Baaghi TV

Author: +9251

  • فلسطینیوں کے لیے 50 ہزار قرآن کے نُسخے:تحفہ کس نے بھیجا؟اہم خبرآگئی

    فلسطینیوں کے لیے 50 ہزار قرآن کے نُسخے:تحفہ کس نے بھیجا؟اہم خبرآگئی

    ترکی کی ایک خیراتی سوسائٹی نے قرآن پاک کے 50 ہزار نسخے فلسطین کی مساجد اور قرآنی مراکز میں تقسیم کیے جانے کے لیے عطیہ کیے ہیں۔

    غزہ کی پٹی میں کام کرنے والی غازی ڈیسک سوسائٹی نے اتوار کے روز غزہ کی اوقاف اور مذہبی امور کی وزارت کو قرآن پاک کے 20,000 نسخے حوالے کیے، انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

    سوسائٹی کے ایک اہلکار ہانی تھرایا نے کہا کہ یہ "قرآن کو میرا تحفہ ہونے دو” کے منصوبے کا حصہ ہے جو ترکی کے مذہبی اوقاف انسٹی ٹیوٹ کی نگرانی میں نافذ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کے ایک حصے کے طور پر مغربی کنارے اور یروشلم القدس میں مقدس کتاب کے مزید 30,000 نسخے حوالے کیے جائیں گے۔

    غزہ کی اوقاف کی وزارت کے ایک نائب، عبدالہادی الآغا نے کہا کہ یہ اقدام نوبل قرآن کے ساتھ لوگوں کے تعلق کو بڑھانے کے فریم ورک کے اندر آتا ہے۔انہوں نے عطیات پر ترکی کے مذہبی اوقاف انسٹی ٹیوٹ اور غازی ڈیسک سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان قران کے ان نُسخوں پر "مسجد اقصیٰ قرآن” کا نام ہے اور جب کہ ان کے پچھلے سرورق پر مہم کا نعرہ "قرآن کو میرا تحفہ ہونے دو” پرنٹ کیا گیا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ غازی ڈیسک سوسائٹی، جو انسانی ہمدردی کے کاموں میں مہارت رکھتی ہے، غزہ کی پٹی میں 2017 سے کام کر رہی ہے۔

  • ایک اور این آر او آگیا :جعلی ڈگری پر بھرتی کرنیوالے (ر) افسران کیخلاف کارروائی نہیں ہو سکتی

    ایک اور این آر او آگیا :جعلی ڈگری پر بھرتی کرنیوالے (ر) افسران کیخلاف کارروائی نہیں ہو سکتی

    اسلام آباد:ایک اور این آر او آگیا :جعلی ڈگری پر بھرتی کرنیوالے (ر) افسران کیخلاف کارروائی نہیں ہو سکتی ،اطلاعات کے مطابق سول ایوی ایشن ڈویژن نے ایوان بالا (سینیٹ) کو آگاہ کیا ہے کہ جعلی ڈگری پہ ملازمین کو بھرتی کرنے والے ریٹائرڈ افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ بات سول ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے سینیٹ کے وقفہ سوالات میں تحریری جواب کے ذریعے بتائی گئی ہے۔

    سینیٹ کے وقفہ سواالات میں سول ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے جمع کرائے جانے والے تحریری جواب میں ایوان بالا کو بتایا گیا کہ اب تک جعلی تعلیمی ڈگریوں پر 819 ملازمین کو ملازمتوں سے نکالا جا چکا ہے اور یہ کیسز ایف آئی اے کے سپرد کیے گئے ہیں۔ تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ جعلی ڈگری پر پی آئی اے کے 21 ملازمن کے کیسز پر کارروائی تاحال چل رہی ہے۔

    سول ایوی ایشن ڈویژن نے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا ہے کہ جعلی ڈگری والے ملازمین کو بھرتی کرنے والے افسران ملازمتوں سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

    اس ضمن میں سول ایوی ایشن ڈویژن نے وضاحت کی ہے کہ پی آئی اے قوانین کے تحت ان افسران کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ جن افسران نے پی آئی اےمیں جعلی ڈگریوں پر ملازمین بھرتی کیے ان کے خلاف تو کرمنل کارروائی بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے بتایا گیا تھا کہ جعلی ڈگری پر 1500 ملازمین کو نکالا گیا ہے۔

  • دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    ماسکو :دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا ،اطلاعات ہیں‌ کہ یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلی سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے،

    دوسری طرف معتبر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگریہ معاملات درست نہ ہوئے تو روس اورامریکہ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں جس کا نتیجہ دنیا کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ،امریکہ اور روس کو معاملات بہم رضامندی سے حل کرنے چاہیں

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف اپنے وفد کے ہمراہ جنیوا میں قائم امریکی سفارتی مشن کے دفتر پہنچے جہاں ان کے امریکی نائب وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا۔

    نیٹو کے سربراہ نے اپنے حالیہ بیان میں روس کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسے یوکرائن پر حملے کی صورت میں سنگین قیمت چکانی پڑے گی۔

    روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے یوکرین کو نیٹو کی ممبرشپ نہ دینے کی ضمانت نہیں دی، روس کو مضبوط ضمانت چاہیے کہ یوکرین کو کبھی نیٹو کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جبکہ روس یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ روس12 اور13 جنوری کو نیٹو اور او ایس سی ای کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد سلامتی کی ضمانتوں پر مزید اقدامات پر غور کرے گا۔

  • ایک طرف میاں نوازشریف کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست تودوسری طرف بشیرمیمن پھربول پڑے

    ایک طرف میاں نوازشریف کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست تودوسری طرف بشیرمیمن پھربول پڑے

    لاہور: ایک طرف میاں نوازشریف کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست تودوسری طرف بشیرمیمن پھربول پڑے،اطلاعات کے مطابق سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے شریف خاندان کے خلاف کیسز کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں، بشیر میمن کا کہنا ہے کہ ان سے شریف خاندان کے خلاف کیسز بنانے کا کہا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق ایک بار پھر سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا ہے کہ مجھے متعدد بار مریم، نواز شریف اور شہباز کے خلاف کیسز کا کہا گیا، میں نے جو الزامات لگائے تھے ان کی انکوائری کی بجائے مجھ ہی پر الزامات لگا دیے گئے۔

    سابق ڈی جی ایف آئی اے نے یہ الزامات اس وقت دہرائے جب نوازشریف کو عدالتی فائدہ پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں‌اور میاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے

    سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ لاہور میں منی لانڈرنگ کا کیس چل رہا ہے یہ فائل بھی میرے پاس آئی تھی، فائل دیکھ کر کہہ دیا تھا کہ یہ کیس نہیں بنتا، اس کیس سے متعلق ایسی باتیں مجھے معلوم ہیں جو میں نہیں بتانا چاہتا۔

    انھوں نے انکشاف کیا عرب شیخ میرے گھر چائے پینے آئے تھے، عرب شیخ کی کل وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات طے ہے، ایک تصویر کو مجھ سے منسوب کر کے ٹرولنگ کی جا رہی ہے، میں انکشاف کرتا ہوں کہ وہی شخص 50 ملین ڈالر کی انوسٹمنٹ لے کر آیا ہے، بشیر میمن نے بتایا کہ عرب شیخ کی تصویر فیصل واوڈا، عمر ایوب اور دیگر کئی لوگوں کے ساتھ بھی ہے۔

    بشیر میمن کے مطابق یہ لوگ پاکستان کا مذاق بنا رہے ہیں، ان کے ایک بیان سے پی آئی اے کو 2 ارب روپے کا نقصان ہوا، یہ پاکستان کو عالمی تنزلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، میں پاکستانی ہوں میں جو ٹھیک سمجھوں گا وہ بولوں گا۔

    انھوں نے کہا وزیر اعظم نے متعدد بار کے الیکٹرک کے عارف نقوی کے لیے کہا، عارف نقوی پر اپنے مؤقف سے میں نہیں ہٹا، اب ثابت ہو چکا ہے کہ دبئی سے 2.1 ملین ڈالر آئے۔

    بشیر میمن نے کہا ٹھیک آدھے گھنٹے بعد میرے بیان پر ٹرولنگ شروع ہو جائے گی، وہ بیچارے تنخواہ لیتے ہیں، لیکن خدا کا واسطہ ہے بطور ادارہ ایف آئی اے اپنا مذاق نہ بنوائے، یہ ایف آئی اے کو سیاسی تنظیم بنانے جا رہے ہیں۔

  • پولیس نےتحقیقات شروع کردیں:بورس جانسن مشکل میں پھنس گئے

    پولیس نےتحقیقات شروع کردیں:بورس جانسن مشکل میں پھنس گئے

    لندن:پولیس نےتحقیقات شروع کردیں:بورس جانسن مشکل میں پھنس گئے ،اطلاعات کے مطابق بورس جانسن اس وقت سخت مشکل میں ہیں،بورس جانسن کے پرائیویٹ سیکرٹری اس وقت پولیس کی گرفت میں‌ آنے والے اور بورس جانسن کے متعلق خاص خاص اہم ایشوز کے حوالے سے جوباتیں افشاں کرچکے تھے اب اسے پولیس کی تحقیقات کے خطرے کا سامنا ہے

    اس حوالے سے یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ بورس جانسن کے پرائیویٹ سیکرٹری نے پہلے لاک ڈاؤن کے دوران 100افراد کو ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ‘BYOB’ میں مدعو کیا تھا

    یاد رہے کہ پچھلے سال 20 مئی 2020 کوبورس جانسن کے حوالے سے پرائیویٹ سیکرٹری نے یہ خبربریک کی تھی کہ وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ اکٹھ کیا تھا

    دوسری طرف یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ اس تقریب سے متعلق ای میل بورس جانسن کے لیے بدنامی اور بیڈ گورننس کا سبب بنی تھی ،ان خبروں کے بعد یہ بھی کہا جارہا تھا کہ بورس جانسن کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیں اور پھرآج وہ دن بھی بورس جانسن نے دیکھ لیا جب لندن پولیس نے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے

    یہ کہا جارہا ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب اس وقت صرف دو افراد کو باہر سماجی رابطے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ انگلینڈ کے کوویڈ کی روک تھام کے تحت کم از کم دو میٹر کے فاصلے پر۔ ‘ضروری کام کے مقاصد’ کے لیے ایک چھوٹ تھی،

    یہ بھی ایک پریشانی کی بات ہے کہ جب کل بورس جانسن اپنے حلقے میں انتخابی مہم کے سلسلے میں پہنچے تو لوگوں نے سوال کیا کہ جناب کیا ایس او پیز صرف ہمارے لیے ہی ہیں‌، لوگوں نےیہ بھی سوالات کئے کہ بورس جانسن کی اہلیہ کیری اور 30-40 عملے کے ساتھ اس اجتماع میں شریک ہوئے جنہوں نے مشروبات، کرسپس اور ساسیج رولز پر کھانا کھایا –

    اب پولیس انہیں الزامات کی تحقیقات کرنے جارہی ہے اور یہ امکان ہے کہ بورس جانسن کو خفگی اٹھانا پڑسکتی ہے

    دوسری طرف بورس جانسن کے وکلاء نے مشورہ دیا ہے کہ وزیر اعظم نے اس وقت قانون نہیں توڑا تھا ،کیونکہ یہ بورس جانسن نے کورونا سے بچاو کے حوالے سے ہی کیا تھا جو کہ ان کا استحقاق تھا

    وزیراعظم کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ہاوس آف کامنز میں ایک فوری سوال کرنے کی اجازت دی گئی ہے – حالانکہ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم ذاتی طور پر جواب نہیں دیں گے۔

    وزیر صحت ایڈورڈ آرگر نے آج صبح انٹرویو کے ایک دور میں کہا کہ وہ ان الزامات پر عوام کے ‘غصے’ کو سمجھتے ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ وہ ذاتی طور پر مئی 2020 میں کسی بھی مجلس میں موجود نہیں تھے البتہ زوم کے ذریعے لنک تھے جو کہ درست ہے

    دوسری طرف سکاٹ لینڈ یارڈ نے تصدیق کی ہے کہ وہ وزیراعظم کی طرف سے دی گئی ضیافت کے پروگرام کی رپورٹس پر اب ‘کیبنٹ آفس سے رابطے میں ہیں’۔ دوسری طرف یہ بھی سُننے کو مل رہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کر رہی ہے کہ آیا مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں

    میٹ کے ترجمان نے کہا: ‘میٹرو پولیٹن پولیس سروس 20 مئی 2020 کو ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ہیلتھ پروٹیکشن ریگولیشنز کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق وسیع پیمانے پر رپورٹنگ سے آگاہ ہے اور کیبنٹ آفس سے رابطے میں ہے۔’اور اگریہ ثابت ہوگیا کہ بورس جانسن نے غلط بیانی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کی ہے توبورس کا اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑسکتا ہے

  • بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان    نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    نئی دلی :بھارت :پولیس کی موجودگی میں ہندتوا بلوائیوں کا مسلمان نوجوانوں پر حملہ ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا کے ضلع کولار میں پولیس کی موجودگی میں لاٹھیوں اور سلاخوں سے مسلح ہندوتوا بلوائیوں کے حملے میں چھ مسلمان شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے کولار اسٹیشن میں واقعے کے سلسلے میں تین مقدمات درج کیے ہیںجن میں سے دو ہندوئوں اور ایک مسلمانوں کے خلاف درج کیاگیا ہے ۔زخمی ہونے والے پانچ مسلمان ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تین خواتین اور دو مردوں پر مشتمل ایک مسلمان خاندان صوفی بزرگ حضرت خواجہ عثمان شا ولی کی درگاہ پر حاضری کے بعد واپس جارہے تھے کہ جب تراہلی گائوں کے قریب ہندو توا بلوائیوں نے ان سے بدتمیزی کی اور مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کئے ۔

    واقعے کے بعد پولیس نے مسلمانوں کے ایک گروپ کے ہمراہ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ لیکن جیسے ہی وہ جائے وقوعہ پر پہنچے توحملہ آور جنگل میں فرار ہو گئے ۔جنگل میں ان کا تعاقب کرنے پر لاٹھیوں اور سلاخیوں سے لیس مرد و خواتین کے ایک بڑے گروپ نے انہیں گھیرے میں لیکر حملہ کر دیا جس سے چھ مسلمان افراد زخمی ہو گئے ۔

    ادھر کل وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں ہندوتوا شدت پسندوں کے ایک اجتماع میں اقلیتوں خصوصاً 20 کروڑ مسلمانوں کے قتل عام کیلئے اپیل کی گئی تھی۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے قتل عام کے لیے کی گئی اپیل پر مودی سرکار کی خاموشی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

     

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کے یہ شدت پسندانہ عزائم ہمارے علاقائی امن کیلئے حقیقی خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وقت کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔

  • لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    نیوجرسی:لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور اطلاعات کے مطابق امریکہ کی شمال مشرقی ریاست نیو جرسی کی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک مذمتی قرارداد میں بھارت کی طرف سے 1984میں سکھوں کے قتل عام کو نسل کشیُ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر اور دیگر حکام سے اس سلسلے میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سینیٹر سٹیفن ایم سوینی کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ بھارتی پنجاب کی سکھ برادری نے جس کے ارکان سو برس قبل ہجرت کر کے امریکہ آگئے امریکہ اور نیو جرسی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سکھوں کی نسل کشی یکم نومبر 1984کو نئی دلی میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، ہماچل پردیش، راجستھان، اڑیسہ، جموں و کشمیر، چھتیس گڑھ، تریپورہ، تامل ناڈو، گجرات، آندھرا پردیش، کیرالہ، اور مہاراشٹرریاستوں میں شروع ہو ئی۔

    قرارداد میں سکھ مذہب کو دنیا کا پانچواں بڑا مذہب قرار دیا گیا ہے جس کے دنیا بھر میں تقریبا تیس کروڑ نوے لاکھ ماننے والے ہیں جن میں سے دس لاکھ امریکہ میں مقیم ہیں۔قرارداد کے مطابق تین دن تک جاری رہنے والی سکھوں کی نسل کشی میں تیس ہزار سے زائد سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔قرارداد میں16اپریل 2015کو کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قراردادکا حوالہ دیاگیا ہے جس میں بھارتی حکومت کی طرف سے سکھوں کے منظم قتل عام کا اعتراف کیا گیاہے۔

    قرارداد میں 1984کے سکھ نسل کشی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔17اکتوبر 2018کو پنسلوانیا کی دولت مشترکہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد HR-1160منظور کی جس میں نومبر 1984میںسکھوںپر ظلم و تشدد کو نسل کشی ُ قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ عینی شاہدین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار براہ راست اور بالواسطہ طریقوں سے سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے اور وہ یہ سلسلہ بند کرانے میں ناکام رہے۔2011میں بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقوں ہوند چلر اور پٹودی کے دیہات میں اجتماعی قبریںدریافت ہوئی ہیں۔

    نئی دہلی کے تلک وہار محلے کی "بیوہ کالونی” میں آ بھی ہزاروں سکھ خواتین انصاف کی منتظر ہیںجن کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور ان کے شوہر، والد اور بیٹوں کو قتل کردیا۔سکھوں کے قتل عام میں زندہ بچ جانیوالی آخر کار ہجرت کر کے امریکہ چلے گئے اور انہوں نے فریسنو، یوبا سٹی، سٹاکٹن، فریمونٹ، گلینروک، پائن ہل، کارٹریٹ، نیو یارک سٹی اور فلاڈیلفیا میں سکونت اختیار کی اور بڑی سکھ برادریاں قائم کیں۔

    1984میں پورے بھارت میں ریاستی سرپرستی میں سکھوں پر وحشیانہ ظلم و تشدد اور انکے قتل عام کا اعتراف ، انصاف اور احتساب کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم ہے، جودیگر ممالک کی حکومتوں کیلئے ایک مثال بھی ہے ۔ریاست نیو جرسی کی سینیٹ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

  • بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    نئی دلی :بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق
    ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں مہلک کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے تہاڑ جیل سمیت نئی دلی کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے علاوہ چار سو کے قریب بھارتی اراکین پارلیمنٹ اور دلی پولیس کے تین سو اہلکار مہلک کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جیل حکام کے اعدادو شمار کے مطابق نئی دلی کی تہاڑ جیل میں 29جبکہ منڈولی جیل کے 17قیدی بھی کورونا وائر س میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ نئی دلی کی تینوں جیلوں میں موجود قیدیوں کی مجموعی تعداد سات جنوری تک 18ہزار528تھی جن میں سے سب سے زیادہ 12ہزار 669قیدی تہاڑ ،4ہزار18منڈولی اور ایک ہزار841روہنی جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ نئی دلی کی جیلوں میں قیدیوں کورونا وائرس کے تیزی سے مبتلا ہونے کی وجہ سے کشمیری سیاسی نظربندوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اس وقت کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز محمداکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، انجینئر رشید اور کشمیری تاجر ظہور احمد وتالی تہاڑ، جودھ پور، آگرہ، ہریانہ اور بھارت کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں اوران کے مہلک وائر س میں مبتلا ہونے کا شدیدخطرہ ہے ۔

    ادھر ایک تازہ واقعہ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کپواڑہ جیل میں ایک نوجوان قیدی مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 19سالہ خورشید احمد وانی ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔بھارتی جیل حکام پر اکثر جیلوں میں قیدیوں کی موت کا الزام عائد کیاجاتا ہے ۔

  • سانحہ بارہ مئی، عدالت کا وسیم اختر پر اظہار برہمی

    سانحہ بارہ مئی، عدالت کا وسیم اختر پر اظہار برہمی

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں 12 مئی سے متعلق 7 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ وسیم اختر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔

    کراچی کی اے ٹی سی میں سانحہ 12مئی کے7مقدمات کی سماعت کے موقع پر ایم کیوایم پاکستان کے رہنما وسیم اختر پیش نہ ہوسکے ان کی عدالت کے بغیر اجازت بیرون ملک جانے پرجج نے برہمی کا اظہار کیا۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے آئندہ سماعت پر ان سے وضاحت طلب کرلی، وسیم اختر کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے مؤکل کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی وسیم اختر نے انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر2سے اجازت لی ہے۔

    وکیل نے کہا کہ وسیم اختر ضروری کام سے ملک سے باہر گئے ہیں، جج نے ریمارکس دیئے کہ فاضل عدالت میں بھی مقدمات زیرسماعت ہیں، آپ نے فاضل عدالت سے اجازت نہیں لی۔

    جج نے وکیل پراظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ فاضل عدالت کی اجازت کے بغیر آپ کے مؤکل کیسے ملک سے باہر چلے گئے؟ وسیم اختر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

    کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے عدم حاضری پر ایم کیو ایم کارکن حنیف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزم حنیف کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے۔

    بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ 12 مئی سے متعلق 7 مقدمات کی سماعت اس ماہ کے آخر تک ملتوی کردی۔

  • موسم، ہم، اور حالات ،تحریر: ارم شہزادی

    موسم، ہم، اور حالات ،تحریر: ارم شہزادی

    2021 دسمبر کے وسط تک موسم میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی ہر طرف یہ چامگویئاں ہورہی تھیں کہ شاید اب سردی ویسے نا رہے جیسے چند سال پہلے تک تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ستمبر کے اینڈ سے موسم میں واضح تبدیلی محسوس ہوتی تھی۔لیکن دنیا میں مختلف نیو کلئیر تجربات، بےہنگم ٹریفک سبزہ کی کمی کی وجہ سے موسم گرما میں ناصرف شدت آئی ہے بلکہ وہ زیادہ ماہ پر محیط ہوگیا ہے۔ جو سردی کی رات ستمبر کے آخر تک محسوس ہوتی تھی وہ اب نومبر میں محسوس ہوتی ہے۔یہاں تک کہ نومبر تک پنکھے بھی چلتے ہیں۔ اس بار بھی شدت دسمبر کے آخر سے شروع ہوئی ہے لیکن بہت شدید 2022 کا آغاز شدت سردی سے شروع ہوا۔ بارشیں نا ہونے کی وجہ سے جہاں پہلے خشک سردی کا راج تھا ساتھ نزلہ، زکام، بخار کاوہیں فصلوں کو بھی نقصان ہورہا تھا جنوری کی چار سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔ دیہاتوں شہروں میں عوام کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ کسی کو فکر کہ پکوڑوں کے ساتھ بریانی بنائی جائے یا اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہوٹلوں کا رخ کیا جائے ۔گھر رہا جائے یا دوسرے شہروں خصوصا اسلام آباد جایا جائے تو کسی کو فکر کہ رات کا کھانے کا بندوبست کیا جائے؟ کیونکہ موسم کی شدت کسی بھی لحاظ سے ہو غریب کے لیے بہت مشکل لاتی ہے۔نا دیہاڑی ملتی ہے اور نا کوئی مدد کرتا ہے۔ ہم اپنے چاہ تو سارے پورے کرتے ہیں لیکن مدد کرنے کے لیے دو کام کرتے ہیں ایک تو تصاویر لگا کر انکی عزت نفس کو مجروح کرنا اور دوسرا سوشل میڈیا کا، مین سٹریم میڈیا کا اور پرنٹ میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو حکومت وقت کے مشتعل کرنا۔اس میں شک نہیں ہے کہ حکومت وقت کی زمہ داری ہے معاملات کو کنٹرول رکھنا مواقع بنانا لیکن اس کے ساتھ ساتھ بحثیت معاشرہ کا مفید رکن ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہم صرف تصاویر لگا کر یا گالیاں دے کر اپنی فرسٹریشن نکال کر بری الزمہ نہیں ہوجاتے ہیں لیکن ہم نے اپنے اس رویے پر غور ہی نہیں کیا کبھی۔ بس دیکھا دیکھی اپنی خواہشات اور اسائشات کو ضرویات بنالیا ہے۔ اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر کام کرگزرنے کو تیار رہتے ہیں۔جب کہیں ناکام ہوتے ہیں تو اسکا الزام اپنی غلطیوں کو دینے کی بجائے دوسروں کو دیتے ہیں انکے خلاف بات کرتے ہیں اور معاشرے میں انتشار کی صورتحال پیدا کردیتے ہیں۔ جبکہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں نہیں پھیلاتے ہیں۔بات ہورہی ہے موسم کی شدت اور ہمارے رویوں کی کہ کیسے ہم اللہ کے معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کردیتے ہیں اس بار کئی سالوں بعد مری میں برفباری اتنی شدید ہوئی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔مری کو ملکہ کوہسار کہاجاتا ہے۔گہرے سبزرنگ کے قدآور، گھنے اور شاداب درختوں میں گھر ی ‘ملکہ کوہسار مری’ میں ان دنوں رش بےپناہ ہے۔ ہزاروں فٹ اونچی وہ چوٹیاں جو دسمبر سے فروری تک برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔

    پنڈی سے 39 کلو میٹر دور سطح سمندر سے اسکی بلندی7500 فٹ ہے۔ پہلی تعمیر یہاں 1851 میں ہوئی تھی۔ رقبہ بہت زیادہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک وقت میں پانچ سے دس، ہزار تک گاڑیاں آسانی اور سہولت کے ساتھ آ جا سکتی ہیں مسلہ تب ہوتا ہے جب سیاح بڑی تعداد میں مری داخل ہوتے ہیں ،چونکہ زیادہ دور نا ہونے کیوجہ سے بیرونی سیاحوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک سیاحوں کی بڑی تعداد سارا سال آتی جاتی رہتی ہے خصوصاً موسم گرما کی تعطیلات اور سرما کی تعطیلات میں۔ موسم گرما میں موسم خوبصورت رہتا ہے گوکہ مشکلات ہوتی ہیں جب تعداد تجاوز، کر جائے۔ لیکن حالات کنٹرول میں رہتے ہیں مسلہ تب بنتا ہے جب موسم سرما میں برفباری میں لوگ زیادہ تعداد میں مری پہنچتے ہیں فیملی کے ساتھ۔ اور یہ تعداد ہزاروں سے لاکھوں افراد تک جب پہنچتی ہے تو نا صرف انتظامیہ کے لیے مشکل ہوتی ہے بلکہ فیمیلز کے لیے بہت مشکل حالات بن جاتے ہیں جیسا کہ ابھی ہورہا ہے۔ نارمل حالات میں بھی جب گاڑیوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرجائے تو مشکل ہوتی ہےوہاں۔ اب دس ہزار کے بجائے بجائے ایک لاکھ تک جا پہنچی ہے تو ٹریفک جام ہو گیا ہے لوگوں کو سڑکوں پر دن رات گزارنا پڑرہے ہیں اور یہ بچوں کے لیے خاص طور پر مشکل حالات ہوتے ہیں۔ اس بار برفباری شدید ہورہی ہے اور برفباری دیکھنے کے شوقین افراد نے بغیر موسمی حالات کا اندازہ کیے فیملیز سمیت اندھا دھند مری پہنچے جس برفباری کا تو پتہ نہیں انجوائے کرسکے یا نہیں لیکن حالات بہت مشکل دیکھے۔سڑکوں پر رات گزارنی پڑی، ہوٹلوں کی بکنگ نا ملی اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی میں تعطل نے بہت پریشان کیا۔ انتظامیہ کئی دن سے مسلسل منع کررہی تھی کہ مزید گنجائش نہیں ہے اور برفباری شدید ہے اس لیے مزید لوگ نا آئیں لیکن جذباتی قوم جس کام پے لگ جائے نفع نقصان سوچے بغیر دوڑ پڑتی ہے۔ اس موسمی حالات میں جہاں 18،19 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں ابھی بھی سڑکوں پر پھنسی ہوئی ہے عوام۔ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے علاقہ کو آفت زدہ کراردےدیا گیا ہے فوج بھی طلب کرلی گئی ہے۔ جو کہ ریسکیو آپریشن جاری کیے ہوئے ہیں۔ برف ہٹائی جارہی ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اپنی غلطی تسلیم کرنے بجائے عوام انتظامیہ کو ہی برا بھلا کہہ رہی ہے۔ اور مری روڈ پر الجھ رہی ہے کہ مری جانے دیا جائے جبکہ پنڈی کمیشنر نے مری روڈ جانے کے لیے بند کردیا ہے۔ یہ برفباری تو فروری کے آؤاخر تک رہنی ہے اپنی جانوں کو مشکل میں نا ڈالیں احتیاط اور صبر سے کام لیں۔ اگر عوام اس طرح بغیر سوچے سمجھے رش نا لگاتی تو شاید اتنی مشکلات نا پیش آاتیں۔ جان ہے تو جہاں ہے اپنی حفاظت کریں لوگوں کے لیے آپ محض گنتی یا تعداد ہیں لیکن اپنی فیملی کے لیے سب کچھ ہیں۔ کچھ دن ٹھہر کے پروگرام بنائیے تاکہ نا آپ مشکل میں ہوں اورناہی انتظامیہ۔ کیونکہ سمھبالنا تو انہوں نے ہی ہے نا۔ جو پھنسے ہوئے ہیں انکے لیے دعا کریں کہ خیر و عافیت سے گھر لوٹیں۔ اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
    @irumrae