Baaghi TV

Author: +9251

  • علی زیدی کیخلاف ویڈیو بیان جاری کرنے پر پی ٹی آئی رہنما کو شوکاز نوٹس جاری

    علی زیدی کیخلاف ویڈیو بیان جاری کرنے پر پی ٹی آئی رہنما کو شوکاز نوٹس جاری

    پاکستان تحریک انصاف کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائےاحتساب و ضوابط نے وفاقی وزیر علی زیدی کیخلاف ویڈیو بیان جاری کرنے پر پی ٹی آئی رہنما اشرف جبار کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائےاحتساب و ضوابط نے ایکشن لیتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی کیخلاف ویڈیو بیان جاری کرنے پر پی ٹی آئی رہنما اشرف جبار کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

    اسٹینڈنگ کمیٹی برائے احتساب و ضوابط نے کہا کہ اشرف جبارنےعلی زیدی پرمن پسندافرادکوترجیح دینےکاالزام لگایا اور انھوں نے ورکرز کو احکامات کی پیروی نہ کرنے پراکسایا۔

    کمیٹی نے پی ٹی آئی رہنما کو 24جنوری تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا جواب جمع نہ کرانےپرکارروائی کی جائے گی۔

    خیال رہے پی ٹی آئی رہنما نے تنظیم سازی پرعلی زیدی کیخلاف سوشل میڈیاپربیان جاری کیا تھا۔

    گذشتہ روز حکومت کے خلاف بیان بازی پر پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے ایم این اے نور عالم خان کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    ذرائع نے بتایا تھا کہ شوکاز نوٹس پی ٹی آئی خیبر پختون خوا کے صدر پرویز خٹک جاری کریں گے اور ان سے حکومت کے خلاف بیان بازی پر وضاحت طلب کی جائے گی۔

  • دو پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث مجرم کی سزا کالعدم قرار

    دو پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث مجرم کی سزا کالعدم قرار

    سندھ ہائی کورٹ میں2پولیس اہلکاروں کے قتل میں سزا یافتہ ملزم کی اپیل کا فیصلہ کرلیا گیا، عدالت نے ملزم اعجاز شاہ کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرلی۔

    اپیل کی سماعت کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی ) کی جانب سے دی گئی سزا کالعدم قرار دے دی، عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ملزم کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہے تو رہا کیا جائے۔

    جج کا کہنا تھا کہ بتایا گیا کہ ملزمان کا تعلق لیاری گینگ وار سے ہے لیکن عدالت کو اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، ملزم کی جانب سے پولیس حراست میں دئیے گئےاعترافی بیان کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

    سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پر اے ایس آئی عارف اور ہیڈ کانسٹیبل ندیم کو قتل کرنے کا الزام تھا، ملزم کو اے ٹی سی نے اکتوبر 2018میں2مرتبہ عمرقید کی سزا سنائی تھی۔

    پولیس حکام کا کہنا تھا کہ یکم مئی 2006میں ملزمان نے پنجاب کالونی کے قریب پولیس موبائل پر فائرنگ کی تھی، ملزمان کے فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

  • پاکستان پیپلزپارٹی کاماضی،حال اور مستقبل

    پاکستان پیپلزپارٹی کے حوالے سے لکھنے سے پہلے کچھ ابتدائی نقشہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں ،پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے ارتقا کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے دلچسپت اورقابل غورپہلوسامنے آتے ہیں،کوئی اپنی سیاسی بقا کے لیے پارٹی کا قیام عمل میں لاتا ہے تو کوئی کسی سے سیاسی مفادات کے ٹکراو کے بعد سیاسی جماعتیں بناکرعوام کوبڑے بڑے سبزباغ دکھانے کا ڈرامہ رچاتے ہیں،پاکستان میں ایسی بھی پارٹیاں ہیں جن کو ڈکٹیٹروں نے اپنے اقتدار کوطول دینےاوراپنی کوتاہیوں پرپردہ ڈالنے اوران جرائم کا دفاع کرنے کے لیے جماعتیں تشکیل دیں‌ ،قیام پاکستان سے لیکراب تک سیکڑوں پارٹیاں وجود میں آچکی ہیں، ان سب جماعتوں نے اپنے آغاز سے لیکرآج تک عوام کو ایک دوسرے سے لڑا کراپنے مفادات حاصل کیے،لیکن عملا کچھ نہیں کیا

    قیام پاکستان سے ہی مسلم لیگ نے اس وقت کے متحدہ پاکستان میں کسی دوسری پارٹی کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ، اس پارٹی کے بڑوں نے شاید یہ سمجھ لیا کہ چونکہ قیام پاکستان کی تحریک میں مسلم لیگ نے مرکزی کردار ادا کیا تھااس لیے کسی دوسری جماعت یا کسی ایسے دوسرے فرد کواہل پاکستان سے روابط ان کی خدمت اوران کوباشعور کرنے کے عمل کوتوہین اورمسلم لیگ کے معاملات میں مداخلت تصورکیا جاتارہا اوراگرکسی جماعت یا شخص نے عوامی خدمت کرنے کا نعرہ لگایا تو اس کو اسلام مخالف،پاکستان دشمن اور مسلمانوں کا حریف سمجھ کردیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور یہ ایک خاص جماعت اسلام کے نام پرپاکستان کے مذہبی لوگوں کے ذریعے کرتی رہی ہے اور آج بھی درپردہ کررہی ہے،ان جماعتوں نے عوام کی خدمت کی بجائے اپنے مخالفین کی کردارکُشی کی ذریعے سیاست کی اوراپنا سیاسی مجن بیچا، ساتھ ہی ملک کے اندرایک نظریاتی ،لسانی اورعلاقائی تعصب پیدا کرکے ملک و قوم کو اتنے گہرے زخم لگائے کہ آج تک وہ زخم مندمل نہیں ہورہے،ان حالات میں میں آج کچھ حقائق لکھنے پرمجبورہوا ہوں اور اس سیاسی کشمکش کے دوران ہونے والے نقصان اور اس کے ازالے کے حوالے سے کچھ حقائق پرمبنی خیالات رکھتا ہوں جن کوبیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں

    میرا موضوع پاکستان پیپلزپارٹی کا ماضی ، حال اور مستقبل ہے تو ادھر ادھر جانے کی بجائے میں بغیرتمہید کے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں ،پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام سے لیکرآج تک اس پارٹی اورپارٹی کے قائدین خاص کربانی خاندان کے خلاف نفرتوں‌،مخالفتوں اوردشمنیوں کے پیچھے وہی لوگ ہیں جنہوں نےمذہب کی آڑ میں سیاست کی اوراپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے منبرومحراب کو استعمال کیا،جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے،قیام پاکستان کےبعد اس پارٹی کی قیادت پرکچھ خاص لوگ آکربیٹھ گئے جنہوں نےاپنی نااہلی اورکمزوریوں کو چپھانے کے لیے فتووں کاسلسلہ شروع کردیا جس نے اس متحدہ پاکستان میں نفرتوں اوراختلافات کی بنیاد رکھی، یہ وہی مسلم لیگ ہےجس کےسائے تلےسابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ان کےوالدمحترم سرشاہنواز بھٹو نے قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کی مگراس پارٹی پرکچھ ایسے لوگوں نے قبضہ کرلیا جن کے رویے نے پاکستان میں ایک نئی پارٹی کے وجود کو ضروری قراردیا

    نئی جماعت جس کی بنیاد سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے 1967 میں رکھی بنیادی طورپریہ اس وقت معاشرتی مطالبات اورضروریات کے تحت قائم کی گئی ،نہ تو اس کا مقصد مسلم لیگ کوچیلنج کرنا تھا اور نہ ہی اس سے محاذ آرائی کا کوئی مقصد تھا، نہ یہ کسی مذہبی جماعت یا کسی دینی جماعت کے منشور کو پش پُشت ڈالنے کےلیے بنائی گئی تھی، اس کے قیام کی وجوہات ، اس ملک کی معاشی،معاشرتی،خارجی ، داخلی اوراس کےساتھ ساتھ عالمی حالات کے تقاضوں کے مطابق تھی، کیوں کہ اس جماعت کے بانی ذوالفقار علی بھٹواس وقت کے دیگرقومی رہنماوں کی نسبت عوام کے مسائل سے زیادہ واقف تھے ،عوام کی مشکلات کو دیکھ کربے چین تھے،اور سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے چپے چپے کے حالات سے واقف تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صدر پاکستان سکندر مرزا کے وزیر اعظم فیروز خان نون کی کابینہ میں وزیر تجارت تھے۔ ایوب خان کے دورمیں وزیر دفاع پھر 1958ء تا 1960ء صدر ایوب خان کی کابینہ میں بھی وزیر تجارت رہے، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے۔ وہ دسمبر1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔

    یہ وہ حقیقت تھی یہ وہ حالات تھے کہ جن کی بنیاد پرذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی عوام کے دلوں کے قریب تھے،ذوالفقار علی بھٹوپاکستانیوں کےمعاشی ،معاشرتی اورسیاسی معاملات کوقریب سے دیکھ چکے تھے اوربہترجانتے تھےجبکہ اس دوران دوسری جماعتیں خاص کر مسلم لیگ کی اس وقت کی قیادت خواب غفلت میں سورہی تھی توذوالفقار علی بھٹو نے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اس پارٹی کی بنیاد رکھی ،

    سابق وزیراعظم نے تھوڑے ہی عرصے میں عوام کے دلوں میں جگہ بنالی اورشہادتوں، قربانیوں اورمشکلات کے باوجود یہ پارٹی اپنے بانی کے خدمت کےجزبوں پرکھڑی ہے ،اس جماعت اور اس جماعت کے بانیوں پارٹی رہنماوں پرجومظالم ڈھائے گئے اس کی مثال نہیں ملتی لیکن آج بھی یہ جماعت آزادکشمیر،گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں موجود ہے
    میں جو یہ گزارشات کرنا چاہتا ہوں آج اس کا مرکزی خیال،موضوع اورحقیقت حال یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کوختم کرنے کےلیے بھٹوخاندان کوختم کردیا گیا ،باپ بیٹی نے ملک پاکستان سے محبت میں شہادتیں قبول کرلیں لیکن عوام سے منہ نہ موڑا،اب اس خاندان کی کمان سابق صدرآصف علی زرداری کے ہاتھ میں ہے ،میں نہیں ہرکوئی ،آصف علی زرداری کے دوست دشمن،سب ان کی قابلیت،ان کی حکمت ودانائی اورپاکستان کی سیاست میں ان کو مرد حُر مانتی ہے ، اور اس میں شک بھی نہیں ہے ،آصف علی زرداری ٹھندی طبیعت کے حامل سمجھےجاتے ہیں ،آصف علی زرداری حائل مشکلات کے باوجود کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں ،لیکن سوال یہ ہے کہ وہ آصف علی زرداری اپنی زندگی میں اس پارٹی کی جڑیں پھیلانے اورمضبوط کرنے میں کیوں سُست ہیں،وہ کیوں یہ نہیں سمجھ رہے کہ آج بھی ذوالفقارعلی بھٹوکی خدمت انسانیت کو ان کے مخالفین بھی سراہتے ہیں، وہ کیوں نہیں یہ سمجھتے کہ اپنی زندگی میں بلاول بھٹو کو سندھ کے علاوہ باقی صوبوں کی عوام کے دلوں کی دھڑکن بناتے،

    محترم جناب آصف علی زرداری صاحب ،پاکستان پیپلزپارٹی آج بھی پنجاب کے دیہاتوں میں موجود ہے ، کے پی ، بلوچستان اورکشمیر،گلگت بلتستان میں موجود ہے ،لوگ آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کو یاد کرتے ہیں،آج بھی لوگ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قومی لیڈرمانتے ہیں ، لوگ انہیں آئین پاکستان کا بانی مانتے ہیں ،بلکہ ایک بہت بڑے عالم کے مطابق انسان خطاوں کا پُتلا ہے ، ذوالفقار علی بھٹو سے انسان ہونے کے ناطے بڑی بشری غلطیاں ہوں گی لیکن جو ذوالفقار علی بھٹو قادیانیوں کوغیرمسلم قراردے گئے ہیں اللہ کی رحمت کی بڑی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ختم نبوت سے ذوالفقارعلی بھٹو کی محبت کے بدلے میں معاف کردیں گے اور جسے معافی مل گئی وہ کامیاب ہوگیا وہ جنتوں میں پہچ گیا ، آصف علی زرداری کو اللہ تعالیٰ صحت والی لمبی زندگی عطا فرمائیں ، اپنی زندگی میں اس پارٹی کی کیوں آبیاری نہیں کررہے ، بہت سے مواقع ہیں ، بہت سے انداز ہیں اس وقت پاکستانی پھر سے ذوالفقار علی بھٹو والی سیاست چاہتے ہیں ،اپنی زندگی میں ہی بلاول بھٹو کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے نکلیں ، عوام میں نکلیں گے تو پنجاب کے لوگ عمران خان اور نوازشریف کو بھول جائیں گے ،
    جناب آصف علی زرداری صاحب عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کے بہترین مواقع ہیں لوگوں کومسیحا چاہیے،لیکن اس کے لے شرط اول یہ ہے کہ عوامی رابطے کے لیے پُرانا سیاسی انداز یعنی علاقوں کے پارٹی رہنماوں کوبار بار آزمانے کی بجائے کچھ نسخہ کیمیا استعمال کریں ، وہ نسخہ کیمیا اس کینسر نما سیاست میں استعمال کریں گے تو امن بھی آئے گا ، خوشحالی بھی آئے گی اور پھرسے لوگ پاکستان پیپلزپارٹی کے پرچم تلے آئیں گے آئیں اپنی غلطیوں کا ازالہ کریں اور جدید اور مربوط انداز سے میدان میں اتریں اور اپنی زندگی میں ہی بلاول کے سپرد ایک قومی اور مضبوط پارٹی سپرد کرکے اس کے رابطوں کا سلسلہ پاکستان کے چپے چپے تک پھیلائیں ،جب ہرکام میں مقصود اللہ کی رضا ہوگی تواللہ کی رحمت آئے گی اور جس کو رحمت نصیب ہوگئی وہ دنیا میں بھی کامیاب اور آخرت میں بھی کامیاب ہوجائے

    السلام علیکم محترم بھائی حافظ خالد ولید صاحب
    مجھےخوشی ہوئی کہ آپ مجھے نہیں بھولے،بلکہ میں نے آپ کوکئی سالوں سے یاد نہ کرکے بڑی غلطی کی جس کی سزا بھگت رہا ہوں ، بھائی صاحب آپ نے فرمایا تھا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے یا آپ کیا کرسکتے ہیں اس حوالے سے ایک نقشہ اور خاکہ پیش کریں ،

    تومیں اس سلسلے میں کچھ گزارشات پیش کررہا ہوں:

    بھائی صاحب گورنمنٹ سیکٹرمیں آرگنائزیشن مینجمنٹ،سیکرٹریٹ ڈیزائنراینڈ کوارڈینیٹرکے ساتھ گزٹڈ پوسٹوں پرکام کیا اورپھریہ سب چھوڑ کرجماعت میں آگیا،بیس سال مینجمنٹ میں کام کیا ، انہیں‌ تجربات کی بنیاد پر کچھ کہنا چاہتا ہوں ،

    بھائی صاحب ویسے تو جماعت کے کسی بھی شعبہ کوایک نیاانداز دیا جاسکتا ہے ،لیکن حالات، واقعات اورضروریات کے مطابق اب اس امر کی ضرورت ہے کہ جماعت کے کام کوکس طرح مربوط کیا جائے اورکس طرح ملک کے کونے کونے میں اسے پھیلایا جائے

    عالمی حالات اورپابندیوں کےبعد جماعت ایک نئے انداز سے میدان میں آئی ہے،ہم نےمیدان سیاست میں قدم رکھ دیا ہے،سیاست کے میدان میں سب سے بڑی چیز کسی جماعت کا سیاسی نظریہ،منشوراوراس کی خدمات ہوتی ہیں ،اس کے بعد ان مذکورہ چیزوں کی حجت قائم کرنی ہوتی ہےجس کےلیےموجودہ دورمیں عوام تک رسائی کےلیےمیڈیا کا بھرپوراستعمال ہوتا ہے،میڈیا کےاس استعمال میں پرنٹ،الیکٹرانک اورسوشل میڈیا مرکزی مقام رکھتے ہیں

    پاکستان سمیت دنیا بھرمیں حکومتیں،ادارے،سیاسی جماعتیں،شخصیات ذرائع ابلاغ کےانہیں ذرائع کےاستعمال سے ہی اپنا سسٹم چلا رہی ہیں،جو ان ذرائع کا بہتراستعمال کرتا ہےوہ کامیاب رہتا ہےاوربھرپورفائدہ اٹھاتاہے

    اب آتے ہیں جماعت کے مشن اورمنشور کی طرف ،عالمی اورملکی حالات کے تناظرمیں جماعت نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے،پہلے کھل کردعوت وجہاد کا کام کرتے تھے اب حکمت ودانائی کے ساتھ کرنا ہے،

    ویسے تومختلف انداز سے یہ کام جاری ہے لیکن اب ہم نے سیاست کومرکزی پلیٹ فارم کے طور پراستعمال کرنا ہے ،اللہ نے جوذرائع اور وسائل ہماری جماعت کو دیئے دنیا میں کسی جماعت کے پاس یہ ذرائع نہیں ،پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے پاس اتنے ورکرزنہیں جتنے ہمارے پاس جانثار موجود ہیں ، ان سیاسی جماعتوں کے پاس سوائےچند مرکزی دفاتر کے علاوہ کچھ نہیں الحمد للہ ہمارے پاس ملک کےچپےچپے میں مراکز،مساجد اوردفاتر موجود ہیں،سیاسی جماعتوں کے پاس شخصیت پرستی کےسوا کچھ نہیں بس وہ چند لیڈروں کےنام پرسیاست کرتے ہیں،الحمد للہ ہمارے پاس خدمت انسانیت،تعلیم وتربیت،ملک وقوم کی ہرزاویےسےخدمت کے ساتھ ساتھ کئی ذرائع ہیں ،ہم پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے پشتی بان ہیں

    بھائی صاحب آپ جماعت ہیں ،آپ جماعت کا اثاثہ ہیں ، آپ جماعت کے ذمہ دارہیں ،اس لیے کچھ حقائق اس لیے واضح کررہا ہوں کہ آپ صورت حال کوبآسانی سمجھ سکیں تاکہ جماعت کے مشن میں اور ترقی کے سفرمیں حائل رکاوٹوں کو دورکرکے کامیابیوں کےساتھ بڑھتے رہیں‌

    بھائی صاحب دیگرتمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے پاس اتنی زیادہ افرادی قوت نہیں جتنی ہمارے پاس ہے ، اتنے وسائل نہیں جتنے ہمارے پاس ہیں ، اتنی قربانیاں نہیں جتنی ہمارے پاس ہیں لیکن ہم پھر بھی ان سے پیچھے ہیں ، اس کی کیا وجہ ہےیا ہمیں کیا کرسکتے ہیں کہ ان تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑ جائیں

    بھائی صاحب ہمارے پاس سب کچھ ہے لیکن ہم ان ذرائع کودرست استعمال نہیں کرپارہے
    ہمارے پاس ہرگلی محلے میں سوشل میڈیا ٹیمیں یا نیٹ ورک ہے لیکن ان سے فائدہ نہیں اٹھا رہے
    ہمارے پاس ہرگلی محلی میں ورکرز ہیں ہم ان کا بہتراستعمال نہیں کررہے
    ہمارے پاس پاکستان کے چپے چپے میں مراکز،مساجد اور دفاتر ہیں ہم ان کوبہترانداز سے استعمال نہیں کررہے
    ہمارے پاس پڑھے لکھے لوگ ہیں ہم ان سے فائدہ نہیں اٹھا رہے
    ہمارے پاس خدمت خلق،خدمت انسانیت اورملک وملت کی شاندارداستانیں ہیں مگرہم ان کواستعمال میں نہیں لارہے
    ہمارے پاس معاشرے کی فلاح وبہبوراوراصلاح کے لیےعلما اوراساتذہ موجود ہیں مگرہم ان سےفائدہ نہیں اٹھا رہے

    بھائی صاحب میں بھی جانتا ہوں آپ بھی جانتے ہیں جماعت کی مرکزی سوشل میڈیا ٹیم جس کو بہت سےوسائل دستیاب ہیں اورایسے ہی علاقائی سوشل میڈیا ٹیمیں‌ جن کوجماعت وظائف دیتی ہے وہ سب ڈنگ ٹپاوکے مشن پرلگے ہوئے ہیں وہ جو کام کررہے ہیں اس کی اتنی ضرورت یا اہمیت نہیں جووقت اور حالات کے مطابق ہونی چاہیے تھی

    بھائی صاحب اگرآپ مجھے یہ ذمہ داری سونپ دیں کہ میں ایک ایسا میڈیا نیٹ ورک ڈیزائن کروں جس کے ذریعے
    سیاسی،معاشی، اقتصادی ،معاشرتی ،دینی اورجہادی مفادات ایک ہی پلیٹ فارم سےحاصل کرکےجماعت کوبہترسے بہتراندازسے فعال کرسکوں اور پاکستان کی صف اول کی جماعت کےطورپرسامنے لاسکوں، اس پلیٹ فارم کے ذریعے ملکی سیاست کے دھارے بدلے جاسکتے ہیں،اس پلیٹ فارم کے ذریعےعالمی میڈیا اورپاکستان اوراسلام کے خلاف سازشوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے

    الحمدللہ میں یہ سب کچھ کرسکتا ہوں‌
    ایک نیٹ ورک،پلیٹ فارم اور نیوزایجنسی یا میڈیا سسٹم ڈیزائن کروں‌ گا
    پاکستان بھرکےچپےچپےمیں کارکن موجود ہیں،ان کو اس نیٹ ورک سےمنسلک کیا جائےگا
    تازہ اور بریکنگ نیوز،حقیقت پر مبنی حقائق اورملکی صورت حال سے واقفیت
    پاکستانی میڈیا کو تو چند مہینوں مین بیک فُٹ پرکردکھاوں گا ، عالمی میڈیا بی بی سی ، سی این این جیسے اداروں کو بھی مات کرتے دکھاوں گا
    پھراس نیٹ ورک کےذریعے جو قیادت ڈیزائن اورہدف دے گی وہ اللہ کے فضل وکرم سے پورا کرکے دکھاوں گا
    پاکستان بھر کے بااثر،سیاسی،معاشرتی اورسماجی شخصیات سے بہترنیٹ ورکنگ اور قیادت سے بہترورکنگ ریلیشن شپ ترتیب دوں گا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ وقت اورحالات کے تقاضوں‌ کے مطابق ادارے کا استعمال کیا جائے گا
    جب بی بی سی اورعالمی ادارے آپ کے ڈیزائن کردہ ادارے پرانحصار کریں گے توآپ پاکستان میں بھرپوراور فعال کردار ادا کرسکیں گے

  • نوجوان شاہ رخ کے قتل میں ملوث ہلاک ملزم کا کرمنل ریکارڈ سامنے آگیا

    نوجوان شاہ رخ کے قتل میں ملوث ہلاک ملزم کا کرمنل ریکارڈ سامنے آگیا

    کشمیر روڈ پر نوجوان شاہ رخ کے مبینہ قتل میں ملوث ہلاک ملزم فرزندعلی ناجائر اسلحہ رکھنے ، ڈکیتی اور منشیات فروشی میں ملوث نکلا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کشمیر روڈ پر نوجوان شاہ رخ کے قتل میں ملوث ہلاک ملزم فرزند علی کا کرمنل ریکارڈ سامنے آگیا، ملزم فرزند ناجائر اسلحہ رکھنے،ڈکیتی اور منشیات فروشی میں ملوث نکلا۔

    ایس ایس پی عارف عزیز نے بتایا کہ ہلاک ملزم فرزند 3بار جیل بھی جا چکا ہے، اس پر بلال کالونی میں 2 اور بہادرآبامیں بھی 2 مقدمات درج ہیں۔

    پولیس اہلکار اسلحہ منشیات اور ڈکیتی کے مقدمات میں 2017 اور 2019 گرفتار ہوا تھا، ملزم فرزند کو بہادر آباد اور بلال کالونی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

    عارف عزیز کا کہنا تھا کہ ہلاک ملزم پولیس کا اہلکار تھا اور انویسٹی گیشن ویسٹ زون میں تعینات تھا۔

    یاد رہے گذشتہ روز کشمیرروڈ پر نوجوان شاہ رخ کے مبینہ قاتل نے خودکشی کرلی تھی ، رات گئے پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گرفتاری کیلئے جانے والی پولیس کی ٹیم کو دیکھ ملزم نے خود کو گولی مار لی۔

    خیال رہے گزشتہ ہفتے کراچی کے علاقے کشمیر روڈ پر ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان شاہ رخ کو ماں اور بہن کے سامنے گولی ماری گئی تھی۔

  • دھرنے کے اٹھارہ دن/شہری وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی تیاری کریں ،ْ حافظ نعیم الرحمن

    دھرنے کے اٹھارہ دن/شہری وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی تیاری کریں ،ْ حافظ نعیم الرحمن

    کراچی : جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے جاری دھرنے کے بارہویں روز دھرنو ں میں عوامی شرکت اور جوش و خروش میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ،شہر بھر سے بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی ۔شہر بھر سے سے آنے والے وفود ،تاجر تنظیموں و ایسوسی ایشنز کے عہدیداران ودیگر وفود نے بھی شرکت کی اور دھرنے کے شرکاء سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔
    دھرنے سے نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، سکریٹری کراچی منعم ظفر خان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے اٹھارہویں روز دھرنے اور شرکاء میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیو ایم بار بار حکومت کا حصہ رہی لیکن اس نے ہر دور میں کراچی کے عوام کا استحصال کیا ،اس جماعت کے حکومت میں رہنے کے باوجود اس شہر نے پیچھے کی طرف سفر کیا ہے،شہرکا بہت نقصان ہوا،شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات مسلسل چھینی جارہی ہیں،ہمارا دھرنا کراچی کے تین کروڑ عوام کی توانا آواز بن چکا ہے جبکہ باقی جماعتوں نے احتجاج کے لیے دو دو ماہ کی تاریخ دے کر جان چھڑالی ہے ،جماعت اسلامی کے ضلعی سطح پر کارکنان اور عوام بڑی تعداد میں شریک ہوررہے ہیں ،جمعرات 20جنوری کو حسن اسکوائر پر خواتین کا عظیم الشان احتجاج اور دھرنا ہوگا ،کراچی کے اہم اور اسٹریٹجکٹ پوائنٹ پر دھرنا دیں گے اور مائیں ،بہنیں ،بیٹیاں بھی دھرنا دیں گی اوراپنا حق مانگیںگی، ایک ہفتے میں پورے شہر میں دوہزار کارنر میٹنگز کریں گے، حق دو کراچی کی صدا ہر گلی کوچے ،محلے اور ہر گھر سے نکلے گی ، جدوجہد آگے بڑھے گی ،مطالبات کی منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس بھی جاسکتے ہیںشہری تیاری کریں ،بلدیاتی بل کا مسئلہ حل کروانے کے بعد گورنر ہاؤس کا رخ کریں گے۔
    کل پورے صوبے میں احتجاج ہوئے ہیں۔اس شہر میں جماعت اسلامی کی طویل خدمات اور اسٹیک ہے۔جماعت اسلامی نے اس شہر میں کم بیک کر لیا ہے۔ دھرنے کے اٹھارہویں روزطالبات کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک ہوئی ہیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروارہی ہیں ،اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری تھی کہ کالے بلدیاتی قانون کے خلاف زبردست احتجاج کرتے اور سندھ حکومت اسمبلی میں ہی بل واپس لینے پر مجبور کردیتے لیکن آج یہ جماعتیں مشترکہ رسمی احتجاج کرکے مظلوم بننے کی کوشش کررہی ہیں ۔
    امیرجماعت اسلامی کراچی نے کہاکہ ساڑھے تین کروڑ زائد شہریوں کے لیے کراچی میں کوئی مؤثر ٹرانسپورٹ کا نظام تک موجود نہیں ہے ،وفاقی وصوبائی حکومتوں نے کراچی کو مکمل نظر انداز کیا ہوا ہے ، وفاق کے تحت گرین لائن منصوبہ جسے 2017میں مکمل ہونا تھا لیکن 2018میں شروع ہونے والاپروجیکٹ آج تک مکمل نہیں ہوسکا،اور دوسری جانب سندھ حکومت نے 6سال میں اورنج لائن کا منصوبہ مکمل نہیں کیا ،صوبائی حکومت بار بار اعلانات تو کرتی رہی لیکن عملاً کراچی کو ایک بھی سرکاری بس نہیں دے سکی ۔
    سرکلر ریلوے آج بھی بند پڑی ہے۔انہوں نے کہاکہ تعلیم کیلئے 277 ارب روپے اور صحت کیلئے 150 ارب روپے مختص کئے گئے لیکن 40فیصد سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں اعلی تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ پورے سندھ میں صرف 2سرکاری یونیورسٹیاںہیں،ہر سال 50 ہزار طالبعلم انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دیتے ہیں جبکہ صرف16 ہزار طالبعلموں کو ہی یونیورسٹیز میں داخلہ ملتا ہے ،ہر بدلتے دن کے ساتھ کراچی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔
    ہم کہتے ہیں کہ اگر اس شہر کو محروم کرو گے تو پورا پاکستان محروم ہو گا ۔

  • سرگودھا : تھانہ پھلروان پولیس کی ناجاٸز اسلحہ رکھنے والوں کیخلاف کارواٸی ۔

    سرگودھا : تھانہ پھلروان پولیس کی ناجاٸز اسلحہ رکھنے والوں کیخلاف کارواٸی ۔

    سرگودھا ۔ تھانہ پھلروان پولیس کی کارواٸی ۔ ناجاٸز اسلحہ رکھنے والے پانچ ملزمان گرفتار ۔ 3 کلاشنکوف ، پسٹل 9MM ، بندوق 12 بور اور سینکڑوں گولیاں برآمد ۔

    ڈی پی او سرگودھا ڈاکٹر رضوان احمد خان کی ہدایت پر ناجاٸز اسلحہ رکھنے والوں کیخلاف کارواٸی کرتے ہوٸے ایس ایچ او تھانہ پھلروان انسپکٹر چوہدری عبدالمجید جٹ نے سب انسپکٹر محمد اقبال گوندل و دیگر ملازمان پر مشتمل ٹیم کے ہمراہ علاقہ میں ریڈ کر کے نثار احمد سے کلاشنکوف معہ 240 گولیاں و 6 میگزین ، ابوبکر سے کلاشنکوف معہ 240 گولیاں سمیت کپہ و 6 میگزین ، ظہور سے کلاشنکوف معہ 190 گولیاں و 6 میگزین ، حارث سے پسٹل 9 ایم ایم معہ 20 گولیاں و ایک میگزین اور نذیر سے بندوق 12 بور برآمد کر کے ملزمان کیخلاف ناجاٸز اسلحہ رکھنے کی دفعات کےتحت مقدمہ درج کر لیا ۔ ایس ایچ او تھانہ پھلروان انسپکٹر عبدالمجید جٹ کی اس کارواٸی پر عوامی سماجی حلقوں نے تھانہ پھلروان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا ۔

  • سرگودھا : تحصیل انتظامیہ کا قبضہ مافیا کیخلاف کریک ڈاٶن کا سلسلہ جاری ۔

    سرگودھا : تحصیل انتظامیہ کا قبضہ مافیا کیخلاف کریک ڈاٶن کا سلسلہ جاری ۔

    سرگودھا تحصیل انتظامیہ کا قبضہ مافیا کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری فاطمہ جناح روڈ پر اسسٹنٹ کمشنر شوکت عظیم کا ٹیم کے ہمراہ کاروائی کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کروا لی
    Vo
    پنجاب حکومت کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر شوکت عظیم نے فاطمہ جناح روڑ پر کاروائی کرتے ہوئے سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی غیر قانونی دکانیں مسمار کر دیں، قابضین نے 6 مرلہ سرکاری اراضی پر عرصہ دراز سے دکانیں قائم کر رکھی تھی آپریشن کے دوران ہیوی مشینری بھی استعمال کی گئی اور دکانیں مسمار کی گئیں اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر شوکت عظیم کا کہنا تھا کہ قبضہ سے واگزار کروائی گئی اراضی کی مالیت 3 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے، قابضین سے تاوان بھی وصول کیا جائے گا،اور قبضہ مافیا کے خلاف بلا تفریق کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا

  • وزیراعلیٰ ہاؤس کے بعد گورنر ہاؤس بھی جائیں گے، حافظ نعیم الرحمان

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے بعد گورنر ہاؤس بھی جائیں گے، حافظ نعیم الرحمان

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے بعد گورنر ہاؤس بھی جائیں گے، حافظ نعیم الرحمان
    .جماعت اسلامی کراچی کے تحت نئے بلدیاتی قانون کے خلاف اٹھارویں روز بھی دھرنا جاری ہے

    جماعت اسلامی کراچی کی امیر نے پریس کانفرنس کی، پریس کانفرس میں امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ آج خواتین آئی ہیں اور سیکنڑوں طالبات آئی ہیں۔مختلف جماعتوں کے افراد اس دھرنے میں شریک ہورہے ہیں۔یہ دھرنا اب کراچی کی توانا آواز ہے۔باقیوں نے دو دو ماہ کی تاریخیں دے دیں۔اس وقت کی اپوزیشن کی ایم کیو ایم بھی ہے وہ وفاق میں بھی حصہ دار رہی یے۔اس جماعت کے حکومت میں رہنے کے باوجود اس شہر نے پیچھے کی طرف سفر کیا ہے۔ہماری قوم کا بہت نقصان ہوگیا۔شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات چھنتی جارہی ہیں۔گرین لائن کا بھی ادھوا افتتاح ہوا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم کا مزید کہنا تھا کہ روز بروز جوش دھرنے کا بڑھتا جارہا ہے جماعت اسلامی کے ڈسٹرکٹ سطح پر کارکنان اور عوام بڑی تعداد میں شریک ہوررہے ہیں۔ جن کی ذمہ داری تھی احتجاج، ان جماعتوں نے مشترکہ احتجاج کردیا۔اگلے احتجاج کی کال بھی مہینوں کے بعد کی دی۔ایم کیو ایم بار بار حکومت کا حصہ رہی لیکن شہر کی خدمت نہیں کی گئی۔شہر بنیادی سہولتوں سے محروم رہا ہے۔شہر میں کوئی ٹرانسپورٹ سروس نہیں ہے گرین لائن کو بھی ادھورا شروع کیا گیا صوبائی حکومت بار بار اعلان کرتی ہے لیکن ایک بس نہیں دے سکی 50 ہزار طالبعلم انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دیتے ہیں آگئے تعلیم کے لئیے 16 ہزار طالبعلموں کو موقع ملتا ہےتعلیم پر 277 ارب روپے تعلیم پر اور صحت 150 ارب سے زائد کا بجٹ پیش ہوتا ہے۔اتنا بڑا بجٹ کہا جاتا ہے کچھ نہیں پتا شہر کراچی میگا سٹی ہے۔اتنی بڑی آبادی والا شہر، اتنا زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کو اس کا حق نہیں دیا جارہا۔ہم چاہتے ہیں اس شہر کا حق اس کو دیا جائے اس شہر میں سرکاری ٹرانسپورٹ سروس مہیا کی جائے۔شہر کے تعلیم اور صحت کا نظام بہتر کیا جائے۔حکومت کراچی کے لئیے کچھ نہیں کررہی۔صوباٸی حکومت ترقی کے لئیے کچھ نہیں کررہی۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے مردم شماری میں کراچی کا حق مارا ہے۔شہر کو حق ہے کہ اس کو ٹرانسپورٹ کا نظام ملے۔سرکلر ریلوے بند پڑی ہے ۔وفاقی اور صوبائی حکومت کے رویوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔دونوں نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ایک مرتبہ پھر شب خون مارا جارہا ہے وڈیرے تو اپنی مقامی آبادی کو پیس کر یہاں کھڑے ہوئے ہیں۔ہر بدلتے دن کے ساتھ کراچی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔کراچی ایک زبان بولنے والے کا شہر نہیں ہے ۔اگر اس شہر کو محروم کرو گے تو پورے پاکستان کو محروم کرو گے۔ایک ہفتے بعد بڑا مارچ کریں گے۔ہماری نظر پر سی ایم ہاؤس ہے۔ہم شہر میں مختلف شاہراہوں پر دھرنے دیں گے۔ہمارے پاس دونوں آپشن ہیں۔آج مزاکرات ہونے ہیں لیکن ہم با مقصد مزاکرات چاہتے ہیں۔پورے صوبے میں کل احتجاج ہوئے ہیں۔یہ ہمارے جتنے لوگ لاکر دیکھا دیں۔اس شہر میں جماعت اسلامی بکا اسٹیک ہے جماعت اسلامی نے اس شہر میں کم بیک کر لیا ہے۔اس وقت ہم ایشو پر بات کررہے ہیں۔سیٹیں کم زیادہ ہونے کی بات نہیں کررہے ہیں پیپلز پارٹی والے گورنر ہاؤس جانے بات کرتے ہیں۔کراچی کا بل کا مسئلہ حل ہونے کے بعد گورنر ہاؤس کا رخ کریں گے ۔پیپلز پارٹی عقلمند ہے تو مسئلہ کو حل کرے۔

  • سندھ میں زرداری مافیا کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے

    سندھ میں زرداری مافیا کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے

    صدر پی ٹی آئی سندھ و وفاقی وزیر علی زیدی کی سابق وزیر اعلی سندھ و پی ٹی آئی رہنما غوث علی شاہ سے کراچی میں ملاقات،ملاقات میں پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری مبین جتوئی بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں سندھ کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ،علی زیدی نے غوث علی شاہ کو گھوٹکی سے کراچی مارچ کے حوالے سے تفصیلات بتائیں۔

    سابق وزیر اعلی غوث علی شاہ نے مارچ کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا،سندھ میں زرداری مافیا کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے، علی زیدی کا کہنا تھا 27 فروری کو ہر صورت گھوٹکی سے کراچی مارچ کریں گے، یہ مارچ سندھ کے نا اہل حکمرانوں کے ایوانوں میں ہلچل مچا دے گے۔

    اُنکا کہنا تھا کہ کالے بلدیاتی قانون کے خاتمے تک یہ تحریک جاری رہے گی، پی ٹی آئی کی پوری قیادت اس تحریک میں ایک پیج پر ہے،سندھ حکومت کے کالے قانون کے خلاف ہر آپشن استعمال کریں گے۔

    ہماری جدوجہد سندھ کی غریب عوام کے لیے ہے،سندھ سے زرداری مافیا کے خاتمے تک سندھ کی ترقی ممکن نہیں۔

  • کرونا کے وار تیزی سے جاری، سندھ حکومت کے وزرا سمیت کئی اہم شخصیات بھی لپیٹ میں آگئے

    کرونا کے وار تیزی سے جاری، سندھ حکومت کے وزرا سمیت کئی اہم شخصیات بھی لپیٹ میں آگئے

    کراچی سمیت سندھ بھر میں کرونا کے وار تیزی سے جاری ہے، سندھ حکومت کے وزرا سمیت کئی اہم شخصیات بھی لپیٹ میں آگئے ہیں۔

    صوبائی وزیر جام خان شورو کرونا میں مبتلاہوگئے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کےمعاون خصوصی صغیر قریشی کی بھی کرونا رپورٹ مثبت آئی ہے۔

    ادھر حیدرآباد کے ڈپٹی کمشنر فواد غفار سومرو کی بھی کرونا رپورٹ مثبت آگئی ہے، کرونا وائرس کی رپورٹ آنے پر صوبائی وزیر، معاون خصوصی اور ڈی سی نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے۔

    ڈی ایچ او حیدر آباد کے مطابق شہر میں کرونا کے مثبت آنے کی شرح 10 فیصد ہوگئی ہے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 128 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔