Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان : ’آئین سے لفظ اقلیت حذف کیا جائے‘ ترمیمی بل منظور:وجہ تسمیہ بھی سامنے آگئی

    پاکستان : ’آئین سے لفظ اقلیت حذف کیا جائے‘ ترمیمی بل منظور:وجہ تسمیہ بھی سامنے آگئی

    اسلام آباد : پاکستان : ’آئین سے لفظ اقلیت حذف کیا جائے‘ ترمیمی بل منظور:وجہ تسمیہ بھی سامنے آگئی،اطلاعات کےمطابق پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ایک آئینی ترمیمی بل کی منظوری دی ہے، جس میں تجویز دی گئی ہے کہ آئین پاکستان میں جہاں جہاں بھی غیر مسلموں کے لفظ اقلیت استعمال کیا گیا ہے، اس کو حذف کیا جائے اور اس کی غیر مسلم لکھا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی کھیئل داس کوہستانی کی جانب سے ایوان میں پیش کیا گیا بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا جس پر بدھ کو کمیٹی نے غور و خوض کیا۔

    بل کے محرک کھئیل داس کوہستانی نے بل پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ آئین میں 15 مرتبہ لفظ غیر مسلم استعمال ہوا ہے، چار بار لفظ اقلیت لکھا گیا ہے۔آئین میں لفظ اقلیت کی جگہ غیر مسلم لکھا جائے۔ہم برابر کے شہری ہیں، ہمیں غیر مسلم لکھا جائے۔ ہم سب پاکستانی اور برابر کے شہری ہیں، اکثریت اور اقلیت میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’آئین کے آرٹیکل 36 میں ترمیم کی جائے اور جہاں جہاں بھی اقلیت کا لفظ ہے اسے غیر مسلم کے ساتھ تبدیل کیا جائے۔‘

    کھیئل داس کوہستانی کے مطابق ’میری تحقیق بین المذاہب مکالمے پر مبنی ہے۔ جو مذہبی رواداری کو فروغ دیتی ہے لیکن پاکستان میں لفظ اقلیت غیر مسلموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو بظاہر ایسا تاثر دیتا ہے کہ ہم دوسرے درجے کے شہری ہیں اور پچھلے کچھ برسوں سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے جبکہ جمہوری معاشرے میں تمام شہری برابر ہوتے ہیں۔ اس لیے آئین میں موجود اس نقص کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے اس اقدام سے نہ صرف ایک مثبت بحث کا آغاز ہوگا بلکہ ایک مستحکم جمہوری معاشرے کی روایت فروغ پائے گی۔ غیر مسلم شہری بھی برابر کے حقوق کے ساتھ ملکی ترقی میں کردار ادا کر سکیں گے۔‘ کمیٹی ارکان نے کھیئل داس کوہستانی کے ساتھ اتفاق کیا اور آئین کے آرٹیکل 36 میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

  • ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول نے سانحہ 12 مئی پر معافی مانگی لی

    ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول نے سانحہ 12 مئی پر معافی مانگی لی

    خالد مقبول صدیقی نے کوئٹہ میں ہائی کورٹ بار میں وکلاء سے خطاب کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہاکہ 12 مئی کے حوالے سے ایم کیو ایم پر داغ لگا ہے، اس واقعے پر ایم کیو ایم کو معافی مانگنی چاہیے تھی، میں آپ کے سامنے معافی مانگتا ہوں۔

    انہوں نے کہاکہ معافی کس بات کی ہے، معافی غلط اندازہ لگانے کی ہے،کیونکہ اگر ایم کیو ایم فسادکرنے نکلتی تو عورتوں اور بچوں کےساتھ نہ نکلتی، ہم استعمال ہوئے ہیں،اس کیلئے ہم شرمسار ہیں اور آپ سے معافی مانگتےہیں لیکن ہمارا ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ ہمارا طریقہ ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی کنوینئر نے بلوچستان ہائی کورٹ بار تقریب میں شرکت کی اور سانحہ 8 اگست کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی۔

    اس موقع پر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ بلوچستان کے وکلاء سے خطاب کرنے کا موقع ملا، رابطے جمہوریت کیلئے اچھے ثمرات ہیں، کچھ قومی جدوجہد کو مل کرنےکی ضرورت ہے، جمہوری معاشرے میں لاپتہ کرنے والے نہیں ہوتے۔

    انہوں نے کہا کہ آئیں مورثی سیاست کیخلاف ایک دوسرے کا ساتھ دیں، ایسے پارلمنٹ کیلئےجدوجہد کی ضرورت ہے جہاں وکلاء کی نمائندگی وکلاء اور کسانوں کی نمائندگی کسان کریں، ملک میں کسانوں کو تباہ کرنے والے جاگیدار آج پارلمنٹ میں ہیں، ہم چاہتے ہیں کوئٹہ اور بلوچستان کا نواجوان پاکستان کے ہر نوجوان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں، جب تک پاکستان کے ہر شہری کو وفادار نہیں سمجھا جائے گا تب تک ملک ترقی نہیں کریگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم پر الزام ہے ہم لسانی سیاست کا حصہ ہیں، ہم قیام پاکستان کےوقت عالمی معاہدے کےتحت پاکستان آئے تھے لیکن ہمیں امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے، امتیازی سلوک کے بعد طلباء تنظیم بنائی جس نےایک تاریخ رقم کر دی۔

  • روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    ماسکو:روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق ہیکرز کے گروپ ’اینونمس‘ نے روس کی خلائی ایجنسی(روسکوسموس) کو ہیک کرنے کا دعویٰ کردیا اور کہا ہے کہ پیوٹن کا خلائی سرگرمیوں پر اب کنٹرول نہیں رہا۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اینونمس نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی حکومت اپنی خلائی سرگرمیوں اور سیٹلائٹس کا کنٹرول اب کھو چکی ہے کیوں کہ ہم نے روسکوسموس کو ہیک کرکے بند کردیا ہے۔

    روسی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اولیگوچ نے ہیکرز کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اینونمس کو غیرضروری اور دھوکے باز گروپ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی سے متعلق خبریں حقیقت کے منافی ہیں۔
    اولیگوچ نے کہا کہ ہماری خلائی سرگرمیاں اور کنٹرول سینٹرز معمول کے مطابق آپریٹ کررہے ہیں۔ روسی اسپیس انڈسٹری سائبر حملوں سے محفوظ ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ہیکرز کی ٹیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے 300 سے زائد روسی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرکے یوکرین پر حملے میں شامل روسی ٹینک کے عملے کو ٹینک چھوڑنے کے عوض 53 ہزار ڈالر کی پیشکش کی۔

    اینونمس کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی ارب ڈالرز ان روسی فوجیوں کے لیے جمع کیے ہیں جو جنگ سے دست بردار ہوکر اپنا ٹینک سفید جھنڈا لگا کر چھوڑ دیں گے۔

  • پاکستان اور ازبکستان میں 8 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط:وزیراعظم عمران خان بھی شریک

    پاکستان اور ازبکستان میں 8 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط:وزیراعظم عمران خان بھی شریک

    اسلام آباد:پاکستان اور ازبکستان میں 8 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط:وزیراعظم عمران خان بھی شریک،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے ، سیکیورٹی ، ترجیحی تجارتی معاہدے ، موسمیاتی تبدیلی سمیت 8مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف بھی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کے موقع پر موجود تھے ۔

    پاکستان ازبکستان ایم او یوز کے حوالے سے جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ازبکستان کے قومی ٹیلی ویژن اور ریڈیو کمپنی اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے درمیان ٹیلی ویژن اور ریڈیو براڈ کاسٹنگ کے شعبہ میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر پاکستان کی جانب سے وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین جبکہ ازبکستان کے وزیر ثقافت اوزود بیک نیزابیکوف نے دستخط کئے ۔

    ازبکستان کی وزارت سیاحت و سپورٹس اور پاکستان کی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے درمیان مذہبی زیارات کی سیاحت کے فروغ کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ۔ پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری جبکہ ازبکستان کے وزیر برائے امور خارجہ عبدالعزیز کامیلوف نے دستخط کئے ۔

    دونوں ملکوں کے درمیان ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون پر مفاہمت کی یادداشت پر پاکستان کی جانب سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم اور ازبکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر برائے سرمایہ کاری و غیر ملکی تجارت سردار عمر زاکوف نے دستخط کئے ۔

    دونوں ملکوں کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پرمشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے پاکستان جبکہ سردار عمر زاکوف نے ازبکستان کی جانب سے دستخط کئے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی کے شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے روڈ میپ پر بھی دستخط کئے گئے ۔

    پاکستان کی جانب سے قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف جبکہ ازبکستان کے سیکرٹری برائے سلامتی کونسل ویکٹر مخمودوف نے دستخط کئے ۔دونوں ملکوں کے درمیان وزارت ریلوے اور ازبکستان کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مابین بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

    پاکستان کی جانب سے سیکرٹری و چیئرمین پاکستان ریلویز حبیب الرحمن گیلانی جبکہ ازبکستان کی جانب سے وزیر ٹرانسپورٹ الخوم مخکاموف نے دستخط کئے ۔

    تاشقند سٹی اور اسلام آباد سٹی کی انتظامیہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کئے گئے۔ پاکستان کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر ایم سی آئی حمزہ شفقات جبکہ پاکستان میں ازبکستان کے سفیر اوبک عثمانوف نے دستخط کئے ۔

    اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان ازبکستان کے علاقے سرخندریہ اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے درمیان تعاون پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ۔ پاکستان کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سیکرٹری صنعت ذوالفقار علی شاہ جبکہ ازبکستان کی جانب سے پاکستان میں ازبک سفیر اوبک عثمانوف نے دستخط کئے ۔

  • فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت

    فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت

    اسلام آباد: فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت ،اطلاعات کے مطابق زرداری، فضل الرحمان اور نواز شریف نے عدم اعتماد پر حتمی مشاورت مکمل کرلی

    پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری ، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے عدم اعتماد کی تحریک پر حتمی مشاورت مکمل کرلی۔آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنےکےطریقہ کار اور اس کے لیے مناسب وقت کو حتمی شکل دینے پر غورکیا گیا، اس دوران صدر ن لیگ شہباز شریف سے بھی ٹیلی فونک مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران لندن میں موجود مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا گیا جس میں تینوں رہنماؤں نے عدم اعتماد کی تحریک پر حتمی مشاورت مکمل کرلی۔

    مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری کے درمیان ملاقات کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    اعلامیےکے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال اور عدم اعتماد کی تحریک پر مشاورت ہوئی، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ملاقات کے دوران بذریعہ فون تمام مشاورت میں شریک رہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے، عدم اعتماد سے متعلق قانونی ماہرین کی رائے بھی آچکی ہے،عدم اعتماد کا ڈرافٹ تیار ہوچکا ہے، جس پر ملاقات میں مشاورت ہوئی، عدم اعتماد کی حتمی تاریخ کا تعین شہباز شریف کی علالت کے باعث آئندہ ایک دو روز میں ہوگا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ موجودہ حکومت کے تین سالہ دور میں ملک معاشی عدم استحکام کا شکار ہوا، تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس کو بحال کریں گے۔

  • وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج

    وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج

    اسلام آباد: اسلام آباد پولیس نے جمعرات کو انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا، جو وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ہیں، جب انہوں نے نیشنل پریس کلب کے باہر بلوچ طلباء کے احتجاج میں شرکت کی۔ 1۔

    ذرائع کے مطابق سینکڑوں بلوچ طلباء نے پریس کلب کے باہر دھرنا دیا۔ ایمان مزاری اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ بھی دھرنے میں شامل ہوئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں منتشر کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔

    اسلام آباد پولیس نے ذرائع کو بتایا کہ مزاری، داوڑ اور سیکڑوں بلوچ طلباء کے خلاف بغاوت، ہنگامہ آرائی اور ریاست مخالف نعرے لگانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف اسلام آباد کے کوہسار پولیس اسٹیشن میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی ہے۔

  • حادثات ہیں یا جسمانی تشدد کا شکار خواتین پر قاتلانہ حملہ

    ‏پوری وارڈ میں اکثریت اگ میں جھلس کر جلنے والی خواتین ھی تھیں اس پہلو کی تحقیقات ھونی چاھئے کہ ان کی کیا یہ صرف حادثات ہیں یا جسمانی تشدد کا شکار خواتین پر قاتلانہ حملہ ۔
    اور جب والدین سر پر نہ ہوں تو خواتین اولاد کی خاطر ان واقعات کو حادثہ قرار دیتی ہیں۔

    ‏یونیورسٹی کے ایڈمن ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والی ایک عزیز مشکوک حالات میں 45 فیصد تک جل گئی ہیں۔ بے چاری اپنے دو معصوم بچوں کی خاطر انتہائی مشکل اور تکلیف دہ شادی نبھا رہی تھی۔ یونیورسٹی کی فیکلٹی ملنے گئی تو شوہر بے فکری سے جھلسنے کے بعد کی تصاویر دکھا رہا تھا۔

    ‏بے چاری حالات کی ماری اپنی معمولی شکل و صورت اور مالی پس منظر کی وجہ شدید مشکل زندگی گھسیٹ رہی تھی۔ کرسچن کیمونٹی سے تعلق ہے۔ والدین وفات پا چکے ہیں کوئی سہارا نہیں۔ دو بیٹے پانچ سال اور دو سال ماں کے بنا بے حد مشکل میں آ گئے ہیں۔ ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں زیر علاج ہے۔

  • کامیابی دین اسلام پرعمل پیرا ہونے میں ہے:عالم اسلام کی خیرخواہی کے لیے ایران بھی آگے بڑھے:محمد بن سلمان

    کامیابی دین اسلام پرعمل پیرا ہونے میں ہے:عالم اسلام کی خیرخواہی کے لیے ایران بھی آگے بڑھے:محمد بن سلمان

    ریاض:ایران ایک قدم آگے بڑھے ہم دوقدم آگے بڑھیں گے:معاملات حل ہونے چاہیں:سعودی عرب ،اطلاعات کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مضبوط جوہری معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ "تفصیلی بات چیت” جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ دونوں کے لیے ایک تسلی بخش معاہدے تک پہنچ سکے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہےکہ حقیقی اسلام کی جانب لوٹنا ہمارا نصب العین ہے، سعودی عرب میں اب کسی مذہبی نقطہ نظر کی اجارہ داری نہیں ہے۔
    امریکی جریدے اٹلانٹک کو خصوصی انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت مستند احادیث نبویﷺکے پروجیکٹ پرکام کر رہی ہے۔

    شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران پڑوسی ہیں، جدا نہیں ہوسکتے، سعودی عرب نے4 ماہ میں ایران کےساتھ کئی مذاکرات کیے ہیں۔خطے میں شدت پسندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی جنگ نےشدت پسندوں کو اکھٹا ہونےکا موقع دیاہے۔

    سعودی ویژن 2030 کے حوالے سے سعودی ولی عہد نے بتایا کہ کچھ طاقتیں ویژن 2030 ناکام کرنےکی کوششیں کررہی ہیں، سعودی عرب تیز ترین معیشت رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری 800 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، چین میں سعودی سرمایہ کاری 100 ارب ڈالرز سےکم ہے لیکن یہ تیزی سےبڑھ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت خطے کی سنی مسلم اور شیعہ طاقتوں کے لیے "اچھی صورت حال اور روشن مستقبل کی نشان دہی” کے قابل ہو جائے گی، جو دشمنی میں بند ہیں۔ پورے مشرق وسطی میں تنازعات میں کھیل رہے ہیں۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ایران ہمیشہ کے لیے پڑوسی ہے، ہم ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے اور وہ ہم سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔”

    ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ویانا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے تہران کے جوہری پروگرام کو روکا تھا۔

    ریاض اور اس کے خلیجی اتحادیوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پراکسیوں کے نیٹ ورک کے بارے میں اپنے خدشات کو دور نہ کرنے کے لیے اس معاہدے کو خامیوں کے طور پر دیکھا تھا، بشمول یمن میں جہاں سعودی عرب ایک مہنگی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔

  • پاکستان، کینیا کا دفاعی، سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

    پاکستان، کینیا کا دفاعی، سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

    راولپنڈی: پاکستان اور کینیا نے موجودہ دفاعی، سیکیورٹی تعلقات کو مضبوط اور بڑھانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے کینیا کا سرکاری دورہ کیا اور معززین سے ملاقات کیں۔

    بیان کے مطابق جنرل ندیم رضا کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں کابینہ سیکرٹری یوجین لوڈوک وامالوا، چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل رابرٹ کیریوکی کیبوچی، کمانڈر کینیا آرمی لیفٹیننٹ جنرل والٹر آر کوئیپٹن، کمانڈر کینیا ایئر فورس میجر جنرل جان موگاروائی اور کمانڈر کینیا نیوی میجر جنرل جمسن لونگیرو مٹائی شامل تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی، دفاعی تعاون کے علاوہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ فوجی مصروفیات کی سطح اور دائرہ کار کو بڑھانے سے متعلق امور پر الگ الگ ملاقاتوں میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

    جنرل ندیم رضا نے کہا کہ پاکستان کینیا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، یقین رکھتے ہیں دونوں ممالک باہمی روابط خصوصاً دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعلقات کو بڑھانے کے ذریعے بامعنی، طویل المدتی سٹریٹجک تعلقات کو فروغ دیں گے۔

    کینیائی حکام نے پاکستان کی مسلح افواج کے اعلیٰ پیشہ وارانہ معیار، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں اور علاقائی امن و استحکام بالخصوص افغانستان میں امن کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔

    قبل ازیں کینیا ڈیفنس ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر چاق و چوبند دستے نے جنرل ندیم رضا کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

  • متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    اسلام آباد:متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی میں‌ کوئی کمی نہیں آئی ہے اور صورت حال مزید خرات ہوتی نظر آرہی ہے ، ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ متنازع ڈیمز کے حوالے سے بھارت نے پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاک بھارت آبی تنازعات پر اسلام آباد میں یکم مارچ کو شروع ہونے والے سہ روزہ مذاکرات میں بھارت کی جانب سے ‘نہ مانوں’ کی رٹ برقرار ہے۔

    مذاکرات میں پاکستان نے دریائے سندھ، چناب، پونچھ پر 10 بھارتی ڈیمز کے ڈیزائن پر اعتراض کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے متنازع ڈیمز پر پاکستان کے اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    پاکستان نے اعتراض اٹھایا کہ بھارت 2019 سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا ہے، تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں پانی کا ڈیٹا شیئر کرنے کی شق موجود نہیں ہے۔مذاکرات کے دوران پاکستان کا مؤقف تھا کہ بھارت کی وجہ سے پاکستان کو سیلابی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    واضح رہے کہ یکم مارچ کو 10 رکنی بھارتی آبی ماہرین کا وفد واہگہ کے راستے لاہور پہنچا تھا، جس کی قیادت پی کے سکسینا کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان کی جانب سے نمائندگی کمشنر انڈس واٹر کمیشن مہر علی شاہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی جانب سے بھارتی آبی منصوبوں پر اعتراضات کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے، مذاکرات شروع ہونے سے قبل مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ دریاے چناب پر بھارت کے کیروہائیڈرو پاور پراجیکٹ ڈیزائن پر پاکستان کو اعتراض ہے، مقبوضہ کشمیر میں دریاے پونچھ پر مانڈی پروجیکٹ پر بھی ہمیں اعتراض ہے۔

    انھوں نے کہا دریاے سندھ پر 24 میگا واٹ کے نیموں چلنگ، دریاے سندھ پر ٹربوک شیوک منصوبے، 25 میگا واٹ کے ہنڈر رمان کے ڈیزائن، دریاے سندھ پر سانکو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ڈیزائن، 19 میگا واٹ کے مینگڑم سانگرا کے ڈیزائن پر بھی پاکستان کو اعتراض ہے۔

    خیال رہے کہ بھارتی وفد اجلاس کے بعد کل 4 مارچ کو بھارت روانہ ہو جائے گا، پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت ہی منصوبے بنانے کی اجازت ہے۔