Baaghi TV

Author: +9251

  • جےیوآئی کےارکان اسمبلی کوگرفتارنہیں کیا:شوق سےبیٹھے ہیں:ہماری طرف سےآزادہیں:شیخ رشید

    جےیوآئی کےارکان اسمبلی کوگرفتارنہیں کیا:شوق سےبیٹھے ہیں:ہماری طرف سےآزادہیں:شیخ رشید

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کے آپریشن کے معاملے پر پریس کانفرنس کی۔

    شیخ رشید نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے دو ارکان قومی اسمبلی کو ہم نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے شوق سے تھانے میں بیٹھے ہیں، ہماری طرف سے وہ رہا ہیں، ہم مولانا فضل الرحمان کو بھی گرفتار نہیں کریں گے، ان کی کمپنی کی مشہوری نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹے گا، جو تشدد کرے گا اسے کچل دیا جائے گا۔

    شیخ رشید نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے سڑکیں بلاک کرنے کی اپیل پر کہا کہ جہاں سڑک بند ہوگی ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

    شیخ رشید نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران انصار الاسلام کے ایک عہدے دار کا ویڈیو بیان بھی نشر کیا۔ پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے خلاف پولیس کے آپریشن کے معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کا الرٹ جاری کیا جا چکا ہے، ہمارے پاس اطلاعات اچھی نہیں ہیں، خدانخواستہ عدم اعتماد سے پہلے امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو جائے۔

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کے آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت اہم سیل پکڑا ہے، 60 سے 70 لوگ لاجز میں داخل ہوئے، ان کے لاجز میں کپڑے بدلوائے گئے، پولیس نے 4 گھنٹے تک منت سماجت، مذاکرات کیے کہ ان لوگوں کو ہمارے حوالے کر دیں، ہمارے حوالے نہ کرنے پر پولیس نے آپریشن کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انصار الاسلام کے لوگ پیچھے بھی آ رہے ہیں، نتیجہ آپ بھگتیں گے، کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، باہر سے لوگ آرہے ہیں اور ہم کوشش کریں گے انہیں روک لیا جائے۔

    خیال رہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے ڈنڈہ بردارکارکنوں کے احتجاج کے دوران پارلیمنیٹ لاجز میں زبردستی داخل ہونے والوں کو پولیس نے حراست میں لیا تھا لیکن پھر اس کے بعد فورا چھوڑ دیا

     

     

    پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن ڈی آئی جی آپریشن کی کمانڈ میں کیا جارہا ہے۔ میڈیا کو پارلیمنٹ لاجز سے نکال دیا گیا جس کے بعد پولیس کی نفری نے صلاح الدین ایوبی کے لاج کا دروازہ توڑ کر انہیں گرفتار کر لیا جبکہ متعدد رضا کاروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    دوسری طرف انصارالاسلام فورس کے پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہونے کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد احسن یونس نے نوٹس لے لیا اور ڈی چوک پر قائم ناکہ انچارج، پارلیمنٹ لاجز کے انسپکٹر انچارج، لائن افسر معطل کر دیئے گئے۔

    ترجمان کے مطابق افسران اور اہلکاروں کو ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا، ایس ایس پی آپریشنزمعاملے کی انکوائری کریں گے۔

    اُدھر پارلیمنٹ لاجز میں پولیس اور اراکین اسمبلی آمنے سامنے ہوئے اس دوران تلخ کلامی بھی ہوئی جبکہ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ اور اہلکاروں میں ہاتھا پائی ہوئی۔پارلیمنٹ لاجز میں پولیس اور ایم این اے کے سٹاف میں ہاتھا پائی کے دوران وہاں موجود رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق کا پاؤں دروازہ لگنے سے زخمی ہوگیا۔

    دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے جے یو آئی ف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شیخ رشید کے ان الفاظ کی تائید کی ہے کہ ہم نے کسی کوگرفتار نہیں کیا جو کوئی بیٹھا ہوا ہے اپنے شوق سے بیٹھا ہے

    پولیس کی طرف سے دونوں ایم این ایز صلاح الدین ایوبی اور جمال الدین کو گرفتار نہیں کیاگیا،یہ دونوں ایم این اے حضرات تھانہ آبپارہ میں ایس ایچ او کے کمرے میں موجود ہیں،یہ دونوں ایم این ایز تھانے سے نہ جانے پر مصر ہیں،

    پولیس نے دونوں ایم این ایز کو قطعی گرفتار نہیں کیا،جو کہ اپنے کارکنان کی رہائی کے لیے بضد ہیں،انصار الاسلام فورس پر24 اکتوبر 2019 کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پابندی عائد کی تھی اور ان کو کالعدم قرار دیا تھا،

    ایک طرف اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی ہورہی ہے تو دوسری طرف اس ہنگامہ کے پیچھے محرکات بھی سامنے آنے لگے ہیں ، اس حوالے سے ایک اہم رپورٹ اس وقت گردش کررہی ہے کہ پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات آگئے

    لاہورسے ذرائع کےمطابق اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کا فیصلہ آج اچانک اس وقت جب ن لیگ کے 6 ممران نے وزیراعظم عمران خان سے مل کرساتھ دینے کا عہد کیا ، یہ بات ن لیگ کی قیادت پربجلی بن کرگزری ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ ن لیگ نے جن پی ٹی آئی اراکین سے رابطے کیئے تھے ان کو یہ باوربھی کرایا گیا تھا کہ ن لیگ میں مکمل اتفاق ہے اور کوئی فارورڈ بلاک نہیں سب ساتھ ہیں

    پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کی دوسری بڑی وجہ ہے کہ ن لیگ قیادت کو پی ٹی آئی کے 7 ممبران نے صاف جواب دیتے ہوئے اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا ، یہ انکار تو فردا فردا کیا گیا لیکن یہ ایک بہت بڑا سانحہ بن کر اپوزیشن کےلیے آیا ،جس کےبعد اپوزیشن نے اس کھیل کو اپنے ہاتھوں سے جاتے ہوئے دیکھ کرفورا معاملہ فضل الرحمن تک پہنچایا ، جس پرفضل الرحمن اشتعال میں آگئے اور ن لیگی کارکنان کی وزیراعظم سے ملاقات اور پی ٹی آئی کے 7 ممبران کا وزیراعظم عمران خان سے ہم آہنگی کو حکومتی جبرسمجھتے ہوئےاس پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ نوازشریف کی ہدایت پرکیا گیا اور مریم نواز اور فضل الرحمن نے اس حوالے سے حکمت عملی طئے کی اور شام تک پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حکومت کوامتحان میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا، اس فیصلے سے نہ تو ن لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پی پی کی قیادت کو ن لیگ اور فضل الرحمن کے درمیان ہونے والے اس منصوبے سے آگاہ کیا گیا

    ذرائع کےمطابق تیسری بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ جے یو ائی ف کے دو ارکان اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے عمران خان خلاف اسلام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ سراسرالزام تراشی ہے اورہمیں اس سے دور رہنا چاہیے ، بہرکیف موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں سے ان پہلووں پر بہتر کام کررہی ہے اور ہمیں غیرمشروط حمایت کرنی چاہیے نہ نوازشریف یا کسی دوسرے کی رضا کی خاطرملکی معاملات کو خراب کرنا چاہیے

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اس بات پراعتراض بھی تھا اور اپنے ارکان اسمبلی پر شک بھی، جس کی وجہ سے وہ عدم اعتماد کے حوالے سے ہچکچا رہے تھے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ناکامی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس انداز سے حکومت کو مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے جو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے وعدے پر پورے نظرآتے ہیں لیکن ن لیگ اور جے یو آئی ف کے دعوے صرف دعوے ہی تھے اوران میں حقیقت نہیں تھی ، جبکہ دوسری طرف آج جب وزیراعظم عمران خان کو بتادیا گیا کہ وہ بے فکر رہیں ان کے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی ان کو ووٹ دیں گے اور عدم اعتماد بری طرح‌ ناکام ہوگی

    ان خبروں نے اپوزیشن کے لیے بہت ہی پریشانیاں پیدا کررکھی تھیں اور اب چونکہ یہ ساری گیم ہاتھ سے نکلتی ہوئی نظر آرہی تھی تو نوازشریف کی ہدایت پرزرداری کے علم میں لائے بغیر پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حالات کو بے قابو کرنے کا منصوبہ بنایا گیا

    اسلام آباد سے مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی پی متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہے لیکن پی پی کی یہ تاریخ رہی ہےکہ وہ ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے دور رہے ہیں بلکہ پی پی نےہمیشہ ایسے رویوں کی مذمت کی ہے اور یہی پی پی کی نظریاتی فتح ہے جسے مخالفین بھی مانتے ہیں ، اور اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پی پی قیادت پارلیمنٹ لاجز کے اس کھیل سے بہت جلد بیزاری کا اعلان کرسکتی ہے، پی پی قیادت عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے پر توقربانی دے سکتی ہے لیکن گیر جمہوری اور ایسے سازشی ہتھکنڈوں کا ساتھ نہیں دے سکتی کیونکہ آصف علی زرداری نے پارٹی کویہی تو سبق پڑھایا ہے کہ غیرجمہوری رویوں کی پی پی میں‌ نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہے یہ کسی کی فرمائش ہے

  • عمران خان کے ساتھ وہ کروں گا جو نسلیں یاد کریں گی : بلاول بھٹو زرداری

    عمران خان کے ساتھ وہ کروں گا جو نسلیں یاد کریں گی : بلاول بھٹو زرداری

    کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کے ساتھ وہ کروں گا جو نسلیں یاد رکھیں گی۔

    چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا پورے ملک کے عوام کو لانگ مارچ میں شرکت کے لئے مبارک باد اور شکریہ ادا کرتا ہوں، عوام نے مل کر اسے تاریخی مارچ بنادیا ہے اور یہ مارچ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے تحریک بنادیا۔ اس لانگ مارچ میں شامل تمام صوبوں کی عوام نے اس سلیکٹڈ وزیراعظم کو مسترد کردیا۔

    چیئر مین پیپلز پارٹی نے کہا جب پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں نے اپنا کام کرلیا ہے اب پارلیمان پر ذمہ داری ہے، اب عوام کی امیدوں پر ہم نے پورا اترنا ہے، اب وہ دن دور نہیں کہ پارلیمان اپنے آپ سے یہ سیاہ دھبہ و داغ ہٹائے گا، جلد ہی جیسے ہی سیشن بلایا جائے گا اس 2018 کی غلطی کو درست کریں گے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہم آج بھی جمہوریت کی بات کرتے ہیں، اگر ہم مطالبہ کرتے کہ دھرنا دینا ہے تو آج بھی عوام موجود ہوتی، ہم غیر جمہوری انداز میں حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے البتہ ایسا کرسکتے تھے۔

    بلاول نے کہا دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جو ناقابل برداشت ہیں، آصفہ بی بی پر ہونے والا حملہ ناقابل برداشت ہے، میں نے صبر دکھایا کیونکہ میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں، میں نے ویڈیو کو ہر طریقے سے دیکھا، ہر زاویے سے دیکھا یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا، براہ راست میری ہمشیرہ کو ہٹ کیا گیا یہ حملہ ہمارے لئے پیغام تھا، یہ جمہوریت بحالی کے حوالے سے میرے لئے اور میرے والد کے لئے پیغام تھا ۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا قوم کے سامنے کھڑے ہوکر وزیراعظم صدر زرداری کو بندوق کی دھمکی دے رہا ہے، یہ ہم سے برداشت نہیں ہوگا، ہم اس حکومت پر کوئی اعتماد نہیں کریں گے، آئی ایس آئی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرے، اس کی بنیاد پر ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے، آصف زرداری پر حملہ ناقابل برداشت ہے ۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہم نے اپنی والدہ سے لے کر اب تک بہت برداشت کیا ہے، اب مزید برداشت نہیں کریں گے ، میں اب جوان ہوں، میری رگوں میں آصف زرداری، شہید بی بی اور شہید قائد عوام کا خون ہے، اب بس! اب ہم ایک بھی چیز برداشت نہیں کریں گے، ہم پھر جو ری ایکشن دیں گے وہ کوئی برداشت نہیں کرے گا۔

    چیئر مین پیپلز پارٹی نے کہا آپ سیاست کریں، یہ آپ کا اور ہمارا حق ہے مگر آپ زندگی و موت کی دھمکی دیں گے یہ ناقابل برداشت ہے، یہ ایک ماڈرن ملک ہے، ہم 2022 میں جی رہے ہیں ہمارا حق ہے کہ ہم پرامن طور پر سیاست کریں، ہم امید کرتے ہیں ایسا ہوگا، ماحول کو پرامن رکھا جائے گا۔

    انہوں نے کہا عوامی مارچ کے وقت بھی کہا تھا کہ یہ جتنا بھی پریشان ہوگا کرسی خطرے میں ہوگی وزیراعظم مزید گالیاں دیں گے، اب گالیاں دینے سے آپ کی کرسی نہیں بچے گی، اب آپ کا جھوٹ نہیں چلے گا، 3سال حکومت میں رہنے کے بعد یہ کہتا ہے کہ زرداری اور پیپلز پارٹی ان کا ٹارگٹ ہے۔ ہمیشہ یہی پیپلز پارٹی آپ اور آپ جیسے لوگوں کا ٹارگٹ رہا ہے ۔

  • پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    اسلام آباد :ایک طرف اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی ہورہی ہے تو دوسری طرف اس ہنگامہ کے پیچھے محرکات بھی سامنے آنے لگے ہیں ، اس حوالے سے ایک اہم رپورٹ اس وقت گردش کررہی ہے کہ پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات آگئے

    لاہورسے ذرائع کےمطابق اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کا فیصلہ آج اچانک اس وقت جب ن لیگ کے 6 ممران نے وزیراعظم عمران خان سے مل کرساتھ دینے کا عہد کیا ، یہ بات ن لیگ کی قیادت پربجلی بن کرگزری ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ ن لیگ نے جن پی ٹی آئی اراکین سے رابطے کیئے تھے ان کو یہ باوربھی کرایا گیا تھا کہ ن لیگ میں مکمل اتفاق ہے اور کوئی فارورڈ بلاک نہیں سب ساتھ ہیں

    پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کی دوسری بڑی وجہ ہے کہ ن لیگ قیادت کو پی ٹی آئی کے 7 ممبران نے صاف جواب دیتے ہوئے اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا ، یہ انکار تو فردا فردا کیا گیا لیکن یہ ایک بہت بڑا سانحہ بن کر اپوزیشن کےلیے آیا ،جس کےبعد اپوزیشن نے اس کھیل کو اپنے ہاتھوں سے جاتے ہوئے دیکھ کرفورا معاملہ فضل الرحمن تک پہنچایا ، جس پرفضل الرحمن اشتعال میں آگئے اور ن لیگی کارکنان کی وزیراعظم سے ملاقات اور پی ٹی آئی کے 7 ممبران کا وزیراعظم عمران خان سے ہم آہنگی کو حکومتی جبرسمجھتے ہوئےاس پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ نوازشریف کی ہدایت پرکیا گیا اور مریم نواز اور فضل الرحمن نے اس حوالے سے حکمت عملی طئے کی اور شام تک پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حکومت کوامتحان میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا، اس فیصلے سے نہ تو ن لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پی پی کی قیادت کو ن لیگ اور فضل الرحمن کے درمیان ہونے والے اس منصوبے سے آگاہ کیا گیا

    ذرائع کےمطابق تیسری بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ جے یو ائی ف کے دو ارکان اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے عمران خان خلاف اسلام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ سراسرالزام تراشی ہے اورہمیں اس سے دور رہنا چاہیے ، بہرکیف موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں سے ان پہلووں پر بہتر کام کررہی ہے اور ہمیں غیرمشروط حمایت کرنی چاہیے نہ نوازشریف یا کسی دوسرے کی رضا کی خاطرملکی معاملات کو خراب کرنا چاہیے

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اس بات پراعتراض بھی تھا اور اپنے ارکان اسمبلی پر شک بھی، جس کی وجہ سے وہ عدم اعتماد کے حوالے سے ہچکچا رہے تھے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ناکامی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس انداز سے حکومت کو مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے جو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے وعدے پر پورے نظرآتے ہیں لیکن ن لیگ اور جے یو آئی ف کے دعوے صرف دعوے ہی تھے اوران میں حقیقت نہیں تھی ، جبکہ دوسری طرف آج جب وزیراعظم عمران خان کو بتادیا گیا کہ وہ بے فکر رہیں ان کے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی ان کو ووٹ دیں گے اور عدم اعتماد بری طرح‌ ناکام ہوگی

    ان خبروں نے اپوزیشن کے لیے بہت ہی پریشانیاں پیدا کررکھی تھیں اور اب چونکہ یہ ساری گیم ہاتھ سے نکلتی ہوئی نظر آرہی تھی تو نوازشریف کی ہدایت پرزرداری کے علم میں لائے بغیر پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حالات کو بے قابو کرنے کا منصوبہ بنایا گیا

    اسلام آباد سے مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی پی متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہے لیکن پی پی کی یہ تاریخ رہی ہےکہ وہ ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے دور رہے ہیں بلکہ پی پی نےہمیشہ ایسے رویوں کی مذمت کی ہے اور یہی پی پی کی نظریاتی فتح ہے جسے مخالفین بھی مانتے ہیں ، اور اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پی پی قیادت پارلیمنٹ لاجز کے اس کھیل سے بہت جلد بیزاری کا اعلان کرسکتی ہے، پی پی قیادت عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے پر توقربانی دے سکتی ہے لیکن گیر جمہوری اور ایسے سازشی ہتھکنڈوں کا ساتھ نہیں دے سکتی کیونکہ آصف علی زرداری نے پارٹی کویہی تو سبق پڑھایا ہے کہ غیرجمہوری رویوں کی پی پی میں‌ نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہے یہ کسی کی فرمائش ہے

  • خلا میں مباشرت :خلائی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا

    خلا میں مباشرت :خلائی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا

    واشنگٹن:خلا میں مباشرت :خلائی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا ،اطلاعات کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ آج تک خلا میں کسی انسان نےمباشرت نہیں کی، نہ ہی قلیل کشش ثقل والے ماحول میں مباشرت کے حوالے سے کوئی مطالعاتی تحقیق موجود ہے۔

    کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس تواتر سے عام شہری خلا کا سفر کر ہے ہیں، اب ضروری ہوگیا ہے کہ اس معاملے پر بھی تحقیق کی جائے۔

    انہوں نے عالمی خلائی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ خلا میں جنسی مباشرت اور انسانی تولید کے قواعد طے کئے جائیں، کیونکہ مستقبل میں دوسرے سیاروں پر انسانی بستیاں بسانے کے لیے ضروری ہے کہ قدرت کے اس انتہائی ضروری عمل کو وہاں کے ماحول کی مطابقت کے ساتھ سمجھا جائے۔یہ تحقیق مستقبل میں طویل خلائی مشنز میں عام لوگوں کی شرکت کے لیے ضروری قرار دی گئی ہے، جن میں ممکنہ طور پر کچھ شادی شدہ جوڑے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ ناسا نے خلا میں خلانودوں کے بیچ مباشرت کے خلاف سخت ضابطہ اخلاق نافذ کیا ہوا ہے۔ جو اس تحقیق کی راہ میں دیوار بنا ہوا تھا۔

    ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خلا نوردوں کی صحت اور حفاظت ہماری ترجیح ہے، ہمارا ہیومن ریسرچ پروگرام انسان کو خلا میں بھیجنے والی فلائٹس اور اس کے کریو کو لاحق خطرات کو کم کرنے اور انہیں جذباتی طور پر تیار کرنے کے لیے مناسب اقدامات پر مشتمل ہے۔

    اسپیس سیکس اسٹڈی کی شریک مصنف ماریا سینٹاگیڈا کہتی ہیں کہ تاحال یہ غیر واضح ہے کہ خلا میں انسان مباشرت کر بھی پائیں گے یا نہیں، یہ تحقیق خلا میں جنسی عملیات کے حوالے سے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

    ناسا کے ترجمان نے بتایا کہ ابھی تک انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پر بیل اور انسانی نطفے کا استعمال کرتے ہوئے کئی جانداروں کے تولیدی عمل کا مطالعہ کیا گیا ہے، جن میں مکھیاں، جیلی فش، مچھلی، مینڈک، مرغی کے انڈے، چوہے شامل ہیں۔

    لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ جانوروں میں تولیدی عمل کا ڈیٹا انسانی تولیدی تحقیق کے لیے ناکافی ہے۔اسی لیے کینیڈین محققیقین نے خلا میں ایک مزید منظم اور وسیع پیمانے پر انسانی جنسیات کے حوالے سے مطالعاتی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا زیرو گریویٹی یا خلا مردانہ عضو خاص کی ایستادگی پر اثر انداز ہوسکتی ہے؟

  • بلوچستان والی بال کی ٹیم نے سنسنی خیز میچ   جیت لیا

    بلوچستان والی بال کی ٹیم نے سنسنی خیز میچ جیت لیا

    کوئٹہ ِ:بلوچستان والی بال کی ٹیم نے سنسنی خیز میچ جیت لیا،اطلاعات کے مطابق نیشنل پارس اینڈکیٹل شو کےپروگرام میں پہلا شاندار میچ بلوچستان والی بال ٹیم بمقابلہ گلگت بلقستان کے مابین کیھلا گیا پہلالسیٹ جوکہ تیزی سے شروع ھوا پہلے سیٹ میں بلوچستان والی بال کی ٹیم نے سنسنی خیز میچ کیھل کر پہلا سیٹ 14 کے مقابلے میں 25 پوئنٹ سے جیت لیا

    دوسرا شاندارسیٹ والی بال میچ شروع ھوا دوسرے سیٹ میں بی بلوچستان کی والی بال ٹیم نے دباو ڈالتے ھوۓ دوسرا سیٹ بی اپنے نام کیا یہ سیٹ بلوچستان والی بال ٹیم نے19کے مقابلے میں 25 پوئنٹ سے جیت لیے اسطرح بلوچستان کے والی بال ٹیم نے یہ میچ دوسیٹ سے جیت لیا فیازعلی نے شاندارمیچ کیھلتے ھوۓ اپنے ٹیم کو برتری دلا دی کوچ محمد اکبر نے تمام کھلاڑیوں کو مبارک باد دیتے ھوۓ کہا کہ بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور انشاللہ اگے بی اسی طرح فرفام دیتے رہنگے

    اس میچ کے نیشنل ریفری شعیب احمد نے سر انجام دی اس شاندار میچ کے مہمان خصوصی ڈی جی پہنجاب جاوید چوہان تھے جنکا کھلاڑیوں سے تعارف کرایا کیا اور کھلاڑیوں کے ساتھ گروپ فوٹوبی بنائی گئی کل اشاءللہ ایک بڑا میچ سمی فائنل کے پی کے سے کیھلا جاۓگا

  • روس کے خلاف ہرصورت لڑائی جاری رکھیں اور پائیں 1ہزار ڈالر مالیت کے بٹ کوائن

    روس کے خلاف ہرصورت لڑائی جاری رکھیں اور پائیں 1ہزار ڈالر مالیت کے بٹ کوائن

    خارکیف "روس کے خلاف ہرصورت لڑائی جاری رکھیں اور پائیں 1ہزار ڈالر مالیت کے بٹ کوائن ،اطلاعات کے مطابق اس وقت روس اور یوکرین میں لڑائی شدید صورت حال اختیار کرگئی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یوکرینیوں کو روس کے خلاف لڑائی کے لیے ہمہ وقت تیار رکھنے کے لیے ایک پیکج تیار کیا گیا ، جس کے مطابق کوائن ٹیلی گراف کے مطابق یوکرین کواب تک 108 ملین ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی عطیے کی شکل میں چکی ہے، جس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

    روس یوکرین جنگ کے تناظرمیں جہاں ممالک میں کرپٹو کرنسی پرتنقید اوراس پر پابندی کی باتیں کی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب یہی کرپٹو کرنسی یوکرین کی جنگ سے تباہ حال معیشت کے لیے اہم کردارادا کررہی ہے۔امریکا کے مقبول کرپٹو ایکسچینج کراکین نے یوکرائنی شہریوں کے لیے 10 ملین ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کردیا ہے۔

    اس امدادی پیکج کے بارے میں کراکین کا کہنا ہے کہ ہم یوکرین پرروسی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ ہم نے اس کرپٹو کرنسی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ رواں مالی سال کی پہلہی ششماہی میں ٹرانزیکشن فیس کی مد میں روسی اکاؤنٹس سے حاصل کی گئی تھی۔

    یوکرینی شہریوں کی مدد کے لیے کراکین نے ایک منفرد طریقہ نکالا ہے، جس کے تحت وہ 9 مارچ سے قبل کراکین کے پلیٹ فارم پراکاؤنٹ کھولنے والے ہریوکرینی شہری کو1 ہزارڈالر کے مساوی بٹ کوائن دیے جائیں گے۔

    جب کہ ضرورت مند صارفین امداد میں ملنے والے کو بنا ایکسچینج کراکین فیس کریڈٹ کے بغیر کیش بھی کروا سکتے ہیں ۔

     

    چند دن قبل دنیا کے بڑے کرپٹوایکسچینج میں سے ایک بائنینس نے اقوام متحدہ کویوکرین میں امدادی کاموں کے لیے 25 لاکھ ڈالر مالیت کی ڈیجیتل کرنسی عطیہ کی تھی۔بائنینس کی جانب سے کیا جانے والا یہ دوسرا بڑا کرپٹو عطیہ ہے، اس سے قبل کمپنی نے جنگ زدہ ملک یوکرین کے لیے ایک کروڑ ڈالرمالیت کی کرپٹو کرنسی بھی عطیہ کی تھی۔

    یاد رہے کہ 24 فروری کے بعد سے یوکرین کوکرپٹو کرنسی میں ملنے والےعطیات کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔کرپٹوکرنسی کے حوالے سے خبریں دینے والی ویب سائٹ کوائن ٹیلی گراف کے مطابق یوکرین کواب تک 108 ملین ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی عطیے کی شکل میں چکی ہے، جس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

  • او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس، اسلام آباد میں 3 چھٹیوں کا اعلان

    او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس، اسلام آباد میں 3 چھٹیوں کا اعلان

    اسلام آباد:او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس، اسلام آباد میں 3 چھٹیوں کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کانفرنس کے لئے وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں 3 چھٹیوں کا اعلان کردیا ہے۔

    کابینہ ڈویژن نے 22 مارچ اور 24 مارچ کو عام تعطیل کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق اسلام آباد کی حدود میں 22 اور 24 مارچ کو تمام سرکاری ادارے بند رہیں گے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 23 مارچ کو یوم پاکستان کی عام تعطیل ہوگی۔

    سندھ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 23 مارچ بروز بدھ صوبے بھر میں عام تعطیل ہوگی۔

    یاد رہے کہ ’یوم پاکستان‘ پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔قرارداد پاکستان کی بنیاد پر ہی مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کیلئے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

    اسی قرار داد کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

  • پیکا آرڈیننس غیرآئینی نہیں:لاہورہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ

    پیکا آرڈیننس غیرآئینی نہیں:لاہورہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ

    لاہور:پیکا آرڈیننس غیرآئینی نہیں:لاہورہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ،اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایک اہم کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیکاایکٹ کاسیکشن20آئینی ہے،

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے یہ فیصلہ معروف کیس جس میں میشا شفیع اور علی ظفر فریق تھے کی سماعت کے دوران یہ اہم ریمارکس دیئے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئین کاآرٹیکل19جہاں آزادی اظہار کاحق دیتاہےوہیں کچھ پابندیاں بھی عائدکرتا ہےسیکشن20ایسےشحض کےخلاف کارروائی کااختیار دیتاہےجوکسی فرد کی عزت مجروح کرے پیکاایکٹ کاسیکشن20غیرآئینی نہیں

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیکا ایکٹ کا سیکشن20غیر آئینی نہیں ہتک عزت دعوی ٰ،فوجداری کارروائی ساتھ چل سکتے،میشا شفیع کے خلاف ایف آئی اے کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست جرمانہ کے ساتھ مسترد کی جاتی ہے

    یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 30 صفحات پر یہ تاریخی فیصلہ معروف کیس میں دیا ہے جس میں گلوکار علی ظفر اور گلوکارہ میشا شفیع فریق تھے

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”471693″ /]

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عدالت نے گلوکار اور اداکار علی ظفر کا ایف آئی اے میں درج کرایا گیا مقدمہ خارج کرنے کے لیے میشاء شفیع کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، خیال رہےعدالت عالیہ نے میشاء شفیع پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے درخواست خارج کردی۔

    میشا شفیع نے علی ظفر پر انہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کا الزام لگا رکھا ہے، اس حوالے سے دونوں کے درمیان عدالتی جنگ جاری ہے۔علی ظفر نے میشاء شفیع سمیت دیگر افراد کے خلاف ایف آئی اے میں مقدمہ درج کررکھا ہے۔میشا شفیع کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں یہ مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

    گلوکارہ کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی حکومت، ایف آئی اے اور علی ظفر کو فریق بنایا گیا تھا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں فریقین کا سول کورٹ میں ہتک عزت کا کیس چل رہا ہے، دیوانی مقدمہ زیر سماعت ہونےکے دوران فوجداری مقدمہ درج نہیں کرایا جاسکتا، اس لئے عدالت ایف آئی اے کو میشاء شفیع سمیت دیگر ملزمان کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں میشا شفیع کی ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کی ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج کردیں۔

    علی ظفر نے عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال کیا ہے ’’محترمہ (میشا شفیع) سے بڑی عزت سے صرف ایک سوال پوچھئے گا کہ وہ کیا حقیقت ہے جس کے نمایاں ہوجانے کے ڈر سے وہ عدالت سے اتنے سال کہتی رہیں کہ کووڈ میں کینیڈا سے عدالت نہیں آسکتیں مگر پھر کوک اسٹوڈیو کے لیے فوراً آپہنچیں اور پھر عدالت کو بتائے بغیر اپنی جرح بیچ میں چھوڑ کر واپس چلی گئیں؟‘‘

    علی ظفر نے ایک اور ٹوئٹ میں میشا شفیع سے سوال پوچھا ’’اور پھر نہایت احترام سے پوچھیے گا کہ کیا وہ میرے ہرجانے کے کیس میں جہاں ان کو ان کا موقف بیان کرنے کا پورا موقع دیا جار ہاہے، اپنی جرح مکمل کروانے کے لیے اس ہفتے کی 12 تاریخ کو عدالت آئیں گی؟ یا پھر سے نہیں آئیں گی؟‘‘۔

    واضح رہے کہ میشا شفیع سمیت دیگر نے اپنے خلاف درج ایف آئی اے کے مقدمے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ میشا شفیع نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے نے علی ظفر کی درخواست پر حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا جبکہ ایف آئی اے نے ملزمان کا موقف لیے بغیر مقدمہ درج کیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے۔

  • شہریوں کی تضحیک،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا جائے:درخواست

    شہریوں کی تضحیک،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا جائے:درخواست

    شہریوں کی تضحیک،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا جائے:درخواست
    کوئٹہ: ،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینٹر امان اللہ کنرانی نے بلوچستان ھائی کورٹ کوئٹہ میں ایک آئینی درخواست میں کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے کراچی گورنر ھاوس میں منگل کے 9 مارچ کو ایک اجتماع میں قابل اعتراض تقریر کی ہے جس میں اس نے پاکستان کے تین معزز شہریوں جناب آصف علی زرداری صاحب کو اپنی بندوق کی تیر کے پہلے نشانے پر رکھنے کی دھمکی دی جبکہ جناب شہباز شریف صاحب کو بوٹ پالشی و چڑاسی قرار دیا اسی طرح مولانا فضل الرحمن صاحب کے نام کو بگاڑ کر فضلو کے نام سے پکار کر ان سب کا تمسخر اُڑایا و پھبتیاں کسی ہیں

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جو آئین کے تحت اس کے اندر حاکمیت اللہ کی ہے اور پاکستان آئین کے آرٹیکل 2 کے تحت اسلامی ریاست قرار دیا گیا ہے اور حکومت آئین کے آرٹیکل 31 کے تحت اسلامی اقدار کی پابندی و ترویج و نفاذ کا پابند ہے وزیر اعظم ملک کا آئین کے آرٹیکل 90 کے تحت چیف ایگزیکٹو ھونے کے ناطے اور آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار و قابل مواخذہ ہے مگر اس نے منگل کے روز اپنی تقریر میں شہریوں کی تضحیک کرتے ھوئے تمسخر اُڑا کر پھبتیاں کسی ہیں اور نازیبا القابات و الفاظ ادا کئے ہیں جس کی قرآن شریف کے سورہ الحجرات کے آیت 10 کے اندر ممانعت کے واضح احکامات موجود ہیں اس کے باوجود بحیثیت مسلمان و وزیر اعظم وہ قرآن کے احکامات کی سورہ بقرہ کے آیت 284 کے تحت پابند ہے لہذا وزیراعظم نے نس قرآن و آئین کے تحفظات آریٹکل 4,9,10 A,14,سمیت آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت وفاداری و احترام ظاہر نہیں کی جس کی بنا پر وہ آئین کے آرٹیکل 62(1)d,e ,f آرٹیکل 62-b اور آرٹیکل 63 (g)کی خلاف ورزی کرتے ھوئے اپنے آئین کے آرٹیکل 91(5)جدول 3 میں درج اپنے حلف کی پاسداری کی بجائے پامالی کے مرتکب ھوئے ہیں

    لہذا وہ اب اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے اھل نہیں رہے اس لئے عدالت عالیہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کاروائ عمل میں لاتے ھوئے ان کی تقریر کو نس قرآن و آئین کے دفعات کی روشنی میں خلاف ورزی قرار دے کر آئین کے آرٹیکل کے 63-g کے تحت اختیارات کو بروئے کار لائے ان کو اس عہدے سے نااھل قرار دیکر پاکستان میں ایک نئے وزیراعظم کے انتخاب کرنے کا حکم صادر کرے

  • پارلیمنٹ لاجز،گرفتاریاں شروع، سعد رفیق زخمی،مولانا فضل الرحمان کا گرفتاری دینے کا اعلان

    پارلیمنٹ لاجز،گرفتاریاں شروع، سعد رفیق زخمی،مولانا فضل الرحمان کا گرفتاری دینے کا اعلان

    ،پارلیمنٹ لاجز،گرفتاریاں شروع، سعد رفیق زخمی
    پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کے داخل ہونے کا معاملہ خواجہ سعد رفیق کا پاوں زخمی ہوگیا ہے ،ایم این اے صلاح الدین سمیت انصار الاسلام کے 12 رضاکار گرفتارکر لئے گئے

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی گرفتاری دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ میں خود پارلیمنٹ لاجز پہنچ کر گرفتاری دوں گا مولانا فضل الرحمان نے تمام پارٹی ارکان کو پارلیمنٹ لاجز پہنچنے کی ہدایت کر دی،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج تصدیق ہوگئی کہ ہمارے ا یم این ایزکواغوا کیا جائے گا

    ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم ایاز صادق کے کمرے میں میٹنگ کررہے تھے پتہ چلا پولیس داخل ہوگئی پولیس نے کمرہ نمبر 401 کو گھیرا ہوا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کی تنظیم کے کچھ لوگوں کے وارنٹس ہیں، ہم پولیس کو سمجھا رہے ہیں لاجز میں ایسے داخل نہیں ہوسکتے،پولیس کا پارلیمنٹ لاجز میں ایسے گھسنا غیرقانونی ہے، تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں یہ لوگوں کو ڈرا رہے ہیں،

    https://twitter.com/EngMehtabAnsar/status/1501944588575019012

    آغا رفیع کا کہنا ہے کہ یہ بدمعاشی کررہے ہیں،یہ ہمیں ڈرا رہے ہیں اور مار رہے ہیں،یہ دروازے توڑ کر اندر گئے ہیں، مجھے گیٹ پر جانے سے روکا ،ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے گھروں پر حملہ خوفزدہ وزیراعظم اور سلیکٹڈ حکومت کا آخری وار ہے۔ متفقہ طور پر عدم اعتماد آ چکی ہے، عمران خان تمہارا بندوبست ہو چکا ہے۔ گھبراو نہیں گھر جانے کی تیاری کرو۔

    آغا رفیع اللہ اور فیصل کریم کنڈی نے پولیس گاڑیوں کے ٹائروں کی ہوا نکالی آغا رفیع نے پولیس کی گاڑی بند کرکے چابی نکال لی پولیس کی گاڑیاں پارلیمنٹ لاجز کے باہرموجود تھیں پارلیمنٹ لاجز کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی پارلیمنٹ کے گیٹ پر پولیس اور ایم این ایز آمنے سامنے ہیں پولیس کی گاڑیوں کو پارلیمنٹ لاجز کے گیٹ پر رو ک لیا گیا ،ایم این ایز کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے ساتھیوں کو نہیں چھوڑا جاتا انہیں جانے نہیں دیں گے، ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ایم این اے کی حفاظت اسپیکر کی ذمہ داری ہے،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس کوعمران خان کی گرتی ہوئی حکومت کاآلہ کار بننے سے پرہیز کرنا چاہیے،اس قسم کی پاگل پن پر مبنی کاروائیوں کا الزام اپنے سر لینا مناسب نہیں ،

    https://twitter.com/ArifMehmoodPAK/status/1501949080406134792

    اسلام آبا د پولیس نے پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن شروع کردیا ،پولیس نےانصارالاسلام کےرضاکاروں کی گرفتاری کی شروع کردی اسلام آباد پولیس نے انصاراسلام کے چند رضاکاروں کو حراست میں لے لیا ،35 کے قریب رضاکاراب بھی پارلیمنٹ لاجزمیں موجود ہیں

    قبل ازیں سابق صدر آصف زرداری نے پارلیمنٹ لاجز پر پولیس کشی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کٹھ پتلی وزیر اعظم اراکین پارلیمنٹ کوہراساں کررہے ہیں،صرف جے یو آئی کے ممبرنہیں تمام اسمبلی ممبران کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، پولیس آفیسر اور انتظامیہ کٹھ پتلی کے غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں اراکین اسمبلی حوصلہ بلند رکھیں ، حکومت آخری ہچکیاں لے رہی ہے

    قبل ازیں انصارالاسلام فورس کا پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہونے کا معاملہ آئی جی اسلام آباد احسن یونس نے نوٹس لے لیا، ڈی چوک پرقائم ناکہ انچارج، پارلیمنٹ لاجز کے انسپکٹر انچارج، لائن افسر معطل کر دیئے گئے، ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ افسران اور اہلکاروں کو ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا، ایس ایس پی آپریشنز معاملے کی انکوائری کریں گے، پولیس ایم این اے صلاح الدین ایوبی کے لاج میں داخل ہو گئی، ایس ایس پی آپریشن کی سربراہی میں لاجز میں چیکنگ کی جا رہی ہے، پولیس کی بھاری نفری پارلیمنٹ لاجز کے اندر اور باہر موجود ہے

    دوسری جانب وزارت داخلہ نےانسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ،اسکے بعد آئی جی اسلام آباد کی پھرتیاں سامنے آئیں اور ناکے پر موجود افسران واہلکاروں کوفوری معطل کر دیا گیا ۔اس سے قبل جب انصارالاسلام کے سیکورٹی دستے پارلیمنٹ کی طرف آئے تو انہیں نہ روکا گیا، انصار الاسلام کے رضا کاروں کی گرفتاریوں کے لئے بھاری نفری پارلیمنٹ لاجز پہنچ گئی ہے،

    جمعیت علمائے اسلام کی تنظیم انصار الاسلام فورس نے پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرلیا ہے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے فوری کارروائی کی ہدایت کر دی ہے

    https://twitter.com/ZahidKhanOnline/status/1501934850667737093

    اس حوالے سے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں کسی کو ڈنڈا بردار جتھے لانےکی اجازت نہیں ایسا کرنا بدمعاشی ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں جن کی ڈیوٹی تھی ان کیخلاف بھی کارروائی ہوگی پارلیمنٹ لاجزمیں ایسے ڈنڈا بردار جتھے برداشت نہیں کیےجائیں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ 2 ایم این ایز کی آڑ میں ڈنڈا بردار جھتہ پارلیمنٹ لاجز میں گھس گیا پولیس فورس پہنچ گئی ہے ڈنڈا بردار جتھہ برداشت نہیں کیا جائے گا اپوزیشن کونظرآگیا ہےعدم اعتمادکی تحریک ناکام ہو گی اپوزیشن تحریک کی ناکامی کی وجہ سےایسی حرکتیں کررہی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز پر جمیعت کے غنڈوں کا حملہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے، سپیکر اسمبلی نے اسلام آباد پولیس کو ان جتھوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی کا حکم دیا ہے انشاللہ قانون کے مطابق ان غنڈوں اور سہولت کاروں سے نبٹا جائیگا

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک عمل ہے۔ ہم تو پہلے کہہ رہے تھے یہ غنڈہ گردی کی جماعتیں ہیں۔ آئی جی اسلام آباد کے لئے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کس طرح اتنے لوگ پارلیمنٹ لاجز تک پہنچ گئے۔ یہ سیکورٹی لیپس ہے اس کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔

    ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پولیس نفری کے ذریعے پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کیا گیا کونسی ایسی فورس ہے جو پارلیمنٹ لاجز کی دو کمروں میں موجود ہوں،ساڑھے 3سال میں عمران خان نے کوئی حربہ نہیں چھوڑا،جنہیں گالیاں دینے کی عادت ہو ان سے کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی، لاجز سے پولیس کو فوری طور پر ہٹایا جائےاب آپ کے ممبران مہنگائی اور بے روزگاری کو ووٹ نہیں دینگے، ایم این ایز کو تنگ کیا جا رہا ہے،تم ایک مسترد شدہ انسان ہو، تم جلد کی بجائے کل ہی اجلاس بلاؤ، ملکی سالمیت اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والے کو ووٹ نہیں ملے گا،یہ مذاق بند کرو اور پولیس کو واپس بلواؤ،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ رضا کار غیر مسلح ہیں، کسی ایک بھی رضا کار کے ہاتھ میں ڈنڈا نہیں تھا،پولیس پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کر رہی ہے،ہماری جنگ اس سیاسی دہشت گردی کے خلاف ہے، ساڑھے3 سال تک ہم نے ان کے بیانات سن لیے سلیکٹڈ وزیراعظم عدم اعتماد کے ذریعے باہر جائے گا،

    عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کا داخل ہونا اسپیکر کی جانب سے اراکین اسمبلی کے گھروں کی کھلی توہین ہے ، اسپیکر کی مرضی کے بنا پولیس داخل نہیں ہو سکتی وزیر اعظم نے جارح مشیروں کی ایما پر محاذ آرائی کا ایسا سلسلہ شروع کیا ہے کہ اختتام ۱۱۱ بریگیڈ ہی کرے گی (واللہ اعلم)

    دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں انصار الاسلام فورس سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ملکی سلامتی کے اداروں ، پولیس اور دیگراداروں کی سیکورٹی پریقین نہیں رکھتے وہ پی ٹی آئی کےکنٹرول میں ہے بدنیتی اور برے ارادے کی تقویت نہیں ہونے دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی کسی بڑے جلسے میں پولیس پر انحصار نہیں کیا یہ حکومت بدنیتی ہے ہمارے اراکین کیخلاف کچھ کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی ہلچل میں تمام سیاسی جماعتیں رابطے میں ہیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشاورت کا عمل جاری ہے مختلف سوچ کو تقویت دینے کیلئے ملاقاتوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی سلسلے میں ایم کیوایم قیادت بھی تشریف لائی اورمشاورت کی گئی۔

    انصار الاسلام کے ایک رضاکار نے بتایا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ ایم این ایز کو اغوا کر کے انھیں حبس بے جا میں رکھا جا سکتا ہے۔رضاکاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت ہے تو امکان ہے کہ ادارے بھی ان کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں، اسی خدشے کے پیش نظر ہم ایم این ایز کو تحفظ دینے آئے ہیں۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے باغی ٹی وی شدت پسند تنظیم کے خطرناک ارادوں کے بارے میں پہلے ہی انکشاف کرچکا ہے ، باغی ٹی وی نے یہ خبرکچھ دیر پہلے دی تھی کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام نے پارلیمنٹ لاجز کے اندر کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    اس حوالے سے معتبرذرائع سے معلوم ہوا ہےکہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں وزیراعظم عمران خان پر دباو ڈال کراستعفیٰ لیا جائے گا اوریہ شدت پسند گروہ اس وقت تک پارلیمنٹ لاجز سے باہر نہیں نکلے گا جب تک عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے ، یہ بھی امکان ہے کہ اس دوران حکومتی اراکین کو یرغمال بنایا جائے اور پھرمعاملے کو کوئی دوسری شکل دے کرحکومت پر دباوبڑھایا جائے

    تفصیلات کے مطابق حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد پر پیش رفت جاری ہے اور اسی سلسلہ میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام پارلیمنٹ لاجز کے باہر پہنچی جہاں پر اپوزیشن کے ممبران کو بھرپور سکیورٹی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر سکیورٹی پر عملدرآمد شروع ہوگا، انصار الاسلام کے رضا کاروں نے پارلیمنٹ لاجز کے باہر مختصر ریہرسل بھی کی۔بعدازاں انصارالاسلام کے رضا کاروں نے پارلیمنٹ لاجز کے اندر کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا کہ عدم اعتماد کی کامیابی تک لاجز میں رہیں گے۔

    ذرائع کے مطابق انصار الاسلام کا قیام اسی وقت عمل میں آیا تھا جب جمعیت علمائے اسلام معرض وجود میں آئی۔انصار الاسلام میں شامل افراد کی تعداد ملک بھر میں 80 ہزار کے لگ بھگ ہے اور اس میں شامل افراد نے قانون نافد کرنے والے اداروں کا مقابلہ کرنے کے لیے پشاور میں مشقیں بھی کی ہیں۔