Baaghi TV

Author: +9251

  • بلوچستان: خفیہ اطلاع پر سیکورٹی فورسز کا آپریشن،ایک دہشت گر دہلاک،اسلحہ برآمد

    بلوچستان: خفیہ اطلاع پر سیکورٹی فورسز کا آپریشن،ایک دہشت گر دہلاک،اسلحہ برآمد

    بلوچستان کے عام علاقے سمبازہ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر سیکورٹی فورسز کا آپریشن،ایک دہشت گر دہلاک ہو گیا-

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بلوچستان کے علاقے سمبازا میں دہشتگردوں کے ٹھکانے کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے دہشتگردوں کو پکڑنے کے لیے آپریشن کیا، دہشتگرد ملحقہ قبائلی اضلاع میں دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔

    بیان کے مطابق اس دوران سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ غار میں چھپے دہشتگردوں نے بھاگنے کی کوشش کی اور اندھا دھند فائرنگ کی اسی دوران فورسز کیساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں 1 دہشت گرد مارا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود کا ذخیرہ برآمد کیا گیا، بھاری تعداد میں یہ اسلحہ دہشت گردوں کی جانب سے سیکورٹی فورسز کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

    بیان کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے مرتکب افراد کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی، پاکستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

  • بھارت میں سکھ لڑکی اور لڑکے کوپگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روک دیاگیا

    بھارت میں سکھ لڑکی اور لڑکے کوپگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روک دیاگیا

    بنگلورو: ہندوؤں کی انتہا پسندی بڑھ گئی حجاب تنازعہ جاری ہے اس دوران کرناٹک سے دوایسی خبریں آئی ہیں جن کے مطابق سکھ بھی نشانے پر آگئے ہیں، اطلاعات کے مطابق ایک لڑکی کو اسکول میں پگڑی اتارنے کو کہا گیا جب کہ ایک دوسرے واقعے میں ایک چھ سالہ سکھ بچے کو پگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روکا گیا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق کلاسوں میں حجاب پہننے سے متعلق تنازعہ کے درمیان، ماؤنٹ کارمل پی یو کالج میں ایک سکھ (امر دھاری) لڑکی سے اپنی پگڑی اتارنے کو کہا گیا اسی کے ساتھ کالج کے کچھ والدین نے یہ بھی شکایت کی کہ ان کی بیٹیوں کو حجاب اتارنے کے لیے کہے جانے کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج…

    حکام اب س پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں، کیونکہ حساس مسئلہ ریاستی دارالحکومت کے دیگر کالجوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔ اگرچہ ریاست بھر کے کالجوں میں حجاب کے ساتھ کلاسوں میں شرکت کی اجازت سے انکار پرطلبا نے احتجاج کیا، لیکن اب تک اس کا بنگلورو میں بڑے پیمانے پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔

    ہائیکورٹ کی خصوصی بنچ نے بدھ کے روز واضح کیا کہ جب تک معاملہ نمٹا نہیں جاتا، پری یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ انڈرگریجویٹ کالج میں کسی بھی مذہبی علامت کی اجازت نہیں ہے جس کے بعد کالج کی طالبات کے والدین، جنہیں حکام نے حجاب ہٹانے کے لیے کہا تھا، نے مطالبہ کیا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم کو تمام طالبات پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے۔

    یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب پنجاب یونیورسٹی ایجوکیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جی۔ سری رام، جو پیر کو پریکٹیکل امتحان کے دوران کالج کا معائنہ کر رہے تھے، نے عدالت کے حکم کے مطابق دو طالبات کو حجاب اتارنے کی ہدایت کی اس سے طلبہ میں غم و غصہ پھیل گیا اور طلبہ نے اس کی شدید مخالفت کی اگرچہ کالج کے اہلکاروں نے زیادہ تر طالب علموں کو کامیابی کے ساتھ قائل کر لیا، لیکن کچھ نے اصرار کیا کہ اگر وہ حجاب کو ہٹانا چاہتے ہیں، تو دوسروں کو بھی کوئی مذہبی علامت پہننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    بھارتی حکومت کا "سکھ فار جسٹس” سےمتعلق ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس…

    دریں اثنا، ماؤنٹ کارمل پی یو کالج کے حکام نے ایک سکھ لڑکی کو ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرنے کے لیے اپنی پگڑی اتارنے کو کہا حکام نے اس کے بارے میں اس کے والد کو میل بھی کیا 16 فروری کو لڑکی کو پگڑی اتارنے کو کہا گیا لیکن وہ نہیں مانی اس کے بعد اسکول کے حکام نے سکھ لڑکی کے والد کو صورتحال سے آگاہ کیا اور اس کے اہل خانہ نے کالج کو بتایا کہ وہ اپنی پگڑی نہیں اتارے گی اور وہ اس معاملے پر قانونی رائے لیں گے محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے عبوری حکم میں پگڑی کی کوئی بات نہیں ہے۔

    جبکہ دوسری جانب یہ بھی خبرہے کہ ڈسٹرکٹ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی چائلڈ لائن کو منگلورو کے ایک پرائیویٹ اسکول کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرے گی جس نے مبینہ طور پر سکھ برادری کے ایک چھ سالہ لڑکے کو داخلے سے انکار کر دیا تھا، جس نے ‘پٹکا’ پگڑی پہن رکھی تھی۔

    اس دوران سی ڈبیلوسی کی صدرنے بتایا کہ سکھ برادری کے طلباء کو ‘پٹکا’ اور ‘کڑا’ پہننے کی اجازت ہے یہ کرناٹک ہائی کورٹ کے کلاس رومز کے اندر حجاب (دوپٹہ) پہننے کے عبوری حکم پر اسکول انتظامیہ کا گھٹن والا ردعمل ہے-

    انہوں نے چائلڈ لائن کو سکھ طالب علم کے داخلے سے انکار پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی راشٹریہ سکھ سنگت کو بتایا گیا کہ اسکول انتظامیہ 28 فروری کو حتمی فیصلہ کرے گی۔

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

  • ڈرائیور نے کچوریاں لینے کیلئے ٹرین کو بریک لگا دی،ویڈیو وائرل

    ڈرائیور نے کچوریاں لینے کیلئے ٹرین کو بریک لگا دی،ویڈیو وائرل

    نئی دہلی: بھارت میں ٹرین ڈرائیور نے کچوریاں لینے کیلئے ٹرین کو بریک لگا دی ،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پھاٹک پر ایک شخص کچوریاں لیے ٹرین کے آنے کا انتظار کر رہا ہے اور ٹرین کے قریب آنے پر ڈرائیور بریک لگا کر اس شخص سے کچوریاں وصول کرتا ہے اور پیسے دیتا ہے۔

    روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ٹریک کی آمد کی وجہ سے پھاٹک بند ہے اور دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں لیکن ٹرین ڈرائیور کسی کی بھی پروا کئے بغیر ٹرین کو بریک لگا لیتا ہے۔
    https://twitter.com/shah_bikrant/status/1496505077439291410?s=20&t=NDtDa9QCy5w70EwIP8oc6w
    بھارت میں ٹرین ڈرائیور کی اس حرکت پر پھاٹک کے باہر کھڑے شخص نے اس تمام معاملے کی موبائل سے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کر دی جس کے کیپشن میں لکھا کہ ڈرائیور نے الوار کی مشہور کچوری لینے کے لیے ٹرین روک دی جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا


    سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیو پر لوگوں نے کمنٹس کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کہ معاملات پاکستان اور ہندوستان میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

    ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین…

  • یو اے ای میں 5 اداروں سمیت ایک شخص مقامی دہشت گردی کی فہرست میں شامل

    یو اے ای میں 5 اداروں سمیت ایک شخص مقامی دہشت گردی کی فہرست میں شامل

    متحدہ عرب امارات میں ایک شخص اور 5 ادارے مقامی دہشت گردی کی فہرست میں شامل اطلاعات کے مطابق بدھ کو متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے 2022 کی وزارتی قرارداد نمبر 13 جاری کی جس میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والے افراد، اداروں اور تنظیموں کی منظور شدہ مقامی فہرست میں ایک فرد اور 5 دہشت گرد اداروں کو شامل کیا گیا ہے۔

    شام کے دارالحکومت میں اسرائیل کا چوبیس گھںٹوں میں دو سرا حملہ

    عرب میڈیا کے مطابق ان پابندیوں میں "عبدہ عبداللہ دائل احمد” نامی ایک ملزم کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی اداروں میں ایکسپریس ایکسچینج اینڈ ریمیٹنس کمپنی، الحظا ایکسچینج کمپنی اور معاذ عبداللہ دایل کمپنی فار امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ شامل ہیں۔

    جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کی دہشت گردی کی مالی معاونت اور اس کے ساتھ ہونے والی سرگرمیوں سے وابستہ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے اور ان میں خلل ڈالنے کے فریم ورک کے اندر آتا ہے۔

    دریائے نیل کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل ہونے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں پر گہری نظر جمائے ہوئے ہے ہم کسی بھی فرد یا اس سے منسلک اداروں یا کسی بھی مالی یا تجارتی اداروں کے ذریعے دہشت گردوں کو فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    مزید کہا گیا کہ اس حوالے سے قوانین کا فوری اطلاق اور نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث شخص اور ادارے کے تمام اثاثےچوبیس گھنٹے کے اندر اندر منجمد کرنے کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

    امریکا کا وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر تبصرہ کرنے سے گریز

  • یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نےکیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌

    یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نےکیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌

    لاہور:یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نے کیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے دو علاقوں کی آزادانہ حیثیت تسلیم کرنے پر امریکہ اور یورپی یونین کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی روس کےخلاف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    روس کی جانب سے مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں میں فوج داخل کرنے کے احکامات کے بعد امریکہ اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ مغربی ممالک نے کسی جارحیت کی صورت میں ماسکو کو مزید سخت اقدامات کرنے کا انتباہ بھی کیا ہے۔

    امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان نے اپنی پابندیوں میں بینکوں اور روس کے امیر ترین افراد کو ہدف بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ جرمنی نے روس کے ساتھ ایک بڑی گیس پائپ لائن منصوبے پر کام روک دیا ہے۔

    یوکرین اور روس کے درمیان جاری حالیہ تنازع کو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں سلامتی کا سنگین ترین بحران قرار دیا جارہا ہے۔ روس یوکرین کو تاریخی اعتبار سے اپنی سرزمین کا حصہ تصور کرتا ہے۔

    یوکرین کے مغربی ممالک کے اتحاد نیٹو سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے رد عمل میں صدر ولادیمیر پوٹن نے، گزشتہ برس امریکہ کے تخمینے کے مطابق، یوکرین کی سرحد پر ڈیڑھ لاکھ اہل کار تعینات کردیے تھے۔

    روس نے منگل کو ان اہل کاروں کو یوکرین کے علاقوں ڈونیٹسک اور لوہانسک میں داخل ہونے کے احکامات جاری کیے اور اس کی وجہ ‘قیامِ امن’ بتایا ہے۔امریکہ نے اس جواز کو ‘احمقانہ’ قرار دیتے ہوئے اسے یوکرین پر حملے کا آغاز قرار دیا ہے۔ امریکہ کی روس پر پابندیاں ماسکو کے حالیہ اقدامات پر امریکہ نے روس کے امیر ترین افراد اور دو سرکاری بینکوں کو ہدف بنایا ہے۔

    امریکہ کی پابندیاں روس کے ‘ویب بینک’ اور روسی فوج کے ‘پرومزوائز بینک’ پر عائد ہوں گی جو روس کے دفاعی سودے کرتا ہے۔

    امریکہ نے ان روسی بینکوں کو اپنے بینکنگ سسٹم سے خارج کردیا ہے، ان پر امریکیوں سے تجارت کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور ان کے اثاثے بھی منجمد کردیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کی جارحیت کی صورت میں وہ روس کے سب سے بڑے دو کمرشل بینکوں ‘سبر بینک’ اور ‘وی ٹی بی’ پر پابندی عائد کردیں گے۔

  • یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا

    یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا

    واشنگٹن :یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا ،اطلاعات کے مطابق جس کا خدشہ یا یقین تھا وہی ہوا ۔روس رکا نہیں اور یوکرین پر دھاوا بول دیا۔جنگ چھڑ چکی ہے۔دنیا فکر مند ہے کہ کہیں یہ جنگ طول نہ پکڑ لے۔ اب انتظار اس بات کا ہے کہ روس کے تیوروں کے سامنے مغرب کا موقف کیا ہوتا ہے۔

    بات پابندیوں تک محدود رہے گی یا پھر جنگ کے میدان میں امریکہ اور نیٹو بھی کود پڑیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینا جنگ کے طول پکڑنے کا خدشہ ہوگا۔

    جب یوکرین میں گذشتہ سال کے اواخر میں بحران کا آغاز ہوا تو روسی صدر ولادی میر پوتن کی حکومت نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو اپنے مطالبات کی ایک طویل فہرست جاری کی۔روس کا سب سے بڑا مطالبہ تھا کہ نیٹو روس کی سرحد سے متصل سابق سوویت بلاک ریاستوں سے اپنے تمام فوجی، سازوسامان اور ہتھیار واپس بلا لیں۔

    پوتن کی جانب سے منگل کو مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسندوں والے علاقوں پر حملے کے حکم کے 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے بعد امریکی فوج روس کی دہلیز پر مزید فائر پاور بھیج رہی ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے منگل کو ہی امریکی فوجیوں، طیاروں اور لڑاکا طیاروں کو مشرقی یورپ میں تعینات کرنے کا حکم دیا تاکہ شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے اتحادیوں کو یقین دلایا جا سکے اور ماسکو کی مزید جارحیت کو روکا جا سکے۔

    صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں کہا: ’میں نے اپنے بالٹک اتحادیوں ایستونیا، لٹویا اور لتھوانیا کو مضبوط بنانے کے لیے یورپ میں پہلے سے تعینات امریکی افواج اور سازوسامان کی اضافی نقل و حرکت کا اختیار دے دیا ہے۔

    روس کی جانب سے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد فوجیوں کی تعداد بڑھنے کے بعد سے وائٹ ہاؤس اور یورپی اتحادیوں نے عسکری طریقے سے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

    کئی ماہ سے بائیڈن نے اصرار کیا ہے کہ امریکی فوجی یوکرین میں جو نیٹو کا اتحادی نہیں ہے، میں نہیں لڑیں گے لیکن انہوں نے یورپ کے دیگر حصوں سے امریکی افواج کو عارضی طور پر دوبارہ تعینات کرکے آس پاس کے ممالک میں دفاع کو دوگنا کیا ہے۔

    تقریبا چھ ہزار امریکی فوجی پہلے ہی جرمنی، پولینڈ اور رومانیہ بھیجے جا چکے ہیں۔ پولینڈ میں 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے ساتھ امریکی پیراٹروپرز یوکرین پر حملے کے بعد اس کی مشرقی سرحد سے فرار ہونے والے ہزاروں پناہ گزینوں کے لیے فوجی سہولیات قائم کر رہے ہیں۔

    رومانیہ میں، جو جنوب میں یوکرین کی سرحد سے متصل ہے، ایک ہزار فوجیوں پر مشتمل آرمی سٹرائیکر سکواڈرن جرمنی سے کسی بھی سرحدی مسئلے سے نمٹنے کی تیاری کے لیے منتقل ہو چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ مشرقی یورپ میں فضائی دفاع کو تقویت دینے کے لئے 20 حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور دو درجن لڑاکا طیاروں کی ایک بٹالین کی تعیناتی کا حکم دیا گیا ہے۔

    اب امریکہ کے پاس یورپ میں 90 ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر مشرقی یورپ سے باہر تعینات ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بائیڈن نے پولینڈ میں امریکی زمینی فوجیوں کی تعداد دگنی سے زیادہ کر کے نو ہزار اور رومانیہ میں تقریبا دو ہزار کر دی ہے۔

    بائیڈن نے منگل کو جن فورسز کا اعلان کیا ہے ان میں تقریبا 800 سروس ممبران کی انفنٹری بٹالین ٹاسک فورس شامل ہے جو اٹلی سے بالٹک خطے میں منتقل ہوئی، جرمنی سے آٹھ ایف 35 لڑاکا طیاروں سے ’نیٹو کے مشرقی حصے کے ساتھ‘ بے نام اڈوں تک، جرمنی سے بالٹک تک 20 اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹر، اور یونان سے پولینڈ تک 12 دیگر اپاچی ہیلی کاپٹر بھیجے گئے ہیں۔

    نیٹو کے مشرقی حصے میں اضافی زمینی اور فضائی افواج کی تعیناتی سے خطرات لاحق ہیں۔ 2014 میں پوتن کے جزیرہ نما کرائمیا کے ساتھ الحاق کے بعد سے

  • یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟رپورٹ

    یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟رپورٹ

    ماسکو: یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟اطلاعات کے مطابق اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے ، روس نے بھرپورفضائی حملہ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے

    دفاعی صلاحیتوں کے اعتبار سے روس بلاشبہ یوکرین سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور یہ بات یوکرین بھی بخوبی جانتا ہے البتہ ممکن ہے کہ اسے مغربی ممالک اور امریکا کا تعاون حاصل ہو۔

    اگر روس اور یوکرین کے فوجیوں کی تعداد اور دفاعی ساز و سامان کا تقابلی جائزہ کریں تو روس کا یوکرین سے کوئی مقابلہ نہیں بنتا۔

    عسکری قوت

    دنیا بھر میں عسکری قوت اور دفاعی ساز و سامان کے اعتبار کے ملکوں کی درجہ بندی جاری کرنے والے عالمی ادارے گلوبل فائر پاور اور آئی آئی ایس ایس ملٹری پاور کے اعداد و شمار کے مطابق روس دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے جبکہ یوکرین کا نمبر 22 واں ہے۔

    فوجیوں کی تعداد

    فوجیوں کی مجموعی تعداد کی بات کی جائے تو یہاں بھی روس کو یوکرین پر بھاری سبقت حاصل ہے۔ روس کے فوجیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 29 لاکھ ہے جبکہ یوکرین کے پاس 11 لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔ ان میں سے روس کے فعال فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ جبکہ ریزرو دستوں کی تعداد 20 لاکھ ہے۔

    اسی طرح یوکرین کے فعال فوجیوں کی تعداد صرف 2 لاکھ جبکہ ریروز دستوں کی تعداد 9 لاکھ ہے۔

    جنگی طیاروں کی تعداد کسی بھی جنگ میں بری فوج کو اگر فضائی معاونت حاصل نہ ہو تو ان کیلئے پیش قدمی مشکل ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ فضائی قوت جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے پاس موجود جنگی طیاروں کا ذکر کیا جائے تو یہاں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔

    روس کے پاس تقریباً 1511 جنگی طیارے موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس موجود طیاروں کی تعداد محض 98 ہے۔

    جنگی ہیلی کاپٹرز
    اس میدان میں بھی روس یوکرین سے آگے ہے۔ یوکرین کے پاس صرف 34 ہیلی کاپٹرز ہیں جبکہ روس کی عسکری قوت میں 544 ہیلی کاپٹرز موجود ہیں۔

    ٹینکس

    موجودہ دور میں جنگ کے دوران ٹینکس کا کردار کسی حد تک محدود ضرور ہوا ہے تاہم ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ روس اور یوکرین کے معاملے میں ٹینکس کی اہمیت زیادہ ہے کیوں کہ روس یوکرین کے علاقوں میں پیش قدمی چاہتا ہے اور پیش قدمی کا محفوظ طریقہ ٹینکس کو لے کر آگے بڑھنا ہے۔

    روس کے پاس موجود ٹینکس کی تعداد 12 ہزار 240 ہے جبکہ یوکرین 2596 ٹینکس رکھتا ہے۔

    بکتر بند گاڑیاں

    روس کے پاس موجود بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122ہے جبکہ یوکرین کے پاس 12 ہزار 303 بکتر بند گاڑیاں ہیں۔

    قابل انتقال توپیں

    روس کے پاس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی تقریباً 7571 توپیں موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس اس طرح کی 2040 توپیں موجود ہیں۔

    ایٹمی ہتھیار

    یہ بات ہم سب کے علم میں ہے کہ روس ایٹمی ملک ہے جبکہ یوکرین کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود نہیں۔ سوویت یونین کا حصہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں جو جوہری ہتھیار یوکرین کے پاس موجود بھی تھے وہ ان سے دستبردار ہوچکا ہے۔

    روس کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد حتمی طور پر تو نہیں بتائی جاسکتی البتہ ایک محتاط اندازے کے مطابق روس کے پاس مختلف نوعیت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہے جبکہ امریکا کے پاس بھی تقریباً اتنے ہی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

    دونوں ملکوں کی عسکری قوت کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات تو آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ یوکرین جنگ کی صورت میں روس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اگر امریکا یا یورپی ممالک نے اس میں مداخلت کی تو جنگ کا دائرہ مزید بھی بڑھ سکتا ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کیا ہے؟

    خیال رہے کہ 1922 میں جب سوویت یونین کی بنیاد ڈالی گئی تو یوکرینین سوویت سوشلسٹ ریپبلک (یوکرینین ایس ایس آر) بھی اس میں شامل تھا تاہم1991 میں جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو یوکرین نے بھی آزادی حاصل کی۔

    البتہ روس اپنا شیرازہ بکھرنے کے باوجود سوویت یونین میں شامل ممالک کو کہیں نہ کہیں اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یوکرین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ یوکرین میں قدیم روسی نسل کے باشندے بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں جن میں کریمیا، دونیستک اور لوہانسک میں ان کی اکثریت ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان اس سے قبل 2014 میں بھی جنگ ہوچکی ہے۔ دراصل یوکرین کی خواہش ہے کہ وہ یورپی یونین میں شمولیت حاصل کرے اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا حصہ بنے تاکہ اسے تجارتی و دفاعی تحفظ حاصل ہوسکے تاہم روس مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے خلاف ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ یہ دو عوامل ہی ہیں۔

  • روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    بیجنگ : روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا ،اطلاعات کے مطابق چین نے یوکرین میں افراتفری کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرادیا اور کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا۔

    تفصیلات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین روس تنازع کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا ، تنازع پر صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں۔

    چینی وزارت خارجہ نے امریکا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا،جنگ کوبڑھاوادینے والےتمام اقدامات پرشدیداعتراض ہے، امریکا یوکرین کو ہتھیار دے کر معاملے کو بڑھا رہاہے۔

    چین نے امریکا کی جانب سے روس پر پابندیوں اور یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو خطے میں جنگ کے مترادف قرار دیا اور کہا جوبائیڈن انتظامیہ یوکرین کے معاملے کو ہوا دے رہی ہے۔

    ترجمان ہوا چوئیننگ نے امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جلتی پر تیل ڈالے اور اس کا الزام بھی دوسروں پر دھرے تو یہ غیر زمہ دارانہ اور غیر اخلاقی عمل کہلائے گا۔

    ترجمان وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین تنازع پر تمام فریقین کو ایک دوسرے کو اہمیت دیں اور ایک دوسرے کے سیکیورٹی خدشات کو دور کریں تاکہ مشاورت اور مذاکرات سے اس مسئلے کا پُرامن حل نکل سکے۔

  • دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے: ہائیکورٹ کا حکم

    دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے: ہائیکورٹ کا حکم

    لاہور:دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے: اطلاعات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیلئے دائر متفرق درخواست میں تجاوزات کے مرتکب افراد کو بھاری جرمانے اور دکانوں کے فٹ پاتھ کرائے پر دینے والوں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا ۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی متفرق درخواست پر سماعت کی، جوڈیشل واٹر کمیشن کی طرف سے سید کمال حیدر ایڈووکیٹ، ایل ڈی اے کی طرف سے صاحبزادہ مظفر، ڈائریکٹر ٹیپا وقار اسلم پیش رفت رپورٹ سمیت پیش ہوئے، جوڈیشل واٹر کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عدالت نے پنجاب میں گندگی پھیلانے والوں پر جرمانے عائد کرنے کا حکم دیا تھا مگر عملدرآمد نہیں ہوا،

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے دوران سماعت کہا کہ تجاوزات ٹریفک جام کی وجہ بنتی ہے، اس لئے تجاوزات والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں، ہٹائی گئی تجاوزات دوبارہ قائم ہونے پر ذمہ دار فیلڈ افسر کیخلاف کارروائی کی جائے،

    جوڈیشل واٹر اینڈ انوائرمنٹل کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ غریبوں کی ریڑھیاں اٹھا کر تصویریں بناکر رپورٹ تیار کر لیتے ہیں، مگر امیر لوگوں کیخلاف کارروائی نہیں کرتے، کمیشن نے سڑکوں پر تجاوزات کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے مگر ایل ڈی اے تجاوزات کے عوض رشوت لیتا ہے، دکانداروں نے فٹ پاتھوں پر قبضے کر رکھے ہیں، دکاندار فٹ پاتھوں کے کرائے وصول کر رہے ہیں۔

    جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں دوران سماعات ڈی ایس پی ٹریفک نے عدالت کو بتایا کہ ٹریفک پولیس تجاوزات کیخلاف آپریشن میں ساتھ ہوتی ہے،مسئلہ یہ ہے کہ سڑکوں پر ایک طرف تجاوزات ختم کرتے ہیں تو چند گھنٹوں بعد تجاوزات پھر قائم ہو جاتی ہیں۔

    ڈائریکٹر ٹیپا نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میونسپل کارپوریشن زیر تعمیر عمارتوں کی انسپکشن کئے بغیر این او سیز جاری کر رہا ہے، لاہور میونسپل کارپوریشن عمارتوں کے نقشوں کی منظوری کے بعد رپورٹ ٹیپا کو بھی بھجوانے کا پابند ہے، ایم سی ایل کی طرف سے ٹیپا کیساتھ تعاون نہیں کیا جا رہا، ایم سی ایل کے زیر انتظام علاقوں میں عمارتوں کے نقشوں کے این او سیز کیلئے ٹیپا کی منظوری لازم قرار دی جائے۔

    جسٹس شاہد کریم نے قرار دیا کہ شہر میں پی ایس ایل کی وجہ سے ٹریفک کے دبائو میں بہتری آئی ہے، سی ٹی او کا شکریہ کہ انہوں نے ٹریفک جام کو کم کیا، عدالت سی ٹی او کے اقدام کو سراہتی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 مارچ تک ملتوی کردی۔

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان ،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج چین اور روس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فوجیوں کی تعداد اور اڈوں میں اضافہ کرے گی جبکہ ایران اور جہادی گروپوں کو روکنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنی افواج کو برقرار رکھے گی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کے افسران کا پیر کو کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع گوام اور آسٹریلیا میں فوجی تنصیبات کو اپ گریڈ کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ دفاع چین کو امریکہ کا سب سے بڑا دفاعی حریف سمجھتے ہوئے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا۔یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک نیا دفاعی اتحاد قیام میں آیا ہے جسے آکوس کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس اتحاد میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں اور ان کا مقصد چین کی ترقی کا مقابلہ کرنا ہے۔

    چین اپنی بحریہ تشکیل دے رہا ہے اور ایشیا میں دہائیوں سے امریکی فوجی تسلط کو امتحان میں ڈال رہا ہے۔یہ اتحاد اس وقت بنا جب بیجنگ نے متنازع جنوبی چائنہ سمندر میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا اور تائیوان کے خلاف اپنے فوجی خطرات میں اضافہ کیا۔

    رواں سال کے آغاز میں صدر جو بائیڈن کی جانب سے کمیشن کیے گئے جائزے ’گلوبل پوسچر رویو‘ کے بارے میں پینٹاگون کے افسران کا کہنا تھا کہ اس کی تفصیلات کو ابھی خفیہ رکھا جائے گا تاکہ امریکہ کے منصوبے حریف ممالک کو پتا نہ چلیں۔یاد رہے کہ ’گلوبل پوسچر رویو‘ وہ جائزہ ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر ملک کے لائحہ عمل سے متعلق ہے۔

    پنٹاگون کی اعلٰی افسر مارا کارلن کا کہنا ہےکہ اس جائزے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کا ترجیحی علاقہ انڈو پیسیفک ہے۔مارا کارلن نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جائزہ ’خطے میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اضافی تعاون کی ہدایت کرتا ہے تاکہ ایسے اقدامات کو آگے بڑھایا جائے جو علاقائی استحکام میں معاون ہوں اور چین کی جانب سے ممکنہ فوجی جارحیت اور شمالی کوریا کی طرف سے خطرات کو روکیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جائزہ یورپ میں روس کی جارحیت کے خلاف مدد دیتا ہے اور نیٹو فورسز کو زیادہ موثر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
    تاہم عراق اور افغانستان میں طویل جنگوں کے بعد مشرق وسطیٰ اب بھی پینٹاگون کے لیے مشکل علاقہ ہے۔