Baaghi TV

Author: +9251

  • روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت حج  2022  آپریشن  عملی طور  پر آج  رات شروع

    روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت حج 2022 آپریشن عملی طور پر آج رات شروع

    اسلام آباد:حج 2022 آپریشن عملی طور پر آج رات شروع ،اطلاعات کے مطابق ترجمان سی اے اے کے مطابق روڈ ٹو مکہ اقدام کے تحت اسلام آباد سے پہلی پرواز 6 جون کو علی الصبح 03:30 منٹ پر اڑان بھرے گی، اسلام آباد سے ہی دوسری پرواز رات 08:30 بجے جائےگی اور اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی آمد بھی متوقع ہے۔

    وزیراعظم امرا اورنفلی حج کرنے والوں کوسبسڈی نہ دیں:طاہراشرفی

    ملتان سے پہلی حج پرواز( ائیر بلیو) کل 6 جون کو 04:30 PM منٹ پر مدینہ کے لیے روانہ ہوگی ، لاہور سے پہلی حج پرواز (ائیر بلیو) کل 6 جون کو رات 01:55 منٹ پر 220 حجاج کو لے کر مدینہ کے لیے روانہ ہوگی۔

    روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ برائے حج 2022 کے حوالے سے اسلام آباد ائرپورٹ پر اہم اجلاس ،بڑے…

    ترجمان سی اے اے کا کہنا ہے کہ فیصل آباد ائیرپورٹ سے حج فلائٹس آپریٹ کرنے کے بارے وزارت مذہبی امور ضرورت پڑنے پر بعد میں آگاہ کرے گی، پشاور سے تمام اسپیشل اور گورنمنٹ حج فلائٹس کو اسلام آباد ائیرپورٹ سے ری روٹ کیا گیا ہے۔

    رواں سال10 لاکھ افراد فریضہ حج ادا کریں گے،طاہر محمود اشرفی

    یاد رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سمیت 5 ممالک کے عازمین حج کے لیے ’’روٹ ٹو مکہ‘‘ سہولت متعارف کرادی ہے۔سعودی میڈیا کے مطابق کورونا وبا کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد کے پہلے حج کی گہماگہمی عروج پر ہے اس دوران پہلے بیرون ملک پرواز سے عازمین حج سرزمین مقدس پہنچ چکے ہیں۔اس موقع پر سعودی عرب وزارت داخلہ نے خوشخبری سنائی ہے کہ 5 ممالک کے عازمین حج کے لیے ’’روٹ ٹو مکہ‘‘ سہولت کا آغاز ہوگیا ہے۔ ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔

    پاکستان کے علاوہ اس سہولت سے مستفید ہونے والے ممالک میں بنگلادیش، ملائیشیا، مراکش اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ یہ سہولت صرف بیرون ملک سے آنے والے عاز مین حج کے لیے مختص ہوتی ہے۔سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ روٹ ٹو مکہ کی سہولت کے حامل ممالک کے عازمین حج کو ان کے ممالک میں ہی امیگریشن کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں جس سے حاجیوں کو کافی سہولت اور آسانی ہوتی ہے۔

    واضح رہے کہ کورونا وبا کے باعث گزشتہ دو سال سے حج کا فریضہ محدود پر پیمانے پر ادا کیا جا رہا تھا اور صرف سعودیہ میں مقیم غیر ملکی ہی حج کرسکتے تھے۔

  • موسمیاتی تبدیلیوں سے حکومت اورعوام کو شدید چیلنجز درپیش ہیں،عارف علوی

    موسمیاتی تبدیلیوں سے حکومت اورعوام کو شدید چیلنجز درپیش ہیں،عارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچنے کیلئے پائیدار طرز زندگی اپنانے، قدرتی آبی وسائل کی حفاظت کی ضرورت ہے، زمین کو بچانے کیلئے زرخیز مٹی کی حفاظت یقینی بنانے، عالمی سطح پر تبدیلی لانے کیلئے شرکت داری کو فروغ دینا ہوگا۔

    ایوان صدر کے پریس ونگ سے عالمی یوم ماحولیات کے حوالے سے بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے حکومت اور پاکستانی عوام کو شدید چیلنجز درپیش ہیں،پاکستان تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، غیر متوقع بارشوں اور خشک سالی سے متاثر ہوا ہے، نوجوانوں کو ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے بارے تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر مستقبل کے لیے ماحول دوست طرز زندگی اپنانا ہوگا،

    مجھے فخر ہے کہ ایوان صدر آئی ایس او سے تصدیق شدہ دنیا کے ماحول دوست صدارتی دفاتر میں پہلی پوزیشن پر ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ ایوانِ صدر ایک میگاواٹ کے سولر پاور منصوبے سے نہ صرف اپنی بجلی کی ضروریات پورا کرتا ہے بلکہ قومی گرڈ میں بھی بجلی دیتا ہے۔ انہون نے کہا کہ تمام اداروں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ گرین پریذیڈنسی منصوبے سے سیکھیں،

    توانائی کی بچت کریں تاکہ موثر انداز میں عوام کی خدمت کی جا سکے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کے جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے وسائل کو موسمیاتی تبدیلیوں، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور آبادی میں اضافے کے باعث منفی اثرات کا سامنا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور پروگراموں کے تحت متعدد اقدامات کے ذریعے مسلسل کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگلی وسائل ماحولیاتی استحکام کے لیے اہم ہیں، جنگلات، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے شعبوں کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اقوام متحدہ کا عالمی یوم ماحولیات ماحول سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کرنے اور مثبت اقدامات کرنے کے لیے وقف ہے،

    اس سال کے دن کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو فطرت سے اپنے تعلق کے بارے میں سوچنے کی ترغیب دینا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پائیدار ترقی کے17 اہداف میں سے کئی ایک کو پورا کرنے میں صحت مند ماحول کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2030 کے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں 8 سال باقی ہیں، دنیا کو معاشروں اور معیشتوں کو آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کی تباہی سے بچانے کیلئے تیز رفتاری سے کوششیں کرنے کی ضرورت ہے.

    چئیرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہاہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں اپنے رویوں اور طرز زندگی میں تبدیلی لانی ہوگی، اپنے آنے والی نسلوں کی حفاظت کیلئے زیادہ سے زیادہ درخت آگانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بات ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پراپنے خصوصی پیغام میں کہی ہے۔

    چئیرمین سینیٹ نے کہاکہ عالمی یوم ماحولیات منانے کا مقصد ماحولیات کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا اور تحفظ فراہم کرنا ہے ، بدقسمتی سے پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے حکومت اور پاکستانی عوام کو شدید چیلنجز درپیش ہیں.

  • اقتصادی ترقی کیلئے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی سے فائدہ اٹھاناہوگا،افتخار علی ملک

    اقتصادی ترقی کیلئے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی سے فائدہ اٹھاناہوگا،افتخار علی ملک

    صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے توانائی ناگزیر ہے اور توانائی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے نمٹنے کے لیے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    تعلیم یافتہ نوجوان خواتین کے وفد کی سربراہ عائشہ عبدالخالق بٹ سے اسلام آباد میں بات کرتے ہوئے نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اور آبپاشی اور بجلی دونوں مقاصد کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیموں کی تعمیر کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائیڈرو پاور پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا سب سے بڑا سستا ذریعہ ہے اور پاکستان میں اس کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

    اربوں روپے مالیت کا سیلابی پانی جو ضائع ہو جاتا ہے اس کو بھی متعدد مقاصد کے لیے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے دنیا کے 10 ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عوامل کے باعث ہم گرمیوں میں سیلاب اور سردیوں میں بار بار خشک سالی کا شکار ہوتے ہیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ سرحدی آبی تعاون وسیع علاقائی انضمام، امن اور پائیدار ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی و سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، اس وقت پاکستان اپنی توانائی کی 75 فیصد سے زیادہ ضروریات اندرونی وسائل سے پوری کرتا ہے جس میں سے 50.4 فیصد مقامی گیس، 28.4 فیصد مقامی اور درآمدی تیل جبکہ 12.7 فیصد پن بجلی سے پوری ہو رہی ہیں۔

    قابل تجدید توانائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس چار اہم قابل تجدید ذرائع ہوا، شمسی، ہائیڈرو اور بائیو ماس دستیاب ہیں۔ اگر ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان میں دیرپا توانائی کے بحران کا بہترین حل فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے تو متنوع توانائی کی فراہمی کو بہتر بنانے، درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کو کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ عائشہ عبدالخالق بٹ نے کہا کہ شمسی توانائی کے قابل تجدید توانائی کے وسائل میں اتنا ہی قابل اعتماد ہے اور ماحول پر منفی اثر ڈالے بغیر بڑی مقدار میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے تقریباً ہر حصے میں روزانہ 8 سے 10 گھنٹے اور سال میں 300 سے زیادہ دن سورج کی روشنی دستیاب ہے۔ مزید اظہار خیال کرتے ہوئے طلب اور رسد میں موجود فرق سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دنیا بھر میں روایتی ذرائع توانائی کی فراہمی سے قابل تجدید وسائل پر انحصار میں مستحکم تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کو قابل تجدید توانائی کے لیے کوششیں جاری رکھنا چاہیے۔

    تاہم بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان موجودہ فرق کے ساتھ سالانہ 8 سے 10 فیصد مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے قرضہ سکیم کے ذریعے چھوٹے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کے نظام کی خریداری کے لیے پالیسی کی حوصلہ افزائی اور اسے آسان بنایا جانا چاہیے۔

    اس شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے۔ 2030 تک پاکستان کی بجلی کی طلب 11,000 میگاواٹ تک بڑھنے کا امکان ہے۔ اس لیے پائیدار توانائی کے حصول کے لیے قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک زیادہ جامع نقطہ نظر اور پالیسی کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان کو آگے چلانا ہے تو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا،شہباز شریف

    پاکستان کو آگے چلانا ہے تو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا،شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 75 برس بعد بھی ہمیں سبق نہیں سیکھنا، سیاست ہی کرتے رہنا ہے؟، ملک کو گرینڈ ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے۔لاہور میں اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ قرض پر رہنے والا ملک کب تک زندہ رہے گا، اس وقت دنیا میں ہمیں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا، پاکستان کو آگے چلانا ہے تو گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ اسپتال کی تقریب میں شرکت میرے لیے باعث مسرت ہے، غریب افراد کے لیے ایسے منصوبے شروع کرنیوالے دین و دنیا کما رہے ہیں، اسپتال چلانے والے قابل فخر پاکستانی ہیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کو ایسے اداروں کے حوالے کریں جن کا دنیا میں نام ہے، قومیں علم اور ٹیکنالوجی سے ترقی کرتی ہیں، صحت اور تعلیم پر کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں پاکستان بہت آگے بڑھ سکتا ہے، قومیں صف بندی اور پلاننگ سے بنتی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آگے جانا ہے تو انا اور ضد کو چھوڑنا ہوگا، پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ہم سب کو زندگی کے تمام طبقوں میں مثال پیش کرنا ہوگی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اچھے لوگ کسی بھی حکومت کیساتھ کام کریں تو اسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، ہمیں اپنی پسند نا پسند سے بالاتر ہونا ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ کوئی آئے کوئی جائے تعلیم، صحت، صنعت اور دیگر اہم شعبوں پر سیاست کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق مجھے علم ہے، بجلی کے منصوبے موجود ہیں، تیل اور گیس مہنگا منگوانا پڑ رہا ہے، ساڑھے 3 سال ملک میں جو ہوا اسکا حساب لینا ہے کہ نہیں، یا صرف مجھ سے حساب لینا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب سے کہا ہے کہ رش کے اوقات میں میٹرو کے ٹکٹ آدھے کردیں۔ انہوں نے کہا کہ سود پر قرآن کریم میں جو کہا گیا اس کی حکم عدولی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، دنیا میں ہمیں اسلامی بلاک میں آگے ہونا چاہیے تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بنگالی بوجھ نہیں تھے انہیں بوجھ بنا کر پیش کیا گیا، کہا گیا بنگالیوں سے جان چھڑوائیں، آج بنگلادیش کی ایکسپورٹ 40 اور ہماری 27 ارب پر ہے۔

  • سابق وزیر اعظم عمران خان بنی گالہ پہنچ گئے

    سابق وزیر اعظم عمران خان بنی گالہ پہنچ گئے

    اسلام آباد:سابق وزیر اعظم عمران خان بنی گالہ پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی بنی گالہ آمد پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بنی گالہ پہنچ گئے، سکیورٹی نے فیاض چوہان کو بنی گالا جانے سے روک دیا،چیئرمین تحریک انصاف نے بنی گالہ میں پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر رکھا ہے جس میں میں شرکت کے لیے ممبران کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    عمران خان گرفتاری کے ڈر سے بنی گالہ سے پشاور چلے گئے تھے وہاں وزیراعلی ہاوس میں رہے ۔25 مئی کو لانگ مارچ کے لیے عمران خان اسلام آباد آئے اور پھر واپس پشاور چلے گئے ۔ عمران خان نے عدالت سے راہداری ضمانت کروائی ہے اسکے بعد آج بنی گالہ آئے ہیں بنی گالہ کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔ اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے بنی گالہ کے اطراف میں پولیس نے گزشتہ روز سرچ آپریشن بھی کیا ۔ بنی گالہ آج سے تحریک انصاف کے لئے ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے

    بتایا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کے زیر صدارت اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی، لانگ مارچ، قانونی اور سیاسی معاملات بھی زیر بحث لائے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پشاور سے اسلام آباد واپسی کا فیصلہ کیا تھا، پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس آج بنی گالا میں طلب کیا گیا ہے۔عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں لانگ مارچ سمیت آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت ہوگی، پی ٹی آئی چیئرمین کی رہائش گاہ پر خصوصی سکیورٹی تعینات کر دی گئی۔

    گذشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور، سارے پاکستان کی آواز ہے۔ میرا کام پاکستانیوں کو شعور دینا ہے، چاہتا ہوں نوجوان اپنے حق کے لیے کھڑے ہوں اور غلامی قبول نہ کریں۔

    میرے والدین نے تحریک پاکستان میں شرکت کی تھی، تحریک انصاف کا منشورتحریک پاکستان اور قرار داد پاکستان سے لیا تھا، کلمے کا مطلب اللہ تیرے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا، کلمہ انسان کو غیرت دیتا ہے، جب تک نظریے پرعمل نہیں کریں گے تب تک اسلامی فلاحی ریاست نہیں بن سکتے۔

  • فلم جوان میں  شاہ رخ بالکل ایک نئے روپ میں

    فلم جوان میں شاہ رخ بالکل ایک نئے روپ میں

    بالی وڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان جو گزشتہ چار سے فلموں سے بریک لئے ہوئے ہیں اب ایک بار پھر بڑی سکرین پر جلوہ گر ہو رہے ہیں اس بار وہ جس روپ میں دکھائی دے رہے ہیں وہ شائقین نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ شاہ رخ خان ایسا کردار پہلی بار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ فلم کا نام ہے ’’جوان‘‘ اس کا ٹیزر ریلیز ہو چکا ہے ٹیزر میں کنگ خان کے ہاتھوں اور چہرے پر پٹیاں بندھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ شائقین شاہ رخ خان کو نئے روپ میں دیکھ کر فلم کی ریلیز کے منتظر ہیں۔ شاہ رخ کے ساتھ سائوتھ کی اداکارہ نیانتھرا نظر آئیگی۔ شاہ رخ خان نے جیسے ہی فلم کا ٹریلر ٹویٹ کیا ان کے پرستاروں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم فلم کی ریلیز کے لئے بے چینی سے منتظر ہیں۔ فلم کا ٹیزر دیکھ کر بالی وڈ کے بھائی جان سلمان نے بھی کافی تعریف کی اور شاہ رخ خان کو گڈ لکھ کہا.

    فلم جوان شاہ رخ خان کی ہوم پروڈکشن ہے جسے گوری خان پرڈیوس کررہی ہیں۔ فلم اگلے برس ریلیز کی جائیگی ۔ اگلے برس شاہ رخ خان کی تین فلمیں سینما گھر کی زینت بنیں گی۔ یاد رہے کہ شاہ رخ خان 19 برس بعد ایک سال میں تین فلمیں کر رہے ہیں۔ اس سے قبل 2003 میں شاہ رخ خان کی ایک سال میں تین فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جس میں ’سوادیس‘، ’ویر زارا‘ اور ’میں ہوں نا‘ شامل تھیں۔

  • بنگلہ دیش: کنٹینر ڈپو میں آگ لگنے سے 41 افراد ہلاک

    بنگلہ دیش: کنٹینر ڈپو میں آگ لگنے سے 41 افراد ہلاک

    ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے چٹاگانگ میں کل رات ایک شپنگ کنٹینر ڈپو میں آگ لگنے سے کم از کم 41 افراد ہلاک ہو گئے۔ سیتا کنڈا علاقے میں ڈپو میں آگ لگنے سے تقریباً 450 افراد زخمی ہوئے ہیں اور حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ریاست کے زیر انتظام چٹاگانگ میڈیکل کالج ہسپتال میں تعینات ایک پولیس افسر نے کہا، "اب تک 41لاشیں مردہ خانے میں پہنچی ہیں۔”

    چٹاگانگ میڈیکل کالج ہسپتال کی پولیس چوکی میں تعینات پولیس افسر نورالعلم کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ کیمیکل ری ایکشن سے لگی۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ آگ دھماکے کے بعد پھیل گئی۔

    پولیس افسر نے بتایا کہ آگ رات 9 بجے کے قریب لگی اور دھماکہ آدھی رات کے قریب ہوا۔ دھماکے کے بعد آگ تیزی سے پھیل گئی۔ ریڈ کریسنٹ یوتھ چٹاگانگ میں ہیلتھ اینڈ سروس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ استقول اسلام نے کہا، "اس واقعے میں 450 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے-

    ذرائع کے مطابق دھماکا اس قدر تھا کہ قریبی گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ چٹاگانگ فائر سروس اور سول ڈیفنس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد فاروق حسین سکدار نے کہا: "تقریباً 19 فائر فائٹنگ یونٹ آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور چھ ایمبولینسیں بھی موقع پر موجود ہیں۔

  • سنجے دت سدھو موسے والا کے گھر تعزیت کرنے جائیں گے۔

    سنجے دت سدھو موسے والا کے گھر تعزیت کرنے جائیں گے۔

    جب سے بھارتی گلوکار سدھو موسے والا کی ہلاکت ہوئی ہے ان کے پرستار تو غمگین ہیں ہی لیکن بالی وڈ میں ایک سوگ کا سا سماں ہے۔ ہر کوئی افسردہ اور پریشان ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سنجے دت ان کے گائوں فیملی سے تعزیت کرنے کےلئے جائیں گے۔ سنجے دت کے پہنچنے سے پہلے سے موسے والا کے گائوں کی سیکیورٹی ٹائٹ کر دی گئی ہے بڑی تعداد میں پولیس تعینات ہے۔ سنجے دت اور سدھو موسے والا کا آپسی تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ سدھو نے سنجے دت کے لئے ایک گانا بھی گایا تھا جس کے بول تھے ’’او گھبرو تے کیس جہیڑا سنجے دت تے ، جٹ اتے کیس جہیڑا سنجے دت تے‘‘ ، یہ گانا گانے کے بعد وہ ایک کنٹرورسی میں بھی گھرے تھے۔ اُس وقت کہا گیا تھا کہ سدھو موسے والا جان بوجھ کر کنٹرورشل گیت گاتا ہے۔

    سنجے دت نے سدھو موسے والا کی ہلاکت کے بعد ایک ٹویٹ بھی کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نوجوان ٹیلنٹ کی اتنی جلدی موت کا سن کر بہت دکھی ہوں، انکی فیملی کو واہے گرو صبر عطا کرے‘‘ ۔ سدھو موسے والا کی موت کے بعد سنجے دت کا ان کی فیملی کے پاس جا کر اظہار تعزیت کرنے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سدھو موسے والا سے کتنا لگائو رکھتے تھے۔
    یاد رہے کہ سدھو موسے والا کو 29 مئی کو ضلع مانسا کے گاؤں جواہر میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے میں سدھو کی گاڑی پر 30 گولیاں برسائی گئیں جس کے نتیجے میں سدھو موقع پر ہلاک ہوگئے جب کہ ان کی گاڑی میں موجود دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

  • سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کا استعفیٰ ، ایک دُکھ بھری داستان

    سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کا استعفیٰ ، ایک دُکھ بھری داستان

    اسلام آباد:سابق ڈی جی ایل ڈی اے اور شہباز شریف سے متعلق کیس میں مبینہ فرنٹ مین احد چیمہ مستعفی اپنے استعفے میں شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے استعفے میں ایک دُکھ بھری داستان رقم کی گئی ہے، وہ بہت دُکھی دکھائی دیتے ہیں

    تفصیلات کے مطابق سابق ڈی جی ایل ڈی اے اور شہباز شریف سے متعلق کیس میں مبینہ فرنٹ مین احد چیمہ نے اپنے استعفے میں شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

     

    وزیراعظم کی اہم عہدہ دینے کی پیشکش، احد چیمہ کابڑا اعلان

    انہوں نے استعفے میں لکھا کہ 2018ء میں جب نیب نے مجھے گرفتار کیا تو میڈیا پر میری کردار کشی کی گئی، کئی کیسز بنائے گئے، خواتین سمیت پوری فیملی کو ہراساں کیا گیا، سیاسی جماعتوں نے میری تصویریں لگا کر الیکشن مہم چلائی۔ اس کا واحد مقصد مجھے شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانا تھا۔

    انہوں کا کہنا ہے کہ میں نے تمام ٹریننگ کورسز میں ٹاپ کیا، منصوبوں میں 150 ارب روپے کی بچت کی، پبلک سروس کے میدان میں خدمات پر مجھے تمغہ امتیاز ملا، میری ان خدمات کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی، اس سارے عرصے میں حکومت پاکستان جس کا میں ملازم تھا وہ خاموش تماشائی بنی رہی۔

    طاقتورطاقتورکادوست:غریب کرےکچھ ہوش:سابق ڈی جی LDAاحد چیمہ کےکارخاص…

    احد چیمہ کا کہنا ہے کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب مجھ پر الزامات لگائے گئے تو حکومت پاکستان نے مجھے قانونی مدد اور ساتھ دینے کی بجائے مجھ سے دوری کیوں اختیار کر لی اور ملازمت سے معطل کر دیا، تب مجھے اندازہ ہوا کہ ملازمت کے تمام فوائد حکومت کے لیے اور اس کے خطرات صرف میرے لیے ہیں۔

     

    احد چیمہ کا حالیہ بیان سنا ؟ کیا آپکو معلوم ہے کہ نیب نے کتنا نقصان پہنچایا ہے؟…

    انہوں نے لکھا کہ 2021ء میں میری ضمانت ہوئی تو اس وقت اسٹیبلشمینٹ ڈویژن نے مجھے شوکاز نوٹس جاری کر دیا، تمام الزامات ہو بہو وہی تھے جو نیب نے لگائے تھے، انکوائری میں ثابت ہوا کہ تمام الزامات غلط اور جھوٹے تھے، ان حالات میں میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میں پہلے سے جوش وجذبے کے ساتھ اس سول سروس کا مزید حصہ نہیں رہ سکتا، جس نے مجھے اچانک بد دیانت سمجھنا شروع کر دیا اور مجھے قانونی تحفظ دینے میں ناکام رہا، اس لیے میرا استعفیٰ منظور کیا جائے۔

  • اچانک امریکی صدر بائیڈن کا دورہ سعودی عرب اور اسرائیل ملتوی

    اچانک امریکی صدر بائیڈن کا دورہ سعودی عرب اور اسرائیل ملتوی

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور سعودی عرب کے ممکنہ دورے کی تاریخ مزید آگے بڑھا دی ہے۔ جو بائیڈن کا مبینہ طور پر جون کے آخر میں ہونے والے بیرون ملک دورے کے دوران سعودی عرب جانے کا بھی ارادہ تھا۔ لیکن انہوں نے یہ دورہ جولائی تک ملتوی کر دیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے ممکنہ تاخیر پر کوئی بیان دینے سے انکار کردیا ہے۔ امریکی صدر نے جمعے کو تصدیق کی تھی کہ وہ سعودی عرب کے دورے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافے پر اتفاق کرتے ہوئے بائیڈن کی دو ترجیحات پر عمل کیا۔

    اس سے امریکی افراط زر کو قابو کرنے اور یمن میں جنگ بندی میں توسیع میں مدد مل سکتی ہے۔ سی این این کے مطابق جوبائیڈن سعودی عرب کے حکمران ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

    مبینہ طور پر یہ دورہ اس وقت ہوگا جب بائیڈن اس ماہ کے آخر میں سپین میں نیٹو سربراہان کے اجلاس اور جرمنی میں گروپ آف سیون اجلاس میں شریک ہوں گے۔ توقع کی جارہی ہے کہ وہ اسرائیل جائیں گے جہاں انہیں ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ سست رفتار امریکی سفارت کاری کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا

    بائیڈن نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے سپلائی چین میں گڑبڑ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی عوام کو مشتعل کر دیا ہے اور بائیڈن کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بائیڈن کی انتظامیہ سعودی عرب کو اس امید پر تیل کی پیداوار بڑھانے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس سے سپلائی کی قلت کو کم کرنے اور قیمتوں میں کمی لانے میں مدد ملے گی-

    حکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ سعودی حکومت کے دو وفود رواں ماہ امریکہ کا دورہ کریں گے کیونکہ ریاض اور واشنگٹن نے کشیدہ تعلقات کو ٹھیک کرنے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے دورہ سعودی عرب کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ دو عہدیداروں نے بتایا تھا کہ توقع ہے کہ پہلا وفد 15 جون کو واشنگٹن کا دورہ کرے گا اور اس کی قیادت سعودی وزیر تجارت ماجد بن عبداللہ القصابی کریں گے۔

    سرمایہ کاری کے وزیر خالد الفلیح کی قیادت میں دوسرا وفد رواں ماہ کے آخر میں امریکہ جائے گا۔ عہدیداروں نے نام ظاہر کرنے سے انکار کردیا کیونکہ ان دوروں کے متعلق عوامی سطح پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے امریکہ جانے والے وفود میں درجنوں سرکاری حکام اور سعودی کمپنی کے ایگزیکٹوز شامل ہوں گے جو نقل و حمل، لاجسٹکس اور قابل تجدید توانائی سمیت متعدد شعبوں میں معاہدے اور معاہدوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    سعودی حکومت نے ان دوروں کے متعلق خبروں پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ دورہ سعودی عرب کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی صدر کے اس اعلان سے قبل جمعرات کو پیٹرولیم ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اتحادیوں (اوپیک پلس) کی جانب سے تیل کی پیداوار کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور یمنی حکومت اور ایران سے منسلک حوثیوں کے درمیان یمن میں جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ بھی ہوا تھا۔ بائیڈن اور وائٹ ہاؤس نے دونوں فیصلوں پر سعودی عرب کی تعریف کی تھی۔ امریکی صدر کے اس دورے سے واشنگٹن کے سعودی عرب کے