Baaghi TV

Author: +9251

  • منظور حسین وسان کی صدارت میں محکمہ زراعت کا اہم اجلاس

    منظور حسین وسان کی صدارت میں محکمہ زراعت کا اہم اجلاس

    کراچی : وزیراعلی سندھ کے مشیربرائے زراعت منظور حسین وسان کی صدارت میں محکمہ زراعت کا اہم اجلاس منگل کومنعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت پرویز احمد سیہڑ،ڈی جیز اور تمام اضلاع کے ڈائریکٹرز شریک ہوئے۔اجلاس میں یوریا کھاد کی قلت،سندھ ایگریکلچر واٹر ٹرانسفار میشن پروجیکٹ،انجینئرنگ،دراوڑ ڈیم اور دیگر زرعی اسکیموں کے متعلق بریفنگ دی گئی۔
    مشیر زراعت منظور وسان نے کہاکہ سندھ ایگریکلچر واٹر ٹرانسفمارمیشن پروجیکٹ 120 ملین کا ہے جس میں پیسٹی سائڈمسیڈ فرٹیلائزر پر سبسڈی اور مارکیٹ کمیٹیوں, کراپ رپورٹنگ کو ڈجیٹلائز کرنے اور چھوٹے کاشتکاروں کو ٹریننگ دی جائے گی۔سندھ میں سیاپیپ منصوبہ کے تحت 500 ایڈیشنل واٹرکورسزبنائے جائیں گے۔
    منظور وسان نے کہاکہ ایسی اسکیمیں متعارف کروائیں گے جن کی کاشتکاروں کو سخت ضرورت ہے اور ان پر سبسڈی دی جائے گی, زرعی ترقیاتی اسکیموں میں کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی, جن اسکیموں پرکام چل رہا ہے انہیں جلد مکمل کیا جائی.مشیر زراعت منظوروسان کا کہناتھا کہ سندھ بہر میں یوریا کھاد ڈیلرز پر 11 لاکھ 29 ھزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہی, سندھ میں گھوسٹ ڈیلرز کو کسی بھی صورت میں یوریا کھاد نہیں ملے گی اور نہ ہی ان کو بحال کیا جائیگا۔

  • کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟

    کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟

    ریاض :سعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہے تو پھرکیوں کیا جارہا ہے؟،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اپنے قومی ترانہ اور سبز پرچم سے متعلق شاہی فرمان میں تبدیلی کے قریب ہے جو اسلامی عقائد اور اسلام کے مرکز کی عکاسی کرتا ہے۔

    خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی غیرمنتخب شوریٰ کونسل نے تبدیلیوں کے حق میں ووٹ دیا اور یہ سعودی ولی عہد کی جانب سے سعودی قومیت اور قومی فخر کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

    شوریٰ کے فیصلوں پر موجودہ قوانین اور ڈھانچہ اثرانداز نہیں ہوتا تاہم ووٹ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اس کے اراکین کا تقرر فرماں روا کرتے ہیں اور اس کے فیصلے عموماً قیادت کی رضامندی سے ہوتے ہیں۔

    سرکاری میڈیا نے رپورٹ میں بتایا کہ تبدیلیاں پرچم، نعرہ اور قومی ترانے کے نظام میں ترامیم کے حق میں ہیں لیکن اس کے مندرجات سے نہیں ہیں۔

    مقامی میڈیا نے بتایا کہ مجوزہ تبدیلیاں ریاستی نشانات کے باقاعدہ استعمال کے لیے واضح تعریف، پرچم کی اہمیت کی آگاہی پھیلانے اور پرچم کو بے حرمتی یا نظرانداز ہونے سے بچانے کے حوالے سے ہیں۔

    اس حوالے سے مقامی میڈیا کا کہنا ہےکہ گزشتہ ہفتے سعودی پولیس نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن پر الزام تھا کہ سعودی پرچم کو کچرا کنڈی میں جمع کرکے اس کی بے حرمتی کی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شوریٰ کونسل نے پرچم سے متعلق تقریباً 50 سالہ پرانے شاہی فرمان میں ترامیم کے ڈرافٹ کی منظوری کے لیے ووٹ دیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ترامیم کونسل کے رکن سعد العطیبی نے پیش کی تھیں اور کونسل کے اراکین میں بحث سے قبل ذیلی کمیٹی میں زیر بحث آئی تھیں۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے بزرگ والد شاہ سلمان کی حمایت کے ساتھ سعودی شناخت کا تعین نو کر رہے ہیں، جس کی تعریف پہلے سے وضع نہیں کی گئی ہے۔اس کی تازہ مثال حال ہی میں جاری ہونے والا شاہی فرمان ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 22 فروری کو سعودی عرب کا یوم تاسیس منایا جائے گا۔

    قومی دن 18 ویں صدی میں محمد بن سعود کی جانب سے پہلی سعودی ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی کوشش کی یاد میں منایا جائے گا۔

    حکومت نے ہدایات دی ہیں کہ اسی ہفتے میں سعودی عرب میں ریسٹورنٹس اور کافی شاپس عربک کافی کو سعودی کافی کا نام دیں جو ثفاقتی عناصر کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی کوشش ہے، جس سے سعودی شناخت اور اس کے روایات کا اظہار ہوتا ہے۔

    یاد رہے کہ 1973 میں سعودی پرچم میں سفید رنگ میں کلمہ طیبہ لکھا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدﷺ اللہ کے آخری پیغمر ہیں۔

    سعودی پرچم میں کلمہ طیبہ کے نیچے تلوار ہے، اسی طرح مکہ میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان زائرین عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں جہاں پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی ولادت ہوئی اور وحی نازل ہوئی۔

    سعودی عرب کے پرچم اور قومی ترانے کے قانون میں تبدیلی سے متعلق شوریٰ کونسل کی تجاویز صرف سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کی جارہی ہیں جو حتمی منظوری کے لیے فرماں روا شاہ سلمان کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

  • سندھ میں کورونا ویکسینیشن کی گھر گھر مہم کا آغاز

    سندھ میں کورونا ویکسینیشن کی گھر گھر مہم کا آغاز

    کراچی: سندھ میں کرونا ویکسینیشن کی گھر گھر مہم کا آغاز، وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے افتتاح کردیا۔گھر گھر مہم کے پہلے مرحلے میں یکم فروری سے 14 فروری تک کرونا ویکسین لگائی جائے گی۔وزیر صحت سندھ نے بتایا کہ کرونا سے بچائو کی ویکسینیشن مہم کے دوران ایک کروڑ 27 لاکھ 48 ہزار 123 افراد کو ویکسین کا پہلا ڈوز لگایا جائے گا۔
    انہوں نے کہاکہ مہم کے دوران 12 سال اور اس سے زائد عمر کے شہریوں کو کرونا سے بچا کی ویکسین لگائی جائے گی۔لوگوں کو وائرس سے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین لگانا لازمی ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہاکہ دوران مہم 57 لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کو کرونا ویکسین کی دوسری ڈوز بھی لگائی جائے گی۔
    وزیر صحت سندھ نے کہاکہ مجموعی طور پر کرونا ویکسین مہم کے دوران ایک کروڑ 84 لاکھ 60 ہزار 137 افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔

    ویکسینیشن کے بعد کرونا ہونے کی صورت میں لوگوں میں وائرس کے مضر اثرات بہت کم حد تک دیکھنے میں آئے ہیں۔چاہتے ہیں وینٹیلٹر پر آنے کی نوبت کم سے کم ہو، لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ ویکسینیشن کیوں ضروری ہے۔ وزیر صحت سندھ نے کہاکہ کرونا ویکسین مہم کے دوران 10 ہزار 988 سے زائد ہیلتھ پروفیشنلز اور سوشل موبلائزرز کی مدد لی جائے گی۔کرونا ویکسین کی گھر گھر مہم محکمہ صحت سندھ، این سی او سی اور ای پی آئی کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔

  • پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کب ہوںگے:حکومت نے پھرٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کب ہوںگے:حکومت نے پھرٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا

    اسلام آباد:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کب ہوںگے:حکومت نے پھرٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ،اطلاعات کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مئی میں ہوگا جبکہ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت سے جلد از جلد تمام اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی۔

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب، ممبران و سیکرٹری الیکشن کمیشن نے شرکت کی۔

    چیف سیکرٹری پنجاب مصروفیات ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکے، اجلاس میں بلدیاتی آرڈیننس کو بلدیاتی ایکٹ میں تبدیل کرنے کا معاملہ زیر غور آیا۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے پر بھی مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مئی میں ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے پوچھا کہ پنجاب حکومت بتائے بلدیاتی انتخابات کتنے مرحلوں اور کن اضلاع میں پہلے بلدیاتی انتخابات کروائیں جائینگے، جس پر پنجاب حکومت نے جلد تمام تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔

    الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت سے جلد از جلد تمام اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی، 22 مارچ کو حلقہ بندیوں کی اشاعت کے فوری بعد شیڈول کا اعلان کردینگے۔

  • سوشل میڈیا پر ججز کو سکینڈلائز کرنے کا راستہ روکنا ہو گا: نامزد چیف جسٹس نے پہلا پالیسی بیان جاری کردیا

    سوشل میڈیا پر ججز کو سکینڈلائز کرنے کا راستہ روکنا ہو گا: نامزد چیف جسٹس نے پہلا پالیسی بیان جاری کردیا

    اسلام آباد:سوشل میڈیا پر ججز کو سکینڈلائز کرنے کا راستہ روکنا ہو گا: اطلاعات کے مطابق نامزد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہاہے کہ سوشل میڈیا پر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو اسکینڈلائز کیا جاتا ہے جس کا راستہ روکنا ہو گا، ججز کو سکینڈلائز کرنا غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر مہذب اور غیر آئینی ہے۔

    سپریم کورٹ کے سبکدوش چیف جسٹس گلزار احمد کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس ہوا، جج صاحبان، اٹارنی جنرل، وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

    فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ بطور 27 ویں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کو دو چیلنجر کا سامنا رہا، پہلا بڑا چیلنج کورونا وباء کا تھا جس کی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں مشکلات پیش آئیں تاہم انھوں نے ایک دن کے لیے بھی عدالت بند نہیں ہونے دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دوسرا بڑا چیلنج جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اور اس حوالے سے درخواستیں تھیں ، جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں 60 سے زائد سماعتیں کیں اور دن رات کام کیا۔ اس وجہ سے زیر التوا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ان زیر التوا کیسز کو کم کرنے کے لیے ججز نے عوامی رائے کے برعکس سردیوں اور گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی کام کیا۔

    نامزد چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو سکینڈلائز کیا جاتا ہے جس کے خلاف کچھ کرنا پڑے گا، ججز کو اسکینڈلائز کرنا غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر مہذب اور غیر آئینی بھی ہے۔

    انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ججز کو اسکینڈلائز کرنے کے معاملے پر بار سے مدد مانگیں گے، میں دہرا رہا ہوں مسٹر احسن بھون کہ بار سے مدد مانگیں گے۔

    نامزد چیف جسٹس نے کہا جج حضرات اپنی اصلاح کرتے ہیں، اسی لیے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں اقلیت اکثریت میں بدلی، عدالتی فیصلے کےخلاف سوشل میڈیا پر طوفان برپا گیا،اس کا راستہ روکنا ہوگا۔کورونا کی وجہ سے زیر التوا کیسز میں اضافہ ہوا، کوشش کریں گے کہ انصاف کی فراہمی کا نظام بہتر اور تیز ہو۔ پاکستان میں ٹیکس نیٹ میں اضافے اور بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے جب بھی عدلیہ کا کردار درکار ہوگا، ہم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ 20 سال تک بطور جج اپنی خدمات محنت اور ایمانداری سے سرانجام دینے کے بعد آج ریٹائرڈ ہو رہا ہوں، بحثیت چیف جسٹس نہ صرف کیسسز کے فیصلے کئے بلکہ انتظامی امور کی ذمہ داری بھی نبھائی ، اختیارات میں توازن ریاستی اداروں کے دائرہ اختیار کو یقینی بناتا ہے۔ سپریم کورٹ میں خاتون جج کی تقرری سے نئی تاریخ رقم ہوئی۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور ججز کے احتساب کو الگ نہیں کیا جاسکتا ہے،عدلیہ آئین اور پارلیمانی نظام حکومت کی محافظ ہے۔

  • نوازشریف کی رپورٹ بنانےوالےبھارتی نژادامریکی     ڈاکٹرامریکی صدراوربھارتی نژادنائب صدرکےمعتمد خاص

    نوازشریف کی رپورٹ بنانےوالےبھارتی نژادامریکی ڈاکٹرامریکی صدراوربھارتی نژادنائب صدرکےمعتمد خاص

    لاہور: نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ تیارکرنےوالے بھارتی نژاد امریکی میجرڈاکٹرشال کون ہیں؟نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ تیارکرنےوالےبھارتی نژاد امریکی میجرڈاکٹرشال امریکی صدراوربھارتی نژازنائب صدرکے معتمد خاص بتائے جاتے ہیں ،

    تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرفیاض شال نے تیار کی ، ان کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ 2011میں ڈاکٹر فیاض شال پر بھارتی اداکارہ پریانکاچوپڑا نے الزامات لگائے تھے۔

    پریانکاچوپڑا نے ڈاکٹرفیاض شال پر دوران پرواز جہازمیں بدتمیزی کاالزام لگایا تھا جبکہ یہ بھی الزام لگایا تھا ڈاکٹر فیاض شال نشے میں تھے۔

    پریانکا نے ڈاکٹرفیاض شال پر بڑے نام لیکر دھمکیاں دینے کا بھی الزام لگایا تھا جبکہ ڈاکٹر فیاض شال کا کہنا تھا کہ پریانکا کو جہاز میں فون کے استعمال سے روکا تھا۔

    یاد رہے ڈاکٹر فیاض شال کی تیار کردہ نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی، جس میں ڈاکٹر نے نواز شریف کو پاکستان سفر کرنے سے روک دیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کورونا دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے ایسے میں سفر کے لیے ائیر پورٹس اور پبلک مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے جہاں کرونا کے خدشات زیادہ ہیں۔

    رپورٹ کہ نواز شریف شدید ذہنی دباو میں ہیں۔ نواز شریف لندن سے مکمل علاج کے بغیر گئے تو قید تنہائی اور شریک حیات کے دنیا سے جانے کے دباؤ کی وجہ سے انکا یہ عمل دل کے عارضے کو بڑھا بھی سکتا ہے۔

     

     

    ڈاکٹر فیاض شال کوں ہیں‌؟
    ڈاکٹر شال اس وقت تکوما پارک، میری لینڈ کے واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ہیں، ساتھ ہی واشنگٹن، ڈی سی، امریکہ میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن میں انٹروینشنل کارڈیو ویسکولر میڈیسن کے پروفیسر اور ڈائریکٹر ہیں۔

    1977 میں، ڈاکٹر شال امریکہ چلے گئے اور والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں کارڈیالوجی فیلوشپ مکمل کی۔بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹرمیجر فیاض نے 1980 میں والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر میں ریاستہائے متحدہ کی ملٹری (آرمی، نیوی، ایئر فورس) میں پہلا پی ٹی سی اے کیا۔

     

    کہا جاتا ہے کہ نوازشریف کو پاکستان مخالف عالمی قوتوں کی مدد حاصل ہے اورانہیں قوتوں نے یہ میڈیکل رپورٹ تیار کرنے میں بھارتی نژاز امریکی میجر ڈاکٹرفیاض شال کو ذمہ داری سونپی تھی

    اس حوالے سے جب ڈاکٹرشال کا ٹویٹر اکاونٹ چیک کیا گیا تو ان دعووں کی تصدیق ہوگئی کہ واقعی ڈاکٹر شال امریکی صدر جوبائیڈن اور بھارتی ںژاد نائب صدر کملا ہارس کے بڑے معتمد ساتھی اور رازدان ہیں‌

     

     

    حقائق کے مطابق 1979 اور 2003 کے درمیان، ڈاکٹرفیاض شال جارج ٹاؤن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن، جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن اور یونیفارمڈ سروسز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں طبی تقرریوں کو برقرار رکھا، جب کہ واشنگٹن ایڈونٹسٹ اسپتال اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسپتال دونوں میں انٹروینشنل کارڈیالوجی میں کام کررہے ہیں‌

    بھارتی نژاد امریکی فوج کے میجر ڈاکٹرفیاض شال امریکن کالج آف فزیشنز، برطانیہ کے رائل کالج آف فزیشنز، یونائیٹڈ کنگڈم کی جنرل میڈیکل کونسل، امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔ وہ امریکن کالج آف کارڈیالوجی، امریکن کالج آف چیسٹ فزیشنز، امریکن کالج آف فزیشنز، امریکن کالج آف انجیوولوجی اور دی سوسائٹی فار کارڈیک انجیوگرافی اینڈ انٹروینشنز کے فیلو ہیں۔اور امریکی فوج اور خفیہ اداروں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں‌

    ڈاکٹرفیاض شال واشنگٹن ایڈونٹسٹ ہسپتال میں 1987 سے 1998 اور پوری دنیا میں انٹروینشنل کارڈیالوجی کی دیگر تکنیکوں (بشمول کورونری، کیروٹڈ اور دیگر پیری فیرل اور نان کارڈیک مداخلت جیسے والوولوپلاسٹی، IHSS کے لیے ابلیٹیو ٹیکنیک وغیرہ) کے لائیو سیشنز کے ذریعے تعلیم دے رہے ہیں۔ . اس قسم کے تدریسی سیمینار سیٹلائٹ کے ذریعے یا CATH لیب سے براہ راست مقامی نشریات کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    ہائی رسک والے مریض کے ساتھ کام کرنے میں ایک انقلاب برپا کرنے والے ڈاکٹر شال پہلے انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ تھے جنہوں نے ایکلیپس ہولمیم لیزر کے ساتھ ساتھ اینجیو ٹریکس میکانیکل ڈیوائس (1999) کو پرکیوٹینیئس ٹرانسلومینل مایوکارڈیل ریواسکولرائزیشن کے لیے استعمال کیا جو آخری مرحلے کے ایتھروسکلروٹک کے تحقیقاتی علاج میں تھا۔

    دل کی بیماری (مریض جن کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے)۔ اس نے دونوں طریقہ کار کو تحقیق کے ایک حصے کے طور پر دنیا میں سب سے پہلے نئی دہلی، ہندوستان میں کیا۔ وہ 1985 میں واشنگٹن ڈی سی میٹروپولیٹن ایریا میں مائٹرل والوولوپلاسٹی کرنے والے پہلے بھی تھے۔

    بھارتی نژاد امریکی میجر ڈاکٹر فیاض شال معروف بین الاقوامی گروئنٹزگ سوسائٹی کے رکن ہیں

  • لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں : شوکت ترین

    لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں : شوکت ترین

    اسلام آباد: لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزنہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ چپ کرکے تماشا نہیں دیکھیں گے، تحقیقات کر رہے ہیں، لوگوں نے دبئی اور باقی جگہوں پر کمپنیاں کھولی ہوئی ہیں اور اس کے ذریعے ٹرانسفر پرائسنگ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد آنکھیں کھول دینے والے حقائق قوم کے سامنے ہوں گے اور پھرسب کو پتہ چل جائے گا کہ کون کہاں کھیل رہا ہے

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران فارن ایکسچینج پر بات کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ پتہ نہیں کیا قدغنیں تھیں کہ ہم نے اپنا کیپٹل اکاؤنٹ ہی کھول دیا جبکہ ہم خود کفیل نہیں تھے۔ 1992 کے فنانس ایکٹ کے تحت آپ کچھ بھی کر سکتےہیں، پھر ہماری فارن ایکسچینج کی کمپنیاں اور بروکرز بھی کافی آزاد ہیں، تو فارن ایکسچینج کے ساتھ اس کو باہر لے جانا اور لے آنا، اس کی کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ ہورہی ہے، پیٹرولیم اور دیگر مصنوعات میں ہماری ٹرانسفر پرائسنگ ہو رہی ہے، اربوں روپے ادھر کے ادھر ہوجاتےہیں، کئی چیزیں پکڑی جارہی ہیں اور اس حوالے سے ایف آئی اے اچھا کام اور بڑا ذمہ داری والا کام کر رہی ہے۔

    ایف آئی اے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بڑا بین باجا نہیں کرتے لیکن اندر ہی اندر چیزوں پر اچھی پیشرفت ہو رہی ہے لیکن ہمیں یہ چیزیں ٹھیک کرنی ہیں اور اس کو آٹومیشن کے تھرو ٹھیک کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم کسٹمز میں سنگل ونڈو لے کر آرہے ہیں اور اب وہاں لینس کا سسٹم بھی آئے گا، جو دوسری جگہوں سے قیمتوں کا موازنہ کرے گا اور دیکھے گا کہ جو انوائس آئی ہے وہ متعلقہ ہے یا نہیں اور اگر متعلقہ نہ ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ میرے علم میں آیا ہے پیٹرولیم مصنوعات میں ٹرانسفر پرائسنگ ہو رہی ہے، اس پر بھی ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہوگی۔ ہمارے لیے اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ بہت بڑا مسئلہ رہا ہے اور اس میں عجیب چیز ہے کہ ہم نے آج تک نوٹس ہی نہیں کیا، نوٹس تو کیا ہوگا لیکن ہم دوسری طرف دیکھتےہیں، سامان چین سے آرہا ہے اور انوائسنگ دبئی سے ہو رہی ہے، چین کا دبئی سے کیا تعلق ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ کوئی نہ کوئی دال میں کالا ہے، یہ تو ایک ضعیف اور اندھے آدمی کو بھی نظر آنی چاہیے، لیکن ہم دہائیوں سے چپ کرکے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اب ہم چپ کرکے یہ تماشا نہیں دیکھیں گے، ہم اس میں تحقیقات کر رہے ہیں، لوگوں نے دبئی اور باقی جگہوں پر کمپنیاں کھولی ہوئی ہیں اور اس کے ذریعے ٹرانسفر پرائسنگ کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا ہارڈ ارن فارن کرنسی کمپرومائز ہو رہا ہے، یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے لیکن ہم نے ہر سطح پر ٹیکنالوجی استعمال کرنا ہے، چاہے یہ ٹیکسیشن ہو یا فارن ایکسچینج ہو۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم فرق پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے اور پاکستان میں لوگوں کو جو ٹیکس دینا ہے وہ ادا کریں لیکن اس میں رکاؤٹیں نہیں ہونی چاہیئں۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ جب ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں تو انسانی مداخلت ختم کرتے ہیں تو لوگ کم از کم اس کا بہانہ نہیں بنا سکتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر اور دیگر چیئزمینز کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ کم ازکم اقدامات کر رہے ہیں کیونکہ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوسکتا، یہ حکومت ہے جو یہ سب کچھ کر رہی ہے۔

  • ایک ساتھی کارکن سے ملنا؟ کام کی جگہ پرمحبت

    ایک ساتھی کارکن سے ملنا؟ کام کی جگہ پرمحبت

    کام کی جگہ پر رومانس ایک دلچسپ تجربہ ہو سکتا ہے لیکن جیوری ابھی تک اس بات سے باہر ہے کہ یہ کتنا قابل قبول ہے۔ کچھ تنظیموں کی اس کے خلاف واضح پالیسیاں ہیں جبکہ دیگر اس خیال کے لیے زیادہ کھلے ہیں۔ اگرچہ دفتری رومانس جوڑے کے لیے بہت اچھا ہو سکتا ہے، لیکن اگر اسے اچھی طرح سے نہیں سنبھالا گیا تو یہ ساتھی کارکنوں سے ناپسندیدہ جانچ پڑتال کو بھی مدعو کر سکتا ہے۔

    لوگ کام کی جگہ پر اکثر محبت میں پڑ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی رشتے کام کرتے ہیں، اور کبھی نہیں. لیکن آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ جب آپ کام کی جگہ پر ڈیٹنگ کر رہے ہوں تو اپنے آپ کو کیسے برتاؤ کرنا ہے۔
    ربیکا اور الیکس کام کی جگہ پر ملنے کے بعد ایک دوسرے پر گر پڑے۔ ان کا ایک رومانوی کام کا رشتہ تھا اور جب تک ان کا رشتہ بند تھا تب تک سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ لیکن جب انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور شادی کی تاریخ کو باضابطہ کر دیا گیا تو پریشانی شروع ہو گئی، خاص کر ربیکا کے لیے۔
    اس کے باس نے ان کے کام کی جگہ کے رومانس کو صحیح جذبے سے نہیں لیا۔ اس نے شکایت کرنا شروع کر دی کہ ربیکا اپنی میز پر اتنا وقت نہیں گزار رہی جتنا کہ وہ ایلکس پر تھی اور ان کے لنچ کے اوقات لمبے ہوتے جا رہے تھے۔

    ربیکا نے محسوس کیا کہ وہ پہلے کی طرح پیشہ ور ہے اور اس نے ایلکس کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپنے کام کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ لیکن اس کے باس نے مسائل پیدا کرنا شروع کر دیے اور تابوت میں آخری کیل اس وقت ٹھونس دی گئی جب اس نے بیمار ہونے پر فون کیا جب کہ ایلکس بھی چھٹی پر تھا۔

    باس نے یہ معلوم کرنے کے لیے جاسوسی شروع کی کہ آیا وہ ایک ساتھ ہیں اور بیماری کی چھٹی محض ایک فریب تھی۔ ربیکا نے اس رویے سے اتنی ذلت محسوس کی کہ اس نے فوراً اپنا استعفیٰ بھیج دیا۔ وہ جلد ہی ایک اور تنظیم میں شامل ہوگئی۔ جیسے ہی جوڑے نے شادی کی اور ایک ساتھ زندگی شروع کی، دونوں نے محسوس کیا کہ ان کا دفتری رومانس ان کے پیشہ ورانہ کاموں میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔
    اب جب کہ وہ مختلف دفاتر میں کام کرتے ہیں، وہ بہتر جگہ پر ہیں۔ ربیکا اور ایلکس کا تجربہ دفتری رومانس کو سنبھالنے کے بارے میں بہت سے اسباق پیش کرتا ہے:
    1. جانیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔
    اگر یہ صرف ایک جھڑپ تھی جو کرسمس پارٹی کے دوران شروع ہوئی تھی، تو یہ نہ سمجھیں کہ یہ کسی اور چیز میں بدل جائے گی۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آیا کھیل میں حقیقی احساسات ہیں یا یہ صرف کبھی کبھار اڑنا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ ایماندار رہیں اور دوسرے شخص کو بتائیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔

    جب لوگوں کو اس کا احساس ہوتا ہے، تو وہ ایک خاص طریقے سے جھڑکتے ہیں اور دوسرے طریقے سے زیادہ سنجیدہ تعلقات کو محسوس کرتے ہیں۔ لہذا اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ کس قسم کے تعلقات میں ہیں، تاکہ آپ اسے مناسب طریقے سے سنبھال سکیں۔
    اگر یہ صرف ایک جھکاؤ ہے اور آپ کی پیشہ ورانہ زندگی میں مسائل پیدا کر رہا ہے، تو آپ دونوں ہی پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ اگر یہ سنجیدہ ہے تو آپ کو ہاتھ ملانا ہوگا اور اپنے دفتری رومانس کو سنبھالنے کے لیے ایک منصوبہ بنانا ہوگا۔

    2. شہد سے پہلے پیسہ
    اس کا مطلب یہ ہے کہ کام کی جگہ پر اپنے رومانوی تعلقات کو اپنے کام کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔ اس میں کچھ محنت لگ سکتی ہے لیکن اپنے جذبات کو اپنے کام کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔ آپ کو اپنا کام کرنا ہے اور اسے اچھی طرح کرنا ہے۔ یہ یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے کہ آپ کا دفتری رومانس آپ کے کیریئر کو خطرے میں نہ ڈالے۔

    اپنے آپ کو 100% دینے سے کبھی بھی باز نہ آئیں صرف اس وجہ سے کہ آپ کسی ساتھی کارکن سے ڈیٹنگ کر رہے ہیں اور اگر آپ ان سے بڑی پیشرفت کرتے ہیں تو وہ تھوڑا سا محسوس کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے کام کے لیے آپ کو اپنے ساتھی کو سرزنش کرنے کی ضرورت ہے، تو آپ ان کے ساتھ نرمی نہیں کر سکتے۔

    3. کمپنی کی پالیسیاں اہم ہیں۔
    کام کی جگہ پر تعلقات کی پالیسی کو پڑھنا دفتری امور کے اہم ترین نکات میں سے ایک ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ اس گرم ساتھی کارکن کے لیے اپنے جذبات پر عمل کریں اور دفتری رومانس کو ابھاریں، چیک کریں کہ آپ جس کمپنی میں کام کر رہے ہیں وہ دفتری رومانس پر صرف نظر ڈالتی ہے یا اسے مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

    بہت سی کمپنیاں کام کی جگہ پر ڈیٹنگ کے بارے میں بہت سخت ہیں۔ یقینی بنائیں کہ پالیسی کیا ہے۔ اگر آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ قواعد کے خلاف ہے، تو اسے لپیٹ میں رکھنے کے لیے کافی ہوشیار رہیں۔ اس کے علاوہ، اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا آپ جو خطرہ لے رہے ہیں وہ اس کے قابل ہے؟
    کچھ دفاتر میں میاں بیوی کو ایک ہی تنظیم میں کام نہ کرنے کے بارے میں سخت پالیسیاں ہیں اور وہ مکمل طور پر ایک ہی محکمے کے لوگوں کے رومانوی تعلقات کے خلاف ہیں۔ دوسرا بٹ ایک غیر تحریری اصول ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ اپنے اردگرد پوچھیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا۔
    اگر ایسا ہے تو، آپ کو صرف اپنے دفتری رومانس سے آگے بڑھنا پڑے گا۔
    4. درجہ بندی کو جانیں۔
    میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں، محبت اندھی ہوتی ہے اور یہ سب کچھ، لیکن اگر آپ کسی ساتھی کے ساتھ ڈیٹنگ کرنے جا رہے ہیں، تو یہ بہتر ہے کہ اسے کسی ایسے شخص کے ساتھ کریں جس کے ساتھ آپ کو دن رات کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح، یہاں تک کہ اگر رومانس ختم ہو جاتا ہے اور آپ ٹوٹ جاتے ہیں، آپ دونوں کے درمیان کوئی عجیب و غریب کیفیت نہیں ہوگی۔
    مثال کے طور پر، جب آپ ٹوٹ جاتے ہیں تو باس کو ڈیٹ کرنا پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ جب رشتہ کام نہیں کرتا ہے تو وہ انتقامی ہو سکتا ہے اور آپ کی زندگی کو مشکل بنا سکتا ہے۔
    بہت سے لوگوں نے اسائنمنٹس، پراجیکٹس اور یہاں تک کہ پروموشنز بھی کھو دی ہیں کیونکہ وہ درجہ بندی میں اپنے سے برتر شخص سے ڈیٹنگ کر رہے تھے، اور بعد میں جب رشتہ ٹوٹ گیا تو انہی لوگوں نے انہیں ہراساں کیا۔
    لہذا اگر یہ دفتری رومانس ہے تو آپ کسی ایسے ساتھی کے ساتھ جانا بہتر ہے جو آپ کی سطح پر ہے یا کسی دوسرے شعبے سے تعلق رکھتا ہے جو آپ کے کیریئر کی تشکیل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہے۔

    5. پہلے پیشہ ورانہ مہارت
    آپ کو اپنے رشتے کو قومی خزانے کی طرح تماشائیوں سے بچانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کام کی جگہ پر سجاوٹ اور پیشہ ورانہ رویہ کو برقرار رکھیں۔

    صرف اس لیے کہ آپ رشتے میں ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو کانفرنس ہال میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا ہوگا، کھانا ہمیشہ ساتھ کھائیں۔ پینٹری یا دالانوں میں باہر بنانا بھی ایک بڑا نو گو علاقہ ہے۔ یہ حرکتیں آپ کے ساتھیوں اور ساتھی کارکنوں کو آپ کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کر سکتی ہیں۔

    وہ آپ کے تعلقات کو اس وجہ کے طور پر پیش کر سکتے ہیں کہ آپ ہمیشہ اپنے ساتھی کے منصوبوں سے اتفاق کرتے ہیں (چاہے آپ کے ساتھی کا منصوبہ بہت سے بہترین ہو)۔ اپنے کام کی جگہ کے رومانس کے بارے میں صرف حکمت عملی بنیں۔ بہت ساری چیزیں ہیں جن کا آپ کو خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔
    اگر آپ ایک ہی دفتر سے تعلق رکھنے والے کسی کے ساتھ تعلقات میں ہیں تو، عوامی محبت کے اظہار کو بے حد رکھیں (خاص طور پر مالکان کے سامنے)۔

    جب آپ کام پر ہوں تو کبھی بھی اپنے ساتھی کے ساتھ ذاتی جھگڑا نہ کریں۔ اس کے علاوہ، تعلقات کے مسائل کو دروازے کے باہر چھوڑ دیا جانا چاہئے. کسی بھی ذاتی لڑائی کو اپنے دوسرے ساتھی کارکنوں کے ساتھ برتاؤ کے انداز سے ظاہر نہ ہونے دیں۔

    بس یاد رکھیں کہ آپ کام کی جگہ پر پیسہ کمانے اور کیریئر بنانے کے لیے ہیں نہ کہ رومانس کے لیے۔ لیکن اگر آپ کام کی جگہ پر کسی کو پسند کرتے ہیں، تو ہر طرح سے، ان سے ملاقات کریں لیکن اسے اپنے کام یا آپ کے برتاؤ کے طریقے پر غور کرنے نہ دیں۔ یہ سب سے اہم ہے۔

  • پی ٹی آئی کے 34 ایم این ایز ن لیگ کے ساتھ ہیں تو حکومت کیوں نہیں گراتے: بلاول

    پی ٹی آئی کے 34 ایم این ایز ن لیگ کے ساتھ ہیں تو حکومت کیوں نہیں گراتے: بلاول

    لاہور: پی ٹی آئی کے 34 ایم این ایز ن لیگ کے ساتھ ہیں تو حکومت کیوں نہیں گراتے: اطلاعات کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ انہیں گیٹ نمبر 4 کا راستہ نہیں معلوم اور یہ بات ’وہ‘ بھی جانتے ہیں۔

    بلاول نے کہا کہ ان کا لانگ مارچ عوام کی طرف سے عمران حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہوگا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ کی کامیابی کیلئے اسٹیبلشمنٹ سے غیر جانب دار رہنے کا مطالبہ بھی کردیا اور ساتھ ہی کہا کہ اسلام آباد جائیں گے لیکن پارلیمنٹ یا پی ایم ہاؤس کا گھیراؤ نہیں کریں گے، لمبے لمبے دھرنے اور قومی اداروں پر حملے کے بجائے پارلیمان میں سیاست کریں گے، حکومت نکالنے کیلئے آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد لانی ہوگی۔

    بلاول نے ن لیگ کو چیلنج بھی کیا اور کہا کہ مسلم لیگ ن دعویٰ کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کے 34 ایم این ایز ان کے ساتھ ہیں، ایسا ہے تو حکومت گرا کر دکھا دیں۔

    بلاول نے کہا کہ میاں نواز شریف نے اکثریت ہونے کے باوجود پارلیمان کو وقت نہیں دیا، میاں صاحب کو پارلیمان کی اس وقت یاد آئی جب حکومت کو خطرہ ہوا۔

    لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوریت اور پارلیمان کو مضبوط کرنا چاہتی ہے،ہمیں ہر الیکشن میں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

    بلاول نے کہا کہ پہلے بھی کہا تھا وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ نہیں کریں گے، پارلیمان میں مقابلہ کریں گے، لمبے لمبے دھرنے اور قومی اداروں پر حملے کرنے کی بجائے پارلیمان میں سیاست کریں گے، اگر ہم نے اس حکومت کو نکالنا ہے تو آئین کے تحت عدم اعتماد لے کرآنا ہوگا، ہم عدم اعتماد کی بات کرتے ہیں ہمارا ساتھ دیں، اپوزیشن حکومت کو ہٹانے کا کوئی دوسرا راستہ بتائے تو ہم حاضر ہی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کے اتحادیوں میں سے کوئی پیشکش نہیں ہوئی، لانگ مارچ شروع ہونے پر شاید کوئی آپشن آجائے، 100 فیصد نہیں کہہ سکتا کہ لانگ مارچ پوری طرح کامیاب ہوگا یا نہیں، عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کےلانگ مارچ ناکام ہوئے لیکن بے نظیر بھٹو ناکام نہیں ہوئیں۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو ووٹ کس کس ایم این اے نے دیا ن لیگ اور مولانا کو بھی نہیں پتہ، صرف مجھےاور یوسف رضا گیلانی کو پتہ ہے کہ ووٹ کس نے دیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ نیب کو سیاسی طور پر استعمال نہ کیا جائے، یہ حکومت سلیکٹڈ ہے لیکن سلیکٹڈ بھی پریشان ہے۔

    بلاول نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کےساتھ تعلق کی خبریں میڈیا کی طرف سےآتی ہیں،ہماری طرف سےنہیں، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہماری دلچسپی کل تھی نہ آج ہے، گلگت جاتا ہوں یا جنوبی پنجاب تو کہا جاتا ہے اسٹیبلشمنٹ کا اشارہ ہے۔

  • آرمی چیف سے ترکمانستان کے نائب وزیر خارجہ اور کینیڈین ہائی کمشنر کی ملاقات

    آرمی چیف سے ترکمانستان کے نائب وزیر خارجہ اور کینیڈین ہائی کمشنر کی ملاقات

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ترکمانستان کے نائب وزیر خارجہ اور پاکستان میں تعینات کینیڈین ہائی کمشنر نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ترکمانستان کے نائب وزیر خارجہ نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور سپہ سالار سے ملاقات کی۔

    بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی اور مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں روابط کے مختلف منصوبوں بالخصوص تاپی منصوبے پر بھی بات چیت کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق معزز مہمان نے افغان صورتحال، علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے کام جاری رکھنے کا عزم کا اعادہ کیا۔

    دوسری طرف پاکستان میں تعینات کینیڈین ہائی کمشنر نے بھی جنرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے امور اور افغانستان سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔

    آرمی چیف نے شمالی علاقہ جات میں کھیلوں کے فروغ کے لیے کینیڈین ہائی کمشنر کی کوششوں کو سراہا۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان دوطرفہ روابط کی روایت کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، پاکستان کینیڈا کے ساتھ طویل مدتی اور ملٹی ڈومین پائیدار تعلقات کا خواہاں ہے۔