساتھ علیحدگی ہوئی ہے وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیںانہوں نے خلع کا دعوی دائر کیا ،خلع لے لیا جبکہ عامر لیاقت حسین نے آخری وقت تک یہی کہا تھا کہ میں نے اپنی کسی بھی بیوی کو بھی طلاق نہیں دی۔ طوبیٰ انور عامر لیاقت حسین کے انتقال پر زیادہ نہیں بولیں نہ ہی اپنے اذدواجی رشتے کی خرابی پر بولیں لیکن اب وہ بولی ہیں اور بولی بھی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی کرکے ان کا پوسٹ مارٹم کرنے کے حکم پر۔طوبی نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ لکھی جس میںانہوں نے کہا کہ ” اگر حکام نے عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرواناہی تھا تو ان کے انتقال کے دن ہی ایسا کرنا بہتر ہوتا۔ان کے انتقال کے ایک ہفتے سے زیادہ کے بعد قبر کشائی پوسٹ مارٹم کے لئے کرنا لواحقین کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے۔تاہم مجھے اللہ کی مرضی پر بھروسہ ہے میرا یقین ہے کہ اللہ پاک ہمارے معاملا ت کا بہترین انتظام کرنے والا ہے اللہ پاک مرحوم اور لواحقین کے لئے آسانیاں پیدا فرمائیں۔

    طوبیٰ انور کیاعامر لیاقت حسین کے دوست اور دشمن سب کو عدالتی اس حکم پر کافی تکلیف ہوئی ہے سب کا کہنا ہے کہ مردے کو اب سکون سے رہنے دیا جائے اسکو مزید اذیت نہ دی جائے وہ پہلے ہی اذیت کا شکار ہو کر اس دنیا سے گیا ہے اس کو اب بخش دیں ۔کہا جا رہا ہے کہ عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی تئیس تاریخ کو صبح نو بجے ہو گی ۔

  • عدنان صدیقی نے پاکستانیوں کا دل جیت لیا

    عدنان صدیقی نے پاکستانیوں کا دل جیت لیا

    اداکار و پرڈیوسر عدنان صدیقی نے کیا ایک ایسا فیصلہ کہ دل جیت لیا دنیا بھر کے مسلمانوں کااور اپنے مداحوںکا۔تفصیلات کے مطابق شمالی امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کی جانب سے نیو جرسی میں تین روزہ ایک گالا کا اہتمام کیا گیااس میں نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی فنکاروں کو بھی مدعو کیا گیا ۔عدنان صدیقی کو جب اس بارے خبر ہوئی تو انہوں نے اس ایونٹ میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا انہوں نے کہا کہ مجھے کسی بھی فنکار سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن میرا ضمیر اور میری ذمہ داریاں مجھے اجازت نہیں دیتیں کہ میںہندو لیڈروں کے ہاتھوں نبی کی توہین کو نظر انداز کردوں ۔عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کیا ہے ۔

    عدنان صدیقی نے باقاعدہ ٹویٹر پر لکھا کہ میں دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں سے اظہار ہکجہتی کے لئے اے پی پی این کی تقریب میں شریک نہیں ہوں گا ۔ واضح رہے کہ عدنان صدیقی پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ میں موجود ہیں وہ امریکہ اپنی فلم دم مستم کی پروموشن کے لئے گئے تھے وہاں وہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سے بھی ملے اور انہیں اپنی فلم سینما میں آکر دیکھنے کےلئے دعوت دی تھی۔

  • بے نظیر بھٹو کی 69 ویں سالگرہ: ان کا جرات مندانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    بے نظیر بھٹو کی 69 ویں سالگرہ: ان کا جرات مندانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    شہید بے نظیر بھٹو بانی پیپلزپارٹی اور نامورشخصیت ذولفقار علی بھٹو اور ایران کے بااثر اصفہانی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون بیگم نصرت بھٹو کے گھر 21 جون 1953 کو پیدا ہوئی۔ بے نظیر نے سیاست میں قدم رکھا تو بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں جس میں ان کی سب سے بڑی کامیابی مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرعظم بننا تھا۔ آج 21 جون2022 کو انکی 69 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

    اسلام آباد میں مقیم سینئر صحافی محمد نواز رضا نے باغی ٹی وی کو بتایا: بےنظیر ایک بہادر خاتون تھی جن کا کردار پاکستانی سیاست کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ ان کی جرات کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کارساز میں ان پر دھماکہ ہوا جس میں بیسیوں کارکنان شہید ہوگئے لیکن بی بی شہید واپس نہیں گئیں بلکہ یہ جانتے ہوئےبھی کہ انہیں قتل کردیا جائے گا مگر وہ پاکستان میں رہیں۔
    نواز رضا مزید بتاتے ہیں: کارساز کے بعد وہ لیاقت باغ آئیں جہاں وہ زندگی کی بازی ئیں لیکن انہوں نے سیاست میں تاریخ رقم کردی کہ ہمیشہ سیاست میں بہادر زندہ رہتے ہیں ناکہ وہ بزدل جو گھروں سے باہر ہی نہیں نکلتے ہیں اور ایسے لوگوں کا سیاست میں کوئی مقام نہیں ہوتا۔

    محمدنواز کے مطابق: بے نظیر بھٹو بہادری کا ایک استعارہ تھیں اور انہوں نےہمت کے ساتھ ناصرف اپنے سیاسی مخالفین بلکہ ان قوتوں کا بھی مقابلہ کیا جو انہیںپاکستانی سیاست اور ملک دونوں سے باہر کرنا چاہتے تھے۔ اگر بے نظیر زندہ رہتی تو تیسری بار بھی وزیراعظم پاکستان رہتی لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔

    نوجوان بلاگر : رجب علی فیصل نے باغی ٹی کو بتایاکہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ بینظیر بھٹو ایک بہادر خاتون تھی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ بی بی کے قتل کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت رہی مگر افسوس صد افسوس انکے اصل قاتل آج بھی آزاد ہیں۔

    رجب علی فیصل کہتے ہیں کہ: بے نظیر بھٹو کا مقدمہ لاوارثوں کی طرح لڑا گیا جس میں کوئی گواہ بھی پیش نہیں کئے گئے مثال کے طور پر امین فہیم اور ناہیدخان اس وقت بی بی کے ساتھ موجود تھے جب انہیں قتل کیا گیا لیکن بے نظیر کے خاندان کی طرف سے نہ کوئی صحیح پیروی کی گئی اور نہ ہی ان گواہوں کو پیش کیا گیا۔
    علی فیصل کے مطابق: بے نظیر کے قتل میں ٹھیک ویسا ہوا جیسا ذولفقار علی بھٹو کے قتل میں ہوا تھا۔ بھٹو کے قتل کے بعد بے نظیر نے نعرہ لگایا "جمہوریت بہترین انتقام ہے” لیکن ایسی جمہوریت کا اچار ڈالیں گے جس میں مجرمان کو بجائے پھانسی پر لٹکانے کےانہیں اقتدار کی خاطر معاف کردیا جائے۔

    رجب فیصل نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ: بھلے ہمیں بنگلہ دیش سے سو اختلافات ہوں مگر یہ بات ماننی پڑے گی کہ شیخ حسینہ واجد نے اقتدار میں آنے کے فورا بعد اپنے باپ شیخ مجیب الرحمان کے قاتلوں کے خلاف مقدمات چلا کر انہیں پھانسیاں دلوئیں اور اگر دیکھیں تو ہم سے علیحدگی اختیار کرنے والا ملک آج ہم سے کتنا آگے ہے۔ نہ وہاں مذہبی شدت پسندی ہے اور ناہی دہشتگردی ہے۔ اور نہ کبھی کسی غیرسویلین کی یہ جرات ہوئی کہ وہ غیرآئینی طریقے سے وہاں کی حکومت خلاف کوئی ذرا برابر بھی حرکت کرسکے۔

    رجب علی فیصل کا خیال ہے کہ: جیسے بے نظیر نے اپنے والد کے قتل پر سمجھوتہ کیا اسی طرح انکے خاندان اور بالخصوص آصف علی زرداری نے بھی دانستہ نادانستہ بے نظیر کے قتل پرسمجھوتہ کیا اور اقتدار کو ترجیح دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج تک پاکستان میں غیرجمہوری قوتیں ملکی حکومتوں پر حاوی رہتی ہیں۔ تو جہاں بے نظیر کی بہت ساری خوبیاں ہیں وہی یہ بڑی بڑی خامیاں بھی ہیں لیکن ہمارے ہاں چونکہ غلطیوں کی نشاندہی ہی نہیں کی جاتی جسکے سبب آج تک پوری قوم کی آنکھوں پر پٹی پڑی ہوئی ہے لیکن تاریخ کبھی بھی چھپ نہیں سکتی اور ایک نہ ایک دن تاریخ اپنے آپ کو ضرور دہراتی ہے پھرسچ چاہے کتنا ہی کڑوا ہو سامنے آ ہی جاتا ہے۔

    آج نیوز کے گروپ چیف شہاب زبیری نے مرحومہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر انکی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ: وہ قوم کا فخر اور آئیکون تھیں۔ جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


    ‏پیپلزپارٹی کے سوشل میڈیا سیل سے جاری ایک پیغام میں بینظیر بھٹو کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا: "بینظیر بھٹو نے عوام کے حقوق کی بحالی، معاشی و اقتصادی ترقی، پاکستان میں جمہوریت کے قیام، جمہوری اداروں کی بحالی، عدلیہ کے استحکام، خواتین کی خودمختاری اور عوام کو بنیادی حقوق کی رسائی کیلئے انتھک جدوجہد کی۔‎”
    https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1539095766240833538
    پیپلزپارٹی کی رہنماء سینیٹرسحر کامران نے اپنے ایک پیغام میں کہا: "بینظیر بھٹو ایک شخصیت کا نام نہیں، ایک نظریہ کا نام ہے، ایک نقطہ نظر کا نام ہے، ایک فکری سوچ کا نام ہے۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے والی بینظیر، کھیت میں کپاس چنتی عورت کی ترقی کی بات کرنے والی بینظیر اپنی سوچ اور فکر میں بھی بینظیر تھی‎۔”


    بینظیر بھٹوکے صاحبزادے اور وزیرجہ خارجہ بلاول بھٹو زداری نے اپنی والدہ کی سالگرہ پر ایک پیغام میں کہا کہ: بینظیر شہید نے تیس سال سے زائد جمہوریت کی بقاء، اور معیشت و غریبوں کی بہتری سمیت اسلام کے امن کے پیغام کیلئے جدوجہد کی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • بھارت میں کرونا وائرس کے 12 ہزارسے زائد نئے کیس ریکارڈ، اموات کی تعداد 18 ہوگئی

    بھارت میں کرونا وائرس کے 12 ہزارسے زائد نئے کیس ریکارڈ، اموات کی تعداد 18 ہوگئی

    بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریبا 12 ہزار سے زائد نئے کیس ریکارڈ کئے گئے جبکہ اموات کی تعداد 18 سے بڑھ گئی ہے۔

    بھارت کے ادارہ مرکزی وزارت صحت کے مطابق: گزشتہ روز کے مقابلہ میں کرونا کیسزمیں معمولی کمی آئی ہے تاہم اتوار کو 12,899 نئے کیس ریکارڈ کئے گئے تھے ۔ جبکہ مثبت کیسز کی تعداد 4226 بڑھ کر 76,700 ہوگئی اور یوں یومیہ شرح 4.32 فیصد رہی ۔

    بھارتی چینل نیوز18 کے مطابق: ملک میں متحرک کیسزکی تعداد کل زیرو اشاریہ اٹھارہ فیصد ہے۔ تاہم پچھلے 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ متحرک معاملات 1161 کیرالہ میں بڑھے ہیں ۔ اس کے بعد مہاراشٹر میں 918، تمل ناڈو میں 449، دہلی میں 423 ایکٹیو کیس درج کئے گئے ہیں۔ میزورم واحد ریاست رہی جہاں ایکٹیو کیسز کم ہوئے ہیں ۔

    اگر یوں ریاستوں کے حساب سے دیکھیں تو اتوار کو دارالحکومت دہلی میں کورونا سے متاثرہ 1530 نئے مریض پائے گئے تھے اور تین اموات کی تصدیق ہوئی تھی ۔ انفیکشن کی شرح بڑھ کر 8.41 فیصد ہوگئی تھی ۔ یہ انفیکشن کی شرح 28 جنوری کے بعد سب سے زیادہ ہے۔”

    واضح رہے پاکستان میں تاحال کوئی بڑی سطح پر کرونا کیسز سامنے نہیں آئے البتہ راولپندی میں چند ایک کیس سامنے آئے تھے جو اب خطرے سے باہر ہیں.

  • سعودی سرمایہ کار پاکستان کی افرادی قوت سے فائدہ اٹھائیں،شہباز شریف

    سعودی سرمایہ کار پاکستان کی افرادی قوت سے فائدہ اٹھائیں،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی بھائیوں کا دوسرا گھر ہے، سعودی سرمایہ کار پاکستان کی افرادت قوت سے فائدہ اٹھائیں، تمام سہولیات دی جائیں گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والےکاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کے ایک وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی . ملاقات میں وفاقی براے اقتصادی امور سردار ایاز صادق، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر تجارت نوید قمر، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم سید مرتضیٰ محمود، وفاقی وزیر سرمایاکاری بورڈ چودھری سالک حسین وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود , وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر، کمرشل اتاشی ، پاکستانی کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والے تاجران اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی .

    ملاقات میں سعودی عرب کی کاروباری برادری، تاجران اور صنعت کاروں کے لیے پاکستان میں موجود سرمایاکاری کے مواقع پر بات چیت کی گئی . ملاقات میں بریفنگ دی گئی کہ پاکستان سرمایہ کاری استعداد کے حوالے سے ایک ابھرتا ہوا ملک ہے جہاں کاروبار کرنے حوالے سے بہت سی آسانیاں موجود ہیں اور جہاں پر محفوظ سرمایہ کاری کے لیے ماحول موجود ہے. پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت، لائیو اسٹاک ، آلات جراحی، فوڈ پروسیسسنگ ، توانائی. سیاحت، معدنیات ،ٹیکسٹائل، لیدر اور دیگر شعبہ جات میں تجارت اور سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں.

    علاوہ ازیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ گوادر میں آئل ریفائنری انڈسٹری کے حوالے سے سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے جس میں سعودی سرمایہ کاروں نے دلچسپی بھی ظاہر کی ہے . ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے پیش رفت تیز کریںگے اور اس سلسلے میں پاکستان -سعودی عرب جائنٹ ورکنگ گروپ کو بھی فعال کیا جائےگا.

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات پچھلے 75سالوں میں مثالی رہے ہیں اور سعودی عرب نے سیاسی، سفارتی اور معاشی محازوں پر ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے پاکستان اور سعودی عرب یک جان ،دو قالب ہیں. وزیراعظم نے کہا کہ مجھے سعودی وفد سے ملاقات کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے . وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ انتہائی مفید رہا جس کے دوران سعودی لیڈرشپ نے اس عزم کو دہرایا کہ سعودی عرب ہر سطح پر پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا. ہمیں مختلف امور پر گفتگو کا بھرپور موقع ملا .

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے دورے کے دوران ہمیں پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کا موقع ملااور سعودی عرب نے پاکستان میں ایک ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی ہے اس اعتماد پرہم سعودی لیڈرشپ کے شکر گزار ہیں . وزیراعظم نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت بڑھانے اور معاشی تعلقات مزید بہتر بنانے کے لیے روڈ میپ بنایا جائے. وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ہر شعبے میں سرمایہ کاری کے بھرپور مواقع موجود ہیں .وزیراعظم نے مزید کہا سعودی عرب نے حالیہ سالوں میں بہت ترقی کی ہے اور سعودی عرب نے اپنے اسلامی تشخص اور کلچر کو برقرار رکھتے ہوئےماڈرنائزیشن کو اپنایا ہے.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ پاکستان میں سعودی کمپنیوں اور تاجران کو درپیش تمام مسائل حل کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے جایئں .وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی کاروباری برادری تعاون کو فروغ دے کر ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو سکتی ہیں .سعودی وفد نے پاکستان میں صنعت و تجارت کے مختلف شعبوں میں جیسا کہ کان کنی، سیاحت سمیت دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا .

    قبل ازیں پاک سعودی بزنس کونسل کے چیئرمین فہد بن محمد الباش نے کہا کہ سعودی عرب کے سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ، پاکستان میں کاروبار کے بے شمار مواقع موجود ہیں ، انہوں نے ان خیالات کا اظہار اعلیٰ سطحی تجارتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبران کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا ۔ وفد میں خوردنی تیل، فوڈ پروسیسنگ، تجارت، تعمیراتی مواد، سیاحت ، مینوفیکچرنگ، طبی سامان و آلات، فنٹیک، فارماسیوٹیکل اور انفراسٹرکچر سروسز سمیت دیگر شعبوں کے نمائندگان شامل تھے۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی حکومتی تعلقات کی طرز پر مضبوط تجارتی تعلقات قائم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے آپس میں مضبوط روابط قائم کر کےکاروباری مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ پاک سعودی بزنس کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ سعودی عرب میں 20 فیصد افرادی قوت پاکستان سے ہے اور ان کا ملک پاکستان سے مزید تربیت یافتہ ورکرز درآمد کرنا چاہتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی معیشت کے کئی شعبوں بشمول کیمیکل انڈسٹری، رئیل اسٹیٹ اور سیاحت میں پاکستانی سرمایہ کاروں کیلئے بھی پرکشش مواقع موجود ہیں جن سے وہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کاروبار کیلئے ایک پرکشش مارکیٹ ہے اور وہ دونوں ممالک کے سفارتخانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک میں پائے جانے والے کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سعودی مصنوعات اور سعودی عرب میں پاکستانی مصنوعات کی نمائشیں منعقد کی جائیں گی تاکہ دونوں ممالک کی مصنوعات کو ایک دوسرے کی مارکیٹ میں متعارف کرایا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب کے تجارتی وفد کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

    وفد سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ کان کنی و معدنیات، تیل و گیس، ہاؤسنگ و تعمیرات، انفراسٹرکچر کی ترقی، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ، خوردنی تیل، لاجسٹکس، کھیل، رینیوایبل انرجی، سیاحت سمیت پاکستان کی معیشت کے متعدد شعبوں میں سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مواقع موجودہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا وفد پاکستان میں ٹیکسٹائل، زراعت، تعمیراتی سامان، طبی آلات، فارماسوٹیکلز، پھل و سبزیاں، خشک میوہ جات، اشیائے صرف، زرعی پروسیسنگ ٹیکنالوجی، مشینری اور آلات سمیت دیگر شعبوں کی بھی کاروبار کے مواقع تلاش کرے۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے لیے یہی مناسب وقت ہے کہ وہ پاکستان میں جوائنٹ وینچرز و سرمایہ کاری پر توجہ دے کر منافع بخش نتائج حاصل کریں۔فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین خالد اقبال ملک نے سعودی وفد کو سی پیک میں پائے جانے والے سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ کاروبارکی ترقی کے لیے ان سے استفادہ حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے گوادر میں اربوں ڈالر کی لاگت سے ریفائنری کمپلیکس کے قیام پر اصولی طور پر اتفاق کیا تھا لہذا اس کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جائے۔

    آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد فہیم خان نے سعودی تجارتی وفد کے دورہ پاکستان پر اظہار تشکر کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی

  • کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    سوشل میڈیا پر آئے روز آپ کو کچھ نہ کچھ ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا ماسوائے فیک نیوز پھیلانے کے اسی طرح آج کل سینئر صحافی حامد میر سے متعلق جھوٹی خبر پھیلائی جارہی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں باہر جارہے ہیں۔
    اسی فیک خبر کا سہارا لیتے ہوئے ایک خودساختہ ٹی وی اینکر حفصہ فیاض نے دعوی کیا کہ: اینکرپرسن سلیم صافی کا استعفی دینے کی اطلاعات ہیں جبکہ صحافی حامد میر کا ایک ماہ چھٹی لیکر باہر جانے کی بھی اطلاع ہے۔

    اس خاتون نے مزید دعوی کیا کہ: ایک معروف چینلز کے تین سینئر اینکرز بھی استعفی دے چکے اور کسی بیرون ملک چلے گئے۔

    اس خاتون کے دعوی کی تردید کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ: "عمران خان کے دور حکومت میں مجھ پر نو ماہ پابندی رہی لیکن میں پاکستان سے نہیں بھاگا تو اس دور میں کیوں بھاگوں گا؟ ہر دور میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، آج کل بھی کچھ مشکلات ہیں لیکن میں چھٹی لیکر کہیں نہیں جا رہا ہوں۔”
    حامد میر نے مزید کہا کہ: عمران خان کے دور میں بھی کچھ سیاستدانوں کے انٹرویو سنسر کرائے جاتے تھے اس دور میں بھی کچھ شخصیات کے انٹرویو کرنا مشکل ہے مثال کے طور پر منظور پشتین کا انٹرویو نشر کرنا بہت مشکل ہے منظور پشتین پر وہی مقدمات ہیں جو عمران خان پر بھی ہیں لیکن ایک ٹی وی پر آ سکتا ہے دوسرا نہیں۔


    حامد میر کی تردید کے بعد شبیر جان نے انہیں لکھا کہ: عمران خان کے دور میں آپ پر پابندی جیو نے لگائی تھی ناکہ عمران خان نے اور اگر جیو نے نہیں لگائی تو پھر جنرل رانی نے لگائی ہوگی جس کا آپ نے اپنے بیان میں ذکر کیا تھا۔

    اسلام آباد کے صحافی سید عون شیرازی کہتے ہیں کہ: جس حامد میر کو میں جانتا ہوں اُسکا جینا مرنا اسی ملک میں ہے کیونکہ حامد میر جی دار آدمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: حامد میر پر ہر دور میں الزامات لگائے جاتے ہیں اور انہیں سرخرو ہونےکی عادت ہے۔

  • مصطفی کمال مفتی منیب الرحمن سے معافی مانگیں ورنہ۔۔۔تنظیمات اہلسنت کا بڑا اعلان

    مصطفی کمال مفتی منیب الرحمن سے معافی مانگیں ورنہ۔۔۔تنظیمات اہلسنت کا بڑا اعلان

    دارالعلوم امجدیہ کراچی میں علماء و مشایخ اہلسنت و جماعت کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا. اجلاس مین پی ایس پی کے چیئرمین مصطفی کمال کی جانب سے مفتی اعظم پاکستان،آبروئے اہلسنت مفتی منیب الرحمان کے بارے میں کہے گئے گستاخانہ کلمات پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا گیا.اجلاس میں پی ایس پی کے چیئرمین مصطفی کمال کے الفاظ کی شدید مزمت کی گئی.

    اجلاس میں کہا کیا کہ مصطفی کمال کا حملہ صرف مفتی اعظم پاکستان کی ذات پر نہیں بلکہ پوری اہلسنت وجماعت پر ہے.جس کا خمیازہ پی ایس پی کو بھگتنا پڑے گا.اجلاس میں پی ایس پی کے سر براہ مصطفی کمال سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان کی خدمت میں حاضر ہو کر غیر مشرط اعلانیہ معافی مانگیں،بصورت دیکر دارالعلوم امجدیہ کراچی میں عظیم الشان علماء ومشایخ کنونشن منعقد کیا جائے گا ،کس میں اہلسنت و جماعت کی تمام تنظیمیں، قائدین اور عوام شرکت کریں گے.

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک پی یس پی کا چیئرمین مصطفی کمال معافی نہیں مانگتا تب تک پی یس پی کا ہر سطح پر سیاسی،سماجی اور معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے گا اور جمعہ کی خطابات میں مصطفی کمال اور پی یس پی کی شدید مزمت کی جائے گی.

    دارالعلوم امجدیہ کراچی میں علماء و مشایخ اہلسنت و جماعت کا ہنگامی اجلاس میں شیخ الحدیث علامہ مفتی اسماعیل ضیائی، شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی،صاحبزادہ ریحان نغمانی،علامہ مفتی وسیم اختر المدنی،علامہ مفتی خالد کمال،علامہ مفتیعمران شامی،علامہ رضوان احمد نقشبندی،علامہ سید مظفر شاہ قادری،علامہ لیاقت حسین اظہری،علامہ مفتی عابد مبارک المدنی،علامہ محمد اشرف گورمانی،علامہ مفتی ندیم اقبال سعیدی،علامہ مفتی رفیع الرحمان نورانی،علامہ مفتی عمر فاروق قادری،علامہ سلطان مدنی،سید عمیر الحسن برنی اور دیکر نے شرکت کی.

  • عالمی برادری کو افغان مہاجرین کو فراموش نہیں کرناچاہیے، دفتر خارجہ

    عالمی برادری کو افغان مہاجرین کو فراموش نہیں کرناچاہیے، دفتر خارجہ

    پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام نے ملک میں پناہ گزینوں کے لیے مثالی سخاوت، مہمان نوازی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا ہے، بین الاقوامی برادری کو افغان مہاجرین کی دیرینہ صورتحال کو فراموش نہیں کرناچاہیے، پاکستان اس وقت بھی30 لاکھ سے زائد افغانوں کی میزبانی کررہا ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے مسائل کے حل کےلئے کی جانے والی کوششوں میں ساتھ دیں۔ بیان میں کہا گہا ہے کہ پاکستان پناہ گزینوں کے عالمی دن کی یاد میں عالمی برادری کے ساتھ شامل ہے، اس دن کو مناتے ہوئے ہم دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، یہ دن ہمیں یاددہانی کراتا ہے کہ ہم جبری نقل مکانی کے محرکات پر غور کریں اور تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل سمیت پناہ گزینوں کے حالات کے لیے پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔

    دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دن بین الاقوامی بوجھ اور ذمہ داری کے اشتراک کے اصول کے تحت مہاجرین کے تحفظ کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کا اعادہ کرنے کا بھی موقع ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے سے دنیا کے سب سے بڑے اور طویل ترین مہاجرین کے حالات میں سے ایک کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر ڈالی ہے، پاکستان 30 لاکھ سے زائد افغانوں کی میزبانی کررہا ہے جبکہ 4 لاکھ روہنگیا باشندوں نے بھی پاکستان میں پناہ حاصل کی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ جیسے جیسے دنیا بھر میں نئے حالات ابھر رہے ہیں بین الاقوامی برادری کو افغان مہاجرین کی دیرینہ صورتحال کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، کووڈ سے جڑے سماجی، اقتصادی اور صحت کے چیلنجوں کے تناظر میں نئے بین الاقوامی عزم کی ضرورت ہے، افغان مہاجرین کے لیے باقاعدہ، متوقع اور مناسب مالی امداد کے ذریعے ان کی محفوظ اور باوقار واپسی کی ضرورت ہے۔

    دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان کے استحکام اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ضروری اقدامات اٹھانا اہم ہے تاکہ مستقبل میں مہاجرین کے ملک سے انخلاء کے امکان کو روکا جاسکے۔ پاکستان نے اس دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی یو این ایچ سی آر کو دنیا بھر میں پناہ گزینوں اور میزبان کمیونٹیز کی حمایت کے قابل ستائش کام پرخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یو این ایچ سی آر کے ساتھ اپنی قابل قدر شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا منتظر ہے، ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے لیے پائیدار حل کے لیے اس کی کوششوں میں تنظیم کا ساتھ دیں۔