Baaghi TV

Author: +9251

  • اللہ کی رحمت سےسب فتنےاورسازشیں دم توڑنے والی ہیں:فواد چوہدری

    اللہ کی رحمت سےسب فتنےاورسازشیں دم توڑنے والی ہیں:فواد چوہدری

    اسلام آباد :نوازشریف اورمغرب نوازوں کووزیراعظم کے یورپ والے بیان سے تکلیف ہورہی ہے:سب سازشیں دم توڑنے والی ہیں :اطلاعات کے مطابق فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں منظم طریقے سے اداروں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔اور اس میں وہ لوگ شامل جن کی ہمدردیاں،محبتیں‌ اوروفائیں یورپ اور امریکہ کے ساتھ ہیں

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کے لوگ اپنے مفاد کی اصلاحات چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہہ چکے ہیں، وہ پراعتماد ہیں، آج ہارے ہوئے پہلوانوں کی پریس کانفرنسز ہوئیں، آج بنی گالا میں اجلاس ہوا۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ماضی میں میمو گیٹ اسکینڈل سے پردہ کیسے ہٹایا گیا؟ ملک میں منظم منصوبے سے اداروں کے خلاف سازش ہورہی ہے، اپوزیشن والے اداروں پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہیں جب بھی موقع ملا انہوں نے اداروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی، بھارتی صحافی نے اپنی کتاب میں نوازشریف اورمودی کی خفیہ ملاقات کا ذکر کیا، مود ی کو پاکستان بلایا گیا اور وہ بغیر ویزے آئے تقریب میں شرکت کی۔

    انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے دفتر خارجہ کو ہدایت دی تھی کہ بھارت کے خلاف بات نہیں کرنی، دفتر خارجہ کی سابق ترجمان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی ہدایت تھی کہ مقبوضہ کشمیر پر بھی بات نہیں کرنی۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ڈان لیکس نواز شریف کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، عدم اعتماد کی تحریک میں انہوں نے مغرب پر تنقید کی بات کی، حیرت ہے مغرب پر تنقید سے ان کو کیا تکلیف ہوتی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حمزہ شہباز کوبھی آج یہ گلہ تھا وزیراعظم مغرب پر تنقید کیوں کررہے ہیں، جن لوگو ں نے مغرب میں چوری کا پیسہ رکھا ہے ان کے کہنےپر خارجہ پالیسی بنانی ہے؟انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ سمیت یورپی یونین سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، ہم تمام ممالک سے تجارتی تعلقات چاہتے ہیں مگر اپنی عزت نفس پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ 21 اور 22 مارچ کو اسلامی ممالک کےوزرا ئےخارجہ آرہے ہیں، چاہتے ہیں تمام سیاسی ڈرامے جلد سے جلد ختم کریں، ہمیں اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے، مزید آج شامل ہوجائیں گے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اجلاس سے متعلق فیصلہ تو اسپیکر قومی اسمبلی نے کرنا ہے، فلور کراسنگ پر رکن کے خلاف کارروائی کا اختیار پارٹی رہنما کو ہے۔

  • اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو؟ صدرعارف علوی کوبھی نہیں رہنےدیں گے:اپوزیشن کاحکومت کےاعصاب پرحملہ

    اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو؟ صدرعارف علوی کوبھی نہیں رہنےدیں گے:اپوزیشن کاحکومت کےاعصاب پرحملہ

    اسلام آباد :اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توصدرعارف علوی کو بھی نہیں رہنے دیں گے:اپوزیشن کا حکومت کے اعصاب پرحملہ ،اطلاعات کے مطابق اس وقت متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے اعصاب کو کمزور کرنے کے لیے ایک نیا محاذ کھولنے کا اعلان کرکے مشکل میں ڈالنے کا منصوبہ بنایا ہے ،

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی فضا کو موثر کرنے کےلیے ایک اور اعصاب شکن چال چلنے کا فیصلہ کیا ہےجس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد صدر عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک لانےکا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فوری بعد صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی جائے گی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ نئے صدر کے امیدوار کے لیے آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان پر مشتمل 2 رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اپوزیشن میں طے ہو گیا ہے کہ صدر پیپلز پارٹی یا جے یو آئی ف میں سے ہو گا، نیا صدر عارف علوی کی باقی مدت پوری کرے گا۔

    اس حوالے سے جب اپوزیشن کے اس فیصلے کے متعلق معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ بیانات حکومت کے خلاف اس کھیل کا حصہ ہیں جس کا مقصد ارکان اسمبلی کویہ تاثر دینے کی کوشش ہے کہ حکومت جارہی ہے،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ مریم نواز کے مشورے کے ساتھ کیا گیا جسے آصف علی ز رداری نے پسند کیا اور پھریہ پتہ کھیلنے کا بھی فیصلہ کیا ، جبکہ دوسری طرف حکومتی ردعمل کچھ اور ہی کیفیت بتا رہا ہے ، اس حوالے سے لاہور میں آج بہت سےمعاملات حل ہوگئے ہیں اور عمران‌خان اپوزیشن کی چالوں کوشکست دینے کے لیے بڑے پُرعزم نظرآتے ہیں

    ادھر اہم ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جس طرح اپوزیشن کی طرف سے حقائق میڈیا پربڑی منصوبہ بندی سے پیش کیے جارہےہیں ،ان کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ، شاید یہی وجہ ہےکہ عمران خان ے چند دن پہلے اسی بارے میں کہا تھا کہ یہ جنگ مائنڈ کی ہے جو اس پراپیگنڈے کا حل نکال لے گا وہ کامیاب ہوگا

  • کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    برسلز: کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق اراکین یورپی پارلیمنٹ نے کشمیری رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے 21 ممبران نے بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی سمیت بھارتی اعلیٰ حکام کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بے گناہ حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے۔اراکین یورپی پارلیمنٹ کا خط میں کہنا تھا کہ خرم پرویز اور دیگر اسیران کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ آئندہ یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس سنگین صورتحال پربحث کرنے کی درخواست کریں گے کہ نئی دہلی یو این جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی مکمل پاسداری کرے۔

    واضح رہے کہ کشمیری کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی کارکن خرم پرویز اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کی رہائی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔

    دوسری جانب علی رضا سید نے یورپی پارلیمنٹ کے 21 ارکان کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ بھارتی حکام کو لکھے گئے کھلے خط کو بھی سراہا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے طلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

  • اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    نیویارک: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:اطلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی طرف کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اپنے مکینوں کے لیے جہنم بن چکا ہے جہاں بھارتی حکومت نے کشمیریوں سے ان کے تمام بنیادی حقوق حتی کہ زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔الطاف وانی نے کہاکہ وہ گزشتہ تیس برس سے انسانی حقو ق کونسل اور اس سے قبل کمیشن برائے انسانی حقوق میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں پر مظالم 2018اور 2019میںعالمی اداے نے اس وقت کچھ توجہ مبذول کی جب انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں دو رپورٹیںجاری کی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری مساوات اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔الطاف وانی نے کہاکہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی گزشتہ 33 بر س سے نہتے کشمیریوں کے خلاف برسر پیکار ہیں تاہم انسانی حقوق کونسل نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،جس سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن آف انکوائری تشکیل دے ۔

  • روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    واشنگٹن : روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے یہ کہہ کرخطرے کی گھنٹیاں بجادیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام کی اعانت کرتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین، یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ’روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔‘ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے اس دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اب جب کہ روس نے یہ جھوٹے دعوے کیے ہیں، ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کرے، یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کرے گا۔‘ چھ مارچ کو ماسکو کی وزارت خارجہ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ روسی افواج کو شواہد ملے ہیں کہ یوکرین کی حکومت فوج کی جانب سے چلائے گئے حیاتیاتی پروگرام کے نشانات کو مٹا رہے ہیں جس کی مالی اعانت مبینہ طور پر امریکہ نے فراہم کی تھی۔ نیڈ پرائس نے کہا کہ ’یہ روسی غلط معلومات سراسر احمقانہ ہیں۔‘

    ادھر غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہےدوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی کہا ہے کہ ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے-

    دریں اثناء امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پیوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب دنیا کی توجہ جمعرات کو ترکی کے جنوبی قصبے انطالیہ میں ہونے والی ایک میٹنگ پر مرکوز ہے جس میں ترکی، یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ مشرقی یورپ میں جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کریں گے اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ روس اور یوکرین کے ساتھ سمندری سرحد کا اشتراک کرتے ہوئے ترکی نے طویل عرصے سے نیٹو کے لیے اپنی اہمیت کو بڑھا کر اور ساتھ ہی روس کی مخالفت نہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار اور متوازن ثالث کے طور پر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ استنبول ثالثی کانفرنس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے یوکرینی ہم منصب دمتری کولیبا کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات 24 فروری کو یوکرین میں روسی مداخلت کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی

  • پنجاب کے وزیراعلٰی کون ہوں گے:اہم نام سامنےآگیا

    پنجاب کے وزیراعلٰی کون ہوں گے:اہم نام سامنےآگیا

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ریاست کے لوگوں کو پارٹی کی پنجاب میں زبردست جیت کی طرف مارچ کرنے پر مبارکباد دی ہے پنجاب کے لوگوں کو اس انقلاب کے لیے بہت بہت مبارک ہو۔

    ساتھ ہی یہ خبریں گردش کرنی شروع ہوگئی ہیں کہ نتائج کی بنیاد پر پنجاب کے اگلے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال ہوں گے

    کیجریوال نے پنجاب میں پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے چہرے بھگونت مان کے ساتھ اپنی تصویر ٹویٹ کی۔پنجاب اسمبلی کے تازہ ترین رجحانات کے مطابق عآپ ریاست کی کل 117 سیٹوں میں سے 90 پر آگے ہے، جب کہ حکمراں کانگریس پارٹی ریاست میں 18 سیٹوں پر آگے ہے۔

    دریں اثنا پنجاب اسمبلی انتخابات کے رجحانات سے پرجوش عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سینیئر رہنما اور دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے جمعرات کو کہا کہ پنجاب کے عوام نےدہلی حکومت کے ’ کیجریوال ماڈل‘ کو قبول کیا ہے

    سسودیا نے پنجاب اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رجحانات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام نے گورننس کے ’کجریوال ماڈل‘ کوایک موقع دیا ہے انہوں نے کہا، ’آج یہ ماڈل قومی سطح پر قائم ہو چکا ہے۔ یہ عام آدمی کی جیت ہے‘۔

    پنجاب اسمبلی کے تازہ ترین رجحانات کے مطابق، عام آدمی پارٹی ریاست کی کل 117 نشستوں میں سے 87 پر سبقت قائم کیے ہوئے ہے جبکہ برسراقتدار کانگریس پارٹی ریاست میں 14 نشستوں پر آگے ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی چار، شرومنی اکالی دل نو، بہوجن سماج پارٹی دو اور ایک سیٹ پر آزاد امیدوار آگے چل رہا ہے۔

    اس بیچ پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے ریاستی اسمبلی میں شاندار بھاری اکثریت حاصل کرنے پر عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کو مبارکباد دی ہے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں مسٹر سدھو نے کہا کہ عوام کی مرضی خدا کی مرضی ہے انھیں عاجزی سے عوام کا مینڈیٹ قبول ہے

    انہوں نے کہا، ’عوام کی آواز خدا کی آواز ہے پنجاب کے مینڈیٹ پر سرِ تسلیم، خَم۔ اے اے پی کو مبارکباد پنجاب اسمبلی کے تازہ ترین رجحانات کے مطابق اے اے پی ریاست کی کل 117 سیٹوں میں سے 90 پر آگے ہے، جب کہ برسراقتدار کانگریس پارٹی ریاست میں 18 سیٹوں پر سبقت قائم کیے ہوئے ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی دو، شرومنی اکالی دل چھ اور ایک اسمبلی حلقے میں آزاد امیدوار آگے ہے۔

    بھارت انتخابات: ملک کی پانچ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ سب کی نظریں نتائج پر مرکوز ہیں۔اتر پردیش میں ایک بار پھر بی جے پی کی راہ صاف نظر آرہی ہے۔ وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی جوڑی ایک بار پھر کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے۔ رجحانات بی جے پی نے 250 سیٹیں عبور کر لی ہیں، جو 202 کے اکثریتی اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہے

    سماجوادی پارٹی کی تعداد بھی 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ نمبر تین پارٹی بی ایس پی بھی دوہرا ہندسہ عبور نہیں کر پائی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور سے آگے ہیں اور اکھلیش یادو کرہل سے آگے ہیں۔ لیکن، کاشی وشواناتھ سیٹ سے بی جے پی امیدوار نیل کانتھ تیواری پیچھے ہیں۔

    ان اسمبلی انتخابات کو 2024 کے عام انتخابات کا سیمی فائنل کہا جا رہا تھا اور اس لحاظ سے ریاست یو پی سب سے اہم ہے جہاں سے پارلیمان کے 80 اراکین منتخب ہو کر آتے ہیں۔ ریاست میں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھر سے حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔ یو پی ریاستی اسمبلی کی کل 403 سیٹیں ہیں اور اکثریت کے لیے 202 کی ضرورت ہوتی ہے۔ ووٹو کی اب تک کی گنتی کے مطابق بی جے پی کو ڈھائی سو سے زیادہ نشستوں پر سبقت حاصل ہے اور وہ واضح اکثریت کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    ریاست میں اس کی مخالف جماعت سماج وادی پارٹی کو سو سے زیادہ سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور اس نے پہلے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم اب یہ بات تقریبا ًواضح ہو چکی ہے کہ ریاست کی کمان یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھ میں ہی رہے گی۔ اکھیلیش یادو کی جماعت سماج وادی پارٹی اقتدار سے کافی دور ہے۔

    ایک سال سے کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے خبروں میں رہنے والا پنجاب انتخابی دہلیز کو عبور کر چکا ہے۔عام آدمی پارٹی پنجاب میں بھی دہلی کی کامیابی کو دہرا رہی ہے۔ پارٹی اکثریت کا ہندسہ بھی عبور کر چکی ہے۔ دوسرے نمبر کے لیے کانگریس اور اکالی دل کے درمیان مقابلہ ہے، لیکن دونوں مل کر بھی عآپ کے آس پاس نہیں پہنچ رہے ہیں

    ریاست پنجاب میں کانگریس پارٹی کی حکومت تھی، جسے اروندکیجریو ال کی جماعت عام آدمی پارٹی شکست فاش دیتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ 117 رکنی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کو 88 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور وہ واضح اکثریت کی جانب رواں ہے۔ حکمراں کانگریس پارٹی کو پنجاب میں 117 میں سے صرف 15 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور دیگر تمام جماعتیں بہت پیچھے ہیں۔

    بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف مہم چلانے والوں کی جماعت عام آدمی پارٹی پہلی بار دہلی سے باہر کسی دوسری ریاست میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے اور یہ ایک طرح سے ریاست پنجاب میں ایک نیا انقلاب ہے۔ رائے دہندگان نے پنجاب میں کانگریس، اکالی دل اور بی جے پی جیسی تمام دیگر سیاسی جماعتوں کو تقریباً یکسر مسترد کر دیاہے۔

    گوا میں بی جے پی 18 سیٹوں پر آگے ہے۔ کانگریس 11 سیٹوں پر آگے ہے جبکہ ایم جی پی + 4 سیٹوں پر آگے ہے۔ عام آدمی پارٹی 2 اور دیگر 5 سیٹوں پر آگے ہے۔ سی ایم پرمود ساونت سنکلم سے 604 ووٹوں سے آگے ہیں۔ دوسرے راؤنڈ کے بعد ڈپٹی سی ایم چندرکانت کاولیکر کوئپام سیٹ سے 1422 ووٹوں سے پیچھے ہیں۔ اتراکھنڈ اور منی پور میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

    بی جے پی اب 44 سیٹوں پر آگے ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی ریاست میں لگاتار دو بار حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہونے کے افسانے کو توڑ رہی ہے۔ ریاست میں کانگریس کی برتری اب 22 سیٹوں پر رہ گئی ہے، جب کہ دیگر چار سیٹوں پر آگے ہیں۔ AAP، جس نے پہلی بار تمام 70 سیٹوں پر مقابلہ کیا، اب کسی بھی سیٹ پر آگے نہیں ہے۔ ۔

    یہاں کی 60 سیٹوں میں سے حکمراں بی جے پی اب 25 سیٹوں پر آگے ہے، جب کہ کانگریس 11 سیٹوں پر آگے ہے۔ مقامی جماعتوں این پی پی اور این پی ایف نے کانگریس اور بی جے پی کو سخت ٹکر دی ہے جنہوں نے 2002 سے 2017 تک ریاست میں حکومت بنائی تھی۔ رجحان میں، این پی پی 12 سیٹوں پر، این پی ایف 3 سیٹوں پر اور دیگر 8 سیٹوں پر آگے ہے۔

  • اپوزیش کےدعووں کےایک ہی دن بعد ارکان کی حمایت 202 سےکم ہوکر179 پرآگئی:خورشید شاہ کااعتراف

    اپوزیش کےدعووں کےایک ہی دن بعد ارکان کی حمایت 202 سےکم ہوکر179 پرآگئی:خورشید شاہ کااعتراف

    اسلام آباد :اپوزیش کےدعووں کےایک ہی دن بعد ارکان کی حمایت 202 سےکم ہوکر179 پرآگئی:خورشید شاہ کااعتراف،اطلاعات کے مطابق جس طرح عدم اعتماد کا وقت قریب سے قریب ترآرہا ہے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اعصابی جنگ بھی شدید سے شید تر ہورہی ہے ، اپوزیشن جس کا کل یہ دعویٰ تھاکہ اسے عدم اعتماد کے لیے 202 ارکان کی حمایت حاصل ہے صرف ایک دن کے بعد یہ تعداد 179 رہ گئی ہے جس کا اعتراف پی پی رہنما خورشید نے ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کیا

    ذرائع کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں اتحادیوں کے بغیر ہی 179 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔جو کہ کل 202 بتائی جارہی تھی
    دوسری جانب انہوں نے کہا کہ اگرحکومت کو اپنے نمبرز پورے ہونے پر اتنا اعتماد ہے تو کل ہی اجلاس بلالے۔

    اس سے قبل پروگرام جرگہ میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے 172 ارکان چاہیے تھے ، یہ نمبر نہ صرف پورے کر چکے ہیں ، بلکہ اس سے اوپر جا چکے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا کہ ایم کیو ایم، ق لیگ، جی ڈی اے اور بی اے پی سے ہمارے مثبت رابطے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے زیادہ تر تقاضے سندھ سے وابستہ ہیں جس پر پیپلز پارٹی کے کردار کی ضرورت ہے، پیپلز پارٹی سے ایم کیو ایم کے بارے میں بات ہوئی ۔ اب پیپلز پارٹی ان تقاضوں میں رکاوٹ نہیں رہی

     

     

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ تحریک عدم اعتماد تو ناکام ہی ہونی ہے اور یہ ممکن ہے اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے لے- تحریک عدم اعتماد کے ڑراپ سین کا وقت آنے ہی والا ہے- ہمارے ایم این ایز کو آفرز کے حوالے سے وزیراعظم کو تمام معلومات ہیں- اپوزیشن کی ناکامی یقینی ہو چکی ہے- اگلے 48گھنٹوں میں بڑی خبر آجائے گی۔ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کا حکومت سے اتفاق ہوجائے گا۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے گی۔

    وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ ملک کواس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ہمارے پاس اس وقت 184ممبران کی تعداد موجود ہے، اپوزیشن ہمت اورجرات کا مظاہرہ کرکے پہلے میڈیا میں ہی شو کر دیں، ہم اور میڈیا بھی ان کے ممبران کی تعداد کو دیکھ لیں گے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کل ہمارے رکن قومی اسمبلی نے بتایا مجھے 10 کروڑ تک آفر کی گئی، بیوپاریوں کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں، اپوزیشن سے الیکٹرول ریفارمز پربات کرنے کی پوری کوشش کی، اب ان سے الیکشن اصلاحات پر کوئی بات نہیں ہو گی۔وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے وقار کا کبھی سودا نہیں کرسکتے، ان شااللہ عمران خان مزید مضبوط ہوکر اس سازش سے باہر نکلیں گے۔
    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگلا الیکشن پی ٹی آئی، ن لیگ کے درمیان ہونا ہے، سندھ کا این ایف سی کا پیسہ ننھے منے مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے لگایا گیا، سپیکرصاحب سے گزارش کررہے ہیں عدم اعتماد کو لمبا کرنے کے بجائے جلد اجلاس بلایا جائے۔ نواز شریف، زرداری کا ایک ہی ماڈل پیسے لگاؤ اور اقتدار میں آ کر لوٹو، یہ ماڈل سابق وزیراعظم اور سابق صدر نے سیاست میں متعارف کرایا۔

    فواد چودھری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پہلے بے نظیرسے ڈیزل کے پرمٹ لیے، بیرونی طاقتوں سے مولانا نے ڈائریکٹ پیسے لینا شروع کیے تھے، ندیم افضل چن کو کہا پیپلزپارٹی میں جانے سے بہتر راہول گاندھی کی کانگرس پارٹی جوائن کر لو، کوئی آدمی پیپلزپارٹی کا ٹکٹ لینے کوتیارنہیں۔

    انہوں نے کہا کہ لیگی صدر کہتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے یورپی یونین کو برا کہا، کیا یورپی یونین شہبازشریف کی ’’پھوپھی‘‘ لگتی ہیں، شہبازشریف کو خارجہ پالیسی کا پتا ہی نہیں، وکی لیکس کے مطابق یہ تو امریکیوں کوکہتے تھے ڈرون حملے کرتے جاؤ، یہ بے شرم لوگ ہیں۔

  • پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    واشنگٹن :پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:اطلاعات کے مطابق امریکہ نے یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے فراہم کی پولینڈ کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کا کہنا ہے کہ سوویت دور کے طیاروں کو جرمنی میں امریکی اڈے کے ذریعے کیف منتقل کرنے کی پولینڈ کی تجویز ناقابلِ عمل ہے۔اس تجویز نے پورے نیٹو اتحاد کے لیے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے۔

    اس تناظر میں پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ ہم اس مسئلے اور اس سے پیش آنے والے مشکل لاجسٹک چیلنجز کے بارے میں پولینڈ اور اپنے دیگر نیٹو اتحادیوں سے مشاورت جاری رکھیں گے، لیکن ہمیں یقین نہیں ہے کہ پولینڈ کی تجویز قابل عمل ہے۔ یہ صرف ہمارے لیے واضح نہیں ہے کہ اس کے لیے کوئی ٹھوس دلیل موجود ہے۔

    دوسری جانب روس نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین کی فضائیہ کی حمایت کو ماسکو میں تنازعہ میں حصہ لینے اور سپلائی کرنے والوں کو ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    اس حوالے سے برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے کہا تھا کہ اس طرح ہم پولینڈ کی حفاظت کریں گے، ہم ان کی ہر اس چیز میں مدد کریں گے جس کی انہیں ضرورت ہے۔پولینڈ کے وزیر اعظم میٹیوز موراویکی نے کہا کہ جارحانہ ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ نیٹو کے ارکان کو متفقہ طور پر کرنا چاہیے۔

    یاد رہے، یوکرین کی فضائیہ کا بیڑا پرانے سوویت دور کے مگ 25 اور سکوئی 27 جیٹ طیاروں، اور اس سے زیادہ بھاری سکوئی 25 جیٹ طیاروں پر مشتمل ہے اور یہ وہ واحد طیارے ہیں جو یوکرین کے پائلٹ بغیر کسی اضافی تربیت کے فوری طور پر اڑ سکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں، امریکی فوج نے اعلان کیا کہ وہ امریکی اور اتحادی افواج اور نیٹو کی سرزمین کے لیے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دو پیٹریاٹ میزائل کی بیٹریاں پولینڈ میں نصب کرے گی۔

  • وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا

    وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کا آج کا دورہ لاہوربہت اہمیت اختیار کرگیا ،اطلاعات کے مطابق ملک سیاسی محاذ آرائی بڑھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اہم مشن پر لاہور تشریف لا رہے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا کل دورہ لاہور متوقع ہے، وفاقی وزراء بھی ہمراہ ہوں گے، جہاں وہ گورنر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی سے بھی ملیں گے، وزیراعظم عدم اعتماد سے متعلق اراکین اور پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی امور پر اہم اجلاس ہو گا، پنجاب میں سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے آج کراچی میں مصروف دن گزارا، جہاں ایم کیو ایم مرکز پہنچنے کے بعد متحدہ رہنماؤں سے ملاقات بھی کی، جبکہ گورنر ہاؤس میں تقریب سے خطاب کے بعد سندھ مشاورتی کمیٹی اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات بھی کی۔

    سندھ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے عمران خان کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، جو پی ٹی آئی والا دھوکہ دے گا اسے دیکھ لیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، کچھ نہیں ہوگا، یہ سازش بھی بے نقاب ہوجائے گی۔ مجھے دیکھ کر آپ لوگوں کو لگ رہا ہے کہ میں گھبرایا ہوا ہوں؟ عدم اعتماد میں اِن چوروں کا ساتھ ان کے اپنے لوگ بھی نہیں دیں گے۔ ایک بار یہ سب ختم ہو جائے، اِن سب کو دیکھ لوں گا۔

  • امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    واشنگٹن :امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملےکے تناظر میں نیٹو رکن ملک پولینڈ میں پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کردیا۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکا نے میزائل اور جنگی طیاروں کے حملوں کے خلاف دفاع کرنے والے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی2 بیٹریوں کو پولینڈ میں نصب کیا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے سینیئر اہلکار کے مطابق امریکا کا یہ اقدام نیٹو کے رکن ملک کے دفاع کے حوالے سےکیےگئے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے۔

    پینٹاگون کے سینیئر اہلکار کے مطابق پیٹریاٹ میزائل کی یہ دو بیٹریاں جرمنی میں نصب تھیں تاہم یوکرین کے ہمسایہ ملک پولینڈ کی درخواست پر انہیں وہاں تعینات کیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکومت نے یہ اقدام نیٹو رکن پولینڈ کے دفاع کے لیے اٹھایا ہے جو کہ اس بات کے خطرے کو ظاہرکرتا ہےکہ کہیں روس کا میزائل جان بوجھ کر یا غلطی سے یوکرین کی سرحد پار کرکے پولینڈ کو نشانہ نہ بناڈالے۔

    دوسری طرف یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی نے ایک بار پھر مغربی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگی طیاروں کی فراہمی سے متعلق جلد فیصلہ کرلیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق ولودومیر زیلینسکی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ ’کب فیصلہ کریں گے؟ ہم حالت جنگ میں ہیں، ہم پھر آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذرا جلدی فیصلہ کرلیں، ہمیں جنگی طیارے بھیجیں۔‘

    خیال رہے کہ یوکرین کے پڑوسی اور نیٹو کے رکن ملک پولینڈ نے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا چاہے تو وہ جرمنی میں امریکی فضائی اڈے کے ذریعے اپنے روسی ساختہ مگ 29 لڑاکا طیارے یوکرین بھیج سکتا ہے۔

    تاہم گزشتہ روز امریکا نے پولینڈ کی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔ اس معاملے پر زیلینسکی نے کہا کہ ’ہمیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہواکہ امریکی و پولش حکام کے درمیان اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہےلیکن ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولینڈ کی پیشکش کی حمایت نہیں کی گئی۔‘زیلینسکی نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس وقت نہیں ہے، یہ پنگ پانگ کا کھیل نہیں ہو رہا ، انسانی جانیں داؤ پر لگی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ امریکی و نیٹو ائیربیس سے جنگی طیاروں کا اڑنا اور ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونا جو روس سے نبردآزما ہے یہ پورے نیٹو کیلئے سنگین خدشات پیدا کرسکتا ہے، ہمارے خیال میں پولینڈ کی تجویز قابل عمل نہیں۔