Baaghi TV

Author: +9251

  • گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ کتنی ہے؟ کون کونسی مراعات لے رہے ہیں؟بڑے حیران کن انکشافات آگئے

    گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ کتنی ہے؟ کون کونسی مراعات لے رہے ہیں؟بڑے حیران کن انکشافات آگئے

    اسلام آباد :گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ کتنی ہے؟ کون کونسی مراعات لے رہے ہیں؟بڑے حیران کن انکشافات آگئے،اطلاعات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی ماہانہ تنخواہ کتنی ہےاور انہیں کون کونسی سہولیات اور مراعات ملتی ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کے سینٹرعرفان صدیقی نے ایوان بالا میں گورنر اسٹیٹ بینک کو ملنے والی تنخواہ کی تفصیلات پر سوال کیا تھا، اور پوچھا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر آئی ایم ایف میں کتنے عرصہ کیلئے ملازم رہے، پاکستان میں بطور گورنر اسٹیٹ بینک ملنے والی تنخواہ اور مراعات کتنی ہیں۔

    جس پر وزارت خزانہ کی جانب سے دستاویزات فراہم کی گئیں جس کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ ہے جس میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

    تنخواہ کے علاوہ گورنر اسٹیٹ بنک کو ملنے والی مراعات کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں جس کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو فرنشڈ گھر یا اس کے برابر کرایہ اور مینٹیننس کی سہولیات فراہم دی جاتی ہیں۔

     

     

     

     

    وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بنک کو دو گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں اور انہیں 600 لیٹر پیٹرول دیا جاتا ہے جبکہ گورنر اسٹیٹ بنک کو ڈرائیور کی بھی سہولت حاصل ہے۔

    علاوہ ازیں گورنر اسٹیٹ بینک کو بجلی، گیس، پانی اور جنریٹر کے اخراجات بھی حکومت بھی ذمہ داری ہے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک کو مفت لینڈ لائن، موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی سہولت حاصل ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ان کے بچوں کی 75 فیصد فیس ادا کی جاتی ہے جبکہ گورنر اوراسکی فیملی کو مکمل علاج معالجے کی بھی سہولیات حاصل ہیں۔

    دستاویزات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک 4 ملازمین رکھ سکتے ہیں اور ہر ملازم کی تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ ہے، انہیں 24 گھنٹے سکیورٹی اور سکیورٹی گارڈز کی سہولت حاصل ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق گورنر اسٹیٹ بنک کی گریجویٹی ایک ماہ کی تنخواہ سالانہ ہے، گورنر اسٹیٹ بینک کو ہر ماہ تین دن چھٹی کی سہولت حاصل ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کو کلب کی ماہانہ چارجز سمیت سہولت حاصل ہے۔

  • لاکھوں بزرگوں کا سلام اورایک پیغام :وزیراعظم عمران خان کے نام

    لاکھوں بزرگوں کا سلام اورایک پیغام :وزیراعظم عمران خان کے نام

    جناب عمران خان صاحب
    وزیرِ اعظم
    اسلامی جمہوریہ پاکستان
    وزیر اعظم ہاوس اسلام آباد

    عنوان۔ بزرگ پنشنرز کی درد مندانہ فریاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جناب محترم وزیر اعظم صاحب!

    ہم بزرگ پنشنرز کس کو اپنی درد بھری فریاد سنائیں۔ اب تو ہم روٹی کپڑے اور ادویات سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ آپ کے دورِ حکومت میں ہی حاضر سروس ملازمین نے دو مرتبہ احتجاج کر کے یکم مارچ 2021 سے 25 فیصد ڈسپرائٹی الاؤنس پھر بجٹ میں 10 فیصد اضافہ اب یکم مارچ 2022 سے پھر 15 فیصد تنخواہوں میں اضافہ حاصل کیا۔ جبکہ پنشنرز کو بجٹ میں صرف 10 فیصد کا پنشن میں اضافہ دیا گیا ۔جناب وزیر اعظم صاحب کیا بزرگ پنشنرز اِس ُملک کے شہری نہیں؟ کیا بزرگ پنشنرز نے اپنی زندگی اور جوانی کا قیمتی حصہ ُملک کی خدمات میں صرف نہیں کیا؟ اب جب اِن میں دم خم نہیں رہا۔ گھروں میں بیٹیاں رخصت کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔بچوں کی تعلیم آخری مراحل اور مہنگے ترین حصے میں ہیں بال بچوں کی روزی روٹی کے کوئ ذرائع آمدن نہیں اور ادویات اِن کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ مہنگائ آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ایسے وقت میں صرف پنشنرز کو ہی پنشن میں اضافہ سے محروم رکھنا کیا زندہ درگور کرنے کے مترادف نہیں۔

    بزرگ پنشنرز تو ویسے بھی چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ جن کا پنشن کے علاوہ کوئ ذریعہ آمدن نہیں۔ کیا ہم بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیں ؟ کیا ہم بیٹے بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روک دیں؟ اگر کسی کا بیٹا جوان ہے بھی تو اُسے نوکری نہیں ملتی تو ہم کیا کریں۔ کیا ہم اجتماعی خود کشی کے لیے اسلام آباد ڈی چوک آ جائیں؟ ہم بزرگ پنشنرز حاضر سروس ملازمین کی طرح نہ احتجاج کر سکتے ہیں نہ ڈنڈے کھا سکتے ہیں۔ اب اس عمر میں تو صرف کفن پہن کر ڈی چوک آ کر اجتماعی خود کشی کر سکتے ہیں یا آپ سے اللہ اور رسول ؐ کا واسطہ دیکر فریاد کر سکتے ہیں۔ آپ کا نعرہ ہے ریاستِ مدینہ کا اور دو نہیں ایک پاکستان کا ۔ تو پھرریاستِ مدینہ میں اور ایک ہی پاکستان میں بزرگ پنشنرز کے ساتھ یہ ظلم زیادتی اور ناانصافی کیوں؟ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں کہ حاضر سروس ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ ہوا ہو اور پنشنرز کو وہ نہ ملا ہو۔ آپ سے اللہ اور رسولؐ کا واسطہ دیکر اپیل ہے کہ ہماری پنشن میں مہنگائ کے تناسب سے ممکن نہیں تو ملک بھر کے پنشنرز کی پنشن میں کم از کم 50 فیصد پنشن میں اضافہ کرکے بزرگ پنشنرز کی دعائیں لیں۔ ورنہ بزرگ پنشنرز بچوں کی شادیاں نہ کر سکنے روزی روٹی نہ ملنے اور ادویات خرید نہ سکنے کی وجہ مر جائیں گے اور بروز محشر اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ حکومت وقت بلکہ آپ اور صرف آپ ہونگے۔ یہ بزرگ پنشنرز اب آپ کے رحم و کرم پر ہیں ان کی حالتِ ناگفتہ پر رحم کھائیں۔ داد رسی کی اپیل ہے۔ یہی وقت ان بزرگ پنشنرز کی دعائیں لینے کا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ

  • اظہاررائےکامطلب بدتمیزی،الزام تراشی اورذاتیات پرحملے        نہیں:پیمرا نےنفرت پھیلانےوالوں کونوٹس بھیج دیئے

    اظہاررائےکامطلب بدتمیزی،الزام تراشی اورذاتیات پرحملے نہیں:پیمرا نےنفرت پھیلانےوالوں کونوٹس بھیج دیئے

    اسلام آباد:اظہار رائے کا مطلب بدتمیزی،الزام تراشی اورکی ذات پرمجرمانہ حملے نہیں:پیمرا نے نفرت پھیلانے والوں کونوٹس بھیج دیئے،اطلاعات کے مطابق پیمرا کی طرف سے کچھ ایسے نام نہاد تجزیہ نگاروں کونوٹسز بھیجے گئے ہیں جن کی زبان سے کبھی خیر نہیں نکلی

    اطلاعات ہیں کہ اس حوالے سے کچھ ایسے اینکروں کونوٹسز جاری کیئے گئے ہیں جو اپنے ہی ہم وطنوں کی کردار کُشی اور ان کی توہین میں تمام حدیں پار کرجاتےہیں ، اس حوالے سے ویسے تو پیمرا نے جن اینکروں کے نام لیے ہیں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں مگران کے بارے میں سوشل میڈیا پران کو جاننے والوں کی طرف سے بہت زیادہ وضاحت کی جارہی ہے کہ یہ ایسے شرپسند ہیں کہ جو پیسے کی خاطر اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے اہل وطن کی توہین کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں‌

     

     

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وفاقی وزیر مرادسعید کی کردار کشی کرنے میں محسن بیگ ، افتخاراحمد اور غریدہ فاروقی کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیمرا نے یہ فیصلہ عوامی ردعمل کے بعد لیا جب ہر طرف سے ان شرپسند اینکروں کی زبان سے پاکستان کے باسیوں کے بارے میں زہر اور غلط بیانی نکل رہی تھی

     

     

     

    اس حوالے سے پیمرا نے غریدہ فاروقی ، محسن بیگ ، افتخار احمد اور طارق محمود شامل ہیں ، دوسری طرف سوشل میڈیا پر اس وقت مطالبہ کیا جارہاہےکہ نفرت کے ان بیوپاریوں کی زبانوں کو تالے لگنے چاہیں

     

     

  • کراچی پولیس چیف کا عہدہ ایک مرتبہ پھر غلام نبی میمن کے حوالے کردیا گیا

    کراچی پولیس چیف کا عہدہ ایک مرتبہ پھر غلام نبی میمن کے حوالے کردیا گیا

    کراچی: کراچی پولیس چیف کا عہدہ ایک مرتبہ پھر غلام نبی میمن کے حوالے کردیا گیا جبکہ عمران یعقوب منہاس اب ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔

    اس سلسلے میں نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا جس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس کو کراچی پولیس چیف کے عہدے سے ہٹا کر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی تعینات کردیا گیا۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ غلام نبی میمن کو کراچی پولیس چیف کا عہدہ ایک مرتبہ پھر سونپ دیا۔ خیال رہے کہ وہ اس سے قبل بھی کراچی پولیس کے چیف رہ چکے ہیں۔
    نوٹی فکیشن کے مطابق ایڈیشنل آئی جی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ جاوید اختر اوڈھو کو ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ کی ذمے داریاں تفویض کردی گئی ۔

  • دو غیرملکی صحافی افغانستان میں غائب کردیئے گئے

    دو غیرملکی صحافی افغانستان میں غائب کردیئے گئے

    کابل : دو غیرملکی صحافی افغانستان میں غائب کردیئے گئے،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کیلئے کام کرنے والے دو غیرملکی صحافیوں کو مبینہ طور پر کابل میں حراست میں لے لیا گیا تاہم طالبان نے اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین (یواین ایچ سی آر ) کے مطابق یو این کے اسائنمنٹ پرکابل میں موجود دو غیرملکی صحافیوں اوران کے ساتھ کام کرنے والے دیگر افغان افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

     

    یواین ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ صورتحال کو حل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

    صحافی کی اہلیہ کا بیان

    ایک صحافی اینڈریو کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ کابل میں یو این ایچ سی آر کیلئے کام کر رہے تھے، صحافی اینڈریو کی حفاظت کیلئے فکر مند ہیں، فوری رہائی چاہتے ہیں۔

     

     

    طالبان کا ردعمل
    دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان حکام معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اوراس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے یا نہیں۔

  • عامر لیاقت کی دوسری اہلیہ طوبیٰ نے تہمت سے متعلق آیت شیئر کر دی

    عامر لیاقت کی دوسری اہلیہ طوبیٰ نے تہمت سے متعلق آیت شیئر کر دی

    کراچی : عامر لیاقت کی دوسری اہلیہ طوبیٰ نے تہمت سے متعلق آیت شیئر کر دی ۔
    عامر لیاقت حسین کی جانب سے تیسری شادی کا اقرار کیے جانے کے بعد ان کی سابقہ دوسری بیوی سیدہ طوبیٰ انور نے ٹوئٹ میں ایک آیت مبارکہ شیئر کی جس میں تہمت لگانے والوں کے لیے بڑے عذاب کا ذکر ہے۔

    انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر قرآن پاک کی ایک آیت شیئر کی جس کا ترجمہ ہے کہ ’جو لوگ پاک دامنوں بے خبر ایمان والیوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اوران کے لیےبڑا عذاب ہے۔
    اس سے قبل سیدہ طوبیٰ انور نے انسٹاگرام پر جاری ایک پوسٹ میں تصدیق کی تھی کہ انہوں نے عامر لیاقت حسین سے خلع لے لی ہے اور اس بارے میں میرے قریبی رشتہ دار جانتے ہیں کہ انہوں نے 14 ماہ قبل ہی شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

    بعدازاں عامر لیاقت حسین کی سابقہ پہلی بیوی بشریٰ اقبال نے بھی انسٹاگرام پر اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’جودل کے صاف ہوتے ہیں وہ رب کے خاص ہوتے ہیں‘۔

    علاوہ ازیں ڈاکٹر بشریٰ اقبال کی بیٹی دعا عامر نے بھی انسٹاگرام اسٹوری لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے خاندانی معاملات سے متعلق مجھے کسی پوسٹ میں ٹیگ نہ کریں اور اگر ایسا نہ کرسکیں تو ان فلو کردیں ۔

  • پی ایس ایل7: لاہور قلندرز نے ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا

    پی ایس ایل7: لاہور قلندرز نے ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا

    لاہور:پی ایس ایل7: لاہور قلندرز نے ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے دوسرے میچ میں لاہور قلندرز نے ایونٹ میں اب تک ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، ایونٹ کے 17 ویں میچ کیلئے ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کے قائد شاہین شاہ آفریدی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

     

    ملتان سلطانز اننگز

    لاہور قلندرز کی جانب سے 183 رنز کا ہدف ملتان سلطانز کی ٹیم حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 19 اعشاریہ 3 اوورز میں 130 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

    شان مسعود 8، کپتان محمد رضوان 20، صہیب مقصود 29، رائیلی روسو صفر، ٹم ڈیوڈ 24، خوشدل شاہ 22، انور علی 5، عباس آفریدی 1، بلیسنگ موزاربانی صفر پر اور عمران طاہر 3 رنز پر آؤٹ ہوئے جبکہ شاہنواز دھانی 6 سکور پر ناٹ آؤٹ رہے، لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور راشد خان نے 2،2 جبکہ زمان خان نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجا۔

     

    لاہور قلندرز اننگز

    قلندرز کی جانب سے فخر زمان اور عبداللہ شفیق نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ ملتان سلطانز کے انور علی نے پہلا اوور کرایا۔

    فخر زمان 60، عبداللہ شفیق 4، کامران غلام 42 اور محمد حفیظ 43 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، ملتان سلطانز کی جانب سے انور علی، عباس آفریدی ،شاہنواز دھانی اور عمران طاہر نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

     

     

    لاہور قلندرز نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 182 رنز بنائے، فل سالٹ 26 اور راشدخان 1 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

    فخر زمان کو 2 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 37 گیندوں پر 60 رنز کی اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    ملتان سلطانز سکواڈ

    لاہور قلندرز کے خلاف میچ کیلئے ملتان سلطانز کے سکواڈ میں کپتان محمد رضوان، شان مسعود، صہیب مقصود، رائیلی روسو، ٹم ڈیوڈ، خوشدل شاہ، انور علی، عباس آفریدی، عمران طاہر، بلیسنگ موزاربانی اور شاہنواز دھانی شامل تھے۔

    لاہور قلندرز سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف میچ کیلئے لاہور قلندرز کے سکواڈ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیری بروک، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف اور زمان خان شامل تھے۔

  • سندھ اسمبلی نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق بل متفقہ طورپر منظورکرلیا

    سندھ اسمبلی نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق بل متفقہ طورپر منظورکرلیا

    کراچی :طلبا یونین سندھ نے اپنا وعدہ پورا کردیا ،اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی نے 38 سالوں سے عائد طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ایوان میں طلبہ یونین سے متعلق مجوزہ بل قائمہ کمیٹی برائے قانون سے منظوری کے بعد پیر مجیب الحق نے پیش کیا۔

    طلبا یونین کی بحالی کیلئے بل تیار کرکے سب کو حیران کردیا ، ادھر متفقہ طور پر بل منظوری کے بعد قائد ایوان مراد علی شاہ نے سب جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بل میں طلبہ یونین سے متعلق قواعد ہیں، امید ہے کہ طلبہ یونین تدریسی عمل کو متاثر یا بند نہیں کروائیں گی۔

    سندھ اسمبلی سے منظور شدہ بل کے مطابق طلبہ انتخابات سے 7 سے 11 نمائندوں پرمشتمل یونین کومنتخب کریں گے اور تعلیمی اداروں میں ہرسال طلبہ یونین کے انتخابات ہوں گے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے کی سینیٹ اور سینڈیکٹ میں طلبہ یونین کی نمائندگی ہوگی جبکہ تعلیمی ادارے کی انسداد ہراساں کمیٹی میں بھی یونین کی نمائندگی ہوگی۔

  • آرمی چیف کا دورہ نگر پارکر، پورا دن جوانوں کے ساتھ گزارکرانتہائی خوشی محسوس کی

    آرمی چیف کا دورہ نگر پارکر، پورا دن جوانوں کے ساتھ گزارکرانتہائی خوشی محسوس کی

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نگرپارکر کا دورہ کیا، پورادن جوانوں کے ساتھ گزارا، سپہ سالار کو فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہندو کمیونٹی کے افراد سے بھی ملاقات کی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو نگر پارکر کے دورہ پر لوکل کمانڈر نے فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی، کورکمانڈر کراچی اور ڈی جی رینجرز سندھ بھی ہمراہ تھے، سپہ سالار نے افسروں اور جوانوں کے بلند مورال کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اپنی پیشہ ورانہ تیاروں پر توجہ موکوز رکھیں، کسی بھی ابھرتے ہوئے چیلنج کے موثر جواب کے لئے بھرپور تربیت جاری رکھیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مقامی ہندو کمیونٹی کے لوگوں سے بھی ملاقات کی ، ہندو کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقلیتیں برابر کے شہری ہیں، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اقلیتوں کی حفاظت کرے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہندو کمیونٹی نے ملک میں اقلیتوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ہندو کمیونٹی پاکستان کی معاشی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

  • پی ڈی ایم کا حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان:اعلان کرتے ہوئے لگ رہے تھے پریشان

    پی ڈی ایم کا حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان:اعلان کرتے ہوئے لگ رہے تھے پریشان

    لاہور:پی ڈی ایم کا حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان:اعلان کرتے ہوئے لگ رہے تھے پریشان ،اطلاعات کےمطابق مولانا فضل الرحمان کی سرپرستی میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کردیا ہے، پیپلز پارٹی کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا جبکہ حکومتی اتحادیوں سے رابطوں کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    لاہور میں مولانا فضل الرحمان کے زیر صدارت اپوزیشن اتحاد کے سربراہی اجلاس میں مختلف امور پر مشاورت کی گئی جبکہ مریم نواز اور شہبازشریف کی جانب سے عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا۔

    مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والا اجلاس اڑھائی گھنٹے تک جاری رہا، اجلاس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف، حمزہ شہباز،مریم نواز، اکرم درانی، رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق اور دیگر مختلف جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔

    اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے لندن سے ورچوئل شرکت کی جبکہ اجلاس میں پہلے لانگ مارچ ہوگا یا ان ہاؤس تبدیلی سمیت تمام آپشن پر غور کیا گیا۔

    اجلاس کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں گے، سیاسی لوگ ہیں، اتفاق رائے اور سوچ سمجھ کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں، اب حالات بدل گئے ہیں اور حالات کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاست میں بڑے فیصلوں کیلئے دل بھی بڑا کرنا پڑتا ہے، عدم اعتماد لانے کیلئے حکومت کی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے، حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطوں کیلئے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور تحریک عدم اعتماد لانے سے پہلے ہوم ورک مکمل کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے اتفاق کیا کہ ہم تحریک عدم اعتماد لائیں گے، حکومتی اتحادی جماعتوں سے درخواست کریں گے کہ وہ اتحاد ختم کریں۔

    قبل ازیں رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پاس نمبر گیم پوری، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی، تاریخ کا تعین خفیہ طور پر ہوگا، ہمیں امپائرز کی ضرورت نہیں، اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، حکومت کا جانا ٹھہر گیا اور سمجھ لیں یہ جانے کی تیاری کررہے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان سڑکوں پر نہیں جیل جا رہے ہیں، وزیر اعظم کی کابینہ فعل ہو چکی ہے، چور چور کا بیانیہ ناکام ہو چکا، ان کے گھر جانے کا وقت آ گیا، حکومتی اتحادی رابطے میں ہیں، پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی کہ عدم اعتماد کا آئینی حق کب استعمال کرناہے۔

    سابق وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی تباہی جاری ہے، عوا م کو چوروں کے ٹولے سے کوئی امید نہیں، آج تک شہباز شریف کیخلاف ایک کیس بھی ثابت نہ ہوسکا اور ان کیخلاف ہر قانون استعمال کرکے الزام لگایا گیا، عمران خان نے ہرادارے کو شہباز شریف کے خلاف استعمال کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ترجمانوں کا اجلاس بلا کرجھوٹ فیڈ کیا جاتا ہے، شہبازشریف کیخلاف عمران خان کا سیاسی انتقام اختتام پذیر نہیں ہوا، عمران خان نےعوام کا جو حال کیا وہ سب کے سامنے ہے، وزیراعظم شہبازشریف کو جیل بھیجنے کیلئے بھرتیاں کررہے ہیں، قوانین کو توڑ مروڑ کر شہبازشریف کے خلاف مقدمات بنائے گئے ، مریم نواز کے خلاف کیس بنائے گئے، جو کاغذ لہراتے تھے وہ آج غائب ہیں۔

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ کل پاس اور فیل ہونیوالے وزیروں کی فہرست سامنے آئی، جن وزارتوں نےعوام کو ریلیف دینا ہے وہ سب فیل ہیں، یہ فیل وزیراعظم کی فیل ٹیم ہے، انکا چور چور کا بیانیہ ناکام ہوچکا، اب انکے گھر جانے کا وقت آچکا، تحریک عدم اعتماد پرمشاورت جاری ہے، حکومتی اتحادی عوام کے خوف میں مبتلا ہیں اور اپنے حلقوں میں نہیں جاسکتے۔

    ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ردعمل دیتے ہوئے ن لیگ کو اپنے گھر کی فکر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ 36 بار ناکام ہوچکے، 37 ویں مرتبہ بھی وہی نتیجہ نکلے گا، انگلی ہلانے سے جھوٹ سچ نہیں بن سکتا، آپ کے اپنے 24 لوگ استعفے دینے کو تیار ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کا آئینی حق، ہر طرح سے مقابلہ کریں گے، گلے شکوے ہوتے ہی رہتے ہیں، پرویزالہٰی نے حکومت کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرادی ہے۔