Baaghi TV

Author: +9251

  • بلوچستان:نوشکی دھماکوں سے گونج اٹھا:ایف سی کے گیٹ پردھماکہ سیکورٹی اداروں کی جوابی کارروائی جاری

    بلوچستان:نوشکی دھماکوں سے گونج اٹھا:ایف سی کے گیٹ پردھماکہ سیکورٹی اداروں کی جوابی کارروائی جاری

    کوئٹہ:بلوچستان کا شہر نوشکی 2 دھماکوں سے گونج اٹھا:ایف سی کے گیٹ پردھماکہ سیکورٹی اداروں کی جوابی کارروائی جاری ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع نوشکی اور پنجگور میں متعدد دھماکے ہوئے ہیں جس سے مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق صوبہ بلوچستان کے شہرنوشکی کے بازار اور پنجگور گھوڑا چوک میں دھماکے ہوئے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ دھماکوں سے مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکوں کے بعد فائرنگ بھی جاری ہے۔دھماکوں کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    بلوچستان کا شہر نوشکی 2 دھماکوں سے گونج اٹھا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع نوشکی میں 2 دھماکے ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نوشکی مینگل روڈ پر ہوئے دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکوں کے بعد شہر میں شدید فائرنگ کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق سول ہسپتال نوشکی کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ ترجمان بلوچستان حکومت بشریٰ رند کی جانب سے بتایا گیا کہ ایف سی ہیڈ کوارٹر کے گیٹ پر دھماکہ ہوا، دھماکے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، تاحال جانی نقصان سے متعلق کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔

  • بھارت کا اجمیر شریف عرس میں شرکت کے منتظر پاکستانی زائرین کو عین وقت پر ویزا دینے سے انکار

    بھارت کا اجمیر شریف عرس میں شرکت کے منتظر پاکستانی زائرین کو عین وقت پر ویزا دینے سے انکار

    اسلام آباد: بھارتی حکومت نے اجمیر شریف عرس پر روانگی کے منتظر پاکستانی زائرین کو عین وقت پر ویزے دینے سے انکار کر دیا۔

    وفاقی وزیر مذہبی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے بتایا کہ بھارتی سفارت خانے نے ہمیں عرس پر روانگی کیلئے تیار رہنے کا کہا مگر ماضی کی طرح عین وقت پر ویزوں کے اجرا سے انکار کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ خواجہ معین الدین اجمیر چشتی کے مزار پر حاضری کیلئے پاکستانی زائرین نے بھارتی حکومت کی تمام ہدایات پرعمل بھی کیا۔

    پیر نور الحق قادری نے شرائط اور ایس او پیز پر عمل کے باوجود ویزے جاری نہ کرنے کے عمل کو ناقابل فہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے مزار مقدس پر حاضری کے خواہش مند مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

    وزیر مذہبی امور نے اعلان کیا کہ پاکستانی زائرین کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک اور رویہ کو بھارت کے ساتھ وزارت خارجہ کی سطح پر اٹھایا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ہمیشہ بھارتی ہندو اور سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے، بھارت نے کورونا کا بہانہ بنا کر عین وقت پر دونوں ملکوں کے مابین زیارت پروٹوکول کی خلاف ورزی کی۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 2 سال میں سخت کورو نا پابندیوں کے باوجود مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کے احترام میں ہندو اور سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے جبکہ انڈین سفارتخانے کی غفلت اور سستی کے باعث دور دراز علاقوں سے لاہور آنے والے سینکڑوں زائرین ذہنی اذیت کا شکار ہوئے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی زائرین کو 3 فروری کو حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے سالانہ عرس کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت کے شہر اجمیر کے لیے روانہ ہونا تھا۔

    اس سے قبل 24 جنوری کی رپورٹ کے مطاقب پاکستان اور بھارت کے مابین مذہبی سیاحت کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے، ممبرقومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی قومی ایئرلائن کی چارٹرڈ فلائیٹ میں پاکستانی یاتریوں کے بڑے وفد کو 29 جنوری کو بھارت لیکر جائیں گے۔

    پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کی مذہبی مقامات کی سیاحت کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے کی کاوشوں کو سرحد کے دونوں پار پذیرائی ملنے لگ گئی ہے،اس حوالے سے نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن نے پاکستان ہندو کونسل کی تجویز دفتر خارجہ کے توسط سے بھارتی حکام کو پہنچا دی ، بھارت کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے مطابق پاکستانی زائرین کو بھارت میں واقع مذہبی مقامات کی زیارت کیلئے پی آئی اے خصوصی پرواز میں لیکرجائے گی جبکہ بھارتی یاتری ایئر انڈیا کی فلائیٹ میں پاکستان پہنچیں گے

  • شہروں کے لیے مستحکم انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ضروری ہے:چیف ایگزیکٹو آفیسرکے الیکٹرک مونس علوی

    شہروں کے لیے مستحکم انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ضروری ہے:چیف ایگزیکٹو آفیسرکے الیکٹرک مونس علوی

    کراچی : کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی کا کہنا ہے کہ قابل تجدید توانائی کو پاور سیکٹر میں اس طرح شامل کیا جانا چاہیے، جس سے سسٹم کی استعداد میں اضافہ ہو۔ ایک قابل بھروسہ پاور نیٹ ورک ایک مستحکم شہر کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے توانائی کا مستقبل ویبینار میں عالمی ورچوئل سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا عنوان ”ماحولیاتی عمل کو مضبوط بنانے میں پاور سیکٹر کا کردار“ تھا۔

    ویبینار میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم سمیت توانائی کی صنعت سے وابستہ ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ مباحثے میں پاکستان کے بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے کے منصوبوں اور ان میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے سیرحاصل بحث کی گئی۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ممالک کی فہرست میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔ اس حوالے سے ملکی صنعتوں اور پاور سیکٹرکو تبدیلی کے سفر میں ایک اہم کردارادا کرنا ہے۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک امین اسلم نے خطاب میں کہا کہ قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے قابل تجدیداور شفاف توانائی موسمیاتی تبدیلی کا اہم ستون اور گلاسگو معاہدے کا ایک اہم جز ہے۔ پاکستان فضائی آلودگی اور کاربن کا اخراج کرنے والا بڑا ملک نہیں ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے حل کا حصہ بننا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں واضح قومی سوچ موجود ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں محفوظ علاقوں (نیشنل پارک) کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ پاکستان فضائی آلودگی اور کاربن اخراج کے حوالے سے سال 2030 تک کے متعین کردہ اہداف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 10 سالہ منصوبے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دوسرے ممالک کی طرح کاربن کے اخراج کو صفر سطح پر لانے کے مشن پر گامزن ہے۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے ریگولیٹر کے Power with Prosperity وژن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کہ نیپرا کے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی (سی ایس آر) پورٹل پر 300 سے زائد لائسنس یافتگان میں سے 145 نے اپنے آپریشنل علاقوں کی کمیونیٹیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے 4.4 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے تقریباً 18,900 ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی کوششوں اوروژن Indicative Generation Capacity Expansion Plan (IGCEP) کی تعریف کی، جس کی حال ہی میں منظوری دی گئی ہے، اس وژن میں ”پہلی مرتبہ بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے سائنسی طریقہ اپنا گیا ہے۔“جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی ہوگی، اوراس کا فائدہ صارفین کو بجلی کے بل میں کمی کی صورت میں ملے گا۔

    کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے مستحکم قومی ایجنڈے کے حوالے سے پاور سیکٹر کے کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ کے ای نے سال 2030 کے لائحہ عمل میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید ذرائع سے 1100میگا واٹ اضافے کی منصوبہ بندی کی ہے۔انہوں نے ورلڈ بینک اور سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ کے ساتھ شراکت داری کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت کے الیکٹرک ورلڈبینک اور محکمہ توانائی سندھ سے 350 میگاواٹ تک شمسی توانائی خریدے گا۔ مزید برآں کے ای نیٹ میٹرنگ کے ذریعے 40 میگاواٹ اضافہ کرے گا۔ پاور سیکٹر کی ذمہ داری پر تبصرہ کرتے ہوئے مونس علوی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے شہر کراچی کو سخت موسمی حالات سے محفوظ رکھنے میں کے ای خود کو ایک رول ماڈل سمجھتا ہے۔ یہ شہر سخت موسمیاتی حالات کا مقابلہ کرنے کی کافی استعداد رکھتا ہے۔

    چیئرپرسن پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ڈاکٹر شمشاد اختر نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں سستے اورکم اخراج سے بجلی کی پیداوار کا نیا راستہ اختیار کرنے کے بہت سے مواقع ہیں۔ انہوں نے گورننس اسٹرکچر کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں مضبوط شعبہ جاتی پالیسیوں اور قومی Decarbonization حکمت عملی پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا، جو کہ ماحولیاتی استحکام کے لیے لازمی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) بہترین انتخاب ہے۔ توانائی کے متنوع ذرائع اور مقامی طور پر سرمائے کے حصول و طویل مدتی قرض کے لیے صنعت کو اس جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر کی 106 پائیدار اسٹاک ایکس چینجز کی پیروی کرتے ہوئے پی ایس ایکس بھی اس میں شامل ہوسکتا ہے۔ عالمی سطح پر ان ایکس چینجز میں 53,000 سے زائد کمپنیز کا اندراج ہے اور مارکیٹوں کا حجم تقریباً 88 ٹریلین ڈالر ہے۔ پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے لیے قابل عمل فریم ورک کو اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے ریگولیٹرز پر زور دیا کہ وہ معیاری بین الاقوامی طریقوں اور رہنما خطوط کے مطابق مستحکم گرین بانڈز اور ایس ڈی جی بانڈ کے اجرا پر غور کرے اور کاربن کریڈٹ مارکیٹ کا ادارہ جاتی بنائے۔ اس کے علاوہ مرکزی بینک کو ماحولیاتی خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے بینکوں کے اثاثوں اور مالیاتی استحکام کے لیے ایک پروڈنشل فریم ورک بنانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ اپنے Stranded Assets کے لیے مزید فنڈز تلاش کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی نئی سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہیے، جس نے پاکستان کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ کوئلے سے چلنے والے توانائی کے منصوبے خریدے گا اور توانائی کی منتقلی کے طریقہ کار Energy Transition Mechanism (ETM) کے تحت صاف توانائی فراہم کرے گا۔

    ڈائریکٹر گورننس اینڈ پالیسی ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ڈاکٹر عمران ثاقب نے استحکام کے لیے شراکت داری کی اہمیت کے حوالے سے اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”ذہنی ہم آہنگی شراکت داری کی ایک امتیازی خصوصیت ہے۔“ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں گرین انرجی کی جانب منتقل ہوتے ہوئے اُن کمیونیٹیزکو بھی مدنظر رکھنا ہوگا جن کی آمدن کا انحصار روایتی ایندھن پر ہے کہ کہیں وہ پیچھے نہ رہ جائیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان میں جن منصوبوں پر کام کر رہا ہے، ان کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر ثاقب نے واضح کیا کہ فنڈنگ کے درست ذرائع تک رسائی اور منصوبوں کی افادیت کو بڑھانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کا صحیح امتزاج بھی ضروری ہے۔

    ورلڈ بینک کی سینئر پالیسی کنسلٹنٹ ارمینہ ملک نے سندھ اور بلوچستان میں قابل تجدید توانائی کے حوالے سے ورلڈ بینک کی اسٹڈیز کے دلچسپ نتائج سے آگاہ کیا۔ ورلڈ بینک کی تحقیق کے مطابق دونوں صوبوں میں کم از کم دس، دس میگاواٹ کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی صلاحیت ہے، جو کہ بہت امید افزا بات ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان کا ترسیلی نظام ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی 20 گیگا واٹ (جی ڈبلیو) سے زیادہ بجلی کی ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کے ساتھ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) نیٹ ورک میں قابل تجدید توانائی کو شامل کرنے کی اضافی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اگرچہ ان منصوبوں پر کافی لاگت آئے گی، لیکن اس سے طویل مدتی بچت کئی گنا ہو گی۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا گرین انرجی انتہائی طلب کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے؟

    ارمینہ ملک نے کہا کہ ایسا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بیٹری اسٹوریج کو سسٹم میں شامل کیا جائے، لیکن اس کے لیے اُس وقت تک انتظار کرنا پڑے گا، جب تک کہ بیٹریوں کے ذریعے بجلی کی لاگت مسابقتی سطح پر نہ آجائے۔

    دی فیوچر آف انرجی ویبینار گفتگو کا ایک سلسلہ ہے، جس میں عالمی توانائی کے شعبے،خاص طور پر پاکستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے سوچ رکھنے والے رہنماؤں کو اظہار خیال کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

  • پرائیویٹ ملازمین اورمزدوروں کو مبارک ہو:وزیراعظم عمران خان نے تنخواہیں بڑھانے پرمالکان کوراضی کرلیا

    پرائیویٹ ملازمین اورمزدوروں کو مبارک ہو:وزیراعظم عمران خان نے تنخواہیں بڑھانے پرمالکان کوراضی کرلیا

    اسلام آباد:پرائیویٹ ملازمین اور مزدوروں کو مبارک ہو:وزیراعظم عمران خان نے تنخواہیں بڑھانے پرمالکان کوراضی کرلیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد سے گفتگو میں کہا کہ عوام پر مہنگائی کے بوجھ کا احساس ہے، عالمی منڈی کے اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات جاری ہیں، صنعتکار اور بزنس مین عام شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کیلئے حکومت کے ساتھ مل کر چلیں۔

    وزیراعظم عمران خان سے معروف صنعتکاروں اور تاجروں کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں حکومت اور صنعتکاروں نے ماہانہ اجرت بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

    وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا چین دورے سے پہلے بزنس کمیونٹی سے مشاورت ضروری تھی، میری استدعا پر ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے والوں کے شکر گزارہیں، حکومت کو مہنگائی کی وجہ سےعوام پر بوجھ کا احساس ہے، عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، صنعتکار اور بزنس مین عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے حکومت کا ساتھ دیں۔

    عمران خان نے مزید کہا پارٹی منشور میں آئی ٹی اور ٹیکسٹائل برآمدات کی پالیسی شامل کی تھی، حکومت برآمدات بڑھانےکیلئے طویل المدتی پالیسی پرعملدر آمد کر رہی ہے، کمپنیوں کے منافع کے ثمرات مزدور طبقے کو ملنے چاہئیں، کاروبار دوست پالیسیوں سے انڈسٹری نے ریکارڈ منافع کمایا، آئی ٹی اورٹیکسٹائل برآمدات کی پالیسی کےثمرات مل رہے ہیں، ملک کی 10 بڑی کمپنیوں نے گزشتہ سال 929 ارب روپےمنافع کمایا۔

    ان کا کہنا تھا حکومت نے سرمایہ کاری اور کاروبار کے فروغ کیلئے تاریخی اقدامات کیے، ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 21 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں ، اگلےسال 26 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں، پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ موٹر سائیکل بنانے والا ملک بن گیا ہے۔

    ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ملکی ترقی کیلئے حکومتی پالیسیوں پر عملدر آمد میں پورا ساتھ دیں گے ، دفاعی پیداوار کے شعبے میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں اشتراک سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور دفاعی پیداوار کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں۔

  • سرگودھا : اینٹی کرپشن سرگودھا کا محکمہ تعلیم اور اکاٶنٹ آفس کے مافیاز کیخلاف زبردست ایکشن ۔

    سرگودھا : اینٹی کرپشن سرگودھا کا محکمہ تعلیم اور اکاٶنٹ آفس کے مافیاز کیخلاف زبردست ایکشن ۔

    سرگودھا : اینٹی کرپشن سرگودھا کی بہت بڑی کارروائی ۔ محکمہ تعلیم اور اکاؤنٹ آفیس کے مافیا خلاف زبر دست ایکشن ۔ محکمہ تعلیم سرگودھا کے گھوسٹ ملازمین کے کیس میں پچپن لاکھ روپے کی خطیر رقم کی برآمدگی ۔

    سرگودھا : اینٹی کرپشن سرگودھا کی ایک زبردست کارروائی سامنے آئی ہے جہاں *اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا تصور عباس بوسال* نے کارروائی کرتے ہوئے گھوسٹ ملازمین کی بھرتی کے کیس میں محکمہ تعلیم اور اکاؤنٹ آفیس کی ملی بھگت سے خرد برد کیے گئے پچپن لاکھ روپے برآمد کر لیے ہیں . برآمد کی گئی رقم خزانہ سرکار میں جمع کروا دی گئی ہے. محکمہ تعلیم اور اکاؤنٹ برانچ سرگودھا کے کرپٹ مافیا نے گھوسٹ ملازمین بھرتی کی کیس میں لاکھوں روپے کا خزانہ سرکار کو نقصان پہنچایا تھا . جو اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا نے پچپن لاکھ روپے برآمد کروا لے ہیں . اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا تصور عباس بوسال نے بتایا کہ نہ صرف خرد برد کی گئی رقم برمد کروا کے خزانہ سرکار میں جمع کروائی گئی ہے بلکہ زمہ دران کو قرار واقعی سزا بھی دلوائی جائے گی . اُنھوں نے مزید بتایا کہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا خالد مسعود فروکه کی ہدایات کی روشنی میں اینٹی کرپشن سرگودھا سرکاری وسائل کو خرد برد کرنے والے مافیاز کے خلاف بھرپور سرگرم ہے ایسی کارروائیوں کا سلسلہ مزید وسیع کیا جا چکا ہے.

  • پنجاب میں بلدیاتی انتخابات:حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوسکا،معاملہ طول پکڑسکتا ہے

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات:حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوسکا،معاملہ طول پکڑسکتا ہے

    لاہور:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات:حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوسکا،معاملہ طول پکڑسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے نئے بلدیاتی ترمیمی بل پر حکومت اوراپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کی سفارشات کے بغیر عددی طاقت سے بل منظورکروانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میئر اور بلدیاتی نمائندے خود مختاربنانے کی خواہاں ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن یونین کونسل اورمیئرکا انتخاب ایک ہی روز کروانا چاہتی ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ پہلے یونین کونسل پھر میئر کا الیکشن ہوگا۔ن لیگ نے سفارش کی ہے کہ یونین کونسل کے الیکشن کے دن میئر کا انتخاب کیا جائے۔

    ذرائع کے مطابق الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال پربھی حکومت اوراپوزیشن کے درمیان اختلاف ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اتفاق رائے نہ ہونے پرکل بل قائمہ کمیٹی سے منظور کروائے جانے کا امکان ہے جس کے بعد بل پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

    ادھر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مئی میں ہوگا جبکہ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت سے جلد از جلد تمام اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی۔

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب، ممبران و سیکرٹری الیکشن کمیشن نے شرکت کی۔

    چیف سیکرٹری پنجاب مصروفیات ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکے، اجلاس میں بلدیاتی آرڈیننس کو بلدیاتی ایکٹ میں تبدیل کرنے کا معاملہ زیر غور آیا۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے پر بھی مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مئی میں ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے پوچھا کہ پنجاب حکومت بتائے بلدیاتی انتخابات کتنے مرحلوں اور کن اضلاع میں پہلے بلدیاتی انتخابات کروائیں جائینگے، جس پر پنجاب حکومت نے جلد تمام تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔

    الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے جلد از جلد تمام اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی، 22 مارچ کو حلقہ بندیوں کی اشاعت کے فوری بعد شیڈول کا اعلان کردینگے۔

  • پی ایس ایل 7:لاہورقلندرز نےپشاورزلمی کو 29رنز سےہرادیا

    پی ایس ایل 7:لاہورقلندرز نےپشاورزلمی کو 29رنز سےہرادیا

    کراچی :پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے میچ میں لاہور قلندرز کے 200 رنز ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کی بیٹنگ جاری ہے۔

    کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے جارہے ایونٹ کے 9 ویں میچ میں پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کے قائد شاہین شاہ آفریدی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

    پشاور زلمی اننگز

    200رنز ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کی جانب سے حضرت اللہ زازئی اور کامران اکمل نے اننگز کا آغاز کیا، زازئی پہلے ہی اوور میں شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔

    لاہور قلندرز اننگز

    قلندرز کی جانب سے فخر زمان اور عبداللہ شفیق نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ پشاور زلمی کے شعیب ملک نے پہلا اوور کرایا۔

    مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 199 رنز بنائے، فخر زمان نے جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے 38 گیندوں پر 66 رنز کی اننگز کھیلی، عبداللہ شفیق 41، کامران غلام 30، محمد حفیظ 37 اور راشد خان 22 رنز بناسکے، پشاور زلمی کی جانب سے سلمان ارشاد نے 2، عثمان قادر اور حسین طلعت نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

    پشاور زلمی سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف پشاور زلمی کے سکواڈ میں کپتان وہاب ریاض، کامران اکمل، حضرت اللہ زازئی، حیدر علی، شعیب ملک، ردرفورڈ، بین کٹنگ، آرش علی خان، عثمان قادر اور سلمان ارشاد شامل ہیں۔

    لاہور قلندرز سکواڈ

    پشاور زلمی کے خلاف میچ میں لاہور قلندرز کے سکواڈ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، ذیشان اشرف، ڈین فاکس کرافٹ، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف اور زمان خان شامل ہیں۔

    اس موقع پر وہاب ریاض کا کہنا تھاکہ ڈیو فیکٹر کے باعث بولنگ کا فیصلہ کیا، سیکنڈ بولنگ میں ڈیو فیکٹر زیادہ ہورہا ہے۔

    کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے جارہے ایونٹ کے 9 ویں میچ میں وہاب ریاض پشاور زلمی اور شاہین شاہ آفریدی لاہور قلندرز کی قیادت کررہے ہیں۔

  • کے پی دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات:وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرلیا

    کے پی دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات:وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرلیا

    اسلام آباد : کے پی دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات:وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرلیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات فیز2 کیلئے خود ٹکٹ دینے کا فیصلہ کرلیا ، وزیر اعلٰی کے پی محمود خان منتخب ناموں کی فہرست وزیر اعظم عمران خان کو دیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات فیز2 کے حوالے سے اہم فیصلے کرلئے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئےایم پی ایز ،عہدیداران 3،3 نام تجویز کریں گے۔

    وزیر اعلٰی کے پی محمود خان منتخب ناموں کی فہرست وزیر اعظم عمران خان کو دیں گے ، جس کے بعد بلدیاتی انتخابات کے ٹکٹ کا فیصلہ خود وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے پی ایز کو ہدایت دی ہے کہ پہلےفیزکی غلطیوں سےسیکھ کردوسرے فیز میں نہ دہرائی جائیں، عوام کے ان مسائل کا سدباب ہونا چاہے۔

    یاد رہے پہلے مرحلے میں خیبرپختون خواہ کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا ‏گیا تھا، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتی جماعت تحریک انصاف کو بدترین شکست کا سامنا ‏کرنا پڑا جبکہ جمعیت علما اسلام پاکستان (فضل الرحمان گروپ) نے حیران کن نتائج دئیے۔

    الیکشن میں ہونے والی شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے گورنر خیبرپختون خواہ سے ‏رپورٹ بھی طلب کی تھی جبکہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کی نگرانی خود کرنے اور امیدوار کے ‏معاملے میں کارکنان کے تحفظ دور کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

  • بلاول ڈیفیکٹوشرلی:مریم اور کنیزیں 6 ماہ سے نوازشریف کی واپسی کی گردان کررہی تھیں:  فیاض الحسن

    بلاول ڈیفیکٹوشرلی:مریم اور کنیزیں 6 ماہ سے نوازشریف کی واپسی کی گردان کررہی تھیں: فیاض الحسن

    لاہور:پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ مریم نواز اور ان کی کنیزیں چھ ماہ سے نوازشریف کی واپسی کی گردان کررہی تھیں، تاثر دیا جارہا تھا کہ نیلسن منڈیلا آرہا ہے، ہم صرف بڑھکیں نہیں مارتے، ہیلتھ کارڈ کی خدمت مدتوں یاد رکھی جائے گی۔

    وزیر جیل پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ بیٹی اور کنیزوں نے چھ مہینوں سے ماحول بنایا تھا کہ نوازشریف ملک آرہے ہیں، جتنے پھرتی سے نواز شریف جہاز کی سیڑھیوں پر چڑھے اتنی پھرتی سے تو گلہری بھی درخت پر نہیں چڑھتی ، منڈیلا کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ بار کو استعمال کیا گیا ، تمام اخبارات میں شائع ہوا ان کو نئی بیماری ٹاٹا شابو ہوجائے گی ۔

    انہوں نے مزید کہا بلاول کہہ رہے ہیں کہ مارچ توکریں گے لیکن کامیابی کی کوئی گارنٹی نہیں، بلاول کوسمجھ آگئی ہے کہ ان کے تلوں میں تیل نہیں، وفاق میں 15سے 20 ایم این ایز، پنجاب سے 25 ایم پی ایز ہمارے ساتھ چل رہے ہیں، بلاول ڈیفیکٹوشرلی ہیں ، یہ نہیں چلنی۔

    فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان نے پچھلی دفعہ 2 ارب کی دیہاڑی لگائی تھی، اس بار بھی مریم صفدرسے دیہاڑی لگائیں گے، نوازشریف کی بیماری شائد جنوبی افریقہ کے بندروں کو ہوتی ہے، پتہ نہیں یہ کونسی بیماری ہے جس کے بارے سن کرحیران ہوں۔

  • سفرکرنے سے عاجزنوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے پہنچ گئے

    سفرکرنے سے عاجزنوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے پہنچ گئے

    اسلام آباد:سفرکرنے سے عاجز نوازشریف لندن سے 425 کلومیٹر دور فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے کے لیے جانے لگے ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں علاج کے لئے موجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف ہسپتالوں کے بجائے فیکٹریوں کے دوروں میں مصروف ہیں۔اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے بیٹوں کے ہمراہ مانچسٹر کے قریب نیلسن میں فیکٹری کا دورہ کیا ۔

    نواز شریف نوازشریف کے ہمراہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی فیکٹری کے معائنہ کے لیے لندن سے نیلسن گئے جہاں پر انہیں بریفنگ بھی دی گئی۔واضح رہے کہ جس فیکٹری کا نواز شریف نے دورہ کیا وہ لندن سے 425 کلو میٹر دور نیلسن کے علاقے میں قائم ہے۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ والد کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ 4، 5 ماہ پرانی ہے- نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کے دوران حسین نواز نے کہا کہ نواز شریف کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ 4، 5 ماہ پرانی ہے، حکومت اس سے پہلے یہ ویڈیو سامنے کیوں نہیں لے کر آئی؟ میں نواز شریف کو 2 گھنٹے کے لیے اُن کے جاننے والے شخص کے گھر ماحول کی تبدیلی کے لیے لےکر گیا تھا، وہ شخص انہیں فیکٹری میں لے گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ نواز شریف کا کسی دوسرے کی فیکٹری میں جانا کوئی گناہ ہے؟ اس معاملے کا پاکستان آنے سے کیا تعلق ہے؟ لندن میں کورونا ایس او پیز کی وجہ سے فیکٹریوں میں ملازمین کم ہوتے ہیں، ایسا ہی وہاں بھی تھا جہاں نواز شریف گئے تھے۔

    حسین نواز نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ نواز شریف کی پاکستان میں طبیعت کیوں بگڑی تھی؟ حکومت نے نواز شریف کی طبیعت کا جائزہ لینے کے لیے لندن میں کسی سے رابطہ نہیں کیا، اب رابطہ کرے گی تو میری طرف سے بھاڑ میں جائیں۔حسین نواز نے کہا کہ میرے والد کا علاج معالجہ چل رہا ہے، ابھی بھی برطانیہ میں کورونا بہت زیادہ ہے، ابھی نواز شریف کا علاج ہونا باقی ہے، ابھی ان کا علاج مکمل نہیں ہوا۔نواز شریف کا علاج اس وقت ختم ہوگا جب ڈاکٹرز سمجھیں گے، جس ڈاکٹر نے رائے بھیجی ہے اس کی بہت اچھی ساکھ ہے، ڈاکٹر کی رائے کے بعد رپورٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی تھی۔ جس میں کہا گیا کہ ڈاکٹرز نے نواز شریف کو سفر کرنے سے روک دیا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروائی۔ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ 3 صفحات پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف انجیو گرافی کے بغیر لندن سے نہ جائیں، ذہنی دباؤ میں نواز شریف کی طبیعت مزید بگڑ سکتی ہے، کلثوم نواز کی وفات کے بعد نواز شریف شدید دباؤ میں ہیں۔

    میڈیکل رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف دل کے مریض ہیں، کورونا کے سبب نواز شریف کو سانس کا مسئلہ ہو سکتا ہے، نواز شریف انجیو گرافی تک اپنی ادویات جاری رکھیں، سابق وزیراعظم ذہنی دباؤ کے بغیر سرگرمیاں جاری رکھیں، نواز شریف دل کے مریض ہیں، کورونا کے باعث جان بھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض نے کہا کہ کوئی سوال ہو تو مجھ سے رابطہ کیا جائے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جھوٹی رپورٹ جمع کروانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔ امید کرتا ہوں عدالت ان جعلی رپورٹوں کا سختی سے نوٹس لے گی۔

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے ویر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قائد ن لیگ کے پاس سب سے آسان راستہ قوم کے پیسے واپس کریں اور لندن ہی رہیں، ان کا مسئلہ جھوٹی رپورٹ سے حل نہیں ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ایسی رپورٹ کا مقصد پاکستان کے قانونی نظام کا مذاق اڑانا ہے،

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ یہ رپورٹ نہیں ہے ایک فلمی خط ہے، ایازصادق اپنے دل کوخوش کرنے کے لیے ایسی باتیں کررہے تھے، نوازشریف نے پاکستان نہیں آنا، جھوٹی رپورٹیں دکھا کربھاگے،

    رات کے اندھیرے میں بھاگنے والا دن کے اُجالے میں واپس نہیں آتا، ان کی گزربسرہی جھوٹ بولنے میں ہے، ہم نے تو سابق وزیراعظم سے7ارب کی گارنٹی مانگی تھی، اگران سے7ارب لیے جاتے تو نوازشریف فوری ٹھیک ہو جاتے لندن نہ جاتے۔

    یاد رہے کہ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرفیاض شال نے تیار کی ، ان کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ 2011میں ڈاکٹر فیاض شال پر بھارتی اداکارہ پریانکاچوپڑا نے الزامات لگائے تھے۔

    پریانکاچوپڑا نے ڈاکٹرفیاض شال پر دوران پرواز جہازمیں بدتمیزی کاالزام لگایا تھا جبکہ یہ بھی الزام لگایا تھا ڈاکٹر فیاض شال نشے میں تھے۔

    پریانکا نے ڈاکٹرفیاض شال پر بڑے نام لیکر دھمکیاں دینے کا بھی الزام لگایا تھا جبکہ ڈاکٹر فیاض شال کا کہنا تھا کہ پریانکا کو جہاز میں فون کے استعمال سے روکا تھا۔

    یاد رہے ڈاکٹر فیاض شال کی تیار کردہ نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی، جس میں ڈاکٹر نے نواز شریف کو پاکستان سفر کرنے سے روک دیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کورونا دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے ایسے میں سفر کے لیے ائیر پورٹس اور پبلک مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے جہاں کرونا کے خدشات زیادہ ہیں۔

    رپورٹ کہ نواز شریف شدید ذہنی دباو میں ہیں۔ نواز شریف لندن سے مکمل علاج کے بغیر گئے تو قید تنہائی اور شریک حیات کے دنیا سے جانے کے دباؤ کی وجہ سے انکا یہ عمل دل کے عارضے کو بڑھا بھی سکتا ہے۔

    ڈاکٹر فیاض شال کوں ہیں‌؟
    ڈاکٹر شال اس وقت تکوما پارک، میری لینڈ کے واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ہیں، ساتھ ہی واشنگٹن، ڈی سی، امریکہ میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن میں انٹروینشنل کارڈیو ویسکولر میڈیسن کے پروفیسر اور ڈائریکٹر ہیں۔

    1977 میں، ڈاکٹر شال امریکہ چلے گئے اور والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں کارڈیالوجی فیلوشپ مکمل کی۔بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرمیجر فیاض نے 1980 میں والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں ریاستہائے متحدہ کی ملٹری (آرمی، نیوی، ایئر فورس) میں پہلا پی ٹی سی اے کیا۔

    کہا جاتا ہے کہ نوازشریف کو پاکستان مخالف عالمی قوتوں کی مدد حاصل ہے اورانہیں قوتوں نے یہ میڈیکل رپورٹ تیار کرنے میں بھارتی نژاز امریکی میجر ڈاکٹرفیاض شال کو ذمہ داری سونپی تھی

    حقائق کے مطابق 1979 اور 2003 کے درمیان، ڈاکٹرفیاض شال جارج ٹاؤن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن، جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن اور یونیفارمڈ سروسز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں طبی تقرریوں کو برقرار رکھا، جب کہ واشنگٹن ایڈونٹسٹ اسپتال اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسپتال دونوں میں انٹروینشنل کارڈیالوجی میں کام کررہے ہیں‌

    بھارتی نژاد امریکی فوج کے میجر ڈاکٹرفیاض شال امریکن کالج آف فزیشنز، برطانیہ کے رائل کالج آف فزیشنز، یونائیٹڈ کنگڈم کی جنرل میڈیکل کونسل، امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔ وہ امریکن کالج آف کارڈیالوجی، امریکن کالج آف چیسٹ فزیشنز، امریکن کالج آف فزیشنز، امریکن کالج آف انجیوولوجی اور دی سوسائٹی فار کارڈیک انجیوگرافی اینڈ انٹروینشنز کے فیلو ہیں۔اور امریکی فوج اور خفیہ اداروں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں‌

    ڈاکٹرفیاض شال واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں 1987 سے 1998 اور پوری دنیا میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کی دیگر تکنیکوں (بشمول کورونری، کیروٹڈ اور دیگر پیری فیرل اور نان کارڈیک مداخلت جیسے والوولوپلاسٹی، IHSS کے لیے ابلیٹیو ٹیکنیک وغیرہ) کے لائیو سیشنز کے ذریعے تعلیم دے رہے ہیں۔ . اس قسم کے تدریسی سیمینار سیٹلائٹ کے ذریعے یا CATH لیب سے براہ راست مقامی نشریات کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    ہائی رسک والے مریض کے ساتھ کام کرنے میں ایک انقلاب برپا کرنے والے ڈاکٹر شال پہلے انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ تھے جنہوں نے ایکلیپس ہولمیم لیزر کے ساتھ ساتھ اینجیو ٹریکس میکانیکل ڈیوائس (1999) کو پرکیوٹینیئس ٹرانسلومینل مایوکارڈیل ریواسکولرائزیشن کے لیے استعمال کیا جو آخری مرحلے کے ایتھروسکلروٹک کے تحقیقاتی علاج میں تھا۔

    دل کی بیماری (مریض جن کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے)۔ اس نے دونوں طریقہ کار کو تحقیق کے ایک حصے کے طور پر دنیا میں سب سے پہلے نئی دہلی، ہندوستان میں کیا۔ وہ 1985 میں واشنگٹن ڈی سی میٹروپولیٹن ایریا میں مائٹرل والوولوپلاسٹی کرنے والے پہلے بھی تھے۔

    بھارتی نژاد امریکی میجر ڈاکٹر فیاض شال معروف بین الاقوامی گروئنٹزگ سوسائٹی کے رکن ہیں