Baaghi TV

Author: +9251

  • ذاتی اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ قومی نقصان کریں:صوبائی وزیرنےعلیم خان کوکھری کھری سنادیں

    ذاتی اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ قومی نقصان کریں:صوبائی وزیرنےعلیم خان کوکھری کھری سنادیں

    لاہور :ذاتی اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ قومی نقصان کریں:صوبائی وزیرنے علیم خان کوکھری کھری سنادیں ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف حکومت کے خلاف سازشوں کا بازار گرم ہے تودوسری طرف ان سازشوں کو تہس نہس کرنے والے بھی کسی سے کم نہیں ، اس سوچ اور فکرکا تازہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ لوگوں نے پی ٹی آئی کے ایک صوبائی وزیرکوپارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر اکسایا ،

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کے صوبائی وزیر اختر ملک نے علیم خان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا اور کہا مشکل وقت میں پارٹی نہیں چھوڑ سکتا۔

    تفصیلات کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر اختر ملک نے علیم خان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اختر ملک نے علیم خان کو جواب میں کہا کہ مشکل وقت میں پارٹی نہیں چھوڑ سکتا۔اختر ملک اور علیم خان کی 2روز قبل ملاقات ہوئی تھی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اختر ملک سے رابطہ کیا، اختر ملک آج وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔

    یاد رہے وزیراعلیٰ پنجاب نے ترین اورسپرمیسی آف پارلیمنٹ گروپ کوملاقات کیلئےبلالیا ہے، ارکان میں خرم لغاری، فیصل جبوانہ عبدالحئی دستی،رفاقت علی ،طاہر رندھاوا شامل ہیں۔جہانگیر ترین سے الگ ہونیوالے نذیر چوہان بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کریں گے جبکہ ایم این اےریاض فتیانہ،صاحبزادہ محبوب سلطان، امیر سلطان سے بھی ملاقات ہوگی۔

  • پوتن غُصےمیں آگئے توتباہی مچادیں گے:امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

    پوتن غُصےمیں آگئے توتباہی مچادیں گے:امریکی انٹیلی جنس رپورٹ

    واشنگٹن :پابندیاں روسی صدر کومزید مشتعل کریں گی،وہ غُصے میں آگئے توپھرمعاملات ہاتھ سےنکل سکتے ہیں:امریکی انٹیلی جینس نے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ روس پرامریکہ کی طرف سے پابندیاں روسی صدر ولادی میر پوتن کو غضبناک کرسکتی ہیں ، جس کا مطلب روسی صدر کچھ بھی کرسکتےہیں‌،

    امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے”۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پوتین یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    درایں اثنا امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ روسی صدر یوکرین پر اپنا حملہ تیز کر سکتے ہیں حالانکہ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں روس کو فوجی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ایورل ہینس نے ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کی عالمی خطرات سے متعلق سالانہ سماعت میں مزید کہا کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کی ناکامیوں سے پوتین کو روکنے کا امکان نہیں ہے۔اس کے بجائے معاملات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    انٹیلی جنس ایجنسیوں کے دیگر ڈائریکٹرز کے ساتھ بیان دیتے ہوئے ہینس نے کہا کہ پوتین کا اپنی نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھنے کا اعلان غیر معمولی تھا لیکن انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے روس کی جوہری پوزیشن میں اس سے زیادہ تبدیلیاں نہیں دیکھی تھیں جو ماضی کے بین الاقوامی بحرانوں کے دوران دیکھی گئی تھیں۔

    قابل ذکر ہے کہ کریملن کی جانب سے 24 فروری کو یوکرینی سرزمین پر شروع کیا جانے والا روسی فوجی آپریشن آج بدھ کو 14 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے ماحول کے طویل وقفے کے بعد عدیم المثال سکیورٹی الرٹ ہے۔

    ان روسی حملوں نے ماسکو کے خلاف بڑے پیمانے پر پابندیوں کی مہم کا آغاز کیا جس میں 500 سے زیادہ مختلف نوعیت کی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ عالمی پابندیوں کا سامنے کرنے کے اعتبار سے روس دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

  • یوکرین میں غیرملکی دہری مصیبت میں ، ایک طرف جنگ تو دوسری طرف امتیازی نسلی سلوک

    یوکرین میں غیرملکی دہری مصیبت میں ، ایک طرف جنگ تو دوسری طرف امتیازی نسلی سلوک

    ماسکو :یوکرین میں غیرملکی دہری مصیبت میں ، ایک طرف جنگ تو دوسری طرف امتیازی نسلی سلوک ،اطلاعات ہیں کہ یوکرین میں پھنسے غیرملکی اس وقت دوہری مصبیبت میں مبتلا ہیں ، ایک طرف جنگ جاری ہے اور جنگ میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور زخمی تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں اور تو دوسری طرف وہاں سے غیرملکیوں کو جان بچانے میں مشکلات حائل کی جارہی ہیں ،

    اس حوالے سے تازہ ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین بحران میں صورتحال اس کے برعکس نظر آرہی ہے۔ یوکرین میں مقیم عرب اور افریقی تارکین کا کہنا ہے کہ ملک سے انخلا میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بہت سے غیر ملکی طلبہ جن کی اکثریت کا تعلق عرب اور افریقی ممالک سے ہے، یوکرین افواج اور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں نسلی امتیاز کا شکار ہے۔
    مزید پڑھیں

    ایک افریقی طالبہ نے بتایا ہے کہ یوکرین اور پولینڈ سرحد پر غیر یوکرینی مسافروں کو بسوں سے اتارا گیا اور ان سے صاف الفاظ میں کہا گیا کہ بس میں صرف یوکرینی شہری سوار ہوسکتے ہیں۔نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے کہا ہے کہ ’سرحد میں بس سے اتارا گیا اور کہا گیا کہ آپ کو پیدل سفر کرنا ہے‘۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اس وقت یوکرینی دار الحکومت سے 400 کلو میٹر دور ایک سرحدی علاقے میں محصور ہوں‘۔

     

    یوکرین میں غیرملکیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج ان پر تشدد کرتی ہے۔ ایک انڈین طالبہ ساکشی نے بتایا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھ بیسیوں غیر ملکی طالبات کو سرحد نہیں عبور کرنے دی گئی۔’ان کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا گیا اور مردوں کو مارا گیا یہاں تک ایک شخص کو احتجاج کرنے پر مارمار کر لہو لہان کردیا گیا ‘۔

    افریقی تارکین کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے پر افریقی ممالک کے اتحاد نے بھی احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یوکرین سے انخلا کا تمام افراد کو حق ہے۔ اس سلسلے میں امتیازی اور نسلی تفریق کرنا انسانی حقوق کے خلاف ہے‘۔ اتحاد نے کہا ہے کہ ’یوکرین میں افریقی طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا قابل مذمت ہے‘۔

    دریں اثنا سوشل میڈیا پر ایک مراکشی شخص کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جو ریل کے دروازے پر چھری لیے کھڑا ہے اور ریل یوکرین کے باہر جارہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ریل میں غیر ملکیوں کو جگہ نہ ملنے پر مراکشی شخص نے چھری نکال لی اور غیر ملکیوں کو ریل میں سوار کردیا۔

  • پی ٹی آئی اراکین پارٹی سے ناراض کیوں؟ وجوہات سامنے آ گئیں

    پی ٹی آئی اراکین پارٹی سے ناراض کیوں؟ وجوہات سامنے آ گئیں

    اسلام آباد : پی ٹی آئی ارکان کی پارٹی سے ناراضی کی ایسی وجوہات سامنے آئیں کہ خود پی ٹی آئی والے بھی حیران رہ گئے ،اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک نئی بحث جنم لے چکی ہے جس کے مطابق یہ کہا جارہا ہےکہ پارٹی ممبران کو عمران خان کی قیادت پر اعتراض نہیں بلکہ آپ کے اختلافات ہیں جن کو وضاحت کے باوجود بھی حل نہ کیا جاسکا ،

    پارٹی کے اندراختلافات کی نوعیت بھی علاقائی ہے ، مثلا فیصل آباد ڈویژن کے ارکان شہبازگل کی مداخلت پر ناراض ہیں کیونکہ شہبازگل فیصل آباد میں آئندہ الیکشن میں اپنے لیے سپورٹ مانگتے رہے،ارکان نے وزیراعظم کو شہبازگل کی مداخلت پر تحفظات سے آگاہ کیا لیکن وزیراعظم ارکان کے تحفظات دورکرنے کے بجائے شہبازگل کو ماسکو لے گئے۔

    ایسے ہی کے پی سے نور عالم خان کو اسپیکر اسد قیصر کے خلاف بولنا مہنگا پڑا، وہ حکومتی فنڈز صرف صوابی میں خرچ کرنے پر نالاں تھے اور اپنے حلقے کے لیے ترقیاتی فنڈز مانگتے رہے جو نہیں ملے، نورعالم خان کی وزیراعظم سے ملاقات میں بھی تحفظات دورنہیں کیے گئے جب کہ پارٹی کےشوکاز نوٹس اور پی اے سی سے نکالنا نورعالم کی ناراضی کی وجہ بنا۔

    ذرائع کے مطابق فواد چوہدری نے نجی محفل میں ایک دو اپنے مخالف ارکان کو غدار قرار دیا اور کہا کہ غدار ارکان کو بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے، ارکان تک فواد چوہدری کی باتیں پہنچ گئیں جس پر شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا، اس معاملے پر بھی وزیراعظم نے ارکان کے تحفظات دور نہیں کیے۔ایسے ہی میجر ریٹائرڈ طاہرصادق کے حلقے میں ملک امین اسلم کی مداخلت کی شکایات رہیں اور وزیراعظم کو شکایت کے باوجود ملک امین اسلم کو مداخلت سے نہیں روکا گیا،

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اقبال خان نے بھی اپنے حلقے میں ایوب آفریدی کی مداخلت کا شکوہ کیا لیکن وزیراعظم نے اقبال خان کے تحفظات کو دور نہیں کیا، ایوب آفریدی متعلقہ حلقے میں ترقیاتی اسکیموں کا افتتاح کرتے رہے۔اس کے علاوہ بعض اراکین پر شک ناراضی کا باعث بنا اور غلام بی بی بھروانا کو پہلے روز سے ہی شک کے دائرے میں رکھا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اکثر اراکین کی جانب سے پارٹی ارکان کو عزت نہ ملنے پر بھی ناراضی ہے اور بعض ارکان نے پارٹی ارکان قومی اسمبلی کیلئے قائم واٹس ایپ گروپ بھی چھوڑ دیا۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان ناراض اراکین نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم سے ضرور یہ شکوہ کریں‌ گے کہ بعض ارکان بعض کی مخالفت کرکے پارٹی کو نقصان دے رہے ہیں جس کا اگر ازالہ نہ کیا گیا تو پارٹی کو مزید نقصان ہوسکتا ہے

  • وزیراعظم کی پیر پگاڑا سے ملاقات کی خواہش،ابھی تک جواب نہ آسکا

    وزیراعظم کی پیر پگاڑا سے ملاقات کی خواہش،ابھی تک جواب نہ آسکا

    اسلام آباد :وزیراعظم کی پیر پگاڑا سے ملاقات کی خواہش،ابھی تک جواب نہ آسکا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد متحرک ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت نے اتحادی جماعت مسلم لیگ فنکشنل سے رابطہ کیا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے پیر پگاڑا سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

    ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت نے فنکشنل لیگ کوپیغام دیا ہے کہ وزیراعظم دورہ کراچی میں پیرپگاڑا سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے تا حال حکومتی پیغام کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

    خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کل کراچی کا دورہ کریں گے جہاں وہ ایم کیو ایم کے بہادر آباد میں مرکز کا دورہ کریں گے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ فنکشنل گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) میں شامل ہے اور جی ڈی اے وفاق میں حکومتی اتحادی جماعت ہے۔

    ادھر اس سے قبل ملک میں جاری سیاسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی جس میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد 11 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد کی طرف سے اب بندے پورے کرنے کا سلسلہ جاری ہے

    اسی تناظر میں پاکستان ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچے جہاں پر دونوں کی ملاقات ہوئی۔

    باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات میں چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حضرت جی چوہدری جس کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں اس کو نبھاتے بھی ہیں ، ہم عمران خان کے اتحادی ہیں اور اتحادی رہیں گے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا چکمہ دینے کی بھی کوشش کی تو چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ وہ ہمارا اور ہمارے اتحادیوں کا معاملہ ہے

    اس موقع پر یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت حسین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اگرہماری حمایت کرتے ہیں تو ہم عمران خان کو ہٹاسکتے ہیں ،

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہاہے کہ فضل الرحمن کے ان جملوں سے دعووں کی قلعی کھل کرسامنے آگئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن کو حکومتی اتحاد کے 25 ارکان کی خاموش حمایت حاصل ہے ،سوشل میڈیا پراس حوالے سے یہ خیالات پیش کیے جارہے ہیں کہ اگراپوزیشن کے پاس 25 ارکان ہیں تو پھرپاکستان مسلم لیگ کی بار بار کیوں منتیں کی جارہی ہیں ،اس سے معلوم ہوتا ہے اپوزیشن حقائق کو صیح بیان نہیں کررہی

  • پیپلز پارٹی , ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان کو جلدی سرپرائز ملنے والا ہے، سید یاور بخاری

    پیپلز پارٹی , ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان کو جلدی سرپرائز ملنے والا ہے، سید یاور بخاری

    لاہور:پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان کو جلدی پتے لگ جان گے کہ حقیقت کیا ہے ، اطلاعات کے مطابق پی این این پر معروف صحافی مبشرلقمان کے پروگرام کھرا سچ میں پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے اہم سیاسی شخصیات کو حقائق سے پردہ اٹھانے کے لیے دعوت دی گئی تھی

    اس پروگرام میں ایک موقع پر جب سینئر صحافی نے پی ٹی آئی کے رہنما سید یاور بخاری سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ اپوزیشن تو بڑے دعوے کررہی ہے کہ وہ عدم اعتماد میں کامیابی حاصل کرلیں گے اور ان کے پاس مطلوبہ تعداد ہےتو اس کے جواب میں سید یاور بخاری نے کہا کہ ٹھیک ہےہرسیاسی جماعت کا اپنا نقطہ نظر ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ عدم اعتماد کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان کو جلدی سرپرائز ملنے والا ہے،

     

    اس موقع پر جب سینیئر صحافی نے سید یاور بخاری سے پوچھا کہ کیا میں نے آپ کو ایک مہینے پہلے یہ حقائق نہیں بتائے تو جو آج سوفیصد ویسے ہی ہورہے ہیں ،اس پر یاوربخاری نے کہا کہ واقعی ہی ایسا ہے

    اس کے بعد یاور بخاری نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پارٹیوں میں اختلاف رائے چلتا رہتا ہے اور اس اختلاف رائے میں بہتری بھی ہوتی ہے ، ان کا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ سارے معاملات ٹھیک ہوجائیں گے اور صورت حال بھی قابو میں آجائے گی اور پھر آپ دیکھیں گے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ اور مولانا فضل الرحمان دیکھتے رہ جائیں گے اورعمران خان کامیاب ہوجائے گا

  • ‏کہتا ہےباہرنکالا توخطرناک ہو جاوں گا،میں کہتا ہوں آوتوسہی:آصف زرداری

    ‏کہتا ہےباہرنکالا توخطرناک ہو جاوں گا،میں کہتا ہوں آوتوسہی:آصف زرداری

    اسلام آباد:ڈی چوک رات میں دن کا سماں عوام کا جم غفیر۔بلاول وزیراعظم کے نعرے،اطلاعات کے مطابق اس وقت اسلام آباد میں پی پی کے لانگ مارچ میں تمام جماعتوں کے کارکنوں کی قیادت کی طرف سے ہدایت کےبعد شرکت نے اس مارچ کو بہت رنگ دے دیئے ہیں، اسلام آباد کا ڈی چوک اس وقت بلاول وزیراعظم کے نعروں سے گونج رہا ہے ،

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ جیالے کی خاص پہچان ہے، آپ کی محبت دیکھ کر میرا دل بہت خوش ہوا، آج بلاول کے ساتھ آپ کا پیار اور محبت دیکھی، وقت آگیا ہے سلیکٹڈ کو باہر نکالیں گے، جمہوری قوتوں کو مل کر ملک کو آگے لے جانا پڑیگا، مائنس سلیکٹڈ ، اس کو باہر نکالیں گے اور آپ کی حکومت لائیں گے، عمران خان کو بہت جلد میں باہر نکال دوں گا، اگر اس کو رہنے دیا تو نہ آنے والی نسلیں معاف کریں گی، نہ ہماری قبریں، جمہوری قوتوں کو مل کر ملک کو آگے لے جانا پڑےگا، لانگ مارچ کر لیا، عدم اعتماد بھی کر لیا، اب یہ بھی کر کے دکھائیں گے۔

    ادھر اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اب میں عمران خان کو ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھنے دوں گا، عدم اعتماد اس لشکر کا جمہوری ہتھیار ہے۔

    وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک میں عوامی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے جیالوں کو سلام پیش کرتا ہوں، یہ بہادر اور وفادار لوگ 10 دن سے سلیکٹڈ سرکار کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، کراچی سے 27 فروری کو نکلے اور پھر تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، آج ہم ڈی چوک بھی پہنچ گئے، جیالے جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ آپ 3 سال سے اس کٹھ پتلی سے ٹکرا رہے ہو، ہم نے اسے پہلے دن ہی بے نقاب کر دیا تھا، یہ الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ ہے، اب میں عمران خان کو ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھنے دوں گا، عدم اعتماد اس لشکر کا جمہوری ہتھیار ہے، کٹھ پتلی کو اس قوم پر مسلط کیا گیا۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ ہمیں غیر جمہوری طریقے سے مسلط ہونے والے کٹھ پتلی کو گھر بھیجنا ہے، عمران خان سے پورے پاکستان کا اعتماد اٹھ چکا ہے، اب وقت آ چکا ہے پارلیمان کا اعتماد بھی اس سے اٹھ جائے، پہلے بھی یوسف رضا گیلانی کو اسمبلی سے جتوا کر تاریخ رقم کی تھی، وزیراعظم کے پسینے چھوٹ رہے ہیں، گالیاں دینے پر مجبور ہو گیا، عوام کو کہتا تھا کہ مہنگائی ہے مگر گھبرانا نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تو عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو گئی، ہم نے جمہوری حملہ کر دیا ہے، وزیراعظم صاحب گھبرانے کا وقت آ گیا ہے، ہماری عمران خان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، انہوں نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل عوام دشمن اور غریب دشمن ڈیل ہے، ہماری بات نہیں مانی گئی اور پھر بوجھ عام آدمی پر آگیا، تم سب صوبوں کے حقوق پر ڈاکے مارنے کی کوشش کررہے ہو، ہم جمہوریت پر ڈاکہ برداشت نہیں کر سکتے،

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اس شخص نے پاکستان کے عوام کا معاشی قتل کیا، اس کی معاشی پالیسی عام آدمی کو تکلیف اور امیر کو ریلیف پہنچانا ہے، قائد عوام نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس شخص نے ملک کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا، اس شخص نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیا، اس شخص نے سی پیک کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، قائد عوام نے اس پارٹی کی بنیاد کشمیر کاز پر رکھی تھی، کشمیر کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے بنانا اس کا کام تھا جو نہیں ہوا، ہم دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

    کارکنوں کی طرف سے بہت زیادہ پرجوش مناظر پیش کیے جارہے ہیں اور ہر طرف ایک خوشی کا سماں ہے، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ کل کسی بھی وقت اس لانگ مارچ کو ختم کرنے کا اعلان ہوسکتا ہے ،

     

    ادھر دوسری طرف صوبائی وزیررناصر شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تو اسلام آباد پہنچ چکے اب کیوں نہیں وہ کھانے اور چائے کی دعوتیں پیش کرنے کا وعدہ پورا کررہے ہیں لائیں اور اپنے مہمانوں کو پیش کریں

     

     

    گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو۔بلاول کا ڈی چوک میں خطاب ایک جزباتی منظر پیش کررہا تھا جہاں ہزاروں کی تعداد میں پاں میں ہاں ملارہے ہیں

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈی چوک میں اس وقت اس لانک مارچ میں جس میں بلاول بھٹو وزیراعظم کے نعرے لگ رہے تھے تو ن لیگ کے ورکز بھی بلاول بھٹو وزیراعظم کے نعرے بھی لگا رہے تھے

     

    پیپلز پارٹی کے عوامی مارچ میں لاکھوں کا مجمع ہے کراچی سے شروع ہونے والا لانگ مارچ ایوان اقتدار پہنچا تو پی پی کارکنان کا جوش و جزبہ دیکھنے والا تھا ۔پی پی کارکنان پارٹی پرچم لہراتے بلاول وزیراعظم کے نعرے لگاتے دکھائی دیئے پی پی کے عوامی مارچ میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے بھی ڈی چوک میں شرکت کی ڈی چوک میں اسوقت عوام کا جم غفیر ہے ملک بھر سے پی پی کارکنان نے عوامی مارچ میں شرکت کی اور حکومت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔

    بلاول کی قیادت میں عوامی مارچ میں آصفہ زرداری سمیت پی پی کی مرکزی قیادت شریک رہی ۔مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل وزیراعظم کے خلاف تھریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے ۔اپوزیشن رہنماؤں نے متحد ہو کر تحریک جمع کروائی بعد ازاں سابق صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں 172 سے زیادہ ووٹ ملیں گے ۔

    اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہونے کے بعد ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین بھی اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی بجایے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان سے انکے گھر جا کر ملاقات کی ہے ۔ ڈی چوک میں پی پی کارکنان موجود ہیں اور قائدین کے خطاب جاری ہیں وزیراعظم بھی متحرک ہیں اور اپنی حکومت بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اتحادیوں سے رابطوں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔

    وزیراعظم کے دورہ کراچی کا بھی امکان ہے جہان وہ ایم کیو ایم کے مرکز جائیں گے علیم خان کو بھی منانے کی کوشش جاری ہے تاہم حتمی فیصلہ جہانگیر ترین پر چھوڑ دیا گیا ہے جہانگیر ترین اسوقت لندن میں ہیں اور لندن جانے سے قبل شہباز شریف اور بلاول کی لندن سے خفیہ ملاقات ہوئی تھی ۔آنیوالے دنوں میں وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے کر کرسی بچا سکتے ہیں یا پھر اپوزیشن اپنا وزیراعظم بنا لے گی ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے ۔

  • عمران خان عوامی لیڈر:پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کی ضرورت ہے:عدم اعتماد میں اللہ خیرکریں گے:اسد عمر

    عمران خان عوامی لیڈر:پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کی ضرورت ہے:عدم اعتماد میں اللہ خیرکریں گے:اسد عمر

    لاہور:عمران خان عوامی لیڈر:پاکستان ہی خطے کی ضرورت ہے:عدم اعتماد میں اللہ خیرکریں گے:،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان عوامی لیڈر ہیں ، الیکشن میں جانے سے نہیں گھبرائیں گے،

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہمارے اتحادیوں بارے دعویٰ کر رہی ہے، آج صرف 86 ممبران نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے، ظاہرہے اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے نہیں ہیں، اپوزیشن کے پاس آج تک نمبرز پورے نہیں ہیں، پریس کانفرنس میں بیٹھنے والے ایک دوسرے کوچورڈاکوکہتے تھے۔ پاکستان کے عوام یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے 172 نمبرز پورے کرنے ہیں، اگران کے پاس واضح اکثریت ہوتی تو آج ہی 172 ارکان سے دستخط کرا لیتے۔ قومی اسمبلی کے اندر ہماری کل تعداد 179 ہے، یہ تعداد سپیکر اور اتحادیوں کو ملا کر ہے، پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے دعوے درست نہیں ہیں، ہمیں پتا ہے کون کہاں کھڑا ہے، اگراپوزیشن کے دعوؤں کو دیکھا جائے تو 90 سے 95 فیصد تو عمران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کبھی جہانگیرترین کے خلاف بات نہیں کی، ترین نے بھی کبھی عمران خان کے خلاف بات نہیں کی، جہانگیرترین کوبالکل تحفظات ہیں جس طریقے سے ان کے کیسزکوہینڈل کیا گیا،ترین کے خیال میں ان کے کیسزمیں انصاف نہیں برتا گیا۔ جس دن عدم اعتماد کی ووٹنگ ہو گی نظرآجائے گا یہ لوگ کدھرکھڑے ہیں۔ وہی ہوگا جو منظور خدا ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان عوامی لیڈرالیکشن میں جانے سے نہیں گھبرائیں گے، اس وقت اپوزیشن کے دعوے پرالیکشن کرانے کی کوئی منطق نہیں بنتی۔ اسمبلی میں عمران خان کے ووٹ کی وجہ سے پہنچا ہوں، عمران خان سے بڑی قربت ہے، ہر ایم این ایز، ایم پی ایز مجھ سے رابطے میں ہوتے ہیں، ایسا نہیں ہے سارے لوگ عثمان بزدارکے خلاف ہیں، چیف منسٹرکے اوپنین پول کے مطابق عثمان بزدار چاروں صوبوں میں نمبرون یا نمبر ٹو ہوتے ہیں، کچھ لوگ عثمان بزداربارے تحفظات بھی کرتے ہیں۔

  • جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    واشنگٹن: جو بائیڈن نے روسی تیل اور گیس کی تمام درآمدات پر پابندی لگا دی:روس نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ملک میں روسی تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی کا اعلان کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ روسی تیل اور گیس اب امریکی بندرگاہوں پر قابلِ قبول نہیں۔ ہم روس کے صدر ولادمیر پوٹن کو جنگ میں کوئی ’مالی معاونت‘ فراہم نہیں کرنا چاہتے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے کیا ہے تاہم وہ پابندی میں امریکہ کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تا کہ روسی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے “طویل مدتی حکمت عملی” تیار کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس پابندی سے روسی معیشت کو ایک تباہ کن دھچکا پہنچنے کی توقع ہے جو ملک کی آمدنی کا 40 فیصد سے زائد تیل اور گیس کی پیداوار پر انحصار کرتی ہے۔روس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنے سے عالمی مارکیٹ میں قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    روسی نائب صدر الیگزینڈر نوواک کے مطابق اگر روس کے تیل کو مسترد کیا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور تیل کی قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔ اگر تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو جواب میں جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں 2008ء کے بعد سے تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔

  • بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاعات پر آپریشن،7دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاعات پر آپریشن،7دہشت گرد ہلاک

    راولپنڈی:بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاعات پر آپریشن،7دہشت گرد ہلاک ،اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں امن دشمنوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے 7 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے تربت میں دہشتگردوں کے ٹھکانے کی موجودگی پر خفیہ معلومات پر آپریشن کیا، یہ آپریشن صوبے میں امن کے بیرونی سپانسر شدہ دشمنوں کو پکڑنے کے لیے کیا گیا۔

    بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا تو دہشتگردوں نے اپنے کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش اور اس دوران سکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے ساتھ اندھا دھند فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد مارے گئے، مارے جانے والوں میں کمانڈر حاصل ڈوڈ اور واشدل شامل ہیں۔ یہ دہشت گرد مکران ڈویژن میں حالیہ فائرنگ اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔بیان کے مطابق آپریشن کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد کر لیا جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کرنا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری رہے گا اور انہیں بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔