Baaghi TV

Author: +9251

  • ہم حاضر،ہم قربان،ہے اللہ ہمارا نگہبان:پاک فوج مصروف خدمت:پاک فضائیہ کا ہیلی کاپٹرریسکیو آپریشن شروع

    ہم حاضر،ہم قربان،ہے اللہ ہمارا نگہبان:پاک فوج مصروف خدمت:پاک فضائیہ کا ہیلی کاپٹرریسکیو آپریشن شروع

    مری :ہم حاضر،ہم قربان،ہے اللہ ہمارا نگہبان:پاک فوج مصروف خدمت:پاک فضائیہ کا ہیلی کاپٹر آپریشن شروع ،اطلاعات ہیں کہ پاک فوج کے تمام شعبے اس وقت مری ،بلوچستان اور ملک کے دیگرآفت زدہ علاقوں میں مصروف خدمت ہیں ،

     

     

    ادھر مری میں ہیش آنے والے سانحہ کے بعد جس طرح پاک فوج کی طرف سے ریسکیو ،مدد ،اور مخلوق خدا کی خدمت جاری وساری ہے ، ادھر مری میں درپیش ہنگامی صورت حال کے پیش نظر پاک فوج نے جنگی بنیادوں پرآپریشن شروع کردیا ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں مری میں پھنسے سیاحوں کی امداد کےلیے پاک فضائیہ کے جوان بھی میدان میں آگئے، متاثرین کی سہولت کیلئے کالاباغ اور لویر ٹوپ بیسز پر کرائسز مینجمنٹ سیل قائم کردیا گیا۔

     

    ایئرطیف مارشل ظہیر احمد بابر کی خصوصی ہدایات پر مری میں ہونے والی شدید برفباری کے باعث پھنسنے والے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کےلیے پاک فضائیہ کے جوانوں نے مری اور گلیات میں امدادی کارروائیاں جاری شروع کردی۔

    ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ پھنسے سیاحوں کو رہائش، خوراک، گرم کپڑے اور طبی سہولتیں دی جارہی ہیں۔

    ترجمان نے جاری خبر میں بتایا کہ آپریشنز میں پاک فضائیہ نے متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا، مزید سیاحوں کو نکالنے کےلیے ہیلی کاپٹر آپریشن بھی شروع کیا جائے گا۔

     

    پاک فضائیہ کے کالاباغ اور لوئر ٹوپہ بیسز متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جب کہ فضائیہ حکام نے لوگوں کی سہولت کیلئے دونوں بیسز پر کرائسز مینجمنٹ سیل بھی قائم کردیا۔

    ترجمان پاک فضائیہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ برفباری میں پھنسے سیاح پاکستان ایئرفورس کی کالاباغ بیس کے کرائسز مینجمنٹ سیل سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

     

    ترجمان نے کالاباغ 03239418252 اور 03218838444 اور لوئر ٹوپہ 03239417015 اور051954555 بیسز سے رابطے کےلیے نمبرز بھی مہیا کردئیے۔

    واضح رہے کہ مری میں ہونے والی شدید برفباری میں کئی گھنٹوں سے پھنسنے سیاحوں میں سے 22 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، زندگی کی بازی ہارنے والوں میں دوخواتین اور آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

  • مری سانحہ کی ذمہ داروہاں کی انتظامیہ ہے:مونس الٰہی

    مری سانحہ کی ذمہ داروہاں کی انتظامیہ ہے:مونس الٰہی

    مری : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی اور پنجاب حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق مری سانحہ پر انتظامیہ پر برس پڑی۔

    وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ مری میں کیا اتنی برف پہلی دفعہ پڑی تھی؟ حکومت میں جو سیاحوں کو آج کے المناک سانحہ کا قصور وار ٹھہرا رہے ہیں وہ خدارا ہوش کریں-

     

     

    انہوں نے لکھا کہ متاثرین کی امداد میں فوجی جوانوں، مقامی شہریوں اور ہوٹلوں کا کردار قابل تعریف ہے مگر انتظامیہ کی کارکردگی قابل مذمت ہے۔

    ادھر آج شام پولیس کی طرف سے ایک دُکھ بھری خبرجاری کی گئی کہ مری میں جہاں سانحہ کی وجہ سے ایک طرف جنازے اُٹھ رہے ہیں وہاں دوسری طرف انتظامیہ اورحکام لوگوں سے یہ درخواستیں کررہے ہیں‌کہ خدارا ابھی نہ جائیں رش کم ہونے دیں مگرکوئی بات سُننے کے لیے تیار ہی نہیں‌

    مری سے یہ مناظردیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بڑی عجیب بات ہے کہ حکومت پچھلے دو روز سے لوگوں کو احتیاط برتنے کا کہہ رہی تھی لیکن لوگوں نے پرواہ تک نہ کی اور اتنے بڑے سانحہ کا سامنا کرنا پڑا

    دوسری طرف ابھی ابھی مری سے اسی حوالے سے تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکام اب بھی سیرسپٹے کے شوقین افراد کو انتظار کرنے اور رش کم ہونے تک مری نہ جانے کی گزارشات پیش کررہے ہیں لیکن عوام الناس کو پرواہ تک نہیں اورپھرایسے آنکھیں بند کرکے آگے بڑھ رہے ہیں کہ شاید اس کے بعد دوبارہ موقع ہی نہ ملے

    مری سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے باوجود منچلے مری جانے پر بضد، داخلی راستوں پر بڑی تعداد موجود ہیں،ملکی سیاحتی مقام مری میں برفانی طوفان اور ہلاکتوں کے باوجود منچلے مری جانے پر بضد ہیں۔

    آگاہی اعلانات کے باوجود بڑی تعداد میں سیاح مری کے داخلی راستوں پر موجود ہیں جس کے باعث اسلام آباد سے مری جانے والے راستے پر شدید ٹریفک جام ہوگیا۔17 میل کے علاقے پر رینجرز نے راستہ بند کردیا جبکہ رینجرز اور انتظامیہ کی شہریوں سے واپس جانے اورتعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

    پاک فوج کے دستے عوام الناس کی خدمت میں مصروف ہیں اور سخت سردی میں محنت اورمحبت کے ساتھ خدمت کی وجہ سے ان کےپسینے چھوٹ رہے ہیں لیکن ان کو بس ایک ہی فکر ہے کہ ہمارے اہل وطن مشکلات اورنقصان سے محفوظ رہ سکیں ، انہیں مقاصد کے تحت مری کے تمام انٹری پوائنٹس پر سیاحوں کو روکنے کیلئے خصوصی پکٹس قائم کردی گئیں ہیں۔

    اُدھر انتظامیہ نے اتوار کی رات تک گاڑیوں کے مری داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ مری کو آفت زدہ بھی قرار دے دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

  • کاش یہ پیغام پہلے پہنچ چکا ہوتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا:اہم شخصیت کا پیغام آگیا؟سُننا نہ بھولیئے:پڑھنا نہ بھولیئے

    کاش یہ پیغام پہلے پہنچ چکا ہوتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا:اہم شخصیت کا پیغام آگیا؟سُننا نہ بھولیئے:پڑھنا نہ بھولیئے

    مری :کاش یہ پیغام پہلے پہنچ چکا ہوتا تو یہ حادثہ نہ ہوتا:برفباری میں گاڑی پھنس جائے تو سب سے پہلے کیا کریں؟ضرورپڑھیے ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان کی ایک بڑی شخصیت کا آڈیو پیغام وائرل ہورہا ہے جس میں مری میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق ایسے حقائق پیش کئے گئے ہیں اگریہ حقائق پہلے بیان ہوجاتے تو یقینا اس طرح حادثہ نہ ہوتا ،

    یاد رہے کہ قوم اس وقت ایک سانحے سے گزررہی ہے جس میں مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کے باعث برفانی طوفان میں پھنسے کئی شہری اپنی گاڑیوں میں موت کے منہ میں چلے گئے۔

     

    گاڑی برف میں پھنس جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ اس حوالے سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس انعام غنی کا بیان سامنے آیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ کاربن مونوآکسائیڈمیں بونہیں ہوتی، اس کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے، کاربن مونو آکسائیڈ جلد موت کا سبب بن سکتی ہے۔

    مری میں برفباری اور سیاحوں کے رش کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اگر گاڑی برف میں پھنس گئی ہے اور انجن چل رہاہے تو کھڑکی ہلکی سی کھولیں، گاڑی کے ایگزاسٹ سائلنسرپائپ سے برف صاف کریں۔

     

    ان کا کہنا تھا کہ ہیٹرچلانے سے پہلےچیک کر لیں کہ سائلنسر برف کی وجہ سےبند تو نہیں ہو چکا،ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سائلنسر بند ہوا تو "کاربن مونو آکسائیڈ” گیس گاڑی میں جمع ہو سکتی ہے، انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس گیس کا کوئی رنگ یا بُو نہیں ہوتی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ گیس چند منٹ میں انسان کی جان لےلیتی ہے

    خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

  • نویداقبال اپنےخاندان کوخوشیاں دیتےدیتےہمیشہ کیلیئے       غمگین کرگئے:فون پرآخری بات کیاکی؟کزن نےبتادی

    نویداقبال اپنےخاندان کوخوشیاں دیتےدیتےہمیشہ کیلیئے غمگین کرگئے:فون پرآخری بات کیاکی؟کزن نےبتادی

    اسلام آباد:نوید اقبال اپنے خاندان کوخوشیاں دیتے دیتے ہمیشہ کےلیے غمگین کرگئے:فون پرآخری بات کیا کی؟کزن نے بتادی ،اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک طرف مری میں آنے والے برفانی طوفان کا ہرطرف شورشرابہ ہے تو دوسری طرف اس طوفان میں میں اپنی بیٹیوں ،بیٹے،بھانجی ، بہن اوربھتیجیوں‌ کومری کی سیر کروانے والے نوید اقبال کے سفرآخرت سے پہلے کے لمحات پرمشتمل اہم الفاظ بھی اب میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں‌

    سانحہ مری میں اہلخانہ کے ساتھ جاں بحق ہونے والے اسلام آباد پولیس کے اہلکار نوید اقبال کے کزن طیب گوندل واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے زارو قطار رو پڑے۔

    اس حوالے سے نجی ٹی وی سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے مری میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار نوید اقبال کے کزن طیب گوندل نے بتایا کہ ’نوید اقبال اپنی تین بیٹیوں، ایک بیٹے، بہن، بھانجی اور بھتیجے کےساتھ تھے، میں اس لیے بچ گیا کہ ہم لوکل ٹرانسپورٹ سے گئے اور نوید اپنی گاڑی سے گئے تھے، نوید نے شام 6 بجے کال کی کہ ہم پھنس گئے ہیں‘۔

    انہوں نے کہا کہ ’وہاں گاڑیاں 24 گھنٹے سے پھنسی ہوئی تھیں، انتظامیہ نے کوئی دھیان نہیں دیا تھا، نتھیا گلی میں 2 سے 4 ہزار گاڑیاں موجود تھیں، نوید سے میرا رابطہ آخری بار صبح 4 بجے ہوا جس پر نوید نے سی پی او ساجد کیانی کا نمبر مانگا، میری ان سے بھی بات ہوئی، انہیں نوید کی ریکارڈنگ بھیجی مگر انہوں نے دیکھ کر کوئی جواب نہیں دیا‘۔

    طیب گوندل کا کہنا تھا کہ ’جی ٹی روڈ اور موٹروے نیچے سے کلیئر تھی مگر جہاں سے برفباری شروع ہوئی وہاں شدید ٹریفک کا سامنا کرنا پڑا جہاں سے کسی صورت واپسی ممکن نہیں تھی، ہمیں انتطامیہ نے کہیں آگے جانے سے نہیں روکا، اگر مجھے پتا چلتا تو نوید کو واپس بلا لیتا‘۔

    واضح رہےکہ مری میں سیرو تفریح کے لیے جانے والے اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی نوید اقبال اہلخانہ کے ساتھ جاں بحق ہوگئے۔

  • موسم کی سختی نے زندگی کے معاملات ہی بدل دیئے:پاکستان آنا اورپاکستان سے جانا ہی مشکل ہوگیا

    موسم کی سختی نے زندگی کے معاملات ہی بدل دیئے:پاکستان آنا اورپاکستان سے جانا ہی مشکل ہوگیا

    لاہور:موسم کی سختی نے زندگی کے معاملات ہی بدل دیئے:پاکستان آنا اورپاکستان سے جانا ہی مشکل ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق ائیرپورٹ پر موسم کی صورتحال کے باعث بیشتر بین الاقوامی ائیرلائنز کے اوقات کارتبدیل کردیئے گئے اور پروازیں کئی کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہے۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور ائیرپورٹ پر موسم کی صورتحال کے باعث متعدد پروازیں متاثر ہوئی اور دھند کے خدشات کے پیش نظر بیشتر بین الاقوامی ائیرلائنز کے اوقات کارتبدیل کردیئے گئے۔

    دوحہ سےآنے والی پرواز کیوآر620بارہ گھنٹے ، استنبول سےآنےوالی پروازٹی کے714نوگھنٹے اور استنبول جانےوالی پروازٹی کے715بھی نوگھنٹے تاخیر کا شکار ہے۔

    انتظامیہ نے بتایا کہ لندن جانےوالی پرواز بی اے258 چار گھنٹے ، لندن سےآنےوالی برٹش ائیرکی پرواز4گھنٹے50منٹ ، مشہدسےآنےوالی ایرانی ائیرلائن کی پرواز2گھنٹے اور مشہد جانے والی پروازآئی آر817 دو گھنٹے تاخیر کا شکار ہے۔

    اسی طرح کراچی سے آنے والی پرواز پی اے 402 چارگھنٹے ، جدہ جانے والی پرواز پی کے 9759 چار گھنٹے ، جدہ سےآنےوالی پرواز پی کے9760 تین گھنٹے ، جدہ سے آنےوالی پروازایس وی734پانچ گھنٹے اور ریاض سے آنے والی پرواز ایس وی 736 تین گھنٹے 15منٹ تاخیر کا شکار ہے۔دھند کے خدشات کے پیش نظر کراچی سے آنےوالی پروازای آر524منسوخ کردی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ کل بھی لاہورآنے والی پروازوں کواسلام آبادایئرپورٹ پراترنے کا حکم دے دیا گیا تھا کیونکہ موسم کی خرابی کی وجہ سے طیاروں کا لاہورایئرپورٹ پراترنا مشکل اورخطرناک تھا

  • مری ، بلوچستان اوردیگرعلاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی وزیراعظم براہ راست نگرانی کرنےلگے

    مری ، بلوچستان اوردیگرعلاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی وزیراعظم براہ راست نگرانی کرنےلگے

    اسلام آباد : مری ، بلوچستان اوردیگرعلاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی وزیراعظم براہ راست نگرانی کرنےلگے ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر بلوچستان میں بارشوں سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا گیا، سامان میں نکاسی آب کے لیے پمپ، ٹینٹ،کمبل ،راشن بیگ شامل ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ترجمان این ڈی ایم اے کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے گورنراور وزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ، جس میں بارش ،برفباری سے نقصانات اورامداد کی ضرورت پر بات چیت کی گئی۔

    ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر سی 130طیارے پر امدادی سامان روانہ کردیا گیا ہے، امدادی سامان میں نکاسی آب کےلیےپمپ، ٹینٹ،کمبل ،راشن بیگ شامل ہیں۔

    این ڈی ایم اےصوبائی حکام اورپی ڈی ایم اے سے رابطے میں ہے جبکہ پاک فوج ،ایف سی کےدستے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے بارشوں سے نقصانات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کو متاثرین کو امداد پہنچانے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ متاثرین کی ہرممکن مدد کی جائے۔

    خیال رہے بلوچستان میں بارش اور برفباری سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال سے نظام زندگی مفلوج ہے۔

    ادھراسلام آباد سے ملنےوالی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم اس وقت خود براہ راست مری ، بلوچستان اور ملک کے دیگرحصوں میں بارشوں ، سیلاب اور برفانی طوفان سے پیدا ہونے والی صور تحآل کودیکھ رہے ییں اور ہنگامی اقدامات کی ہدایات دے رہے ہیں

  • ایسےلگ رہا ہے جیسے دنیا ختم ہونے جارہی ہے:   ماحولیاتی ماہرین نےدنیامیں‌بڑی تباہی کی پیش گوئی کردی

    ایسےلگ رہا ہے جیسے دنیا ختم ہونے جارہی ہے: ماحولیاتی ماہرین نےدنیامیں‌بڑی تباہی کی پیش گوئی کردی

    واشنگٹن :ایسےلگ رہا ہے جیسے دنیا ختم ہونے جارہی ہے:ماحولیاتی ماہرین نے دنیا میں‌بڑی تباہی کی پیش گوئی کر دی ،رپورٹ کے مطاق ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جاری صدی میں دنیا بھر میں سمندری طوفان تباہی مچا سکتے ہیں، موجودہ صدی میں سمندری طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہوگا جو دنیا بھر میں بڑی تباہی پھیلائیں گے۔

    ریسرچ اسٹڈی میں یہ پیش گوئی سامنے آئی ہے کہ مستقبل میں سمندری طوفان زمین کے زیادہ حصے پر گھومتے رہیں گے، ماحولیاتی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمندری طوفانوں کی سالانہ تعداد اور شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

     

    ییل یونیورسٹی کی زیر قیادت ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 21 ویں صدی میں سمندری طوفان اور آندھیاں وسط عرض البلد کے علاقوں میں پھیل جائیں گی، جس میں نیویارک، بوسٹن، بیجنگ اور ٹوکیو جیسے بڑے شہر شامل ہیں، جہاں سمندری طوفان کم آتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں زیادہ تر سمندری طوفان خطِ استوا اور اس کے نزدیک سمندری علاقوں میں آتے رہے ہیں لیکن اب یہ آہستہ آہستہ شمال اور جنوب کی سمت بڑھنے لگے ہیں۔

    ساحل سے ٹکرانے کے بعد یہ طوفان خشکی پر سینکڑوں کلومیٹر فاصلہ طے کر کے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں جب کہ ماضی میں وہ خشکی پر بہت کم اتنا آگے تک بڑھ پاتے تھے۔

    خطِ استوا کے علاوہ سمندری طوفانوں کا شمالاً جنوباً بڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ شدید گرمی اب صرف خطِ استوا یا اس کے قریبی علاقوں تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ ان مقامات تک بھی پہنچ رہی ہے جو خطِ استوا سے دور واقع ہیں اور ’ٹھنڈے علاقے‘ تصور کیے جاتے ہیں۔

     

    نیچر جیو سائنس نامی جریدے میں لکھتے ہوئے اس ریسرچ اسٹڈی کے مصنفین نے کہا کہ ٹراپیکل طوفان (سمندری طوفان اور آندھی) اپنے اپنے نصف کرہ میں شمال اور جنوب کی طرف ہجرت کر سکتے ہیں، کیوں کہ کرہ ارض اینتھروپوجینک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے نتیجے میں گرم ہوتا جا رہا ہے۔ 2020 کا سب ٹراپیکل طوفان الفا، پہلا سمندری طوفان تھا جو پرتگال میں زمین تک پہنچا، اور اس سال کا سمندری طوفان ہنری، جس نے کنیکٹی کٹ میں تباہی مچائی تھی، ایسے طوفانوں کا مرکز ہو سکتا ہے۔

  • کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    الماتے:کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے،اطلاعات کے مطابق قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں،

    قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں: فوٹو بشکریہ بی بی سی
    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھادیا۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق قازقستان میں ایل پی جی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہونے والے احتجاج کے باعث صورتحال کشیدہ ہے اور اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ صدر نے کابینہ کو برطرف کردیا ہے۔قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی آمد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہےکہ یہ بھی پوری طرح واضح نہیں کہ فوجی دستے کیوں تعینات کیے جارہے ہیں جب کہ امریکا کے نزدیک قازقستان کی حکومت اس صورتحال سے خود ہی نمٹ سکتی ہے۔

     

    انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ حالیہ تاریخ سے ایک سبق ملتا ہے کہ ایک مرتبہ روسی آپ کے گھر آجائیں تو بعض اوقات انہیں باہر نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک قازقستان کی حکومت اس تمام معاملے سے مناسب طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے لہٰذا یہ بات بھی واضح نہیں کہ باہر سے فوج کو بلاکر تعینات کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔

    امریکی وزیرخارجہ کہتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں روسی فوجی گئے وہاں انہوں نے قبضہ جمانے کی کوشش کی اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ روس الگ ہونے والے مسلم ملک قازقستان کو پھرسے اپنی کالونی بنانے کی کوشش کررہا ہے

     

     

    یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ الماتے شہر سمیت دیگر شہروں میں شدید احتجاج کے بعد قازقستان کے صدر نے احتجاج پر قابو پانے کے لیے مدد کی درخواست کی تھی۔اس سلسلے میں روسی حکام کا کہنا ہےکہ قازقستان میں فوجی دستوں کی تعیناتی باہمی سکیورٹی معاہدے کے تحت کی گئی ہے۔

  • بھارت میں کورونا،فلورونا اوراومی کرون کے حملے:صورتحال قابوسے باہر:سپریم کورٹ میدان میں‌ آگئی

    بھارت میں کورونا،فلورونا اوراومی کرون کے حملے:صورتحال قابوسے باہر:سپریم کورٹ میدان میں‌ آگئی

    نئی دہلی :بھارت میں کورونا،فلورونا اوراومی کرون کے حملے:صورتحال قابوسے باہر:سپریم کورٹ میدان میں‌ آگئی ،اطلاعات ہیں کہ بھارت میں ایک مرتبہ پھر کورونا اور اومی کرون کے حملوں میں‌ بڑی تیزی آگئی ہے اور دوسری طرف بھارتی سپریم کورٹ کو بھی اس لیے میدان میں آنا پڑا کیونکہ سپریم کورٹ سمجھتی ہےکہ بھارتی حکومت کے پاس وسائل ہی‌ نہیں ہے ،

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر سپریم کورٹ نے 45 ہزار جونیئر ڈاکٹروں کے داخلے کے عمل کو کلیئر کرتے ہوئے ان کو سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہیلتھ ورکرز کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے ہسپتالوں میں طبی عملے کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ ہیلتھ ورکرز گذشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے تھے۔

    ادھر بھارتی حکام یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ بھارت میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلتے اومی کرون ویریئنٹ نے ڈیلٹا ویریئنٹ کو پیچھےچھوڑ دیا ہے،وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق کورنا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد تین کروڑ 52 لاکھ ہے جبکہ چار لاکھ 83 ہزار 178 افراد اب تی ہلاک ہوئے ہیں۔

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ گذشتہ برس مارچ، اپریل اور مئی میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ 78 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
    فیڈریشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر منیش نگم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی ہمارے لیے بہت اہمیت ہے جب ملک کورونا وائرس کے تیسرے لہر سے گزر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ’بہت سے سرکاری ہسپتال کم عملے پر چل رہے ہیں اور بہت سے عملے کے ارکان کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔‘
    ممبئی میں سیون ہسپتال کے ڈاکٹر پروین دھاج نے بتایا کہ ’حال ہی میں ان کے ہسپتال کے چار سو ڈاکٹروں میں 98 کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔‘

    ادھر نئی دہلی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں اس وقت خوف وہراس کی انتہا ہے اور شہری اپنےآپ کو بے بس اور بے یارومددگارمحسوس کررہےہیں ، یہی وجہ ہےکہ بھارتی شہری بھارت کو چھوڑ کرکسی دوسرے ملک میں چلے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اس آفت سے بچ سکیں

  • کرنسی ایکسچینج:پاکستان میں آج کے دن ڈالر کی قیمت کیاہے؟اورباقی کرنسیوں کا کیا مقام

    کرنسی ایکسچینج:پاکستان میں آج کے دن ڈالر کی قیمت کیاہے؟اورباقی کرنسیوں کا کیا مقام

    لاہور:کرنسی ایکسچینج:پاکستان میں آج کے دن ڈالر کی قیمت کیاہے؟اورباقی کرنسیوں کا کیا مقام،تفصیلات کے مطابق پاکستان میں نئے سال کے 8 ویں‌ کاروباری روز روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور اضافے کا ملاجلا رجحان رہا ہے۔

    پاکستان میں ہفتہ کے دن کو اوپن مارکیٹ میں کرنسی ایکسچینج مارکیٹ کے مطابق سوموار کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید 178 جب کہ قیمت فروخت 179.2 روپے رہی۔

    اس کے علاوہ دیگر کرنسیوں کا پاکستانی روپے کے مقابلے میں کچھ اس طرح‌ مقام رہا ہےیوروقیمتِ خرید198جبکہ قیمتِ فروخت200

    برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید237جبکہ قیمت فروخت 239.5 ،آسٹریلیا ڈالرقیمت خرید 125.5قیمت فروخت127،کینیڈا ڈالرقیمیت خرید137 جبکہ قیمیت فروخت138.5
    ایسے ہی جاپانی ین کی قیمت خرید 1.41اور قیمت فروخت 1.44 ہے

    جہاں تک تعلق ہے سعودی ریال کا تو اس کی قیمیت خرید 46.3 جبکہ قیمیت فروخت46.7،اماراتی درہم قیمت خرید 49.5قیمت فروخت 50 ایسےہی کویتی دینار قیمت خرید481.8 جبکہ قیمت فروخت484.3 ہے