Author: +9251
-
-

مقبوضہ کشمیر:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اورصحافیوں کی رعناایوب سے اظہار یکجہتی
نئی دلی:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اور ممتاز صحافیوں نے ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی رعنا ایوب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے جنہیں گزشتہ روز بھارتی حکام نے ممبئی ائیر پورٹ پرصحافیوں کو ڈرانے اوردھمکانے کے موضوع پر انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس (آئی سی ایف جے) میں خطاب کیلئے لندن جانے سے روک دیا تھا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رعنا ایوب کو ممبئی ایئرپورٹ پر حکام نے گزشتہ روز تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ان کے خلاف جاری نوٹس کی وجہ سے لندن جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیاتھا۔ رعنا ایوب نے لندن میں یکم اپریل کو صحافیوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنائے جانے اور دھمکانے کے موضوع پر آئی سی ایف جے میں خطاب کرنا تھا ۔ اسی دن انہیں دی گارڈین اخبار کی ایڈیٹر کیتھرین وینر کی دعوت پر اخبار کے دفتر بھی جانا تھا۔6 اور 7اپریل کو انہیں اٹلی میں انٹرنیشنل جرنلزم فیسٹیول میں شرکت کرنے تھی ۔
انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس نے بھارتی حکام کی طرف سے رعنا ایوب کو کھلے عام ہراساں کیے جانے پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔عالمی ادارے نے بھارتی حکومت سے رعنا ایوب کے خلاف الزامات واپس لینے اور ان پر جاری حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے بھی رعنا ایوب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔انسٹیٹیوٹ نے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ رعنا ایوب کو یورپ کا دورہ کرنے کی اجازت دے جہاں انہوں نے متعد د بین الاقوامی ایونٹس میں آن لائن ہراسگی کے پر بات کرنی تھی ۔ممبئی پریس کلب نے رعنا ایوب کو بھارت میں صحافیوں کوہراساں کئے جانے کے بارے میں خطاب کیلئے لندن جانے سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام صحافیوںکو ہراساں کرنے کے مترادف ہے ۔
دی بیورو کے گلوبل ایڈیٹر اور مصنف جیمز بال ،دی سٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولس ڈیوس ،ممتاز بھارتی صحافی اور دی وائر کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے اپنے ٹویٹس میں رعنا ایوب سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ رعنا ایوب کے پیغام کو سرحد پر روکا نہیں جا سکتا اور بھارت میں آزادی صحافت کے بارے میں ان کے انتباہات کو پابندی لگانے کی کوششوں سے روکا نہیں جاسکتا ۔ٹویٹس میں مزید کہاگیا کہ اس ہراسگی سے بھار تی جمہوریت کی حالت ظاہر ہوتی ہے اور پتہ چلتاہے کہ دنیا آہستہ آہستہ جاگ رہی ہے۔رعنا ایوب نے اپنے خلاف ای ڈی کے تمام الزامات کومضحکہ خیزاور جھوٹ پر مبنی قراردیا ہے ۔
-

سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کرخاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا
سرینگر:سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کر خاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ شب سرینگر شہر میں آتشزدگی کے بھیانک واقعے میں 22مکان جل کر خاکستر ہو گئے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق شہر کے علاقے گتاکالونی نور باغ میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے سے املاک کو بھاری نقصان پہنچا اور فائر بریگیڈ کے رکن سمیت چار افراد جھلس گئے۔فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایاہے کہ 22مکانات جن میں 33خاندان رہائش پذیر تھے آگ لگنے سے جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں ایک فائر فائٹر اور تین شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ایک مقامی شخص شکیل احمد نے بتایاہے کہ آگ لگنے سے کروڑوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہو گئی ہے ۔
ادھر سرینگر کے علاقے راجوری کدل میں بھی آگ لگنے سے ایک مکان کو نقصان پہنچاہے۔
ادھرامریکہ نے حملوں اور عوامی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی تازہ ترین ٹریول ایڈوائزری میں امریکی شہریوں کومقبوضہ کشمیر کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں حملوں اور عوامی احتجاجی مظاہروں کا خدشہ ہے ۔
تاہم سفری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری مشرقی لداخ کا دورہ کرسکتے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہاہے کہ کنٹرول لائن کے ساتھ واقع علاقوں اور سرینگر ، گلمرگ اورپہلگام کے سیاحتی مقامات سمیت وادی کشمیر میں تشدد کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔
-

بے فکر رہیں اسمبلی میں اپوزیشن کا پارہ مائنس 160 ہوگا : حلیم عادل شیخ
کراچی : اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سیاسی روح بھٹک رہی ہیں، اسمبلی میں اپوزیشن کا پارہ مائنس 160 ہوگا۔
موجودہ صورتحال پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے بھی سماجی میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ اپوزیشن کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں۔ راتوں کو سیاسی روح بھٹک رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے انہیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا ہے۔ نمبرز والے حضرات بے فکر رہیں، اسمبلی میں اپوزیشن کا پارہ مائنس 160 ہوگا۔
-

اپوزیشن خصوصاََ پیپلز پارٹی اقتدار کی راہ کشی میں کراچی کے شہریوں کو قربانی کا بکرا نہ بنائے : جماعت اسلامی سندھ
کراچی : جماعت اسلامی سندھ نے پیپلزپارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کو سندھ میں دوبارہ مسلط کرنے پرگہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اپوزیشن خصوصاًپیپلزپارٹی اقتدار کی رسہ کشی میں کراچی کے شہریوں کو قربانی کا بکرا نہ بنائے۔جماعت اسلامی سندھ کے امیرمحمد حسین محنتی نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ایم اکیو ایم نے اپنے اقتدار میںصوبہ سندھ خصوصاً کراچی میں قتل وغارتگری،بوری بند لاش،بھتہ خوری،ھڑتال اورلسانی تصادم کے سوا کچھ بھی نہیں دیا ہے۔
نئی نسل کا تعلیمی مستقبل تباہ ہوگیا۔کئی تاجراپنی صنعت وتجارت کو سندھ سے دوسرے صوبوں میں منتقل کرنے پرمجبور ہوئے۔کراچی کے شہریوں نے 30سال خوف وہراس اوربے یقینی کی صورتحال میں زندگی گذار دی ۔
یہی وجہ ہے کہ2018کے انتخابات میں لوگوں نے ان کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہاکہ بڑی مشکل سے سندھ میں تجارت کاروبار وتعلیم کی صورتحال معمول پر آنے لگی ہے تودوبارہ ان کو مسلط کرنے کی وجہ سے کراچی تا کشمور سندھ کے عوام میں بے چینی اورخوف وحراس کی لہر پیداہوگئی ہے کیونکہ ان کے 30سالہ دور میں کراچی میں صنعتیں کاروبار اوردکانداری تباہ ہوگئی، آئے دن ھڑتالیں،فائرنگ ٹارگٹ کلنگ کی صورتحال نے معیشت تباہ اورترقی کا پھیہ جام کردیا اب ایک بار پھر انکو کراچی پرمسلط کرنا نہ صرف کراچی بلکہ ملک دشمنی کے مترادف ہوگا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کراچی میں امن و ترقی پورے ملک میں امن وترقی کا ضامن ہے۔
-

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا معاہدہ مہاجر برائے فروخت معاہدہ ہے : مصطفیٰ کمال
کراچی : پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا معاہدہ مہاجر برائے فروخت معاہدہ ہے۔ ایم کیو ایم بازاری پارٹی ہے، جو بڑی بولی لگاتا ہے اسکے ساتھ جاتی ہے۔ اگر ایم کیو ایم کے آفس کھولے جاتے ہیں تو وہ تمام دفاتر الطاف حسین کے بعد مہاجروں کے قاتل عامر خان اور 16 سال ملک سے باہر رہنے والے خالد مقبول صدیقی کے نہیں بلکہ ہمارے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے بقول شاہد متحدہ اور جمی را ایجنٹس ہیں تو جے آئی ٹی کی رو سے ان کو را کے ایجنٹ بنانے والے خالد مقبول صدیقی سے نئی حکومت بنانے والے معاہدے کررہے ہیں تو پھر را کے پیادوں خالد متحدہ اور جمی کو بھی رہا کیا جائے نہیں تو خالد مقبول کو بھی گرفتار کیا جائے۔
عظیم احمد طارق سمیت کئی جے آئی ٹیز کے مطابق خالد مقبول صدیقی مجرم ہیں۔پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا اصل معاہدہ تحریری نہیں بلکہ زبانی ہے جس میں وفاقی اور صوبائی وزارتیں، گورنری، ٹھیکوں کا حصول اور پوسٹنگ ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم معاہدہ باتوں کا ٹورنامنٹ ہے، 40 سال میں چوتھی مرتبہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا ذاتی مفادات کے لیے حلالہ ہوا ہے، مہاجروں کو کچھ نہیں ملنے والا۔ 40 سال سے ایم کیو ایم مہاجر قوم کو گدھوں کی طرح نوچ رہی ہے۔
ہم نے چار سال پہلے ہی عمران خان کو مخاطب کرکہ بتا دیا تھا آپکی حکومت رہے یا نا رہے، ایم کیو ایم حکومت کے بغیر نہیں رہ سکتی، ان سب کی جے آئی ٹی بنی ہوئی ہیں، یہ سب جیلوں میں چلے جائیں گے۔ ایم کیو ایم چاہتی تو 4 سال کے دوران عمران خان سے اور اب اپوزیشن سے 3 آئینی ترامیم کرا کر قوم کا بھلا کرسکتی تھی لیکن مہاجروں کو بیچنے والوں کو اپنی گندی سیاست کی بقا کے لیے مہاجروں کا خون چاہیے۔
پی ایس پی نے حکومت میں نا ہوتے ہوئے بھی قوم کے لیے وہ کچھ کیا جو ایم کیو ایم 40 سال حکومت میں رہتے ہوئے نہیں کرسکی۔ 550 لاپتہ مہاجروں میں سے 525 لاپتہ مہاجروں کو ہم نے اپنے کردار کی وجہ سے بازیاب کروایا، اصل لاپتہ مہاجروں کی تعداد کا ایم کیو ایم کو پتہ ہی نہیں۔ جب ہم لاپتہ افراد کو بازیاب کروا رہے تھے تو ایم کیو ایم ہمارے بارے میں کہتی تھی کہ ہم نے مجرمان کے لیے ڈرائی کلین لگائی ہے، اب خود ان لاپتہ افراد کی بازیابی کا معاہدہ کررہے ہیں جنکے خاندانوں سے یہ ملنا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور جنکی اکثریت آج اپنے گھروں میں ہے۔
بقیہ 25 لاپتہ مہاجروں کو بھی انشاء اللہ ہمیں بازیاب کروائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی سمیت دیگر مرکزی عہدیداران بھی موجود تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم اور پی ڈی ایم کا معاہدہ ہوچکا ہے اور نفیس لوگ الگ ہوچکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے وزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے ماں بہنوں کو پٹوا رہے تھے، یہی ایم کیو ایم والے پی ٹی آئی سے کہ رہے تھے کہ نائن زیرو کھلواؤ تو پھر اعتماد کا ووٹ دینگے اور اپوزیشن نے کہ رہے تھے کہ آپ صرف لکھ دیں تو ہم اپوزیشن کیساتھ کھڑے ہونگے۔
جو 5 سال میئر بن کر کچھ نا کرسکا وہ اب ایڈمنسٹریٹر لگ کر کیا کرے گا ایم کیو ایم نے آئینی ترامیم کا سنہری موقع ضائع کردیا۔ 40 سال میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے بیچ تمام معاہدوں کا متن کم و بیش ایسا ہی تھا جو آج کیا ہے۔ خالد مقبول صدیقی چند دن پہلے مہاجر نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے کا مشورہ دے کر پیپلز پارٹی کے جھنڈے اتارے کا حکم دے رہے تھے، آج اسی پیپلز پارٹی کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے ہیں۔
چند دن پہلے اسلم شہید کے خون سے انقلاب لانے والوں نے آج اسی پیپلز پارٹی سے معاہدہ کرلیا جسکا فرق مہاجر عوام کو نہیں بلکہ مینڈیٹ حاصل کرنے والوں کو پڑے گا، نیا صوبے بنانے کا ڈرامہ کرنے والوں نے قوم کا سودا کردیا۔ آج قوم مایوس ہوچکی ہے عوام نے غلط لوگوں کو اپنا لیڈر چنا ہے۔ ہم ان کا پیچھا کرینگے، قوم کا سودا نہیں کرنے دینگے،انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے وفاداروں سے وفاداری نہیں کی، بانی ایم کیو ایم کو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق مل جائے، میں نے اور انیس قائم خانی نے بانی ایم کیو ایم سے شراب چھڑانے کی بہت کوشش کی، بانی ایم کیو ایم کی شراب نوشی نے سب کچھ تباہ کردیا،بانی ایم کیو ایم نہیں سدھرے تو بغاوت کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ -

مہاجروں کوفروخت کرکے قصائی کےحوالےکردیا گیا:مصطفیٰ کمال
پاک سرزمين پارٹی کے چيئرمين مصطفیٰ کمال نے ايم کيو ايم اور پيپلزپارٹی کے درميان ہونے والے معاہدے کو مہاجر برائے فروخت قرار دے ديا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چيئرمين پاک سرزمين پارٹی مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ايم کيوايم نے اپنے حصے کی بوٹی ليکر بکرا حوالے کرديا اور اب گورنری اور وزارتيں انجوائے کريں گے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ايم کيوايم کے دفاتر پر صرف ہمارا حق ہے۔ ايم کيوايم کے دفاتر کھولے گئے تو پی ايس پی کارکنان قبضہ کرليں،انہوں نے مزید کہا کہ نفيس لوگ دامن چھڑاکے پيپلزپارٹی کے ہولئے يہ آئینی ترامیم کرنے کا سنہری موقع تھا۔
یہ معاہدہ مہاجر برائے فروخت ہے،افسوس 1947 سے لیکر آج تک بروکرزمہاجروں کو مہاجروں کے قاتلوں کے ہاتھوں بیچ رہے ہیں
سید مصطفی کمال@ImranKhanPTI @fawadchaudhry #PakistanZindabad
@MaryamNSharif @BBhuttoZardari @MoulanaOfficial #MustafaKamal #PSP #PDM @KamalPSP pic.twitter.com/2yCgLDt9Jh— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) March 30, 2022
یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ گذشتہ 34 سالوں میں تقریباً ہر بار وفاقی حکومت کا حصہ رہی ہے اور آئندہ حکومت کا بھی حصہ بننے کا ارادہ رکھتی ہے۔
تحریک انصاف کی موجودہ حکومت سے قبل اس کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں سے ہی شراکت داری کا تجربہ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تجربات خوشگوار نہیں رہے مگر شہری علاقوں کی سیاست کو مد نظر رکھتے ہوئے ایم کیو ایم نے ڈیل کی ہے۔
جنرل ضیا الحق کی طیارے کے حادثے میں ہلاکت کے بعد 1988 کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور اسلامی جمہوری اتحاد عرف آئی جی آئی دونوں کے لیے ایم کیو ایم اتنی ہی اہم تھی جتنی موجودہ دنوں میں ہے۔
اُس وقت اس کے پاس 13 نشستیں تھیں اور موجودہ وقت قومی اسمبلی میں اس کے پاس سات نشستیں ہیں، حکمران تحریک انصاف اور متحدہ اپوزیشن سے مذاکرات کے کئی دوروں کے بعد انھوں نے بالآخر حزب اختلاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا
-

تحریک عدم اعتماد ، عامر لیاقت نے 3 اہم پیشگوئیاں کر دیں
کراچی : پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے 3 اہم پیشگوئیاں کر دی ہیں۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تین پیش گوئیاں کررہا ہوں جو وقت ثابت کردے گا میں غلط تھا یا اے دوست تم،
انہوں نے پہلی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجائے گی۔
دوسری یہ کہ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی جبکہ علیم خان وزیراعلی پنجاب ہوں گے۔
ایک اور ٹویٹ میں عامر لیاقت نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے ووٹ 182 تک پہنچ گئے، ناراض اراکین کے بنا بھی عدم اعتماد کامیاب ہو گی، ہمارے مولاجٹ وزرا اور خوشامدیوں نے میرے کپتان کی حکومت گرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بشری بھابھی نے مجھے دور رکھا سب دور ہوگئے، نارض اراکین قائد ایوان کواعتماد کاووٹ دیں گے لہذا نااہل نہیں ہوں گے۔ -

قومی اسمبلی کا آج کا اجلاس،تحریک عدم اعتماد ایجنڈے میں شامل:پی ٹی آئی کےمنحرف ارکان کوپکڑنےکی چال
اسلام آباد:قومی اسمبلی کا آج کا اجلاس،تحریک عدم اعتماد ایجنڈے میں شامل:پی ٹی آئی کےمنحرف ارکان کوپکڑنےکی چال ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کیے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس آج پھر ہو گا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔ ایجنڈے کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر بحث کی جائے گی۔
قرارداد کے متن کے مطابق وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں، عمران خان اب وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائِز نہیں رہ سکتے۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث کا آغاز کریں گے۔
باغی ٹی وی کو بااعتماد ذرائع سے ملنے والی خبروں میں بتایا گیاہے کہ آج کے اجلاس میں صرف بحث ہوگی اورپھراس اجلاس میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کواجلاس میں شرکت کے دوران ہتھیانے کا پروگرام بھی ہے جس کے لیے اہم وسائل بھی حاصل ہوں گے ، ان اراکین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا فی الحال پوچھنے کے باوجود یہ نہیں بتایا گیا
یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ان منحرف پی ٹی آئی کے ممبران کے ووٹ توکاسٹ ہوں گے مگرآئینی طورپراسپیکرکے اختیار میں ہےکہ وہ ان کوگنتی میں شمار کرے یا ناں کرے
خیال رہے کہ 28 مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔
نمبر گیم کی صورتحال پر بات چیت کی جائے تو جمہوری وطن پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد متحدہ اپوزیشن کو عددی نمبر سے بھی زیادہ تعداد حاصل ہو گئی ہے۔ سندھ ہاؤس میں 196 اراکین اسمبلی نے شرکت کی، اپوزیشن کی طرف سے تمام رہنماؤں سے دستخط لے لیے گئے ہیں۔
-

کیا وزیراعظم اب بھی عددی اکثریت رکھتے ہیں
کراچی : وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد کا نمبر گیم دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور نمبرز تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اس میں کس کا پلڑا بھاری ہے۔ اس رپورٹ میں جانیں۔
متحدہ اپوزیشن کی جانب وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد پیش کردی گئی ہے جس پر ووٹنگ 7 اپریل تک کسی بھی دن ہوسکتی ہے جس کے بعد سیاسی جوڑ توڑ اور روٹھنے منانے کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے استعفیٰ لیکر ق لیگ کے پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کرکے ٹرپ کارڈ دیکھا دیا تھا لیکن متحدہ اپوزیشن نے بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 ارکان کی حمایت حاصل کرکے اس کا توڑ حاصل کرلیا۔
اس صورت حال میں سب کی نگاہوں کا مرکز متحدہ قومی موومنٹ بن گئی جس کے 7 ارکان گیم چینجر ثابت ہوسکتے ہیں۔ حکومت اور متحدہ اپوزیشن کے وفد کئی بار اپنی اپنی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں جت گئے۔
بالآخر متحدہ اپوزیشن نے میدان مارلیا اور ایم کیو ایم کو منانے میں کامیاب ہوگئے اس طرح متحدہ اپوزیشن کے پاس زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔
متحدہ اپوزیشن کے پاس اس وقت مسلم لیگ ن کے 84، پیپلز پارٹی کے 56، متحدہ مجلس عمل 15، متحدہ قومی موومنٹ کے 7، بی این پی کے 4 اور دیگر 11 ارکان ہیں اس طرح مجموعی تعداد 177 بن گئی ہے۔
وزیراعظم کو تحریک انصاف کے 155 ارکان، ق لیگ کے 4، جی ڈی اے 3 جب کہ عوامی مسلم لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے ایک ایک رکن کی حمایت حاصل ہے اس طرح مجموعی تعداد 164 بنتی ہے۔
خیال رہے کہ حکومت کی تبدیلی کے لیے 172 ووٹ کی ضرورت ہے۔