Baaghi TV

Author: +9251

  • شان نے کیوں لیا حکمرانوں کو آڑھے ہاتھوں

    شان نے کیوں لیا حکمرانوں کو آڑھے ہاتھوں

    فلمسٹار شان شاہد جو سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں خصوصی طور پر ٹویٹر پر۔شان عمران خان کے بہت بڑے حامی ہیں اور وہ اپنے پسندیدہ لیڈر کی تعریف کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔حال ہی میں انہوں نے ایک ٹویٹ کیا اور برس پڑے حکمرانوں پر ۔ کہنے لگے ”پیٹرول مہنگا نہیں ہوا لوگ سستے ہوئے ہیں “ اور لوگ تب سستے ہوتے ہیں جب حکمرانوں کے دلوں میں ان پر ظلم کرنے کا درد اور احساس ختم ہوجائے لیکن پھر بھی قوم ہمت اور پاکستان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گی۔ یہی وہ شان شاہد ہیں جو عمران خان کے دور میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر لوگوں کو تسلی دیا کرتے تھے

    اور کہا کرتے تھے کہ عمران خان جو بھی کررہے ہیں وہ پاکستان کے مفاد میں کررہے ہیں لیکن ایکدم شان شاہد کو مہنگائی بھی محسوس ہونے لگی ہے اور حکمرانوں کی ذمہ داریاں بھی محسوس کرنے لگے ہیں ۔ شان شاہد کو بڑی تعداد میں لوگ ٹویٹر پر فالو کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اِدھر وہ ٹویٹ کرتے ہیں اُدھر ان کی پوسٹ کے نیچے لوگوں کے کمنٹس آنا شروع ہوجاتے ہیںکچھ لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں ان کی ہاں میںہاں ملاتے ہیں اور کچھ لوگ ان پر برس پڑتے ہیں اور یوتھیا ہونے کے طعنے دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ شان شاہد کی فلم ضرار کا ٹریلر ریلیز ہو چکا ہے اور فلم ریلیز کے لئے بھی تیار ہے لیکن ریلیز کی تاریخ تاحال سامنے نہیں آسکی اس فلم کو شان شاہد نے خود لکھا ہے ۔

  • صبور علی کو آیا کس کا رشتہ ؟

    صبور علی کو آیا کس کا رشتہ ؟

    اداکارہ صبور علی بھی مہنگائی سے کافی پریشان ہیں لیکن انہوں نے اس کا اظہار نہایت ہی الگ انداز میں کیا ۔انہو ں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شئیر کی جس میں دو تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں ان کی ایک تصویر پر لکھا ہوا ہے کہ لڑکے کا رشتہ آیا ہے جبکہ دوسری تصویر میں صبور علی دلہن بنی ہوئی ہیں اس پر لکھا ہوا ہے کہ لڑکے کا پیٹرول پمپ ہے ۔صبور علی کی مہنگائی پر اس طنزیہ پوسٹ کو بہت زیاد ہ پسند کیا جا رہا ہے ۔صبور علی ہی نہیں مہنگائی سے ہر دوسرا فنکار بھی متاثر ہوا ہے ہر کسی کے دل کی آواز ہے کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے خصوصی طور پر پیٹرول کی قیمتوں نے تو جیسے سب کی ہی کمر توڑ کر رکھ دی ہو ۔

    یاد رہے کہ صبور علیپچھلے برس علی انصاری کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھیں تھیںان کی شادی کو بھی محدود پیمانے پر ہی کیا گیا تھا شادی میں ان کے قریبی دوست اور اہلخانہ کے لوگ شامل تھے۔ شادی کے بعد وہ اب تک کسی بھی پراجیکٹ میں نظر نہیں آئیں ۔ صبور علی سجل کی چھوٹی بہن ہیں دونوں ایک ہی وقت میں ڈرامہ انڈسٹری میں آئیں لیکن سجل صبور سے کافی آگے نکل گئیں یہاں تک کہ انہوں نے بھارت میں سری دیوی کے ساتھ بھی کام کیا ۔صبور علی نے ایک انٹرویو میںکہا تھا کہمیں اور سجل کام کے حوالے سے آپس میں اتنی ہی بات کرتی ہیں کہ وہ آج کل کیا کام کر رہی ہیں اور کہاں جا رہی ہیں اور میں کیا کر رہی ہوں،ہم ایک دوسرے کے پراجیکٹس کو ڈسکس نہیں کرتیں۔

  • زارا شیخ نے فلم انڈسٹری کے بہتری کے لئے دیں کچھ تجاویز

    زارا شیخ نے فلم انڈسٹری کے بہتری کے لئے دیں کچھ تجاویز

    اداکار ہ زارا شیخ جو ماضی قریب میں عمران اشرف کے ساتھ ڈرامہ سیریل ”رقص بسمل “ میں دکھائی دیں تھیں زارا شیخ نےسکرین پر اینٹری کافی عرصے کے بعد دی تھی ان کے پرستاروں نے انہیں بہت زیادہ سراہا بھی تھا لیکن وہ فلموں میں دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔حال ہی میںاپنے ایک انٹرویو میںانہوں نے کہا کہ میں فلموں میںکام کرنا چاہتی ہوں اگر اچھا کام آفر ہواتو یقینا کروں گی ۔زارا شیخ فلم انڈسٹری کی حالت پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک فلم بینوں کا مزاج سمجھ کر فلم نہیں بنائی جائیگی فلم کامیاب نہیںہو گی نہ ہی شائقین سینما گھر میں آئیں گے ۔انہوں نے یہ بھی گلہ کیا کہ فلم میکرز اور ڈائریکٹر ز نے جدید ٹیکنالوجی پر توجہ نہ دی جس کی وجہ سے فلم انڈسٹری تباہی کے دہانے پر جا پہنچی نہ صرف سٹوڈیوز بلکہ سینما گھر بھی ویران پڑے ہوئے ہیں۔ آج کل جو فلمیں بن رہی ہیں اس پر بات کرتے ہوئے زارا شیخ نے کہا کہ ٹھیک ہے آج جو فلمیں بن رہی ہیںا چھی ہیں اچھی کوشش ہیں لوگ کچھ کو پسند کررہے ہیں کچھ پسند نہیں کررہے ۔فلم میکنگ یقینا بہتر ہو رہی ہے ہم بہتری کی طرف جا رہے ہیں لیکن ابھی ہماری منزل بہت زیادہ دور ہے ابھی ہمیں ہر پہلو پر غور کرکے اس پر کام کرنا ہوگا جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا ۔ یاد رہے کہ زارا شیخ نے اپنے کیرئیر کا پہلا پراجیکٹ شان شاہد کےساتھ کیا تھا اس فلم کا نام تھا” تیرے پیار میں“ زارا شیخ کو اس میں بہت زیادہ سراہا گیا تھا ۔

  • صاحبہ اور ریمبو بھی مہنگائی سے ہوئے پریشان

    صاحبہ اور ریمبو بھی مہنگائی سے ہوئے پریشان

    اداکار ہ صاحبہ اور ریمبو بھی ہوئے مہنگائی سے پریشان ،وہ اتنا پریشان ہوئے کہ انہوں نے مہنگائی اور خصوصی طور پر پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے ایک ہلکے پھلکے انداز میں بنائی گئی وڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی۔اس وڈیو میں خود ریمبو اور صاحبہ نظر آ رہے ہیں دونوں کی یہ وڈیو کافی وائرل بھی ہو رہی ہے ۔وڈیو میں صاحبہ ریمبو سے کہتی ہیں کہ جلدی کریں مجھے بہت دیر ہورہی ہے آپ نے پیٹرول بھروا لیا ہے تو ریمبو کہتے ہیں کہ جی جی میں نے پیٹرول بھروالیا ہے ، ٹنکی فل کروا لی ہے صاحبہ بیٹھنے کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتی ہیں تو ریمبو آواز لگاتے ہیں کہ ادھر آﺅ بھئی اِدھر صاحبہ جب ریمبو کی طرف بڑھتی ہیں تو ریمبو بائیک پر بیٹھے ہوتے ہیں اور صاحبہ سے کہتے ہیں کہ

    آج کل ٹنکی صرف اس کی فل ہوسکتی ہے (یعنی موٹر بائیک )۔ صاحبہ ریمبو اس وڈیو کے زریعے بنے لوگوں کی آواز ہر دل کی اس وقت یہی آواز ہے کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے اتنی زیادہ کہ نہ بل افورڈ کئے جا سکتے ہیں اور نہ ہی گاڑی کا پیٹرول ۔دونوں کی اس وڈیو کو سوشل میڈیا پر کافی پسند کیا جا رہا ہے اور لوگ اس وڈیو پر طرح طرح کے تبصرے بھی کررہے ہیں اور اس وڈیو کو خود کے حالات کے کافی قریب تر محسوس کررہے ہیں۔یاد رہے کہ ریمبو کی حال ہی میں گھبرانا نہیں ہے فلم ریلیز ہوئی جبکہ صاحبہ آج کل اپنا بیوٹی پارلر اور یوٹیوب چینل چلا رہی ہیں کہا جا سکتا ہے کہ دونوں سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں ۔

  • آمنہ الیاس نے فلم انڈسٹری کی کامیابی کا فارمولا بتا دیا

    آمنہ الیاس نے فلم انڈسٹری کی کامیابی کا فارمولا بتا دیا

    آمنہ الیاس نے فلم انڈسٹری کی کامیابی کا فارمولا بتا دیا
    ماڈل و اداکار ہ آمنہ الیاس کہتی ہیں کہ فلم انڈسٹری کی کامیابی یا ترقی کے لئے سب کو مل کر سوچنا ہوگا ایسی حکمت عملی بنانی ہو گی جو فلم انڈسٹری کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے لوگوں کو بھی فائدہ دے ۔زیادہ سے زیادہ فلمیں بنانا خوش آئند ہے لیکن صرف فلموں کی تعدا د سے فلم انڈسٹری ترقی نہیں کریگی بلکہ جتنی سرمایہ کاری آئیگی اتنی ہی اچھی اور بہتر فلم بنے گی۔اس طرح تو ایک ہزار بھی فلمیں بنا لی جائیں لیکن اگر وہ غیر معیاری ہیں تو پھر تو فلم انڈسٹری کو ان سے کوئی فائدہ نہ ہوا نا ۔اس لئے کوشش کی جانی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے جب تک زیادہ سرمایہ کاری نہیں کی جائیگی بہتری ممکن نہیں ہے ۔ آمنہ الیاس نے کہا کہ تمام فنکار اور ہدایتکار مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ چلیں تو مسائل کو سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں حل کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے بجٹ میں کئے گئے فلم کے لئے اعلانات کو سراہا لیکن اس چیز کی بھی امید کی کہ ان اعلانات پر عمل درآمدبھی کیا جائیگا ۔

    یاد رہے کہ آمنہ الیاس ماڈلنگ کی دنیا سے آنے والی ایسی فنکارہ ہیں جن کا کام دیکھنے والوں کو بے حد متاثر کرتا ہے آمنہ ایک مکمل پیکج ہیں سنجیدہ ہو یا مزاحیہ ،ڈانس ہو یا ڈرامہ وہ ہر چیز پرفیکٹ انداز میں کرتی ہیں ۔آمنہ الیاس سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں کورونا کے دنوں میںانہوں نے بہت ساری سبق آموز وڈیوز شئیر کیں ان سب وڈیوز میں آمنہ خود نظر آتی رہی ہیں ۔آمنہ بنیادی طور پر تخلیقی ذہن کی مالک ہیں اور ان کو تخلیقی کام ہی اچھا لگتا ہے۔

  • ڈراموں کو نئے چہروں کی ضرورت ہے :فیصلہ قاضی

    ڈراموں کو نئے چہروں کی ضرورت ہے :فیصلہ قاضی

    باصلاحیت اداکارہ فضیلہ قاضی نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ ڈراموں میں نئے چہروں کی ضرورت ہے ایک ہی طرح کے چہرے اور یکسانیت کا شکار کہانیاں ڈراموں کا معیار گرا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فنکاروں کے ساتھ ناانصافیاں ہو رہی ہیں اس کا نقصان براہ راست ڈرامے کو پہنچ رہا ہے ۔چند ایک لوگوں کو ہر ڈرامے میںکاسٹ کر لیا جاتا ہے بار بار انہی کو کام ملتا ہے شاید انہی لوگوں کو کامیابی کی ضمانت سمجھ لیا گیا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے سب کو کام ملنا چاہیے ۔ فضیلہ قاضی نے یہ بات حال ہی میں نہیں کہی ہے بلکہ وہ ایک عرصے سے کہہ رہی ہیں کہ فنکاروں میں ہونے والی تخصیص کو ختم کیا جائے فنکار فنکار ہوتا ہے نہ چھوٹا ہوتا ہے نہ بڑا ۔فضیلہ قاضی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایوارڈ ز بھی اپنے پسندیدہ لوگوں کو ہی دئیے جاتے ہیں ۔

    یاد رہے کہ فضیلہ قاضی لگی لپٹی نہیں رکھتیں ان کے دل میں جو ہوتا ہے وہ بول دیتی ہیں،فضیلہ قاضی نامور اداکار قیصر خان کی اہلیہ ہیں اور قیصر خان بھی ٹی وی کا ایک بڑا نام ہے وہ آج کل اداکاری سے زیادہ وکالت پر توجہ دئیے ہوئے ہیں جبکہ فضیلہ قاضی فل ٹائم اداکاری ہی کررہی ہیںلیکن ان کو انڈسٹری سے کچھ گلے شکوے ہیںجن کا اظہار وہ وقتا فوقتا کرتی بھی رہتی ہیں۔فضیلہ قاضی ہی نہیں بہت سارے دوسرے ایسے سینئر فنکار ہیں جنہیں اس قسم کے گلے شکوے ہیں۔

  • جُگ جُگ جیو کی ریلیز کرن جوہر  کے بغیر ہی ہوگی

    جُگ جُگ جیو کی ریلیز کرن جوہر کے بغیر ہی ہوگی

    کرن جوہر کی فلم جُگ جُگ جیوجس کے ہر طرف چرچے ہیں چوبیس جون کو ریلیز ہو نے جا رہی ہے لیکن اس کی ریلیز کے دن پرڈیوسر کرن جوہر ممبئی کیا ملک میںہی موجود نہیں ہوں گے کیونکہ اپنی فیملی کے ساتھ انہیں لندن جانا پڑا ۔کرن جوہر اس وقت لندن میں موجود ہیں ۔ہیتھرو ائیرپورٹ پر جب ان سے ریلیز کے روز ان کی عدم شرکت کے حوالے سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ میں بے خبر رہوں گا بلکہ میںلندن میں بیٹھ کر اپنی مارکیٹنگ ٹیم کی ایک ایک مُوو پر نظر رکھوں گا ۔فلم کی ایڈوانس بکنگ پر شائقین کا جو ریسپانس ملا ہے اس کو دیکھتے ہوئے بِہار کے نامور ایگزیبیٹر ثمن سنہا کہتے ہیں کہ جس طرح سے فلم کی ٹکٹیں فروخت ہوئیں یا ایڈوانس بکنگ ہوئی ہے

    وہ بہت ہی زیادہ حوصلہ افزاءہے ، جگ جگ جیو ریفریشنگ فلم ہے اور اس وقت لوگ ایسی ہی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں وہ بالکل بھی اس سے ہٹ کر فلمیں دیکھنے کےلئے تیار نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ شائقین اس فلم کو دیکھنے کےلئے بےتاب کیونکہ کافی عرصے کے بعد کرن جوہر کے سٹائل کی فلم ان کو دیکھنے کو مل رہی ہے۔اُدھر فلم کی کاسٹ بھی کافی پرجوش ہے وہ بھی بھرپور انداز میں فلم کی پرموشن کررہی ہے ۔نیتو سنگھ اور انیل کپور کافی عرصے کے بعد سکرین پر جلوہ گر ہورہے ہیں۔فلم کی کاسٹ میں ان کے علاوہ کیارا ایڈوانی اور ورون دھون نظر آئیں گے فلم کا میوزک پہلے ہی سپر ہٹ ہو چکا ہے ۔

  • چھوٹے کاشتکاروں کوآسان اور بلاسود قرضے دیں گے،حمزہ شہباز

    چھوٹے کاشتکاروں کوآسان اور بلاسود قرضے دیں گے،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کاشت کار کو سہولت اور عوام کو اشیاء ضروریہ مقرر کردہ نرخوں پر فراہمی کے لئے بڑے فیصلے کئے گئے.وزیر اعلی حمزہ شہباز نے چھوٹے کاشتکاروں کو اخوت کی طرز پر آسان اور بلاسود قرضے دینے کی لئے جامع پلان طلب کر لیا.

    کاشتکاروں کا استحصال روکنے کے لئے پنجاب بھر کی مارکیٹ کمیٹیوں کی تشکیل نو کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جبکہ آکشن سپروائزری عملے کے فی الفور رد و بدل کا فیصلہ کی اگیا ہے ،اس موقع پر حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ چھوٹے کاشتکاروں آسان اور بلاسود قرضے دینے کی لئے بینک آف پنجاب سے بھی مشاورت کی جائے۔ مارکیٹ کمیٹیوں میں بہترین ہیومن ریسورس کو انڈکٹ کیا جائے.

    وزیراعلٰی نے سیکرٹری زراعت سے سوال کیا کہ ایگری ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی کیا کارکردگی ہے؟ وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نےزرعی ریسرچ اداروں کی کارکردگی رپورٹ بھی طلب کر لی،حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ زرعی شعبے میں ریسرچ کے بغیر پیداوار میں اضافہ محض خواب ہے۔زرعی ریسرچ اداروں نے گزشتہ برسوں جو کام کیا ہے، اس کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کی جائے۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ ان اداروں میں نجی شعبے کے ماہرین کی خدمات بھی لی جائیں،فصلوں کی انشورنس کا پلان بھی تیار کیا جائے۔آنے والے دنوں میں ٹماٹر اور پیاز کی قلت پر قابو پانے کیلئے امپورٹ کے لئے بر وقت اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعٌی نے ہدایت کی کہ ٹماٹر، پیاز اور دیگر اشیاء ضروریہ کی ارزاں نرخوں پر عوام تک فراہمی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے.

    وزیر اعلی حمزہ شہباز نے لاہور سمیت پنجاب کی منڈیوں میں صفائی کے انتظامات اور دیگر سہولتوں کے بارے رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی کہ تاریخ کے ساتھ وڈیو اور تصاویر آج رات تک وزیر اعلی آفس بھجوائیں.انہوں نے کہا کہ منڈیوں میں کاروبار کرنے والوں کے لیے سہولتیں بہتر بنائیں گے۔

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس میں سبزیوں کی پیداوار اور طلب کا جائزہ لیا گیا ،اجلاس میں آڑھتی کے رول کو کم کرنے پر بھی غور کیا گیا.صوبائی وزیر سردار اویس لغاری، ایم پی اے بلال یاسین، پولیٹیکل اسسٹنٹس، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، کمشنر لاہورڈویژن اور اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی.

    مزید برآں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف سے وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے ملاقات کی. ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ہونے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کی مثبت پیش رفت پر حنا ربانی کھر اور پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا .

    حمزہ شہباز نے کہا کہ فیٹف کی گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں جانے کے لیے مثبت پیش رفت پاکستان کی جیت ہے۔امید ہے کہ فیٹف ٹیم کے دورے کے بعد پاکستان وائٹ لسٹ میں واپس آجائے گا۔ رکن قومی اسمبلی رضا ربانی کھر، صوبائی وزیر سید علی حیدر گیلانی،سرداراویس لغاری، رکن پنجاب اسمبلی مخدوم سید عثمان محمود بھی اس موقع پر موجود تھے

  • بوبی دیول نے بتایا کہ انہیں کھانے میں کیا ہے پسند

    بوبی دیول نے بتایا کہ انہیں کھانے میں کیا ہے پسند

    نوے کی دہائی کے سٹار بوبی دیول نے حال ہی میںایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کو کھانے میں کیا کیا پسند ہے ۔بوبی دیول نے بتایا کہ وہ جب وزن کنٹرول کررہے ہوں تو اس وقت ان کی ڈائیٹ کچھ اور ہوتی ہے اور جب وزن کنٹرول نہ کررہے ہوں تو اس وقت انہیں جو ملتا ہے وہ کھا لیتے ہیں۔بوبی نے یہ بھی کہا کہ میں کھانے کا بہت زیادہ شوقین نہیں ہوں اور مجھے نیند بہت کم آتی ہے اتنی کم کے مشکل سے چار پانچ گھنٹے ہی سو پاتا ہوں بہت کوشش کرتا ہوں لیکن سات آٹھ گھنٹے کی نیند نہیں لے پاتا حالانکہ سات آٹھ گھنٹے کی نیند لینا بہت ضروری ہے۔

    بوبی دیول نے بتایا کہ وہ ناشتے میں انڈہ سلائس کھاتے ہیں دوپہر میں گرل چکن اور رات کو بھی گرل چکن اور اس دوران اگر بھوک لگے تو بادام کھا لیتا ہوں ۔ جب وزن کنٹرول نہ کررہا ہوں تو گھی ،مکھن دہی ہر چیز کھاتا ہوں ۔مجھے لوکی کی سبزی بہت زیادہ پسند ہے اور یہ میری فیورٹ انڈین ڈش بھی ہے اور ویسٹرن فیورٹ ڈش پوچھیں تو مجھے پاستا بہت پسند ہے۔میٹھے میں ہمارے گھر گاجر کا حلوہ اور کھیر بنتی ہے وہ شوق سے کھاتا ہوں ۔بوبی دیول نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ جوان تھے اس وقت دن میں چار پانچ بار اورنج جوس پی لیا کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے گھر میں گائے اور بھینسیں ہیں ان ہی کا دودھ دہی اور مکھن کھاتے یں ۔مجموعی طور پر بوبی دیول نے بتایا کہ انہیں پراٹھا ،گاجر ،پیزا ہر چیز اچھی لگتی ہے۔

  • سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو پروگرام میں بلانے پر سلیم صافی تنقید کی زد میں

    سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو پروگرام میں بلانے پر سلیم صافی تنقید کی زد میں

    گزشتہ 18 جون کی شب معروف اینکرپرسن سلیم صافی نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار کو جیونیوز کے پروگرام جرگہ میں بلایا جس میں ان سے نقیب اللہ محسود کےقتل سمیت متعددپولیس مقابلوں پرسوالات کئے جس پر سابق ایس ایس پی نے اینکر کو جواب دیا کہ : ” میں پورے پاکستان کو چیلنج کرتاہوں کہ اگر کوکوئی نقیب اللہ ولد محمدخان کا شناختی کارڈ یا فارم (ب) لے آئے تو میں سزا کیلئے تیار ہوں۔

    ایک اور سوال کے جواب میں راؤانوار نے بتایا: "پولیس والے کاویسے بھی ففٹی فٹفی ہوتا ہے، ایک چور آتاہے اور ایک شریف آدمی اب پولیس والا چور کاساتھ دے تو شریف آدمی ناراض اور شریف آدمی کا ساتھ دو تو چور ناراض ہوجاتا ہے۔”

    قبائلی نوجوان نوید الحق اورکزئی نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ: آخر سلیم صافی کو کیاضرورت ہے کہ ہزاروں لوگوں کے قاتلوں کو ہی اپنے پروگرام میں بلاتا ہے ؟ سلیم صافی نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو اپنے ٹی وی پروگرام میں بلاکر کوئی پہلی بار کسی قاتل کا انٹرویو نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے بھی وہ ہزاروں لوگوں اور آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے قاتل اور ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرچکے ہیں۔

    نوید نے مزید کہا کہ : بطور ایک قبائلی پختون مجھے دکھ ہوا کہ ایک پختون صحافی ہونے کی حثیت سے سلیم صافی نے صرف نقیب اللہ محسود کے قاتل کا ہی نہیں بلکہ چار سو زائد بےگناہوں کے قاتل کا انٹرویو کیا۔ لہذا انہیں یہ ضرور بتانا چاہیے کہ وہ ہمیشہ قاتلوں کا انٹرویو ہی کیوں کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ یہ ذمہ دار ی میڈیا کے اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے متنازعہ اور مجرموں کی انٹرویو ز نشر نہ کرے ۔

    لیکن سلیم صافی نے اپنا موقف پیش کرتےہوئے کہاکہ:” کسی کا انٹرویو کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ اس انسان کے ہمنوا بن گئے ہیں ۔ انہوں نے مثال دیتےہوئے بتایاکہ میں اپنے پروگرام میں شبلی فراز کو نہیں بلاتا تھا لیکن جب وہ حکومتی ترجمان بن گئے تو پھر ان کا موقف لینا میری مجبوری بن گیا اسی طرح اسامہ بن لادن نائن الیون کا ذمہ دار تھا مگر انکے انٹرویوز سی این این اور الجزیرہ پر نشر کئے جاتے تھے۔

    صحافی فیض اللہ لکھتے ہیں کہ: "راؤ انوار کا انٹرویو ہوسکتا ہے مگر اسکے خلاف پانچ برس سے احتجاج کرتے مظاہرین کو دس سیکنڈ کے لئیے دکھایا جاسکتا ہے نا ہی انکا ایک منٹ کا انٹرویو چل سکتا ہے اسے کہتے ہیں اظہار رائے کی آزادی کا شاندار نمونہ۔”


    ایک صارف شبانہ شوکت لکھتی ہے کہ: "کیا یہ ہمارا سب سے بڑا المیہ نہیں کہ راؤ انوار جیسے سرکاری قاتل ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بھاشن دے رہے ہیں؟”


    اینکرپرسن سلیم صافی نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ: میرے ساتھ انٹرویو میں سابق ایس ایس پی راو انوار نے جو دعوے کئے تھے، اسکےجواب میں ایم کیوایم پاکستان کے فاروق دادا مرحوم کی اہلیہ کا موقف ۔۔۔۔انٹرویو میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے ان میں سے کوئی بھی اپنا موقف دینا چاہے تو میرے سوشل میڈیا پلیٹ فورم حاضر ہیں۔


    ایک ٹوئٹرصارف ذیشان ممتاز نے ناقدین کے جواب پرسلیم صافی کو کہا کہ:
    جس پلیٹ فارم میں قاتل کا انٹرویو کیا انصاف کا تقاضہ ہے اسی پلیٹ فارم پر ان کی دیگر جس پر قاتل نے الزام لگایا موقع دیں ورنہ یہ ڈھونگ نہ کریں اور مظلوموں پر نمک پاشی نہ کریں