Baaghi TV

Author: +9251

  • اداکارہ مشی خان نے عامر لیاقت سے معافی مانگ لی

    اداکارہ مشی خان نے عامر لیاقت سے معافی مانگ لی

    اداکارہ مشی خان جو پچھلے ایک عرصے سے سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں اور ہر کسی پر تنقید کرتی نظر آتی ہیں۔پچھلے دنوں انہوں نے ماڈل و اداکارہ عفت عمر،مریم نواز اور ڈاکٹر عامر لیاقت پر جم کر تنقید کی۔انہوں نے عامر لیاقت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ جتنی مرضی شادیاں کریں تصاویر اور وڈیوز بنائیں لیکن ہمیں بورنہ کریں ۔ مشی خان نے یہاں تک کہا کہ عامر لیاقت آپ تو ملک چھوڑ کر جانے والے تھے کس نے روکا ابھی تک کیوں نہیں گئے؟ آپ نے تو روتے ہوئے وڈیو بنائیں تھیں اور کہہ رہے تھے کہ میں ملک چھوڑ کر جا رہا ہوں اب گئے کیوں نہیں ۔
    مشی خان نے اس قسم کی تنقید کے نشتر عامر لیاقت پر برسائے، لیکن اب وہ اپنی اس تنقید پر خاصی شرمندہ ہیں انہوں نے ایک وڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت سے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ ان کی ذاتی زندگی پر مجھے تنقید کرنے کا حق نہیں تھا۔اس وڈیو سے پتہ لگ رہا ہے کہ مشی خان واقعتا عامر لیاقت کے بارے میں کہے ہوئے اپنے الفاظ پر کافی شرمندہ ہیں۔

    یاد رہے کہ عامر لیاقت حسین دو روز قبل کراچی میں اپنے گھر کے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے انہیں فورا ہستپال لیجایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی تھی۔ ان کے انتقال کی خبر سن کے ان کے چاہنے والے کافی افسردہ ہیں.

  • میرے بلڈ کینسر کی خبر میری حاملہ بیوی کو ٹی وی سے پتہ لگی: انوراگ باسو

    میرے بلڈ کینسر کی خبر میری حاملہ بیوی کو ٹی وی سے پتہ لگی: انوراگ باسو

    بالی وڈی کے مشہور اور کامیاب ڈائریکٹر انوراگ باسو نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا اس میں انہوں نے اُس وقت کو یاد کیا جب انہیں بلڈ کینسر ہو گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے بلڈ کینسر کی تشخٰیص دو ہزار چار میں ہوئی تھی اور اس وقت میری اہلیہ سات ماہ کی حاملہ تھی اس کو میں نے نہیں بتایا تھا کہ وہ پریشان ہو گی لیکن اسکو ایک ٹی وی چینلز سے پتہ لگ گیا تھا۔انوراگ باسو نے مزید کہا کہ انڈسٹری کے لوگوں نے میری بہت مدد کی، اداکار سنیل دت نے ان کی اتنی مدد کی کہ ہسپتال میں علاج کے لئے فورا بستر اور کمرہ میسر آگیا ۔انوراگ باسو نے کہا کہ علاج بہت مہنگا تھا لہذا پیسے ختم ہوگئے تھے ابھی میری کیمو تھراپی چل رہی تھی کہ میں نے فلم گینسٹر کی شوٹنگ کی تاکہ کچھ پیسے مل سکیں۔

    انوراگ باسو نے فلم انڈسٹری کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عمران ہاشمی ،انوپم کھیر اور مہیش بھٹ اکثر مجھے ملنے آیا کرتے تھے میرے ساتھیوں نے میرے علاج کے لئے عطیات بھی مانگے۔انوراگ باسو نے مزید کہا کہ کیمو تھیراپی چل رہی تھی اس دوران کام کرنا آسان نہیں تھا اور میرے والد میری حالت دیکھ کر دل چھوڑ بیٹھے تھے لیکن فلم انڈسٹری کے لوگوں نے مجھے ہر طرح سے سپورٹ کیا مجھ سے ملنے آتے تو میرا حوصلہ بلند ہوجاتا.
    یاد رہے کہ انوراگ باسو بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف ڈائریکٹر ہیں ان کے کریڈت پر بہت ساری ہٹ فلمیں ہیں.

  • شاہ رخ کو کورونا ہوا تھا یا نہیں؟

    شاہ رخ کو کورونا ہوا تھا یا نہیں؟

    بالی وڈ کنگ جنہوں نے بھرپور تیاری کے ساتھ کرن جوہر کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی، اس تقریب کے بعد کورونا میں مبتلا ہو گئے ابھی ان کے کورونا کی خبریں چل رہیں تھیں کہ شاہ رخ خان کی اداکارہ نیانتھرا اور ڈائریکٹر ونگیش کی شادی میں شرکت کی خبر سامنے آگئی۔ شاہ رخ خان کی اس تقریب میں شرکت کی تصاویر خوب وائرل ہوئیں کچھ لوگ شاہ رخ خان کو دیکھ کر خوش ہوئے اور کچھ نے ان کے کورونا میں مبتلا ہونے کے مرض پر سوال اٹھا دیا۔ سوشل میڈیا پر نہ رکنے والی تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا کسی نے شاہ رخ خان کی تصویر کے نیچے

    لکھا کہ آپ کو کورونا ہوا تھا بھی یا نہیں اور کسی نے لکھا کہ آپ کو اگر کورونا ہوا تھا تو آپ اتنی جلدی کیسے صحتیاب ہو گئے کسی نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ کیا کورونا میں ہی اٹھ کر آگئےہیں ۔کسی نے تو یہاں تک مذاق کیا کہ کورونا ہوا تھا یا تیزابیت ایک صارف نے تو کہا کہ لگتا ہے شاہ رخ خان کو کورونا نہیں صرف زکام ہوا تھا۔
    یاد رہے کہ کرن جوہر کی سالگرہ کی تقریب میں‌بہت سارے بالی وڈ سٹارز کو کورونا ہوا اور اسی وجہ سے وہ دبئی میں منعقد ہونے والے آئیفا ایوارڈ میں بھی شرکت نہ کرسکے.

  • انسٹاگرام پر سدھو موسے والا کے فالورز کی تعداد دس ملین تک پہنچ گئی

    انسٹاگرام پر سدھو موسے والا کے فالورز کی تعداد دس ملین تک پہنچ گئی

    پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے انسٹاگرام پر فالورز کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہےان کی موت کے بعد اس تعداد میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ان کے قتل سے لیکر اب تک ان کے فالورز کی تعداد دس ملین تک جا پہنچی ہے۔
    رپورٹس کے مطابق سدھو موسے والا نے انسٹاگرام پر اپنی زندگی میں دو سو اکتیس پوسٹیں کیں ان کی موت کے بعد اب تک اس اکائونٹ سے چار مزید پوسٹیں کی جا چکی ہیں کہا جا رہا ہے کہ ان کا انسٹاگرام اکائونٹ ان کی فیملی چلا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ ایک ماہ قبل بھارتی پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کو گولیاں مار کر ہلاکر کر دیا گیا تھا ان کی موت کے بعد پولیس تحقیقات کررہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ تحقیقات کا دائرہ وسیع کررہی ہے سی سی فوٹیج کی مدد سے مشکوک لوگوں کی شناخت بھی ہوئی ہے۔مرنے سے قبل جس جگہ ان کی گاڑی رکی وہاں سدھو موسے والا اپنے پرستاروں کے ساتھ سلیفیاں لیتے دکھائی دے رہے ہیں ان میں کچھ مشکوک لوگ بھی دیکھے گئے ہیں جو سدھو موسے والا کی وہاں سے روانگی کے بعد کسی کو اطلاع دے رہے تھے۔ سدھو موسے والا ہر دلعزیز گلوکار تھے ان کی موت کے بعد اب تک ہر آنکھ اشکبار ہے۔

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز آج  ون ڈے سیریزکا آخری میچ کھلیں گے

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز آج ون ڈے سیریزکا آخری میچ کھلیں گے

    ملتان میں کھیلے جانیوالے ون ڈے سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں آج مدمقابل ہوں گی۔ ابتدائی دو میچوں میں پاکستان نے 3 روزہ ون ڈے سیریز 0-2 سے اپنے نام کرلی ہے۔

    قومی ٹیم اب کلین سوئپ کے عزم کے ساتھ میدان میں اُترے گی جبکہ ویسٹ انڈین ٹیم کی کوشش ہوگی کہ آخری میچ جیت کر سیریز کا اختتام خوشگوار انداز میں کیا جائے۔ پاکستان نے پہلے میچ میں 5 وکٹ سے فتح حاصل کی تھی جس میں بابر اعظم نے 103 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ پہلے میچ کے آخری اوورز میں خوشدل شاہ نے جارحانہ انداز میں 41 رنز بنا کر ٹیم کو کامیابی دلائی۔

    دوسرے ایک روزہ میچ میں بابر اعظم اور امام الحق کی نصف سنچریوں اور پھر محمد نواز کی عمدہ بولنگ کے باعث پاکستان نے حریف ٹیم کو 120 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی۔ قومی ٹیم اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کا آخری ون ڈے میچ آج شام 4 بجے شروع ہوگا۔

    ملتان کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں پر 275 رنز بنائے پاکستان کے 276 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیر کی پوری ٹیم 33ویں اوور میں 155 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تاہم ویسٹ انڈیز کی اننگز کے دوران ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا .

    276 رنز کے ہدف میں ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ جاری تھی کی 29 ویں اوور میں اچانک امپائر کی جانب سے مہمان ٹیم کو 5 رنزپنالٹی میں دیئےگئ پاکستا ن کو 5 رنز کا نقصان اس لئےاٹھانا پڑا کیونکہ ویسٹ انڈیز کی اننگز کے29 ویں اوور کی پہلی گیند پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو وکٹ کیپر رضوان کا گلوز پہنے گیند کو پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

    جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کےقوانین کے مطابق میچ کے دوران وکٹ کیپر کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی گلوز پہن کر فیلڈنگ نہیں کرسکتا تاہم بابر کی غیر قانونی فلیڈنگ کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کو 5 رنز انعام میں مل گئے-

  • حسین ہیرو سنتوش کمار کی چالیسیویں برسی

    حسین ہیرو سنتوش کمار کی چالیسیویں برسی

    سنتوش کمار جن کا اصل نام موسی رضا تھا وہ اپنی ساتھی اداکارہ صبیحہ خانم کی زلفوں کے اسیر ہوئے اورانیس سو اٹھاون میں صبیحہ سے شادی کر لی۔ سنتوش کمار کی صبیحہ سے دوسری شادی تھی اور کہا جاتا ہے کہ سنتوش کمار کے پہلے سے شادی شدہ ہونے پہ صبیحہ کے والد کو بہت اعتراض تھا، لیکن صبیحہ خانم کہتی تھیں کہ سنتوش کمار کے ساتھ شادی کرنا ان کی زندگی کا بہترین فیصلہ تھا۔ سنتوش کمار نےاپنا فلمی کیرئیر بھارتی فلم سے شروع کیا انہوں نے دو بھارتی فلموں میں کام کرنے کے بعد پاکستان میں پہلی فلم ’’بیلی‘‘ کی جو کہ انیس سو انچاس میں ریلیز ہوئی۔اس کے بعد ان کی فلم دو آنسو ریلیز ہوئی یہ پاکستان کی پہلی اردو سلور جوبلی فلم تھی جسے انور کمال پاشا نے بنایا تھا اسی فلم کا ری میک بعد میں دلاں دے سودے اور انجمن کے نام سے بنا۔
    سنتوش کمار نے کئی سپر ہٹ فلموں میں کام کیا۔ فلم شہری بابو میں انہوں نے سورن لتا کے ساتھ کام کیا ،پھر فلم پتن میں کام کیا یہ ایسی فلم تھی جو پنجابی سینما کے ماتھے کا جھومر ہے۔ پتن ،حمیدہ ،انتظار، قسمت اور سرفروش سنتوش کمار کے کیرئیر کی یادگار ترین فلمیں ہیں ۔ سنتوش کمار فلموں کے معاملے میں بہت زیادہ چُوزی تھے ان کے دل کو کوئی کہانی لگتی تو وہ کرتے ورنہ منع کر دیتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی فلموں کی تعداد کافی کم ہے انہوں نے اتنے لمبے کیرئیر میں صرف بانوے ترانوے فلموں میں کام کیا ۔
    سنتوش کمار کی فلم موسیقار نے اُن وقتوں میں دھوم مچا دی تھی یہ کسی بھی موسیقار کی زندگی پر بننے والی پہلی فلم تھی۔
    عشق لیلی، وعدہ ،سات لاکھ ، نائلہ ، کنیز، گھونگھٹ، رشتہ، دامن، سیما، سفید خون، بیس دن، آزاد، چنگاری، حویلی اور فیشن نے سنتوش کمار کے عروج کو مزید تقویت دی۔ فلم ہمراہی گولڈن جوبلی تھی۔

    ستر کی دہائی میں سنتوش نے معاون اداکار کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا ان کی بطور ہیرو آخری فلم انیس سو تہتر میں شرابی کے نام سے ریلیز ہوئی۔
    سنتوش بلا کے ذہین تھے انہوں نے طارق عزیز کے شو نیلام گھر سے کار بھی جیتی۔ انہوں نے انٹرنیشنل کمپنی میں بطور سیلز مین کام بھی کام کیا ۔انہیں پہلا نگار ایوارڈ بھی ملا۔ان کی آخری فلم دیوانے دو ان کی وفات کے تین سال کے بعد ریلیز ہوئی۔ سنتوش کمار گیاراں جون انیس سو بیاسی کو خالق حقیقی سے جا ملے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے،جماعت اسلامی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے،جماعت اسلامی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے ،جماعت اسلامی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے۔حکومت نے پٹرول فی لیٹر 30 روپے بڑھا کر عام آدمی کا معاشی قتل کیا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں دن بدن اضافہ کامطلب عوام سے جینے کا حق بھی چھیننا ہے۔آٹے، گھی،گوشت، دالیں اور سبزیاں کی قیمتوں عوام کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں۔ اتحادی حکومت نے عوام کو مہنگائی،بے روزگاری،غربت،کرپشن،لوڈشیڈنگ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ جماعت اسلامی پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ حالیہ اضافہ کو الفور واپس لیا جائے۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف امیر العظیم، میاں ذکر اللہ مجاہد،ضیاء الدین انصاری،عبدالعزیز عابد، مرزا شعیب یعقوب،عبداللہ اعجاز ایڈوکیٹ،احمد سلمان بلوچ و دیگر قائدین کا خطاب ہوا ۔لاہور میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اور ظالمانہ اضافہ کے خلاف جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام ملتان روڈ منصورہ، زون 146، زون 152، پی پی 160 جے آئی یوتھ اور پریس کلب لاہور کے باہر جے آئی یوتھ لاہور کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔احتجاجی مظاہروں کی قیادت سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم، امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد، نائب امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری امیر جماعت اسلامی غربی لاہور عبدالعزیز عابد، امیر جماعت اسلامی وسطی لاہور شعیب یعقوب، صدر جے آئی یوتھ لاہور عبداللہ اعجاز ایڈوکیٹ، غلام حسین بلوچ، عدنان مصطفے چھٹہ،ڈاکٹر عبداللہ منیر، احمد سلمان بلوچ، چوہدری عبدالعقوم گجر، چوہدری عبدالواحد، خواجہ وسیم بٹ، ملک منیر اعوان، محمد سلیم شیخ، عبداللہ جلیل فاروقی، چوہدری عبدالواحد، چوہدری عبدالقوم گجر و دیگر ذمہ داران نے کی۔ احتجاجی مظاہروں میں پٹرولیم مصنوعات کی اضافہ، بڑھتی مہنگائی، بے
    روزگاری اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ احتجاجی مظاہروں میں بڑی تعداد میں شہریوں شرکت کی اور پلے کارڈ اٹھا کر پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو مسترد کرتیہوئے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی حالیہ قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے۔ منصورہ غربی لاہور امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے احتحاجی مظاہرے کی قیادت کرتیہوئے کہا کہ پٹرولیم اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے۔حکومت نے پٹرول فی لیٹر 30 روپے بڑھا کر عام آدمی کا معاشی قتل کیا ہے۔ آٹے، گھی،گوشت، دالیں اور سبزیاں کی قیمتوں عوام کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں۔ اتحادی حکومت نے عوام کو مہنگائی ،بیروزگاری،غربت،کرپشن،لوڈشیڈنگ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ امیر لاہور نے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ حالیہ اضافہ کو الفور واپس لیا جائے۔

    احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرتے ہوئے ضیاء الدین انصاری،عبدالعزیز عابد،شعیب یعقوب، عبداللہ اعجاز ایڈوکیٹ،احمد سلمان بلوچ سمیت دیگر قائدین نے کہا کہ روزانہ موجودہ حکومت کی نا اہلی کا ایک نیا کارنامہ دیکھنے کو ملتا ہے، کبھی پتا چلتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، کبھی بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ، کبھی روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو دودھ،پیٹرولیم مصنوعات ودیگراشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عوام کا معاشی قتل ہے،موجودہ حکومت نے بھی مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کی شرح میں دن بدن اضافہ کامطلب عوام سے جینے کا حق بھی چھیننا ہے، جمہوریت کی دعویدار حکومت نے اپنے دور اقتدار میں جمہوریت کے چہرے کو مسخ کر ڈالا ہے۔ عوام بھوک اور فاقوں پر مجبور ہوگئی ہے۔ امیر لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد سمیت دیگر قائدین نے قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اب قوم نے تمام پارٹیوں اور چہروں کو آزما لیا ہے اب آئندہ الیکشن میں جماعت اسلامی کی امانت و دیانت والی قیادت کا ساتھ دیں تاکہ حقیقی معنوں میں ملک میں نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کی جائے اور قرآن و سنت کے نظام سے ملک و قوم کے مسائل کو حل کیا جائے۔ قرآن و سنت کا نظام ہی ملک و قوم کے مسائل کا واحد حل ہے۔

  • پانی کےچند گھونٹ کی خاطرجان خطرے میں ڈالنا قبول مگرپیاسے نہیں مرسکتے

    پانی کےچند گھونٹ کی خاطرجان خطرے میں ڈالنا قبول مگرپیاسے نہیں مرسکتے

    نئی دہلی :پانی کےچند گھونٹ کی خاطرجان خطرے میں ڈالنا قبول مگرپیاسے نہیں مرسکتے،اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے گاؤں کھدیمل کے لوگ روزانہ ایک بالٹی پانی کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔کھدیمل کے لوگوں کو یہ بھی علم ہےکہ پانی کے چند گھونٹ کی خاطرجان بھی جاسکتی ہے لیکن وہ پیاسے رہ کرتڑپ تڑپ کرجان نہیں دے سکتے

    پانی کے بحران کا شکار یہ گاؤں مہاراشٹر کے خشک سالی کے شکار ودربھ علاقے کے امراوتی ضلع میں ہے، جہاں گرمی کی لہروں کا بھی اکثر سامنا رہتا ہے۔کھدیمل کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مقامی ویلج کونسل دن میں دو یا تین بار ٹینکرز بھیجتی ہے۔ ٹینکر ڈرائیور کنویں میں پانی ڈالتے ہیں، جس سے اسٹاک خشک ہونے سے پہلے بالٹیاں بھرنے کے لیے شدید رش شروع ہو جاتا ہے۔

    پانی کے ناقص معیار کی وجہ سے ان کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں – وہ کہتے ہیں کہ بچے اکثر ناپاک اور ناقص پانی پینے سے بیمار ہو جاتے ہیں۔

    اس پریشان کُن صورت حال کے بارے میں بی بی سی کا کہنا ہےکہ ان کی طرف سے یہ رپورٹ آنے کے بعد امراوتی ضلع کونسل کے سی ای او اویشانت پانڈا نے گاؤں کا دورہ کیا اور کہا کہ انتظامیہ پانی کے ٹینکروں کی تعدد میں اضافہ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ گاؤں میں پانی کے بحران کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے پائپ لائن لگانے کی کوشش کریں گے۔

  • پاکستان کی معاشی مشکلات اور غیر معمولی حل

    پاکستان کی معاشی مشکلات اور غیر معمولی حل

    بیرونی جبر سے ریاست کی نظریاتی اور سرحدوں کی حفاظت کرنے کے علاوہ، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کووِڈ-19 کے انتہائی سنگین حالات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی تعزیرات کے گھمبیر خطرے کے درمیان ملک کے معاشی بحران کو حل کرنے میں مسلسل بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مستقل ادارہ جاتی ناکامی۔ فوج قومی سلامتی کے سوچنے والے آلات کے طور پر تیار ہوئی ہے اور اس نے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیتیں تیار کی ہیں۔

    اگرچہ جنگ بندی اور فوجی حکمت عملی اس کی بنیادی بنیاد بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تنظیمی صلاحیت اور چستی نے اسے مسئلہ حل کرنے والی مشین میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران سیاسی قیادت کی طرف سے ظاہر کی گئی نااہلی اور صلاحیت کی کمی نے فوج پر سول کام کے شعبے میں شامل ہونے کا بوجھ ڈالا ہے، خاص طور پر بحرانوں کے دوران۔ وبائی مرض کے دوران، جب کہ پوری دنیا بحرانوں کی زد میں تھی، پاکستان کی فوج نے حکمت عملی کی قیادت کی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (NCOC) کے ایک نئے آئیڈیا کو عملی جامہ پہنایا۔ فوج کی تنظیمی اور انتظامی مہارت کو اچھی طرح استعمال کیا گیا، اور ایک جدید ترین فوری لیکن پائیدار حل سامنے آیا۔ اس نے نہ صرف غریبوں میں خوراک اور طبی آلات کی تقسیم میں حصہ ڈالا بلکہ CoVID-19 کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی مہم بھی چلائی۔

    اس طرح کی موثر اور ہم آہنگی کی کوششوں کی بدولت پاکستان نے نہ صرف کووِڈ 19 کے بعد کی صورتحال سے بہت مؤثر طریقے سے نمٹا ہے بلکہ ایک آنے والے معاشی المیے کو بھی ٹال دیا ہے۔اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ NCOC کے پاکستان ماڈل کا بین الاقوامی اداروں کی طرف سے گہرائی سے مطالعہ اور تعریف کی گئی۔ بل گیٹس نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران ایسی اہم کوشش پر NCOC کو سراہا۔ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (NLCC) بنا کر ٹڈی دل کے خطرے سے نمٹنے کے دوران اسی طرح کی حکمت عملی کو حرکت میں لایا گیا اور بڑی کوششوں کے بعد خطرہ ٹل گیا۔1993 میں حکومت پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی سے سونا اور تانبا نکالنے کے لیے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا جسے ریکوڈک معاہدہ کہا جاتا ہے۔

    بعد ازاں، یہ ثابت ہوا کہ کینیڈین کمپنی کے ساتھ معاہدہ قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو معاہدہ منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس دوران کمپنی نے پاکستان کی جانب سے معاہدے کی عدم تعمیل پر مسئلہ کو انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) کو بھیج دیا اور پاکستان کے خلاف 11.5 بلین ڈالر جرمانے کا مطالبہ کیا۔اتنی بڑی رقم پہلے سے نقدی کی کمی کا شکار پاکستان کو دیوالیہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہ ایک عام علم ہے کہ فوج نقصان کو سنبھالنے اور کم کرنے کے لیے اوور ڈرائیو میں گئی۔

    سخت کوششوں کے بعد نہ صرف خطرہ ٹل گیا بلکہ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ہوئے۔ پاکستان نہ صرف 11.5 بلین ڈالر کا جرمانہ معاف کروانے میں کامیاب ہوا بلکہ اسی کمپنی کو بلوچستان میں تقریباً 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی آمادہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے سے بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کے آٹھ ہزار نئے مواقع میسر آئیں گے۔ 2008 میں، پی پی پی کی حکومت نے کارکی کراڈینیز الیکٹرک یوریٹین (KKEU) کو رینٹل پاور پروجیکٹ سے نوازا تھا۔ لیکن یہ 231 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہا جیسا کہ معاہدے کے تحت درکار تھا، حالانکہ کمپنی کو صلاحیت کے چارجز کے طور پر 9 ملین ڈالر پیشگی ادا کیے گئے تھے۔

    2013 میں، KKEU نے تقریباً 16 ماہ تک کراچی بندرگاہ کو چھوڑنے کی اجازت نہ دیے جانے کی وجہ سے اپنے جہازوں کو ہونے والے نقصانات یا قدر میں کمی کی مد میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ مانگتے ہوئے ICSID کو منتقل کیا۔ ترکی کی کمپنی نے بعد میں 2017 میں مقدمہ جیت لیا اور پاکستان پر 1.2 بلین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ شکر ہے، 2019 میں، ریاستی اداروں نے فوج کی سفارتی حکمت کے ذریعے تنازعہ کو حل کیا اور جرمانے میں 1.2 بلین ڈالر کی بچت کی۔چمالنگ کول مائنز کی ملکیت کا تنازعہ بھی پاک فوج کی ثالثی سے حل ہو گیا جس کی مالیت 12 ارب ڈالر ہے۔

    جنوری 2006 میں، کوئٹہ میں قائم 41 ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے متحارب فریقوں کو اکٹھا کرکے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ایک پہل شروع کی۔ میرس، لونس اور ٹھیکیداروں کو فوج کی ثالثی پر مکمل اعتماد کرنا تھا۔ جب سے یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، 1.5 ملین ٹن کوئلے کی کھدائی ہو چکی ہے جس سے پاکستان کو 37 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔ 2007 تک، کانوں نے بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے لوگوں کے لیے 55,000 ملازمتیں پیدا کیں۔پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی بھی CPEC کے تقریباً 62 بلین ڈالر کے منصوبوں کو ہموار چلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے۔

    فوجی اہلکار اس منصوبے کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور پاکستان کے آرمی چیف نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوریڈور کو حکومت کے منصوبے کے مطابق تیار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے فلیگ شپ پروجیکٹ کے تحفظ اور حفاظت کے لیے ایک اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (SSD) قائم کیا گیا ہے۔ فوجی انجینئر اس راہداری کے حصوں کی تعمیر میں مصروف ہیں، جہاں سڑک موجود نہیں ہے اور فوج نے اس کی حفاظت کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔اس کے علاوہ، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) پہلے ہی CPEC کے مغربی روٹ کے حصے کے طور پر بلوچستان میں 870 کلومیٹر کے روڈ نیٹ ورک میں سے 556 کلومیٹر مکمل کر چکی ہے۔

    بلوچستان کے پراجیکٹس پر FWO کے 12 یونٹ بھی تعینات کیے گئے تھے اور FWO علاقے کی تنہائی اور ناہمواری کے حالات کے پیش نظر لاجسٹک خدشات کے باوجود مشکل لیکن چیلنجنگ کام کو بروقت مکمل کرنے کے لیے ناقابل تسخیر ہے۔

    پاکستانی فوج طویل عرصے سے قومی تعمیر کے کاموں میں شامل رہی ہے جس میں شاہراہ قراقرم جیسی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ ڈیموں کی مرمت؛ آبپاشی کی نہروں کی صفائی؛ مردم شماری کا انعقاد؛ اور انتخابات کا انعقاد۔ اس کے علاوہ، فوجی سفارت کاری اور اس کی مذاکراتی صلاحیتوں نے متعدد مواقع پر پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کی تنظیمی طاقت، اس کی چستی اور اس کے محنتی دفتری کیڈر نے اسے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ قومی سطح کی ذمہ داریاں نبھانے میں مدد کی ہے۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے، پاکستان کی فوج حکومت پاکستان کی مدد کرنے پر فخر کرتی ہے۔ اور مشکلات سے قطع نظر، اس نے ایک بہتر پاکستان کی تعمیر کے لیے بہت سے اسٹریٹجک چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے۔

  • حاجی کیمپس میں حاجیوں کی تربیت شروع  ۔

    حاجی کیمپس میں حاجیوں کی تربیت شروع ۔

    حاجی کیمپس میں حاجیوں کی تربیت شروع ۔

    باغی ٹی وی : جیسا کے سب جانتے ہیں حج کا مہینہ آ رہا ہے ۔ہر سال لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں حج کا فریضہ ادا کرنے مکہ کی مبارک سر زمین پر مسلمان جاتے ہیں ۔لیکن گزشتہ 2 سال کے بعد کرونا کی وبا کے باعث حج بحال ہوا ہے ۔اور اب دیگر ممالک سے حج ادا کرنے مسلمان سعودیہ عرب روانہ ہوں گے ۔پاکستان میں تو لوگ حج کا فریضہ ادا کرنے کیلئے جانا شروع ہو چکے ہیں ۔

    اس خاص مقصد کیلئے حجاج کی سعودی عرب روانگی سے قبل پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم حاجی کیمپس میں زائرین کو تربیت دینا شروع ہو چکی ہے ۔جس میں ان کو حج کے فرائض کی ادائیگیوں، سفر کے دوران ضروری اقدامات سے آگاہ کیا جا رہا ہے اور تمام جائز اشیا کی فہرست بھی فراہم کی گئی ہے۔ ساتھ ان کو اس بات سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہاں پر ان کو کن کن اشیا کی ضرورت ہو سکتی ہے ۔

    ٹرینینگ کے دوران حج کا خاص فریضہ ادا کرنے والے مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ جتنا کم سامان ہو وہاں ساتھ لے کر جائے ۔بس ضرورت کا سامان ہی ساتھ لے کر جایا جائے ۔کیونکہ زیادہ سامان ساتھ لے کر جانے سے دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے ۔سامان جتنا کم ہوتا ہے اتنی ہی آسانی ہوتی ہے ۔ مزید یہ کہ حجاج سفر میں اپنے سامان میں ایک چھوٹا بیگ رکھیں۔ اس کے علاوہ احرام کے دو جوڑے بھی رکھیں اور پہننے کے لیے کپڑوں کے چار جوڑے ساتھ لے کر جائیں ۔اس کے علاوہ چھتری بھی رکھیں ۔تیز دھوپ میں چھتری بہت کام آتی ہے ۔پانی کی بوتل بھی رکھی جاۓ۔ اس کے علاوہ حج کرنے والوں کو ایک کتاب بھی فراہم کی جاتی ہے ۔جس میں تمام ضروری ہدایات ہوتی ہیں تا کہ حاجیوں کو کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔