Baaghi TV

Author: +9251

  • سابق صدرجنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کی پاکستان واپسی کی منظوری دے دی گئی

    سابق صدرجنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کی پاکستان واپسی کی منظوری دے دی گئی

    اسلام آباد:سابق صدرجنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کی پاکستان واپسی کی منظوری دے دی گئی،اطلاعات کے مطابق سابق صدرپاکستان جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی پاکستان واپسی کی منظوری دے دی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے متعلقہ حکام کووزارت داخلہ کی طرف سے جاری دستاویزات بھی پہنچا دی گئی ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزارت داخلہ رات سے اس پروسیجر کو مکمل کرنے میں مصروف تھی اور آج ابھی تھوڑی دیرپہلے وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے دبئی میں شدید علیل سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی وطن واپسی کی منظوری دی ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے پرویز مشرف کو پاکستان واپسی پر سیکیورٹی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔اس کے لیے سیکورٹی سکواڈ بھی تیارکردیا گیا ہے اوران کوسابق صدرکے پاکستان پہنچتے ہی ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے احکامات بھی جاری کردیئے گئے ہیں

    ادھر اس سے پہلے وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نہیں تھا۔وہ پاکستان جب چاہیں واپس آسکتے ہیں ان کو کوئی نہیں روک سکتا

    ادھر ذرائع کے مطابق سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی فیملی بھی واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہے اورامید کی جارہی ہے کہ آج رات کسی بھی وقت سابق صدر کوپاکستان پہنچا کرملٹری ہسپتال راولپنڈی میں علاج معالجے کے لیے داخل کروا دیا جائے گا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کے علاج معالجے کے انتظامات بھی کرلئے گئے ہیں‌

  • روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    اپریل میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مزاکرات اور اہم ملاقاتیں ہو ئیں – وزیراعظم مودی اور صدر بائیڈن نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے درمیان مزاکرات سے پہلے ایک حیرت انگیز ورچوئل سمٹ کا اعلان کیا گیا جو ( سمٹ فارمیٹ ڈائیلاگ )یوکرین میں جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ہوا ہے۔

    بھارت اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی مزاکرات کے دوران یوکرینکے معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا جبکہ دیگر معاملات پربھارت امریکہ معاہدوںپر اتفاق کیا گیا اور معاندوں کا بھی اعلان کیا گیا ۔جو گزشتہ سال بھارت میں امریکی دفاع اور خارجہ سکریٹریز کے مزاکرات کے تیسرے دور میں کیا گیا. امریکی صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار بھارت امریکہ 2+2 وزارتی اجلاس بلایا گیا ہے۔ا

    بھارت امریکہ مزاکرات کوخطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ بھارت نے یوکرین میں روسی جارحیت کی مذمت کے لیے مغربی اور امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے روسی تیل کی درآمد روکنے کی امریکی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔ اور تو اور بھارت نے امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں کی توثیق کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا، تاہم بھارتی اقدامات نے روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مغربی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی اہلکار وینڈی شرمین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہے گا کہ بھارت، روس کے ساتھ اپنی شراکت داری سے الگ ہو جائےجبکہ امریکی وزیر تجارت جینا ریمنڈو نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل خریدنے کے فیصلے پر سخت مایوس ہیں، نائب صدر NSA دلیپ سنگھ جب بھارت آئے اور آکر بتایا کہبھارت کی جانب سے پابندیوں کی خلاف ورزی کے نتائج برآمد ہوں گے، وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر برائن ڈیز نے کہا کہ سنگھ نے بتایا ہےکہ ماسکو کے ساتھ زیادہ واضح اسٹریٹجک صف بندی کے نتائج اہم اور طویل مدتی ہوں گے۔

    بھارت امریکہ 2+2 وزارتیمزاکرات، روس کا یوکرین پر حملہ اور بھارت کی سخت پوزیشن لینے میں عدم دلچسپیی اخبارات کی زینت بنا رہا۔ لیکن اصل دورے سے پہلے کے دنوں میں امریکی پالیسی سازوں نے بھارت امریکہ تعلقات کے حوالے سےمنفی پہلو کو اجاگر کرتے رہے. ایشیائی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں امریکہ نے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے.۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے 11 اپریلکے مزاکرات کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ امرکہ بھارت مذاکرات کے کے دوران اہم اعلانات کے باوجود علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے کاؤنٹرنگ امریکنز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (CAATSA) کے تحت بھارت کے خلاف پابندیوں کے ممکنہ اطلاق پر آگے کا راستہ واضح نہیں کیا۔ یہ بھارت کے روسی ساختہ S-400 میزائل دفاعی نظام کی طویل عرصے سے زیر التوا ء خریداری کے ردعمل میں ہے۔اگرچہ یہ خریداری روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے کی ہے، لیکن یہ حملہ پابندیوں بھارتے پر پابندیاں لگانے کی راہ ہموار کر رہا ہے .

    دونوں فریقوں نے سہ فریقی فوجی مشق، ٹائیگر ٹرمف کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ یہ مشق پہلی بار 2019 میں بڑے دھوم دھام سے شروع کی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس کا انعقاد نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بھارت امریکہ مزاکرات کے مشترکہ اعلامیے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان دیرینہ تجارتی تنازعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اگرچہ 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کا مقصد روزمرہ کے تجارتی مسائل کو ہینڈل کرنا نہیں ہے، لیکن دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو تشویش ہے کہ تجارتی تنازعات کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    خطے کی حالیہ جیوسٹریٹیجک صورتحال کے نتیجے میں، پاکستان کو روس کے ساتھ 2+2 فارمیٹ کے مذاکرات میں مزید اختلافات کو دور کرنے اور ان کی اقتصادی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے جو کہ اب علاقائی انضمام کی کلید ہے۔ پاکستان اور روس دونوں ہی کچھ بنیادی سٹریٹجک شعبوں میں مفادات میں ہم آہنگی رکھتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے مزید امکانات فراہم کرے گا۔اسی طرح حال ہی میں ختم ہونے والے بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ نے بھی واشنگٹن کی متعصبانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے.

    حال ہی میں بھارت نے واضح طور پر روس کے خلاف کارروائی میں امریکہ اور مغربی ریاستوں کو پابند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت نے UNGA اور UNSC میں روس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ امریکی درخواستوں کو مسترد کرنے کے ان جرات مندانہ اقدامات کے باوجود، بائیڈن انتظامیہ CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندی عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    دوسری طرف، امریکہ اور مغربی ریاستیں دوسری ریاستوں پر سخت دباؤ ڈال رہی ہیں جو روس کا ساتھ دے رہی ہیں یا غیر جانبدار ریاستوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے خلاف مغربی اور امریکی اقدامات عروج پر ہیں۔ جبکہ چھوٹی اور کم ترقی یافتہ ریاستیں تیزی سے ان کے مخالفانہ اور امتیازی روش کا شکار ہو رہی ہیں۔نتیجتاً، پاکستان کو اپنے اقتصادی مقاصد کی تکمیل کے لیے روس، چین اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا ہوگا کیونکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک اب تک پاکستان کے اہم کردار، افغانستان امن عمل میں اس کے مثبت اور قائدانہ کردار اور اس کی قربانیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے حوالے سے حالیہ امریکی پالیسی نے ہمیں اقتصادی، سیاسی اور سٹریٹجک تعاون کے لیے مغربی کیمپ سے باہر دیکھنے کا کافی موقع فراہم کیا ہے۔ روس کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات میں اضافہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات کو حل کرنے میں مدد دے گا کیونکہ ماسکو کے بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی ہیں۔ کیونکہ بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کا واحد مقصد روس اور چین پر دباؤ ڈالنا اور خطے میں ان کی اقتصادی پیش رفت کو روکنا ہے۔

  • پروگرام کافی ود کرن میں رنبیر کپور کیوں نہیں جانا چاہتے؟

    پروگرام کافی ود کرن میں رنبیر کپور کیوں نہیں جانا چاہتے؟

    رشی کپور اور نیتو سنگھ کے بیٹے رنبیر کپور جو اپنی ذاتی زندگی کی وجہ سے ماضی میں کافی زیادہ چرچا میں رہے. انہوں‌ نے فلم میکر کرن جوہر کے پروگرام ” کافی ود کرن” میں جانے سے صاف منع کر دیا اور کرن جو ہر کو دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ میں اس پروگرام میں شرکت نہیں‌کر سکتا.
    رپورٹس کے مطابق کرن جوہر نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا ہے کہ رنبیر کپور نے ان کے پروگرام میں آنے سے منع کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں‌ آپ سے بہت محبت کرتا ہوں آپ کے گھر آ کر میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی لوں گا گپ شپ کر لوں گا لیکن پروگرام میں نہیں آسکتا کیونکہ اس پروگرام میں آنے کے بعد مجھے کئی سالوں تک بہت سے سوالوں کا جواب دینا پڑے گا لہذا اس پروگرام میں شرکت کرنے کی قیمت بہت بڑی ہے جس کو میں ادا نہیں‌کر سکتا.کرن جوہر نے رنبیر کپور کی نقل اتارتے ہوئے کہا کہ ” پلیز مجھے اپنے شو پہ مت بلائو” .کرن جوہر نے مزید یہ بھی کہا کہ رنبیر کپور بہت زیادہ پریشان ہو جاتا ہے جب اسے اس شو میں آنے کے لئے کہا جائے.
    کرن جوہر نے یہ بھی کہا کہ کافی ود کرن میں‌ جو سوالات کئے جاتے ہیں ان کو زیادہ سیریس نہیں لیا جانا چاہیے.
    یاد رہے کہ کافی ود کرن میں کرن جوہر بہت سے فنکاروں‌کو انٹرویو کر چکے ہیں اور بعض اوقات ایسے سوال پوچھتے ہیں کہ جو اگلے دن ٹاک آف دا ٹائون ہوتے ہیں.

  • اداکار جنید خان نے بنالیا اپنا پروڈکشن ہائوس

    اداکار جنید خان نے بنالیا اپنا پروڈکشن ہائوس

    ملٹی ٹیلینٹڈ فنکار جنید خان نے ”جیم” کے نام سے اپنا پروڈکشن ہائوس بنا لیا ہے جنید خان نے اپنے پرستاروں سے یہ خبر انسٹاگرام پر پوسٹ کے زریعے شئیر کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جیم صرف ان کے نام کا پہلا حرف نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ لفظ خود سے ہی بہت گہرے معنی رکھتا ہے ۔جنید خان نے مزید یہ بھی کہا کہ میں پروڈکشن ہائوس کی بنیاد رکھ کر بہت زیادہ خوش ہوں اس سفر کا آغاز میں‌ نے آج سے بیس برس قبل کیا تھا.
    جیم کے بینر تلے اب تک ہم دو گانے ریلیز کر چکے ہیں.جنید نے مزید کہا کہ جیم ایک ایسی کمیونٹی ہے جو فن اور تخلیق ،اظہار اور اصلاح کے فروغ کے لئے ہے.

    یاد رہے کہ جیند خان نے بطور گلوکار اپنا کیرئیر شروع کیا لیکن پھر انہیں اداکاری کی آفرز بھی آئیں جس کے بعد انہوں نے اداکاری کی اور اب تک ان کے جتنے بھی ڈرامے آچکے ہیں شائقین نے ان کو بہت زیادہ پسند کیا ہے ان کی آن سکرین جوڑی حرا مانی کے ساتھ بہت زیاد سراہی جاتی ہے.جنید خاموش طبع ہیں اور صرف اپنے کام سے کام رکھتے ہیں‌جیند نے سجنیدہ کردار زیادہ کئے ہیں کامیڈی کردار میں ان کو اب تک نہ ہونے کے برابر ہی دیکھا گیا ہے .جنید خان پشاور زلمی کے لئے بھی اینتھم گا چکے ہیں ان کا یہ انتھم خاصا مقبول ہوا تھا. جنید نے بڑی سکرین پر بھی قسمت آزمائی تھی ”کہے دل جدھر” فلم میں منشا پاشا کے ساتھ کام کیا .

  • کرن جوہر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ بو ل پڑے

    کرن جوہر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ بو ل پڑے

    پچیس مئی کو یش راج سٹوڈیو میں فلم میکر کرن جوہر کی پچاسویں سالگرہ منائی گئی سالگرہ کی یہ تقریب بڑے پیمانے پر کی گئی اس میں نوجوان نسل سے لیکر اولڈ ایج ہر کسی نے شرکت کی۔اس پارٹی کے بعد کچھ فنکاروں کو کورونا ہوا جن میں کترینہ کیف،شاہ رخ خان،کارتیک آریان و دیگر کے نام قابل ذکر ہیں ۔خبریں آنے لگیں کہ کرن جوہر کی سالگرہ پارٹی کے بعد آرٹسٹوں کو کورونا ہوا ہے ۔یہ خبریں جب ہر طرف پھیلنے لگیں تو کرن جوہر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ بول پڑے انہوں نے کہا کہ جس ہفتے میری سالگرہ تھی اسی ہفتے اور بھی بہت سارے ایونٹس تھے ،شادیاں تھیں جس میں سب گئے لیکن یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ میری سالگرہ پارٹی میں آنے کے بعد آرٹسٹ کورونا کا شکار ہوئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بالکل پسند نہیں کہ میں وکٹم کہلاﺅں لیکن جو بھی کہا جا رہا ہے مجھے اچھا نہیں لگ رہا اور مجھے کیوں قصور وار ٹھہرایا جا رہا ہے؟ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔

    یاد رہے کہ کرن جوہر کی سالگرہ کی تقریب میں اننیا پانڈے ،تبو ،کاجول،شاہ رخ خان ،کاجول،رنبیر کپور ،جھانوی کپور ،مادھور یڈکشٹ ،جوہی چاولہ ،روینہ ٹنڈن ،سونالی بیندرے ،ٹوینکل کھنہ ،وکی کوشال و دیگر نے شرکت کی کوئی ایسا آرٹسٹ نہیں بچا تھا جس نے اس سالگرہ میں شرکت نہ کی ہو۔
    کرن جوہر آج کل ”روکی اور رانی پریم کہانی “ شوٹ کر رہے ہیں اس فلم کے مرکزی کرداروں میں عالیہ بھٹ اور رنویر سنگھ ہیں ۔

  • کے ایس ای 100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس کا اضافہ

    کے ایس ای 100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس کا اضافہ

    کراچی :گرے لسٹ سے اخراج کی امید بہتری کا سبب بننے لگی ، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس کا اضافہ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف پاکستان کے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے اخراج کی امیدوں پرمبنی خبروں نے جہاں ملک میں ایک امید کی کرن پیدا کردی ہے وہاں آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس کا آغاز مثبت ہوا اور کاروبار کے ابتدا میں 400 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس ہفتے کے آغاز پر کاروبار کے دوران مارکیٹ میں 11 سو پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی۔

    اسٹاک مارکیٹ 590پوائنٹس مندی کے بعد اضافے پر بند

    اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسیچینج کی ویب سائٹ کے مطابق صبح ساڑھے 10 بجے انڈیکس 461 پوائنٹس یا 1.12 فیصد اضافے کے ساتھ 41 ہزار 516.49 پوائنٹس پر پہنچ گیا جبکہ گزشتہ روز کاروبار 41 ہزار 054.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

    ڈالر بے قابو، اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی

    پاکستان انٹر مارکیٹ سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ رضا جعفری چین کی جانب سے مزید مالی معاونت کی یقین دہانی کو مارکیٹ کے لیے مثبت قراردے رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں اعلان کردہ بجٹ اقدامات کے ساتھ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں اور پروگرام جلد بحال ہوسکتا ہے۔معاشی تجزیہ نگار اپنے اپنے تجزیے پیش کررہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ امکان ہے کہ رواں ہفتے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے جائزے میں پاکستان گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے۔ایسے ہی پاکستان کی ایک بڑی عارف حبیب کارپوریشن کے ڈائریکٹر احسن محنتی نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ’ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں گرے لسٹ سے اخراج کا فیصلہ ہونے سے قبل سرمایہ کاروں کی قیاس آرائیوں پر اسٹاک ایکسچینج نے بہتری دیکھی‘۔

    اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی ، 100 انڈیکس 1250 پوائنٹس گرگیا

    عارف حبیب کارپوریشن کے ڈائریکٹر احسن محنتی کہتے ہیں کہ ’جہاں تک تعلق ہے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور بجٹ میں کیپٹل گین ٹیکس (سی جی ٹی) میں کمی نے بھی کاروباری سرگرمیاں بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا‘۔ایسے ہی ایک اور معاشی ماہر ابا علی حبیب سیکیورٹیز کے سربراہ سلمان نقوی نے نشاندہی کی کہ مارکیٹ ’زائد فروخت‘ کے زون میں تھی اور اب ’تکنیکی بہتری‘ کے رخ پر ہے۔انہوں نے کہا کہ چین سے قرضوں کی ری شیڈولنگ نے مارکیٹ کو واپس ابھرنے میں مدد دی اور سرمایہ کاروں کو ہمسایہ ملک سے مالی معاونت کی شمولیت کی امید ہے۔

    خیال رہے کہ پرسوں یعنی پیر کے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے میں آئی تھی اور کے ایس ای انڈیکس ایک ہزار 134.80 پوائنٹس گر گیا تھا۔لیکن جب سے پاکستان کی گرے لسٹ سے نکلنے کی خبریں گردش کررہی ہے ، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بہتری کی امید پیدا ہوگئی ہے اور کاروباری برادری بھی مطمئن اورخوش دکھائی دے رہی ہے ،

  • فلم لگان کے اکیس سال ،عامر خان کے گھر ہوئی پارٹی

    فلم لگان کے اکیس سال ،عامر خان کے گھر ہوئی پارٹی

    مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کی فلم ”لگان“ کو ریلیز ہوئے اکیس برس بیت چکے ہیں یہ وہ فلم ہے جس نے اُس دور میں کامیابی کے ریکارڈز قائم کئے فلم کرکٹ کے دیوانوں کے دِلوں پر چھا گئی،منفرد کہانی کی وجہ سے ہر لیول پر اسے پسند کیا گیا ۔فلم کو ریلیز ہوئے دو دہائیاں گزر چکی ہیںلیکن اس کی مقبولیت آج بھی برقرارہے ہر عمر کے لوگ آج بھی اس فلم کو پسند کرتے ہیں اسکا لاجواب میوزک آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے ۔”مدر انڈیا“ کے بعد لگان ایسی فلم ہے جس کو آسکر کے لئے نامزد کیا گیا ایوارڈ ملا یا نہیں لیکن آسکر کے لئے نامزد ہونا ایوارڈ سے کم نہیں ۔فلم کی ریلیز کے اکیس سال پورے ہونے پر لگان کی پوری کاسٹ عامر خان کے گھر پہنچی اور وہاں سب نے ایک پارٹی کی اور لگان کی دو دہائیاں مکمل ہونے پر خوشی منائی ۔پچھلے برس جب اس فلم کو بیس سال مکمل ہوئے تھے شاید یہ پارٹی تب بھیہوتی لیکن کورونا کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔

    یاد رہے کہ فلم کو اشوتوش گواریکر نے ڈائریکٹ کی اتھا سکرین پلے اشوتوش گواریکر کے ساتھ کمار دیو اور سنجے دائما نے لکھا تھا ۔فلم کا میوزک اے آر رحمان نے دیا تھا جبکہ گانے جاوید اختر نے لکھے تھے ۔پروڈیوس خود عامر خان نے کیا تھا مرکزی کاسٹ میں عامر خان کے علاوہ گریسی سنگھ،ریچل شیلے ،پاﺅل بلیک تھرون و دیگر قابل زکر ہیں ۔پچیس کروڑ سے بنی اس فلم نے آسکر تو نہیں جیتا تھا لیکن بھارت میں دیگر کافی ایوارڈ ز جیتے۔

  • ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں : خواجہ اظہار الحسن

    ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں : خواجہ اظہار الحسن

    کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے سندھ کے بجٹ کو روایتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نمبر گیم کے حساب سے یہ بجٹ دلفریب ہے ۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں ۔
    منگل کو سندھ اسمبلی میڈیا کارنر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صرف رقم مختص کردینا کافی نہیں ہے ۔
    ترقیاتی بجٹ اسکیموں کہ لئے مختص کئے جاتے ہیں ۔وفاقی حکومت نے صرف6 ارب رکھے ۔13 ارب ٹرانسپورٹ کے لئے نا کافی ہیں ۔
    پانی کا جو پروچیکٹ 25 ارب کا تھا اب 150 ارب پر پہنچ گیا ہے ۔وزیر اعلی اور وزیر اعظم کا ساڑھے تین سال جھگڑا چلتا رہا جس سے عوام کا بیڑا غرق ہواہے ۔انہوںنے کہا کہ سندھ پپلک سروس کمیشن کے ممبر مشاورت سے لگائے جائیںگے ۔اب نوکری کے لئے ڈومیسائل کی تصدیق ہوگی۔کرپشن کا ریٹ کم کرنا ہوگا ۔تیس فیصد اگر کرپشن ہے تو اس میں ایک سو بیس ارب چلے جائیںگے ۔ٹھیکوں کی بندر بانٹ کو بند کیا جائے۔انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں ۔سندھ میں روایتی ٹیکس فری بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔نمبر گیم کے حساب سے تو بجٹ دلفریب ہے ۔

  • ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ کیسے بنا سکتے ہیں ڈاکٹر سلمان شاہ نے بڑا راز بتا دیا

    ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ کیسے بنا سکتے ہیں ڈاکٹر سلمان شاہ نے بڑا راز بتا دیا

    لاہور:کرپشن کے ساتھ ساتھ مس مینجمنٹ اورنااہلیت بھی پاکستان کا ایک مسئلہ ہے:ڈاکٹرسلمان شاہ نے پاکستان کے مسائل کے حل کے ایک حل بھی بتادیا ،اطلاعات کےمطابق پاکستان کے سابق وزیرخزانہ ڈاکٹرسلمان شاہ نے سنیئر صحافی مبشرلقمان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی زبوحالی پربڑے دُکھ کا اظہارکیا ہے

    وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو بنیادی طورپرکئی مسائل کا سامنا ہے ، مگرسب سے بڑا مسئلہ نااہل لوگوں کوبڑے بڑے عہدوں پربٹھانا ہے ،سنیئرصحافی مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں جس میں انہوں نے پوچھا کہ کرپشن پاکستان کا مسئلہ ضرور ہے لیکن میرے خیال میں مس مینجمنٹ اوربیوروکریسی میں میرٹ کو نظرانداز کرنا بھی پاکستان کے مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے

    مبشرلقمان کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوے ڈاکترسلمان شاہ نے کہا کہ بلا شبہ کرپشن ہی کسی معاشرے کی سب سے بڑی برائی ہے ، اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے بھی اسے انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ نااہل لوگوں کو ایسی جگہ بٹھا دینا جہاں وہ اہل نہیں تو یہ بھی کسی تباہی سے کم نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی میں یہ روایت ڈالنا اور بھی خطرناک ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک قابل اوراہل لوگوں سے کام نہیں لیا جائے گا حالات بہتر نہیں ہوں گے

    ڈاکٹرسلمان شاہ نے کہا کہ اب مزید تجربات کی گنجائش نہیں ذمہ داران اوراہل لوگوں سے کام لیا جائے اوران کی اہلیت کے مطابق ان سے کام لیا جائے پھر جاکرحالات بہتر ہوں گے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کےلیے میرٹ ہی بنیادی چیز ہے

  • مہنگائی اورسخت کاروباری شرائط کے باوجود گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

    مہنگائی اورسخت کاروباری شرائط کے باوجود گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

    کراچی: قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آٹو فنانسنگ پر پابندی اور بلند شرح سود کے باوجود مالی سال22 میں کاروں کی فروخت گزشتہ مالی سال میں ایک لاکھ 39 ہزار 613 یونٹس کے مقابلے میں 51 فیصد بڑھ کر 2 لاکھ 10ہزار 633 یونٹس ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عیدالفطر کی تعطیلات سے قبل مئی 2022 میں کاروں کی فروخت بڑھ کر 19ہزار 395 یونٹس تک پہنچ گئی جو اپریل 2022 میں 18ہزار 626 یونٹس تھی۔

    صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے نتیجے میں پک اپ اور جیپوں کی فروخت میں 43 فیصد اضافہ ہوا جو 28 ہزار 34 یونٹس کے مقابلے میں 40 ہزار 255 یونٹس تک پہنچ گئی، ان مہنگی گاڑیوں کی ماہانہ فروخت مئی 2022 میں گر کر 3 ہزار 498 یونٹس پر آ گئی جو اپریل 2022 میں 3 ہزار 917 یونٹس تھی۔گزشتہ مہینوں میں اسمبلرز کی طرف سے کی گئی بڑی ایڈوانس بکنگ کی وجہ سے کار، پک اپ اور جیپ اسمبلرز انتہائی خوش ہیں۔تاہم ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سنی کمار کا ماننا ہے کہ معاشی سست روی، شرح سود میں اضافے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے مالی معاونت مزید سخت کرنے سے گاڑیوں کی فروخت پر نمایاں اثر پڑے گا۔

    پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق ہونڈا سوک اور سٹی کی مشترکہ فروخت مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں 42 فیصد بڑھ کر 31ہزار 776 یونٹس ہو گئی جبکہ مالی سال 2021 کی اسی مدت میں یہ تعداد 22ہزار 450 یونٹس تھی۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505854″ /]

    اکتوبر2021 سے مارچ 2022 تک ماڈل میں مکمل تبدیلی کی وجہ سے ٹویوٹا کرولا اور یارِس کی فروخت 42 ہزار 912 یونٹس سے 114 فیصد بڑھ کر 52 ہزار 75 یونٹس ہوگئی جبکہ سوزوکی سوئفٹ کی فروخت 2 ہزار 108 یونٹس سے 114 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 514 یونٹس تک جا پہنچی۔

    مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں مارکیٹ میں نئی آنے والی ہنڈائی الینٹرا اور سوناٹا کی فروخت بالترتیب 3 ہزار 120 اور 2 ہزار 581 یونٹس رہی۔

    سوزوکی کلٹس اور ویگن آر کی فروخت مالی سال 2022 کے 11 ماہ میں بالترتیب 36 فیصد اور 78 فیصد بڑھ کر 20 ہزار 701 اور 20 ہزار 997 یونٹس ہو گئی جو کہ مالی سال 2021 کے 11 ماہ میں بالترتیب 15 ہزار 240 اور 11 ہزار 805 یونٹس تھی۔

    اسی طرح رواں مالی سال کے 11 ماہ میں سوزوکی بولان 800 سی سی اور آلٹو 660 سی سی کی فروخت بالترتیب 33 فیصد اور 75 فیصد بڑھ کر 11 ہزار 145 اور 63 ہزار 711 یونٹس ہو گئی جہاں گزشتہ سال دونوں گاڑیوں کے بالترتیب 8 ہزار 9 اور 36 ہزار 504 یونٹس سے زائد فروخت ہوئے تھے۔

    ٹرکوں کی کل فروخت (ہینو، ماسٹر، اسوزو، اور جے اے سی) 3 ہزار 343 یونٹس سے 59.6 فیصد بڑھ کر 5 ہزار 337 یونٹس ہو گئی جو مقامی طور پر تیار کردہ اور درآمد شدہ سامان کی نقل و حمل میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔علاوہ ازیں ماسٹر کی سیلز میں 4 فیصد اضافے کے باوجود بسوں کی فروخت 599 یونٹس سے 4.5 فیصد کم ہوکر 572 یونٹ رہ گئی۔

    ٹویوٹا فارچیونر اور جدید ملٹی پرپز گاڑیوں کی مشترکہ فروخت مالی سال 2021 کے 11 ماہ میں 9 ہزار 789 یونٹس سے بڑھ کر 16 ہزار 149 ہو گئی، 14فیصد کی چھلانگ کے ساتھ ہنڈائی ٹسکن کی فروخت 3 ہزار 517 یونٹس کے مقابلے میں 3 ہزار 998 یونٹس رہی اور ہونڈا بی آر۔وی کی فروخت 3ہزار 536 یونٹس سے 7 فیصد بڑھ کر 3ہزار 773 یونٹس ہو گئی۔