Baaghi TV

Author: +9251

  • اسلام آباد میں  لشکرکشی کی دھمکیاں دینے والوپہلے اپنے گھر کی فکرکریں:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد میں لشکرکشی کی دھمکیاں دینے والوپہلے اپنے گھر کی فکرکریں:شاہ محمود قریشی

    عمر کوٹ: سندھ والو بہت جلد بھٹوکریسی سے تمہاری جان چھوٹ جائےگی:شاہ محمود قریشی کا عمرکوٹ میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر کوئی گروپ نہیں، جس نے پی ٹی آئی اور مجھے چھوڑنا ہے آج چھوڑ جائے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کا سندھ حقوق مارچ آج عمرکوٹ پہنچا، جہاں پی ٹی آئی رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پرجوش خطاب کیا۔

    اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2013میں بھی کہا تھا کہ اوپر اللہ نیچے بلا ، مگر بلا نظر نہیں آیا کیونکہ 2013 میں بلے کے پیچھے کچھ بلیاں لگی تھیں جو بلے کا حق کھا گئی تھیں، اب ایسا نہیں ہوگا، عمرکوٹ والو، کیا اس بلی کو مزید میاؤ میاؤ کی اجازت دو گے؟اگر آپ تبدیلی لائیں گے تو ٹھپہ کس پر لگائیں گے؟ بلے پر۔

    وزیر خارجہ نے سال دو ہزار تیرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس روز آصف زرداری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو جیتنے نہیں دینا چاہے پولنگ اسٹیشنزکو آگ لگادو، آصف زرداری کے حکم پر 25پولنگ اسٹیشنز کو آگ لگائی گئی ، یہ تماشا نہ ہوتا تو وہ سیٹ بلے نے نکال لی تھی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ہار گئے یا ہرائے گئے وہ جیت گئے ہم نے مبارکباد دی، فرق اتنا ہے کہ تم نوٹ سے جیتے ہو ووٹ سے نہیں، ہم نے ہار کر بھی ترقیاتی کاموں کاجال بچھایا وہ جیت کر بھی منہ موڑ گئے، آج تھر کے 16لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ دےدیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے صحت کارڈ کی مخالفت کی تھی۔

     

    عمر کوٹ کی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ تھر والوں پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ بکتے ہیں ،یہ تہمت ہے، عمرکوٹ والوں سے کہتا ہوں کہ زرداری سے گھبرانا نہیں، آپ لوگوں کے بارے میں دو ہزار تیرہ میں بھی کہا گیا کہ یہ لوگ دبے ہوئے ہیں کچلے ہوئے یہ مقابلہ نہیں کرسکیں گے مگر آپ نے ثابت کر دکھایا تھا۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 2013میں بھی کہا تھا اوپر اللہ نیچے بلا ، مگر بلہ نظر نہیں آیا کیونکہ 2013 میں بلے کے پیچھے کچھ بلیاں لگی تھیں جو بلے کا حق کھا گئی تھیں، اب ایسا نہیں ہوگا، عمرکوٹ والو، کیا اس بلی کو مزید میاؤ میاؤ کی اجازت دو گے؟اگر آپ تبدیلی لائیں گے تو ٹھپہ کس پر لگائیں گے؟ بلے پر۔

    اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے واضح الفاظ میں کہا کہ تحریک انصاف کے اندر کوئی گروپ نہیں، جس نے پی ٹی آئی اور مجھے چھوڑنا ہے آج چھوڑ جائے۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلاول تقریر کر رہا ہوتا ہے تو پیچھے سے عمران خان کی آواز آتی ہے ‘آپ نے گھبرانا نہیں ہے’ کیونکہ بچہ گھبرا رہا ہوتا ہے، کیونکہ چھاؤں کا پلا ہوا دھوپ میں کیسے کھڑا ہو سکتا ہے؟

  • اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی

    اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی

    اسلام آباد:اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا۔ تحریک پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں۔دوسری طرف ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ دعوے تو بڑے ہورہے تھے مگردستخط صرف 80 ممبران کے ،

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی ف، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر کے دستخط ہیں۔ ملک اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں۔ مجوزہ مسودے کے مطابق ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے، خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

    مجوزہ مسودے میں کہا گیا کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر کو الرٹ کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد اور ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے۔

    واضح رہےکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے سرگرم ہیں اور اس سلسلے میں سیاست کے بڑے کھلاڑیوں کی بیٹھکیں جاری ہیں جب کہ (ن) لیگ کے رہنما رانا ثنااللہ نے تحریک عدم اعتماد کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

  • پاک بحریہ کی بڑی کارروائی، یونٹ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا لیا: آئی ایس پی آر

    پاک بحریہ کی بڑی کارروائی، یونٹ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا لیا: آئی ایس پی آر

    راولپنڈی:پاک بحریہ نے آبدوز شکن وار فیئر یونٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا لیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی آبدوز کا یکم مارچ کو سراغ لگایا گیا۔ گزشتہ پانچ سال میں چوتھی بار بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود میں ملی ہے، بھارتی آبدوز کو تلاش کرنا پاک بحریہ کی پیشہ وارانہ مہارت کا ثبوت ہے، پاک بحریہ پاکستان کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔

     

    یاد رہے کہ 2019 میں بھی بھارتی آبدوز کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے پاک نیوی کے جوانوں ایک آبدوز کا سراغ لگایا تھا ، جس پر صدر عارف علوی نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاک بحریہ کے افسران اور سیلرز کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کے اعتراف میں ملٹری اعزازات و اسناد سے نوازا تھا

    پلوامہ حملے کے بعد بھارتی بحریہ نے اپنی آبدوزیں پاکستان کی سمندری حدودمیں تعینات کرنے کی کوشش کی تھی جسے پاک وطن کے بہادر سپوتوں نے پیشہ ورانہ مہارت کے سبب ناکام بنادیا تھا۔ پاک بحریہ کے پی تھری سی اورین جہاز کے آفیسرز لیفٹیننٹ کمانڈر حمیرافتخار اورلیفٹیننٹ کمانڈر خرم داؤدنے نہ صرف دشمن کی آبدوز کا سراغ لگایا بلکہ پاکستان کی سمندری حدودکی خلاف ورزی سے بھی روکا۔

    پاک بھارت کشیدگی کے دوران دشمن کے ناپاک عزائم کو پسپا کرنے کے لیے پاک بحریہ کی آبدوزیں دشمن کے پانیوں میں کامیابی سے طویل مدتی آپریشنل ڈپلائمنٹ پر تعینات رہیں۔ بہادری اور شجاعت کے اس اعلیٰ اقدام کے اعتراف میں کیپٹن سیدایلیا حسن پاکستان نیوی اور لیفٹیننٹ کمانڈر حمیر افتخار کو ستارہ بسالت جبکہ لیفٹیننٹ کمانڈر خرم کو تمغہ بسالت تفویض کرنے کی منظوری دی۔

    علاوہ ازیں صدر نے پاک بحریہ کے افسران، سی پی اوز/سیلرز اور سیویلنز کے لیے بھی عسکری اور سول اعزازات کی منظوری دی جن میں3 ہلال امتیاز (ملٹری)، 2 ستارہ بسالت، 8 تمغہ بسالت، 14 ستارہ امتیاز (ملٹری)اور 13 آفیسرز کو تمغہ امتیاز (ملٹری) دینے کی بھی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ کے ایم سی پی اوز، سی پی اوز اور سیلرزکے لیے4امتیازی اسناد اور98تمغہ خدمت کی بھی منظوری دی گئی۔

    چیف آف نیول اسٹاف کی جانب سے 66 افسران اور سیلرز کو بہترین کارکردگی کے لیے لیٹر آف کمینڈیشن سے بھی نوازا گیا تھا

  • :3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن:مگربھارت پھرباز نہ آیا

    :3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن:مگربھارت پھرباز نہ آیا

    اسلام آباد ::3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن ہے ،تاریخ شاہد ہے کہ 03 مارچ 2009لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مالی سرپرستی میں حاصل تھی کے جان لیوا حملے اور 2016میں پاکستان میں دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی تلخ یاد دہانی کادن ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں واقعات میں براہ راست بھارت ملوث ہے جن کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔

    سری لنکن کرکٹ ٹیم پر بھارتی ایجنٹوں نے 3مارچ 2009کو لاہور میں دہشت گرد حملہ کیاتھا جس کامقصد عالمی سطح پر پاکستان کو کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کیلئے پاکستان کو خطرناک ملک ثابت کرنا تھا ۔بعد ازاں 3مارچ 2016کو بھارتی جاسوس اور خفیہ ایجنسی را کے دہشت گردکمانڈر کلبھوشن یادیو جو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے ایرانی پاسپورٹ پر پاکستان جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے سمیت پاکستان میں دہشت گردی کی مذموم کارروائیوں میں ملوث ہے ۔

    کلبھوشن نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ بھارتی جاسوس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ صفورا بس حملہ کے ماسٹر مائنڈ سے بھی رابطہ میں تھا، جس میں مسلح افراد نے 45 اسماعیلی فرقے کے لوگوں کو گولی مار کرقتل کیا تھا۔ گرفتار بھارتی جاسوس کے اعترافی بیان سے ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت پڑوسی مسلم ملک پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔

    بھارت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کررہا ہے اور پاکستان نے ایک ڈوزئیر کے ذریعے عالمی برادری کو پاکستان میں بھارت کی کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے آگاہ بھی کیا ہے۔

  • یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ میں روسی گیس کپمنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ میں روسی گیس کپمنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    لندن :یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ میں روسی گیس کپمنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان ،اطلاعات کے مطابق روس کی قومی گیس کمپنی Gazprom کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2 مارچ کو لندن سٹاک ایکسچینج میں محض 250 ملین ڈالر تک گر گئی، اس کے سٹاک کی قیمت میں 97% کی ایک دن کی کمی کے بعد ماہرین نے روسی کمپنی کے لیےخطرے کی گھنٹی بجادی

    یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب مغربی ممالک یوکرین میں ماسکو کی بڑھتی ہوئی جنگ کے جواب میں حالیہ دنوں میں روس کی معیشت کے خلاف اپنی پابندیاں بڑھا رہے ہیں۔ Gazprom کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن سال کے آغاز میں $68bn سے زیادہ تھی، اور 1 مارچ کو $61bn سے اوپر بند ہوئی۔

    2 مارچ کو 11:30 GMT تک، Gazprom میں حصص کی قیمت صرف $0.03 فی پیس تھی، جو اسے $248.6mn کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن دیتا ہے۔

    روس کی سب سے بڑی تیل کمپنی Rosneft کو 2 مارچ کو اس کے حصص کی قیمت میں $0.88 فی حصص میں اسی طرح کی لیکن کم شدید ناکافی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اسے $9bn کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن حاصل ہوئی۔ روس کے دوسرے سب سے بڑے گیس پروڈیوسر نووٹیک کے حصص 96% سے زیادہ گر گئے، جس سے اس کا سرمایہ صرف $163mn رہ گیا۔

    تیل اور گیس کی جگہ سے باہر، روس کے مرکزی سرکاری قرض دہندہ Sberbank نے بھی ابتدائی ٹریڈنگ میں اپنے حصص کی قیمت میں 94.24% کی کمی دیکھی جو صرف $0.01 تک پہنچ گئی۔ بینک نے کہا کہ اس کے یورپی ذیلی اداروں نے "غیر معمولی نقدی اخراج” کا تجربہ کیا ہے۔

  • روسی جنگی طیارے ہمارے علاقے میں گھُس آئے :سویڈن

    روسی جنگی طیارے ہمارے علاقے میں گھُس آئے :سویڈن

    کوپن ہیگن:روسی جنگی طیارے ہمارے علاقے میں گھُس آئے :اطلاعات کے مطابق سویڈن نے کہاہے کہ روس کے جاسوس طیارے نے 4روسی لڑاکا طیاروں کے ہمراہ بحیرہ بالٹک پر مختصر دورانیے کے لیے سویڈن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جاری بیان کے مطابق روسی طیاروں نے سویڈن کے جنوب میں پرواز کی۔

    فوج کے بیان میں کہا گیا کہ طیارے اجازت کے بغیر سویڈن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ ۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جبکہ یوکرین پر روسی فوج کشی جاری ہے اور روس یوکرین پر جلد از جلد قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹوں میں روسی عسکری طیاروں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور روسی جنگی بحری جہازوں کی موجودگی میں اضافے کی اطلاعات دی جا رہی ہیں۔

    سویڈن فوج کا کہنا ہے کہ چار روسی لڑاکا طیاروں دو Su-27s اور دو Su-24s نے آج بحیرہ بالٹک پر ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔اب اگرروس نے کوئی ایسی غلطی کی تو روس کو سخت جواب دیا جائےگا

    ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان نے روس اور یوکرین تنازع پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے جو کہ سفارتکاری کی ناکامی کی عکاس ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کے مطابق عوام کے حق خودارادیت، طاقت کے عدم استحکام یا استعمال کے خطرے، ریاستوں کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے پرعزم ہے، پاکستان مساوی اور ناقابل تقسیم سلامتی کے حصول کو یکساں طور پر برقرار رکھنے کے حق میں ہےان کا مستقل اور عالمی سطح پر احترام کیا جانا چاہئے۔

    انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے روس اور یوکرین کے درمیان تازہ ترین صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی سفارتکاری سے فوجی تنازع کو ٹالا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ہم نے کشیدگی میں کمی ، ازسر نو مذاکرات ، پائیدار بات چیت اور مسلسل سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیا۔

    انہوں نے کہا کہ تشدد اور جانی نقصان سے بچنے کے ساتھ ساتھ فوجی ، سیاسی اور سفارتی کشیدگی میں مزید اضافے کی بھی ضرورت ہے جو بین الاقوامی امن و سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اس حوالے سے مسلسل اشارہ دیا گیا کہ ترقی پذیر ممالک کہیں بھی تنازعات سے معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ہمیں امید ہے روس اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان شروع ہونے والی بات چیت حالات کو معمول پر لانے اور دشمنی کے خاتمے کا موجب ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ متعلقہ کثیر الجہتی معاہدوں، بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعات کے مطابق تنازعہ کا سفارتی حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متاثرہ علاقو ں میں شہریوں کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کی تمام کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔ حکومت پاکستان یوکرین میں پھنسے پاکستانی شہریوں اورطلبائ کی حفاظت اور بہبود کے حوالے سے سب سے زیادہ فکر مند ہے۔ ان میں سے اکثریت کو نکال لیا گیا ہے باقی بچنے والوں کو بھی جلد نکال لیا جائے گا۔ اس حوالے سے یوکرین کے حکام کے ساتھ ساتھ پولینڈ، رومانیہ اور ہنگری کی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہیں۔

  • عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    لاہور: عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی بہت اضافہ ہوچکا تھالیکن جب سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چھڑی ہے اس وقت سے لیکر اب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مسلسل آگ لگی ہوئی ہے اور آج تیل کی قیمتیں‌تاریخ کی بلند تارین سطح پرآگئی ہیں‌

    اطلاعات ہیں کہ آج اچانک تیل کی قیمتیں 113 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں‌، ۔ روس پر پابندیوں کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے ابھی اور بھی بڑھنے کے مواقع ہیں ، ۔ادھر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طئے نہیں ہوتے تو عالمی منڈی میں یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم کے ریلیف پیکج کے تحت 4 ماہ کے لئے قیمتیں مستقل رکھنے کا فیصلہ پاکستانی صارفین کو مہنگائی کی اس آگ سے محفوظ رکھے گا۔

    دوسری طرف عوام الناس اور عالمی امور سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بڑی حکمت عملی سے ملکی معیشت کو ٹریک پرچلایا ہے اور اب ملکی معیشت درست سمت چل پڑی ہے ، اس لیے وزیراعظم نے عالمی مارکیٹ میں‌ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود قوم کو ریلیف دے کر اپنی اہلیت ثابت کردی ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے ن لیگ کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی مختلف میڈیا چینلز پر یہ حیرانی طور پر کہہ چکے ہیں‌کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جارہی ہیں اور ان حالات میں عمران خان نے پٹرول کی قیمتیں‌ کم کرکے حیران کردیا ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا ہے جس کی وجہ سے سے بجلی اور پٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں بلا سود قرضوں کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم سے کہتا ہوں کے وہ ٹیکس ادا کریں تاکہ اسے نچلی سطح کے عوام پر خرچ کیا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے مدینے کی جو مثالی ریاست قائم کی اس میں کوئی قانون سے بالا تر نہیں تھا اور ریاست نے معاشرے کے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی تھی۔ بدقسمتی سےہم نے ا س نظریے سے روگردانی کی جو قیام پاکستان کی بنیاد تھا۔ دنیاکے کئی غیر اسلامی ممالک ریاست مدینہ کے زریں اصولوں کو اپنا کرترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے جبکہ مسلمان ان کو ترک کرکے زوال کا شکار ہو گئے۔

    عمران خان نے کہاکہ ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس جمع کیا ہے۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے جبکہ دنیا میں اس کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ ہمارے پاس جتنازیادہ پیسہ جمع ہو گا عوام پر اتنا ہی زیادہ خرچ کریں گے اور ریلیف دیں گے۔ 45 لاکھ خاندانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی شروع کی ہے، اس کا آغاز پسماندہ علاقوں سے کیا۔ دیہات میں ساڑھے 3 لاکھ روپے تک جبکہ شہروں میں 5 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے دیئے جائیں گے تاکہ لوگ اپنا روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔ گھر کی تعمیر کے لئے 20 لاکھ روپے قرض دیاجائےگا۔ حکومت نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھائے گی تاکہ و ہ اپناروزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔

  • یوکرین پرحملہ:اقوام متحدہ کی قراردادمنظور:پاکستان اور       چین کاحمایت سےاحتراز:روس پاکستان کا انتہائی مشکور

    یوکرین پرحملہ:اقوام متحدہ کی قراردادمنظور:پاکستان اور چین کاحمایت سےاحتراز:روس پاکستان کا انتہائی مشکور

    نیویارک:یوکرین پر روسی حملہ، اقوام متحدہ کی قرارداد منظور، پاکستان اور چین غیر حاضر رہے ،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی سے یوکرین پر روسی حملے کے خلاف قرار داد منظور ہوگئی جبکہ پاکستان اور چین اجلاس سے غیر حاضر رہے۔

    روس یوکرین جنگ کے معاملے پر 40 برس میں پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں کثرت رائے سے روس کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کرلی گئی۔193 رکنی ایوان میں 141 ممالک نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا، 5 نےخلاف ووٹ ڈالا جبکہ 35 غیر حاضر رہے۔

    غیر حاضر رہنے والے ممالک میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، چین، سری لنکا اور ایران شامل ہیںِ جبکہ روس، شام، بیلا روس سمیت 5 ممالک نے قرار داد کو مسترد کر دیا۔قرارداد میں روس کے حملے کی شدید مذمت کی گئی اور روس سے یوکرین سے افواج فوری طور پر نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس میں روسی وزیر خارجہ کا خطاب شروع ہوتے ہی 100 سے زائد سفات کار واک آؤٹ کرگئے۔ یوکرین پر روسی حملے پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کا اہم اجلاس جنیوا میں جاری ہے جس میں روسی وزیر خارجہ کی ریکارڈ شدہ ویڈیو تقریر دکھائی گئی۔ جیسے ہی روسی خارجہ سرگئی لاوروف کی ورچوئل تقریر شروع ہوئی، یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو کی قیادت میں 100 سے زائد ممالک کے سفارت کاروں نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور صرف چند ارکان نے تقریر سنی۔

     

     

    واک آؤٹ کرنے والے ارکان یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو کے چیمبر کے سامنے جمع ہوگئے اور یوکرین پرچم تھام کر یکجہتی کا اظہار کیا جس پر یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو نے ان ارکان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اقوام متحدہ میں روسی وزیر خارجہ کی تقریر پر 100 سے زائد ارکان کا واک آؤٹ کیا۔

    یوکرین پر روسی حملے پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کا اہم اجلاس جنیوا میں جاری ہے جس میں روسی وزیر خارجہ کی ریکارڈ شدہ ویڈیو تقریر دکھائی گئی۔ جیسے ہی روسی خارجہ سرگئی لاوروف کی ورچوئل تقریر شروع ہوئی، یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو کی قیادت میں 100 سے زائد ممالک کے سفارت کاروں نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور صرف چند ارکان نے تقریر سنی۔

    روسی وزیر خارجہ واک آؤٹ کرنے والے ارکان یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو کے چیمبر کے سامنے جمع ہوگئے اور یوکرین پرچم تھام کر یکجہتی کا اظہار کیا جس پر یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو نے ان ارکان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ یہ خبر بھی پڑھیں : امریکا کا اقوام متحدہ سے روس کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ روسی خارجہ کی تقریر کا بائیکاٹ کرنے والوں میں یورپی یونین سمیت امریکا، برطانیہ، جاپان اور دیگر ممالک شامل تھے جب کہ شام، چین اور وینزویلا کے سفارتکار نے بائیکاٹ میں حصہ نہیں لیا۔ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یوکرین میں حملے کا دفاع کیا اور فوجی جارحیت کو خصوصی ملٹری آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

  • آئندہ سال خواتین کےلیے پی ایس ایل طرز کا ٹورنامنٹ کرانے کا اعلان

    آئندہ سال خواتین کےلیے پی ایس ایل طرز کا ٹورنامنٹ کرانے کا اعلان

    لاہور: آئندہ سال خواتین کے لیے پی ایس ایل طرز کا ٹورنامنٹ کرانے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)نے اعلان کیا ہے کہ وہ خواتین کرکٹرز کے لیے اگلے سال پاکستان سپر لیگ طرز کا ٹورنامنٹ کرائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق خواتین ونگ کی سربراہ تانیہ ملک نے قذافی سٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے بھی منظوری دے دی ہے۔

    ان کے مطابق اس سال ٹورنامنٹ کا انعقاد کرنے کا آئیڈیا تھا لیکن موجودہ ونڈو میں جگہ کی کمی کی وجہ سے اسے اگلے سال منعقد کیا جائے گا۔

    تانیہ ملک نے ورلڈ کپ کے وارم اپ میچوں میں خواتین کی ٹیم کی کارکردگی کی بھی تعریف کی، جہاں وہ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کو شکست دینے میں کامیاب رہی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم کا مجموعہ اچھا ہے، اور امید ہے کہ ٹیم فائنل فور میں ترقی کر سکتی ہے۔انہوں نے گراس روٹ لیول پر خواتین کی کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے سدرن پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

  • فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج

    فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج

    اسلام آباد : فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج ،اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جانب سے آئندہ 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ مولانا ایسی خوشخبریاں پہلے بھی کئی بار سنا چکے ہیں اپوزیشن کےپاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ عدم اعتمادلاسکیں۔

    اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے ہوتے تو حکومت میں ہوتے تحریک آئی تودیکھ لیں گےیہ کہاں کھڑےہیں اورہم کہاں ہیں، تحریک عدم اعتماد آنے دیں کوئی پرواہ نہیں ہم تگڑےہیں۔

    فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے وزیراعظم کا امیدوار کون ہے ایک کہتا ہے الیکشن کرادیں دوسرا کہتا ہے ہمیں ڈیڑھ ڈیرھ سال ملیں اپوزیشن ایک ڈرامہ ہے۔

    وفاقی وزیراطلاعات نے واضح کیا کہ پرویزالٰہی نےکہا ہم آپ کےاتحادی ہیں پرویزالٰہی سےآج صبح بھی بات چیت ہوئی ہے پہلےبھی ساتھ الیکشن لڑےتھےآئندہ بھی لڑیں گے، ق لیگ اتحادی ہےاس لئےتوچیمہ صاحب وزیر ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔اگلے 2 سے 3 دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔

    پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں ہی پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے۔

    اس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا آپ کو سب کچھ بتادیں؟ اتنا کافی ہے اب اپوزیشن میں کسی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی۔

    فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا، ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے