Baaghi TV

Author: +9251

  • سی اے اے ملازمین کی  پنشن میں اضافہ نہ ہوسکا

    سی اے اے ملازمین کی پنشن میں اضافہ نہ ہوسکا

    پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی میں، جہاں ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے قانون کی من پسند تشریح کے باعث اتھارٹی کے سیکڑوں پنشن یافتہ ملازمین پنشن میں اضافے سے محروم ہیں، معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانے کے باوجود متاثرین اپنا حق نہیں لے سکے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ملک کے سب سے زیادہ نفع بخش اداروں میں سے ایک ہے۔ اس نے اپنے قیام کے بعد حکومت پاکستان کی پنشن پالیسی کو اختیار کیا۔ 2019 تک حکومت کے اعلان کے مطابق پنشن میں اضافہ کیا جاتا رہا لیکن اب ریٹائرڈ ملازمین کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامیہ نے سروس ریگولیشن کی غلط اور غیر منطقی تشریح کرکے بورڈ کو گمراہ کیا اور پنشنرز کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔

    2014 سے پہلے ریٹائر ہوئے ملازمین کی پنشن میں تو حکومت پاکستان کے اعلان کے مطابق اضافہ کردیا گیا لیکن 2014 کے بعد ریٹائر ہونے والے ڈھائی ہزار ملازمین کو اس اضافے سے محروم رکھا گیا ہے، یعنی ایک ہی ادارے میں دو قانون ہیں۔ جبکہ سی اے اے کے ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق کیلئے مہم چلانے والے ریٹائرڈ آفیسر حسیب الرحمان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کا کیا ہوگا جو جولائی 2014 سے آج تک ریٹائر ہوئے ہیں، یہ تقریبا ڈھائی ہزار ملازمین ہیں جن میں 80 فیصد سے زیادہ نچلے درجے کے ملازمین ہیں، ان میں بیوائیں ہیں، معزور ہیں، مالی، چوکیدار اور جینوٹوریل اسٹاف ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے اپنے مکانات تک نہیں، کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، وہ 2019 سے آج تک پنشن میں اضافے کیلئے ترس رہے ہیں۔

    تاہم پنشن میں اضافہ نہ ہونے سے ریٹائرڈ ملازمین انتہائی ذہنی دباؤ، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ تقریباً 60 ملازمین اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں یوں یہ ایک انسانی المیہ بنتا جا رہا ہے، جبکہ سی اے اے کے ایک دوسرے ریٹائرڈ آفیسر اختر جمال کا کہنا ہے کہ فنڈز موجود ہیں، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی امپاورمنٹ ہے، بورڈ کی سات میٹنگ ہو چکی ہیں جس میں فیصلہ نہیں ہو سکا، اس میں پنشنرز کا کوئی قصور نہیں، اگر قانون کی تشریح کا کوئی مسئلہ ہے تو اسے حل کرکے جلد از جلد اگلی میٹنگ میں ریلیف دیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا
    بلوچستان؛ نگران مشیر معدنیات کیخلاف مقدمہ درج
    سی اے اے انتظامیہ کی جانب سے پنشن قانون کی من پسند تشریح کے سبب تیسرا قانون یہ ہے کہ اب جولائی 2022 سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو وفاقی حکومت کے اعلامیہ کے مطابق پنشن میں سالانہ اضافہ دیا جائے گا۔ اس صورتحال پر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کا مؤقف ہے کہ پنشن سے متعلق معاملات عدالت میں ہیں۔ سی اے اے بورڈ نے ان معاملات کی جانچ پڑتال کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ایک سینیٹ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، بنیادی طور پر 2014 میں سی اے اے سروس رولز 2000 میں ترمیم کی گئی، اس ترمیم نے سی اے اے پنشنرز کو فیڈرل حکومت کے قواعد سے الگ کردیا ہے۔

  • نوازشریف کو پاناما کیس میں سازش سے ملوث کیا گیا. شہباز شریف

    نوازشریف کو پاناما کیس میں سازش سے ملوث کیا گیا. شہباز شریف

    سابق وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے نوازشریف کی کوشش کے باوجود انکی اپنی بیمار اہلیہ سے بات نہیں کرائی گئی تھی۔ نوازشریف پر رات تک جرح ہوتی تھی، کیا عطا بندیال کو یاد نہ آیا، جبکہ لندن میں شہباز شریف نے قائد ن لیگ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور اس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف کو پاناما کیس میں سزا دیے جانے کے عدالتی فیصلے پر تنقید کی۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو پاناما کیس میں سازش سے ملوث کیا گیا، پاناما میں 450 کے قریب دیگر افراد کے نام بھی تھے، لیکن دوسرے لوگوں کو پوچھا تک نہیں گیا، شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاناما میں نوازشریف کا دور دور تک نام نہیں تھا، ایک بینچ نے پاناما سے اقامہ کا فیصلہ کیا، نوازشریف پر جھوٹے کیسز بنائے گئے۔

    تاہم ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے شہباز شریف نے مزید کہا کہ نوازشریف جیل میں اور کلثوم نواز لندن میں اسپتال میں تھیں، نوازشریف کی کوشش کے باوجود انکی اپنی بیمار اہلیہ سے بات نہیں کرائی گئی تھی۔ ”کاش (چیف جسٹس پاکستان) عمر عطا بندیال، نوازشریف کے وقت بھی پوچھ لیتے“۔

    علاوہ ازیں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایک سو دن تک نوازشریف روزانہ بیٹی کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہوتے رہے، نوازشریف پر رات تک جرح ہوتی تھی، عطا بندیال کو یاد نہ آیا، شہباز شریف نے مزید کہا کہ دوہرے معیار نے انصاف کو برباد کر دیا ہے، نوازشریف پاکستان آئیں گے، قانون کا سامنا کریں گے، احتساب وقت کی ضرورت ہے، بلا امتیاز ہونا چاہئے۔

  • بند ٹوٹنے سے سیلاب نے تباہی مچادی

    بند ٹوٹنے سے سیلاب نے تباہی مچادی

    پنجاب کے مختلف شہروں میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے جس سے بورے والا اور بہاولنگر میں درجنوں دیہات زیرآب آگئے ہیں، حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے جبکہ بہاولپور میں دریائے ستلج کا ریلا دریائی پٹی پر تباہی مچانے لگا ہے، بستی لالہ ڈیرہ، بستی آرائیاں، اور ڈیرہ بکھا کے متعدد علاقے زیر آب آگئے ہیں اور عارضی بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی بھی سیلاب کی نظر ہوگئی ہے.

    واضح رہے کہ بورے والا میں بھی دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب سے تباہ کاریاں جاری ہیں، دریا کے بیلٹ پر بنے 90 فیصد عارضی حفاظتی بند ٹوٹ گئے۔ پانی میں گھرے سیکڑوں افراد مدد کے منتظرہیں اور ادھر بہاولنگر میں سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں تیز ہوگئی ہیں، تیزبہاؤ کی وجہ سے دریائی بیلٹ کے قریب وسیع علاقہ زیرآب آگیا، 60 سے زائد دیہات کے زمینی رابطے منقطع ہوگئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا
    بلوچستان؛ نگران مشیر معدنیات کیخلاف مقدمہ درج
    جبکہ خیرپور ٹامیوالی میں ہیڈ اسلام کے مقام پر اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح بیس فٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور پانی کا اخراج ایک لاکھ اٹھارہ ہزارکیوسک ریکارڈ کیاگیا۔ جبکہ دریائے ستلج میں سیلاب کے تیز بہاؤ کے باعث لودھراں کی نواحی بستیاں زیر اب آ گئیں، متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلیے ریسکیو کا کام جاری ہے۔ علاوہ ازیں متاثرین کا کہنا ہے کہ پانی ہمارا سب کچھ بہا کرلے گیا، نہ گھر بچا اورنہ ہی فصلیں،اہلخانہ کو منتقل کررہے ہیں۔

  • الیکشن کمیشن نے 5 ستمبر کے کیسز ڈی لسٹ کردیے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 5 ستمبر کے کیسز ڈی لسٹ کردیے ہیں اور ان کیسز میں توہین الیکشن کمیشن میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو نوٹسسز بھی جاری کیے گئے تھے جبکہ عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کیخلاف 5 ستمبر کو مقرر کیے گئے توہین الیکشن کمیشن کیسز ڈی لسٹ کر دیے گئے۔

    جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق بینچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ کیسز ڈی لسٹ کئے گئے ہیں جو مجموعی طور پر 5 کیسز ہیں اور ان میں دو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، دو فواد چوہدری اور ایک کیس اسد عمر کے خلاف ہے، جبکہ ان کیسز میں ملزمان پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز رویہ اورغیراخلاقی زبان کے استعمال کے الزمات ہیں۔

    جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیسز میں الیکشن کمیشن نے عمران خان اور اسد عمر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پہلے ہی منظور کرلی تھی تاہم انہیں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا تاہم چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگا تھا اور کہا گیا تھا کہ شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت ضروری ہے۔

    علاوہ ازیں یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن میں عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو نوٹسسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کی تھی دوسری جانب ریحان شیخ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آئندہ عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو تجاویز پیش کردیں۔ مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ تمام سیاسی پارٹیوں نے معاہدہ کیا تھا کہ 2023 کے انتخابات نئی مردم شماری پر ہوں گے۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کیجانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مشاورتی اجلاس ہوا، جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی، پاکستان مسلم لیگ ن کے وفد نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے مردم شماری کے رزلٹ اور اُسکی اشاعت اتفاق رائے سے منظور کی ہے، جبکہ تمام سیاسی پارٹیوں نے معاہد ہ کیا تھا کہ 2023 کے انتخابات نئی مردم شماری پر ہونگے۔

    مسلم لیگ کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن کے طرف سے جاری کردہ حلقہ بندی کا شیڈول آئین اور قانون کے عین مطابق ہے، انتخابی فہرستوں کی تجدید کا عمل بھی حلقہ بندی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ تاہم ن لیگ کے مطابق حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں کی تجدید کا عمل ایک ہی مرحلے میں مکمل ہو جائے اور انتخابات کے انعقاد میں تاخیر نہ ہو۔

    علاوہ ازیں لیگی وفد نے مطالبہ کیا کہ ضابطہ اخلاق پر مشاورتی عمل دوبارہ ہونا چاہیے، نفرت انگیز تقریروں پر پابندی ہونی چاہیے جبکہ امیدواروں کے اخراجات کو کم کرنے کیلئے صرف پوسٹر اور اسٹیکر کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کروائی کہ الیکشن کمیشن جتنے مختصر وقت میں ممکن ہوا حلقہ بندی اور انتخابی فہرستوں کی تجدید کا کام ایک ساتھ مکمل کرے گا جبکہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے گا اور اُسکے بعد ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دی جائے گی۔ تاہم الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کروائی کہ انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونگے اور تمام پارٹیوں کو یکساں مواقع میسر ہوں گے اور ضابط اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • پی پی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی اجلاس؛ پارٹی قیادت پر اعتماد کا اظہار

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے سابق صدر آصف زرداری اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ ذرائع کے مطابق سی ای سی اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ذرائع نے بتایاکہ ارکان نے ملک میں عام انتخابات سے متعلق تجاویز پیش کیں اور کہاکہ پیپلزپارٹی انتخابات 90 روز میں کرانے کا مؤقف اختیار کرے۔

    تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اعتزاز احسن نے انتخابات 90 روز میں کرانے سے متعلق قانونی دلائل بھی سامنےرکھے جبکہ ذرائع مخدوم احمد محمود نے عوامی رابطہ مہم اور پنجاب میں سیلاب متاثرہ عوام کی دادرسی کےلیے دوروں کی تجویز دی اور ترجمان کے مطابق سی ای سی ارکان نے آصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر اعتماد کا اظہار کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا
    بلوچستان؛ نگران مشیر معدنیات کیخلاف مقدمہ درج
    دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے نئے منتخب عہدیداروں صدر طیب بلوچ، جنرل سیکریٹری اعظم گِل اور دیگر نو منتخب عہدیداروں کو مبارکباد دی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے نئے منتخب صدر طیب بلوچ کی طرف سے شہید ذوالفقار علی بھٹو سے انصاف کے لئے آواز بلند کرنے پر طیب بلوچ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سپریم کورٹ میں صحافتی ذمے داریاں ادا کرنے والے صحافی عدالتی تاریخ کے چشم دید گواہ ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے طیب بلوچ کے نام ایک پیغام میں کہا کہ وہ میری طرف سے تمام منتخب عہدیداروں کو پیغام پہنچائیں۔

  • عمران خان  کو سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کو او ایس ڈی بنا دیا گیا

    عمران خان کو سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کو او ایس ڈی بنا دیا گیا

    اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کا رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھا گیا خط سامنے آگیا ہے جبکہ جج ہمایوں دلاور نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو 17 اگست کو خط لکھا اور انہوں نے یہ خط برطانیہ سے واپسی پر اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھا تھا.

    جج ہمایوں دلاور نے خط میں سکیورٹی وجوہات کے باعث ٹرانسفر کی درخواست کی اور کہا کہ میں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنایا، ٹرائل کے دوران اور فیصلہ سنانے کے بعد سوشل میڈیا پر میرے خلاف ایک مہم چلائی گئی جس کے باعث بیرون ملک سے میرے خاندان کو بھی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

    خط کے متن کے مطابق میرے بچوں کو اسکول جانے میں دشواری اور ناخوشگوار صورتحال کا سامنا ہے، میرے اور میرے خاندان کے افراد کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی۔ جبکہ جج ہمایوں دلاور نے خط میں کہا کہ ہل یونیورسٹی میں ورکشاپ کے دوران بھی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا ان وجوہات کی بنا پر درخواست ہے کہ میرا تبادلہ کسی اور جگہ کر دیا جائے، جوڈیشل کمپلیکس میں اسپیشل کورٹس یا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ کیا جا سکتا ہے، آپ کی توجہ اور مناسب احکامات پر شکر گزار ہوں گا۔

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نیازی کو توشہ خانہ کیس میں سزا دینے والے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور کو آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی یعنی او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے جبکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کی ہدایت پر ایڈیشنل رجسٹرار نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور کو او ایس ڈی بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
    https://twitter.com/waqas_amjaad/status/1695095242897109158
    جبکہ ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور کو اسلام آباد ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا
    بلوچستان؛ نگران مشیر معدنیات کیخلاف مقدمہ درج
    برازیلین مڈ فیلڈر اینڈری سینٹوس نے ناٹنگھم فاریسٹ جوائن کر لیا
    کینیڈین نائب وزیراعظم کو ٹریفک پولیس نے جرمانہ کردیا

    تاہم یاد رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے 6 اگست کو توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال کی قید، 5 سال کی نااہلی اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان توشہ خانہ فوجداری کیس میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

    اسلام آباد کی مقامی عدلت نے عمران خان کو جس مقدمے میں سزا سنائی ہے، اس کے بارے میں مختصراً ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔ توشہ خانہ ریفرنس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف اسلام آباد کی مقامی عدالت میں کرمنل کمپلینٹ دائر کی، جہاں 30 سے زائد سماعتوں کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

    اس دوران عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا مگر کوئی خاص ریلیف نہ مل سکا۔
    4 اگست 2022 کو اسپیکر قومی اسمبلی نے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا۔ محسن شاہ نواز رانجھا سمیت پی ڈی ایم کے پانچ ارکان قومی اسمبلی نے اسپیکر سے درخواست کی تھی جس میں آرٹیکلز 62 اور 63 کے تحت نااہلی کا مطالبہ کیا گیا۔

    7 ستمبر 2022 کو چیئرمین تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو تحریری جواب دیا جس میں بتایا گیا کہ 2018 سے 2021 کے دوران 58 تحائف موصول ہوئے، جنہیں باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم ادا کرکے خریدا۔
    21 اکتوبر 2202 کو الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا، فیصلہ میں کرمنل کمپلینٹ فائل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

    15 دسمبر 2022 کو توشہ خانہ فوجداری کیس ایڈیشل سیشن جج ظفر اقبال نے قابل سماعت قراردیا۔
    9 جنوری 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کیس دوبارہ قابل سماعت قرار دیا، جہاں 27 سماعتوں میں چیئرمین پی ٹی آئی ایک دفعہ بھی پیش نہیں ہوئے۔
    10 مئی 2023 کو نیب حراست میں عمران خان کو پولیس لائنز سے عدالت لایا گیا اور فرد جرم عائد ہوئی۔
    12 جولائی 2023 کو توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کا اہم مرحلہ شروع ہوا، چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا، الیکشن کمیشن کے دو گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے اور چیئرمین پی ٹی آئی اور دیگر گواہان کی فہرست مسترد ہوئی۔ ور آخر کار آج 5 اگست کو عمران خان کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔

  • کینیڈین نائب وزیراعظم کو ٹریفک پولیس نے جرمانہ کردیا

    کینیڈین نائب وزیراعظم کو ٹریفک پولیس نے جرمانہ کردیا

    کینیڈا کی نائب وزیراعظم کرسٹیا فری لینڈ کو حد رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلانے پر پولیس نے 237 ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا ہے جبکہ نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ کرسٹیا فری لینڈ شمالی البرٹا میں میونسپلٹی گرینڈ پریری اور پیس ریور کے درمیان ہائی وے پر 132 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہی تھیں۔

    جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق البرٹا ہائی ویز پر زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ پولیس نے ان کی گاڑی کو روکا اور جرمانہ عائد کردیا جو انہیں ادا کرنا پڑا۔

    کرسٹیا فری لینڈ کرائے کی گاڑی پر البرٹا اور جنگلات کی آگ سے متاثرہ افراد سے ملاقات کے لیے جارہی تھیں تاہم نائب وزیراعظم نے جرمانہ ادا کیا اور اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ میں گاڑی زیادہ تیز چلارہی تھی اور آئندہ ایسا نہیں کروں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا

    جبکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا اور سڑک کے اس حصے پر رفتار کی حد کیا تھی۔ البرٹا ہائی ویز پر زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ فری لینڈ ایک قانون ساز ہیں جو کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو کے ایک پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرتی ہیں اور اکثر اپنی موٹر سائیکل پر تصویریں کھینچتی رہتی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ صحافیوں کو بتایا تھا کہ ‘ایک حقیقت جو اب بھی میرے والد کو حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ میرے پاس اصل میں کوئی گاڑی نہیں ہے۔

  • ایتھوپیا کے تارکینِ وطن کی ہلاکت؛ سعودیہ کی تردید

    ایتھوپیا کے تارکینِ وطن کی ہلاکت؛ سعودیہ کی تردید

    سعودی عرب کے ایک سرکاری ذرائع نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے کہ سعودی عرب کے سرحدی محافظوں نے یمن کی سرحد کے قریب ایتھوپیا کے تارکینِ وطن کو ہلاک کیا تھا جبکہ گذشتہ پیر کے روز امریکا میں قائم ہیومن رائٹس واچ گروپ نے ایک رپورٹ میں الزام عاید کیا تھا کہ سعودی عرب کے سرحدی محافظوں نے یمن سے مملکت کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے سیکڑوں ایتھوپیائی تارکین وطن کو ہلاک کردیا ہے۔

    جبکہ عرب میڈیا کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور ناقابل اعتماد ذرائع پر مبنی ہیں جبکہ سرکاری ذریعے نے کچھ تنظیموں کی جانب سے مملکت کے بارے میں جھوٹے الزامات لگانے اور مشکوک ومذموم مقاصد واہداف کے لیے بار باربرپا کی جانے والی بدنیتی پر مبنی میڈیا مہموں کے تناظر میں سیاسی اور گمراہ کن رپورٹس کی اشاعت اور تشہیر کی مذمت کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا
    بلوچستان؛ نگران مشیر معدنیات کیخلاف مقدمہ درج
    علاوہ ازیں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے اس سے قبل ان افراد کے گروپوں کو طبّی نگہداشت کی تھی اوران کی ہر طرح کی دیکھ بھال کی تھی جنھیں مسلح گروہوں نے یمن سے طاقت کے ذریعے مملکت میں داخل ہونے پرمجبور کیا تھا اور ان پر گولی چلا دی تھی جبکہ ایس پی اے کی اطلاع کے مطابق سرکاری ذریعے نے سعودی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اپنے قواعد و ضوابط، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قوانین میں بیان کردہ انسانی حقوق کے اصولوں اور سرحدی سلامتی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو انسانی خدمات مہیا کرنے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کے تحت مملکت کے قوانین اور ذمے داریوں کے مطابق ان کے ساتھ سلوک روا رکھنے کے عزم پر زور دیا ہے۔

  • بلوچستان؛ نگران مشیر معدنیات  کیخلاف مقدمہ درج

    بلوچستان؛ نگران مشیر معدنیات کیخلاف مقدمہ درج

    سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر میں انتظامیہ سے لڑائی جھگڑا کرنے والے بلوچستان کے نگران مشیر معدنیات عمیر محمد حسنی اور سابق وزیر امان اللہ نوتیزئی کے خلاف سول لائنز پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ واضح رہے کہ گزشتہ کہ جمعرات کے روز نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے معدنیات عمیر محمد حسنی مسلح محافظوں اور درجنوں ساتھیوں کے ہمراہ ایک لیویز اہلکار کی عیادت کے لئے سول اسپتال کے ٹراما سینٹر پہنچے تھے.

    خیال رہے کہ وہاں پہنچنے پر ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ نے عمیر حسنی کو مسلح محافظوں کے ہمراہ آئی سی یو جانے سے روکا جس پر نوجوان مشیر آپے سے باہر ہوگئے تھے اور انہیں تشدد کا نشانہ بناڈالا تھا جبکہ ٹراما سینٹر کی انتظامیہ کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت، امن خراب کرنے ،لڑائی جھگڑے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا

    تاہم مقدمے کے متن کے مطابق نگران مشیراور سابق وزیر کے محافظوں نے ڈاکٹروں اور سکیورٹی گارڈزپر اسلحہ تانا، ہاتھاپائی کی اور سکیورٹی گارڑز کو زدوکوب کیا جبکہ کالی گلوچ کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ جبکہ دوسری جانب واقعہ کے خلاف ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن سمیت تمام ڈاکٹر تنظیموں نے سرکاری ہسپتالوں سے بائیکاٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ عمیر حسنی کو نگراں کابینہ سے خارج کیا جائے۔

  • یوم وفات محمود تيمور؛ معروف مصری ادیب

    یوم وفات محمود تيمور؛ معروف مصری ادیب

    محمود تيمور معروف مصری ادیب اور افسانہ نگار ہیں۔ انھیں دور جدید کے عربی افسانے کا بابا آدم، مختصر عربی کہانیوں کا پیشوا، عرب کا موپاساں اور عرب کا شیکسپیر بھی کہا جاتا ہے۔

    محمود تیمور نے 16 جولائی 1894ء کو مصر میں شہر قاہرہ کے قدیم قصبے درب سعادۃ کے ایک ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ محمود تیمور کے دادا ترک نژاد مصری رئیس اسماعیل پاشا تیمور کتابوں کے شیدا تھے۔ محمود تیمور کے والد ادیب علامہ احمد توفیق تیمور پاشا، پھوپھو شاعرہ عائشہ تیمور اور بھائی محمد تیمور بھی اپنے عہد کے معروف ادیب تھے اور عربی ادب میں اپنا مقام رکھتے تھے۔ محمود تیمور نے زراعی اسکول میں تعلیم حاصل کی لیکن ٹائیفائیڈ کے باعث تعلیم مکمل نہ کرسکے اور کئی ماہ بستر پر گزارے۔ اس دوران میں گھر میں موجود کتابوں کو پڑھ کر عربی ادب سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ خاندان کی طرف سے ادبی ذوق تو ورثے میں ملا تھا لہٰذا کم عمری میں ہی ان کا رجحان ادب کی طرف ہوگیا۔ ان کے بھائی محمد تیمور نے ادب میں ان کی خوب مدد کی۔

    نوجوانی میں وزارت خارجہ میں ملازم ہوئے اور یورپ کا سفر کیا جہاں مغربی ادب کا مطالعہ کیا۔ وہ موپاساں، چیخوف اور خلیل جبران کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور مصر واپس آکر جدید اور حقیقت پسند عربی ادب کی بنیاد رکھی اور عربی افسانے کو بین الاقوامی معیار دیا۔
    محمود تیمور القصۃ نامی رسالے کے مدیر بھی رہے جس میں ان کی کئی مختصر کہانیاں شائع ہوئیں۔ 1925 ء میں انھوں نے اپنی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ‘‘ما تراہ العيون’’ شائع کیا۔ اس کے بعد انھوں نے مختصر کہانیوں کے تقریباً 15 مجموعے لکھے۔

    محمود تیمور کی مقبول کہانیوں میں رجب افندی، الحاج شلبۃ، زامر الحي، فلب غانيۃ، فرعون الصغير، الشيخ سيد العبيط، مکتوب علی الجبين، شفاۃ غليظۃ، أبو علی الفنان، إحسان للہ اور کل عام وأنتم بخير شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 7 عدد ناول (نداء المجہول، سلوی فی مہھب الريح، المصابيح الزرق)، سفرنامے(أبو الہول يطير، شمس وليل، جزيرۃ الحب)، ڈرامے (عوالي، سہاد أو اللحن التائہ، اليوم خمر، حواء الخالدۃ، صقر قريش) اور ادبی مضامین (فن القصص، مشکلات اللغۃ العربيہ)بھی تحریر کیے۔ ان کے کئی افسانوں پر مصر میں ڈرامے اور فلمیں بنائی گئیں۔ محمود تیمور کے کہانیوں کے ترجموں کو بھی کافی مقبولیت ملی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا
    انہوں نے کئی بین الاقوامی ادبی کانفرنسوں میں شرکتیں کیں جن میں بیروت، دمشق کے علاوہ، جامعہ پشاور، پاکستان میں بھی شامل ہے۔ انھیں دور جدید کے عربی افسانے کا بابا آدم، مختصر عربی کہانیوں کا پیشوا، عرب کا موپاساں اور عرب کا شیکسپیر بھی کہا جاتا ہے۔ 25 اگست 1973ء کو 80 برس کی عمر میں محمود تیمور کا انتقال سوئزرلینڈ کے شہر لوزان میں ہوا۔