Baaghi TV

Author: +9251

  • ‏عمران خان جان کو خطرے کا کہہ کر شعبدہ  بازی کر رہے ہیں ،خواجہ آصف

    ‏عمران خان جان کو خطرے کا کہہ کر شعبدہ بازی کر رہے ہیں ،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان کی قتل کی سازش سے متعلق بات پر یقین نہیں کرتا، یہ شعبدہ بازی ہے، پہلے کیوں نہیں بولے اب ان کو یہ سارے خیال آرہے ہیں، ساڑھے تین سال حکمران رہے کچھ تو میچورٹی آنی چاہیے تھی۔

    جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کہا تھا اکانومی کو وینٹی لیٹر لگے ہوئے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ جو ساڑھے تین سال انہوں نے گزارے اور جس طرح برسر اقتدار آئے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، عمران خان سیاست جانتے تو ملک کا آج یہ حال نہ ہوتا، ملک کے با وقار سیاسی نظام میں عمران خان کی گنجائش نہیں ہے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ فلاں کا نمبر بلاک کردیا، فلاں سازش کر رہا ہے، جب تک ان کی مدد کی جاتی رہے تب تک ہر چیز اچھی ہے، کوئی قانون قاعدے کے مطابق ڈیل کرے تو پھر ان کو تکلیف ہوتی ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ جو اپنے آپ کو لیڈر دکھا رہے ہیں ان کو یہ زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے

    دوسری طرف رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ موجودہ بیانیہ عمران خان کا امریکی سازش جیسا فراڈ بیانیہ ہے امریکی سازش والا بیانیہ اب مدھم پڑگیا تھا تو آج اس نے نیا ڈرامہ چلانے کی کوشش کی ہے عمران خان شواہد دیں ہم اسکی انکوائری کروانے کو تیار ہیں ساری حقیقت پتہ چل جائے گی

    یاد رہے کہ آج سیالکوٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف بند کمروں کے اندر سازش ہورہی ہے کہ عمران خان کی جان لے لی جائے، اس سازش کا مجھے پہلے سے پتا تھا ، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو پوری قوم کے سامنے آئے گی۔ اس ویڈیو میں سب سازشیوں کے نام ہیں۔

    سیالکوٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اللہ تیری عبادت اورتیرے سے مدد مانگتے ہیں، کسی انسان اورکسی سپرپاورکے سامنے ہم نہیں جھکتے، ہم دنیا کے سب سے عظیم لیڈرکی امت ہے۔ نوازشریف جتنے بزدل تم اتنی ہی تمہاری پارٹی ہے، ہماری حکومت نے ایک دفعہ بھی ان کے جلسے، لانگ مارچ روکنے کی کوشش نہیں کی،ہرتین ماہ بعد یہ ہماری حکومت گرانے آتے تھے،تمہارے ساتھ ملک کی بڑی بیماری زرداری بھی تھا۔

    انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بند کمروں کے اندر سازش ہورہی ہے کہ عمران خان کی جان لے لی جائے، اس سازش کا مجھے پہلے سے پتا تھا ، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو پوری قوم کے سامنے آئے گی۔ حکومت نے سازش کر کے ہمیں بڑے میدان میں جلسہ نہیں کرنے دیا، نواز شریف بزدل ہے، جس نے زندگی میں کوئی ایک کام ایمانداری سے نہیں کیا۔

    چیئر مین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنی بیماری کی ایسی اداکاری کی کہ لگتا تھا ابھی مرجائے گا ، مگر جیسے ہی انہوں نے جہاز کی سیڑھیاں دیکھیں تو فوراً اس میں جاکر بیٹھ گئے۔ شریف اور زرداری خاندان نے تیس سال حکومت کی، ہمیں صرف ساڑھے تین سال اقتدار ملا، شہباز شریف کہتا ہے، پاکستانی بھکاری ہیں، اس لیے انہیں امریکی غلامی کرنی پڑےگی۔

    انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے انہیں خواجہ وینٹی لیٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کو وینٹی لیٹر پر تم نے ڈالا ہے ، ہم نے تو صرف ساڑھے تین سال ملک میں حکومت کی ، تم لوگ یہاں سے پیسہ لوٹ لوٹ کر باہر لے گئے ہو۔ آج تک دنیا کی تاریخ میں کبھی کوئی انقلاب کو نہیں روک سکا، یہ سیاست نہیں ہورہی یہ انقلاب آرہا ہے، اور اسے نہ نواز شریف روک سکتے ہیں ، نہ شہباز شریف ، نہ ان کا بیٹا روک سکتا ہے، نہ ہی وزیر داخلہ روک سکتا ہے ، اس انقلاب کو اب دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ جب ہم اسلام آباد پہنچیں گے تو پر امن رہیں گے ، اگر تم نے روکنے یا انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو تمھیں پورے پاکستان میں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

    عمران خان نے کہا کہ بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت 2 دن پہلے انٹرنیٹ، ٹرانسپورٹ اور پٹرول بند کردے گی، اس لئے پہلے ہی تیاری کرلیں، وزیراعظم، وزیردفاع اور وزیر داخلہ تیار ہوجاؤ عوام کا سمندر اسلام آباد آنے والا ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں عدلیہ سے عاجزی کے ساتھ سوال کرتا ہوں ، کہ میں کیا بہت خطرناک ہوں جو ملک سے غداری کرنے جارہا تھا کہ آپ نے رات بارہ بجے عدالتیں کھول دیں۔ میرا معصومانہ سا سوال ہے کہ شہباز شریف ، ان کے بیٹے حمزہ اور سلمان شہباز پر 24 ارب روپے کے کیسز ہیں، 24 ارب کا مطلب دو ہزار چار سو کروڑ روپے کی کرپشن کے ان لوگوں پر کیسز ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2004کے بعد ہمارے دورمیں سب سے زیادہ صنعتی پیداوارہوئی، یہ جنون قیمے والے نان کھلا کرنہیں خریدا جاسکتا، یہی جنون اسلام آباد کے اندر انقلاب لائے گا جو حقیقی آزادی دلائے گا، ہماری حکومت میں 29 فیصد ایکسپورٹ بڑھی، ہماری حکومت میں سب سے زیادہ پیسہ کسانوں کو ملا، برصغیر میں سب سے زیادہ روزگار پاکستان میں ملا، معاشی گروتھ 6 فیصد ریکارڈ ہے، جب سے یہ چورآئے ہیں روپے کی قدرکم ہورہی ہے، سٹاک مارکیٹ نیچے کی طرف جارہی ہے، اب بلاول امریکا جا کر بھیک مانگے گا، امریکیوں کو بلاول کے تمام اثاثوں کا پتا ہے، امریکیوں کوپتا پے نوازشریف کی طرح بلاول نے پیسہ کدھر چھپایا ہوا ہے، تحریک پاکستان کی طرح یہ میرے اورآپ کے لیے بھی جہاد ہے، زندگی، موت، رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے ڈرنا نہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میری طرح آپ کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے، انشا اللہ اسلام آباد میں ملاقات ہو گی، عثمان ڈار، عمر ڈار کو ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عثمان ڈاراسلام آباد آتے ہوئے کسی چیزسے نہ گھبرانا۔

    ان کا کہنا تھاکہ آج اپنی عدلیہ سے بڑی عاجزی سے ایک سوال پوچھ رہا ہوں، بڑا اچھا کیا اتوار کو آپ نے از خود نوٹس لے لیا، آپ کو عمران خان سے کوئی بڑا خطرہ ہوگا، 12 بجے عدالتیں کھول دیں چلیں ٹھیک ہے، میں بہت خطرناک اور ملک سے کوئی بڑی غداری کرنے جا رہا تھا کہ رات کے 12 بجے عدالتیں کھول دیں۔

    انہوں نے کہا کہ اپنی عدلیہ سے بڑی عاجزی سے پوچھتا ہوں کہ بڑا معصومانہ سا سوال ہے کہ شہباز شریف اور اس کا بیٹا حمزہ شہباز اور مفرور بیٹا سلمان شہباز پر ایف آئی اے کے 24 ارب روپے کے کیسز ہیں۔ میرا ڈاکٹر رضوان کو سلام پیش کرتا ہوں، جو ایف آئی اے کا ایک زبردست افسر، جس میں دلیری تھی، جس نے شریف مافیا کے خلاف کارروائی کرکے، مقصود چپراسی اور نوکروں کے بینک اکاؤنٹ پر 16 ارب روپے پکڑے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پھر کیا ہوا، ڈاکٹر رضوان کے اوپر دباؤ ڈالا گیا، حمزہ شریف نے اس کو دھمکیاں دیں اور وہ ڈاکٹر رضوان شدید دباؤ میں تھا، اس کو دل کا دورہ پڑا اور مرگیا۔ دوسرا افسر جو شہباز شریف کے ایف آئی اے کے کیس کی تفتیش کر رہا تھا، اس کا نام ندیم اختر تھا، اس کو کل دل کا دورہ پڑا، یہ کیسے ہے جو مافیا کی تفتیش کرتا ہے، ان کے اوپر کس طرح کا دباؤ ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ کدھر ہیں میری عدالتیں، ان کی حفاظت کرنا آپ کا کام ہے، کون آگے سے اس ملک کے کون سے سرکاری نوکر، کون سی ایف آئی اے، کون سی ایف بی آر، کون سے پولیس افسر کبھی بھی آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس ملک کے ادارے کیسے طاقت ور مجرموں کے سامنے کھڑے ہوں گے، اپنی عدلیہ سے سوال پوچھتا ہوں کون اس ملک کے اداروں کی حفاظت کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ میں بڑی عاجزی سے اپنی عدالتوں سے پوچھتا ہوں کہ یہ آپ کے سامنے ہمارے ملک کی تباہی ہو رہی ہے، جب ادارے ختم ہوتے ہیں تو ملک تباہ ہوجاتا ہے۔ میں اگلا سوال پوچھتا ہوں کہ یہ جو ہمارے جیلوں میں چھوٹے چور بھرے ہوئے ہیں، کیا ان کا یہ قصور ہے کہ وہ چھوٹے چور ہیں، کیا یہ سبق مل رہا کہ ملک میں ڈاکا مارو تو بڑا ڈاکا مارو نہیں تو جیل چلے جاؤگے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے ان کو نہیں پکڑنا تو میں کہتا ہوں کہ پاکستان کے جیل کھول دیں، ان غریبوں کو باہر نکالیں، ان غریب چوروں کی پوری چوری ملا کر وہ ایک مقصود چپراسی کے بینک میں جو 4 ارب آئے تھے وہ کم ہے۔

  • وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی متحدہ عرب امارات سفارتخانے آمد:سفیرسےاظہارتعزیت

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی متحدہ عرب امارات سفارتخانے آمد:سفیرسےاظہارتعزیت

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی متحدہ عرب امارات سفارتخانے آمد۔ صدر خليفة بن زايد آل نهيان کے انتقال پر آل نهيان خاندان اور متحدہ عرب امارات کے لوگوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور تعزیتی کتاب میں تاثرات بھی درج کئے

     

    یاد رہے کہ تحدہ عرب امارات کے صدر شيخ خليفہ بن زيد النہيان انتقال کرگئے ہیں، ان کی عمر 73 برس تھی۔یو اے ای حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شيخ خليفہ بن زيد النہيان کی عمر 73برس تھی۔ وہ يو اے ای کے دوسرے صدر تھے۔ خليفہ بن زيد النہيان سال 2004سے صدارت کے منصب پر فائز تھے۔حکومت کی جانب سے شيخ خليفہ بن زيد النہيان کے انتقال پر 40 روز سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، اس موقع پر متحدہ عرب امارات کا پرچم سرنگوں رہے گا۔ شیخ خلیفہ بن زایدالنہیان کے انتقال پر40 روز کے سوگ کے ساتھ 3روز کی عام تعطیل بھی ہوگی۔

    صدارتی اعلان میں کہا گیا ہےکہ وفاقی سرکاری اور نجی شعبے میں تین دن تک تعطیل رہے گی۔ یو اے ای کے صدر کی تدفین اور نماز جنازہ سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں

    ادھر پاکستان عرب امارات (یو اے ای) کے صدر خلیفہ بن زاید آل نہیان کے انتقال پر پاکستان میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔کابینہ ڈویژن کے مطابق یو اے ای کے صدر کے انتقال پر 13 سے 15 مئی تک پاکستان میں قومی سوگ منایا جائے گا اور قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ خلیجی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سپریم کونسل نے شیخ محمد بن زاید النہیان کے صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا۔ 61 سالہ شیخ محمد بن زاید النہیان متحدہ عرب امارات کے تیسرے صدر ہیں جو پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہوئے ہیں، انہیں خلیفہ بن زاید النہیان کے انتقال کے بعد صدر منتخب کیا گیا ہے۔ شیخ محمد بن زاید النہیان 2004 سے ابو ظبی کے ولی عہد تھے اور وہ ابوظبی کے 17 ویں حکمراں ہوں گے۔شیخ محمد متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر بھی رہ چکے ہیں

  • چوہدری شجاعت حسین کا آج سے باقاعدہ ٹوئٹر پر شمولیت کا اعلان

    چوہدری شجاعت حسین کا آج سے باقاعدہ ٹوئٹر پر شمولیت کا اعلان

    گجرات:چوہدری شجاعت حسین کا آج سے باقاعدہ ٹوئٹر پر شمولیت کا اعلان،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شمولیت اختیار کرلی ہے۔

    چوہدری شجاعت حسین نے آج سے باقاعدہ ٹوئٹر پر شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلے میں ٹوئٹر پر موجود نہیں تھا، سیاست کا تقاضہ تھا کہ میں خود لوگوں تک اپنا پیغام پہنچاؤں۔

    ق لیگی سربراہ نے مزید کہا کہ یہ میرا واحد ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے، اس کے سوا جو بھی اکاؤنٹس ہیں، اُن سے میرا یا میرے خاندان کا کوئی تعلق نہیں۔

    چوہدری شجاعت حسین کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو مختصر وقت میں تقریباً 14 ہزارسے زائد افراد نے فالو کرلیا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے چوہدری شجاعت حسین کی وفات کی جھوٹی خبریں پھیلائی جارہی تھیں تواس دوران چوہدری شجاعت حسین کی طرف سے یہ پیغام جاری کیا گیا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین ٹھیک ہیں ، اس کے بعد خود سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے سوشل میڈیا پر زیر گردش خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

    لاہور سے جاری بیان میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ الحمدللہ، میں بالکل خیریت سے ہوں۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں، ان گمراہ کن خبروں پر دھیان نہ دیا جائے۔

  • آرمی چیف کا کور ہیڈ کوارٹرز بہاولپور کا دورہ:آئی ایس پی آر

    آرمی چیف کا کور ہیڈ کوارٹرز بہاولپور کا دورہ:آئی ایس پی آر

    راولپنڈی :آرمی چیف کا کور ہیڈ کوارٹرز بہاولپور کا دورہ:آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹرز بہاولپور کا دورہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹرز بہاولپور کا دورہ کیا ہے، کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل خالد ضیا نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کو فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں، تربیت اور انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، آرمی چیف نے جوانوں کے مورال اور آپریشن تیاریوں کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مینٹیننس سہولیات اور پیشہ ورانہ ترقی کے ریسورس سینٹر کا بھی دورہ کیا۔

  • روس کی برطانیہ پر 4 منٹ سے بھی کم وقت میں جوہری حملے کی دھمکی

    روس کی برطانیہ پر 4 منٹ سے بھی کم وقت میں جوہری حملے کی دھمکی

    ماسکو:روس کی برطانیہ پر 4 منٹ سے بھی کم وقت میں جوہری حملے کی دھمکی ،اطلاعات کےمطابق روس نے برطانیہ پر 4 منٹ سے بھی کم وقت میں جوہری حملے کی دھمکی دے دی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے یوکرین کی جنگ سے توجہ ہٹانے کے لیے اپنے شیطان 2 ہائپرسونک میزائل سے برطانیہ پر 200 سیکنڈز اور فن لینڈ پر صرف 10 سیکنڈز میں جوہری حملے کی دھمکی دی ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ایک سینئر ساتھی نے برطانیہ پر جوہری حملہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس میں صرف تین منٹ لگیں گے۔

    ڈوما کی دفاعی کمیٹی کے نائب چیئرمین الیکسی زووراولیوف نے کہا ہے کہ نیٹو میں شامل ہونے کے لیے تیار فن لینڈ صرف دس سیکنڈز میں ختم ہو جائے گا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس نے ہفتے کی صبح فن لینڈ کو بجلی کی سپلائی منقطع کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ فن لینڈ اپنی بجلی کا دس فیصد روس سے درآمد کرتا ہے تاہم روسی سرکاری درآمد کنندہ کو ادائیگیاں موصول نہ ہونے پر بجلی کی سپلائی منقطع کردی گئی۔

    دوسری جانب فن لینڈ میں ٹرانسمیشن سسٹم چلانے والے ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں روس سے درآمد کیے بغیر بھی کافی بجلی موجود ہے۔

  • پاکستان نےاپنی تیار کردہ گاڑی برآمد کر کے اہم سنگ میل عبور کرلیا

    پاکستان نےاپنی تیار کردہ گاڑی برآمد کر کے اہم سنگ میل عبور کرلیا

    کراچی:پاکستان اب تک بیرونی دنیا سے گاڑیاں درآمد کرنے والا ملک ہی تھا تاہم پاکستان نے اپنی تاریخ کی پہلی گاڑی برآمد کرکے ایک سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ڈیلی پاکستان گلوبل کے مطابق یہ ماسٹر شینگن موٹرز لمیٹڈ کی مقامی سطح پر اسمبل کی گئی گاڑی تھی جسے آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26ءکے تحت برآمد کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق اوشن ایک 7ہی پاکستان کی وہ پہلی گاڑی ہے جو گلوبل آر ایچ ڈی پریمیئر کے ذریعے مارچ 2022ءمیں متعارف کرائی گئی تھی۔ یہ گاڑی چین کی معاونت سے 13ماہ کی ریکارڈ مدت میں تیار کی گئی۔ ماسٹر شینگن موٹرز لمیٹڈ کا یہ اسمبلی یونٹ میں سالانہ 50ہزار گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کمپنی کی طرف سے اپنے فیس بک پیج کے ذریعے گاڑی برآمد کرنے کے متعلق بتایا گیا ہے تاہم اس پوسٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ گاڑی برآمد کرکے کس ملک بھجوائی گئی ہے؟

    یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک نہیں بلکہ دو ’ملٹی پرپز کمرشل الیکٹرک وہیکلز‘ اور انہیں چارج کرنے کے لیے ’ای وی چارجر‘ اور ’اے سی چارجر‘ متعارف کروا دیے گئے۔

    یہ گاڑیاں ستارہ انجینیئرز فیصل آباد اور ٹیسلا انڈسٹریز اسلام آباد نے جوائنٹ وینچرز کے تحت چین سے درآمد کی ہیں اور آئندہ سال تک ان کی پاکستان میں اسمبلنگ شروع ہو جائے گی۔

    ستارہ انجینیئرز کے ڈائریکٹر احمد نواز کہتے ہیں کہ انہوں نے کمرشل الیکٹرک گاڑیاں اسی لیے متعارف کروائی ہیں کہ ان کے چلانے والوں کو پتہ ہوتا ہے کہ انہوں نے سواری یا سامان کہاں سے لینا ہے اور کہاں پہنچانا ہے۔

    انہوں نے بتایا: ’کمرشل وہیکل کو اپنا پوائنٹ پتہ ہوتا ہے کہ اس نے کتنے کلومیٹر طے کرنے ہیں، اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ہمیں الیکٹرک وہیکلز کی مارکیٹ میں آنا ہے تو پھر کمرشل وہیکل سے شروع کیا جائے تاکہ ہم اسے مزید دو تین سال میں کامیاب کریں اور پھر ڈومیسٹک کار بھی لے کر آئیں تاکہ وہ عام استعمال میں آ سکیں۔‘

    اب تک پاکستان میں جتنی بھی الیکٹرک کاریں یا وہیکلز درآمد کی جا رہی ہیں وہ ڈومیسٹک وہیکلز کے زمرے میں آتی ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں ’میکسمس‘ کارگو وین اور ’ٹورر‘ منی بس پہلی ایسے الیکٹرک وہیکلز ہیں جو کمرشل کیٹیگری میں آتی ہیں۔

    اس بارے میں احمد نواز نے بتایا: ’یہ بہت کم خرچ ہیں اور کمرشل الیکٹرک وہیکل گاڑی قیمت اور فرسودگی ڈال کر تقریباً تین سے ساڑھے تین روپے فی کلومیٹر میں پڑے گی۔‘

  • ‏میرے قتل کی سازش ہورہی ہے:میں نےویڈیو ریکارڈ کروا کے رکھ دی ہے:عمران خان

    ‏میرے قتل کی سازش ہورہی ہے:میں نےویڈیو ریکارڈ کروا کے رکھ دی ہے:عمران خان

    سیالکوٹ:پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف بند کمروں کے اندر سازش ہورہی ہے کہ عمران خان کی جان لے لی جائے، اس سازش کا مجھے پہلے سے پتا تھا ، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو پوری قوم کے سامنے آئے گی

    سیالکوٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اللہ تیری عبادت اورتیرے سے مدد مانگتے ہیں، کسی انسان اورکسی سپرپاورکے سامنے ہم نہیں جھکتے، ہم دنیا کے سب سے عظیم لیڈرکی امت ہے۔ نوازشریف جتنے بزدل تم اتنی ہی تمہاری پارٹی ہے، ہماری حکومت نے ایک دفعہ بھی ان کے جلسے،لانگ مارچ روکنے کی کوشش نہیں کی،عمران خان ہرتین ماہ بعد یہ ہماری حکومت گرانے آتے تھے،عمران خان تمہارے ساتھ ملک کی بڑی بیماری زرداری بھی تھا۔

    انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بند کمروں کے اندر سازش ہورہی ہے کہ عمران خان کی جان لے لی جائے، اس سازش کا مجھے پہلے سے پتا تھا ، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو پوری قوم کے سامنے آئے گی۔ حکومت نے سازش کر کے ہمیں بڑے میدان میں جلسہ نہیں کرنے دیا، نواز شریف بزدل ہے، جس نے زندگی میں کوئی ایک کام ایمانداری سے نہیں کیا۔

    چیئر مین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنی بیماری کی ایسی اداکاری کی کہ لگتا تھا ابھی مرجائے گا ، مگر جیسے ہی انہوں نے جہاز کی سیڑھیاں دیکھیں تو فوراً اس میں جاکر بیٹھ گئے۔ شریف اور زرداری خاندان نے تیس سال حکومت کی، ہمیں صرف ساڑھے تین سال اقتدار ملا، شہباز شریف کہتا ہے، پاکستانی بھکاری ہیں، اس لیے انہیں امریکی غلامی کرنی پڑےگی۔

    انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے انہیں خواجہ وینٹی لیٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کو وینٹی لیٹر پر تم نے ڈالا ہے ، ہم نے تو صرف ساڑھے تین سال ملک میں حکومت کی ، تم لوگ یہاں سے پیسہ لوٹ لوٹ کر باہر لے گئے ہو۔ آج تک دنیا کی تاریخ میں کبھی کوئی انقلاب کو نہیں روک سکا، یہ سیاست نہیں ہورہی یہ انقلاب آرہا ہے، اور اسے نہ نواز شریف روک سکتے ہیں ، نہ شہباز شریف ، نہ ان کا بیٹا روک سکتا ہے، نہ ہی وزیر داخلہ روک سکتا ہے ، اس انقلاب کو اب دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ جب ہم اسلام آباد پہنچیں گے تو پر امن رہیں گے ، اگر تم نے روکنے یا انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو تمھیں پورے پاکستان میں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

  • نیب کسی کے دبائو میں تھا ، ہے اور نہ ہی لایا جا سکتا ہے۔ ترجمان

    نیب کسی کے دبائو میں تھا ، ہے اور نہ ہی لایا جا سکتا ہے۔ ترجمان

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے بعض اخبارات میں 14 مئی 2022ء کو نیب کے حوالہ سے شائع خبر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب انسداد بدعنوانی کا ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے، نیب کی موجودہ قیادت کے گذشتہ 4 سال سے زائد عرصہ کے دوران نیب نہ ہی کسی کے دبائو میں تھا نہ کسی کے دبائو میں ہے اور نہ ہی کسی دبائو میں لایا جا سکتا ہے۔

    نیب کی طرف سے جاری بیان کے مطابق نیب ہمیشہ آئین و قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے پر سختی سے یقین رکھتا ہے جس کا واضح ثبوت نیب کی موجودہ قیادت کے دور میں معزز احتساب عدالتوں کی طرف سے نیب کی مؤثر اور بھرپور پیروی کی بدولت نیب ریفرنسز میں 1405 ملزمان کو سزائیں سنانا اور جرمانے عائد کرنا ہے خصوصاً جوڈیشل ہسٹری میں مضاربہ کیس میں معزز احتساب عدالت کی طرف سے ملزمان کو 10 ارب روپے ایک کیس میں جرمانہ عائد کرنا ہے جو کہ نیب کی تاریخ میں پہلے کسی کیس میں اتنا بھاری جرمانہ ملزمان پر عائد نہیں ہوا۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیب کے مقدمات میں سزائیں کسی کی خواہش پر نہیں دی جاتیں بلکہ اس کیلئے ٹھوس اور مؤثر شہادتوں اور شواہد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وائٹ کالر کرائم میں ٹھوس اور مؤثر شہادتوں اور ثبوتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں وائٹ کالر کرائم کی تفتیش اور تحقیق کیلئے کوئی عرصہ مقرر نہیں اور متعلقہ اداروں کو انتہائی مناسب وقت دیا جاتا ہے تاکہ وہ وائٹ کالر کرائم کی تفتیش اور تحقیق بہترین طریقے سے مکمل کر سکیں۔ واضح رہے کہ نیب کی موجودہ قیادت کے دور میں نیب نے ملزمان سے نہ صرف 584 ارب روپے بلاواسطہ اور باواسطہ طور پر برآمد کئے بلکہ نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا۔ نیب کی موجودہ قیادت کے گذشتہ 4 سال سے زائد عرصہ کے دوران شاندار کارکردگی نیب کی ماضی کی کسی بھی قیادت کے دور میں کے مقابلہ میں انتہائی مثالی رہی۔

  • پرویزخٹک اور نورالحق کا منسٹرانکلیو میں سرکاری رہائشگاہیں خالی کرنےسےانکار

    پرویزخٹک اور نورالحق کا منسٹرانکلیو میں سرکاری رہائشگاہیں خالی کرنےسےانکار

    سابق وزیر دفاع پرویزخٹک اور سابق وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے منسٹرانکلیو میں سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے سے انکار کردیا۔

    ذرائع کے مطابق کابینہ ختم ہونےکے بعد 15 دن تک وزیر سرکاری رہائش گاہ استعمال کرسکتے ہیں لیکن کابینہ ختم ہونے باوجود پرویزخٹک نے تاحال سرکاری رہائش گاہ خالی نہیں کی۔

    ذرائع نے بتایا کہ پرویزخٹک کی سرکاری رہائش گاہ وفاقی وزیرمولانا عبدالواسع کوالاٹ کی گئی ہے اور سرکاری رہائش گاہ خالی نہ ہونے باعث مولانا عبدالواسع میں شفٹ نہیں ہوسکے۔

    دوسری طرف اسٹیٹ آفس نے سابق وزیر دفاع سے گھر خالی کرانے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کو خط لکھ دیا،اسٹیٹ آفس نے سابق وزیر دفاع پرویز خٹک سے گھر خالی کرانے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کو خط لکھ دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق خط میں لکھا گیا کہ منسٹر انکلیو میں واقع بنگلہ نمبر 28 دسمبر 2018 میں پرویز خٹک کو الاٹ کیا گیا، وفاقی کابینہ 10 اپریل کو تحلیل ہوگئی تھی، پرویز خٹک کابینہ تحلیل ہونے کے 15 دن تک رہائشگاہ رکھ سکتے تھے۔

    خط میں کہا گیا کہ بنگلہ نمبر 28 وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبد الواسع کو الاٹ کیا گیا تھا، بنگلہ نمبر 28 کو پرویز خٹک سے فوری طور پر خالی کروایا جائے۔

    ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا موقف ہے کہ گھر خالی کروانے کے اختیارات اسٹیٹ آفس کے پاس ہیں، ضلعی انتظامیہ جہاں لاء اینڈ آڈر کا مسلئہ بنے گا مدد کی جائے گی۔

  • سابق کرکٹر راشد لطیف کا سیاست میں آنےکا اعلان

    سابق کرکٹر راشد لطیف کا سیاست میں آنےکا اعلان

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر اورکپتان راشد لطیف نے عملی طور پر سیاست میں آنےکا اعلان کردیا۔

    راشد لطیف کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی حالات کو بغور دیکھ رہا ہوں، ابھی کام کرنےکی سکت ہے، کچھ کرسکتا ہوں۔

    راشد لطیف کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہےکہ آئندہ دو سے تین سال میں آپ مجھے سیاست میں دیکھیں۔

    53 سالہ راشد لطیف سے جب یہ سوال ہوا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کا حصہ بنیں گے؟ یا اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ راشد لطیف کس سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتا ہے، اس کے سیاسی نظریات کیا ہیں۔

    راشد لطیف نےکہا کہ وہ پرانی جگہ اور لوگ چھوڑنے والے نہیں، وہ منشور کے ساتھ چلنے والوں میں سے ہیں۔

    1992 سے 2005 تک پاکستان کے لیے37 ٹیسٹ اور 166 ون ڈے کھیلنے والے راشد لطیف نے حال ہی میں کشمیر پریمئیر لیگ کے ساتھ بطور ڈائریکٹر کرکٹ وابستگی اختیار کی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ کشمیر پریمیئر لیگ کے ساتھ ان کا ایک سال کا معاہدہ ہے اور جلد وہ پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز کراچی کنگز کے ساتھ دوبارہ وابستہ ہونے جا رہے ہیں ، جہاں وہ فرنچائز کے لیے نئے ٹیلنٹ کی تلاش اور دیگر دوسرے کاموں میں مصروف نظر آئیں گے۔

    سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے حوالے سے کیےگئے سوال پر جواب دیتے ہوئےکہا کہ ضرور وہ اس حوالے سے اچھی آفر کے بعد فیصلہ کرینگے۔