Baaghi TV

Author: +9251

  • ایک طرف عمران خان ہے دوسری طرف امریکہ اور اس کے حواری:فتح پاکستان کی ہوگی:فرخ حبیب

    وزیر مملکت فرح حبیب نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب سرپرائز پلس ملے گا بیرونی طاقتوں کی سازش ہے قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ ا چکا ہے فیصلے پر تںصرہ بھی ہو سکتا ہے اب سپریم کورٹ کے حکم پر اجلاس طلب ہو گیا میں کہوں گا رجیم چینج کے فیکٹ سپریم کورٹ دیکھ سکتی تھی ضمیر فروشی بھی آئین شکنی ہے سینیٹ الیکشن میں ووٹ خریدنے کی ویڈیوز آئین کچھ نہیں ہوا ۔اچکن پہلے بھی لٹکی رہ گیی تھی اب ہفتے کو فیصلہ ہو گا کہ اسکا کیا حشر ہوتا ہے یہ اب چیک ہونا ضروری ہے کہ پاکستان میں بیرونی قوت اٹھے گی اور جن پر گیارہ اپریل کو فرد جرم عائد ہونی ہے وہ اچکنیں سلوا لین گے ہم انکا راستہ روکنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کریں گے ہم چاہتے ہیں یہ عوام میں آئیں

    فرح حبیب کا مزید کہنا تھا کہ آپشن آج بھی موجود ہے پاکستان کی کابینہ کو فیصلہ کرنا ہے اندرونی معاملات میں مداخلت بارے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہی ۔سندھ ہاؤس میں جو ضمیر جگائے گیے کیا اس پر آئین لاگو نہین ہوتا پاکستان کی عوام بھی فیصلہ کیے ہوئے ہے عوام سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے جو امریکہ کو جوب دیا اسکی قیمت ادا کر رہے ہیں ہمارے پاس آپشن موجود ہیں ان پر غور کر رہے ہیں یہاں بہت باتیں کی گئیں عدلیہ کو دھمکی دی گئی الیکشن کمیشن کا خط ا جانا یہ کہا خط ہے اس سے سب کچھ سمجھ آ جاتا ہے فیصلے کے ساتھ اسکو پڑھ لیں

    عدالتی فیصلے میں یہ نہیں لکھا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنانا ہے یہ لکھا کہ پراسیس مکمل کرنا ہے اور وہ کامیاب بھی ہو سکتا ہے ناکام بھی اپوزیشن جو الیکشن کروانے کا کہتی تھی اب الیکشن سے بھاگی ہے عمران خان فائیٹر ہیں آخری گیند تک مقابلہ کریں گے کارڈز سینے سے لگا کر رکھے ہیں فیصلہ کریں گے نئی گیند سے چھکا لگائیں گے ہمارے پاس آپشن ہیں قوم کے ساتھ وزیراعظم کا وعدہ ہے کہ خود جھکیں گے نہ جھکنے دیں گے جن کے اوپر کیسز ہیں جو قوم کو بھکاری کہہ رہے ہیں وہ غلامی کرنے کو تیار ہو چکے ہیں پلان اے بی سی موجود ہے جن کو صورتحال کے مطابق استعمال کرنا ہے عمران خان ڈٹ کر کھڑے ہیں پاکستانی قوم کے ساتھ بددیانتی نہیں کریں گے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بیرونی سازش بے نقاب کی اتحادیوں کو ایک موقع فراہم کیا اب عوام سوال کرے گی وزیراعظم جو اسلاموفوبیا کا مقدمہ کرتا ہے کشمیر کا مقدمہ لڑتا ہے اسکو اب قیمت دینی پڑ رہی ہے ہماری ہر کوشش فوری شفاف الیکشن کے لیے ہے ہم ایسی قوتوں کو فیصلہ نہیں کرنے دے سکتے جنکا جمہور سے تعلق نہیں جس ایوان کو خریدو فروخت کا مرکز بنا دیا گیا اس پارلیمنٹ کی کی توقیر ہو گی یہ نیب کو بند کریں گے ہم ہر تگ و دو کریں گے ہم فوری انتخابات کی طرف ملک کو لے کر جانا چاہتے ہیں

     

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی نوازشریف کی ساری بیماریاں کالعدم ہوگئیں:بڑا بیان بھی داغ دیا

    سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی نوازشریف کی ساری بیماریاں کالعدم ہوگئیں:بڑا بیان بھی داغ دیا

    لندن:سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی نوازشریف کی ساری بیماریاں کالعدم ہوگئیں:بڑا بیان بھی داغ دیا،اطلاعات کےمطابق اس وقت لندن میں خوشیاں منائی جارہی ہیں اور اس وقت پاکستانی سپریم کورٹ کے سزا یافتہ سابق وزیراعظم بہت زیادہ صحت مند نظرآرہےہیں اور ساتھ ہی نوازشریف نے عمران خان کےلیےایک پیغام بھیجا ہے

     

    نوازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا ہےکہ پوری پاکستانی قوم کو مبارکباد دینا چاہونگا.آج ایک ایسے شخص سے نجات ملی ہےجس نے پاکستان کو معاشی طور پہ تباہ و برباد کیا پاکستان کو کنگال کرکے رکھ دیا.اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ہے کہ اس سے نجات ملی ہے.

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ نوازشریف کی سپریم کورٹ کا فیصلہ سُنتے ہی ساری بیماریاں کالعدم ہوگئی ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہےکہ نوازشریف شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان آجائیں گے

     

    واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا تھا، اسکے علاوہ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

    سپریم کورٹ نے اسمبلی کی تحلیل کے آرڈر کو غیر آئینی قرار دے دیا اور ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم صدر کو ایڈوائس نہیں کرسکتے تھے، اب تک کے قانونی اقدامات غیر آئینی تھے۔

     

  • قوموں پرمشکل وقت آتا ہےمگرگھبرانا نہیں:اللہ ہمارے ساتھ ہے:وزیراعظم عمران خان کا قوم کے نام اہم پیغام

    قوموں پرمشکل وقت آتا ہےمگرگھبرانا نہیں:اللہ ہمارے ساتھ ہے:وزیراعظم عمران خان کا قوم کے نام اہم پیغام

    اسلام آباد: قوموں پرمشکل وقت آتا ہےمگرگھبرانا نہیں:اللہ ہمارے ساتھ ہے:وزیراعظم عمران خان کا قوم کے نام اہم پیغام ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد ٹوئٹر پر قوم کے نام اہم پیغام جاری کر دیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے کل وفاقی کابینہ اجلاس طلب کرلیا ہے، پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی کل طلب کرلیا ہے۔

     

    وزیر اعظم نے بتایا کہ کل شام قوم سے خطاب بھی کروں گا، قوم کے لیے پیغام ہےکہ میں پاکستان کے لیے آخری گیند تک لڑتا رہوں گا۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نگراں حکومت کے قیام کے لیے صدر اور وزیراعظم کے اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سےپہلےکی صورتحال بحال کر دی۔

    سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

    عدالت نے تحریک عدم اعتماد پر 9 اپریل ہفتے کی صبح بجے 10 بجے ووٹنگ کرانے کا حکم دیا ہے، قومی اسمبلی تحلیل ہونےکی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے ججز نےآپس میں تفصیلی مشاورت کی ہے رولنگ سےمتعلق تفصیل بعدمیں دی جائے گی۔

  • ذرا جاگ کررہنا‘وزیراعظم عمران خان کل قوم سے خطاب کرینگے’:فواد چوہدری کا پیغام

    ذرا جاگ کررہنا‘وزیراعظم عمران خان کل قوم سے خطاب کرینگے’:فواد چوہدری کا پیغام

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا کہ کل رات وزیراعظم قوم سے خطاب کرینگے۔

    فواد چوہدری نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے فیصلے کے تناظر میں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی رہنما نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی کل ہوگا، وزیراعظم عمران خان اجلاس کی صدارت کرینگے۔

    واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا تھا، اسکے علاوہ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

    سپریم کورٹ نے اسمبلی کی تحلیل کے آرڈر کو غیر آئینی قرار دے دیا اور ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم صدر کو ایڈوائس نہیں کرسکتے تھے، اب تک کے قانونی اقدامات غیر آئینی تھے۔

  • ووٹ ان کا جودلوں کا سودا کرتےہیں :ایم کیو ایم کا اہم فیصلہ

    ووٹ ان کا جودلوں کا سودا کرتےہیں :ایم کیو ایم کا اہم فیصلہ

    عمران خان اچھا آدمی مگرووٹ اپوزیشن کودیں گے:اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ 9 اپریل کو تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کو ووٹ دیں گے۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کا کنونئیر ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نواز شریف نے خالد مقبول کو مبارکباد دی۔

    نوازشریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین و قانون کی جیت ہے اس جیت میں ایم کیو ایم کا اہم کردار ہے۔ نواز شریف نے مستقبل میں ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلنے اور ورکنگ ریلیشن کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

    خالد مقبول صدیقی نے نوازشریف کو یقین دہانی کروائی کہ ہم آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے ہے ہم اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں 9 اپریل کو تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کو ووٹ دیں گے آج جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔

    یاد رہےکہ سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا ہے۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے پراعتزاز احسن اور دیگرماہرین کا ردعمل آگیا

    سپریم کورٹ کے فیصلے پراعتزاز احسن اور دیگرماہرین کا ردعمل آگیا

    نامور ماہر قانون اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ پہلے ووٹ کاسٹ ہوں گے جب تک ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا پارٹی کا کچھ نہیں ہو سکتا ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد پارٹی ہیڈ شوکاز نوٹس دے گا پھر ممںر وضاحت دے گا اسکے بعد چیف الیکشن کمشنر بلائے گا نوٹس متذکرہ کو ملے گا اگر ممبر مطمئن کرتا ہے تو کچھ نہیں ہو گا اور اگر مطمئن نہ کر سکا تو الیکشن کمیشن پھر ڈی سیٹ کرے گا

    اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی ہیڈ کے فیصلے کو الیکشن کمیشن ری کنفرم کرے گا اور آخری فیصلہ اسی کا ہو گا ممبر پارلیمنٹ میں بھی جا سکتا ہے جب تک ووٹ نہ دے پارٹی پالیسی کے خلاف تو جرم کا تصور ہی نہیں ۔ ووٹ کاسٹ کرنے کی سب کو اجازت ہو گی ۔جو بھی اپوزیشن ہو گی مہنگائی رہنی ہے روس یوکرین جنگ کی وجہ سے گندم تیل بھی مہنگی ہو گی ویسے اسوقت بندے کو اپوزیشن میں ہونا چاہیے

    سپریم کورٹ بار کے سابق صدر یاسین آزاد کا کہنا تھا کہ صدر کے ریفرنس پر میرا موقف تھا کہ بدنیتی پر مبنی تھا اگر کوئی پارٹی وفاداری سے ہٹ کر ووٹ دیتا ہے اس حوالہ سے اعتزاز احسن نے بتا دیا ایک ماہ کے اندر الیکشن کمیشن نے اسکا فیصلہ کرنا ہے وہ ڈی سیٹ ہو گا اسکے بعد وہ الیکشن لڑ سکے گا اس پر کوئی پابندی نہیں ہو گی آئیں میں واضح طریقہ کار دیا گیا ہے دستور جب کلیئر ہے تو اس پر رائے کی ضرورت نہیں تھی ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد طے ہے کہ جو ووٹ دے گا وہ گنا جایے گا اور اسکے بعد پارٹی ہیڈ ایکشن لے گا ۔

    یاسین آزاد کا مزید کہنا تھا کہ جنرل ضیا کے دور میں یہ آرٹیکل بڑھائے گئے ڈکٹیٹر کے بڑھائے گئے آرٹیکل کو حکومتوں کو ختم کرنا چاہیے تھا

  • عمران خان کیخلاف آئین شکنی پر کاروائی :بلاول نے بڑا اعلان کر دیا

    عمران خان کیخلاف آئین شکنی پر کاروائی :بلاول نے بڑا اعلان کر دیا

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آئین کا آج تحفظ ہوا ہے تمام ادارے جو متنازعہ ہو چکے تھے آج جمہوریت آئین کا فتح ہوا اور 2018 کا داغ کافی حد تک دھل چکا اب عدم اعتماد کی جانب بڑھیں گے جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے اپوزیشن کا جو مقصد تھا کامیاب ہو چکا ہم عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے میں اور آصف زرداری شہباز شریف کو ابھی مبارکباد دینے جائیں گے کارکنان کو کہتا ہوں کہ جمہوریت کی جیت اور سیلکٹڈ راج کے خاتمے کا جشن منائیں اپنے اپنے علاقے میں افطاری رکھیں اور عوام کو جشن میں شریک کریں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ اپوزیشن یا حکومت کے حق میں نہیں آئین کے حق میں ہوا ہے پاکستان کی تاریخ میں سنہری الفاظ میں یہ فیصلہ لکھا جایے گا پاکستان کی عدالت میں آج جمہوریت کی فتح ہوئی آئین کی فتح ہوئی

    ایک سوال کے جواب میں بلاول کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن ملکر مشترکہ فیصلے کر ے گی شہباز شریف کو ملیں گے ۔عمران خان کے خلاف آئین توڑنے کے حوالہ سے کاروائی کا فیصلہ متحدہ اپوزیشن ملکر کرے گی اب ہم حکومت بنانے جا رہے ہیں اور سب پارٹیاں متحد ہیں ۔جہان تک بیرونی سازش کا سوال ہے ایسے الزامات لگتے رہے ہیں انکو رد کرتے ہیں اب شفاف الیکشن کی جانب بڑھیں گے پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلے نہیں ہوا کہ جمہوری طریقے سے وزیراعظم کو گھر بھیجا جائے پھر بھی جمہوری راستہ بھی اپنایا جائے گا

  • ”بدقسمت فیصلے نےبحران میں بہت اضافہ کر دیا“ملک کومسائل کی دلدل میں دھنسا دیا :فواد چوہدری

    ”بدقسمت فیصلے نےبحران میں بہت اضافہ کر دیا“ملک کومسائل کی دلدل میں دھنسا دیا :فواد چوہدری

    اسلام آباد:”بدقسمت فیصلے نےبحران میں بہت اضافہ کر دیا“عوام کوآپس میں دست وگریبان کردیا:اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے بدقسمت فیصلے نے سیاسی بحران میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بہتر حل کی بجائے قوم کو پھر سے مسائل کی دلدل میں دھنسادیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر فواد چوہدری نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوری الیکشن ملک میں استحکام لا سکتا تھا، بدقسمتی سے عوام کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

     

    اس بد قسمت فیصلے نے پاکستان میں سیاسی بحران میں بہت اضافہ کرُدیا ہے فوری الیکشن ملک میں استحکام لا سکتا تھا بدقسمتی سے عوام کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے ابھی دیکھتے ہیں معاملہ آگے کیسے بڑھتا ہے

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا ہے۔

     

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نگراں حکومت کے قیام کے لیے صدر اور وزیراعظم کے اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سےپہلےکی صورتحال بحال کر دی۔

    سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

    عدالت نے تحریک عدم اعتماد پر 9 اپریل ہفتے کی صبح بجے 10 بجے ووٹنگ کرانے کا حکم دیا ہے، قومی اسمبلی تحلیل ہونےکی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے ججز نےآپس میں تفصیلی مشاورت کی ہے رولنگ سےمتعلق تفصیل بعدمیں دی جائے گی۔

  • آئین کی بالادستی ہوئی متحدہ اپوزیشن کا یومِ تشکر منانے کا اعلان

    آئین کی بالادستی ہوئی متحدہ اپوزیشن کا یومِ تشکر منانے کا اعلان

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی دعائیں قبول ہوئیں پاکستان کا آئین بچ گیا پاکستان بچ گیا ۔ہم عدالت عظمی کے شکر گزار ہیں پاکستان کی عوام کی خواہشات کی عکاسی ہوئی ہے پارلیمنٹ کو مضبوط اور آئین کے تقدس کو بحال کیا گیا ہے یہ جنگ ہم نے غربت بے روزگاری مہنگائی کے خلاف لڑنی ہے ملکر لڑیں گے ۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئین توڑنے پر سزا کے بارے میں تفصیلی فیصلہ پڑھ کر بتائیں گے

    خرم دستگیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخ کا دھارا بدلا ہے اور پاکستان کی اعلی ترین عدالت نے آئین پاکستان کی توقیر اور بائیس کروڑ پاکستانیوں کی عزت کا فیصلہ کیا ہے وہ مقدس دستاویز جسے ہم آئین کہتے ہیں وہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں آئین ذندہ دستاویز ہے اس پر عمران خان کی حکومت نے حملہ کیا ۔ آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد کا عمل جاری تھا جھوٹی بنیاد پر بغیر ثبوت کے ڈپٹی سپیکر نے مسترد کیا اور ہم نے ڈرامہ دیکھا کہ وزیراعظم نے چند منٹوں میں اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کر کے آئین شکنی کی اور خطوں پر خط لکھنے شروع کر دیئے آج اللہ کے ہاں سجدے کا دن ہے عدالت نے واضح اور صاف پوری طرح آئین سے حفاظت کا آرڈر دیا ۔رولنگ مسترد کر دی گئی ڈمی وزیراعظم کے احکامات مسترد کر دیئے گیے وہ غیر قانونی تھے اگلے چند گھنٹوں میں پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی دوبارہ سیشن میں آئے گی اور جو عدم اعتماد ہم سے چھین لی گئی تھی وہ واپس آئے گی

    سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے سپریم کورٹ کو مبارکباد دیتا ہوں انہوں نے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کیا آئین کی بالادستی ہوئی یہ کسی پارٹی کی نہیں آئین پاکستان کی جیت ہے اس کاوش میں جن لوگوں نے حصہ لیا انکا مشکور ہوں آج جو آرڈر آیا سب کو مبارکباد دیتا ہوں آئین کی بحالی کے حوالہ سے کل پورے ملک میں وکلا کمیونٹی یوم تشکر منائے گی۔ آئین کے استحکامِ کے لیے ملکر کام کریں گے ۔ریاست کو مزید مضبوط کرنا ہے ۔

     

     

    سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے فیصلہ سنانے کے بعد بلاول بھٹو نے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘جمہوریت بہترین انتقام ہے، جیئے بھٹو، جیئے عوام ،پاکستان زندہ باد’۔

     

     

    مریم نواز کہتی ہیں کہ قوم کو آئین کی سر بلندی بہت بہت مبارک۔ آئین توڑنے والوں کا کام ہمیشہ کے لیے تمام ہوا۔ اللّہ پاکستان کو چمکتا دمکتا رکھے۔

     

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اطمینان بخش فیصلہ تھا کل یوم احتجاج نہیں یوم تشکر ہو گا جمعہ کی نماز کے بعد دعا کریں ملک کی سلامتی کے لیے ریلیاں بھی ہوں گی ۔اب یوم تشکر ہو گا ۔

     

    سراج الحق کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا۔ جس مقام سے نظریہ ضرورت نے جنم لیا تھا، وہیں اس کی قبر بنی۔ فیصلہ خوش آئند ہے۔ پوری قوم خیرمقدم کرتی ہے

     

     

  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    اسلام آباد : اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی، فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔

    عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی ۔ آرٹیکل 63 اے پر اس فیصلے کا اثر نہیں ہو گا پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا عدالت نے نو اپریل کو اجلاس بلانے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جائے ۔چیف جسٹس نے فیصلہ سنایا کہ ہمارا فیصلہ متفقہ رائے سے ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے،

    فیصلے میں کہا گیا کہ رولنگ 3 اپریل کو دی گئی، جن لوگوں نے ریکوزیشن دیا تھا انہیں نوٹس دیئے، جن لوگوں نے ریکوزیشن دی تھی انہیں نوٹس دیئے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین کے منافی ہے، تحریک عدم اعتماد زیرالتوا رہے گی،قومی اسمبلی توڑنا بھی خلاف قانون تھا، قومی اسمبلی پرانی پوزیشن پر بحال ہوگی، وفاقی کابینہ عہدوں پربحال، قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنا بھی غیرآئینی قرار دے دیا گیا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ 9اپریل کو دن ساڑھے 10 بجے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے، قومی اسمبلی اجلاس میں ارکان عدم اعتماد پر ووٹ کا سٹ کرسکیں گے، آرٹیکل 63 کے نفاذپر عدالتی فیصلہ اثر انداز نہ ہوگا۔فیصلہ سنانے کے بعد ججز کمرہ عدالت سے چلے گئے۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”481429″ /]

    سپریم کورٹ فیصلے کے اہم نکات

    عدالت عظمٰی کے پانچ ججوں نے اپنے مختصر فیصلے کے 13 پیراز میں کیا لکھا ہے آئیے دیکھتے ہیں پیراوائز فیصلے میں کیا بھی ہے
    1-پیرا نمبر 1 میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دے دی۔
    2-پیرا نمبر 2 میں تحریک عدم اعتماد کو زیر التواء قرار دیا۔
    3-پیرا نمبر 3 میں لکھا ہے کہ جب تحریک عدم اعتماد زیر التواء ہو تو وزیر اعظم صدر جو اسمبلی توڑنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔
    4-پیرا نمبر 4 میں لکھا ہے کہ صدر کا 3 اپریل کو اسمبلی توڑنے کا آرڈر منسوخ کیا جاتا ہے۔
    5-پیرا نمبر 5 میں لکھا ہے کہ چونکہ صدر نے اسمبلی غلط مشورے پہ توڑی اور وہ حکم منسوخ ہو گیا لہذا اسمبلی اپنی پہلی حالت میں موجود ہے ۔
    6-پیرا نمبر 6 میں لکھا ہے کہ صدر کی طرف سے نگران حکومت اور عام انتخابات کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کالعدم کیے جاتے ہیں۔
    7-پیرا نمبر 7 میں لکھا ہے کہ وزیراعظم انکی حکومت اور تمام وزراء کو انکے عہدے پہ 3اپریل کی حالت پہ بحال کیا جاتا ہے۔
    8-پیرا نمبر 8 میں لکھا ہے کہ سپیکر کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پہ کاروائی کے لیے اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی منسوخی یا ملتوی کرنے کے تمام احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ایسے احکامات منسوخ کیے جاتے ہیں ۔
    9-پیرا نمبر 9 میں لکھا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو صبح ساڑھے دس بجے سے بچے سے قبل بلا کر اس پہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کرائی جائے۔
    10-پیرا نمبر 10 میں لکھا ہے کہ سپیکر آئین کے تحت اس وقت تک اجلاس ملتوی نہیں کر سکتے جب تک تحریک عدم اعتماد یا تو ناکام ہو جائے دوسری صورت میں جب وہ کامیاب ہو جائے تو قاید ایوان کے انتخاب کے بعد اجلاس ملتوی کیاجائے گا۔
    11-پیرا نمبر 11 میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کے لیے تمام ممبران کو سہولت فراہم کرے گی اور کوئی ایسا عمل نہیں کرے گی جس سے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دے گی اور اٹارنی جنرل کی طرف سے کرائی گئی یقین دھانی پہ عمل کرے گی۔
    12-پیرا نمبر 12 میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 63-A کے حوالے سے کوئی آرڈر نہیں ہے اور جو بھی اس ضمن میں آئے گا اسکی نااہلی کا معاملہ قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔چاہے وہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ میں حصہ لے یا وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹنگ میں حصہ لے۔
    13-پیرا نمبر 13میں لکھا ہے کہ یہ حکم اس حکم کا تسلسل ہے جس کے تحت صدر اور وزیراعظم کے تمام احکامات کو اس ازخود نوٹس کے فیصلے کے تابع کیا گیا تھا۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نوے دن میں الیکشن کمیشن کروانے کے پابند ہیں تاہم حلقہ بندیوں کی وجہ سے سات ماہ چاہیے عدالت نے کہا کہ ملک بھر میں حلقہ بندیاں کروانی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ملک بھر میں کروانی ہیں

    ‏سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل عدالت کی سیکیورٹی بڑھادی گئی تھی ۔ایف سی اور پولیس کی سیکیورٹی نے عدالت کے اندر اور باہر اطراف کی سڑکوں پر غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگادی۔آئی جی اسلام آباد بھی خود عدالت پہنچ گئے۔مشکوک افراد کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے ادھر رضا ربانی، فواد چودھری، بابر اعواں،فیصل جاوید،شیری رحمان، نیئر بخاری، خرم دستگیر، اعظم نزیر تارڑ سمیت کئی اہم رہنما سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ‏غیر متوقع طور پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ فیصلہ سپریم کورٹ میں فیصلہ سنانے سے پہلے کمرہ عدالت نمبر 1 پہنچ گئے ،
    یاد رہےکہ اس سے پہلے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بات نظر آ رہی ہے کہ رولنگ غلط ہے، دیکھنا ہے اب اس سے آگے کیا ہوگا، قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے، قومی اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ رات کو نجی ہوٹل میں تمام ایم پی ایز نے حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنا دیا، سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے، حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے، آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی سی بات ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے، پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں۔

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیئے گئے تھے، کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے ؟ ن لیگ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں، عوامی نمائندوں کو اسمبلی جانے سے روکیں گے تو وہ کیا کریں ؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔ انہوں نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹا دیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں ؟ جس پر وکیل صدر مملکت علی ظفر نے کہا کہ وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں۔ جسٹس مظہر عالم نے پوچھا کہ کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ ہوگا ؟ کیا عدالت آئین کی محافظ نہیں ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثر ہو تو دادرسی کیسے ہوگی ؟ کیا دادرسی نہ ہو تو عدالت خاموش بیٹھی رہے ؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، پارلیمان ناکام ہو جائے تو معاملہ عوام کے پاس ہی جاتا ہے، آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو کیا ہوگا ؟ اس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ اگر ججز کے آپس میں اختلاف ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے ؟ جیسے پارلیمنٹ مداخلت نہیں کرسکتی ویسے عدلیہ بھی نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت کی تشکیل کا عمل پارلیمان کا اندرونی معاملہ ہے ؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ حکومت کی تشکیل اور اسمبلی کی تحلیل کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے، وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد دونوں کا جائزہ عدالت نہیں لے سکتی۔

    صدر مملکت کے وکیل علی ظفر نے جونیجو کیس فیصلے کا حوالہ دے دیا۔ علی ظفر نے کہا کہ محمد خان جونیجو کی حکومت کو ختم کیا گیا، عدالت نے جونیجو کی حکومت کے خاتمہ کو غیر آینی قرار دیا، عدالت نے اسمبلی کے خاتمہ کے بعد اقدامات کو نہیں چھیڑا۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ہمارے سامنے معاملہ عدم اعتماد کا ہے، عدم اعتماد کے بعد رولنگ آئی، اس ایشو کو ایڈریس کریں۔ علی ظفر نے کہا کہ یہاں بھی اسمبلی تحلیل کر کے الیکشن کا اعلان کر