Baaghi TV

Author: +9251

  • مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان: فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی

    مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان: فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا اور ادھر گولگام میں‌ فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ٹرانسپورٹروں نے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف کل بدھ سے پورے مقبوضہ علاقے میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیر ٹرانسپورٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن نے ایک بیان میںپہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے جو کہ مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں کا اتحاد ہے ۔ ایسوسی ایشن اور دیگر فریقوں نے 7فروری کے قابض انتظامیہ کے ظالمانہ احکامات کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے جن کے تحت کمرشل گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ مدت استعمال مقررکی گئی ہے ۔

    انہوں نے کمرشل گاڑیوں کی 25برس تک استعمال کی مدت برقراررکھنے کا مطالبہ کیاتھا ۔تا ہم نئے حکم کے تحت جموں اور سرینگر میں 20برس کے بعد کمرشل گاڑیاں قابل استعمال نہیں رہیں گی۔ کشمیر ٹرانسپورٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن نے اس حکمنامے کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسافر گاڑیوں میں ٹریکنگ کا نظام نصب کرنے پر زوردیاہے۔

    ایسوسی ایشن نے مسافر ٹیکس کی وصولی کے حکم کی بھی منسوخی کا مطالبہ کیا جو کہ روٹ پرمٹ کی تجدید سے وابستہ ہے ۔

    واضح رہے کہ کشمیر ی ٹرانسپورٹروں نے اس سے قبل قابض انتظامیہ کے متعددظالمانہ احکامات کا متنازعہ زرعی قوانین سے موازنہ کرتے ہوئے ان کے خلاف بدھ سے بھوک ہڑتال اور9 اپریل سے عام ہڑتال کا اعلان کیا تھا ۔

    غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں ایک بھارتی فوجی اپنی رائفل گولی چلنے سے زخمی ہو گیا ہے۔ضلع کے علاقے بہی میں واقع بھارتی فوج کی 34راشٹریہ رائفلز کے کیمپ میں اپنی سروس رائفل سے گولی چلنے سے زخمی ہو گیا ۔

    تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ فوجی نے دانستہ طورپر خود کو گولی مارکر زخمی کیا یا بندوق سے حادثاتی طورپر گولی چلنے سے وہ زخمی ہوا ہے کیونکہ بھارتی فوجیوں خاص طورپر مقبوضہ کشمیرمیں تعینات فوجیوں میں اعصابی تنائو کی وجہ سے خودکشی کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔

  • کپتان Vs اپوزیشن تحریر:ضیاء عبدالصمد

    کپتان Vs اپوزیشن تحریر:ضیاء عبدالصمد

    18 اگست 2018 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن تھا کہ جب کرکٹ کی دنیا کا نامور کھلاڑی اور 1992 کے ورلڈ کپ کا فاتح کپتان یعنی عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا.یوں اگر دیکھا جاۓ تو وزیراعظم بنانا اتنا اسان تو نہ تھا تقریباً بائیس سال کی جدوجہد کے بعد اس مقام کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوۓ کہ وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھا سکیں.

    حکومت میں آتے ہی عمران خان نے سو دن کی کارکردگی کا حدف اپنی نو منتخب کابینہ کو سونپ دیا۔جس میں مختلف طرح کے حدف مقرر کیے گے۔ جن میں سے کچھ حدف مکمل کرلیے اور بعض رہ گئے. سو روز مکمل ہوتے ہی حکومت کو اپوزیشن نے ٹف ٹائم دینا شروع کردیا ۔اور ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کو عدالتوں اور نیب کی جانب سے مختلف کیسوں کو سامنا کرنا پڑھ گیا۔ اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف بیٹی مریم نواز ، بیٹے حسن نواز اور حسین نواز ،بھائی شہباز شریف بھتیجے حمزہ شہباز یوں کہیں تو ن لیگ کی مرکزی قیادت مختلف کیسیز کا شکار ہوگئ

    اسی کے ساتھ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی مرکزی قیادت جن میں سرفہرست سابق صدر پاکستان عاصف علی زرداری کو نیب ریفرنسز کا سامنا کرنا پڑا. خیر وقت کا پہیہ گھماتا رہا اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔

    کیونکہ آدھی سے زیادہ اپوزیشن تو جیل میں تھی حکومت کو کچھ سکون کا سانس آیا مگر اسی دوان مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا۔ ڈالر کا ریت آسمان سے باتیں کرنے لگا ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور ہوتی گئی کبھی آٹا کا بہران اور کبھی چینی کا بہران پیدا ہوجاتا۔ حکومت ایک مشکل سے نکلتی اور دوسری مشکل میں پھنس جاتی۔رہی صحیحی کثر covid-19 نے نکال دی پوری دنیا کو کرونا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پوری دنیا کا نظام درہم برہم ہوگیا.
    پاکستان میں بھی لاک ڈاون لگادیا گا۔حکومت کے لیے مشکل وقت تھا۔ لیکن اس وقت عمران خان نے ثابت کردیا کہ وہ واقعی ایک لیڈر ہیں انکو نے سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا جہاں جہاں وبا تشویشناک حد تک پھیل جاتی صرف اسی علاقہ میں 7 سے 14 روز کا لاک ڈاؤن لاگیا جاتا.
    اور ساتھ میں ہی احساس پروگرام سے ذرائع پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام چلایا گیا جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے مستحق خاندانوں کو 12 ہزار ہوۓ دیے گئے تاکہ انکے گھر کا نظام چل سکے۔ عمران خان کے انہی فیصلوں کو دنیا بھر میں سہرایا گیا.اور یہی وجہ تھی کے خطہ میں سب سے کم متاثر ہونے والا ملک پاکستان تھا۔

    اب بات کرتے ہیں جرنل اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خطاب کی جہاں پہلی دفعہ اسلام و فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی یوں کہیں تو مسلمانوں کے دلوں کی آواز بلند کی گئی۔ کہ ہمیں اپنے آخری نبی صلی الله عليه و آلہ وسلم کی ناموس سے بڑھ کی کوئی چیز عزیر نہیں ہے گستاخانہ خاکوں کو روکا جاۓ۔جرنل اسمبلی میں حقیقی معنوں میں مسلمانوں کے لیے اور ہمارے آخری نبی صلی الله عليه و آلہ وسلم کی ناموس کی خاطر کسی نے آواز اٹھائی ہے تو وہ فرد واحد عمران خان ہیں

    اب آتے ہیں موجودہ سیاسی صورتحال کی جانب اس وقت اپوزیشن کی تمام جماعتوں وزیراعظم کے خلاف اتحاد کرلیا ہے۔ اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لانا چاہتی ہے موجودہ وزیراعظم کسی نہ کسی طرح اتارنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن حکومتی اتحادیوں اور منحرف تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہے۔

    دیکھا جاۓ تو حکومتی جماعت بھی دو واضع گروپ میں تقسیم ہوچکی ایک ترین گروپ اور دوسرا گروپ تحریک انصاف کے منحرف اراکین ھیں۔ترین گروپ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے اگر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اپنی کرسی سے استعفیٰ دیتے ہیں۔ تبھی ترین گروپ وزیراعظم کو عدم اعتماد میں ووٹ دے گا۔دوسری جانب تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی سندھ ہاوس میں قیام کرنے کی خیریں بھی منظر عام پر آگئیں سندھ حکومت کی جانب سے مکمل سہولت منحرف اراکین کو سپورٹ کی جارہی ہے۔ اپوزیشن کی مسلسل کوشش ہے کسی طرح عدم اعتماد کامیاب ہوجاۓ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو صدر اور وزیراعظم کون ہوں گے انکے ناموں کا علان بھی کردیا گیا یے۔ حکومت کے اہم اتحادی "ق لیگ” اور ” ایم کیو ایم ” سے بھی اپوزیشن کے مسلسل رابطے میں ہیں.

    عمران خان نے اس صورت حال اور عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا اور فل فور عوامی رابطہ مہم یعنی جلسوں ریلیوں کا آغاز کردیا. کپتان اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ شہر در شہر جارہے ہیں اور دیکھ رہیں اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو کیا عوام ان کے ساتھ ہے کے نہیں ؟؟
    کپتان ابھی تک تقریباً دس شہروں میں جلسے کرچکے ہیں یہ ماننا ہوگا کہ عوام اب بھی عمران خان پر اعتماد کرتی ہے۔

    اگر دیکھا جاۓ تو پوزیشن نے یہ سوچ کر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لاۓ ہوں گے. کہ وہ عوام میں انکی مقبولیت ختم ہوچکی ہے. مہنگائی آٹا چینی اور کھاد کا بہران ہے اب انکو وزیراعظم کی کرسی سے ہٹانا آسان ہوگا۔میرے تجزیہ کے مطالبق اپوزیشن نے عمران خان کے لیے اگلے الیکشنز میں کامیابی کا رستہ ہموار کردیا ہے۔ کیونکہ اس وقت مہنگائی کا جن بے قابو تھا۔ملک معاشی حالات سے دوچار تھا عمران خان اور انکی حکومت اس وقت ایک گہرے گڑھے میں پھنسل چکے تھے انکے لیے الکیش جیتنا اور دوبارہ حکومت بنانا ناممکن تھا لیکن اپوزیشن اسے ممکن بناتی نظر آرہی ہے۔

    کہا جاۓ تو اس وقت عمران خان کو کسی معجزہ کا انتظار تھا کہ وہ کسی طرح عوام میں اپنی قبولیت تو دوبارہ بحال کرلیں جو ہوگیا عمران خان نے فائدہ اٹھایا اور عوامی رابطہ مہم کا آغاز کردیا دیکھا جاۓ تو عمران خان دوبارہ اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں اسلام آباد کے کامیاب جلسے نے یہ ثابت کردیا.

    ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان
    ٹھیک کرے گا سب کپتان

    الله پاک اس وطن عزیز کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین

    کالم نگار: ضیاء عبدالصمد
    جی میل: ziaabdulsamad18@gmail.com
    ٹویٹر اکاؤنٹ :@ZiaAbdulSamad

  • عمران خان آپ نے گھبرانا نہیں ہے ، شو بز ستارے بھی میدان میں آ گئے

    عمران خان آپ نے گھبرانا نہیں ہے ، شو بز ستارے بھی میدان میں آ گئے

    کراچی : پاکستان فلم وٹی وی انڈسٹری کے نامور ستارے بھی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں سامنے آگئے۔

    صف اول کے اداکار و پروڈیوسر ہمایوں سعید نے وزیر اعظم عمران خان کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کا مداح اُس وقت سے ہوں جب وہ ایک اسپورٹس مین تھے اور اب بھی ان کی قیادت کا فین ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ میری خواہش اور دعا ہے کہ وزیر اعظم اپنی مدت پوری کریں، اللہ ان کو سلامت رکھے ۔

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار بلال قریشی نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ عمران خان، سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

    اُنہوں نے مزید لکھا کہ وہ 27 مارچ کو اپنے وزیراعظم کا ساتھ دینے کے لیے آرہے ہیں۔

    گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی نے وزیر اعظم عمران خان کے جلسے پر ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ستائیس مارچ کو سب عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں اور جلسے میں شرکت کریں، آج اگر ہم عمران خان کے ساتھ نہ کھڑے ہوئے تو ہماری نسلوں کو پچھتانا ہوگا۔

    اداکار فرحان علی آغا نے وزیرا عظم عمران خان کے لئے جاری کردہ اپنے پیغام میں کہاکہ عمران خان نے جو جنگ شروع کی وہ بظاہر تو سیاسی جنگ ہے لیکن یہ حق اور ایمان کی جنگ ہے۔

    انہوں نے کہاکہ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان اصل مسائل کا شکار ہوئے ہیں اور یہ راستہ مشکل ہے، ہم اور ہماری دعائیں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ہیں۔

    ڈرامہ انڈسٹری کی سینئر اداکارہ ، ماڈل اور میزبان حنا خواجہ نے انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آج تک کبھی یہ نہیں چاہا کہ میں کسی کے بارے میں یا کسی کے لیے سخت الفاظ استعمال کروں لیکن مریم نواز صاحبہ آپ نے مجھے مجبور کردیا ہے کہ میں کہوں ’آپ کے منہ میں خاک۔‘

    انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے بقول آپ کے پاکستان کا طیارہ اس پرانے پاکستان میں اترے جیسا پاکستان آپ لوگوں نے اور آپ کی اتحادی جماعتوں نے بنادیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت کرے ان دشمنوں سے جو ہمارے ملک کے اندر اور باہر بیٹھے ہیں۔

  • کراچی میں بل بورڈ لگوانا ہے تو رشوت دینی پڑے گی

    کراچی میں بل بورڈ لگوانا ہے تو رشوت دینی پڑے گی

    کراچی : کراچی میں بل بورڈ لگوانا مشکل کام ہے۔ قانونی طریقہ کار موجود ہونے کے باوجود رشوت دیئے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتا۔ تمام متعلقہ ادارے بھی اضافی پیسہ لئے بغیر کام کرنے سے کتراتے ہیں۔

    کراچی کےگزری فلائی اوور پر ڈی ایم سی جنوبی کی اجازت سے ایک بل بورڈ لگایا گیا تاہم ڈی سی جنوبی نے اجازت کے باوجود بل بورڈ اتار دیا۔

    ڈپٹی کمشنر جنوبی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بل بورڈ لگانے کیئے یہ مقام خطرناک ہے۔

    اس ویڈیو میں بل بورڈ لگوانے کے مراحل، درپیش مشکلات اور رشوت کی وصولی سے متعلق تمام تفصیلات بیان کی گئی ہیں ۔

  • لیاری گینگ وار کے خلاف بھرپور آپریشن کرنے کا فیصلہ

    لیاری گینگ وار کے خلاف بھرپور آپریشن کرنے کا فیصلہ

    کراچی: ارشد پپو قتل کیس میں ملوث برطرف پولیس انسپیکٹر چاند خان نیازی اور انسپیکٹر جاوید بلوچ قتل کیس کے بعد اعلیٰ حکام نے لیاری گینگ وار کے کارندوں کے خلاف ایک بار پھر بھرپور آپریشن کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق لیاری میں گینگ وار کے سرغنہ ارشد پپو قتل کیس میں ملوث برطرف انسپکٹر چاند خان نیازی اور انسپکٹر جاوید بلوچ قتل کیس کے بعد اعلیٰ حکام نے لیاری گینگ وار کے کارندوں کے خلاف ایک بار پھر آپریشن کی تیاریاں شروع کردیں۔

    پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ آپریشن کا فیصلہ لیاری گینگ وار کے دوبارہ متحرک ہونے پر کیا گیا ہے، آپریشن کے لیے سابقہ اور تجربہ کار افسران کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔
    انہوں نے بتایا کہ پولیس افسران کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد عزیر بلوچ اور ارشد پپو گروپوں سمیت دیگر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا جبکہ اُن سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دونوں گروپوں کے متحرک کارندوں کے ناموں کی لسٹ تیار کی جا رہی ہے، پولیس کے سینئر افسران نے آپریشن کی اجازت دے دی ہے ، سندھ رینجر بھی آپریشن کے دوران معاونت فراہم کرے گی۔

    یہ آپریشن لیاری، جہان آباد ، گولیمار اور ملیر میں کیا جائے گا، کارروائی کے دوران گینگ وار کی سہولت کار تنظیموں کے خلاف بھی خفیہ معلومات جمع کر کے کاروائی کی جائے گی جبکہ گینگ وار کے سہولت کار پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    لیاری کے چاروں تھانوں بغدادی ، کلری ، چاکیواڑہ ، کلاکوٹ اور نیپئر تھانے کے ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جبکہ ایس ایچ او پاک کالونی اور ڈی ایس پی نعیم سناٹا کی تبدیلی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

    پولیس افسر نے بتایا کہ ارشد پپو گینگ کی سربراہی غازی خان کے ہاتھ میں ہے جبکہ دیگر اہم علاقائی کمانڈروں میں ملا عارف، جہانگیر، آصف، مقبول، ماما یعقوب، اسد، شاکر عرف شکاری اور اذان عنایت شامل ہیں۔

  • عمران خان کا سرپرائز یہ تھا کہ آج بھی بھٹو زندہ ہے : بلاول بھٹو

    عمران خان کا سرپرائز یہ تھا کہ آج بھی بھٹو زندہ ہے : بلاول بھٹو

    کراچی : پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کا سرپرائز یہ تھا کہ آج بھی بھٹو زندہ ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر مزاحیہ انداز سے ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کا سرپرائز یہ تھا کہ آج بھی بھٹو زندہ ہے۔

    دریں اثنا چوہدری پرویز الہی کی زرداری ہاؤس آمد ہوئی جہاں انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات کی۔ مسلم لیگ ق کے وفد میں طارق بشیر چیمہ اور چوہدری سالک حسین شریک تھے۔

    دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک کی موجودہ صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور پیشرفت سے بھی سابق صدر کو آگاہ کیا ۔

  • ماضی کی طرح اس باربھی چوہدری برادران حکومت گرانےکااعزازاپنےنام کرنےکےقریب:زرداری سےملاقات

    ماضی کی طرح اس باربھی چوہدری برادران حکومت گرانےکااعزازاپنےنام کرنےکےقریب:زرداری سےملاقات

    اسلام آباد:ماضی کی طرح اس بار بھی چوہدری برادران حکومت گرانےکااعزازاپنے نام کرنےکےقریب:زرداری سے ملاقات ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وفد سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ق) کا وفد اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی سربراہی میں زرداری ہاؤس پہنچ گیا۔

    چوہدری پرویز الٰہی نے آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر طارق بشیرچیمہ اورچوہدری سالک حسین بھی پرویز الہی کے ہمراہ تھے۔دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد میں ن لیگ کا اعلیٰ سطحی وفد چوہدری برادران کی رہائش گاہ پہنچا، ملاقات میں ن لیگی وفد اور ق لیگ کی قیادت کے درمیان تحریک عدم اعتماد اور ملکی سیاسی صورت حال سمیت باہمی دلچسپی کے امورپرگفتگوکی گئی۔

    ذرائع ن لیگ کے مطابق مسلم لیگ ن نے ق لیگ کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینےکی باقاعدہ پیش کش کردی ہے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ ق لیگ نے ن لیگ کی پیش کش پر جواب دینےکے لیے 2 دن کی مہلت مانگی ہے، دونوں جماعتوں کا اس دوران رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

    دوسری طرف سیاست کے پُرانےکھلاڑیوں کا کہنا ہےکہ ماضی کی طرح اس بار بھی چوہدری برادران اس سازش کا حصہ بن رہے ہیں‌

  • ‏آپ کہتے ہیں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، آپ کو کون چھوڑے گا:فضل الرحمان

    ‏آپ کہتے ہیں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، آپ کو کون چھوڑے گا:فضل الرحمان

    اسلام آباد: ‏آپ کہتے ہیں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، آپ کو کون چھوڑے گا،اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے میں مغرب کی اذان کے بجائے فجر کی اذان چلائی گئی، سب نشے میں تھے، نیند میں تھے، عمران خان کا ایجنڈا اسرایئل کو تسلیم کرانا تھا، تمہارا ایجنڈا دینی مدارس کا خاتمہ تھا، یہ وہی ایجنڈا ہے جو مشرف دور سے شروع ہوا تھا۔

    اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چند روز میں آزادی مارچ کا نتیجہ مل جائے گا، آج آپ نے آزادی مارچ کی یاد تازہ کر دی، آپ ایک بار پھر ایک نئے ولولے کے ساتھ اسلام آباد آئے، چند ہی دنوں میں آزادی مارچ کا نیتجہ مہیا کردے گا، آج ہمارے ایک ساتھی حادثے کا شکار ہو کر شہید ہوگئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے مقابلے میں اسلام آباد میں ایک جلسی بھی ہوئی، پتا نہیں کہاں سے اس کے غبارے میں ہوا بھری گئی، وہ سمجھ رہا تھا شائد یہ غبارہ اس کی حقیقی جسامت ہے، آج اس غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، پانچ، دس ہزار روپے دے کر جلسے میں اپنی کرسیاں بھی بھر نہیں سکے۔

    مولانا فضل الرحمان کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پر بھی واضح کرنا چاہتے ہیں تم نے اسلامی دنیا میں ایجنٹ چھوڑے ہیں، امریکا کا ایجنڈا کبھی پورا نہیں ہوگا، امریکا نے 15 سال این جی اوز کے ذریعے نئی نسل کو گمراہ کرنے کے لیے پیسہ استعمال کیا۔

    انہوں نے کہا کہ امربالمعروف کا لفظ بولنا بھی نہیں آتا، عمران خان سن لو میں تمہارے ایجنڈے کو جانتا ہوں، تمہارا ایجنڈا اسرایئل کوتسلیم کرانا تھا، تمہارا ایجنڈا دینی مدارس کا خاتمہ تھا، یہ وہی ایجنڈا ہے جو مشرف دور سے شروع ہوا تھا، تمہیں مسلط کیا گیا تاکہ آئین کی اسلامی دفعات کا خاتمہ کیا جاسکے، آج ہم فتح اور تمہاری شکست کا اعلان کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جلسے میں ریکارڈ تلاوت کلام پاک سنائی گئی، ان کے پاس ایک بندہ بھی نہیں تھا جو تلاوت کرلیتا، اپنے آپ کو معروف کہنے والے اپنی جہالت پر سر پیٹیں۔

  • ایک بارپھر قومی اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا جاری، تحریک عدم اعتماد شامل

    ایک بارپھر قومی اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا جاری، تحریک عدم اعتماد شامل

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کے کل ہونے والے اجلاس کا 27 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی شامل ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے 8 مارچ کی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے، اسی سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس کل ہونے جارہا ہے جس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔

    قومی اسمبلی کا ایجنڈا 27 نکات پر مشتمل ہے جس میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سرفہرست ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے بغیر پیر شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا تھا۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکراسد قیصرکی صدارت میں شروع ہوا، تلاوت قرآن پاک کے بعد اجلاس میں مرحوم ارکان قومی اسمبلی کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

    سپیکر کا کہنا تھا کہ پارلیمانی روایت ہے رکن اسمبلی کی وفات پر اجلاس فاتحہ خوانی کے بعد ملتوی کر دیا جاتا ہے، تحریک عدم اعتماد پر قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس پیر 28 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا۔

    اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی میں 159 ارکان شریک تھے، اپوزیشن ارکان کی کل تعداد 162 ہے۔ پارلیمان میں ن لیگ کےارکان کی تعداد 84 ہے، سب حاضرتھے۔

    پیپلزپارٹی کے 56 میں سے 55 ارکان حاضر تھے۔ پیپلزپارٹی کے جام عبدالکریم دبئی میں ہونے کے باعث شریک نہیں ہوئے۔ ایم ایم اے کے 15 میں سے 14 ارکان اجلاس میں حاضرتھے۔ پی ٹی ایم کے علی وزیرجیل میں، جماعت اسلامی کے اکبر چترالی غیر حاضر تھے۔ اے این پی ایک، بی این پی 4 اور 2 آزاد میں سےایک رکن حاضر تھا۔

  • آئندہ انتخابات میں نشستوں پر ن اور ق لیگ میں ڈیڈ لاک،ق لیگ ختم ہوچکی پھربھی بڑامطالبہ:ن لیگی ذرائع

    آئندہ انتخابات میں نشستوں پر ن اور ق لیگ میں ڈیڈ لاک،ق لیگ ختم ہوچکی پھربھی بڑامطالبہ:ن لیگی ذرائع

    لاہور:آئندہ انتخابات میں نشستوں پر ن اور ق لیگ میں ڈیڈ لاک،ق لیگ ختم ہوچکی پھربڑامطالبہ،اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ق) اور ملسم لیگ (ن) میں آئندہ انتخابات میں نشستوں پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

    ذرائع کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) نے قومی اسمبلی کی 15 نشستوں پر ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کر دیا جب کہ مسلم لیگ (ن) اتنی زیادہ نشستوں پر ایڈجسٹمنٹ نہیں چاہتی۔

    ذرائع ن لیگ کے مطابق جتنی نشستیں ق لیگ کی ابھی ہیں وہی آئندہ بھی لے لیں، وزارت اعلیٰ پر اختلاف نہیں لیکن زیادہ نشستیں نہیں دے سکتے، ن اور ق لیگ رہنماؤں میں کل پھر ملاقات ہوگی۔

    ترجمان مسلم لیگ (ق) کا کہنا ہے کہ ن لیگ سے سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ سے متعلق بات حقائق کے منافی ہے، ملاقات میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی، مشاورت جاری ہے، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ ن لیگ وفد کی ق لیگ قیادت سے ملاقات ہوئی، دونوں جماعتوں کا رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔

    ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا وفد مسلم لیگ ق سے ملنے آیا تھا، ماضی میں چوہدری برادران کیساتھ کام کیاہے، ہمارےآپس میں دیرینہ اوراچھےتعلقات ہیں، ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پربھی گفتگوہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ بڑی تفصیل کیساتھ مشاورت کی اورمزیدجاری رہےگی، تحریک عدم اعتمادسیاسی بارگین یاسیاسی مفادکیلئےنہیں، عمران خان نےساڑھے3سال میں معیشت کوتباہ کیا، عمران خان نےدوستوں اوراپنےارکان کونہیں چھوڑا، عمران خان نےتواتحادیوں کوبھی نہیں بخشا۔

    جب کہ ملسم لیگ (ق) کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ خواجہ سعدرفیق کی مہربانی ہےہمیں عزت بخشی ہے، عدم اعتمادکیلئےن لیگی وفدآیاہماری مشاورت ہوگی، ایک دوروزمیں فیصلہ کرلیں گے، ہماری خواہش ہےبلوچستان عوامی پارٹی کےاپنےمسائل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہےکہ تمام اتحادی مل کرفیصلہ کریں، ہم نےاگراپوزیشن کاساتھ دیناہےتوایک طرف دیکھناہوگا، ساڑھے3سال کاتجربہ بھی اچھانہیں رہاہے، یہ درست ہےہمیں عدم اعتمادسےپہلےفیصلہ کرناہے۔