Baaghi TV

Author: +9251

  • سپیکر قومی اسمبلی کی نگران وفاقی کابینہ کے وزراء کو مبارکباد

    سپیکر قومی اسمبلی کی نگران وفاقی کابینہ کے وزراء کو مبارکباد

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی نگران وفاقی کابینہ کے وزراء کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دی ہے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی کا نگران وفاقی کابینہ کے ممبران کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا ہے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نگران وفاقی کابینہ ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے اپنا آئینی کردار احسن طریقہ سے ادا کرے گی.

    اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ملکی بقاء و سلامتی کیلئے جمہوری نظام کا تسلسل اور جمہوری اقدار کا فروغ ضروری ہے جبکہ ملکی تعمیر و ترقی اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے، جبکہ اس کے علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے بھی نگران کابینہ کے اراکین کو کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نگران کابینہ ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لئے اپنی تمام ترتوانائیاں بروئے کار لائے گی۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ نگران حکومت میں شامل وزرا قابل، باصلاحیت، تجربہ کار اور ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں ان کی کاوشوں سے ملک کے مسائل کےحل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ جبکہ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ کے نگران وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے پر بھی مبارکباد دی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    اعلامیہ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے جسٹس (ر) مقبول باقر کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس (ر) مقبول باقر ایک قابل، محنتی اور دیانتدار انسان ہیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ بطور نگران وزیراعلیٰ سندھ اپنی تمام ترکاوشوں سے صوبے کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے مطابق انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے جبکہ حلقہ بندیاں کرنے کی کوئی آئینی ضرورت نہیں ہے لیکن 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کی آئینی ضرورت ہے۔ لہذا انتخابات اپنے آئینی وقت کے مطابق ہو جانے چاہئں.


    پیپلزپارٹی کے رہنماء نے یہ ردعمل الیکشن کمیشن کے اس اعلان پر دیا جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے اور الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    https://twitter.com/fkkundi/status/1691850734017413179
    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل سابق مشیر وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنماء فیصل کریم کنڈی نے اپنی ٹوئیٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ "الیکشن کمیشن کو اب عام انتخابات کی تاریخ دے دینی چاہیئے۔” انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیے بغیر یا حلقہ بندیوں کا فیصلہ کیے بغیر نگران حکومت کو افسران کی تبدیلی کے حوالے سے احکامات جاری کرنا شروع کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ پیپلزپارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرے۔

  • جڑانوالہ جیسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ آرمی چیف

    جڑانوالہ جیسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل مزمت ہے جبکہ ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام کے شرکاء سے خطاب میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ اقلیتوں کیخلاف عدم برداشت اور انتہا پسندی کی گنجائش نہیں ہے جبکہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے کہا کہ مذہب، نسل اور ذات سے قطع نظر تمام شہری برابر ہیں اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، اور ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپناکردار ادا کریں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوان سچ، جھوٹ اور غلط معلومات کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ یاد رہے کہ جڑانوالہ میں بدھ کے روز مسیحی آبادی پر حملوں اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے تناظر میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور کار سرکار میں مداخلت جیسی دفعات کے تحت پانچ مقدمات درج کر کے 128 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    تاہم خیال رہے کہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے اس سے قبل کہا تھا کہ جڑانوالہ میں مسیحی برادری کی املاک کو آئندہ تین سے چار روز میں اپنی پرانی حالت میں بحال کر دیا جائے گا جبکہ آج ایک اجلاس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں سرکاری اور دیگر املاک کی بحالی کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔

  • بابا جی اے  چشتی کا یوم پیدائش

    بابا جی اے چشتی کا یوم پیدائش

    برصغیر کے نامور موسیقار بابا جی اے چشتی کا پورا نام غلام احمد چشتی تھا وہ 17 اگست 1905ء میں (گانا چور) ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے ۔ بابا چشتی نے اپنی فنی زندگی کا آغاز آغا حشر کاشمیری کے تھیٹر سے کیا۔ ان کی وفات کے بعد وہ ایک ریکارڈنگ کمپنی سے منسلک ہوگئے بابا چشتی موسیقار کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے اور ان کی دھنوں میں اکثر استھائی اور انترے ان کے تخلیق شدہ تھے جو انہوں نے فلمی شعراء کی معاونت میں ترتیب دیئے ۔

    آغا حشر کاشمیری کے تھیئٹر میں انہوں نے جدن بائی اور امیر بائی کرناٹکی کے چند ریکارڈ تیار کئے۔ بطور موسیقار ان کی پہلی فلم” دنیا” تھی جو 1936ء میں لاہور میں بنی تھی۔ بابا چشتی نے کچھ وقت کلکتہ اور بمبئی میں بھی گزارا۔ تقسیم ہند کے بعد 1949ء میں وہ پاکستان آئے اس وقت تک وہ 17 فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے جن میں فلم سوہنی مہینوال، شکریہ اور جگنو کے نام سرفہرست تھے۔ پاکستان میں بابا چشتی کی پہلی فلم” شاہدہ” تھی یہاں انہوں نے مجموعی طور پر 152 فلموں کی موسیقی ترتیب دی اور 5000 سے زیادہ نغمات تخلیق کئے۔ ان کی مشہور فلموں میں پھیرے، مندری، لارے، گھبرو، بلو، سسی، پتن، نوکر، دلا بھٹی، لخت جگر، ماہی منڈا، مس 56، یکے والی، گمراہ، خیبر میل، مٹی دیاں مورتاں، سہتی، رانی خان، عجب خان، ڈاچی، چن مکھناں، ماں پتر، قادرا، چن پتر، بھائی چارہ، رب راکھا، غیرت تے قانون، چن تارا اور قاتل تے مفرور شامل ہیں۔ بابا چشتی نے جن گلوکاروں کو فلمی صنعت سے متعارف کروایا ان میں ملکہ ترنم نورجہاں، زبیدہ خانم، سلیم رضا، نسیم بیگم، نذیر بیگم، مالا، مسعود رانا اور پرویز مہدی کے نام شامل ہیں جبکہ ان کے شاگرد موسیقاروں میں رحمن ورما اور خیام کے نام سرفہرست ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    حکومت پاکستان کی جانب سے 1989 میں بابا جی اے چشتی کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطاء کیا گیا، بابا جی اے چشتی 25 دسمبر 1994ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار بابا جی اے چشتی، لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور کے سوڈیوالی قبرستان ملتان روڈ میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    بابا جی اے چشتی کے ترتیب دیئے گئے مشہور نغمات

    اے جذبہ دل گر میں چاہوں
    میری چنی دیاں ریشمی تنداں
    چن میرے مکھناں
    تانگے والا خیر منگدا نے

    تفصیل فلمی موسیقی
    اردو ترميم
    سچائی 1949ء
    شاہدہ 1949ء (بہ اشتراک ماسٹر غلام حیدر)
    انوکھی داستان 1950ء
    سسی 1954ء
    طوفان 1955ء
    محفل 1955ء
    نوکر 1955ء
    حقیقت 1955ء
    سوتیلی ماں1956ء
    مس 56 1956ء
    لخت جگر 1956ء
    سردار 1957ء
    نغمۂ دل1959ء
    خان بہادر 1960ء
    خیبر میل 1960ء
    دلِ ناداں 1960ء*
    سلطنت 1960ء*
    بغاوت 1963ء
    پنجابی ترميم
    پھیرے1949ء
    مندری 1949ء
    گھبرو 1950ء
    لارے 1950ء
    بلو 1951ء
    دلبر 1951ء
    بلبل 1955ء
    پتن 1955ء
    ماہی منڈا 1956ء
    گڈا گڈی 1956ء
    مورنی 1956ء
    دلا بھٹی 1956ء
    یکے والی 1957ء
    جگا 1958ء
    جٹی 1958ء
    شیرا 1959ء
    مٹی دیاں مورتاں 1960ء
    رانی خان 1960ء
    آبرو 1960ء
    عجب خان 1961ء
    زرینہ 1962ء
    جمالو 1962ء
    رشتہ 1963ء
    میرا ماہی1964ء
    ڈاچی1964ء
    زمیندار1966ء
    راوی پار1967ء
    چن مکھنا1968ء
    چن ویر1969ء
    خون پسینہ1972ء
    ہیرا 1972ء
    دھرتی دے لال 1974ء
    ماں صدقے 1974ء

    تحریر و تحقیق
    عامر شیرازی
    چیرمین سُر سیئوا پاکستان
    حوالہ جات
    1: ربط : آئی ایم ڈی بی – آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 2 اگست 2019
    2: موسیقار جی اے چشتی کی 20 ویں برسی، ڈان نیوز ٹی وی، پاکستان، 25 دسمبر 2014ء
    3: عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ص 755، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
    4: تاریخ پاکستان

  • ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا ہے جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا، جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کا نئی مردم شماری کی بنیاد پر ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل کی جائیں گی حکام کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، یکم سے 4 ستمبر تک حلقہ بندیوں کمیٹیوں کو ٹریننگ دی جائے گی.

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کے مطابق حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 9 اکتوبر کو ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلیں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک کی جاسکیں گی جبکہ الیکشن کمیشن 10 نومبر سے 9 دسمبر تک شکایات پر سماعت کرے گا اور حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14 دسمبر کو ہوگی.

    جبکہ شیڈول کے مطابق حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبر2023ءکوہوگی۔ تاہم یاد رہے کہ اس سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ملاقات بھی کی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی، ملاقات میں ملک میں عام انتخابات کے معاملے پر گفتگو کی گئی تھی۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں مختلف آئینی اور قانونی امور پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    جبکہ یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی سندھ میں صوبائی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں عوامی مفاد کا معاملہ ہیں، سپریم کورٹ میں متعدد بار حلقہ بندیوں کا معاملہ آ چکا، حلقہ بندیوں میں سرکل ذرا سا متاثر کرنے سے امیدوار کے ووٹ متاثر ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا تھا کہ عام انتخابات کب کرائے جارہے ہیں؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کندھے اچکائے تو چیف جسٹس نے مسکراہتے ہوئے کہا کہ مطلب ابھی تک عام انتخابات کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں کی گئی۔

  • ایران کے وزیر خارجہ  ریاض پہنچ گئے

    ایران کے وزیر خارجہ ریاض پہنچ گئے

    ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے بعد ریاض پہنچ گئے ہیں جبکہ ان کے ریاض پہنچنے پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کا سعودی وزارت خارجہ کی عمارت میں ان کا استقبال کیا ہے.


    جبکہ باضابطہ ملاقات کے بعد دونوں عہدیداران مشترکہ پریس کانفرنس کا اہتمام بھی کریں گے اور ایرانی وزیر خارجہ ایک روزہ دورے پر آج یعنی جمعرات کے روز ریاض پہنچے ہیں اور وہاں ان کا استقبال سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ نے بڑے پرتپاک طریقے سے استقبال کیا جبکہ سعودی عرب اور ایران نے چین کی ثالثی میں مارچ کے دوران تعلقات کی بحالی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان سات سال سے سفارتی تعلقات منقطع تھے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں سعودی سفارتخانے اور مشھد میں قونصل خانے پر مظاہرین کےحملے کے بعد ایران کے سفارتی تعلقات ختم کر دئیے تھے۔ جبکہ اس سے قبل جون میں سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان ایران کا دورہ کیا تھا اور وہ 2006 کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے پہلے سعودی وزیر خارجہ بن گئے تھے، تاہم اس سے چند روز قبل ایران نے ریاض میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے گزشتہ روز کہا تھا کہ دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان ماسکو میں منعقدہ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر غیررسمی ملاقات ہوئی تھی۔ حسین امیر عبداللہیان نے رواں ہفتے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ریاض کے لیے نئے سفیر سعودی دورے میں ان کے ہمراہ ہوں گے اور وہ باقاعدہ طور پر اپنے سفارتی مشن کا آغاز کریں گے۔

  • ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں

    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں

    معروف اداکارہ ندا یاسر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ مجھے شوبز میں آنے کا بالکل بھی شوق نہیں تھا ، صرف اعلی تعلیم حاصل کرنے کےلئے 16 لاکھ جمع کرنے آئی تھی اور پھر کام کی ایسی لت لگی کہ اسی کی ہو کر رہ گئی. انہوں نے تفصیلات شئیر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے فزکس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے اور میریٹ یونیورسٹی سے دو سال ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹل مینجمنٹ پڑھنے سے بات کرنے کا ہنر سیکھنے کو ملا اور بعدازاں ہوٹل میں کچھ عرصے تک کام کیا۔

    ندا نے بتایا کہ میرا شوبز انڈسٹری میں آنے کا پلان نہیں تھا، مجھے اعلی تعلیم کے لیے سوٹزرلینڈ جانا تھا جس کے لیے 16 لاکھ روپے چاہیے تھے، ”میں نے اپنے والد سے کہا کہ یہ پیسے میں خود اداکاری کرکے جمع کروں گی اور اعلی تعلیم حاصل کروں گی” لیکن جب اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا تو یہیں کی ہوکر رہ گئی۔ایسا نہیں ہے کہ مجھے کسی بات کا پچھتاوا ہے میں‌آج جہاں بھی ہوں بہت خوش ہوں اور اچھا کام کررہی ہوں‌میرے مداح ہیں جو مجھے دیکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے کام جاری رکھے ہوئے ہوں.

     

    مصطفی قریشی اور سلطان راہی کو پہلے منفی سمجھتی تھی صبا فیصل

    سنی لیونی بارش ہونے پر کیوں رو پڑیں ؟‌

    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا

  • نگران وزیر اعلیٰ سندھ  نے  حلف اٹھا لیا

    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا

    سندھ کے نامزد نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے جبکہ گورنر کامران ٹیسوری نے ان سے حلف لیا ہے جبکہ اب وہ صوبائی کابینہ کا انتخاب کریں گے اور سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے جسٹس مقبول باقر کا نام تجویز کیا تھا اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم نے دیگر جماعتوں سے مشاورت کے بعد ان کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

    جبکہ خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقرکی پیدائش 1957 کو کراچی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، 2002 میں انھیں سندھ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور اگلے ہی سال مستقل جج بن گئے۔ جبکہ جسٹس مشیر عالم کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد انھوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ذمہ داریاں ادا کیں، وہ ان ججوں میں شامل تھے جنھوں نے جنرل پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے سے انکار کیا اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد آخری جج تھے جو بحال ہوئے۔

    2013 میں ان پر کراچی پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم لشکر جہنگوی نے قبول کی تھی۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر 2015 میں سپریم کورٹ میں جج تعینات کیے گئے، جب قومی احتساب بیورو عمران خان کے دور حکومت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے خلاف گہرا تنگ کر رہا تھا ان دنوں میں انہوں نے نیب کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس میں سعد رفیق کیس مقبویت رکھتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    18 رکنی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا
    صدر مملکت نے نگران کابینہ سے حلف لے لیا
    بھارت میں ونڈر ویمن جیسی فلمیں بننا وقتی ضرورت ہے کاجول

    جسٹس فائز عیسیٰ قاضی پر جب ریفرنس دائر کیا گیا تو وہ آخری وقت تک ان کے ساتھ کھڑے رہے، انھوں نے فل بینچ فیصلے میں بھی اختلافی نوٹ لکھا تھا۔ نگران وزیر اعلیٰ سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے ان کا نام احتساب بیورو کے سربراہ کے طور پر بھی دیا گیا تھا۔

  • مدیحہ شاہ نےایک ماہ میں 11 پائونڈ وزن کم کر لیا

    مدیحہ شاہ نےایک ماہ میں 11 پائونڈ وزن کم کر لیا

    نوے کی دہائی میں لالی وڈمیں قدم رکھنے والی مدیحہ شاہ نے متعدد فلموں میں کام کیا، انہوں نے اپنی خوبصورتی اور بہترین اداکاری کی وجہ سے خوب داد سمیٹی بعد ازاں انہوں نے سٹیج کا رخ کر لیا اور ایک عرصہ تک سٹیج ہی کرتی رہیں، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے بہت زیادہ وزن بڑھا لیا ، پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ چھوٹی بڑی سکرین پر نظر ہی نہیں آئیں. اب مدیحہ شاہ ایک بار پھر شوبز میں متحرک ہو رہی ہیں ان کی گزشتہ برس ایک فلم بھی ریلیز ہوئی . مدیحہ شاہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ میں نے خود پر توجہ دینی شروع کر دی ہے.

    آج کل میں ٕایکسر سائز کررہی ہوں اور محض ایک ماہ میں 11پونڈ وزن کم کر لیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی فٹنس کے لئے جم بھی جوائن کر لیا ہے ، انہوں نے کہاکہ شوبز میں نہ بھی کام کرنا ہو تو ویسے ہی خود پر دھیان دیا جائے وزن میں کمی لائی جائے تو اپنا آپ خود کو ہی بہت اچھا لگتا ہے. انہوں نے کہا کہ ”خواتین کو چاہیے کہ وہ خود کے لئے وقت نکالیں گھریلو کام تو ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن خود پر توجہ دینا بے حد ضروری ہے.”

    مصطفی قریشی اور سلطان راہی کو پہلے منفی سمجھتی تھی صبا فیصل

    سنی لیونی بارش ہونے پر کیوں رو پڑیں ؟‌

    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا

  • ملائکہ اروڑہ فوٹوگرافر سے کیوں ڈریں ؟

    ملائکہ اروڑہ فوٹوگرافر سے کیوں ڈریں ؟

    بولڈ اور بیوٹی فلم ملائکہ اروڑہ جو فوٹوگرافرز کی پسندیدہ ہیں ان کو جہاں بھی فوٹوگرافرز دیکھتے ہیں ان کے خوبصورت پوزز کی تصاویر بناتے ہیں اور ملائکہ بھی خوب دل کے ساتھ پوز دیتی ہیں تصاویر بنواتی ہیں. لیکن اس بار زرا وہ ڈر گئیں. تٍفصیلات کے مطابق چند روز قبل ملائکہ ممبئی کے ایک سیلون سے باہر نکلیں تو فوٹوگرافرز نے نہایت جارحانہ انداز میں ان کی تصاویر لینے کی کوشش کی۔اس حوالے سے ایک وڈیو بھی سوشل میڈیا پر چرچا میں‌ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملائکہ اروڑہ ایک چبوترے پر چل رہی ہیں، انہوں نے ہلکی بارش کی وجہ سے چھتری بھی تھام رکھی ہے۔

    ملائکہ چبوترے سے اتر کر گاڑی کی طرف جا رہی تھیں کہ اسی اثنا میں ایک فوٹوگرافر قریب سے ان کی تصویر لینے کے چکر میں کچھ سامان سے ٹکرا جاتا ہے۔ملائکہ ایکدم گھبرا گئیں اور ان کے منہ سے ہلکی سی چیخ بھی نکلی اور وہ ایکدم سے بھاگ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھیں اور اس میں‌بیٹھ کر بنا تصویر بنوائے چلی گئیں. یہ شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ملائکہ کسی واقعہ سے ڈری ہوں اور انہوں نے تصویر بنوائے بغیر کسی جگہ سے جانے میں ہی عافیت سمجھی ہو.

    مصطفی قریشی اور سلطان راہی کو پہلے منفی سمجھتی تھی صبا فیصل

    سنی لیونی بارش ہونے پر کیوں رو پڑیں ؟‌

    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا