Baaghi TV

Author: +9251

  • اقوام متحدہ کوپ 28 اجلاس اور  غذائی قلت کا مسئلہ

    اقوام متحدہ کوپ 28 اجلاس اور غذائی قلت کا مسئلہ

    اقوام متحدہ کوپ 28 سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم مسائل میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہا جبکہ عالمی رہنما موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں تاہم عاکمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ اوسط میں ہونے والی اس موسمیاتی کانفرنس کی متحدہ عرب امارات نومبر میں میزبانی کرے گا اور خطے میں غذائی عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خلیجی ملک ، اپنے وسیع وسائل سمیت تکنیکی ترقی اور اس مسئلے پر فعال وکالت کے ساتھ ، ممکنہ طور پر خطے میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کی جنگ کی قیادت کرسکتے ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    بین الاقوامی ریڈ کراس کے ماہر کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پاس اس مسئلے کے حل کیلئے وسائل موجود ہیں اور وہ ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی تیزی سے اقدام بھی کرسکتا اور اسکی وجہ سے وہ کوپ 28 کے بعد غذائی تحفظ اور اقدامات پر بحث کی قیادت کرنے کی بہترین پوزیشن میں بھی ہے۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی ایسا ملک نہیں جس کے پاس خوراک کی وافر مقدار ہو جو غذائی تحفظ پر بات چیت کی قیادت کرے تاہم یہ متحدہ عرب امارات جیسا ملک ہے جو روزانہ کی بنیاد پراس سے نمٹ رہا ہے اور اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے لیکن مشرق اوسط میں غذائی عدم تحفظ کے بنیادی اسباب پانی کی قلت، غیر مستحکم معیشتیں اور خوراک کی درآمدات پر بھاری انحصار ہے۔

    تاہم موسمیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ اصل چیلنج ٹیکنالوجی کو سستی اور مقامی آبادی کے لیے آسانی سے اپنانے کے قابل بنانا ہے کیونکہ بہت سے خلیجی ممالک میں زرعی صنعت کاری میں اضافہ ایک مثبت علامت ہے لیکن اس سے صرف اسی صورت میں نتیجہ خیز نتائج برآمد ہوں گے جب کوششیں صرف غریبوں کے حق میں ہوں اور ضرورت مندوں کیلئے محنت کی جائے یا انہیں ترجیح دی جائے، غذائی عدم تحفظ کو کامیابی سے کم کرنے کے لیے خطے کے رہنماؤں کو سب سے زیادہ کمزور اور متاثرہ آبادی کی مدد کے لیے جامع پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا جو کوپ 28 کے موضوعات میں سے ایک ہے۔

  • نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں شامل وزرا کے ممکنہ نام سامنے آگئے ہیں جبکہ نجی ٹی وی کے صحافی کے ذرائع کے مطابق نگران وفاقی کابینہ کی تشکیل کیلئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے اور اس میں انیق احمد جوکہ ایک بڑا معروف نام ہیں کو نگران وزارت مذہبی امور کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    جبکہ اس کے علاوہ محمد علی کو نگران وزیراطلاعات بنائے جانے کی اطلاعات ہیں اور اس کے ساتھ نگران وزیرداخلہ کے لیے سرفرازبگٹی جو کہ اس وقت سینیٹر بھی ہیں کو بنایا جائے گا اور یہ اس عہدہ کیلئے ایک مضبوط امیدوار بتائے جارہے ہیں علاوہ ازیں نگران وزیرخزانہ کے لیے شمشاد اختر اور وقار مسعود کے ناموں پر غورکیا جارہا ہے بلکہ ڈاکٹر شمشاد کا نام تو ممکنہ طور پر مقرر کردیا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    واضح رہے کہ گوہر اعجاز کو نگران وزیرتجارت کا قلمدان سونپا جانے کا بتایا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی تابش گوہر، ڈاکٹرعمرسیف، جلیل عباس جیلانی بھی نگران کابینہ کا حصہ ہونگے اور انہیں بھی اہم عہدے دیئے جائیں گے خیال رہے کہ جلیل عباس کو وزیر خارجہ بنائے جانے کا امکان ہے کہ ان کا اس معاملے میں بہپت اچھا تجربہ ہے. اور یہی وجہ ہے کہ خارجہ امور انہیں سونپا جائے گا.

    یہ بھی خیال رہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے نام زیر غور ہیں جنہیں فلوقت عیاں نہیں کیا جارہا ہے لیکن ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ چاہتے ہیں کہ ان پر جس قسم کا بوجھ ہے جیسے ایک پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سمیت آئی ایم ایف کا دباؤ اور پھر الیکشن کی ذمہ داری تو وہ چاہتے ہیں کہ ایسے قابل لوگوں کو لایا جائے جو کم از کم انہیں اس بوجھ میں بوجھ بننے کے بجائے مددگار ثابت ہوں.

  • امریکی عدالت نے اسقاط حمل کی گولیوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی

    امریکی عدالت نے اسقاط حمل کی گولیوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی

    روئیٹرز کی خبر کے مطابق امریکی عدالت نے اسقاط حمل کی گولی تک رسائی محدود کرنے کا حکم دیتے ہوئے ٹیلی میڈیسن کے نسخے اور ڈاک کے ذریعے دوا کی ترسیل پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے تاہم اس حکم پر فوری طور پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ نیو اورلینز میں قائم پانچویں یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے یہ فیصلہ سنانے سے گریز کیا کہ اس دوا کو مارکیٹ سے مکمل طور پر ہٹا دیا جانا چاہیے.

    عالمی ایجنسی کی خبر میں ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ جیسا کہ ایک نچلی عدالت نے کیا تھا یعنی اپریل میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اپیل کے دوران جوں کا توں برقرار رکھنے کے ایک ہنگامی حکم نامے کے بعد میفیپرسٹون کی دستیابی میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن، جس نے اس گولی کی منظوری دی تھی جبکہ اسقاط حمل کے خلاف کام کرنے والے گروپوں کے وکلاء نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    روئیٹرز کے مطابق تین ججوں پر مشتمل پانچویں سرکٹ پینل اپریل میں ٹیکساس کے شہر امریلو میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج میتھیو کاسمارک کے ایک حکم کا جائزہ لیا گیا تھا اگرچہ یہ ایک ابتدائی فیصلہ تھا جو کیس کے زیر التوا ہونے کے دوران لاگو ہوتا تھا لیکن کاسمارک نے کہا کہ وہ بالآخر اسے مستقل کرنے کا امکان رکھتے ہیں تاہم اس کے بجائے ، پینل کی اکثریت نے ایف ڈی اے کے اقدامات کو واپس لے لیا جس نے حالیہ برسوں میں دوا تک رسائی کو آسان بنا دیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    خیال رہے کہ ان میں ڈاک کے ذریعے تقسیم کی اجازت دینا، سات ہفتوں کے بجائے حمل کے 10 ہفتوں تک اس کے استعمال کی منظوری دینا، خوراک کو کم کرنا اور مطلوبہ ڈاکٹر کے دوروں کی تعداد کو تین سے کم کرکے ایک کرنا شامل تھا۔ اس فیصلے کے خلاف پہلے مکمل پانچویں سرکٹ اور پھر امریکی سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی جبکہ یاد رہے کہ گزشتہ سال ایسے تاریخی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا کیونکہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے ملک بھر میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دے دی تھی۔

  • برطانوی خاتون نے 12 ہزار فٹ سے اسکائی ڈائیونگ کر کے  90 ویں سالگرہ منائی

    برطانوی خاتون نے 12 ہزار فٹ سے اسکائی ڈائیونگ کر کے 90 ویں سالگرہ منائی

    برطانیہ کی 90 سالہ خاتون نے اپنی 90 ویں سالگرہ اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ خطرناک انداز میں منا کر نیا ریکارڈ قائم کرلیا ہے جبکہ برطانوی اخبار ڈیلی مرر کے مطابق مسز ہلیری آکسلے نے اپنی90 ویں سالگرہ 12 ہزار فٹ کی بلندی سے اسکائی ڈائیونگ کر کے منائی اور ان کے ساتھ اس میں ان کی پوتی بھی موجود تھیں۔

    مرر نے مزید لکھا کہ دادی آکسلے نے 10 سال قبل اپنی 80 ویں سالگرہ بھی اسی طرح منائی تھی اور بغیر کسی رکاوٹ کے کامیابی کے ساتھ ہوا میں پیراشوٹ سے جست مکمل کی تھی۔ جبکہ اس بار بھی دادی اماں نے 90 سال کی عمر میں بھی ویسے ہی کامیابی کے ساتھ اپنی سالگرہ منائی ہے جبکہ 12 ہزار فٹ کی اسکائی ڈائیونگ کا اہتمام خاندان کی جانب سے دادی کے لیے سالگرہ کے تحفے کے طور پر کیا گیا تھا اور اس کی دو پوتیاں بھی اس چھلانگ میں اس کے شریک ہوئی ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    اخبار کے مطابق چھلانگ مکمل ہونے کے بعد بوڑھی خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ پہلی بار بہت آسان اور کم پیچیدہ تھا۔ لیکن انہوں نے 10 سال قبل اپنی 80 ویں سالگرہ بھی ایسے ہی جوش و جزبہ منائی تھی ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے بچپن سے خطروں سے کھیلنا پسند ہے علاوہ ازیں ہلیری نے اپنی دوسری چھلانگ کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک شخص ایک بار جیتا ہے لہذا جمپنگ کا عمل اس کے لیے غیرمعمولی خوشی ہے۔ اور اس کو مکمل کرکے میں پرجوش ہوں

  • 120 غیر قانونی لون ایپس  بند

    120 غیر قانونی لون ایپس بند

    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے صارفین کے تحفظ کے پیش نظر گوگل اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے تعاون سے پلے اور ایپل اسٹور پر دستیاب 120 غیر قانونی لون ایپس کو بند کروا دیا گیا ہے جبکہ حال ہی میں غیر قانون پرسنل لون ایپس کا رجحان منظر عام پر آیا ہے جس میں صارفین کو گمراہ کن معلومات فراہم کرنے اور ڈیٹا پرائیویسی کیخلاف ورزیوں سمیت وصولی کے غیر موذوں طریق کار بارے میں سنگین شکایات موصول ہوئیں تھیں۔

    جبکہ خیال رہے کہ ایس ای سی پی نے نہ صرف لائسنس یافتہ نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کے لیے اپنے ریگولیٹری فریم ورک کو سخت کیا بلکہ غیر مجاز اور غیر قانونی قرضوں کی ایپس کو بند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات بھی کیے ہیں۔ ایس ای سی پی کی جانب سے مؤثر نگرانی اور صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے نتیجے میں ایس ای سی پی نے غیر قانونی طور پر چلنے والی 120 پرسنل لون ایپس کو فوری طور پر بلاک کرنے کے لیے گوگل اور پی ٹی اے کو رپورٹ کیا۔

    علاوہ ازیں نجی ٹی وی کے مطابق ان غیر قانونی ایپس چلانے والے افراد کے خلاف الیکٹرانک جرائم کے روک تھام کے ایکٹ 2016 کے مطابق مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو بھیجا گیا۔ ایس ای سی پی غیر قانونی ایپس کی موجودگی کے لیے گوگل پلے اسٹور اور ای پل ایپ اسٹور کی مسلسل مانیٹرنگ بھی کرتا ہے۔ ایس ای سی پی کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گوگل نے پاکستان کے لیے پرسنل لون ایپ کی نئی پالیسی متعارف کرائی ہے، جس کے مطابق گوگل صرف ایس ای سی پی سے منظور شده پرسنل لون ایپس کو اپنے گوگل پلے اسٹور پر جگہ دیتا ہے۔

    ڈیجیٹل ایپس سے قرض حاصل کرنے والے صارفین کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کی منظور شدہ ایپس سے ہی قرض حاصل کریں۔ ایس ای سی پی کے ریگولیٹری فریم ورک کی تحت منظور شده ایپس کے لیے لازمی ہے کہ صارف کو قرض کے چارجز، قرض کی مدت قسطوں اور دیگر چارجز کی واضح معلومات فراہم کرے۔ مزید برآں ایس ای سی پی نے ڈیجیٹل ذرائع سے قرض فراہم کرنے والی لائسنس یافتہ نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کی جانب سے ریگولیٹری فریم ورک اور دیگر معیارات پر عمل درآمد کا آڈٹ بھی شروع کر رکھا ہے تا کہ ان کمپنیوں میں بھی ممکنہ ڈیٹا پرائیویسی کی خلاف ورزیوں وغیرہ کا جائزہ لیا جا سکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    عوام الناس کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ لائسنس یافتہ این بی ایف سیز اور منظور شده لون ایپس کے خلاف کسی بھی شکایت کی صورت مینایس ای سی پی کے کمپلنٹ پورٹل https://sdms.secp.gov.pk/sdmsadmn/ پر شکایات درج کرائیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی لون ایپس یا غیر قانونی سرمایہ کاری کی اسکیموں کی اطلاع بھی اس پورٹل پر دے سکتے ہیں۔

  • الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں. سرفراز بگٹی

    الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں. سرفراز بگٹی

    بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما، سینیٹر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ احتجاج کے حق کی آڑ میں ریاست پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور الیکشن سے پہلے دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے، الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں۔

    سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات کی تاریخ دے، نگراں حکومت کی ترجیح ہوگی کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں، جب تک حلقہ بندیاں نہیں ہوں گی،الیکشن نہیں ہوں گے۔ علاوہ ازیں سابق وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں بھی صاف اور شفاف انتخابات کی بنیادی شرط ہے، زمینی حقائق بتارہے ہیں الیکشن 6 سے7 ماہ میں ہوں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا
    نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف
    جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کے حق کی آڑ میں ریاست پر حملے کی اجازت نہیں ہوگی، سیاسی تشدد کا راستہ کسی کو نہیں دینا چاہیئے، الیکشن سے پہلے دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے، دہشت گردی کے خلاف تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔

  • جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا

    جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا

    جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا

    جنوبی افریقہ میں نئے کورونا وائرس ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ میں نئے کورونا وائرس اومیکرون ویریئنٹ ایریس EG.5.1 کا پہلا کیس نوٹ کیا گیا ہے، وزات صحت کے بیان کے مطابق ملک میں پہلے ایریس ویریئنٹ وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ تاہم خیال رہے کہ 9 اگست کو عالمی صحت ادارہ نے ایریس ویریئنٹ کے متعلق ایک رپورٹ شائع بھی کی تھی۔

    جبکہ واضح رہے کہ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تمام ثبوتوں کی بنیاد پر اعلان کیا جاتا ہے کہ ایریس ویریئنٹ عالمی صحت کو کووڈ 19 کے دیگر ایریس ویریئنٹوں کی طرف نچلے درجے کے ہیں، اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق 7 اگست تک کل 51 ممالک نے 7,000 سے زیادہ کیسز شیئر کیے ،اس کی خصوصیات کی بنیاد پر EG.5 عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے اور کیسز میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس چین (سلسلے کا 30%)، امریکہ (18.4%)، کوریا (14.1%)، جاپان (11.1%) اور اسپین (1.5%) میں موجود ہے۔ یہ سب سے پہلے انڈونیشیا میں پایا گیا تھا۔

  • نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف

    نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف

    سابق وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کی تقرری کا عمل جب شروع ہوا تو روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا کہ کوئی ایسا شخص وزیراعظم نہ بن جائے کہ جس سے انتخابات پر سوالیہ نشان لگ جائے اور الزامات لگیں کہ ان کا کسی پارٹی سے تعلق ہے۔ احتیاط کی گئی کہ پی ڈی ایم سے جڑی کسی پارٹی پر یہ الزام نہ لگے۔ جبکہ نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعظم جو ہیں، میرا نہیں خیال کہ انہوں نے وابستگی کا ایسا کوئی بوجھ اٹھایا ہوا ہے، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ان کا تعلق ضرور ہے لیکن اس پارٹی کا اتنا زور نہیں کہ وہ پورے پاکستان یا انتخابات پر اثر انداز ہوسکے۔

    انہوں نے کہا کہ انوار الحق کاکڑ کی تقرری کا 48 گھنٹے پہلے سے ہی تمام پارٹیوں کو معلوم تھا اور اس سلسلے میں مشاورت بھی ہوگئی تھی۔ ان کی تعیناتی بلوچستان کے عوام پر اچھا اثر ڈالے گی۔ چاہے وہ نگراں ہی صحیح لیکن تاثر جائے گا کہ صوبے پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’آپ بھی قومی دھارے کا حصہ ہیں ایک اہم حصہ ہیں اور برابر کے حصہ دار ہیں‘۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ میں ڈاکٹر مالک سمیت متعدد ناموں پر بحث ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیبرپختونخوا اور سندھ سے ایک ایک نام اور جنوبی پنجاب سے دو نام فائنل کیے گئے تھے۔ خواجہ آصف نے اس بات کی بھی تردید کی کہ انوارالحق کاکڑ اسٹیبلشمنٹ کی پسند ہیں۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں کے تجویز کردہ بہت سے ناموں پر شدید تحفظات تھے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    نواز شریف کی پاکستان واپسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا آنا ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا، ان کی آمد سے عوامی نظریہ ہمارے لیے بہتر ہوگا، میرے حساب سے الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد میاں صاحب کو آنا چاہیے۔ نو مئی سے متعلق مقدمات میں جیلوں میں قید خواتین سے سلوک کے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ نو مئی کے حوالے سے جو خواتین قید ہیں انہوں نے بغاوت میں حصہ لیا تھا اور سیاست میں جب ہم آجاتے ہیں تو پھر جینڈر ایکوالٹی (صنفی برابری) ہونی چاہیے جینڈر پریفرنس (صنفی ترجیح) نہیں ہونی چاہیے۔

  • چھوٹی موٹی چوریاں کرکے کروڑ پتی بننے والا چور

    چھوٹی موٹی چوریاں کرکے کروڑ پتی بننے والا چور

    بھارت کے شہر دہلی کی پولیس نے 200 سے زائد ڈکیتی کے مقدمات میں ملوث ایک 48 سالہ کروڑ پتی ہوٹل کے مالک کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ گرفتار شخص کی شناخت منوج چوبے کے نام سے ہوئی ہے جو تقریباً 25 سال سے اپنے خاندان سے چھپ کر دوہری زندگی گزار رہا تھا جبکہ چوبے پر دہلی میں 2001 سے 2023 کے درمیان 15 مجرمانہ مقدمات میں فرد جرم عائد کی جاچکی ہیں.

    بھارتی میڈیا کے مطابق منوج چوبے کا اصل تعلق اتر پردیش کے سدھارتھ نگر ضلع سے اور اسی علاقہ میں ان کا باقی خاندان بھی مقیم ہے لیکن بعدازاں وہ نیپال میں آباد ہو گئے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق وہ پہلی بار 1997 میں دہلی آئے اور کیرتی نگر تھانے میں کینٹین چلانے لگے۔ لیکن کینٹین میں چوری کے الزام میں پکڑے جانے کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق رہا ہونے کے بعد انہوں نے کرائے کے مکان میں رہائس اختیار کی اور پھر دوبارہ چوریاں کرنی شروع کردیں جبکہ منوج چوریاں کرتے اور کافی رقم کما کر اپنے گاؤں لوٹ جاتے تھے۔

    خیال رہے کہ بھارتی میڈیا نے بتایا کہ منوج کا طریقہ واردات یہ ہوتا تھا کہ وہ پہلے ریکی کرتے اور پھر ماڈل ٹاؤن، روہنی، اشوک وہار اور پتم پورہ جیسے علاقوں میں بنگلوں، مکانات اور فلیٹس کو نشانہ بنایا کرتا تھا، جبکہ منوج نے چوری کی رقم سے نیپال میں ایک ہوٹل بھی بنایا تھا۔ اس دوران انہوں نے اتر پردیش کے محکمہ آبپاشی میں ملازم ایک سرکاری افسر کی بیٹی سے شادی بھی کرلی اور انہوں نے اپنے سسرال والوں کو بتایا کہ دہلی میں ان کا پارکنگ کا کاروبار ہے اور انہیں ہر سال چھ سے آٹھ مہینے وہاں رہنا پڑتا ہے۔

    جبکہ اترپردیش میں انہوں نے اپنی بیوی کے نام پر رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤس بھی بنایا ہوا تھا جبکہ منوج چوبے نے اسی قصبے میں اپنا پلاٹ ایک اسپتال کو بھی لیز پر دیا تھا جس کے لیے انہیں ماہانہ 2 لاکھ روپے کرایہ ملتا تھا علاوہ ازیں چوبے نے آخر کار اپنی فیملی کے لیے لکھنؤ میں ایک گھر بھی بنایا تھا جبکہ کروڑوں کی دولت ہونے اور لاکھوں روپے کرایہ وصول کرنے کے باوجود وہ ڈکیتیاں کرنے دہلی آتے رہے۔

    واضح رہے کہ ایک دن ایسا ہوا کہ متاثرین میں سے ایک نے چوری کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی اور ایف آئی آر بھی درج کرلی تھی جسکے بعد پولیس کو سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج ملی، جس سے انہیں چوبے کو شناخت کرنے میں مدد ملی جبکہ ایک سی سی ٹی وی میں انہیں اسکوٹر پر سوار دیکھا گیا تھا، جسے ونود تھاپا نامی شخص نے خریدا تھا۔ انڈین میڈیا کے مطابق مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ چوبے نے سپنا نامی نیپالی خاتون سے شادی کی تھی اور اسے دہلی میں چھپا رکھا تھا۔ ونود اور سپنا بہن بھائی تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    ونود نے پولیس کو بتایا کہ اس کا بہنوئی اس کے اسکوٹر پر گھومتا رہتا تھا۔ اور آخر کار 10 جولائی کو پولیس نے چوبے کو گرفتار کر لیا جبکہ چوبے کے خلاف چوری کے 15 مقدمات درج ہیں اور ماضی میں انہیں نو مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔ وہ نام بدلتے رہتے تھے اور واردات کے بعد چوری کی رقم کو جلدی سے چھپا دیا کرتے تھے۔ تاہم یاد رہے کہ فی الحال چوبے جی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ان کی قسمت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

  • مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں سے جینے کا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ جاری ایک بیان میں صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے پٹرول و ریلوے کے کرایوں میں اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی و پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شہری تلملا اٹھا ہے اور مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگانے والوں نے بھی عوام سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے.

    صدر آئی پی پی علیم خان کا مزید کہنا تھا کہ غریب کو مزید دن بدن مارا جارہا ہے کیونکہ مہنگائی کی انتہا ہوچکی ہے اور پہلے سے عذاب میں مبتلا عوام کی سانسیں بند ہو رہی ہیں جبکہ پچھلی دونوں حکومتوں نے پانچ سال ضائع کردیئے ہیں جس سے مزید تباہی ہورہی ہے کیونکہ فوری ریلیف نہ ملا تو لوگوں کا جینا مشکل ہوجائے گا۔

    علاوہ ازیں عبدالعلیم خان نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ حکومتیں اپنی جیبیں بھرنے کے بجائے غریب عوام کا سوچتی تو آج حالات مختلف ہوتے مگر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے شمار اضافہ ہوجائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ کیلئےغریب عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ماضی کی حکومتوں چاہے وہ تحریک انصاف کی حکومت تھی یا پھر پی ڈی ایم کی دونوں نے تباہی ہی کی ہے اور غریب کا کسی نے کچھ نہیں سوچا ہے