Baaghi TV

Author: +9251

  • سات دنوں میں دس لاکھ افراد یوکرین چھوڑکرچلےگئے

    سات دنوں میں دس لاکھ افراد یوکرین چھوڑکرچلےگئے

    کیف :یوکرین : سات دنوں میں دس لاکھ افراد بے وطن،اطلاعات کےمطابق یوکرین کے روس پر حملے کے بعد ایک بڑا انسانی بحران شروع ہوچکا ہے۔ یوکرین سے لوگوں نے پڑوسی ممالک کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔

    سات دن میں 10 لاکھ شہریوں کی نقل مکانی‘ دوسری جانب اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ روس کے حملے کے بعد سے ایک ہفتے میں 10 لاکھ شہری یوکرین سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’صرف سات دنوں میں ہم نے یوکرین سے 10 لاکھ شہریوں کی ہمسایہ ممالک میں نقل مکانی دیکھی ہے۔۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کو بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں یوکرین سے روس کے ’فوری طور پر انخلا‘ کا مطالبہ کیا گیا۔

    بدھ کو دو روز سے زیادہ کی غیر معمولی بحث کے بعد جہاں یوکرینی سفیر نے روس پر نسل کشی کا الزام عائد کیا، وہیں 193 میں سے 141 رکن ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ چین سمیت 35 ممالک غیر جانبدار رہے اور انہوں نے قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ نہیں دیا، جبکہ روس سمیت اریٹیریا، شام، شمالی کوریا اور بیلا روس نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ قرارداد میں یوکرین پر روسی حملے کی ’سخت ترین الفاظ‘ میں مذمت کے ساتھ ساتھ روسی صدر ولایمیر پوتن کی جانب سے اپنی جوہری افواج کو الرٹ رکھنے کے فیصلے کی بھی مذمت کی گئی۔

  • اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے:   تحریر:-نوید شیخ

    اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے: تحریر:-نوید شیخ

    گزشتہ روز ق لیگ سے ملاقات کے حوالے سے وزیروں اور مشیروں کی جانب سے خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ معاملات حل ہوگئے ، چیزیں طے ہوگئیں ۔ مگر اس حوالے سے متضاد خبریں فورا ہی رپورٹ ہوگئیں ۔ سب سے پہلے تو ق لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے واضح الفاظ میں کہا دیا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا عدم اعتماد میں حکومت کے ساتھ ٹھہرنا ہے یا خلاف جانا ہے۔ چوہدری صاحب مشاورت کررہے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں‌کہ پھر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی مگر اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ ق کا پانچ رکنی وفد چوہدری پرویز الہی کی سربراہی میں شہباز شریف سے ملنے جائے گا۔ اور یہ ملاقات ہفتہ یا اتوار کو ہوسکتی ہے ۔ یوں اگر یہ ملاقات ہوجاتی ہے تو جو وزیر اور مشیر ہم کو بتا رہے ہیں معاملات ویسے نہیں ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویسے یہ میں پہلے بتا چکا ہوں مگر پھر یاد کروادوں کہ اس ہفتے اپوزیشن کے تین بڑوں شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے پھر ملنا ہے اور چیزیں فائنل کرنی ہیں ۔ شاید کوئی اعلان بھی ہو جائے ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اشارہ کرچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔ اگلے دو سے تین دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، پھر ان کے مطابق اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی ہے ۔

    شاید اسی لیے شاہد خاقان عباسی نے دعوی کیا ہے کہ ق لیگ کے پانچ ارکان ہیں۔ ان کے بغیر بھی عدم اعتماد ہو جائے گی۔

    اس حوالے سے خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ناراض ارکان قومی اسمبلی کی تعداد کم وبیش پندرہ سے بیس ہے اور اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے صرف تیرہ ارکان کی حمایت درکار ہے۔ پھر ایوان میں اپوزیشن کے ارکان کم وبیش 160 ہیں مگران میں بھی کچھ اوپرنیچے ہوسکتے ہیں اس لیے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کم ازکم 25 حکومتی ارکان توڑنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب ایم کیو ایم بھی کوئی پکڑائی نہیں دے رہی ہے ۔ روز خالد مقبول صدیقی ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے تاثر مل رہا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ ان بن ہے ۔ آج بھی انکا کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی حکومتوں سے نکلتے رہے ، اب بھی نکلیں گے۔ اس سلسلے میں انھوں نے 1987کے دور کا بھی حوالہ دیا ۔ یاد کروادوں 1989 میں ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کی اتحادی ہوتے ہوئے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دیا مگر وہ ناکام ہوگئی اور بعد میں خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اسی لیے شاید اب عمران خان ایم کیو ایم سے بھی ملنا چاہتے ہیں اور جی ڈی اے سے بھی ۔۔۔

    مگر یہ وہ ہی عمران خان ہیں جب مظاہرین سخت سردی میں کوئٹہ میں لاشیں رکھ کر بیٹھے تھے تو انھوں نے کہا تھا میں بلیک میل نہیں ہوگا ۔ یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جو اپنے سب سے پرانے ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں شرکت کرنے نہیں گئے یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت نہیں کی ۔ مگر اب جب اپنی کرسی جاتی دیکھائی دی تو یہ تمام چیزیوں کو سائیڈ پر رکھ کر ہر کام اور ہر چیز کرنے کو تیار ہیں ۔

    نوید شیخ یہ بھے دعویٰ کرتے ہیں کہ برطانیہ میں موجود صحافی رپورٹ کررہے ہیں کہ کل لندن میں انتہائی اہم ملاقات میں آخری معاملات طے ہوگئے ہیں ۔ اس ملاقات کی ایک شخصیت تو نواز شریف بتائی جارہی ہیں دوسری کے بارے میں راوی خاموش ہے ۔ ہاں البتہ یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ حسین نواز اور اسحاق ڈار اس ملاقات سے آگاہ ہیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے نمبر گیم یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے172 کا نمبردرکارہے۔ اور حکومت کے پاس178اور اپوزیشن کے پاس162
    کا نمبرزہے، حکومت کوعدم اعتماد کا سرپرائز دینے کےلیے اپوزیشن کو دس ارکان کی حمایت درکار ہے۔ سات اراکین قومی اسمبلی جہانگیرترین کےساتھ بتائے جارہےہیں۔ جبکہ ایم کیوایم کےسات اورق لیگ کی پانچ سیٹیں اہمیت کی حامل ہیں،ان تین میں سےدوکھیل کی بازی بدل سکتے ہیں۔

    اس وقت اپوزیشن پوری طرح عدم اعتماد لانے پر تلی بیٹھی ہے کہ اور حالات بھی ان کے لیے سازگار نظر آتے ہیں۔ بلاول کا مارچ زور و شور سے جاری ہے اور انہوں نے دو اڑھائی درجن مطالبات بھی کئے ہیں۔ ان کو کائونٹر کرنے کے لیے شاہ محمود قریشی بھی سندھ کے حقوق کے لیے نکلے ہیں۔

    مگر سیاست کی اس گھمبیر صورتحال میں ابھی تک کچھ وزیروں کو ستے خیراں دکھائی دے ر ہی ہے۔ جو بیانات سنائی دے رہے ہیں وہ اپوزیشن کو کھلا چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن میں ہمت ہے تو وہ تحریک عدم اعتماد لے آئے۔

    دیکھا جائے تو عمران خان کو کئی محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اوران کی ٹیم میں شامل ممبران کوئی صلاحیت نہیں رکھتے اور جو صلاحیت رکھتے تھے وہ نظر انداز کر دیئے گئے ۔

    کیونکہ اب تک تو ان کی کارکردگی یہ ہے کہ یہ نان ایشوز کو اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ مثلاً ریحام خان والا معاملہ کب کا دب چکا تھا اور وہ کتاب لکھ کرکب کی سائیڈ پر بیٹھی تھیں حکومت نے محسن بیگ ہر ہاتھ ڈال کر جہاں اس کتاب کی خوب مشہوری کروائی ساتھ ہی پیکا آرڈیننس مسلط کرنے کی ضد میں میڈیا اور صحافیوں کو بھی اپنے خلاف کروالیا ۔

    دیکھا جائے تو ایک بڑی سیاسی غلطی پورے نظام کو لپیٹ سکتی ہے۔ غالباً وزیر اعظم عمران خان کوئی بڑا فیصلہ کرچکے ہیں بس اعلان ہونا باقی ہے اور گوکہ ان کی پیرکے روز کی جانیوالی تقریر میں تھوڑی سی گھبراہٹ ضرور نظر آئی جس کی وجہ سے اپوزیشن یہ کہنے میں حق بجانب تھی کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن ہی عوام کو ریلیف مل گیا۔ جہانگیر ترین یاد آگئے اور چوہدریوں سے مدد مانگ لی۔

    یہ اپوزیشن کا ہی پریشر ہے جو آجکل عمران خان کے دل میں عوام کو بہت درد جاگ رہا ہے ۔ آج بھی انھوں نے کہا کہ جو ٹیکس کا جو پیسہ اکٹھا ہو گا وہ ساراعوام پر خرچ کروں گا ۔ دراصل انکو معلوم ہوگیا ہے کہ اب لوگوں نے تبدیلی کے آگے ہاتھ جوڑ لیے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ اپوزیشن ہی ہوتی ہے جو حکومت کے عوام مخالف اقدامات پر تنقید کرتی ہے اور ایسا سیاسی ماحول بناتی ہے کہ حکومت مجبوراً عوام کو ریلیف دیتی ہے تا کہ اس کو عوامی تائید و حمایت حاصل رہے۔

    عمران خان نے جس قسم کے ریلیف کا اعلان کیا ہے، وہ اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی ایک کوشش ہے۔ انھیں سمجھ آرہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں۔ عدم اعتماد کا معاملہ سنجید ہ ہے اور اس میں ان کے اقتدار کو شدید خطرہ ہے۔ اس لیے جاتے جاتے انھیں عوام کو ایسا ریلیف دینا چاہیے کہ وہ کہہ سکیں، اب تو ریلیف دینے کا وقت آگیا تھا اور مجھے نکال دیا گیا۔

    اس طرح انھیں نکالنے کے بعد ان کے پاس ایک بیانیہ ہوگا، وہ کہیں گے پاکستان کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی تھی، میں نے عوام کو ریلیف دینا شروع کر دیا تھا، پھر کرپٹ لوگ آگئے اور سارا عمل رک گیا۔

    عمران خان خود بھی فوری انتخابات بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے اقدمات کر رہے ہیں جن سے انھیں انتخابات میں مدد مل سکے۔

    اس لیے دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اب پاپولر پولیٹکس کریں گے چاہے آئی ایم ایف ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ یہ کرسی کا معاملہ ہے ۔

    آپ دیکھیں عمران خان کے موجودہ دور حکومت میں اپوزیشن کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو زیادہ عرصہ گرفتار رکھا ۔اسی طرح اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کو بھی گرفتار رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے حکومت پر عوام کی خدمت کا کوئی دباؤ ہی نہیں تھا، اسی لیے حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالتی رہی ۔ پہلی دفعہ ہم نے دیکھا کہ قائد حزب اختلاف کو تقریر کرنے سے روکا گیا۔ پارلیمانی رویات میں یہ کام اپوزیشن کرتی ہے کہ حکومت کی تقاریر میں شور کرتی ہے۔ اس طرح جیسے جیسے پارلیمان میں اپوزیشن کی آوا ز کو دبایا گیا ویسے ویسے حکومت کی عوام پر زیادتیاں بڑھتی رہیں۔ کیونکہ جب حکومت کو اپنے اقتدار کے لیے کوئی خطرہ ہی نظر نہیں آئے گا تو وہ عوام کی خدمت کیوں کرے گا۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ عوام کے پاس واپس جانے کا خوف آپ کو عوام کی خدمت کرنے پر مجبور کیے رکھتا ہے۔ اگر عوام کے پاس جانے کا خوف ختم ہو جائے تو عوام کی خدمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

    آخر میں بس یہ ہی کہوں گا کہ کرکٹ کے میدان میں تو لاہور قلندر جیت چکی ہے دیکھانا یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں یہ جیتے ہیں کہ نہیں ۔۔۔

  • مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا

    مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا

    کیف: مشرقی یوکرین میں روس نواز میئرکواغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا ،طلاعات کے مطابق مشرقی یوکرین میں ایک روس نواز میئر کو پہلے گھر سے اغوا کیا گیا اور پھر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ میر نے یوکرین پر حملے کے بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے حملے کا خیر مقدم کیا۔

    ان کی اہلیہ کے مطابق لوہانسک میں کریمنا میں ولادیمیر اسٹارک کو منگل کو قتل کر دیا گیا ۔ انہیں گھر سے اغوا کرنے کے بعد سینے میں گولی مار دی گئی۔

    فیس بک پر خبر کا اعلان کرتے ہوئے، یوکرین کے وزیر داخلہ انٹیک گیرا چنکا کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا کہ اسٹراک ‘لوہانسک پیپلز ریپبلک کا حامی’ (ایل پی آر) تھا۔

    رپورٹ کے مطابق لوہانسک عوامی جمہوریہ مشرقی یوکرین کے اندر واقع ایک خود ساختہ علیحدہ ریاست ہے جسے 2014 میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے قائم کیا تھا۔

    یوکرین کے وزیر داخلہ کے مشیر نے الزام لگایا کہ اسٹراک کو پیپلز ٹربیونل نے غدار کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوکرین گزشتہ آٹھ سالوں سے اسٹراک کے خلاف کچھ نہیں کر سکا کیونکہ ماسکو کے حامی علیحدگی پسند ڈونیٹسک اور لوہانسک کے جنوب مشرق میں یوکرین کے علاقوں کو کنٹرول کر رہے تھے۔

  • خان جی گبھرانا نہیں:سعودی عرب کا پیغام آگیا

    خان جی گبھرانا نہیں:سعودی عرب کا پیغام آگیا

    اسلام آباد: خان جی گبھرانا نہیں :سعودی عرب کا پاکستان کو بڑا ریلیف ،اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت نے حکومت پاکستان کو ایک بارپھر بہت بڑا ریلیف دیا ہے سعودی عرب نے پاکستان کے 84 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا قرضہ ری شیڈول کرتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی آئندہ 6 ماہ کے لئے موخر کردی ہے۔

    اس حوالے سے اسلام آباد میں سعودی عرب کا پاکستان کو قرضہ موخر کرنے کے معاہدے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    وزارت اقتصادی امور کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سعودی عرب جی 20 ممالک کے تحت پاکستان کو ریلیف دے گا، سعودی عرب نے پاکستان کے 84 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا قرضہ ری شیڈول کر دیا اور قرضوں کی ادائیگی آئندہ 6 ماہ کے لئے موخر کر دی گئی ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق قرضہ موخر کرنے کے معاہدے کی تقریب میں سعودی سفیر بھی موجود تھے جبکہ سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ کے ڈی جی ڈاکٹر سعود ایاد نے دستخط کئے۔

    ادھر اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا امریکا کے سامنے ڈٹ جانا سعودی ولی عہد کے لیے حوصلے کا سبب بن گیا ، سعودی ولی عہد بھی ڈٹ گئے ہیں اور دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ایک دلیرانہ پیغام بھیج کرعربوں کو خوش کردیا ہے ،

    اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پرامریکی دباو سعودی عرب نے نہ صرف مسترد کردیا ہے بلکہ اس جابرانہ کوشش کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے امریکا میں 800 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے ملک سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری کم کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری میں کمی کا امکان ہے، ہمیں اپنے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر مجھے سمجھ نہیں پارہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ امریکی مفاد کے لیے سوچنا بائیڈن کی ذمہ داری ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

  • ہم نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں       کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگو

    ہم نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگو

    اسلام آباد:نسلوں سےہمارےخاندان نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگوا،طلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد عمران خان بھی مقابلے کرنے کے لیے سیاسی محاذ پر متحرک ہو گئے ہیں۔

    دوسری طرف وفاقی وزیرآبی وسائل اور پاکستان میں‌ شریفانہ سیاست کو پروان چڑھانے والے چوہدری برادران کے فرزند ارجمند چوہدری مونس الٰہی نے آج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے پاکستان میں دہائیوں سے سیاسی سازشیوں کے خلاف ایک بند باندھ دیا ہے

     

     

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الہی نے ملاقات کی۔ جس میں ملکی سیاسی امور اور اتحاد کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

    اس موقع پر مونس الٰہی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہیں، آگے بھی ملکر ساتھ چلنا ہے۔ سیاسی منظر نامے پر ساتھ ساتھ چلنا ہے۔

    مونس الٰہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ نسلوں سے ہمارے خاندان نے ہمیشہ وعدوں کا احترام کیا ہے، وزیر اعظم عمران خان اور اسد عمر سے ملاقات کی ۔ پاکستان کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اتحاد کے معاملات پر کوارڈینیشن کی ذمہ داری وفاقی وزیر اسد عمر کو سونپ دی گئی، اسد عمر سیاسی معاملات پر مسلم لیگ ق کی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔

    مسلم لیگ ق کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان دیگر اتحادی جماعتوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے چودھری برادران کے گھر جا کر چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی تھی جس میں مسلم لیگ ق کے قائدین وزیراعظم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے کا اعلان کیا تھا۔

  • عدم اعتماد:ن لیگ کا38 اورسینئرلیگی رہنما 16حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟دعووں میں تضادکیوں؟

    عدم اعتماد:ن لیگ کا38 اورسینئرلیگی رہنما 16حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟دعووں میں تضادکیوں؟

    لاہور:عدم اعتماد:ن لیگ کا 38 حکومتی ارکان اورسینئرلیگی رہنما 16 حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے معاملے پر مسلم لیگ ن نے 38 حکومتی ارکان اسمبلی کی حمایت ملنے کا دعویٰ کر دیا۔لیکن دوسری طرف لیگی رہنما کے متضاد دعوے نے ن لیگ کے اندرتضاد کی تصدیق کردی ہے

    ذرائع کے مطابق 38 حکومتی ارکان اسمبلی کی حمایت ملنے کی فہرست سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو ارسال کر دی گئی۔ ن لیگ نے 10 ارکان کو آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔

    مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما نے دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت کے 16 ارکان قومی اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔

    سینئر لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن نے ہم خیال حکومتی ارکان کو 3 مراحل میں تقسیم کر دیا ، پہلے مرحلے میں وہ ارکان ہیں جو حکومتی پالیسوں سے دلبرداشتہ ہیں۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی سوچ رکھنے والے ارکان شامل ہیں۔ تیسرے فیز میں دیکھو اور انتظار کرو کی سوچ رکھنے والے ارکان ہیں۔

    دوسری طرف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا۔ تحریک پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں۔ساتھ ہی اس وقت یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اگر اپوزیشن کے پاس تعداد پوری ہوتی تو وہ دعوے کے مطابق ہی دستخط کا ثبوت پیش کردیتے ، اس لیے ابھی قبل ازوقت کہنا یا دعویٰ کرنا ایک سیاسی چال ہی لگتی ہے

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی ف، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر کے دستخط ہیں۔ ملک اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں۔ مجوزہ مسودے کے مطابق ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے، خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

    مجوزہ مسودے میں کہا گیا کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر کو الرٹ کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد اور ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے۔

    دوسری طرف اکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس 5 دن کی ڈیڈ لائن ہے خود مستعفی ہوجائیں، اگرغیرت ہے تو وزیراعظم اسمبلی توڑکرہمارا مقابلہ کریں۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی یہ مودبانہ درخواست ہی بتا رہی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہے

    پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے، بلاول بھٹو کی قیادت میں مارچ بہاولپور پہنچ چکا ہے۔ چنی گوٹھ میں انہوں نے جیالوں سے خطاب کیا۔

  • وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    ریاض:وزیراعظم عمران خان کےامریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا امریکا کے سامنے ڈٹ جانا سعودی ولی عہد کے لیے حوصلے کا سبب بن گیا ، سعودی ولی عہد بھی ڈٹ گئے ہیں اور دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ایک دلیرانہ پیغام بھیج کرعربوں کو خوش کردیا ہے ،

    اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پرامریکی دباو سعودی عرب نے نہ صرف مسترد کردیا ہے بلکہ اس جابرانہ کوشش کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے امریکا میں 800 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے ملک سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری کم کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری میں کمی کا امکان ہے، ہمیں اپنے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر مجھے سمجھ نہیں پارہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ امریکی مفاد کے لیے سوچنا بائیڈن کی ذمہ داری ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطین سے معاملات ٹھیک کر لے تو اتحاد ہوسکتا ہے، سعودی عرب میں بادشاہت ہی قائم رہے گی۔

    ایران سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تہران سے ڈائیلاگ کی کامیابی کیلئے پر امید ہیں، دونوں ملکوں کے روشن مستقبل کے لیے با مقصد مذاکرات لازمی ہیں، مذاکرات کے ذریعے ہی دونوں ملک کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں، ایران ہمارا مستقل ہمسایہ ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے جان نہیں چھڑا سکتے۔

  • عمران خان بالکل بھی گھبرائےہوئےنہیں:اللہ خیر   کریں گے:صحافی کاسوال:چوہدری پرویزالٰہی کاخوبصورت جواب

    عمران خان بالکل بھی گھبرائےہوئےنہیں:اللہ خیر کریں گے:صحافی کاسوال:چوہدری پرویزالٰہی کاخوبصورت جواب

    لاہور:وزیراعظم عمران خان بالکل بھی گھبرائےہوئےنہیں:اللہ خیرکریں گے:صحافی کےسوال پرچوہدری پرویزالٰہی کاجواب ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ عمران خان بالکل بھی گھبرائے ہوئے نہیں ہیں۔صحافی کے سوال کے جواب میں معروف جملہ اللہ خیرکریں‌گے ادا کرکے چوہدری پرویز الٰہی نے سب قیاس ارائیاں ختم کردیں

    صحافی کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ کا بھی وزیراعظم عمران خان کو گھبرانا نہیں ہے کا پیغام ہے؟ جس پر پرویز الہی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ عمران خان بالکل بھی گھبرائے ہوئے نہیں ہیں۔ ہانڈی میں سامان چلا گیا، دھواں اٹھنے کے بعد پہلا ابالا آتا ہے۔ پہلا ابالا آ جائے پھر آپ کو بتائیں گے۔

    کیا تحریک عدم اعتماد میں سے کچھ نکلے گا؟ کے سوال پر جواب دیتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اتنی بڑی ہانڈی چڑھی ہے کچھ تو نکلے گا، اگلے 48 گھنٹوں سے متعلق مولانا فضل الرحمن ہی بتا سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے دوران تحریک عدم اعتماد پر کوئی بات نہیں ہوئی، وزیراعظم نے مہنگائی کی روک تھام کے لیے بہت اچھے اقدامات کیے ہیں، پٹرول کی قیمت میں کمی سے بہت فائدہ ہو گا، بجلی کی قیمتیں بھی نیچے آئی ہیں۔

  • آئین جواں مرداں حق گوئی وبیباکی:اللہ کےشیروں کوآتی نہیں  روباہی:پاک بحریہ زندہ باد:پاکستان پائندہ باد:شیخ رشید

    آئین جواں مرداں حق گوئی وبیباکی:اللہ کےشیروں کوآتی نہیں روباہی:پاک بحریہ زندہ باد:پاکستان پائندہ باد:شیخ رشید

    اسلام آباد:جھپٹنا،پلٹنا،پلٹ کرجھپٹنا لہوگرم رکھنےکاہےاک بہانہ:کوئی بھی پاکستان کیطرف میلی آنکھ سےنہیں دیکھ سکتا:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کوئی پاکستان کے بری، بحری، اور فضائی حدود کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

    اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 3 مارچ پاکستان کے گہرے پانیوں میں پانچویں دفعہ مداخلت کرنے کی کوشش کی ہے، ایک سال پہلے بھی ہم نے ان کی سب میرین کو پکڑا تھا لیکن مارا نہیں، ہم ایک پر امن ملک ہیں ہم نے ان کو مارا نہیں وارننگ دی تاکہ وہ واپس چلی جائے۔ کل بھی ہم نے ان کو متنبہ کیا کہ “انف ازانف “۔

    وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم نے کل بھارت کو آخری بار وارننگ دی ہے، اب ہمارے پانیوں میں آئے تو ہم سے گلہ نہ کرنا، ہماری عظیم فوج ہے اور ہماری پاکستان بحریہ کا عظیم جذبہ ہے، کوئی پاکستان کے بری، بحری، اور فضائی حدود کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، ہم عظیم فوج کا عظیم ملک ؛ پاکستان ہیں۔

     

     

    یاد رہے کہ پاک بحریہ نے آبدوز شکن وار فیئر یونٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا لیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی آبدوز کا یکم مارچ کو سراغ لگایا گیا۔ گزشتہ پانچ سال میں چوتھی بار بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود میں ملی ہے، بھارتی آبدوز کو تلاش کرنا پاک بحریہ کی پیشہ وارانہ مہارت کا ثبوت ہے، پاک بحریہ پاکستان کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔

  • ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف روسی صدر کا اہم پیغام لے کرپاکستان پہنچ گئے

    ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف روسی صدر کا اہم پیغام لے کرپاکستان پہنچ گئے

    اسلام آباد: ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف روسی صدر کا اہم پیغام لے کرپاکستان پہنچ گئے، ازبک صدر پاکستانی ہم منصب اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرینگے۔

    تفصیلات کے مطابق ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف پاکستان کے در روزہ سرکاری دورے پر چکلالہ ایئربیس پہنچے، ازبک وزیر خارجہ ، کابینہ کے ارکان ، اعلیٰ حکومتی حکام، تاجروں اور صحافیوں پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد ان کے ہمراہ ہیں۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ازبک صدر روسی صدر کا پیغام بھی عمران خان کو پہنچائیں گے

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔پاکستان آمد پر ازبک صدر کو بچوں نے انہیں گلدستہ پیش کیا بعدازاں انہیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔2016 میں صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد ازبک صدر مرزیوئیف کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ ازبک صدر ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 30 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے دوران پاک ازبک رہنماسیاسی، تجارتی، اقتصادی، روابط، تعلیم، ثقافت، سلامتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون سمیت دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ اس کےعلاوہ دونوں رہنماء اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال اور متعدد دو طرفہ معاہدوں، ایم او یوز پر دستخط کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان ،ازبکستان کے صدر سے ون آن ون ملاقات کریں گے جس کے بعد وفود کی سطح پر بات چیت اور مشترکہ میڈیا اسٹیک آؤٹ ہوگا۔

    وزیر اعظم ازبک صدر کے اعزاز میں ایک سرکاری ضیافت بھی دیں گے۔ ازبک صدرمرزیوئیف اور صدر عارف علوی کے مابین بھی ملاقات ہوگی۔ دونوں فریقین سیاسی اور اسٹریٹجک روابط بڑھانے،تیزی سے بڑھتی ہوئی تجارت، ٹرانزٹ اور اقتصادی تعلقات، رابطوں میں اضافہ، تعلیمی اور ثقافتی تعاون کا فروغ پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کو ملانے والا ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ کے امور زیر بحث لائیں گے۔ دونوں ممالک کے سرکردہ تاجروں کے مابین بھی نتیجہ خیز بات چیت ہوگی