Baaghi TV

Author: +9251

  • رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    رضاکارجلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان

    کیف :جلد ازجلد روس کےخلاف لڑائی کے لیے یوکرین پہنچیں:نیٹواوردیگرامریکی اتحادیوں کااعلان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے روس کیخلاف لڑنےکیلئے آنیوالے غیرملکیوں پر سے ویزا پابندی اٹھالی،یوکرین نے روس کے خلاف لڑنےکے لیے یوکرین آنے والے جنگجوؤں پر سے ویزا پابندی ختم کردی۔

    خیال رہےکہ یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے غیر ملکی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے بنائی گئی رضاکاروں کی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شمولیت اختیار کرلیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کے لیے یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے حکم نامے کے تحت عارضی طور پر ویزا پابندی اٹھالی ہے ، اس طرح روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کی جدوجہد میں عملی شرکت کے خواہشمند افراد باآسانی یوکرین داخل ہوسکیں گے۔

    یوکرین کی جانب سے یہ سہولت روسی شہریوں کے لیے نہیں ہے اور انہیں حکم نامے میں جارح ملک کے شہری قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر ملکی جنگجوؤں کو یوکرین میں داخلے کے لیے اپنا عسکری پس منظر بتانا ہوگا، اس کے علاوہ انہیں اپنا دفاعی فوجی سازوسامان لانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے اپنے شہریوں کو یوکرین میں روسی افواج کے خلاف لڑنے کے لیے بننے والی ‘انٹرنیشنل بریگیڈ’ میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ڈنمارک کےشہری روس سے لڑنےکے لیے عالمی بریگیڈ کا حصہ بن سکتے ہیں، یہ آزادی کا معاملہ ہےکوئی بھی اپنی پسند سےفیصلہ کرسکتا ہے۔

    ڈینش وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ آزادی ڈنمارک میں رہنےوالے تمام یوکرینی شہریوں کے ساتھ ساتھ ایسے غیریوکرینی باشندوں کے لیے بھی ہےجو روس کےخلاف جنگ میں براہ راست حصہ لینا چاہتے ہیں۔

  • نیٹوکا70 لڑاکا طیارےفی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں

    نیٹوکا70 لڑاکا طیارےفی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں

    پولینڈ:نیٹوکا70 لڑاکا طیارے فی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں،اطلاعات مصدقہ کے مطابق نیٹونے روس کیخلاف یوکرین کو 70 لڑاکا طیارے دینے کا اعلان کرکے تیسری عالمی جنگ کویقینی بنانے میں‌ بڑا کردار ادا کردیا ہے

    روس سے جنگ میں یوکرین کی مدد کیلئے مغربی دفاعی اتحاد (نیٹو) میں شامل تین یورپی ممالک یوکرین کی مدد کیلئے میدان میں آگئے۔

    یوکرینی نیوی کے پریس سروس کے آفیشل فیس بک پیج سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلغاریہ، پولینڈ اور سلوواکیہ نے یوکرین کو 70 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، یہ طیارے پولینڈ میں تعینات ہوں گے اور یوکرینی پائلٹس وہیں سے اڑان بھر کر روسی فوج پر فضائی حملے کریں گے۔

    یوکرینی بحریہ کی پریس سروس کا مزید کہنا ہے کہ بلغاریہ 16 مِگ 29 طیارے اور 14 ایس یو 25 طیارے فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ پولینڈ 28 مگ 29 طیارے جبکہ سلوواکیہ 12 مگ 29 طیارے فراہم کرے گا۔

    خیال رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر تین اطراف سے حملہ کیا اور دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر بمباری کی۔

    روس اور یوکرین کی جنگ کے چھٹے روز روسی وزیر دفاع نے کیف کے شہریوں کو خبردار کیا کہ روسی فوجی دارالحکومت میں مختلف اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
    کیف میں ایک ٹیلی ویژن ٹاور کے قریب دھماکا سنا گیا جس میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی۔

    بکتر بند گاڑیوں میں روس فوج کا ایک بڑا قافلہ کیف میں پارلیمنٹ اور صدارتی محل کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے تاہم اسے مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔

    آج روس کی جانب سے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں بھی سرکاری عمارتوں پر میزائل برسائے گئے جس کے نتیجے میں 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی صدر ولودومیز زیلینسکی کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں روسی میزائل گرے وہاں کوئی عسکری ہدف نہیں اور روس شہری آبادی کو نشانہ بناکر جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔

    یوکرینی صدر نے یورپی پارلیمنٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، اس موقع پر انہیں تمام ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہوکر روس کیخلاف مزاحمت پر داد دی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست کی جسے منظور کرتے ہوئے یوکرین کی شمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    یوکرین اب بھی روسی فوج کے انخلا اور سیز فائر کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق ساڑھے 6 لاکھ سے زائد افراد اب تک یوکرین سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔

    آج اپنے بیان میں نیٹو کے چیف جینز اسٹولٹن برگ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ’یورپ میں امن کا شیرازہ بکھیرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھی پولینڈ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی صدر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے بربریت پر مبنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ پولینڈ نیٹو کا رکن ممالک ہے اور اگر روسی اہداف پر حملوں کے لیے پولینڈ کی سرزمین استعمال ہوئی تو ممکن ہے کہ روس پولینڈ پر بھی حملہ کردے اور اگر ایسا ہوا تو پھر نیٹو کے رکن ممالک معاہدے کے تحت پولینڈ کا دفاع کرنے پر مجبور ہوں گے اور یوں پورا یورپ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ساڑھے7سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں:دنیا مسائل کا شکار

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ساڑھے7سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں:دنیا مسائل کا شکار

    لندن :عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ساڑھے7سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں:دنیا مسائل کا شکار،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے کے بعد ترسیلی نظام میں تعطل آنے کے خدشے کے پیش نظر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً ساڑھے 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔مئی کے مہینے کیلئے ہونے والے برینٹ کروڈ آئل کے سودے 7.83 ڈالر اضافے کے بعد 105.80 ڈالر فی بیرل پر طے ہوئے۔

    اس کے علاوہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے اپریل کے کیلئے ہونے والے سودے 8.27 ڈالر فی بیرل اضافے کے بعد 103.99 ڈالر فی بیرل پر ہوئے۔
    کاروبار کے دوران برینٹ کروڈ آئل اگست 2014 اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ جولائی 2014 کے بعد کی بلند ترین سطح پر دیکھے گئے۔

    دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کی وجہ سے سپلائی میں تعطل اور قیمتوں میں اضافے کو روکنے کیلئے عالمی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز میں سے 6 کروڑ بیرل تیل مارکیٹ میں جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ قلت کی وجہ سے قیمتیں اوپر نہ جائیں۔

    اس معاملے پر تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس کے مذاکرات بدھ کو ہونے کا امکان ہے۔

    یوکرین پر حملے کی وجہ سے امریکا اور یورپی یونین نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں اور روسی کمپنیوں اور شخصیات کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں جس کہ وجہ سے روس سے تیل خریدنے والے ممالک کو ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    خیال رہے کہ روس یومیہ 40 سے 50 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرتا ہے جبکہ 20 سے 30 لاکھ بیرل تیل کی ریفائنڈ مصنوعات برآمد کرتا ہے۔

  • یوکرین میں پھنسے 1200 پاکستانی پولینڈ میں داخل ہوگئے

    یوکرین میں پھنسے 1200 پاکستانی پولینڈ میں داخل ہوگئے

    اسلام آباد:یوکرین میں پھنسے 1200 پاکستانی اپنی مدد آپ کے تحت پولینڈ میں داخل ہوگئے۔،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے پڑوسی ملک پولینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ داخل ہو رہے ہیں، 1200 پاکستانی بھی پولینڈ کی سرحد کراس کرگئے۔

    پولینڈ میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام کے مطابق تین سو پاکستانیوں نے پاکستانی ڈیسک پر رجسٹریشن کرائی ہے جب کہ دیگر نے رابطہ نہیں کیا اور خود وارسا روانہ ہوگئے۔

    پولینڈ کی سرحد پر اس وقت دس پاکستانی موجود ہیں، ان کی تعداد 50 ہونے پر انہیں وارسا روانہ کردیا جائےگا۔یوکرین میں زیر تعلیم پاکستانی زمینی راستے سے پولینڈمیں داخل ہو رہے ہیں۔

    گذشتہ روز یوکرین میں پاکستانی سفیر نوئیل کھوکھرکا کہنا تھا کہ یوکرین میں 3 ہزار پاکستانی طالب علم تھے، زیادہ تر طلبا کو نکال لیا ہے، بقیہ پاکستانیوں کو بحفاظت نکالا جارہا ہے۔

    ادھر یورپی یونین، برطانیہ، جاپان، ناروے، آسٹریلیا، ترکی اور کینیڈا سمیت مختلف ممالک نے پاکستان پریوکرین پر روسی حملےکی مذمت کرنے پر زور دیا ہے۔

    یوکرین پر روس کے حملےکا آج چھٹا روز ہے اور صورتحال تیزی سے بگڑتی نظر آرہی ہے۔

    پاکستان پر برطانیہ، جاپان، ناروے، آسٹریلیا، ترکی، ڈنمارک اورکینیڈا سمیت یورپی یونین نے زور دیا ہےکہ پاکستان یوکرین پر روسی حملےکی مذمت کرے۔

    سوشل میڈیا پر پاکستان میں ڈنمارک کی سفیر نےکہا کہ پاکستان روسی اقدام کی مذمت کرے اور یو این چارٹر اور عالمی قوانین کی پاسداری کی حمایت میں دیگر ممالک کا ساتھ دے۔

  • ن لیگ نے پاکستان مسلم لیگ کو جال میں پھنسانے کے لیے بڑی آفرکی جوکام نہ آسکی

    ن لیگ نے پاکستان مسلم لیگ کو جال میں پھنسانے کے لیے بڑی آفرکی جوکام نہ آسکی

    لاہور:ن لیگ نے پاکستان مسلم لیگ کو جال میں پھنسانے کے لیے بڑی آفرکی جوکام نہ آسکی،اطلاعات کے مطابق ن لیگ نے عمران خان سے جان چھڑوانے کے بدلنے میں پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کو ایک ایسی پیشکش کی کہ جس کوسُن کرہرکوئی حیران رہ گیا ہے

    اس حوالےسے سیاسی اکھاڑپچھاڑکے اس مرحلے پراس پیشکش کا انکشاف اس وقت جب آج وزیراعظم عمران خان چوہدری برادران کے پاس ملاقات کےلیے پہنچے تھے اور اس کامیاب ملاقات کے بعد یہ چیز سامنےآئی

    اس پیش کش کا انکشاف اس وقت سامنے آیا جب سینیئر صحافی مبشرلقمان نے ن لیگ کے خلیل طاہر سندھو سے بات کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ ن لیگ نے پاکستان مسلم کو عمران خان کی حکومت کوگرانے کے ڈپٹی وزیراعظم کی پیشکش کی تھی تو خلیل طاہرسندھو نے اس بات کی تصدیق کی کہ جی واقعی ن لیگ کی طرف سے یہ پیش کش کی گئی تھی

     

    https://twitter.com/TeamLucmanML/status/1498709777807028230?t=F-QwYoFa09cIRwtF7Be5_Q&s=19

    ساتھ ہی خلیل طاہر سندھو نے چوہدری برادران کے حوالے سے ایک عجیب سے انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری برادران نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ مانگی تھی ، جو مشاورت کے بغیر ممکن نہ تھا

    اس موقع پر بات کرتے ہوئے مبشرلقمان نے پاکستان تحریک انصاف کے زبیر خان نیازی سے کہا کہ اپوزیش عدم اعتماد لارہی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس عددی اکثریت ہے تو اس کے جواب میں زبیر خان نیازی نے کہا کہ یہ بات نہیں اگران کے پاس عددی اکثریت ہوتی تو یہ پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک دن میں گرادیتے ، جس پرمبشرلقمان نے کہا کہ اپوزیشن نے عدم اعتماد کےلیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کروائی ہے آپ اجلاس بلائیں تو پتے لگ جان گے ، جس پر زبیرخان نیازی نے کہا کہ ہاں جب اجلاس ہوگا تو دعووں کی حقیقت کا پتہ چل جائے گا

  • نوجوان قانون نافذ کرنےوالےاداروں کاحصہ بنیں:آرمی چیف

    نوجوان قانون نافذ کرنےوالےاداروں کاحصہ بنیں:آرمی چیف

    راولپنڈی:نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنیں:اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کا امن، خوشحالی اولین ترجیح ہے۔ نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے علاقے تربت کا دورہ کیا۔ تربت پہنچنے پر کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے استقبال کیا۔

    آرمی چیف کو بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے اقدامات کو یقینی بنانے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اسی دوران سپہ سالار نے فوجیوں کے حوصلے، آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    بیان کے مطابق آرمی چیف نے تربت یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا، ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی، ملاقات کرنے والوں میں مقامی رہنما، قبائلی عمائدین، طلبہ، وکلا، خواتین سے ملاقات کی۔

     

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1498714332217102344

    اس موقع پر جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان بہت باصلاحیت ہیں، علاقے کی سلامتی، اپنی تعلیم، ہنرمندی کی ترقی کے لیے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کا امن، خوشحالی اولین ترجیح ہے، بلوچستان میں سماجی و اقتصادی منصوبوں کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرینگے۔ صوبے کی عوام نے ترقی، استحکام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جامع قومی کوششوں کے ذریعے بلوچستان کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے گا۔

  • طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ:فنی خرابی یا کوئی اورمسئلہ

    طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ:فنی خرابی یا کوئی اورمسئلہ

    کراچی: طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ:فنی خرابی یا کوئی اورمسئلہ ،اطلاعات کے مطابق فنی خرابی پر شارجہ جانے والی ایک پرواز کو کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ سے شارجہ جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 209 میں اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد فنی خرابی پیدا ہو گئی۔کپتان نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کر کے کراچی ایئر پورٹ پر لینڈنگ کی اجازت طلب کی، اجازت ملنے کے بعد کپتان نے طیارے کو بہ حفاظت کراچی ایئر پورٹ پر اتار لیا۔

    قومی ایئر لائن کے ترجمان نے بتایا کہ پی کے 209 کو فنی خرابی پیدا ہونے پر کراچی ایئر پورٹ پر ٹیکنیکل لینڈنگ کرائی گئی، انجینئر طیارے کی مکمل جانچ پڑتال کر رہے ہیں، فنی خرابی دور ہوتے ہی پرواز کو شارجہ کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 16 فروری کو ابوظبی سے لاہور آنے والی پی آئی اے کی پرواز 264 میں فضائی میزبان کو دل کا دورہ پڑ گیا تھا، دوران پرواز فضائی میزبان مبشر علی کو دل میں تکلیف محسوس ہوئی، جس پر کپتان نے لاہور ایئر پورٹ پر لینڈنگ سے قبل میڈیکل ٹیم طلب کر لی، طیارہ لینڈ ہوتے ہی میڈیکل ٹیم نے جہاز کے اندر پہنچ کر مبشر علی کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی۔

  • 5 فیصد ٹیکس ادا کریں اور سفید کریں کالے دھن سے بنائی ہوئی دولت

    5 فیصد ٹیکس ادا کریں اور سفید کریں کالے دھن سے بنائی ہوئی دولت

    اسلام آباد :5 فیصد ٹیکس ادا کریں اور سفید کریں کالے دھن سے بنائی ہوئی دولت ،اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ نے حکومتی کی تیسری ٹیکس ایمنسی اسکیم کا آرڈیننس جاری کرنے کی منظوری دے دی ۔آرڈیننس کی سمری کے مطابق صرف 5 فیصد ٹیکس ریٹ پر اب کالا دھن سفید کیا جاسکتا ہے۔

    ٹیکس ریٹ کی ادائیگی پر کالادھن سفید کرنے والوں سے اُن کے ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے۔سمری کے مطابق سرمایہ کار ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے نئی کمپنی بنائے گا، اس سے فائد اٹھانے کی کٹ آف ڈیٹ دسمبر 2022ء ہوگی۔

    آرڈیننس سمری کی مطابق نئے یونٹ کے ذریعے جون 2024ء تک کمرشل پیداوار شروع کردی جائے، ایمنسٹی اسکیم میں بیمار صنعتی یونٹس کے لیے 3سال کی ٹیکس مراعات بھی شامل ہیں۔

    سمری کے مطابق بیرون ملک پاکستانی غیرملکی اثاثے سرمایہ کاری کے لیے بھیجتے ہیں تو 5 سال کے لیے ٹیکس چھوٹ ہوگی۔

    سمری کے مطابق گزشتہ 3 سال سے نقصان والی کمپنیوں کو صحت مند صنعتی یونٹ خرید سکتا ہے اور کمپنی کو منافع بخش بنانے پر کمپنی کو 3 سال کی ٹیکس چھوٹ ہوگی۔

  • نیٹواورجرمنی کاماسکوسےجنگ روکنےکامطالبہ:برطانوی وزیراعظم کی روس پرتنقید:حالات بگڑنےلگے

    نیٹواورجرمنی کاماسکوسےجنگ روکنےکامطالبہ:برطانوی وزیراعظم کی روس پرتنقید:حالات بگڑنےلگے

    وارسا: پولینڈ کے دورے پر موجود برطانوی وزیر اعظم نے ایک بار پھر روس پر تنقید کی اور یوکرین کو مزید دفاعی امداد کا یقین دلایا جبکہ نیٹو اور جرمنی نے ماسکو سے جنگ روکنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    یوکرین پر چڑھائی، یورپی ممالک نے روس مخالف اقدامات تیز کردیئے، برطانوی وزیر اعظم پولینڈ کے دورے پر یوکرین کے ہمسایہ ملک پہنچ گئے۔

    صحافیوں سے خطاب میں بورس جانسن کا کہنا تھا کہ برطانیہ یوکرین کو باقاعدگی سے دفاعی امداد پہنچا ئے گا،عالمی برادری کو سمجھنا چاہئے یوکرین جنگ کا نتیجہ وہی نکلے گا جو یوکرین چاہے گا۔

    ادھر پولینڈ سے ذرائع کے مطابق بورس جانسن نے گفتگو کرتے ہوئے روس کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کو ختم کرنے کی بھی حمایت کردی۔

    پولینڈ کے دورے پر آئے نیٹو سربرا ہ نے روس سے فوری جنگ روکنے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ ماسکو کے حملے ناقابل قبول ہیں۔

    کئی ممالک کے سفیروں نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل سے روسی وزیر خارجہ کے خطاب کا بائیکاٹ کردیا، سرگئی لاروف کے آن لائن خطاب کے دوران سفارتکاروں نے واک آؤٹ کیا جبکہ جرمن چانسلر نے بھی روس پر خون خرابہ ختم کرنے پر زور دیا۔

    یوکرین کے صدر کا خطاب میں کہنا تھا کہ یہی وقت ہے یورپ ثابت کرے کہ وہ یوکرین کے ساتھ ہے، یورپ کی مدد کے بغیر یوکرین تنہا ہوجائے گا۔انہوں نے روس کو ریاستی دہشت گردی کا مرتکب بھی قرار دیا۔

  • یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    کیف :یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا ،اطلاعات کےمطابق یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز یوکرین نے یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست پر دستخط کیے تھے۔

    یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی ہے اورشمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے یورپی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ورچوئل خطاب کیا۔اس دوران یورپی پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے روس کے خلاف ڈٹ جانے پر کھڑے ہو کر زیلینسکی کیلئے تالیاں بجائیں۔

    ادھر یہ بھی یاد رہے کہ

    یہ جنگ نیٹو کے رکن ممالک کی مشرقی سرحدوں پر لڑی جا رہی ہے۔۔۔ نیٹو کے کئی اتحادی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس کے بعد روس کا اگلا ہدف وہی بنیں گے۔

    نیٹو اتحاد جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، مشرقی یورپ میں مزید فوجیں بھیج رہا ہے۔

    تاہم امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ ان کا یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    نیٹو کیا ہے؟

    نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی تشکیل سنہ 1949 میں سرد جنگ کے ابتدائی مراحل میں اپنے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے بطور سیاسی اور فوجی اتحاد کے طور پر کی گئی تھی۔

    امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ 10 یورپی ممالک کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں بنائے گئے اس اتحاد کا بنیادی مقصد اس وقت کے سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔

    جنگ کے ایک فاتح کے طور پر ابھرنے کے بعد، سوویت فوج کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی تھی اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔

    جرمنی کے دارالحکومت برلن پر دوسری جنگ عظیم کی فاتح افواج نے قبضہ کر لیا تھا اور سنہ 1948 کے وسط میں سوویت رہنما جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی، جو اس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔

    شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل میں تیزی پیدا کر دی تھی۔

    President Harry S. Truman signing the North Atlantic Treaty, marking the beginning of NATO, in 1949

     نیٹو اتحاد کی بنیاد سنہ 1949 میں سرد جنگ کے اوائل میں رکھی گئی تھی

    سنہ 1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔

    سنہ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا گیا جبکہ سنہ 1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔

    دوسری جانب 1955 میں سوویت روس نے نیٹو کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک کا الگ سے فوجی اتحاد بنا لیا، جسے وارسا پیکٹ (وارسا معاہدہ) کہا جاتا ہے۔

    سنہ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وارسا معاہدے میں شامل متعدد ​​ممالک نے وفاداریاں بدل لیں اور نیٹو کے رکن بن گئے۔

    اس وقت نیٹو اتحاد میں 30 ممالک شامل ہیں۔

    نیٹو اور یوکرین کے ساتھ روس کا مسئلہ کیا ہے؟

    یوکرین سابقہ سوویت یونین کا ایک حصہ ہے جس کی سرحد روس اور یورپی یونین دونوں سے ملتی ہے۔

    یہاں روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے اور روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ کریملن یوکرین کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے اور حال ہی میں روسی صدر پوتن نے یوکرین کو روس کا حصہ کہا تھا۔

    تاہم حالیہ برسوں میں یوکرین مغرب سے امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت اس کے آئین کا حصہ ہے۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں لیکن اس کا ‘شراکت دار ملک’ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔

    روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایک خودمختار ملک کے طور پر یوکرین کو اپنے سیکیورٹی اتحاد کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روک نہیں سکتے۔

    روس کو  خدشات

    پوتن

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں اس اتحاد کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔

    وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور ڈالتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔

    امریکہ کا کہنا ہے اس نے ایسی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔

    نیٹو روس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے رکن ممالک کی ایک بہت چھوٹی تعداد کی روس کے ساتھ مشترکہ سرحدیں ہیں اور یہ ایک دفاعی اتحاد ہے۔