Baaghi TV

Author: +9251

  • ریاست مدینہ کا نام لیکر اس قدر جھوٹ عمران خان ہی بول سکتا ہے۔ سلیم صافی

    ریاست مدینہ کا نام لیکر اس قدر جھوٹ عمران خان ہی بول سکتا ہے۔ سلیم صافی

    اسلام آباد:عمران خان کا ڈرون حملوں کے خلاف بیان جھوٹ ہے:سلیم صافی بھی عمران خان کے بیانات پربیان دینے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ،اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے ڈرون حملوں سے متعلق بیان پرمعروف صحافی سلیم صافی نے ٹویٹ کراپنا موقف پیش کردیا ہے

     

    سلیم صافی کہتے ہیں کہ اکتوبر2001 میں مشرف نےامریکہ کواڈے اورراستہ دیا۔عمران خان 2002 کےانتخابات تک انکےساتھ تھے۔امریکہ سےاتحاد کےخلاف پہلےدن سے احتجاج ایم ایم اےنےکیا۔

    سلیم صافی نے مزید کہا کہ ڈرون حملوں کےخلاف پہلاجلوس اے این پی نے چکدرہ سے باجوڑ تک نکالاتھا۔ ریاست مدینہ کا نام لے کر اس قدر جھوٹ صرف عمران خان ہی بول سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان میں ڈرون حملوں کے حوالے سے پچھلے کئی سالوں سے یہ موقف اپنا رہے تھے کہ پاکستان پرڈرون حملے پاکستان کی غیرت پرحملے ہیں اور بند ہونے چاہیں ، ان کی گفتگواکثر وبیشتر اسی موضوع پرہورہی ہے ، جس کے جواب میں سلیم صافی نے اپوزیشن سے عمران خان کے سوالات کا جواب دیا ہے

     

     

    یہ بھی یاد رہے کہ ایم ایم اے نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور ایک طرف اقتدار کے مزے لیئے تھے

    یاد رہے کہ وفاقی وزیرفرخ حبیب نے پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے بارے میں ایک ٹویٹ کی تھی جس میں نوازشریف اور زرداری کے دورحکومت میں ہونے والے ڈرون حملوں کی تعداد بتائی گئی ہے

  • وزیراعظم کوگفتگوکرتےوقت تحمل اورحکمت عملی سےکام لیناچاہیے،جارحانہ اندازاچھا نہیں‌:مبشرلقمان

    وزیراعظم کوگفتگوکرتےوقت تحمل اورحکمت عملی سےکام لیناچاہیے،جارحانہ اندازاچھا نہیں‌:مبشرلقمان

    لاہور:وزیراعظم کوگفتگوکرتےوقت تحمل اورحکمت عملی سےکام لیناچاہیے،جارحانہ اندازاچھا نہیں‌:اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی مبشرلقمان جو وزیراعظم کے ان دوستوں میں سے ایک ہیں جن کو وزیراعظم کی دوستی اور وزیراعظم کی صاف شفاف شخصیت پر فخرہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سچ اور حقیقت بیان کرنے کا وقت آتا ہے تو مبشرلقمان دوستیوں اور تعلقات کی پرواہ نہیں کرتے

     

    شاید یہی وجہ ہے کہ مبشرلقمان جو کہ وزیراعظم عمران خان پرتنقید کے ساتھ ساتھ اچھائی کا پہلو بھی بیان کرتے ہیں وزیراعظم کی طرف سے پاکستان میں موجودہ جارحانہ رویے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انداز کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ،یہ بھی کہا ہے کہ اپنی غلطی مان لینے میں ہی بہتری ہے ،

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پچھلے چند دنوں سے جو ملک کے اندر سیاسی رسہ کشی جاری ہے اس میں‌ وزیراعظم کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا ، وہ کہتے ہیں کہ یہ رویہ بہت غیر صحت مند اور خوفناک ہے۔ ملک کے لیے شدید بدامنی کا باعث بن سکتا ہے۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میری وزیراعظم سے عرض ہے کہ اپوزیشن کے جارحانہ انداز میں دھیما پن اپنائیں اور اپنی ذمہ داری ادا کریں‌

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھےمعلوم نہیں کہ وزیراعظم کے دماغ میں کیا گزرا ہے۔ میرے ساتھیوں اور میں نے برسوں تک کتپان کا ساتھ دیا اور دے رہے ہیں لیکن ان کا یہ موجودہ رویہ اچھا نہیں لگا احتیاط برتنی چاہیے تھی

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا ، سُن رہا ہوں کہ بیان کے جواب میں بیان اور وہ بھی جارحانہ انداز، ان کا کہنا تھا کہ دلیل اپنی جگہ لیکن حکمت کے فوائد بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وزیراعطم ذمہ داری کا مظآرہ کریں‌

     

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا دور ہے بیان کو غلط رنگ دے کر بار بار شیئرکیا جائے توپھرسننے والا بھی متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، ا سلیے کوشش کریں کہ پہلے تولیں پھر بولیں اور اسی میں ہی بھلائی ہے

  • حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں:کنول شوزیب

    حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں:کنول شوزیب

    لاہور:حامد میر:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:آپ وہ ہیں کہ جس کی شرسے لوگ ڈرکراس کی عزت کرتے ہیں : شوزیب:خیرآپ کے مقدرمیں ہی نہیں:ایم این اے کنول شوزیب نے حامد میر کی شرارتوں سے تنگ آکران شرانگیزیوں سے محفوظ رہنے کے لیے ایسی بات کہہ دی کہ اب حامد میر کے پاس سوائے معافی کے کوئی راستہ ہی نہیں بچا

    اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا سمیت دیگرچینلزپرپی ٹی آئی ایم این اے کنول شوزیب کے خلاف جاری مہم کے پیچھے سازش کرنے والوں کا پتہ لگ چکا ہے اور اب تو وہ چہرے کھل کرسامنے آگئے ہیں کہ جن کے بارے میں ہرزبان سے یہ الفاظ سننے کو مل رہے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے کہ لوگ اس کی شر سے بچنے کےلیے اس کوسلام کرتے ہیں

     

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کی خاتون ایم این اے کنول شوزیب بڑے دکھ کے ساتھ کہتی ہیں کہ حامد میراگرآپ کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز ہوتی تو آپ پہلے الزامات کی تحقیق ضرور کرتے لیکن افسوس کہ آپ کے مقدر میں خیر نہیں ہے

    کنول شوزیب کہتی ہیں کہ آپ پولیس لیکر میرے گھر تشریف لے آتے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ؟ ان محترمہ کو سمجھائیں کہ اگر کوئ انٹرویو نہ دینا چاہے اور کہے کہ آپ نے جتنا انٹرویو کیا ہے یہ ڈلیٹ کر دئیں میں آپکے چینل کو انٹرویو نہیں دینا چاہتی اور آپ کہیں کہ نہیں ہم چلائیں گے تو؟

     

    آگے چل کر وہ شرپسندی سے تنگ آکر مزید کہتی ہیں کہ :شکر ہے کی میں میل MNA نہیں ورنہ کوئ بعید نہیں کہ یہ محترمہ مجھ پر کوئ اور الزام بھی لگا جاتیں انکو پیش کی گئ چائے ابھی تک پڑی ہے اب ان پر ہتک عزت کا رقبہ کرواؤں گی تو پھر آزادی صحافت پر حملہ ہو جائے گا اور میڈیا پر قدغن کا ڈرامہ بھی کوئی جج صاحب سے پوچھ کر بتائے کہ میں کیا کروں

     

    کنول شوزیب اپنے خلاف لگنے والے الزامات سے تنگ آکر مزید لکھتی ہیں کہ "آپ نے بغیر تحقیق کئے یہ الزام لگا دیا کہ آپکے گینگ کی رکن بتول راجپوت جنکو گھٹیا صحافت کیوجہ سے پہلے بھی چینلز نے نکال دیا تھا انھیں میں نے حبس بے جا میں رکھا اس کو آزادی صحافت کہیں گے؟ نوبت یہ ہے کہ اب آپ لوگوں کو گھروں میں گھس کر بلیک میل کریں گے اغوا کا الزام لگا دیں گے؟

    یاد رہے کہ متنازعہ اینکرحامد میرنے بھی ٹویٹ کے ذریعے الزام لگایا تھا کہ خاتون اینکر بتول راجپوت کو پی ٹی آئی کی ایم این اے کنول شوزیب نے انٹرویو کے بعد یرغمال بنا لیا اور کہا کہ انٹرویو ڈیلیٹ کرو

    جس کے جواب میں‌ مجبور ہوکر کنول شوزیب نے اپنی مظلومانہ درخواست عرض گزار کی ہے

  • بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟وفاقی وزیرکا بھارت سے سوال

    بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟وفاقی وزیرکا بھارت سے سوال

    لاہور:بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟وفاقی وزیرکا بھارت سے سوال ،اطلاعات کے مطابق فرخ حبیب نے کہا ہے کہ بھارت کا کیسا دفاعی نظام ہے جسے اپنے میزائلز پر کنٹرول ہی نہیں؟

    وزیر مملکت فرخ حبیب نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کو نوٹس لینا چاہیے کہ کیا بھارت کے دفاعی نظام میں اتنی سکت ہے کہ اس قسم کے اور ایٹمی میزائلز کو بھی سنبھال سکے؟انہوں نے کہا کہ ان کے دفاعی نظام کی کمزوریاں خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت نے 9 مارچ کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کرلیا ۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ 9 مارچ 2022 کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے ایک میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا۔

    بھارتی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا ہے اور ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ میزائل پاکستان کے ایک علاقے میں گرا۔واقعہ انتہائی افسوسناک ہے تاہم اچھی بات یہ ہے کہ حادثے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں گرنے والا میزائل بھارت کا تھا جس کی تصدیق بھارتی وزارت دفاع نے کر دی ہے۔

    بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق بھارتی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 9 مارچ 2022 کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا۔ بھارتی حکومت نے سنجیدگی سے غور کیا ہے اور اعلیٰ سطحی کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کے مطابق ہمیں پتہ چلا ہے میزائل پاکستان کی حدود میں گرا، گوکہ واقعہ افسوسناک ہے لیکن ہمیں اس بات پر اطمینان ہے اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    دوسری طرف یہ بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ 3 دن کے بعد اب ہندوستانی وزارت دفاع نے کہا کہ ایک میزائل غلطی سے داغا گیا ، دفاع سے متعلق لوگوں کا کہنا ہے کہ یا تو یہ جان بوجھ کر پاکستانی ریاست کی تیاری اور ردعمل کو جانچنے کے لیے فائر کیا گیا تھا۔یا پھراصل میں تکنیکی خرابی تھی۔

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر یہ کسی جنونی انتہا پسند ہندو کی سازش ہے تو یہ پھر بھی ہوسکتی ہے

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انتہاپسندوں کی جانب سے ایٹمی صلاحیت کے حامل (کینسٹرائزڈ) میزائل فائر کرنے کا امکان اب ایک سنگین خطرہ ہے۔ جوہری کمانڈ/کنٹرول پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے اور جوہری جنگ شروع کر سکتا ہے۔

  • مہنگائی نےعوام کا جینا مشکل کردیا ہے:حکومت مہنگائی کم کرنےکی کوشش کرے :چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ

    مہنگائی نےعوام کا جینا مشکل کردیا ہے:حکومت مہنگائی کم کرنےکی کوشش کرے :چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ

    لاہور:مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے:حکومت مہنگائی کم کرنےکی کوشش کرے :چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ ڈاکٹر نوید الہی نے پارٹی اجلاس میں ممبرشپ مہم کا آغاز کیا اور کہا مہنگائی عروج پر ہے مگر حکمران سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ان کی تمام تر توجہ ڈولتے سنگھاسن کو سنبھالنے میں ہے لیکن ڈوبتے لوگوں کی پرواہ نہیں۔ گھی اور چکن کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے لوگوں کو بوکھلا دیا ہے۔ دالوں اور دوائیوں کے نرخ لوگوں کے سینوں پہ مونگ دل رہی ہیں۔ بجلی اور گیس کے بلوں اور پٹرول کے خونچکاں خرچوں نے عوام کو بے حال اور بد حال کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن بھی عوام کے مسائل پہ تو شاید ہی اکھٹی ہوئی ہو مگر حکومت کے حصول کی جنگ کے لئیے یکجا ہو گئی ہے۔ کراچی سے پروفیسر سلمان ڈی محمد نے کیا اور ممبر شپ مہم اور عوام کے لئی پارٹی کی کوششوں کو سراہا۔ شرکا نےتمام اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہان سے پر زور اپیل کی کہ غریب، کم آمدنی والوں اور تنخواہ دار طبقے، کسانوں اور مزدوروں کے لئیے جو آواز عوام تحفظ موومنٹ نے اٹھائی ہے اس میں بھرپور ساتھ دیں۔ اس طرح ہم آواز ہونے سے پسے ہوئے لوگوں کو امید ہو گی کہ انکی بھی اس نظام میں شرکت اور شراکت ہے۔ یہ موقع ہے سیاسی پارٹیوں کے لئیے کہ عوام کو یقین دلا سکیں کہ وہ موجودہ نا اہل اور بے حس حکومت کی نالائقی اور سنگدلی کو کبھی نہیں دہرائیں گے۔

    چئیرمین عوام تحفظ موومنٹ نے توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ متوسط طبقہ، جو کہ ملک کی اکثریت ہے، کی نمائندگی صفر ہے۔ یہی طبقہ عوام کے مسائل کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔لہٰزا اسکو امورِ حکومت سے دور رکھا جاتا ہے۔ یہ لوگ روایتی اور ناکارہ لیڈرشپ کا توڑ ہیں۔ ان کا آگے آنا ضروری ہے۔ عوام تحفظ موومنٹ کا عزم ہے کہ پاکستان میں ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس میں حکومت فیصلے عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق شفاف طریقے سے کرے۔

    عوام سے کچھ چھپایا نہ جائے۔ وہ فیصلہ سازی میں شرکت اور شراکت کے حقدار ہیں۔ انکی زندگیوں پہ اثر انداز ہونے والے فیصلے چند مالدار اربابِ حکومت بند کمروں میں بیٹھ کر کر دیں، یہ نامنظور ہے۔اسمبلیوں میں بیٹھے نمائندے پارٹی مالکان کی آواز پہ ہی لبیک کہ سکتے ہیں۔ انکی اپنی کوئی آواز اور اختیار نہیں۔ جب تک اسمبلیاں پارٹی مالکان کے تسلط سے واگزار نہیں ہوتیں عوام کو اپنے تحفظ کے لئیے خود آواز اٹھانا پڑے گی۔ عوام تحفظ موومنٹ اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ ساتھ ہی ساتھ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی سر کوبی کریں گے۔ ان کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

  • پارلیمنٹ لاجزتنازعہ:شیخ رشید سے بدلہ لے لیاگیا:مقدمے کے لیے درخواست دائر

    پارلیمنٹ لاجزتنازعہ:شیخ رشید سے بدلہ لے لیاگیا:مقدمے کے لیے درخواست دائر

    پارلیمنٹ لاجزتنازعہ:شیخ رشید سے بدلہ لے لیاگیا:مقدمے کے لیے درخواست دائر:اطلاعات کے مطابق کل رات جے یو آئی ف کے سبربراہ کی ملیشیا شدت پسند تنظیم انصارالاسلام کی طرف سے پارلیمنٹ لاجز میں داخلے کا مسئلہ نئی شکل اختیارکرگیا ،یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ کل تنظیم کے کارکنوں کے ساتھ پولیس کے رویے کا بدلہ شیخ رشید سے لینے کے لیے ایک درخواست دائرکردی گئی ہے

    ادھراس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ تنظیم کے چند کارکنان نے شیخ رشید کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے جس میں ایک بڑا ہی عجیب مطالبہ کیا گیا ہے

     

    اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے ‏تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں پگڑی (سنت رسول)کی توہین اور پارلیمنٹ لاجز میں غیر قانونی آپریشن کے خلاف وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید سیکرٹری داخلہ سمیت ذمہ داران کے خلاف 295,505 سمیت متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے لئے درخواست دائر کی گئی ہے

    یاد رہے کہ کل اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی ف کے سربراہ فضل الرحمن کی ذاتی ملیشیا شدت پسند تنظیم انصارالاسلام نےپارلیمنٹ لاجز میں داخل ہوگئی تھی اور تنظیم کا کہنا تھا کہ وہ ارکان کی حفاظت کےلیے بھیجےگئے ہیں ،

    اس دوران تنظیم کے کارکنان اور پولیس کے درمیان محاذ آرائی بھی ہوئی تھی اور اس محاذ آرائی کوروکنے کے لیے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ تنظیم کے ڈنڈا برداروں کو پارلیمنٹ لاجز سے نکلنے کی درخواست کی جائے

    اس دوران جب پولیس کی طرف سے بار بار پارلیمنٹ لاجز کو چھوڑنے اور خالی کرنے کی درخواست کام نہ آئی تو پولیس نے زبردستی تنظیم کے ورکروں کو وہاں سےنکالا جس کے دوران پولیس اور تظیم کے اراکین کے درمیان چھیڑ خانی بھی ہوئی ،

    شیخ رشید اور دیگرحکام کے خلاف درخواست میں اس وقت ہونے والے جھگڑے کو بنیاد بنا کر مقدمہ دائر کرنے کی درخواست کی گئی ہے

  • الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیراعظم کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیراعظم کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیراعظم کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیر اعظم عمران خان کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کے پی، شاہ محمود قریشی ، اسد عمر کو بھی نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر مراد سعید اور انور زیب کو بھی نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کو دیر کا دورہ کرنے سے منع کیا تھا۔الیکشن کمیشن کی ہدایت کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے دیر میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 31 مارچ کو شیڈول ہے۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو دیر میں جلسہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر لوئر دیر نے وزیر اعظم کو مراسلہ جاری دیا ہے جس مں وزیر اعظم کو جلسہ کرنے سے منع کیا گیا تھا۔

    مراسلے کے مطابق وزیر اعظم 11 مارچ کو لوئر دیر میں جلسہ کرنے جارہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن لوئر دیر میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری کرچکا ہے۔

    مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے باعث جلسے میں شرکت کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوگی اور کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص الیکشن مہم میں حصہ نہیں لے سکتا ہے۔

  • سعودی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ پرقابو پالیا گیا

    سعودی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ پرقابو پالیا گیا

    ریاض :سعودی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ پرقابو پالیا گیا،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی ایک آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ کے حوالے سے نئی اور تازہ ترین صورت حال سامنے آگئی ہے

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی وزارت توانائی نے بیان جاری کیا کہ جس کے مطابق دارالحکومت ریاض کی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگنے والی معمولی نوعیت کی آگ پرقابو پالیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ آگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اورنہ ہی تیل کی سپلائی متاثرہوئی ہے جبکہ یہ حملہ جمعرات کی صبح 4:40 کے قریب ہوا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف سعودی عرب کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ دنیا کو توانائی کی فراہمی کی سلامتی اور استحکام کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

    تاہم حکام نےڈرون حملہ کس کی جانب سے کیا گیا اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے جبکہ فوری طور پر کسی گروپ کی جانب سے کوئی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات یمن کے حوثی باغیوں کا نشانہ رہی ہیں۔

    حوثی باغیوں نے 2019 میں مشرقی صوبے ابقیق میں آئل پروسیسنگ فیسیلٹی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ اس حملے نے عارضی طور پر سعودی عرب کی روزانہ کی نصف پیداروان کو نقصان پہنچایا تھا۔

  • روس کی یوکرین میں بمباری، اسٹیڈیم، لائبریر اور رہائشی عمارتیں تباہ:اقوام متحدہ نے اہم اجلاس بلالیا

    روس کی یوکرین میں بمباری، اسٹیڈیم، لائبریر اور رہائشی عمارتیں تباہ:اقوام متحدہ نے اہم اجلاس بلالیا

    یوکرین کی رکنِ پارلیمنٹ انا سوسون کے مطابق روسی بمباری سے مختلف شہروں میں رہائشی عمارتیں، اسٹیڈیم اور لائبریری کی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔انا سوسون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں کہا کہ روس نے چرنیو شہر میں رہائشی اپارٹمنٹ اور لائبریری کو نشانہ بنایا ہے۔

    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں حملوں کے مقامات کی تصاویر کے ساتھ یہ معلومات بھی فراہم کی ہے کہ چرنیو میں 11 مارچ کو صبح سویرے 4 بچے ایک اسٹیڈٰم اور لائبریری متاثر ہوا ہے اور شہر میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

    انا سوسون نے چند اور تصاویر کے ساتھ یہ معلومات فراہم کی ہے کہ 60 اپارٹمنٹس پر مشتمل عمارت، مزید ایسی چار عمارتوں اور دس چھوٹی مکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کے علاوہ دنیپرو اور لوتسک میں روس نے مزید حملہ کی ہے، لوتسک کے میئر نے ان دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

    دنیپرو میں یوکرینی میڈیا نے تین دھماکوں کی تصدیق کی ہے، جس میں بظاہر ایک میں دو منزلہ جوتے بنانے کی فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا ہے، دیگر دو دھماکوں میں سے ایک کئی منزلہ عمارت پر ہوا جن میں اپارٹمنٹس بنے ہوئے تھے اور ایک عمارت چھوٹے بچوں کے اسکول کی تھی۔

    دوسری جانب آج کے حملے میں یوکرین میں لوتسک کی انتظامیہ کے سربراہ کا کہنا ہے روسی حملے میں دو یوکرینی سپاہی ہلاک ہو گئے جبکہ 6 افراد زحمی ہوگئے ہیں۔روس نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے مغربی شہر وان لوتسک اور لوینو فرینکسوسک میں فوجی ائیر فیلڈز کو نشانہ بنایا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ماسکو کی درخواست پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیاروں کی مبینہ تیاری کے معاملے پر جمعے کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چھ مارچ کو ماسکو کی وزارت خارجہ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ روسی افواج کو شواہد ملے ہیں کہ یوکرین کی حکومت فوج کی جانب سے چلائے گئے حیاتیاتی پروگرام کے نشانات کو مٹا رہے ہیں جس کی مالی اعانت مبینہ طور پر امریکہ نے فراہم کی تھی۔

     

     

    امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین، یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

    فیس بک کی اپنی پالیسی میں عارضی طور پر نرمی دوسری جانب فیس بک نے کہا ہے کہ اس نے یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد نفرت انگیز تقریر پر اپنی پالیسی میں عارضی طور پر نرمی کی ہے۔ فیس بک نے ’روسی حملہ آوروں کی موت‘ جیسے بیانات اپنے پلیٹ فارم پر شیئر کرنے کی اجازت تو دی ہے تاہم شہریوں کو دھمکیاں دینے سے روکا گیا ہے۔

    ماسکو کے اپنے ہمسایہ ملک پر حملے نے نہ صرف مغربی حکومتوں اور کاروباری اداروں کو پابندیاں عائد کرنے کی ترغیب دی بلکہ اس جنگ میں سوشل میڈیا کے کردار پر بھی مباحثوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی میٹا کی جانب سے پالیسی فیصلے کو فوری طور پر تنازع کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس نے اپنا دفاع کیا ہے۔

    میٹا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں ہم نے سیاسی اظہار رائے کی ان اقسام کی عارضی طور پر اجازت دی ہے جو عموماً ہمارے نفرت انگیز تقریر پر قوانین کے خلاف ہیں جیسے کہ ‘روسی حملہ آوروں کی موت۔’ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اب بھی روسی شہریوں کے خلاف کسی کو تشدد پر اکسانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہ پالیسی آرمینیا، آذربائیجان، ایسٹونیا، جارجیا، ہنگری، لٹویا، لتھوانیا، پولینڈ، رومانیہ، روس، سلوواکیہ اور یوکرین پر لاگو ہوتی ہے۔ ٹیک پلیٹ فارمز کو روس اور یوکرین کے تنازع میں اس وقت مسائل کا سامنا کرنا پڑا جب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹیلی ویژن انٹرویو اور ٹوئٹر پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے قتل کا مطالبہ کیا تھا۔

    گراہم کی تین مارچ کی ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ ’اس (جنگ) کے ختم ہونے کا واحد راستہ یہ ہے کہ روس میں کوئی شخص اس آدمی کو باہر لے جائے۔‘ لنڈسے گراہم کی اس ٹویٹ کو ٹوئٹر نے اپنے پلیٹ فارم سے نہیں ہٹایا تھا جس پر کافی تنقید ہوئی تھی۔

    اٹلانٹک کونسل کی ڈیجیٹل فرانزک ریسرچ لیب کے ڈس انفارمیشن ماہر ایمرسن بروکنگ نے بتایا ہے کہ ’یہ پالیسی روسی فوجیوں کے خلاف تشدد کے مطالبات کے حوالے سے ہے۔ یہاں تشدد کی کال، ویسے بھی مزاحمت کی کال ہے کیونکہ یوکرینی ایک پرتشدد حملے کی مزاحمت کرتے ہیں۔‘ تاہم کچھ لوگوں نے اس پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    لیہائی یونیورسٹی کے پروفیسر جیریمی لٹاؤ نے ٹویٹ میں طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم نفرت انگیز تقریر کی اجازت نہیں دیتے سوائے کسی خاص ملک کے کچھ لوگوں کے خلاف۔‘ فیس بک اور دیگر امریکی ٹیک کمپنیاں یوکرین پر حملے کے بعد روس کو ’سزا‘ دینے کے لیے آگے بڑھی ہیں اور ماسکو نے معروف سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر تک رسائی کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں

  • برما کے8 ہزار سے زیادہ غیر قانونی تارکین کو مفت اقامہ:سعودی عرب کا بڑا اعلان

    برما کے8 ہزار سے زیادہ غیر قانونی تارکین کو مفت اقامہ:سعودی عرب کا بڑا اعلان

    مکہ: برما کے8 ہزار سے زیادہ غیر قانونی تارکین کو مفت اقامہ:سعودی عرب کا بڑا اعلان ،اطلاعات کے مطابق مکہ مکرمہ میں کچی بستیوں کے اصلاحاتی پروگرام کے ترجمان ڈاکٹر امجد مغربی نے کہا ہے کہ ’قوز النکاسہ‘ میں سکونت پذیر برمی کمیونٹی کے 8 ہزار سے زیادہ افراد کے قیام کو قانونی بنادیا گیا۔ یہ اقامہ و روزگار قوانین کی خلاف ورزی کرکے النکاسہ میں سکونت پذیر تھے۔

    الاخباریہ چینل کے معروف پروگرام ’نشرۃ النھار‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے مغربی نے کہا کہ سعودی حکام نے انسانی بنیادوں پر برما کے غیر قانونی تارکین کے مسائل حل کیے ہیں۔

    اس سے قبل ہزاروں برمیوں کو مفت اقامے جاری کیے گئے تھے۔ انہیں ملازمتیں فراہم کی گئی تھیں اور ان کی رہائش کے انتظامات بھی کیے گئے تھے۔

    گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل نے اس حوالے سے انسانیت نواز سکیم اپنی نگرانی میں نافذ کرائی جس کی منظوری اعلی قیادت سے حاصل کی گئی تھی۔

    مغربی نے مزید بتایا کہ النکاسہ محلے کی عمارتیں مکینوں سے خالی کراکر منہدم کرائی گئی ہیں۔ باقی ماندہ عمارتیں عید الفطر کے بعد منہدم کی جائیں گی۔ اس دوران وہاں آباد برمیوں کے مسائل کا بھرپور طریقے سے جائزہ لیا گیا۔

    وزارت افرادی قوت کی فیلڈ ٹیموں اور دیگر اداروں کی متعلقہ کمیٹیوں نے النکاسہ محلے میں آباد سعودی خاندانوں کی فہرستیں تیار کیں۔ سماجی کفالت پروگرام میں شامل شہریوں کو فلیٹس فراہم کیے گئے اور دیگر کے لیے بھی انسانی بنیادوں پر رہائش کا بندوبست کیا گیا۔