Baaghi TV

Author: +9251

  • وفاقی وزیر سالک حسین کا پاک ترک بزنس کونسل کا دورہ

    وفاقی وزیر سالک حسین کا پاک ترک بزنس کونسل کا دورہ

    اسلام آباد:وفاقی وزیر سالک حسین اور سیکرٹری بورڈ آف انوسٹمنٹ نے پاک ترک بزنس کونسل کا دورہ کیا ہے اور اس دوران پاکستانی وفد کو پاک ترک بزنس کونسل کے صدر نے خوش آمدید کہا ۔

    وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری چوہدری سالک حسین کی مختلف کاروباری وفود سے ملاقاتیں ہوئیں دوران ملاقات دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے میں مختلف ترک سرمایہ کاروں کی تجاویز کو سراہا گیا جبکہ وفاقی وزیر کا دو طرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال بھی ہوا۔

    وفاقی وزیراورسیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں خصوصاً سی پیک سے متعلق منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی

    اس موقع پر وفاقی وزیر چوہدری سالک نے کہا کہ ترک سرمایہ کاروں کو حکومت پاکستان کی جانب سے ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، پاکستان میں قائم 22 اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں

    ادھر آج مسلم لیگ ق کے رکن قومی اسمبلی چودھری مونس الہٰی خود ایف آئی اے لاہور کے دفتر پہنچ گئے اس دوران انہوں نے کہا کہ گرفتارکرنا ہے تو کرلیں۔

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ حاضر ہیں، انہیں کیس میں پیش ہونے پرکوئی اعتراض نہیں، انہیں پتہ نہیں ہے، رانا ثنا اللہ کہہ رہے ہیں 72کروڑ روپے کا کیس ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ سیاسی انتقام ہے۔

    مونس الٰہی نے کہا کہ انہوں نے مجھے گرفتار کرنے کیلئے ٹیمیں تیارکیں، میری اطلاع کے مطابق انہوں نےمجھ پر شوگر کمیشن کاکیس بنایا ہے، رانا ثنا اللہ کہہ رہے ہیں کہ نوٹس بھیجاہے لیکن مجھے کسی قسم کا نوٹس نہیں ملا، مجھے انہوں نے گرفتار کرنا ہے میں حاضر ہوں، ابھی جاکر دیکھتا ہوں کیا کیس ہے۔

  • عمران خان سے رابطےتیزہوگئے:بڑی بڑی شخصیات قافلے میں شامل ہونے کےلیےتیار

    عمران خان سے رابطےتیزہوگئے:بڑی بڑی شخصیات قافلے میں شامل ہونے کےلیےتیار

    اسلام آباد:عمران خان سے رابطےتیزہوگئے:بڑی بڑی شخصیات قافلے میں شامل ہونے کےلیےتیار،اطلاعات ہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے قافلے میں بڑی بڑی شخصیات شامل ہونے کی خواہش رکھتی ہیں ،بہت سے لوگ رابطے میں ہیں اورکچھ کی ملاقات کنفرم ہوچکی ہے،شاید یہی وجہ ہےکہ گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی سمیت مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کی ہیں۔

    پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق 2 دن میں اہم سیاسی و مذہبی شخصیات نے عمران خان سے رابطے کیے ہے، جن میں پیپلز پارٹی کے سابق ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی نے خیبر پختون خواہ ہاؤس اسلام آباد میں عمران خان سے ملاقات کی ہے، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی ہے۔

    پیپلزپارٹی کوسخت دھچکا لگا ہے اورلودھراں سے پی پی سابق رکن اسمبلی حیات اللہ ترین اور ملتان سے پیپلز پارٹی امیدوار اور یوسف رضا گیلانی کے قریبی ساتھی خرم خاکوانی نے بھی چیئرمین تحریک انصاف سے ملاقات کی ہے، جس میں انہوں نے تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ان رہنماوں نے عمران خان کے ویژن کی حمایت کی اورساتھ چلنے کا عہد کیا

    یاد رہےکہ چند دن پہلے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے بھی سابق وزیراعظم سے ملاقات کی ہے، اور وہ بھی کپتان کے قافلے میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔

    دوسری جانب عمران خان سے مذہبی شخصیات کی ملاقاتوں کا بھی سلسلہ جاری ہے، جے یو آئی ف سے تعلق رکھنے والے مولانا شیرانی کے بعد سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا نے بھی اہم ملاقات کی ہے۔

  • میں نے کسی قسم کا سیاسی بیان نہیں دیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

    میں نے کسی قسم کا سیاسی بیان نہیں دیا:ڈی جی آئی ایس پی آر

    اسلام آباد:ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سازش کا لفظ اعلامیہ میں شامل نہیں تھا، جوڈیشل کمیشن بنانے پر کوئی اعتراض نہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے متعلق کل تفصیلی بات کی تھی، کمیٹی اجلاس میں واضح کردیاگیاتھاکہ سازش کےکوئی ثبوت نہیں جبکہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس میں تمام سروسز چیفس نے اپنا موقف واضح بیان کردیاتھا۔

    شوکت ترین کےحوالےسےسوشل میڈیا پرلگائےالزامات بےبنیاد پروپیگنڈا ہیں:آئی ایس پی آر

    پاک فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سائفر معاملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنے یا کوئی اور فورم ہو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    پاکستان دنیا میں امن مشن کیلئے فوج دینے والا دوسرابڑا ملک ہے، آئی ایس پی آر

    انہوں نے کہا کہ سروسز چیف سے متعلق ان کے ترجمان کے طور پر بات کررہا ہوں، کمیٹی میں کسی بھی سروس چیف نے یہ نہیں کہا کہ سازش ہوئی، میٹنگ میں سروسز چیفس، ڈی جی آئی ایس ایس نے وضاحت کردی تھی کہ سازش کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قومی سلامتی کا ایشو تھا اس لیے تمام سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کو وہاں بلایا گیا تھا، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا تھا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کے شواہد موجود ہیں۔

    بلوچستان: دیودار کے جنگلات میں لگی آگ کے متعلق آئی ایس پی آر کا بیان جاری

    میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ کوئی کہہ رہا تھا کہ عسکری قیادت کی رائے تھی کہ سازش نہیں ہوئی، ہماری رائے نہیں تھی انٹیلی جنس بیسڈ تمام شواہد موجود ہوتے ہیں جس پر ہم نے میٹنگ میں ان پٹ دی، انہوں نے کہا کہ میٹنگ سے قبل عسکری قیادت کو شواہد کی بنا پر بریف کیا گیا تھا اور وہی ان پٹ لے کر وہ میٹنگ میں گئے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنے یا کوئی اور فورم ہو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، گزشتہ حکومت کے پاس بھی کمیشن بنانے کے آپشنز موجود تھے اور موجودہ حکومت کے پاس بھی ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ حکومت کا اختیار ہے کہ کمیشن بنائے یا کچھ بھی کرے ہمیں اعتراض نہیں،بطور ادارہ ہمیں ہدایات ملیں گی تو مکمل تعاون اور سپورٹ کریں گے، پہلے بھی ہم مکمل اسسٹنس دے چکے ہیں دوبارہ بھی ضرورت ہوگی تو دیں گے۔

  • پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے، سراج الحق

    پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے۔ حکمران جماعتوں کے درمیان جاری چپلقش کا انجام خطرناک ہو گا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے عوام کو سینڈ وچ بنایا ہوا ہے۔ ظالم اشرافیہ کو عوام کی فکر نہیں، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا سانس لینا دشوار ہو گیا۔ مزدور، کاشتکار رُل گئے، تعلیم غریب کے بچے کی پہنچ سے دور،عام آدمی کے لیے علاج کرانا ناممکن ہو چکا۔ گھمبیر حالات میں حکمران جماعتیں مسلسل گالم گلوچ کی سیاست کو ہی پروان چڑھا رہی ہیں۔ اپنے رویے درست کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے، تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں مفادا ت کی جنگ جاری ہے۔

    قوم اب ان حکمرانوں سے تنگ آ چکی، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ اسلامی انقلاب ہے۔ جماعت اسلامی قوم کو دعوت دیتی ہے کہ اسلامی نظام کے لیے ہمارے دست و بازو بنیں۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں کہیں نہ کہیں حکومت میں ہیں، صرف جماعت اسلامی ہی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ قرآن و سنت کے نظام اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ حکمرانوں کی لڑائی کی وجہ سے قوم شدید پولرائزیشن کا شکار ہے، قومی میڈیا تعمیری کردار ادا کرے۔ سیاسی جماعتوں کے ورکرز اور کارکنان سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جماعت اسلامی کا سوشل میڈیا اور کارکنان معاشرے میں اسلامی شعائر کی ترویج، نظریہ پاکستان کے فروغ اور قوم میں اتحاد و اتفاق کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔

    سراج الحق منصورہ میں میڈیا کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم،سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔
    سراج الحق نے کہا کہ وفاق اور صوبوں نے جو بجٹ پیش کیے ہیں اس سے صرف مراعات یافتہ طبقہ کو مزید مراعات ملیں گی یا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔بجٹ میں عام شہری کے حصے میں معاشی تباہی کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ حکمران جماعتوں نے مل کر ملک کو عملی طور پر آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے۔ غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے قومی خزانے میں سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ اتحادی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 60روپے فی لٹر اضافہ کر کے بھی بس نہیں کی اور قیمتوں کو مزید بڑھانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    حالات اسی طرح رہے تو پٹرول 260روپے فی لٹر تک پہنچ جائے گا۔ بجلی کے ٹیرف میں 9روپے فی یونٹ اورگیس کی قیمتوں میں 45فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو گیا۔ ملک کے طول و عرض میں 12گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ جاری، بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں کو فیول دستیاب نہیں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر صرف 9.2ارب ڈالر ہیں۔ گزشتہ 10ماہ میں برآمدات 30ارب ڈالر جب کہ درآمدات کا حجم 75ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ حکومت کو خسارہ کم کرنے کے لیے کم از کم 12ارب ڈالر چاہییں۔ حکمران ابھی سے ہی منی بجٹ کی باتیں کر رہے ہیں۔

    امیر جماعت نے کہا کہ سودی معیشت، کرپشن مسائل کی جڑ ہیں۔ مافیاز نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ حکومت کو کہا تھا کہ بجٹ میں سودی معیشت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں، مگر حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بجٹ تیار کیا اور اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    جماعت اسلامی ان حالات میں خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ چوکوں چوراہوں میں عوام کا مقدمہ لڑا جائے گا، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔قوم آزمائے ہوئے لوگوں کو مسترد کرے اور جماعت اسلامی کو خدمت کا موقع دے۔ لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ ظالموں کا ساتھ دینا ظالم میں شراکت کے مترادف ہے۔ 75برسوں سے عوام کی گردنوں پر سوار جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو گھر بھیجنا ضروری ہے اور اسی سے ہی ملک کی کشتی گرداب سے نکل پائے گی۔

  • بہاولپورائیرپورٹ کو انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا درجہ دیاجائےتودنیاہماری ہوجائےگی:خصوصی رپورٹ

    بہاولپورائیرپورٹ کو انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا درجہ دیاجائےتودنیاہماری ہوجائےگی:خصوصی رپورٹ

    لاہور:بہاولپورائیرپورٹ کو انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا درجہ دیاجائےتودنیاہماری ہوجائےگی،یہ افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے اور حقیقت بھی ایسی کہ چودھویں‌ کے چاند کی طرح روشن ہے ، کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا،بس اس ساری صورت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے اورپھرحکام کے دلیرانہ فیصلوں کی ضرورت ہے :

    بہاولپورائیرپورٹ کن خصوصیات کا حامل ہے اورپھربہاولپور ہی کو کیوں انٹرنیشنل ائیرپورٹ قراردیا جانا ضروری ،

    پاکستان کا بہاولپورائیرپورٹ بالکل بھارتی دارالحکومت میں واقع دہلی ائیرپورٹ کے بالکل برابر ہے اور دونوں کے درمیان 35 منٹ کی مسافت ہے،بہاولپورکا ائیرپورٹ دہلی کی نسبت زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ یہ ائیرپورٹ دہلی کی نسبت کم گنجان آباد آبادی سے دور ہے

    بہاولپورسے فقط 35 کلومیٹردور دہلی کا ائیرپورٹ بہاولپورکی نسبت اتنا زیادہ فعال کیوں اور دنیا کی اس پرنظریں کیوں ہیں ، یہ ہی اصل نقطہ تفہیم ہے ،

    دہلی ائیر پورٹ بڑا ائیرپورٹ کیوں اورکیسے بنااس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں

    دہلی ائیرپورٹ پراترنے والی ہرپرواز آدھا آدھا گھنٹےہوا میں رہتی ہےصرف اس لیےوہ کہ ان پروازوں نے دہلی ائیرپورٹ سے ایندھن بھرنا ہوتا ہے اورپھراپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہونا ہوتا ہے

    اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ جس نے یورپ یا امریکہ جانا ہےیا پھر دنیا میں کہیں بھی سفر کرنا ہے تو اس کو لازمی دہلی ائیرپورٹ سے فیول لینا پڑتا ہے،جبتک فیول نہ لیں آگے جانے کےلیے ایندھن ہی نہیں ہوتا اس لیے ہرپرواز کودہلی ائیرپورٹ پراترنا پڑتا ہے،یہی وجہ ہے کہ دہلی ائیرپورٹ کے اردگرد آدھا آدھا کھنٹے فلائٹ ہوا میں رہتی ہے

    صرف 35 کلومیٹردورمحفوظ ترین ائیرپورٹ پاکستان کا بہاولپورائیرپورٹ ہے ، اگر پاکستانی حکام دہلی ائیرپورٹ والی سہولیات بہاولپورائیرپورٹ کوفراہم کردیں،بہاولپور میں ری فلنگ اسٹیشن بنادیتے ہیں تو بہاولپوردہلی کے مقابلے میں زیادہ بہتراورآسان یہ سروسز دنیا بھر کی پروازوں کو فراہم کرسکتا ہے

    اس کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ دہلی کا آدھے سے زیادہ رش ٹوٹ کر ہمارے پاس آجائے گا ، پاکستان کو ریونیو بھی ملے گا اورپاکستان کا مقام بھی بہتر ہوگا کیونکہ ہم ان سے پہلے بیٹھے ہوئے ہیں ، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ بہاولپور ہمارا انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی بن جائے گا

    دوسری بات اس کے بعد ہمارے پاس ہینکرز بھی ہیں ، یعنی ایک ائیرپورٹ بنا ہوا ہے تو ائیرپورٹ کے ساتھ کافی رقبہ پڑا ہوا ہے،جہاں سے ایک جہاز ایک سائٹ سے لینڈ کرے گا اور دوسری سائیڈ سے ٹیک آف کرے گا، نارمل رفتار جہاز کی 900 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں دہلی سے بہاولپور اگر اس رفتار کو دیکھتے ہیں تو یہ آدھا گھنٹہ بنتا ہے

    سول ایوشن حکام بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ممکن بھی ہے اورآسان بھی ہے لیکن اس کے لیے عملی اقدامات کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے

    اگر بہاولپور میں ری فلنگ کام شروع ہوجاتا ہے تو بہاولپور میں انٹرنیشنل فلائٹ اترنا شروع ہوجائے گی ہوٹلنگ کا بزنس شروع ہو جائے گا اور ایکٹیویٹی بڑھ جائے گی لوکل بزنس میں ترقی ہوگی باہر سے لوگ آنا شروع ہوجائیں گے جو بہاولپور سے ہوکر دوسرے ملکوں میں جائیں گے اور سیاحت کو فروغ ملے گا

    اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے صحرا کو پکنک پوائنٹ بھی بنا سکتے ہیں دبئی صحرا ہمارے صحرا سے چھوٹا ہے جبکہ ہمارا صحرا اس سے بڑا اور خوبصورت ہے خود دبئی والے بھی یہاں کھینچے چلے آتے ہیں دبئی کا صحرا ہر وقت سیاحوں سے بھرا رہتا ہے یہی سیاح یہاں بھی آ سکتے ہیں یہاں امن و امان کا بھی کوئی مسلہ نہیں

    بس ایک عرض ہےکہ خدا کے لیے کچھ کرو تو سہی ، پاکستان کو اللہ نے بڑی نعمتوں سے نوازا ہے ،ہمیں ان نعمتوں سے بھرپورفائدہ اٹھانا چاہیے

  • کراچی ضمنی الیکشن،جوڑتوڑجاری،پی پی اورایم کیوایم کےدرمیان سخت مقابلہ

    کراچی ضمنی الیکشن،جوڑتوڑجاری،پی پی اورایم کیوایم کےدرمیان سخت مقابلہ

    کراچی :کراچی ضمنی الیکشن،جوڑ توڑ جاری،پی پی اورایم کیوایم کے درمیان سخت مقابلہ ،اطلاعات کے مطابق سیاسی ماحول ایک بارپھر گرم ہے اورسیاست کے ایوانوں میں جہاں ایک طرف دوستیاں ہیں تو وہاں دوسری طرف حلقے کی سیاست میں انتہائی مخالفت بھی جاری ہے، کچھ ایسا ہی کراچی میں ہورہا ہے جہاں ایک مرنے والے قومی اسمبلی کے رکن کے حلقے میں ضمنی الیکشن ہونے جارہا ہے ،کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے240 پر کل ضمنی الیکشن ہوگا تاہم پولنگ سے چند گھنٹے قبل متعدد امیدوار دستبردار ہوگئے ہیں۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے240 پرضمنی انتخاب کاشیڈول جاری

    ذرائع کے مطابق کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 240 سے ایم کیو ایم پاکستان کے رُکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی نشست پر پر کل ضمنی الیکشن ہوگا تاہم پولنگ سے ایک روز قبل بھی جوڑ توڑ جاری ہے اور متعدد آزاد امیدواروں نے دستبرداری اور کئی سیاسی جماعتوں اور برادریوں نے انتخابی میدان میں موجود امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق عجیب صورتحال ہے، وہ پارٹیاں‌ اس وقت پارلیمنیٹ میں موجود ہیں وہ وہاں توایک دوسرے کا دم بھررہی ہیں لیکن حلقے میں ایک دوسرے کی مخالفت کررہے ہیں

    الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندی: قومی اسمبلی میں نشستیں کم ہوگئیں

    کراچی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آزاد امیدوار عمیر علی انجم ایم کیو ایم امیدوار کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار نعیم حشمت نے بھی دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف)، مئیو برادری اور قریشی برادری نے اس حلقے سے ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ایک اورآزاد امیدوار شاہین خان نے مہاجر قومی موومنٹ کے امیدوار کے حق میں دستبرداری کا اعلان کردیا ہے، دوسری جانب مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے امیدوار ناصر لودھی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

    دستبرداری اور حمایت کے اعلان کے بعد اب حلقے میں 6 سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سمیت 15 آزاد امیدوار میدان میں باقی رہ گئے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق مذکورہ حلقے میں حلقےمیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، مہاجر قومی موومنٹ اور ٹی ایل پی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

    بلاول کی نااہلی کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو 30روز میں فیصلے کا حکم

    واضح رہے کہ کل این اے 240 پر ہونے والے ضمنی الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتظامات مکمل کرنے کے بلند وبانگ دعوے کئے گئے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔پولنگ سامان کی ترسیل کے لئےحاصل ٹرانسپورٹ ناکافی ہونے کے باعث عملہ انتخابی مواد اپنی مدد آپ کے تحت متعلقہ پولنگ اسٹیشن لے جارہاہے،کل ہونے والے ضمنی الیکشن میں امن وامان کی صورت حال کوبہترکرنےکے لیے متعلقہ سیکورٹی حکام کوشاں ہیں

  • مشکل حالات کے باوجودعوام دوست بجٹ پیش کیا،حمزہ شہباز

    مشکل حالات کے باوجودعوام دوست بجٹ پیش کیا،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے مشکل حالات کے باوجود ٹیکس فری اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ، بجٹ صوبے کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دیا گیا ہے۔ 200ارب روپے کے تاریخی امدادی پیکج کے تحت 10کلو آٹے کا تھیلا اب 490روپے میں دستیاب ہے۔

    بجٹ اجلاس کے بعد حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ اس امدادی پیکج کے ساتھ غریب عوام کی سہولت کے لیے 134ارب روپے کے رعایتی پیکج بھی دیا گیا ،134ارب روپے کے رعایتی پیکج کے تحت عوام کو اشیاء خورد و نوش کی رعایتی قیمتوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ جنوبی پنجاب، تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں کی پائیدار ترقی کے لئے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔

    حمزہ شہبازکا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ سے سرکاری ملازمین کو ریلیف ملے گا۔ گریڈ ایک سے گریڈ 19 تک ملازمین جو دیگر الاونس نہیں لے رہے ،انہیں 15فیصد خصوصی الاؤنس بھی ملے گا۔ کم از کم اجرت 20,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ کرکے مزدوروں کو ان کا حق دیا ہے ۔ ‏یکم جولائی سے پنجاب کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور مراکز صحت پر مفت ادویات دی جائیں گی۔کینسر کے مریضوں کو بھی مفت ادویات ملیں گی۔

    دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ ان کے پاس لوگ ہی نہیں ہیں، اگر ان کے پاس لوگ ہوتے تو اسمبلی بلڈنگ میں اجلاس کرتے۔
    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ جو اجلاس پہلے سے چل رہا ہو اس کے ساتھ دوسرا اجلاس نہیں ہوسکتا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلا اجلاس تو آج بھی چل رہا ہے، دو آرڈیننس لا کر ایک ادارے کے ساتھ زیادتی کی ہے، یہ ادارے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ گورنر نے ہاؤس کا تقدس پامال کیا ہے، اُن میں عقل ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کام جو آج تک کسی بھی غیر جمہوری حکومت نے نہیں کیا وہ کام یہ لوگ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر اجلاس کی صدارت کرنے کے لیے ڈپٹی اسپیکر کو کہہ ہی نہیں سکتے۔

  • آئل ٹینکرڈرائیور فیصل بلوچ تمغۂ شجاعت کےلیے نامزد

    آئل ٹینکرڈرائیور فیصل بلوچ تمغۂ شجاعت کےلیے نامزد

    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے آئل ٹینکرڈرائیور شیر احمد عرف فیصل بلوچ کو داد شجاعت دینے کے لیے بلوچستان سے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد مدعو کیا۔

    وزیر اعظم نے بہادری کا مظاہرہ کرنے اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر لوگوں کی زندگیاں بچانے پر فیصل بلوچ کو خراج تحسین پیش کیا، اور اسے تمغۂ شجاعت کےلیے نامزد کیا .

    چیف آف اسٹاف 12 کور بریگیڈئیر عابد مظہر نے آئل ٹینکر ڈرائیور فیصل بلوچ سے ہیڈکوارٹر 12 کور میں ملاقات کی۔ چیف آف اسٹاف بریگیڈئیر عابد مظہر نے فیصل بلوچ کی جرأت اور بہادری کو خراج تحسین پیش کیا۔

    قبل ازین بریگیڈئیر عابد مظہر نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کیجانب سے آئل ٹینکر ڈرائیور فیصل بلوچ کو ان کی انسانی خدمت کے اعتراف میں تنہیتی شیلڈ اور نقد انعام دیا ان کا کہنا تھا کہ فیصل بلوچ نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر سینکڑوں افراد کی زندگیاں بچائیں۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ میں آتشزدگی کے شکار آئل ٹینکر کو جان پر کھیل کر آبادی سے دور لے جانے والے ڈرائیور کے لئے 5 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا

    میرعبدالقدوس بزنجو نے آئل ٹینکر ڈرائیور فیصل کی جرأت اور بہادری کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹینکر ڈرائیور نے زندگی خطرے میں ڈال کر لوگوں کی جانوں کو محفوظ بنایا۔

    خیال رہے کہ آئل ٹینکر میں آگ لگنے کا واقعہ کوئٹہ کے نواحی علاقے قمبرانی روڈ پر پیش آیا تھا، جہاں پیٹرول پمپ پر کھڑے آئل ٹینکر میں اچانک آگ لگ گئی تھی۔ ڈرائیور فیصل آگ لگے ہوئے ٹینکر کو حاضر دماغی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبادی سے دور لے گیا تھا اور علاقے کو بڑے جانی و مالی نقصان سے بچا لیا تھا.

  • روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    بیجنگ :روس اپنے آپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائے گا:چین کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کے خلاف مغربی اورنیٹواتحاد کی سازشوں پراپنا ردعمل دیتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ نےآج روس کے مخالفین پرواضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین "خودمختاری اور سلامتی” پر روس کی حمایت جاری رکھے گا،

    چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ژی نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کو فون کال کرتےہوئے تسلی دی کہ روس کے ساتھ ہرمحاذ پرکھڑے ہیں اورچین اور روس کے درمیان تعلقات پہلے سے بہترہوں گے ،چینی صدر نے کہا ہے کہ "چین بنیادی مفادات اور خودمختاری اور سلامتی کے بارے میں روس کی تشویش کو سمجھتا ہے اورچین کبھی بھی روس کو تنہا نہیں چھوڑے گا

    یاد رہے کہ 24 فروری کو روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ شروع کرنے کے بعد سے یہ جوڑے کی دوسری فون پر بات چیت تھی، جسے ماسکو "خصوصی فوجی آپریشن” کا نام دیتا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روس اس وقت مغربی ممالک اور یورپی یونین کے زیرعتاب ہے اوریورپی یونین اور امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے روس پر تنقید اور سزاؤں کی بارش کر دی ہے، جس سے وہ اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ پابندیوں والا ملک بن گیا ہے۔

    تاہم، بیجنگ نے ماسکو کے یوکرین پرحملے پرروس کی مذمت سے نہ صرف انکار کیا ہے بلکہ یہ واضح کردیا ہے کہ یہ روس کا اندرونی معاملہ ہے جس پربیرونی قوتوں کومداخلت کا کوئی حق نہیں پہنچتا ، چین نے امریکہ اوردیگرامریکی اتحادیوں کے پرزورمطالبے کے باوجود تنازع کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی اقدامات کواختیارکرنے کی اہمیت پرزوردیا ہے

    سرکاری روزنامہ گلوبل ٹائمزکے مطابق چینی صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین نے "ہمیشہ خود اس معاملے کی تاریخ اور خوبیوں کی بنیاد پر آزادانہ فیصلے کیے ہیں،” انہوں نے "تمام فریقوں سے یوکرین کے بحران کے مناسب حل کے لیے ذمہ داری کے ساتھ زور دینے کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا،” اور مزید کہا کہ بیجنگ "اس سلسلے میں اپنا مناسب کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔”

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے پوتن کو یہ بھی بتایا کہ چین اقوام متحدہ، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیرالجہتی فورمز پر "ہم آہنگی بڑھانے کے لیے تیار ہے”۔

  • رابی پیرزادہ ہوئیں پریشان

    رابی پیرزادہ ہوئیں پریشان

    رابی پیردازہ جن کی وجہ شہرت ان کی گلوکاری ہے انہوں نے اداکاری بھی لیکن اب وہ شوبز کو خیرباد کہہ چکی ہیں تاہم سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں۔ رابی پیرزادہ نے سوشل میڈیا پر کافی پریشانی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں اس وقت بہت مہنگائی ہو چکی ہے اتنی مہنگائی تو پچھلے چار سال میں نہیں ہوئی جتنی ان چار مہینوں میں ہوئی ہے، پیٹرول کی قیمتیں بجلی کی قمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں لیکن کوئی بول ہی نہیں رہا۔ کیا اب کسی کو مہنگائی نظر نہیں آرہی۔ رابی پیرزادہ نے کہا کہ اس مہنگائی کے عال۱قم میں اخراجات پورے کرنے ہیں تو پھر گھر کے ہر فرد کو کام کرنا ہو گا اس کے بغیر گزارہ ناممکن ہے۔جو عورتیں ان پڑھ ہیں یا گھر سے باہر نہیں نکلتیں ان کو چاہیے کہ وہ گھر میں سلائی کڑھائی کا کام کریں نہیں آتا تو سیکھ لیں اور جو بچوں کو گھر میں ٹیوشن پڑھا سکتی ہیں وہ ٹیوشن پڑھا لیں لیکن کام ضرور کریں اور گھر کا ہرفرد

    مہنگائی کے اس عالم میں کام کرے یہ بہت ضروری ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سب کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔
    یاد رہے کہ صرف رابی پیرزادہ ہی نہیں ہر کوئی مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ سے کافی پریشان ہے۔