Baaghi TV

Author: +9251

  • شاہد آفریدی کا خواتین کے عالمی دن پر بیٹیوں کے ہمراہ خوبصورت پیغام

    شاہد آفریدی کا خواتین کے عالمی دن پر بیٹیوں کے ہمراہ خوبصورت پیغام

    کراچی: پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنی پانچوں بیٹیوں اور بیوی کے ہمراہ تصویر شیئر کرتے ہوئے انتہائی خوبصورت پیغام دیا ہے۔

    دنیا کے دیگرممالک کی طرح پاکستان میں بھی 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے اپنی پانچوں بیٹیوں اور بیوی کے ہمراہ سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرکے دنیا بھر کی خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انتہائی خوبصورت پیغام دیا ہے۔

    شاہد آفریدی نے لکھا ’’آپ میں کائنات کی پرورش کرنے کی طاقت ہے۔ آپ اسے زندہ، مزید رنگین اور متاثر کن بناتی ہیں۔ 5 شاندار بیٹیوں کا باپ ہونے کی حیثیت سے میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ خواتین میں دنیا کو چلانے کی اور اسے بدلنے کی طاقت ہے۔ آئیں اس دن کو روزانہ منائیں اور انہیں سپورٹ کریں۔ خواتین کا عالمی دن مبارک ہو‘‘۔

  • لاہورمجرموں کی آماجگاہ بن گیا:سنگین نوعیت کے جرائم کے اعداد و شمار

    لاہورمجرموں کی آماجگاہ بن گیا:سنگین نوعیت کے جرائم کے اعداد و شمار

    لاہور:پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں سنگین نوعیت کے جرائم کے اعداد و شمار سامنے آگئے۔ ذرائع کےمطابق تین دنوں کے اندر لاہور میں 763 جرائم ہوئے جن میں سے زیادہ ترڈاکہ زنی اور لوٹ مار کے ہیں‌

    ریکارڈ کے مطابق دکانوں پر گن پوائنٹ پر ڈکیتیاں اور لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق اسٹریٹ کرائم کی 554 وارداتیں، موبائل فونز، نقدی گن پوائنٹ پر چھین لی گئی۔ جس میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں

    ریکارڈ کے مطابق شہر میں نقب زنی کے 5 واقعات رپورٹ ہوئے، چور قیمتی اشیاء لے اڑے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق 70 موٹر سائیکلیں گن پوائنٹ پر چھینی گئیں، 42 چوری ہوگئیں۔اس کے ساتھ ساتھ 22 کاریں‌ بھی چوری ہوگئی ہیں‌

    ادھر ذرائع کے مطابق ان دنوں میں‌ بچے سمیت تین خواتین سے زیادتی بھی کی گئی ہے ،

    سال 2021 میں جرائم کی شرح میں 57 فیصد اضافے کے ساتھ لاہور شہر میں جرائم کے اعداد و شمار 2 لاکھ سے تجاوز کر گئے جبکہ حالیہ گزشتہ برسوں میں لاہور میں درج جرائم کی اوسط ایک لاکھ 25 ہزار رہی۔

    ذرائع کے مطابق پولیس حکام جرائم کی اس بڑی تعداد کی وجہ مقدمات کے مفت اندراج کی پالیسی کو قرار دیتے ہیں جبکہ سماجی سائنسدان اسے مہنگائی اور غربت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جس نے لوگوں کو بے روزگار کر دیا ہے۔

    اس کے علاوہ لاہور پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر متواتر اور قبل از وقت تبادلے اور تعیناتیاں، بالخصوص آپریشنز ونگ کے سربراہ کی تبدیلی بھی جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث بنی۔

    اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں صوبائی دارالحکومت کے 84 تھانوں میں ایک لاکھ 33 ہزار 222 مقدمات درج کیے گئے جو سال 2021 میں 2 لاکھ 3 ہزار 452 تک پہنچ گئے، اس کے علاوہ سال 2020 کے دوران 427 اور 2021 میں 432 افراد ہلاک ہوئے۔

    تاہم 2021 میں اغوا برائے تاوان کے واقعات کم واقعات ہوئے جن کی تعداد 9 تھی جبکہ 2020 میں ان کیسز کی تعداد 13 تھی۔

    قتل کے ساتھ ڈکیتی حکومت کے لیے باعث تشویش رہی کیونکہ 2021 میں مبینہ طور پر مزاحمت پر 30 شہریوں کو قتل کیا گیا جبکہ 2020 میں اس حوالے سے رپورٹ ہونے والے قتل کی تعداد 25 تھی۔شہر میں گزشتہ برس 108 ڈکیتی کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں جبکہ 2020 میں ان کی تعداد 13 تھی۔

    پولیس ڈکیتیوں کی لہر کو روکنے میں ناکام دکھائی دی کیوں کہ سال 2020 میں ڈکیتی کے 3 ہزار 360 مقدمات درج کیے گئے اور 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر9 ہزار 308 ہوگئی جو 5 پزار 948 کا واضھ فرق ظاہر کرتی ہے۔

    اسی طرح چوری کے واقعات بھی 2020 کے 92 سے بڑھ کر سال 2021 میں 199 ہو گئے، 2020 میں 19 کاریں چھینی گئی تھیں جبکہ 2021 میں ایسی 20 وارداتیں ہوئیں۔شہر کے ڈویژنز کے حساب سے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سٹی، صدر اور کینٹ جرائم کے چارٹ میں سرفہرست رہے۔سٹی ڈویژن میں سال 2020 میں جرائم کے 28 ہزار 246 مقدمات درج ہوئے تھے جو 2021 میں بڑھ کر 43 ہزار 807 ہوگئے۔

    اسی طرح صدر ڈویژن میں 2020 میں 28 ہزار 52 کیسز تھے جو اگلے سال بڑھ کر 40 ہزار 803 ہوگئے۔کینٹ ڈویژن جرائم کا تیسرا سب سے بڑا ہاٹ سپاٹ تھا جہاں 2020 میں 23 ہزار 222 مقدمات درج ہوئے جو 2021 میں بڑھ کر 40 ہزار 174 ہوگئے۔

  • خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے

    خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے

    کیف: خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے جنگ کے دوران روسی میجرجنرل کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق روسی میجرجنرل وتالی گریسموف خارکیف کے قریب یوکرینی فوجیوں سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے۔جھڑپ میں متعدد دیگرروسی فوجی بھی ہلاک اورزخمی ہوئے۔

    یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ روسی میجر جنرل چیچنیا اورشام میں بھی روسی فوجی آپریشن میں شریک تھے۔روس نے میجر جنرل کی ہلاکت کی اطلاعات پرکوئی ردعمل نہیں دیا۔

    دوسری جانب یوکرین پرشدید روسی شیلنگ کے باعث شہریوں کا محفوظ مقامات کی جانب انخلا رک گیا۔یوکرین میں ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔ ماریپول شہرمیں خوراک اورپانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق روس اوریوکرین کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہوسکی۔

    دوسری طرف روسی حملے کے بعد سے یوکرینی مہاجرین مسلسل اپنی اور بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سرحدی ممالک مالدووا، پولینڈ اور رومانیہ کا رخ کیے ہوئے ہیں۔ یوکرینی شہروں تاتاربوناری، اوڈیسا کے علاوہ سرحدی شہر گالاٹی سے بڑے پیمانے پر ہجرت جاری ہے۔ روس نے اپنے خلاف پابندیوں کو ایرانی جوہری مذاکرات سے کیوں جوڑا؟ ان شہروں سے بے شمار لوگ پاپیادہ روانہ ہیں اور کئی افراد اپنی کاروں پر راہِ فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں موسم ابھی بھی سرد ہے اور درجہ حرارت دو ڈگری سیلسیئس ہے جب کہ تیز ہوا نے اس موسم کو اور سرد کر رکھا ہے۔ سردی کی وجہ سے بڑی عمر کے مہاجرین کو شدید گہری پریشانی کا سامنا ہے۔

    مغرب کی سمت جانے والے مہاجرین ہزاروں یوکرینی مہاجرین روزانہ کی بنیاد سے جنگی حالات سے پریشان ہو کر ہمسایہ ممالک پہچنے کی کوشش میں ہیں۔ ان میں بہت سارے اپنی موٹر گاڑیوں پر سوار ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی یوکرینی شہروں کے پچھتر فیصد لوگ مغرب کی سمت رومانیہ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ رومانیہ کی وزارتِ داخلہ نے ڈھائی ہزار کے قریب یوکرینی مہاجرین کے پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

    رومانیہ کی سرحد پر کئی مہنگی کاریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ کاریں یوکرین کے متمول افراد کی ہیں۔ یہ امیر افراد زیادہ تر بحیرہ اسود کے کنارے پر واقع خوبصورت بندرگاہی شہر اوڈیسا میں رہتے ہیں۔

    رومانیہ کی سرحد پر کئی رضاکار یوکرینی مہاجرین کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ ایک رضاکار لڑکی ماریانا کا کہنا ہے کہ یہاں شدید سردی میں بے شمار مہاجرین کو بڑی مشکل کا سامنا ہے اور ان کے پاس آگے کہیں جانے کی ٹرانسپورٹ بھی نہیں۔ ماریانا اس صورت حال پر خاصی برہم اور پریشان ہیں کہ کئی بڑی بڑی کاروں میں صرف دو افراد بیٹھ کر پولینڈ اور مالدووا پہنچ رہے ہیں اور اور وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ کچھ اور افراد کو اپنے ساتھ بٹھا کر آگے مہاجرین کے مرکز تک لے جائیں۔

    بظاہر رومانیہ کی سرحد پر انتظامات بہتر دکھائی دیتے ہیں اور لوگوں کو سرحد عبور کرنے میں تاخیر نہیں ہو رہی۔ اس سرحدی مقام پر مالدووا کی سرحد بھی ملتی ہے اور اس جانب بھی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد داخل ہونے کی خواہشمند ہے۔

    ابھی تک مالدووا اور رومانیہ میں مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کا جذبہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ان سرحدوں پر بے شمار رضا کار مہاجرین کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ وہ ان مہاجرین کو ہر طرح کی معلومات اور مدد فراہم کرتے ہیں

  • ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا

    ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا

    نیویارک :ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا ،اطلاعات کے مطابق یوکرین-روس جنگ پر اقوام متحدہ سلامتی کونس کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ٹی ایس ترومورتی نے کہا، "ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ دونوں طرف سے ہماری درخواستوں کے باوجود، سومی میں پھنسے ہوئے ہمارے طلباء کے لیے ایک محفوظ راہداری نہیں مل سکی ہے۔

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ٹی ایس ترومورتی نے کہا کہ روس اور یوکرین دونوں کو راضی کرنے کی بہترین کوششوں کے باوجود سومی میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کے لیے محفوظ راہداری نہیں بنائی جاسکی۔

    یوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہونے والے انسانی بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، ترومورتی نے کہا کہ ہندوستان نے یوکرین سے تمام بے گناہ شہریوں اور اپنے شہریوں کے لیے محفوظ اور بلاتعطل راستے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ دونوں طرف سے ہماری درخواستوں کے باوجود، سومی میں پھنسے ہوئے ہمارے طلباء کے لیے محفوظ راہداری نہیں دی گئی ہے۔ سفیر نے کہاکہ "ہم نے یوکرین سے 20,000 سے زیادہ ہندوستانیوں کی بحفاظت واپسی کی سہولت فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے دوسرے ممالک کے شہریوں کو جنگ زدہ ملک سے انخلاء میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے یوکرین اور اس کے پڑوسی ممالک کو انسانی امداد بھیجی ہے اور ان میں ادویات، خیمے، پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک، دیگر امدادی سامان شامل ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی ،اطلاعات کے مطابق آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے تاہم بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی طرف سے کشمیر ی خواتین پرڈھائے جانیوالے مظالم اور انہیں درپیش مشکلات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اوروہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے ہزاروں خواتین سمیت 95ہزار981شہریوں کو شہید کیا ۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم681خواتین کو شہید کیا۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بھارت کی جاری ریاستی دہشت گردی کے دووران 22ہزار 943 خواتین بیوہ ہوئی ہیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے11ہزار 250خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی آبروریزی اور شوپیاں کی سترہ سالہ آسیہ جان اور اس کی بھابھی نیلو فر بھی شامل ہیں جنہیں بے حرمتی کے بعد قتل کردیاگیا تھا۔بھارتی پولیس کے اہلکارنے جنوری 2018میں کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کرنے کے بعد قتل کردیا تھا ۔

    بھارتی فوجیوں نے 10 فروری2021 کو ضلع بانڈی پورہ کے علاقے چیو اجس میں ایک بچی کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں ڈالا جب وہ اپنی بہن کے ساتھ اپنے باغ میں کام کررہی تھی ۔ اس کی بہن کی چیخ و پکار پرمقامی لوگوں نے موقع پر پہنچ کر بچی کو بچایا ۔ متاثرہ خاندان نے اجس پولیس اسٹیشن میں مقدمہ در ج کرایا تھاتاہم بھارتی فوجیوںنے مقدمہ واپس لینے کیلئے مذکورہ خاندان کو حراساں کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میںبھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںنے ہزاروں خواتین کے بیٹوں، شوہروں اوربھائیوںکو حراست کے دوران لاپتہ اورقتل کر دیا ہے ۔دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ34برس کے دوران 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیاگیا ہے ۔

    رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ہزاروں کشمیری نوجوان ، طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر گولیوں اورپیلٹ گنوں کے وحشیانہ استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے 19ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار، دو سالہ نصرت جان ، سترہ سالہ الفت حمید ، انشا مشتاق،افرہ شکور ، شکیلہ بانو،تمنا،شبروزہ میر،شکیلہ بیگم اور رافعہ بانو سمیت سینکڑوں بچے اور بچیاں اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں ۔ گزشتہ سال جولائی میں بھارتی پولیس کے ایک کانسٹیبل اور ایس اپی او نے جموں کے علاقے ڈنسل میں ایک دلت بچی کی اجتماعی آبروریزی کی

    بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی اور ہراسانی کو جنگی ہتھیار کے بطور استعمال کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی درندگی اور بربریت سے بیواوں اور آدھ بیواوں کی بڑی تعداد موجود ہے،بھارتی سفاکوںنے اپنی وحشیانہ کاروائیوں میں معصوم اور بیگناہ کشمیریوں کا خون بیدردی کے ساتھ بہا نے کے علاوہ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتاریوں کے بعد لاپتہ بھی کیا،جس کے باعث جہاں ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں وہیں ہزاروں کی تعداد میںایسی خواتین بھی ہیں جو آدھ بیوہ کہلاتی ہیں، خواتین کا عالمی دن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی افواج کے جرائم کو بے نقاب کیا جائے۔

    کشمیری خواتین کی مشکلات کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی،جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہے۔ جہاں تک خواتین کی آبروریزی اور دیگر جرائم کا تعلق ہے، بھارت خواتین کے حوالے سے دنیا کا ایک بدترین ملک ہے۔ خواتین کے حقوق کی عالمی تنظیموں کو پورے بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین کی حالت زار پر خاموش تماشائی نہیں بلکہ بھارت کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔بھارت اور پورے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے خلاف بھارتی تشدد پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری کو بیدار ہونا چاہیے۔

    عالمی یوم خواتین کے موقع پر دنیا کو اس صدمے کو نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیری بیوائیں اور آدھ بیوائیں بھارتی مظالم اور سفاکیت گزشتہ تین دہائیوں سے برداشت کر رہی ہیں، یہ وقت ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں خواتین کے خلاف ہونے والے بڑے پیمانے پر جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ خواتین کا عالمی دن دنیا کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ وہ کشمیری خواتین کو سفاک بھارتی فوجیوں کے مظالم اور درندگی سے بچانے کے لیے آگے آئے۔

  • خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    نئی دلی:
    بھارتی ریاست میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے جو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے گورنر بھی رہ چکے ہیں کہاہے کہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر تنقید نہ کریں کیونکہ اگر وہ خاموش رہیں تو انہیں ملک کا صدر یا نائب صدر بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ انہیں ان عہدوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

    ستیہ پال ملک نے یہ انکشاف جنڈ کے گائوں کنڈیلا میں کنڈیلا کھاپ اور ماجرا کھاپ کے زیر اہتمام کسان سمان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین سمیت متعدد معاملات پر بی جے پی کی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں ۔ جنوری میں ستیہ پال ملک نے دعویٰ کیاتھا کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے معاملے پر وزیرا عظم سے ملنے گئے تھے ۔

    تاہم انہوں نے کہاکہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ پی ایم مودی نے انہیں کیا جواب دیا، لیکن یہ بہت تکلیف دہ ملاقات تھی اور مودی نے اس موقع پر ان سے لڑائی کی ۔ تاہم انہوں نے کہاکہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں آخر تک بات کریں گے ۔ستیہ پال نے کہاکہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیاتھا کہ اگر آپ خاموش رہیں تو انہیں صدر یا نائب صدر بنایاجا سکتاہے۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان عہدوں کو لات مارتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس سارے واقعے سے ناراض ہوکر انہوں نے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اورکسانوں کی تحریک میں حصہ لینے کا سوچا۔ وہ بھارتی حکومت کے ایک وزیر کے پاس یہ بتانے کیلئے بھی گیا کہ وہ استعفی دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان سے کہا کہ وہ یہ غلطی نہ کریں، کسانوں کے لیے بولیں، ان کے لیے لڑیں، دھرنے پر بیٹھیں لیکن تب تک استعفیٰ نہ دیں جب ان سے اس بارے میں کہاجائے۔

    ستیہ پال ملک نے کسانوں پرنئی دلی میں حکومت کی تبدیلی کیلئے متحدہونے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ وہ اب سڑکوں پر بیٹھنا اور دھرنا دینا بند کریں۔ اپنی حکومت بنائیں، حکومت بدلیں، کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2سال بعد لوک سبھا کے انتخابات ہیں۔ اگر کسان متحد ہو کر ووٹ دیں گے تو یہ سارے لیڈر دہلی سے بھاگ جائیں گے اور وہاں کسانوں کی حکومت ہوگی۔

  • بلا عنوان   ،تحریر : فضیلت اجالہ

    بلا عنوان ،تحریر : فضیلت اجالہ

    ارشاد باری تعالی ہے کہ

    زمین و آسماں ، ہر جگہ پر خدا کی بادشاہت ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔( سورۃ الشوریٰ ۴۹)

    آج میرے قلم پہ لفظوں کا قحط طاری ہے ، احساسات ششدر اور دل و دماغ میں حشر برپا ہے ۔ نوک قلم ایک ماں کا، پورے میانوالی کا یا شائد پورے پاکستان کا رنج و الم الفاظ میں سمونے سے قاصر ہے
    کتنی اندوہناک اور لرزا دینے والی خبر ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں
    ایک ننھی پری عورتوں کے عالمی دن سے صرف ایک دن پہلے اپنے ہی سفاک باپ کے ہاتھوں رب کی جنت میں واپس چلی گئی ۔ ایک ننھا سا گوشت پوست اور اس قدر بربریت کیا کیا ازیت نا جھیلی ہوگی اس ننھی جان نے یا شائد اس کی سانس تو گولی چلنے کی آواز سے ہی سہم کے ساکن ہوگئ ہوگی۔ سوچتی ہوں تو روح لرز جاتی ہے کہ کیا وہ معصوم کلی رب کی بارگاہ میں سوال نہیں کرے گی کہ میرے مالک مجھے کہاں بھیجا تھا؟میں نے کیا خطا کی تھی ؟ باپ تو تپتے صحرا میں چھاؤں کا نام ہے نا پھر میرے اپنے ہی باپ نے مجھ میں اتنی آگ کیوں انڈیل دی۔
    یہ خبر یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ افسردگی سی افسردگی ہے ۔ تکلیف زیادہ ہے کہ غصہ ، دل اظہار کرنے سے قاصر ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس واقعے سے عرب کے دور جہالت کی یاد تازہ ہوگئی ۔
    جہاں بیٹیوں کو زندہ ہوتے ہی دفنا دیا جاتا تھا۔
    وہ اسلام جس نے بیٹیوں کو رحمت خداوندی کا درجہ دیا آج اسی اسلام کے نام پہ حاصل کردہ ملک میں کبھی نئے کپڑے مانگنے کی پاداش میں تین تین بیٹیوں کو موت کا لباس اوڑھادیا جاتا ہے تو کبھی بیٹا نا پیدا ہونے کی جرم میں معصوم سات روزہ کلی کی سانسیں کھینچ لی جاتی ہیں لیکن کوئ قیامت برپا نہیں ہوتی ، نا کہیں بجلی گرتی ہے اور نا آسمان ہی ٹوٹتا ہے ، کیوں بے بس و لاچار ماں کی آہیں عرش و فرش کو نہیں ہلاتی
    آخر کیوں فرشی منصفوں کا ضمیر نہیں جاگتا؟ کیوں ایسے ظالم کرداروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا
    کب تک آخر کب تک ریاست اس گھناؤنے واقعات کو نجی مسائل کہہ کر درگزر کرتی رہے گی کب تک حوا کی بیٹی نا کردہ جرائم کی سزا پاتی رہے گی

    اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول
    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پَھول

    اک روئی سی دھی پنجاب دی، تُوں لکھ لکھ مارے بین
    اج لکھاں دھیاں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کہن

    اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب
    اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

    یہ پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے عورت ہمیشہ مرد کی نام نہاد انا و غیرت اور ظلم و بر بریت کا نشانہ بنتی رہی ہے اس ننھی پری کے سفاک باپ جیسے کردار دنیا میں ہزاروں ، لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ دل کو اطمینان دینے والا احساس یہ ہے کہ اس سے کئی سو گنا زیادہ تعداد ان مردوں کی ہے جن کے لیے ان کی بیٹیاں ان کے جگر کا ٹکڑا ہیں۔

    ہمارے اطراف موجود ملنے جلنے والوں رشتے داروں دوستوں میں اکثریت ایسے گھرانوں کی ہے جہاں باپ کی جان ان کی بیٹیوں کا وجود ہے ۔ جہاں بیٹیاں کو رحمت سمجھ کر ان کو مان سمان اور پیار سے پالا جاتا ہے ۔

    اور ایسے دل دہلا دینے والے واقعات ہر معاشرے میں قابل نفرین سمجھے جاتے ہیں کسی بھی معاشرے میں ایک سفاک باپ کے ایسے سفاک عمل کے پیچھے صرف غلط معاشرتی سوچ ہی نہیں کبھی کھی ذہنی مرض ، نفسیاتی الجھنیں اور کئی دوسرے عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں ۔

    ورنہ حقیقی صورتحال کیا ہے اس کو جاننا مشکل نہیں۔ آج صرف سوشل میڈیا کی ہی مثال لیں کسی بھی صنفی امتیاز کے بنا مردوں کی اکثریت اس واقعے کی مذمت کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں سے اپنی محبت کا کھل کر اظہار کررہے ہیں ۔

    کیونکہ ایک باپ کے لئے بیٹیاں تو خالق کی اتنی پیاری مخلوق ہے جن کے وجود کا جن کے ہونے کا صرف شکرانہ ہی ادا کیا جاسکتا ہے ۔

    اللہ سب کے گھر کی رحمتوں کو سلامت رکھے ۔ آمین
    اس خاندان کے معتبر بزرگوں سے بہتے اشکوں کے ساتھ التماس ھے کہ اس کیس ک مدعی صلح یا رشوت کے پیسوں کی بجائے اس ننھی کلی کو سامنے رکھے اگر آج ایک بیٹی کا خون بخش دو گے یا خون بہا لے کر چپ کر جاؤ گے تو کل دوسری اور تیسری بیٹی کی قبر کھودنے کے لئیے بھی تیار رہنا

    یہ کیس ایک خاندان یا ایک ماں کا نہیں پورے پاکستان کا ہے ،یہ کیس ہر لاچار و مجبور ماں کا ہے جو نام نہاد غیرت مند مردوں کے ہاتھوں روز قتل ہوتی ہیں یہ کیس ہر ہر اس بنت حوا کہ ہے جس کا جرم اس دنیا میں سانس لینا ہے ۔ اس کیس کا نتیجہ ایسے تمام گھناؤنے کرداروں کے لئیے ایک پیغام ایک واضح نشان عبرت ہونا چاہیئے ۔
    @_Ujala_R

  • عورت اور اسلام،تحریر،ام سلمیٰ

    عورت اور اسلام،تحریر،ام سلمیٰ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    اسلام میں عورت کا بہت خوبصورت اور بلند مقام ہے.

    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اسلام قبول کرنے والی پہلی شخص تھی.
    زمانہ جاہلیت میں اسلام سے قبل عورتوں پیدا ہوتے دفنا دیا جاتا تھا اور ماہواری کے دونوں میں گھر سے نکال دیا جاتا تھا لیکن اسلام آنے کے بعد اسلام نے عورتوں کے حقوق کا صحیح طرح تحفظ کیا.اور معاشرے میں ان کے اہم کردار کی صحیح طرح تشریح کی عورت ماں ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خود کو ماں کے پیار سے تشبیہہ دی۔

    غلط فہمیوں کے باوجود اسلام میں عورت کی حیثیت ایک محبوبہ کے برابر ہے۔ ایک گہرے جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی منفرد شراکت کا جشن منانا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کرنا اور ان کے حقوق کے لیے مہم چلانا۔

    اکثر لوگ آپ کو بحث کرتے نظر آتے ہیں کے عورتوں کے ساتھ معاشرے میں زیادتی ہوتی ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کے آخر معاشرے میں ہوتی عورت کے ساتھ زیادتی کی وجوہات کیا ہیں؟؟
    اسلام میں خواتین کے بارے میں بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے پیدا ہوتے ہیں،خاص کر ہمارے پڑوسی ملک کے ساتھ پارٹیشن سے پہلے کچھ غلط رسم و رواج شامل ہوئے جو کے ہم معاشرے میں آج تک جاری رکھے ہوئے ہیں.
    جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی توہین کرتے ہیں، بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے براہ راست مخالف بھی ہیں۔ .

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام عورت کو عزت دینے، اس کی حفاظت کرنے، اسے بنی نوع انسان کے بھیڑیوں سے بچانے، اس کے حقوق کی حفاظت اور اس کے درجات کو بلند کرنے کے لیے آیا ہے۔

    تاریخ، ثقافت اور مذہب کے درمیان تمام الجھنوں کے ساتھ، اپنے آپ سے سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن اور احادیث اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں ہمیں کیا درس دیتی ہیں؟

    اسلام ہمیں صنفی مساوات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے۔

    قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا ایک ہی روح سے پیدا ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر مجرم، یکساں ذمہ دار اور یکساں قابل قدر۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک پاکیزہ حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور عورت – اور ہمیں اس پاکیزگی کو ایمان کے ساتھ ساتھ نیک نیتوں اور اعمال کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    مساوات کا موضوع دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعے بھی چلتا ہے۔ قرآن کی ایک اہم آیت میں ہے: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔

    یہ آیت ہمیں دکھاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔

    ایک اور قرآنی آیت میں عورت اور مرد کو برابر کا درجہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’جو کوئی مرد ہو یا عورت، نیک عمل کرے گا اور ایمان لائے گا، ہم اسے اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کا بدلہ دیں گے۔‘‘ (16:97)

    اسلام سے قبل یورپ سے لے کر عربی دنیا تک عورتوں کو مردوں کے برابر نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام بذات خود جزیرہ نما عرب میں پیدا ہوا، جو اب سعودی عرب ہے، جہاں خواتین کے پاس کاروبار، جائیداد یا وراثت میں پیسہ نہیں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لیے تعلیم نایاب تھی، اور لڑکیوں کو اکثر پیدا ہوتے پھینک دیا جاتا تھا یا زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اور ان کی کاروباری زوجہ، خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت سے غیر منصفانہ طریقوں کے خلاف کھڑے ہوئے، مردوں کو عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق، تمام زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مردوں اور عورتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کریں اور ان پر کبھی زبردستی نہیں کی جانی چاہیے۔

    اسلامی قوانین کے تحت خواتین کو جائیدادیں بیچنے اور خریدنے، کاروبار چلانے، شادی کے دوران کسی بھی موقع پر اس سے جہیز کا مطالبہ کرنے، ووٹ ڈالنے اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حق بھی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ترکی اور پاکستان جیسے کئی اسلامی ممالک میں خواتین صدر رہ چکی ہیں۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک مساوی رسائی کو بھی فروغ دیا، ہمیں یہ سکھایا کہ، "علم کا حصول ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور محترم تھیں۔ اس سے ثابت ہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور اپنی نشست ان کو دے دیتے۔آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے ایسے کئی واقعات ہیں جن سے ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کے کس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی تعلیمات اور اپنے عمل سے بتایا کے ایک اچھے معاشرے میں عورت کی کیا اہمیت ہے.
    سوشل میڈیا پے چلتی عورتوں کی آزادی کی بحث میں پڑنے کے بجائے اسلام میں عورت کے حقوق اور عورت کے کردار کے بارے میں پڑھیں اور ایک اچھے معاشرے کے لیے عورت کے کردار کو صحیح طرح جانیں.

    Twitter handle
    @umesalma_

  • بھارت کے روس سےMiG-29َ،روسی ہیلی کاپٹراورڈیفنس سسٹم ایس 400 کے آرڈرزمنسوخ:دنیا کا نقشہ تبدیل

    بھارت کے روس سےMiG-29َ،روسی ہیلی کاپٹراورڈیفنس سسٹم ایس 400 کے آرڈرزمنسوخ:دنیا کا نقشہ تبدیل

    نئی دہلی :واشنگٹن :بھارت کے روس سےMiG-29َ،روسی ہیلی کاپٹراورڈیفنس سسٹم ایس 400 کے آرڈرزمنسوخ:دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا یہ بحث پچھلے کئی دن سے چل رہی تھی کہ روس کے یوکرین پر حملے کے جواب میں امریکی پابندیوں کے بعد کسی بھی ملک کے لیے روس سے فوجی سازوسامان کی خریداری جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا،اس حوالےسے معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ڈونلڈ لو نے بدھ کو سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ” پچھلے چند” ہفتوں میں، "جو کچھ ہم نے ہندوستان سے دیکھا ہے اس میں یہ چیز ثابت ہوگئی ہےکہ بھارت نے روس سے تمام اسلحہ خریدنے کے معاہدے ختم کردیئے ہیں‌

    نئی دہلی میں رابطہ کرنے پر وزارت دفاع کے ترجمان نے ان دعووں کی تردید کرنے سے انکار کردیا ہے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی معاملات کچھ اس طرف جارہے ہیں ۔ لو، جنہوں نے ہندوستان کو ایک "واقعی اہم سیکورٹی پارٹنر” کہا، وہ "روسی جارحیت” پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے چند گھنٹوں بعد سینیٹ میں بات کر رہے تھے، جہاں سے ہندوستان، چین، پاکستان، بنگلہ دیش سمیت 34 دیگر ممالک کے ساتھ۔ سری لنکا غیر حاضر رہے

    خاص طور پر یہ پوچھے جانے پر کہ کیا، بھارت کی عدم شرکت کے پیش نظر، بائیڈن انتظامیہ روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کے لیے دہلی پر CAATSA پابندیاں لگانے پر غور کر رہی ہے ،

    ان کا کہنا تھا کہ CAATSA یا Countering America’s Adversaries through Sanctions Act 2017 کا امریکی قانون ہے جو ایران، شمالی کوریا اور روس کو نشانہ بناتا ہے اور ان کے ساتھ کاروباری لین دین کرنے والے کسی بھی ملک یا ادارے کے خلاف درخواست کی جا سکتی ہے۔

    2020 میں امریکہ نے ترکی کو S-400 خریدنے پر پابندی لگا دی۔ دہلی نے 2018 میں ماسکو کے ساتھ S-400 کے لیے 5.3 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے، اور روس نے نومبر 2021 میں بھارت کو سسٹم کی فراہمی شروع کی۔

    دہلی کو یقین تھا کہ بائیڈن انتظامیہ S-400 سودے کے لیے ہندوستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو دیکھتے ہوئے مستثنیٰ قرار دے گی، کواڈ ممالک کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہوگا مگریہ توقعات درست ثابت نہ ہوئیں‌

    تاہم، یوکرین پر روس کے حملےکے بعد ماسکو کو سزا دینے کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی نئی پابندیاں، اور تنازعہ میں ہندوستان کی غیر جانبدارانہ پوزیشن نے S-400 معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے

    امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بائیڈن انتظامیہ CAATSA قانون کی پیروی کرے گی اور اس قانون کو مکمل طور پر نافذ کرے گی اور جب ہم ان میں سے کسی کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو کانگریس سے مشورہ کریں گے۔ کیا، بدقسمتی سے، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ صدر یا (سیکرٹری آف اسٹیٹ) روس پر یا پابندیوں کے معاملے پر، یا اس فیصلے پر روس کا یوکرین پر حملہ برداشت کرے گا

    لو نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرنا ہے۔لیکن امریکہ کو یقین ہے کہ بھارت روس سے دوستی کی بجائے امریکہ سے وفا کو ترجیح دے گا

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "بھارت اس وقت ہمارا واقعی ایک اہم سیکورٹی پارٹنر ہے۔ اور یہ کہ ہم اس شراکت داری کو آگے بڑھانے کی قدر کرتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ روس کو جس شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ ہندوستان کو اب روس سے دور ہونا پڑے گا اور ہندوستان آگے بڑھنا چاہتا ہے

    ایک سوال کے جواب میں لو کا کہنا تھا کہ بھارت کے حوالے سے ایک ابہام بھی تھا اور خطے کی اسٹریٹیجک صورتحال بھی کچھ ایسی تھی کہ بھارت کی ضروریات کے پیش نظر کچھ آزادیاں‌ تھیں لیکن اب ماضی کو بھول کرنئے معاہدوں کی ضرورت ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "سیکرٹری اسٹیٹ ٹونی بلنکن اس جنگ کے فرنٹ لائنز پر رہے ہیں۔ صدر، محکمہ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام گزشتہ مہینوں کے دوران یوکرین پر اپنے ہندوستانی ہم منصبوں کے ساتھ انتہائی سنجیدہ اعلیٰ سطحی بات چیت کر رہے ہیں،‘‘ لو نے کہا، ہندوستان کی طرف سے تمام ریاستوں سے اقوام متحدہ کی پابندی کی اپیل کو نوٹ کرتے ہوئے چارٹر، خودمختاری اور دیگر ریاستوں کی علاقائی سالمیت کا احترام، اور "چھوٹے اقدامات” کے اشارے کے طور پر یوکرین کو انسانی بنیادوں پر سامان بھیجنا امریکہ کی پالیسیوں کو تائید ملنے کے برابر تھی

    انہوں نے کہا کہ کھرکیو کی بمباری میں ہندوستانی طالب علم کی ہلاکت نے ہندوستان میں رائے عامہ کو روس کے خلاف بھی موڑنا شروع کردیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں روس کی بمباری کے نتیجے میں‌ ہلاک ہونے والے ہندوستانی طالبعلم کے معاملے پر بھارت اور روس کے درمیان کافی سردمہری دکھائی جارہی ہے جس کا واضح مطلب یہی کہ اب بھارت روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنے کی بجائے امریکہ کی طرف ہاتھ بڑھائے گا جس کا واضح مطلب خطے میں‌ اب بھارت اور روس کے درمیان اب تعلقات وہ نہیں‌جو ماضی میں ہوا کرتے تھے

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہے کہ ان سارے حالات کی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے دورہ روس کے درمیان روس پر واضح کیا تھا کہ اب اسے اپنے ماضی کے وہ وطیرے بدلنے ہوں‌ گے اور اگر روس پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے چاہتا ہے تو پھرپاکستان کے مخالفین کی حمایت سے بھی دور رہے ، اس ملاقات کے بعد حالات اچاک بدل گئے ، جس کے نتیجے میں‌آج بھارت اپنی کئی دہائیوں پر روس سے دوستی کو خیرآباد کہہ دیا تھا

  • یوکرین میں جنگ بندی کےلیے ترک صدر طیب اردوان بھی میدان میں کود پڑے

    یوکرین میں جنگ بندی کےلیے ترک صدر طیب اردوان بھی میدان میں کود پڑے

    انقرہ :یوکرین میں جنگ بندی کےلیے ترک صدر طیب اردوان بھی میدان میں کود پڑے،اطلاعات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا روسی صدر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، اس حوالے سے ترک صدارتی دفتر نے بتایا کہ ترک اور روسی صدور نے یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    اس موقع پر ترک صدر نے جنگ بندی، انخلا کی محفوظ راہداریوں اور امن معاہدے کی اہمیت پر زور دیا۔

    ترک صدارتی دفتر نے مزید بتایا کہ صدر اردوان کا کہنا تھا کہ یوکرین تنازع کے پُرامن حل میں ترکی اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، یوکرین میں فوری جنگ بندی تشویشناک انسانی صورتحال کو کم کردے گی۔

    دوسری جانب کریملن کا کہنا ہے کہ ترک صدر اردوان کا روسی صدر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ اس موقع پر صدر پیوٹن نے کہا کہ روس یوکرین اور غیرملکی ساتھیوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، یوکرین میں فوجی آپریشن منصوبے اور شیڈول کے مطابق ہورہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کی طرف سے لڑائی بند کرنے پر ہی یوکرین میں فوجی آپریشن رُکے گا۔صدر پیوٹن کے مطابق روس، یوکرین کا مذاکراتی عمل ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی۔انہوں نے کہا امید ہے یوکرین کے مذاکرات کار مزید تعمیری نقطہ نظر اختیار کریں گے اور حقائق مدنظر رکھیں گے۔