Baaghi TV

Author: +9251

  • شیریں مزاری کے اغوا کا مقدمہ، درخواست دائر کردی گئی

    شیریں مزاری کے اغوا کا مقدمہ، درخواست دائر کردی گئی

    اسلام آباد:شیریں مزاری کے اغوا کا مقدمہ، درخواست دائر کردی گئی،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی خواتین سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کے اغوا کا مقدمہ درج کرانے تھانے پہنچ گئیں۔پی ٹی آئی کی سابق خواتین ارکان اسمبلی نے تھانہ کوہسار میں درخواست دائر کر دی۔ عاصمہ قدیر، ظل ہما اور سابق ایم پی اے انیتا محسود نے درخواست جمع کرائی۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شیریں مزاری کو گرفتار کیا گیا جس کی ویڈیو بھی موجود ہے، اینٹی کرپشن کو متعلقہ تھانے میں آمد روانگی سے قبل نوٹ کروانا تھا۔مزید کہا گیا کہ اینٹی کرپشن نے متعلقہ تھانے کو آگاہ نہیں کیا گیا، اس سارے وقوع کے ذمہ دار حمزہ شہباز ہیں، حمزہ شہباز و دیگر کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے۔

    یاد رہے کہ شیریں مزاری کو آج اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے جاری بیان میں ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ شیریں مزاری کیخلاف ڈی جی خان میں اینٹی کرپشن کے تحت مقدمہ درج تھا، گرفتاری کے بعد انہیں تھانہ کوہسار سے ڈیرہ غازی خان منتقل کردیا گیا ہے۔

    اینٹی کرپشن پنجاب نے شیریں مزاری کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا۔ پی ٹی آئی رہنما کو ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتار کرلیا گیا، ان کو ان کی رہائشگاہ ای سیون کے قریب گرفتار کیا گیا، شیریں مزاری کو لاہور منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ، ان کو گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا، دوسرے تھانے کی حدود میں گرفتاری پر انٹری اور ایگزٹ ہوتی ہے، تھانہ کوہسار میں نہ کوئی انٹری ہے نہ کوئی ایگزٹ ہے،

    پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ مرد پولیس اہلکار شیریں مزاری کو گھسیٹ کر لے گئے، شیریں مزاری ایک جاندار آواز ہے جو اپنا مؤقف بلا خوف پیش کرتی ہیں، حکومت خوفزدہ ہوگئی ہے، ایسے ہتھکنڈوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے، شیریں مزاری کیساتھ مرد پولیس اہلکاروں نے بدتمیزی کی۔یہ شیری مزاری کا سیدھا سیدھا اغوا ہے۔

  • صحافی ارشد شریف کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا اقدام

    صحافی ارشد شریف کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا اقدام

    اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے صحافی ارشد شریف کی درخواست آج رات سماعت کیلئے مقرر کردی ہے۔

    اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق صحافی ارشدشریف کی پٹیشن پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم جاری کردیا ہے، جس کے مطابق عدالت نے صحافی ارشد شریف کو رات ساڑھے 11 بجے پیش ہونے کا کہا ہے۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی ہے کہ وہ ارشد شریف کی حاضری میں معاونت کریں۔

    خیال رہے کہ اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف حیدر آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمہ ریاستی اداروں کےخلاف گفتگو کرنے کے تحت درج کیا گیا، پولیس نے بتایا کہ طیب حسین نامی نوجوان نے گزشتہ روزمقدمہ درج کرایا ہے۔

    ارشد شریف کے خلاف مقدمہ پر پی ایف یوجے کے سابق صدر افضل بٹ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ایف آئی اےکےتحت پرچہ درج ہوا تو قانون کی خلاف ورزی ہے، کسی بھی ادارے، شخص کو صحافیوں کی رائے کو دبانےکا اختیارنہیں۔

    ارشد شریف پر مقدمے کیخلاف صحافیوں کا بھرپور احتجاج.اطلاعات کے مطابق نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز سے منسلک سینئر صحافی ارشد شریف پر مقدمہ درج ہونے کے خلاف صحافیوں نے بھرپور احتجاج کیا ہے۔

    لاہور میں احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں صحافیوں اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عالیہ حمزہ نے شرکت کی۔ انہوں نے ارشد شریف کے خلاف مقدمہ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    رہنما پی ٹی آئی عالیہ حمزہ نے کہا کہ اے آر وائی پر پابندیوں کے خلاف پی ٹی آئی سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوگی، حکومت کی پی ٹی آئی سے کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ شہید باپ اور شہید بھائی کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، ہم ارشد شریف اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، رانا ثنا للہ چوڑیاں پہن لیں، کل تک مریم اور رانا ثنا اللہ خواتین کے حقوق کی بات کر رہے تھے۔عالیہ حمزہ نے کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری ریاستی غندہ گردی ہے۔

    صحافی افضل بٹ نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یاد کریں جنگ کے دفتر کو آگ مسلم لیگ (ن) نے لگائی تھی، آئیں اور اس تحریک کا حصہ بنیں، پارٹی بننا ہے تو صحافیوں اور پاکستان کی بنیں۔

  • شہبازشریف سے آصف زرداری کی ملاقات، اہم معاملات پر مشاورت

    شہبازشریف سے آصف زرداری کی ملاقات، اہم معاملات پر مشاورت

    وزیراعظم شہبازشریف سے سابق صدر آصف زرداری نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور آصف علی زرداری کی مابین ماڈل ٹاؤن لاہور میں ملاقات ہوئی، جس میں ملکی سیایسی صورتحال سمیت اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وفاقی وزراء رانا ثنااللہ، سردار ایاز صادق، مفتاح اسماعیل، احسن اقبال سمیت اہم رہنما موجود تھے جبکہ پیپلزپارٹی کی جانب سے مسز رخسانہ، سلیم مانڈوی والا، جلال فاروق، جمیل احمد اور لیاقت علی شامل تھے۔

    ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماﺅں کی ملاقات دیر تک جاری رہی، جب کہ 24 گھنٹے میں وزیراعظم کی آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے دو ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا، وزیراعظم شہبازشریف کےساتھ بھی معاملے پر طویل مشاورت کی گئی، ملکی معیشت کو بہتر بنانے، بجٹ کی تیاری، آئی ایم ایف سے مذاکرات پر بھی مشاورت ہوئی، ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کےلئے قومی سلامتی کمیٹی اور گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے آنے والے ہفتے میں اہم ترین مشاورت شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے حکومت اور اتحادیوں کی مسلسل مشاورت جاری ہے، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز پر حکومت نے سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے، اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے متوقع لانگ مارچ اور اس کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جارہاہے، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر بھی مسلسل مشاورت کی جارہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کرنے کی تجویز پر بھی غور کررہے ہیں، آئندہ ہفتے انتخابی اصلاحات، نیب اصلاحات سمیت دیگر کاموں میں تیزی لانے پر بھی مشاورت کی جارہی ہے، اکتوبر میں انتخابات ہوسکتے ہیں یا نہیں، مردم شماری میں کتنا وقت درکار ؟ ان تمام امور پر آئندہ ہفتے حتمی مشاورت ہوگی، گرینڈ ڈائیلاگ میں پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن، تمام طبقات ، سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی تجویز پر حتمی فیصلہ ہوگا۔

  • شیریں مزاری کی گرفتاری سیاسی جبرنہیں تواورکیا ہے؟پی پی رہنما کی سخت تنقید

    شیریں مزاری کی گرفتاری سیاسی جبرنہیں تواورکیا ہے؟پی پی رہنما کی سخت تنقید

    اسلام آباد:شیریں مزاری کی گرفتاری سیاسی جبرنہیں تواورکیا ہے؟پی پی رہنما کی سخت تنقید،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مصطفیٰ نوازکھوکھر نے شیریں مزاری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی جبر کی سب سے بری شکل ہے۔

    سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے پاکستان میں چیزیں بدلنے والی نہیں، شیریں مزاری میری پڑوسی اورعزیزدوست ہیں، ان کی گرفتاری قابل مذمت اور سیاسی جبر کی سب سے بری شکل ہے۔

    پی پی رہنما نے کہا کہ جو لوگ ماضی میں ان چیزوں سے گزرے انہوں اسے برا بھلا کہا ہے، انہوں نے کہا کہ سوال اٹھایا کہ جو ان چیزوں سے ماضی میں گزر چکے وہ اس میں کیوں ملوث ہونگے یا اس پر آنکھیں بند کرینگے۔

    خیال رہے کہ سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کو گھر کے باہر سےگرفتار کرلیا گیا ہے ، اسلام آباد پولیس نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شیریں مزاری کیخلاف ڈی جی خان میں اینٹی کرپشن کے تحت مقدمہ درج تھا، انہیں تھانہ کوہسار سے ڈیرہ غازی خان منتقل کردیا گیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے گرفتاری کیخلاف ملک گیراحتجاج کی کال دے دی ہے۔

  • حمزہ شہباز نے شیریں مزاری کی رہائی کا حکم دے دیا

    حمزہ شہباز نے شیریں مزاری کی رہائی کا حکم دے دیا

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے شیریں مزاری کی رہائی کا حکم دے دیا،

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی رہائی کا حکم دے دیا۔ حمزہ شہباز کا کہنا تھاکہ شیریں مزاری بطور خاتون قابل احترام ہیں، ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

    وزیراعلی کا کہنا تھاکہ کسی بھی خاتون کی گرفتاری معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔
    انہوں نے ہدایت کی کہ شیریں مزاری کوگرفتارکرنے والے اینٹی کرپشن عملےکیخلاف تحقیقات ہونی چاہیئیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ تفتیش اورتحقیقات میں گرفتاری ناگزیرہے تو قانون اپنا راستہ خود بنالے گا، شیریں مزاری کی گرفتاری کے عمل سے اتفاق نہیں کرتا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن بحیثیت سیاسی جماعت خواتین کے احترام پریقین رکھتی ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ مریم نواز کے بارے میں بیہودہ زبان کی مذمت کرتےہیں مگر انتقام ہماراشیوہ نہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ راولپنڈی پولیس کو ہدایت کی شیریں مزاری کو اینٹی کرپشن کی تحویل سے چھڑاکر رہا کیا جائے۔

    یاد رہے کہ تحریک انصاف کی رہنما و سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کو اینٹی کرپشن کے اہلکاروں نے اسلام آباد میں واقع ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا تھا جہاں سے انہیں تھانہ کوہسار لایا گیا ۔

    اس حوالے سے سابق وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے بھی ان کی گرفتاری کے حوالے سے ٹویٹ کیا جب کہ پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی نے بھی ان کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے بتایا ہے کہ انہیں ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا جس کی مذمت کرتے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق شیریں مزاری کو اینٹی کرپشن ونگ ڈی جی خان نے اراضی کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا اور تھانہ کوہسار لے گیا جہاں سے انہیں لاہور لے جایا جانا تھا. شیریں مزاری پر اس مقدمے میں ایف آئی آر درج ہے، عملہ وارنٹ گرفتاری لے کر آیا تھا۔ اینٹی کرپشن پنجاب نے ان کے خلاف کارروائی کا آغاز مارچ 2022ء میں کیا تھا۔

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کہا کہ مرد پولیس اہلکار میری ماں پر تشدد کرتے ہوئے انہیں گھسیٹے ہوئے لے گئے اور مجھے صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن ونگ لاہور لے گیا ہے۔گرفتاری کے بعد ان کی بیٹی کے ہمراہ فواد چوہدری، بابر اعوان، شبلی فراز اور دیگر رہنما تھانہ کوہسار پہنچے جب کہ تھانہ کے باہر کارکنان جمع ہوگئے جنہوں ںے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

    تھانے کے باہر گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کی اس حرکت سے ظاہر ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے، ایسے اقدامات سے حکومت نے اعلان جنگ کردیا ہے۔

  • شیریں مزاری کی گرفتاری پر خوشی نہیں ہوئی،مریم نواز

    شیریں مزاری کی گرفتاری پر خوشی نہیں ہوئی،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کا سن کر خوشی نہیں ہوئی۔

    سوشل میڈیا ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے لیگی نائب صدر نے کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کا سن کر خوشی نہیں ہوئی، سنا ہے ان پر بزدار حکومت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور ان پر سرکاری زمین پر قبضے کا الزام ہے۔

    مزاری نے محکمہ مال کی 800 کنال اراضی کو بوگس طریقے سے اپنے نام کروایا، اینٹی کرپشن نے اگر گرفتار کیا ہے تو کوئی وجہ ہو گی، اب عورت کارڈ استعمال کررہے ہیں، مجھ پر تو کوئی سنگین الزام نہیں تھا،نوازشریف کی معاونت کا الزام تھا، شیریں مزاری پرسنگین الزامات ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پچھلے 4 سال لوٹ مار، نالائقی نے پاکستان کا حال کر دیا، مسلم لیگ کی حکومت کو آئے 4 ہفتے ہوئے ہیں۔ شہبازشریف کی کل کی تقریرتازہ ہوا کا جھونکا لگی۔ پچھلے چارسال تو اے سی اتروانے، فلاں کو پکڑ لو باتیں ہوتی تھی، پچھلے 4 سال انتقام، الزامات کے علاوہ کوئی بات نہیں سنی، پاکستان آج معاشی طور پر وینٹی لیٹر پر ہیں۔ چارسال جو کچھ کیا گیا اس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے، وزیراعظم کی شہبازشریف کا ایک اچھے ایڈمنسٹریٹوکا ریکارڈ ہے۔ شہبازشریف نے ایک، ایک ایشوز پر بات کی، مجھے فخر ہوا جس کے قائدین پاکستان بارے اتنا درد رکھتے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ کل عمران خان نے کہا شہباز شریف 6 بجے اٹھتا ہے تو ان کا مالی بھی 6 بجے اٹھتا ہے، عمران خان جب وزیراعظم تو دوپہر چار بجے اٹھتے تھے، عمران خان نے محنت کش کو طعنہ دیا، شہبازشریف صبح 6 بجے خدمت کرنے کی نیت سے اٹھتا ہے، عمران خان نے کہا تیل کی قیمتیں بڑھانے سے ان کو ڈر لگ رہا ہے،شریف برادران کو عوام کی حالت کا اندازہ ہے اگرقیمتیں بڑھائی توعوام کوتکلیف ہوگی، عمران خان کو ایک مرتبہ عوام کی تکلیف بارے بات کرتے نہیں سنا، عمران حکومت میں تب اورآج بھی کینٹنر پر ہیں۔

    ن لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ بدترین لوڈشیڈنگ کیا ہماری حکومت کی وجہ سے ہو رہی ہے؟ بجلی کے پلانٹس کی مرمت پرکوئی توجہ نہیں دی گئی، آج عوام لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں مبتلا ہے۔

  • شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    سابق وفاقی وزیر و تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کی انسٹیٹیوشن برانچ کاعملہ چھٹی کے بعددوبارہ ہائیکورٹ پہنچ گیا ہے۔

    شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی جبکہ ایمان مزاری کی جانب سے بطور پٹشنر درخواست دائر کی گئی۔

    درخواست میں شیریں مزاری کو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    واضع رہے کہ اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے سابق وفاقی وزیر کو کوہسار تھانے کی حدود سے گرفتار کیا۔

  • اداروں کیخلاف تنقید:ارشد شریف پر مقدمہ درج

    اداروں کیخلاف تنقید:ارشد شریف پر مقدمہ درج

    حیدرآباد:ارشد شریف پر مقدمہ درج ،اطلاعات کے مطابق نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ "ریاستی اداروں کے خلاف گفتگو” کرنے کے تحت درج کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن ارشد شریف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ، مقدمہ حیدرآباد کےتھانہ بی سیکشن میں درج کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ ریاستی اداروں کےخلاف گفتگو کرنے کے تحت درج کیاگیا، پولیس نے بتایا کہ طیب حسین نامی نوجوان نے گزشتہ روزمقدمہ درج کرایا ہے۔

     

     

    ارشد شریف کے خلاف مقدمہ پر پی ایف یوجے کے سابق صدر افضل بٹ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ایف آئی اےکےتحت پرچہ درج ہوا تو قانون کی خلاف ورزی ہے، کسی بھی ادارے، شخص کو صحافیوں کی رائے کو دبانےکا اختیارنہیں۔

    صحافتی اداروں اور تنظیموں نے اس مقدے کے اندراج کے خلاف احتجاج کیا ہے، یاد رہے کہ ایف آئی آر کی کاپی میں ارشد شریف کا نام تک صحیح نہیں لکھا۔

    پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج کرتے وقت دیکھنا چاہیے کہ کس نام سے درج کررہے ہیں، اگراپ کوکسی میڈیا ادارے اور صحافی پراعتراض ہے تو شکایت لکھ کردیں۔

    ماہر قانون ابوذر سلمان نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایف آئی آر کے متن میں 3پینل کوڈ کے سیکشن لگائے گئے ہیں، میں نے ایف آئی آر کا متن دیکھاہے، مسئلہ ایف آئی آر سے نہیں اس کےطریقہ کار سے ہے۔

    ابوذر سلمان نے مزید کہا کہ دفعات کی سزا 7 سے 10سال تک ہے، ضروری ہےکہ پہلے معاملے کی انکوائری کی جائے، مدینہ منورہ واقعے میں 15 سے 20 ایف آئی آردرج ہوئی تھی، سندھ پولیس نےایف آئی آرکاٹی ہے، پولیس اور سندھ حکومت کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

    ماہر قانون کا کہنا تھا کہ ارشد شریف نے اپنی طرف سے کوئی چیزبیان نہیں کی، ارشد شریف نے تاریخ بیان کی، ان کیخلاف ایف آئی آرشرمناک حرکت ہے، ایسی ایف آئی آرکاٹی گئیں توکوئی انوسٹی گیٹو جرنلزم نہیں کرے گا۔

  • اسپیکر پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل طلب کرلیا

    اسپیکر پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل طلب کرلیا

    لاہور:اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے اسمبلی کا اجلاس 22 مئی بروز اتوار کو طلب کیا ہے جب کہ اس سے قبل یہ اجلاس 30 مئی کو طلب کیا گیاتھا۔ذرائع کاکہنا ہےکہ اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اجلاس کی تاریخ میں تبدیلی کی۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے اسمبلی کا اجلاس 22 مئی کو طلب کرنےکا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس منظور کرتے ہوئے 25 ارکان کو ڈی سیٹ کردیا ہے جس کے بعد اپوزیش کاکہنا ہےکہ حمزہ شہباز اب وزیراعلیٰ نہیں رہے اور اسمبلی کا اجلاس دوبارہ طلب کرکے وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ کل الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کر دیا۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ اتفاق رائے سے منحرف ارکان کو ڈی سیٹ قرار دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے 23 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین وزیراعلیٰ کے انتخاب میں مخالف جماعت کے امیدوارکو ووٹ دیکر منحرف ہوئے، الیکشن کمیشن منحرف ارکان کے خلاف ڈکلیئریشن منظور کرتا ہے۔

    ڈی سیٹ ہونیوالوں میں 5 ارکان کا تعلق علیم خان گروپ، 4 کا اسد کھوکھر گروپ اور 16 ارکان کا تعلق جہانگیرترین گروپ سے ہے۔

  • شیریں مزاری کو گرفتار کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی

    شیریں مزاری کو گرفتار کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی

    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی جس میں انہیں خاتون اہلکاروں کے ساتھ مزاحمت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کیے جانے کی ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد میں واقع ان کے گھر کے باہر اینٹی کرپشن ونگ پنجاب کے ساتھ خاتون پولیس اہلکار موجود ہیں، شیریں مزاری کے کار میں گھر واپس آتے ہی خاتون اہلکاروں نے انہیں ساتھ چلنے کے لیے کہا لیکن شیریں مزاری کار سے نہیں اتریں۔

    اس دوران شیریں مزاری اور اہلکاروں کے درمیان سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا جس میں شیریں مزاری نے انہیں کہا کہ آپ کون ہوتی ہیں مجھے گرفتار کرنے والی۔
    انکار پر خاتون اہلکاروں نے پی ٹی آئی رہنما کو کار سے باہر نکالنے کی کوشش کی جس پر شیریں مزاری نے مزاحمت کی تاہم خاتون اہلکاروں نے انہیں زبردستی کار سے باہر نکالا اور حراست میں لے لیا۔

    واضح رہے کہ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے الزام عائد کیا تھا کہ گرفتاری کے وقت مرد پولیس اہلکاروں نے ان کی والدہ پر تشدد کیا اور اغوا کرکے لے گئے تاہم ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ایمان مزاری کا الزام دم توڑ گیا ہے۔