Baaghi TV

Author: +9251

  • اسمبلی ملازمین کو بلاوجہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے:چوہدری پرویز الہٰی

    اسمبلی ملازمین کو بلاوجہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے:چوہدری پرویز الہٰی

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ بے گناہ اسمبلی ملازمین کو بلاوجہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے اسمبلی افسران سے میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس اسمبلی میں دین کا کام ہوا، جہاں ختم نبوت پر پہرا دیا گیا اُسی کا تقدس پامال کیا گیا، یہ سب کروانے والے شہباز شریف اور حمزہ شہباز ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ قوم کے سامنے ان کا مکروہ چہرہ عیاں ہوچکا ہے، اسمبلی کے آئین اور قانون کے تقدس کو پہلی دفعہ پامال کیا گیا، اس سے پارلیمنٹ کی بالادستی بُری طرح متاثر ہوئی جس کی اصلاح سزا کے ساتھ ضروری ہے۔

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ بے گناہ اسمبلی ملازمین کو بلاوجہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان پر چوری اور ڈکیتی کے جھوٹے مقدمے بناکر حراساں کیا جا رہا ہے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ہم اسمبلی کے تقدس کو پامال کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔

    ادھر الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے 25 منحرف اراکین کی نااہلی سے متعلق ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بدھ کو دن 12 بجے سنایا جائے گا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ پارلیمانی پارٹی نے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں، آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کی تشریح نہیں کی گئی۔ پارٹی کے ارکان اسمبلی ہی کثرت رائے سے فیصلہ کرتے ہیں، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان نے وزارت اعلیٰ کیلئے پرویز الہیٰ کو امیدوار کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور چیف وہپ کے بیان حلفی جمع کرائے جا چکے ہیں۔

    منحرف اراکین کے وکلا وکیل جاوید ملک اور دیگر نے کہا کہ کاغذات نامزدگی اور جواب الجواب میں عمران خان کے دستخط مختلف ہیں جس سے ان کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی خود وزیر اعلیٰ کے امیدوار تھے، وہ کیسے ارکان کے خلاف ریفرنسز بھیج سکتے تھے ؟ پرویز الہیٰ اس کیس میں متاثر فریق تھے، ریکارڈ میں کسی دستاویزات کی اصل کاپی بھی نہیں لگائی گئی، فوٹو کاپی دستاویزات کی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں، الیکشن کمیشن ریفرنسزخارج کرے۔ الیکشن کمیشن نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ

    چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ

    حکومت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومت نے تکنیکی بنیادوں پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس کی میعاد 2 جون کو ختم ہو رہی ہے اور جب آرڈیننس ختم ہوگا تو موجودہ چیئرمین نیب اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ نیب ترمیمی آرڈیننس میں موجودہ چیئرمین نیب کو اگلے چیئرمین کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی شق شامل کی گئی تھی اور جسٹس (ر) جاوید اقبال عارضی انتطام کے تحت اس وقت بطور چیئرمین نیب کام کر رہے ہیں۔

    موجودہ حکومت پی ٹی آئی دور کےآرڈیننس کی اسمبلی سے منظوری نہیں کرائے گی کیونکہ وہ خود اصلاحات کا پیکج لانے جا رہی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) اختیارات تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کرپشن کے نام پرنیب کارروائی کا دائرہ کار تبدیل کرنے کیلئے نیب آرڈیننس میں 31 ترامیم تیار کرلی گئی ہیں اور کرپشن کیسز میں نااہلی 10 سال کے بجائے 5 سال کیلئے ہوگی اور 5 سال بعد الیکشن لڑا جاسکے گا۔

    ترمیم کے مطابق کرپشن کیس میں سزا پر اپیل کاحق ختم ہونے تک عوامی عہدے پر فائز رہا جاسکے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی ترامیم میں نیب کا ملزم کو گرفتار کرنے کا اختیارختم کردیا گیا ہے اور اب عدالت کی منظوری سے نیب ملزم کو گرفتار کرسکے گی۔5سال سے زیادہ پرانی ٹرانزیکشن یا اقدام کے خلاف نیب انکوائری نہیں کرسکےگا، بار ثبوت ملزم کے بجائے نیب کوفراہم کرنا ہوگا ورنہ انکوائری شروع نہیں ہوسکے گی۔

    نئی مجوزہ ترمیم کے تحت وزیراعظم، کابینہ ارکان اورکابینہ کمیٹیوں کے فیصلوں پرنیب کارروائی نہیں کرسکے گا جبکہ زیرالتوا انکوائریاں اور انڈر ٹرائل مقدمات احتساب عدالت سے متعلقہ اتھارٹیزکومنتقل ہوں گے۔

    مجوزہ ترمیم کے مطابق سیاستدانوں اوربیوروکریسی کے خلاف مالی فائدہ ثابت کیے بغیرکرپشن کیس نہیں بنےگا، سیاستدانوں اوربیوروکریسی کے اچھی نیت کے فیصلوں پر بھی نیب کارروائی نہیں کرسکے گا۔

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم کے مسودے پراتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی سے مشاورت ہوگی، اتحادیوں اورپی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد حتمی مسودہ کابینہ کو ارسال کیا جائےگا۔

  • وفاقی کابینہ کی اصلاحات کے بغیرالیکشن کی مخالفت

    وفاقی کابینہ کی اصلاحات کے بغیرالیکشن کی مخالفت

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا .وفاقی کابینہ نے اصلاحات کے بغیر فوری طور پر الیکشن میں جانے کی مخالفت کر دی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے دوران وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ریٹائرمنٹ ڈائریکٹری رپورٹ کابینہ نے مسترد کر دی جبکہ کابینہ نے کراچی میں دہشتگردی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو سندھ حکومت سے مل کر امن و امان کے لیے تمام اقدامات اٹھانےکی ہدایت کی۔

    کابینہ اجلاس کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کی برآمدات دو سال میں بڑھانے کی ہدایت کی گئی۔ برآمدات بڑھانے سے متعلق وزارت آئی ٹی کی سفارشات کو منظور کر لیاگیا.

    ذرائع کے مطابق پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری نوٹ چھاپنے کی سٹیٹ بنک کی سمری مسترد کر دی گئی، ان یادگاری نوٹوں کے چھاپنے پر 6.64 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ یادگاری کرنسی نوٹ غیر ملکی کمپنی نے پرنٹ کرنے ہیں۔

    اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے ایسے میں اتنے بھاری اخراجات نہیں کیے جاسکتے، بدترین معاشی بحران میں ملک فضول خرچ کا متحمل نہیں ہو سکتا، ۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ 75 ویں سالگرہ پر موجودہ کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن تبدیل کر کے کام چلایا جائے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ نے اصلاحات کے بغیر فوری طور پرالیکشن میں جانے کی مخالفت کر دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں زور دیا گیا کہ ملک کی بہتری کےلیے سخت فیصلے ناگزیر ہوچکے ہیں۔ غریب عوام کو ریلیف دیا جائے، امیر طبقہ پسے ہوئے طبقے کی مدد کے لیے آگے آئے۔ معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے سخت فیصلے کیے جائیں۔ ہمیں وقت ضائع کیے بغیر غریب آدمی کا سوچنا ہوگا۔

    وزیراعظم نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ملک میں شدید گرمی کی لہر کا سامنا ہے جس کیلئے خصوصی ٹاسک فورس وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے زیر انتظام تشکیل دی گئی ہے ۔ یہ ٹاسک فورس ماحولیاتی تبدیلیوں کے تدارک کیلئے اقدامات لے گی تاکہ پاکستان کو درپیش خطرات کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔

    ٭کابینہ اجلاس میں نیب ترامیم کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کابینہ اراکین نے اظہار کیا کہ نیب کا کالا قانون صرف سیاسی انتقام ، سرکاری اہل کاروں اور کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا۔انہی قوانین کی وجہ سے بیوروکریسی فیصلے لینے سے ڈرتی ہے جس کی وجہ سے اہم ترین امور میں ملک کا نقصان ہو جاتا ہے۔

    کابینہ نے نیب ترامیم کیلئے وزیرقانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔ اس کمیٹی میں وکالت ، بنکاری ، بیوروکریسی اور دیگر شعبوں سے منسلک نامور شخصیات بھی شامل کئے جائیں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کابینہ کو CIVIL SERVANTS (Directory Retirement from Service) Rules 2020 پر نظر ثانی کے حوالے سے قائم کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان رولز میں وہ تمام قوائد موجود ہیں جو Government Servants (Efficiency & Discipline) Rules, 2020 میں پہلے سے شامل ہیں۔ کابینہ اراکین نے اظہار کیا کہ ان رولز کو سرکاری افسران پر دبائو ڈالنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا جس کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا ۔پہلے سے موجود قوانین کے اوپر دوبارہ رولز نہیں بنائے جا سکتے۔احتساب کا عمل شفاف اور بلا تفریق ہونا چاہئے۔

    کابینہ نے کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے CIVIL SERVANTS (Directory Retirement from Service) Rules 2020 کو منسوخ کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ان رولز کے تحت سرکاری افسران کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں کو ختم کرنے کی بھی منظوری دی۔

    کابینہ کے اجلاس کے دوران دوسرے ایجنڈے میں کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارش پر75 ویں یوم آزادی اور اسٹیٹ بنک کے قیام کی مناسبت سے یادگاری بنک نوٹ کے ڈیزائن کی منظوری دی۔وزارت خزانہ نے سفارش کی تھی کہ یہ بنک نوٹ بین الاقوامی پرنٹنگ کمپنیوں کے ذریعے چھاپے جائیں، جس پر 6.64 ملین ڈالر خرچہ آئے گا۔تاہم کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ بنک نوٹ پاکستان کے اندر ہی چھاپے جائیں گے تاکہ قوم کا قیمتی پیسہ بچایا جا سکے۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس کے تیسرے ایجنڈے میں وزارت کامرس نے کابینہ کو برآمدات ، درآمدات اور تجارت کے توازن کے حوالے سے تفصیلی تجزیہ پیش کیا ۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 2021-22 ء کے پہلے دس ماہ میں برآمدات کا حجم 31.2 ارب ڈالررہا جبکہ درآمدات کا حجم 76.7 ارب ڈالر رہا۔اسی دورانئے میں برآمدات میں 4.95 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور درآمدات میں 11.16 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2020-21 ء کے جولائی تا اپریل اور مالی سال 2021-22 ء کے اسی دورانئے میں برآمدات کے حجم میں 25.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ جبکہ درآمدات میں 46.5 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔اسی دورانئے میں ٹریڈ بیلنس میں 64.9 فیصد کا اضافہ ہوا۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے خطے میں دیگر ممالک سے مسابقتی نرخوں پر بجلی اور گیس مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کرونا وباء سے متاثر کاروبار ی سرگرمیوں کو جلد بحال کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ سرمایہ کاروں اور کاروبار شروع کرنے کے لئے مراعات دینے کی ضرورت ہے جس سے برآمدات کا حجم بڑھایا جا سکتا ہے۔

    درآمدات میں اضافہ کی وجوہات بتاتے ہوئے کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ بین الاقوامی منڈی میں توانائی کی قیمتیںبڑھنے سے امپورٹ اخراجات میں اضافہ ہوا۔کرونا ویکسین کی درآمد ، گندم ، چینی ،کاٹن ،اسٹیل اور کھاد کی اضافی درآمد سے بھی اخراجات میں اضافہ ہوا۔ڈالر کی قدر میں اضافہ بھی اخراجات بڑھنے کی وجوہات میں شامل ہیں۔

    کابینہ نے وزارت کامرس کو ہدایت کی کہ درآمدات کم کرنے ، برآمدات بڑھانے اور Import Substitutionکے حوالے سے مفصل لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ Agro-based صنعت کے فروغ ، فصلوں سے پیداوار بڑھانے اور ان کو برآمد کرنے کیلئے کابینہ نے خصوصی پالیسی ساز کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔ کمیٹی میںوزیر تجارت ، وزیر صنعت و پیداوار، وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اور انہی ڈویژنز کے سیکرٹریز شامل ہوں گے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس کمیٹی کا اجلاس آج ہی بلایا جائے۔

    اجلاس کے چوتھےایجنڈے میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام نے کابینہ کو سافٹ ویئر برآمدات بڑھانے کے حوالے سے سفارشات پیش کیں۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ یہ سفارشات اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے لائی جائیں اور اگلے کابینہ اجلاس میں دوبارہ پیش کی جائیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے آئی ٹی شعبہ میں سرمایہ کاری اور برآمدات کے وسیع مواقعےموجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے آئی ٹی برآمدات کا ہدف 15 ارب ڈالر مقرر کیا ہے۔

    ایجنڈا نمبر5 پرکابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ16مئی 2022ء کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ16مئی 2022ء کو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

    ای سی سی کے فیصلے کے مطابق 52 ارب روپے پٹرولیم ڈویژن کے لئے مختص کئے گئے ہیں جو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کی جانب سے قیمتوں میں فرق کے کلیمز کی ادائیگیوں کے لئے ہوں گے اور یہ 16 مئی 2022ء سے پندرہ روز کے لئے موثر ہوگا۔

    خریف سیزن کے لئے جی ٹو جی بنیادوں پر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے 2 لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی درآمد

  • مرحوم شیخ خلیفہ کا دورحکومت:ترقیاتی منصوبوں پر40ارب درہم خرچ

    مرحوم شیخ خلیفہ کا دورحکومت:ترقیاتی منصوبوں پر40ارب درہم خرچ

    ابوظبی:متحدہ عرب امارات نے مرحوم شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان کے دور حکومت میں بہت سی کامیابیاں حاصل کیں جن میں سال 2021 کے لیے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے سے متعلق عالمی مسابقت کے 20 اہم اشاریوں میں سے عالمی سطح پر پہلے 10 میں شامل ہونا ہے۔ شیخ خلیفہ کی حمایت اور وژن کی وجہ سے متحدہ عرب امارات نے تیزی سے ترقی کی اور انفراسٹرکچر اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

    توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی وزارت نے 40 ارب درہم سے زیادہ مالیت کے اہم منصوبوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے متوازن ملک گیر ترقی پر توجہ مرکوز کی۔ تمام وفاقی اثاثوں کی تعداد 3,000 وفاقی عمارتوں سے زیادہ ہے جن میں تعلیمی اور صحت کی سہولیات، سرکاری خدمات کی عمارتوں اور مساجد شامل ہیں۔ مرحوم شیخ خلیفہ کے دور میں قابل ذکر کامیابیوں میں 230 سے ​​زائد سرکاری سکولوں کا قیام، تکمیل اور اپ گریڈیشن اور ہسپتالوں کے عالمی معیار کے نظام کی ترقی اور وفاقی حکومت کی صحت کی 32 سہولیات شامل ہیں۔

    انہوں نے 24 سے زائد ماہی گیری بندرگاہیں قائم کرکے ماہی گیروں کی مدد کی۔ وزارت نے سڑکوں کے حوالے سے کافی پیش رفت حاصل کی اور 140 سے زائد منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ وفاقی سڑکوں کی کل لمبائی 900 کلومیٹر سے زائد ہو گئی۔ گزشتہ 18 سالوں میں وفاقی سڑکوں پر ٹریفک لین کی کل لمبائی 4,300 کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے جو ملک کے مختلف علاقوں اور شہروں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ وزارت نے پانی کی فراہمی میں اضافے کے عمل کے کلیدی محرک کے طور پر پانی کی سہولیات کو بھی ترجیح دی۔اس کے اسٹریٹجک منصوبوں میں موسمی اوقات اور بارش کی بڑھتی ہوئی مقدار کے باعث ڈیموں اور واٹر چینلز کی تعمیر شامل ہے۔ پچھلے 20 سالوں میں 106 سے زیادہ ڈیم بنائے گئے اور ان کی دیکھ بھال کی جا چکی ہے۔ ملک کے ڈیموں اور آبی ذخائر کی گنجائش 200 ملین کیوبک میٹر سے زیادہ ہو گئی ہے جس سے اس کے آبی تحفظ کے نظام کو تقویت ملی ہے۔

    توانائی اور انفراسٹرکچر کی وزارت نے رہائشی سہولیات کی فراہمی میں استحکام حاصل کرنے اور اماراتی شہریوں کی خوشگوار زندگیوں اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے شیخ زاید ہاؤسنگ پروگرام نے ہاؤسنگ سپورٹ فراہم کرکے اور مربوط رہائشی اضلاع قائم کرکے 33,838 سے زائد شہری خاندانوں کے استحکام میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ متحدہ عرب امارات کو جامع کوششوں اور انتخابات سے قبل ایک بھرپور انتخابی مہم کے بعد کیٹیگری B کی رکنیت میں تیسری مرتبہ کونسل آف دی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے لیے دوبارہ منتخب کیا گیا ہے۔ اپنے تاریخی اقدامات کے ذریعےمتحدہ عرب امارات قومی میری ٹائم سیکٹر کو مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے جبکہ عالمی میری ٹائم اور لاجسٹک صنعت کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

    انتخابات کے نتائج کا اعلان گزشتہ سال لندن میں آئی ایم او اسمبلی کے 32ویں اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ دوبارہ منتخب ہونے پر متحدہ عرب امارات نے حکمت عملیوں، پالیسیوں اور معاہدوں کو تیار کرنے میں اپنے اہم کردار کے لیے بین الاقوامی تعریف حاصل کی جو بحری حفاظت کے معیارات کو بڑھاتے ہیں، سمندری ماحول کی حفاظت کرتے ہیں اور عالمی صنعت کی کارکردگی کو بڑھاتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے بہترین انفراسٹرکچر اور اعلیٰ درجے کی خدمات فراہم کرنے کے سلسلے میں علاقائی اور عالمی سمندری ضروریات کو پورا کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مقامی طور پر میرین سیکٹر میں بہت بڑی پیش رفت کی ہے۔ ملک کی قابلیت نے اسے ایک اہم عالمی سمندری مرکز کا درجہ حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔ ملک کے جی ڈی پی میں اس شعبے کا حصہ 90 ارب درہم سالانہ ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں نے 2021 کے دوران 19 ملین TEUs کو سنبھالا اور اسی سال کے دوران UAE میں 25,000 سے زیادہ پورٹ کالز ہوئیں۔ متحدہ عرب امارات کے قومی بیڑے کی گنجائش 21 ملین DWT ہے اور 2020 میں قومی بیڑے میں 970 جہاز شامل تھے۔ متحدہ عرب امارات میری ٹائم سیکٹر میں کئی عالمی مسابقتی اشاریوں میں سب سے آگے رہا ہے۔ ملک ٹرانسپورٹ خدمات کی تجارت اور بنکر سپلائی انڈیکس میں تیسرے نمبر پر تھا۔ یہ ایک اہم مسابقتی سمندری مرکز کے طور پر پانچویں اور پورٹ پرفارمنس اور ایفیشنسی انڈیکس میں عالمی سطح پر 13ویں نمبر پر ہے۔ کنٹینر ہینڈلنگ کے حجم میں ملک کی بندرگاہیں بین الاقوامی سطح پر ٹاپ 10 میں شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں 27,000 سے زیادہ میری ٹائم کمپنیاں ہیں اور ملک کی بندرگاہیں دنیا بھر میں سرفہرست ہیں

  • گرفتاری کا خوف،عمران خان کے ایک  اورقریبی ساتھی حفیظ شیخ نےعدالت سے رجوع کر لیا

    گرفتاری کا خوف،عمران خان کے ایک اورقریبی ساتھی حفیظ شیخ نےعدالت سے رجوع کر لیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کے ایک اور قریبی ساتھی سابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے گرفتاری سے بچنے کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ پر نجی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے الزام کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ عبد الحفیظ نے احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے، درخواست گزار اس وقت دبئی میں رہائش پذیر ہیں جبکہ نیب کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔

    عدالت نے عمران خان کے قریبی ساتھی عبد الحفیظ شیخ کی 10 روز کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وطن واپسی پر نیب حفیظ شیخ کو گرفتار نہ کرے۔
    نیب حکام کا کہنا ہے کہ سابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کیخلاف کراچی کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا گیا ہے۔

    اس سے قبل احتساب عدالت نے سابق مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے جبکہ ذرائع کے مطابق سابق مشیر خزانہ پر ایک کروڑ 12 لاکھ ڈالر کا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

  • آرمی چیف قمرجاوید باجوہ کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات:شیخ خلیفہ کےانتقال پر تعزیت

    آرمی چیف قمرجاوید باجوہ کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات:شیخ خلیفہ کےانتقال پر تعزیت

    ابو ظہبی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زايد النہيان سے ملاقات میں شیخ خلیفہ کے ا نتقال پر تعزیت کی۔

    تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ متحدہ عرب ا مارات کے حوالے سے بتایا کہ صدر یواےای محمد بن زايد النہيان نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    آرمی چیف کی یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات ہوئی ، جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے شیخ خلیفہ کےا نتقال پر تعزیت کیا۔

    یاد رہے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی متحدہ عرب امارات پہنچے تھے ، جہاں انہوں نے شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کے انتقال پر نئے امارتی صدر اور مرحوم کے خاندان سے اظہار تعزیت کیا تھا۔

    شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کا جمعہ ، 13 مئی 2022 کو انتقال ہوگیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ انہیں ابدی سکون عطا فرمائے اور متحدہ عرب امارات کے لوگوں کو صبر اور سکون عطا کرے۔

    وزارت نے اعلان کیا کہ متحدہ عرب امارات آج سے چالیس روزہ قومی سوگ منائے گا جس میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزارت نے مزید کہا کہ تمام وزارتوں، محکموں اور وفاقی، مقامی اور نجی اداروں میں ہفتہ 14 مئی سے تین دن کے لیے کام معطل رہے گا۔ جومنگل17 مئی سے بحال ہوجائے گا۔

  • سی ٹی ڈی کی کارروائی،انارکلی دھماکہ کے ملزم  لاہور سےگرفتار

    سی ٹی ڈی کی کارروائی،انارکلی دھماکہ کے ملزم لاہور سےگرفتار

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) نے کامیاب کارروائی کے دوران انار کلی بم دھماکے کے مرکزی ملزم سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دونوں دہشت گردوں کو لاہور سے گرفتار کیا گیا، گرفتار دہشت گردوں میں ثنا اللہ اور عبدالرازق شامل ہیں، دہشت گردوں سے دھماکا خیز مواد ، ڈیٹونیٹر، بیٹریاں اور ریموٹ کنٹرول برآمد ہوئے ہیں،دہشت گردوں کے قبضہ سے برآمد کیا جانیوالا سامان لاہور میں دو مختلف بم دھماکوں میں استعمال کیا جانا تھا۔

    سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ وہ اپنی مذموم کارروائیوں کے لئے لاہور پہنچ رہے ہیں جس پر کامیاب کارروائی کے دوران ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، دہشت گردوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والےاداروں اور ٹرین کی بوگی کو نشانہ بنایاجاناتھا۔

    سی ٹی ڈی ترجمان نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمان نے اسلام آباد اور ملتان میں بھی دھماکوں کا انکشاف کیا ہے، مزید تفتیش کے لئے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں لاہور کے مشہور انارکلی بازار میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق جبکہ تینتیس زخمی ہوئے تھے، پولیس کے مطابق مرنے والوں کی شناخت 9سالہ ابصار، 18سالہ یاسر اور 30سالہ رمضان کے نام سے ہوئی۔

    کالعدم جماعت بلوچ نیشنلسٹ آرمی نے لاہور میں ہونے والے دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

  • چینی کمپنی سائنوویک کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش آگئی

    چینی کمپنی سائنوویک کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش آگئی

    اسلام آباد: چینی کمپنی سائنوویک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دے دیا ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس چینی کمپنی نے بیماریوں کی تشخیص، بچاؤ اور علاج کیلئے جوائنٹ وینچر بنانے میں اظہار دلچسپی کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سائنوویک کے وفد کی ملاقات ہوئی ، جس میں سائنوویک کی طرف سے پاکستان کو فراہم ویکسین پر شہباز شریف کو بریفنگ دی گئی۔

    چینی کمپنی سائنوویک نے بیماریوں کی تشخیص، بچاؤ اور علاج کیلئے جوائنٹ وینچر بنانے میں اظہار دلچسپی کیا۔جس پر وزیراعظم نے چینی کمپنی کی طرف سے سرمایہ کاری کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا پیشکش کےحوالے سے ہر قسم کا تعاون فراہم کریں گے۔

    وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیر صحت کو پیشکش سے متعلق فوری ٹاسک فورس بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری بڑھانا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کوویڈ19کے دوران چینی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    سائنو فارم ویکسین کیسی ہے؟

    سائنو فارم چین کی ایک سرکاری دوا ساز کمپنی ہے۔ یہ کمپنی کووڈ 19 سے بچاؤ کی دو ویکسین تیار کر رہی ہے۔ اس کی ویکسین بھی سائنوویک کی طرح ان ایکٹیویٹڈ ویکسین ہیں اور اسی طرح کام کرتی ہیں۔

    سائنو فارم نے 30 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ اس کی ویکسین کے تیسرے مرحلے کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ 79 فیصد موثر ہے۔ تاہم یہ شرح فائزر اور موڈرنا کی تیارکردہ ویکسین سے کم ہے۔

  • فوری انتخابات یا سخت فیصلے:وزیراعظم شہباز شریف کے کل قوم سے پہلے خطاب کا امکان

    فوری انتخابات یا سخت فیصلے:وزیراعظم شہباز شریف کے کل قوم سے پہلے خطاب کا امکان

    وزیراعظم شہبازشریف کے کل قوم سے پہلے خطاب کا امکان ہے،اپنے خطاب میں وزیراعظم قوم کو ملک کی معاشی صورتحال سمیت اہم معاملات پراعتماد میں لیں گے.وزیراعظم کی جانب سے کل اہم اعلان بھی متوقع ہے

    زرائع کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف کی جانب سے کل سے اپنے پہلے خطاب کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے ،وزیراعظم شہباز شریف قوم سے خطاب کے دوران ملک کی معاشی صورتحال سمیت اہم معاملات پر قوم کو اعتماد میں لیں گے،شہباز شریف اپنے خطاب میں سابق حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی تفسیل سے بھی قوم کو آگاہ کریں گے.ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے قوم سے خطاب کے دوران اہم اعلان بھی متوقع پے.

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے تمام اتحادی جماعتوں کا اجلاس آج طلب کر رکھا ہے جس میں وزیراعظم تمام اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کو دورہ لندن کے حوالے سے اعتماد میں لیں گے شہباز شریف نے موجودہ ملکی صورتحال میں تمام اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد سخت فیصلے لینے کا عندیا دیا ہے.ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں دو آپشنز رکھے جائیں گے،جس میں ایک فوری انتخابات کروانے اور دوسرا سخت فیصلوں کا ہے۔
    تاہم پیپلزپارٹی فوری انتضابات کے حوالے سے پہلے ہی اپنا موقف واضع کر چکی ہے اور پیپزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کہ چکے ہیں کہ پہلے ملک میں اصلاحات کا عمل مکمل کیا جائے جس کی بعد ملک میں انتجابات کرائے جائیں.

    اس ستےقبل وزیراعظم شہبازشریف کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں. وزیراعظم شہبازشریف نے سابق صدر آصف زرداری سے ون آن ون ملاقات کی اور لندن میں نواز شریف سے ہونے والی ملاقات کے متعلق اعتماد میں لیا۔وزیراعظم شہبازشریف نے مولانافضل الرحمان سے بھی آئندہ کی حکمت عملی پر گفتگوکی اور یقین دلایا تمام فیصلے مشاورت کے ساتھ ہوں گے۔شہباز شریف نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کی تھی ، جس میں ایم کیو ایم پاکستان نے وزیراعظم کو فوری انتخابات کی تجویز دی تھی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے وزیراعظم شہبازشریف کو اتحادیوں کو انتخابات پرآمادہ کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

    اسلام آباد:پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات 18 مئی سے شروع ہوں گے۔آئی ایم ایف حکام کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں شروع ہورہےہیں ۔گزشتہ ماہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک رضاباقر نے کہا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    ذرائع کے مطابق کل سے شروع ہونے والا مذاکراتی اجلاس 25 مئی تک ختم ہو جائے گا۔یہ بھی کہا جارہاہے ہے کہ ان مذاکرات میں آئی ئی ایم ایف کی طرف سے زیادہ زور اس بات پرہوگا کہ زیادہ سے زیادہ ریونیواکٹھا کیا جائے،اس کے ساتھ ساتھ ایندھن کے ذریعے دی گئی غیر فنڈ شدہ سبسڈی کو ختم کرنا بھی کل کے مذاکرات کے مرکزی نقاط میں سے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مئی کے پہلے پندرہ دن میں سبسڈی کی رقم تقریباً 55 ارب روپے ہے۔دوسرے پندرہ دن میں یہ تقریباً 70 ارب روپے ہو جائے گا۔آئی ایم ایف مالی سال 23 کے لیے محصولات کی وصولی بڑھانے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

     

     

    بین الاقوامی معاشی اعداد و شمار رکھنے والے ادارے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے ایندھن اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر عمل کرنا مشکل رہا ہے۔ سیاسی حالات درپیش ہوں تو مشکل فیصلے لینے میں تاخیر کرنی پڑتی ہے۔

    دوسری طرف سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ حکومت کو پیٹرولیم پر 350 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نےقیمت بڑھانے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت دس روپے کم کردی،

    سابق وزیرخزانہ کاکہنا تھا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دُگنی ہوچکی ہیں، اب ملکی تاریخ میں 5600 ارب روپے کا وفاقی بجٹ خسارہ ہونے جا رہا ہے۔