Baaghi TV

Author: +9251

  • مچھلی اور باربی کیو کا دھواں اسموگ کی وجہ ، پی ڈی ایم کا لاہور ہائیکورٹ میں موقف

    مچھلی اور باربی کیو کا دھواں اسموگ کی وجہ ، پی ڈی ایم کا لاہور ہائیکورٹ میں موقف

    مچھلی اور باربی کیو کا دھواں اسموگ کی وجہ ، پی ڈی ایم کا لاہور ہائیکورٹ میں موقف
    لاہور:چُھٹیاں 25 دسمبر کونہیں 20 دسمبرکو:اگراعلان نہ ہوا توحکم دے دیں گے:ہائی کورٹ ،اطلاعات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو 20 دسمبر سے اسکول بند کرنے پر غور کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب حکومت نے فیصلہ نہ کیا تو عدالت فیصلہ کرے گی۔

    تفصیلات کے مطابق عدالت نے مارکیٹس بھی جلد بند کرنے پر غور کرنے کا حکم دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کی روک تھام کے لیے اقدامات نہ کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی تو اسموگ کی شدت میں اضافہ پر عدالت نے اظہار تشویش کیا۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت 20 دسمبر سے اسکول بند کرنے پر غور کرے، اگر پنجاب حکومت نے فیصلہ نہ کیا تو عدالت فیصلہ کرے گی۔

    عدالت نے باربی کیو کی دکانیں جلد بند کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فورا دکانیں بند نہیں کی جا سکتیں اس پر دوسرا حل دیکھنا چاہیے۔ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سردی کی شدت میں اضافے سے گرل مچھلی اور باربی کیو کی فروخت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے لیکن اس کی وجہ سے دھویں کا اخراج بھی بڑھ گیا ہے اور اسموگ میں اضافہ ہورہا ہے ، لہذا دکانیں اور مارکیٹس جلد بند کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پوری دنیا میں مارکیٹس 6 بجے بند ہوجاتی ہیں۔ بازاروں کے اوقات کار کو کم ہونا چاہیے۔عدالت نے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے پہلے ٹویٹ کے ذریعے یہ اعلان کیا تھا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں پچیس دسمبر سے چُھٹیاں ہوں گی ، جس کے لیے صوبائی حکومتوں نے اس فیصلے پررضا مندی بھی ظاہر کی تھی ، اس فیصلے کے بعداعلان کیا گیا کہ چُھٹیاں واقعی پچیس دسمبر کو ہوں گی ، تاہم آج ہائی کورٹ کے حکم کے بعد صورت حال بدلتی ہوئی نظرآتی ہے اورامکان ہے کہ اب پچیس دسمبر نہیں بلکہ بیس دسمبر کو بچوں اوراساتذہ کی موجیں لگ جائیں گی اور والدین پریشان ہوجائیں گے ،

  • ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    نئی دہلی:ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار ،اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی فوج کی ایک اعلیٰ‌سطحی اہم میٹنگ میں ہونے والی آہ و بکا کی آوازیں بیجنگ اور اسلام آباد تک سنائی دی جانے لگی ہیں ، اطلاعات ہیں کہ اس اہم اجلاس میں لداخ اورکشمیر میں ماموراعلیٰ بھارتی جرنیلوں نے بھارتی حکومت اور فوجی قیادت سے یہ شکوہ کیا ہے کہ چین لداخ میں کچھ کرنے جارہا ہے اورجس کا نتیجہ وہاں پھربھارتی افواج کو ذلت آمیزرسوائی کی صورت میں اٹھانا پڑے گا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں اسی دوران چینی فوج کی نقل وحرکت اور دیگرسرگرمیوں کے حوالےسے واویلا کیا گیا ، دوسری طرف بھارتی فوج کے اہم اجلاس سے کچھ اہم باتیں کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ چین نے2020ءمیں مشرقی لداخ میں جس بھارتی علاقے پر قبضہ کیاتھا وہاں چینی فوج اپنے لیے نئے مسکن، ہائی ویز اور سڑکیں بنا رہی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس پیشرفت سے بھارت کے سابق فوجی افسروں اور سکیورٹی ماہرین میں خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ چین شاید اس علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اوروہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرنئے سٹیٹس کوکا اعلان کر سکتا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاکہ انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ چینی فوج مشرقی لداخ میں مزید شاہراہیں اور سڑکیں بنا کر اپنی فوجی پوزیشنوں میں اضافہ کررہی ہے اور اس نے اپنے فوجیوں کے لیے بھارتی علاقے کے اندرر نئے مسکن بنائے ہیں۔

    بھارت اورچین کی فوجیں گزشتہ سال مئی سے لداخ کے متعدد مقامات پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ چین نے اب تک ہاٹ اسپرنگس اور ڈیپسانگ کے میدانی علاقے چھوڑنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ وادی گلوان، پینگونگ جھیل اور گوگرا سے اپنی شرائط پرجزوی واپسی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں جگہوں پر دونوں فوجیں یکساں فاصلے کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی ہیں تاہم چینی فوج اب بھی بھارت کے دعویٰ کردہ علاقے میں موجود ہے اور بھارت اپنے ہی علاقے میں پیچھے ہٹ گیا ہے جس کی وجہ سے اس پر چین کومزید زمین دینے کے الزامات لگ رہے ہیں۔

  • افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    واشگنٹن: افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌اطلاعات کے مطابق افغانستان میں 20 سال کے دوران اربوں ڈالرز اور جدید فوجی ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود امریکا اور اتحادیوں کو شکست کی تحقیقات کے لیے امریکی کانگریس کے اراکین پر مشتمل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔

    قائم کردہ کمیشن 768 ارب ڈالر کے سالانہ دفاعی بجٹ کا حصہ ہے جسے ایوان نمائندگان کے بعد امریکی سینیٹ نے بھی منظور کیا، افغانستان پر بنایا جانے والا کمیشن 16 ارکان پر مشتمل ہوگا۔

    دونوں بڑی جماعتوں ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کی طرف سے نامزد کیے جانے والے ارکان کو ایک سال کے اندر طالبان کی فتح کی ابتدائی اور3 سال میں مکمل وجوہات کا پتہ چلانا ہو گا۔

    یاد رہے کہ 20 سال تک افغانستان میں 50 ملکوں کی حمایت سے جنگ لڑنے والا امریکہ جس طرح رسوا ہوکرافغانستان سے نکلا ہے اس منظر نے دنیا سے امریکہ کا خوف ختم کردیا ہے اور اب تو امریکہ کی اپنی ریاستوں نے سراٹھان اشروع کردیا ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان ریاستوں نے الگ حیثیت سے ملک کے طور پردنیا کے نقشنے پرانے کا فیصلہ کرلیا ہے

    اس اثنا میں دوسری طرف چین اور روس سے معاذ آرئی بھی امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ نے زمینی جنگ کی بجائے خلائی جنگ کا منصوبہ بنایا ہے ،

    یہ سارے حالات ایک طرف مگرامریکی جرنیل اس بات پرپریشان ہیں‌کہ چند ہزارنہتے افغان طالبان نے دنیا کے 50 ملکی اتحاد کو کسیے ذلت آمیز شکست دی یہ ایک قابل غور سوال ہے تاکہ آئندہ سے ایسی شکست سے بچا جاسکے ، اسی مقصد کے تحت یہ کمیشن قائم کیا گیا ہے

  • سپرہائی وے پر دلخراش ٹریفک حادثہ، 3 افراد جاں بحق

    سپرہائی وے پر دلخراش ٹریفک حادثہ، 3 افراد جاں بحق

    شہر قائد میں نامعلوم افراد کے بعد نامعلوم گاڑیاں بھی دہشت کی علامت بن گئیں، جنہوں نے 3 نوجوانوں کی زندگی کا چراغ گل کردیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق سپرہائی وے گلشن معمار کے قریب ڈبلیو 25 اسٹاپ پر ٹریفک حادثہ ہوا ہے، جہاں نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے موٹر نامعلوم گاڑی حادثے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی ، سائیکل پر سوار تین افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا ہے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 19سالہ محمد شکیل،28 سالہ خلیل احمد اور 25 سالہ نامعلوم شخص شامل ہے جبکہ زخمی کی شناخت 36سالہ اللہ دتہ کے نام سے ہوئی ہے۔

    دلخراش حادثے کے بعد جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا، اسی دوران پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور حادثہ کے محرکات جاننے کے لئے تفتیش کا آغاز کردیا۔

    دوسری جانب پنجاب کے علاقے سادھو کی بیگ روڈ پر دھند کے باعث کار نہر اپر چناب میں جا گری، حادثے میں ایک شخص کو بچالیا گیا جبکہ ایک ابھی لاپتہ ہے۔

    ریسکیوذرائع کا کہنا تھا کہ کار سوار افراد 80 لاکھ روپے لے کر جا رہے تھے، نہر میں گری کار سےرقم نکال کر تحویل میں لے لی گئی ہے

  • سرگودھا : واپڈا فیسکو ایس ای کی جوہرآباد میں کھلی کچہری ۔

    سرگودھا : واپڈا فیسکو ایس ای کی جوہرآباد میں کھلی کچہری ۔

    واپڈا فیسکو ایس ای سرگودھا کی جوھرآباد میں کھلی کچہری ۔
    سرگودھا ( ادریس نواز چدھڑ سے ) عوامی شکایات کے حل کے لیے وزارت توانائی پاور ڈویژن کی خصوصی ہدایت پر محکمہ واپڈا فیسکو کی جانب سے راجہ شہباز محمود ایس ای فیسکو سرکل سرگودھا نے ایکسین آفس جوہرآباد میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا… جہاں پر سائلین نے کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل پیش کیے جبکہ ایس ای فیسکو سرکل سرگودھا راجہ شہباز نے ایکسین واپڈا جوہرآباد بابر ریاض گھمن کو عوامی شکایات اور ان کے مسائل کو موقع پر حل کرنے کی ہدایت کی کھلی کچہری میں تمام سب ڈویژن کے ایس ڈی اوز اور۔ لائن سپرٹینڈنٹ بھی موجود تھے اس موقع پر ایس ای فیسکو سرکل سرگودھا نے فیسکو واپڈا ملازمین کو دوران ڈیوٹی محکمانہ یونیفارم اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے خصوصی ہدایت کی آخر میں راجہ شہباز نے اچھی کارکردگی کے حامل واپڈا ملازمین میں Appreciation certificate دیے …..

  • سبق آموز دسمبر.تحریر:اسد عباس خان

    سبق آموز دسمبر.تحریر:اسد عباس خان

    سبق آموز دسمبر.تحریر:اسد عباس خان

    برصغیر میں دسمبر کی خنکی جہاں جسموں کو ٹھارتی ہے وہیں پچاس برس قبل ہوئے ہماری تاریخ کے بدترین سانحے کی ناخوشگوار یادیں بھی روح کو چھلنی کرتی ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کا خوفناک حادثہ یک لخت ظہور پذیر نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے تئیس برسوں کی تلخ کہانی ہے۔
    کیا وجہ تھی کہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں دو ہزار کلومیٹر دور بنگال کے مسلمانوں اور ہم نے ذات پات، رنگ و نسل، زبان و جغرافیہ کی تفریق کیے بنا اکٹھے قربانیاں دیں۔ تاریخ کے ابواب پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ بنگالی مسلمانوں نے تحریک پاکستان میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ جہاں نواب آف ڈھاکہ نواب سلیم اللہ خان صاحب کی دعوت پر مسلم لیگ کا قیام 1906ء میں ڈھاکہ میں عمل میں لایا گیا وہیں 1940ء میں منٹو پارک لاہور میں قرار داد پاکستان بھی شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی۔ لاکھوں افراد مہاجر ہوئے جن کی کثیر تعداد نے سابقہ مشرقی پاکستان کا رخ بھی کیا۔ اسلامی فلاحی ریاست کا سپنا آنکھوں میں سجائے کروڑوں فرزندانِ توحید نے نظریہ پاکستان ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں لیکن قائد کی جلد وفات کے بعد آنے والے سیاست دان کرسی اقتدار کے گندے کھیل میں ایسے مشغول ہوئے کہ نہ تو عوامی امنگوں کا احساس کیا اور نہ ہی ملک میں سیاسی استحکام لا سکے۔ نتیجتاً انتشار کی سیاست، نفرت انگیز بیانات، غیر منصفانہ طرز حکومت اور دوغلی پالیسیوں نے ہی اولین تفریق کے بیج بوئے۔ آہستہ آہستہ گزرتے وقت کے ساتھ جغرافیائی دوری اور لسانی فرق بھی ہمارے مجموعی عوامی رویوں پر اثر انداز ہونے لگا۔ یوں سیاسی و عسکری قیادت کی نا اہلی اور پھر ہندوستانی سازشی کردار نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ جب داخلی سیاسی مفاد پرستی اور بیرونی سازشیں اپنے عروج پر پہنچیں تو بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا۔ لاکھوں کلمہ گو افراد اپنے ہی ہم عقیدہ بھائیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ لاکھوں دوبارہ مہاجر ہوئے اور آخر کار وہ گھر بھی ٹوٹ گیا جسے ہم نے باہم مل کر اپنے خون سے سینچا تھا۔ مشرقی پاکستان کا نام بنگلہ دیش جبکہ مغربی حصہ صرف پاکستان رہ گیا۔ دونوں خطوں میں علیحدگی کے بعد الگ الگ ممالک تو قائم ہو گئے لیکن پچاس سال پرانے گھاؤ ابھی تک نہیں بھرے اور سیاسی مصلحتوں کے باعث تعلقات میں سرد مہری آج تک قائم ہے۔

    اور دونوں جانب لاکھوں افراد آج بھی اس بٹوارے کی قیمت چکا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی سے ایک بنگالی ماں جی کی درد ناک کہانی سوشل میڈیا کے ذریعے سنی جو لگ بھگ 35 سال بعد بنگلہ دیش میں اپنے خاندان سے ملیں۔ اس کے بعد اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بچھڑی بیسیوں اور خواتین بھی سامنے آئیں جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہائیوں سے رہائش پذیر ہیں۔ اور دو طرفہ روابط نہ ہونے کے باعث اپنی مادری زبان تک بھول چکی تھیں۔ لیکن کبھی نہ مٹے والی ان دوریوں کے اندر بھی عوامی سطح پر نظریاتی ہم آہنگی اور پرخلوص محبت کے نظارے دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں۔ چند ہفتے قبل ہی کرکٹ ورلڈ کپ میں جب پاکستان نے ہندوستان کو دھول چٹائی تو ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک پورا بنگلہ دیش پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اور گزشتہ ماہ جب یہی پاکستانی کرکٹ ٹیم بنگلادیش کی مہمان بنی تو ہمارے بنگلہ دیشی بھائیوں نے میزبانی کا خوب حق ادا کیا۔ سڑکوں پر ہزاروں نوجوان پاکستانی کرکٹ ٹیم کے استقبال کے لیے کھڑے ہوئے۔ ہاتھوں میں پاکستانی جھنڈے لیے اور گرین شرٹ زیب تن کیے یہ نوجوان بچھڑے بھائیوں کی اٹوٹ محبت کی گواہی بن گئے۔ ڈھاکہ ٹیسٹ میچ میں ہار جیت سے بے رغبت شائقین پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگا رہے تھے۔ تمام تر میڈیائی ہتھکنڈوں اور بالی ووڈ میں اربوں روپوں کے بجٹ لگا کر بھی ہندوستان اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا جس کا خواب سقوط ڈھاکہ کے وقت اس نے دیکھا تھا۔ اب وقت بدل رہا ہے، پروپیگنڈے کے جال کٹ رہے ہیں اور تاریخ کا دھارا بھی یقیناً بدلے گا آج کا بنگالی نوجوانوں نظریہ پاکستان سے جڑ رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے پاکستان بڑے بھائی کا حقیقی کردار ادا کرتے ہوئے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے میں پہل کرے۔ اس کے لیے ریاست کو بڑے دل گردے کے ساتھ خلوصِ نیت بھی درکار ہو گی سب سے پہلے پاکستان میں رہائش پذیر سقوط ڈھاکہ سے قبل کے بنگالی افراد کو قومی شناختی کارڈ جاری کریں۔ اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنیں اور ان کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔ یقین جانیے یہ چھوٹا سا عمل بھی دِلوں کو جوڑنے اور دشمنوں کی سازشوں کو توڑنے میں بہت بھاری پڑے گا۔ اس کے علاؤہ سرکاری یا نجی سطح پر بنگالی زبان کے فروغ پر بھی کام کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوامی سطح پر باہمی روابط استوار ہوں اور ماضی میں پھیلائی گئی غلط فہمیاں دور کرنے میں آسانی ہو اور ان کا ازالہ بھی کیا جا سکے۔ ریاستی سطح پر دوطرفہ تعلقات باہمی تعاون اور تجارتی روابط بڑھانے کے ساتھ دوطرفہ آمدورفت اور ویزہ کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی سروس کو بھی بحال کیا جائے۔ اگر مملکت پاکستان اپنے قیام کے بنیادی نظریے پر عمل پیرا ہو جائے تو بلاشبہ ایسا کر گزرنا ناممکن نہیں۔ اس کے علاؤہ ہمیں بحیثیت مجموعی عوامی اور انتظامی رویوں پر بھی نظر ثانی کرنی ہو گی تاکہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھائے جائیں۔ اور اگر واقعی نظریہ پاکستان پر ریاستی پالیسی تشکیل دی گئی تو آئندہ کبھی دسمبر خون آشام نہیں ہو گا۔

    صدائے اسد
    اسد عباس خان

  • مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر  شاہ

    مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر شاہ

    پی پی رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پی پی پی نے ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کی اور احترام کیا ؛ پکا قلعہ سے پی پی پی کا کیا واسطہ تھا ؛ یہ پی پی پی حکومت کے خلاف سازش تھی جس کا ایم کیو ایم حصہ تھی؛

    ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ عامر خان بتائیں کہ مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ کس نے کیے؛ بوریوں میں بند لاشیں کو ن دیتا تھا؛ سٹی کورٹ میں وکیلوں کوزندہ کس نے جلایا؛ ایم کیو ایم کے خلاف تو جنگی جرائم جیسے کیسز چلانے چاہیے تھے؛ کے ایم سی کے اسپتال سندھ حکومت کو جانے سے ایم کیو ایم کے گھوسٹ ملازمین فارغ ہوجائیں گے؛ یہی خوف ایم کیو ایم کو کھائے جارہی ہے؛ ہم نے ایم کیو ایم کو کھلی آفر دی کہ اسمبلی میں بل پر بات کریں لیکن اُن کو سیاست کرنی تھی؛ایم کیو ایم کو تو پی ٹی آئی کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ جماعت اسلامی کو بھی ایم کیو ایم کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ مصطفیٰ کمال کو اگر کراچی کے عوام مسترد کررہے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور؛ پی پی پی دشمنی میں ایم کیو ایم ، پی ٹی آئی ، پاک سر زمین اور جماعتیں اکھٹی ہوگئی ہیں ؛ حلیم عادل کا صدر کے خط کا جائزہ لے رہے ہیں ؛یہ خط سیڈیشن /غداری کے زمرے میں آتا ہے ؛یہ جماعتیں کچھ بھی کریں کراچی کے عوام ان کو فارغ کردیں گے؛ عامر خان کہتے ہیں جتنی بلاول بھٹو کی عمر ہے اتنی انہوں نے جیل کاٹی ہے ؛ آپ نے تو جیل قتل و غارت ، جلائو گھیرائو میں کاٹی ، کس منہ سے کریڈٹ لے رہے ہیں ؛ایم کیو ایم اب کچھ بھی کرے عوام ان کے مکروہ چہرے دیکھ چکی ہے ؛کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے اب دوبارہ وائسرائے بنانا چاہتے ہیں؛

    واضح رہے کہ بلدیاتی قانون پر شروع ہونے والی محاذ آرائی کے بعد سندھ کی سیاسی لڑائی عروج پر پہنچ گئی ہے اور سیاسی ماحول پر پارہ ہائی ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ایک دوسرے پر تنقیدی نشتر چلا دیئے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کیخلاف قرار داد لے آئی۔

    کراچی سے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے یہ اعلان سندھ حکومت کے بلدیاتی قانون کے جبری اطلاق کے بعد کیا ہے ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد سندھ کے عوام سیاسی وڈیروں ، جاگیرداروں اور سیاسی گدی نشینوں سے نجات دلوا کرانکو ایک آزاد شہری بنانے کا اعلان کیا ہے

    کراچی میں نجی یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے الزام لگایا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کی خیرخواہ نہیں ہے، یہ شہر کو پھر ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں، ہم اس شہر کو آگ و خون کی ہولی میں جھونکنے نہیں دیں گے۔ ایم کیو ایم 2008ء میں دھمکیاں دیکر حکومت کا حصہ بنی، تاجروں کو دھمکایا گیا تھا اقتدار میں شامل نہ کیا گیا توکاروبار نہیں کرنے دیں گے، پیپلز پارٹی نے مجبوراً کڑوا گھونٹ پیا

    دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان نے پی پی رہنماوں کے بیانات پر ایک بہت ہی دلچسپ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول زرداری کی جتنی عمر ہے اتنی تو ہم نے جیل کاٹی ہے۔

    کراچی میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں عامر خان نے پی پی چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول زرداری صاحب جتنی آپ کی عمر ہے اتنی ہم نے جیلیں کاٹی ہیں۔ دو عملی سیاست نہیں چلے گی، لاڑکانہ اور دادو سمیت سب کو حق دیا جائے۔ جھوٹی اور جعلی اکثریت سے سندھ کا نیا بلدیاتی قانون پاس کرایا گیا ہے۔ ہم اس کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں، صوبے کی اہم جماعتیں اس کالے قانون کو مسترد کرچکی ہیں۔

    ادھرعامر خان نے کہا ہے کہ ہم سندھ کی عوام کوقدامت پسند سیاسی غلامی سے نجات دلوا کررہیں گے اور ایم کیو ایم ہر شہری کوایک باعزت اورقابل احترام مقام دلا کررہے گی

    اُدھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی اسمبلی کے ممبران نے وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کیخلاف نفرت انگیز تقریر پر قرار داد جمع کروا دی ہے۔ قرارداد خرم شیر زمان، بلال غفار، جمال صدیقی و دیگر نے جمع کرائی۔

    قرار کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ریاست پاکستان کے خلاف تقریر کی، وزیر اعلیٰ سندھ نے ارکان کو ایوان سے نکال کر باہر پھینکنے کے جملے استعمال کیے، ہمارا مطالبہ ہے وزیر اعلیٰ اپنے نفرت انگیز بیان واپس لیں اور معذرت کریں اور ارکان کا باہر پھینکنے کے جملے سے معافی مانگیں۔

  • ڈاکٹر فوزیہ سیاسی انتہا پسند نکلیں :  شہباز گل سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینےسے انکار:اہل علم کی سخت تنقید

    ڈاکٹر فوزیہ سیاسی انتہا پسند نکلیں : شہباز گل سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینےسے انکار:اہل علم کی سخت تنقید

    لاہور: ڈاکٹر فوزیہ بھی سیاسی انتہا پسند نکلیں : شہباز گل سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینےسے انکار ،اطلاعات کے مطابق لاہورکالج برائےخواتین یونیورسٹی کے کانووکیشن میں ڈاکٹرفوزیہ نے سیاسی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاون خصوصی وزیراعظم شہبازگل سےڈگری لینےسےانکار دیا۔جس کے بعد اہل علم لوگوں کی طرف ڈاکٹرفوزیہ کے اس رویے پرسخت تنقید کی جارہی ہے

    یاد رہےکہ آج لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی کے16ویں کانووکیشن کا انعقاد کیا گیا جس کے دوسرےروز مہمان خصوصی شہبازگل تھے ۔

    ایسوسی ایٹ پروفیسرپولیٹیکل سائنس سمن آبادکالج ڈاکٹر فوزیہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جانی تھی تاہم ڈاکٹر فوزیہ نے شہباز گل سے ڈگری نہ لینے سے متعلق ٹویٹ کر دیا۔

     

    انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ شہباز گل کانووکیشن کے مہمان خصوصی بننے کے لائق نہیں،اس لئے ان سے ڈگری وصول نہیں کروں گی۔

    خاتون کے ڈگری لینے کے انکار پرسوال کا جواب دیتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کواپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے،ڈگری لینے سے انکار کرنے والی خاتون خواجہ سعد رفیق کی رشتے دار ہے۔

    لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلر(وی سی ) بشریٰ مرزا نے کہا کہ میری نظر میں کانووکیشن کے مہمان خصوصی شہباز گل بننے کے اہل ہیں اس لیے انکو بلایا،ہر کسی کا اپنا حق ہے، کسی کو زبردستی کچھ نہیں کہ سکتے۔

    ادھر ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹرفوزیہ نے سخت عوامی ردعمل کے بعد یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کردی ہے ،

  • غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیوں کیخلاف کارروائی کا وزیراعظم نے حکم دے دیا

    غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیوں کیخلاف کارروائی کا وزیراعظم نے حکم دے دیا

    اسلام آباد،غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیوں کیخلاف کارروائی کا وزیراعظم نے حکم دے دیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبے لاہور اور ملک کے مستقبل کیلئے اہم ہیں، منصوبوں میں ماحول دوست مٹیریل کا استعمال کیا جائے۔وہ بدھ کو سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب رہے تھے ۔

     

     

    اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے پہلے مرحلے میں 100 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ گرین اربنائزیشن ماڈل ملک کے دوسرے شہروں میں بھی استعمال کیا جائے، ترقیاتی منصوبے شہریوں کی سہولت اور معاشی ترقی کیلئے شروع کئے ہیں، حکومت غیر فعال اثاثوں کو سرمایہ کاری کے قابل بنا رہی ہے،منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالنا اور ان کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانا بلا جواز ہے۔

     

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ غیر قانونی تجاوزات اور غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

     

     

    یاد رہے کہ چند دن پہلے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے این او سی اور لے آؤٹ پلان نہ ہونے پر اسلام آباد کی 117 ہاؤسنگ سوسائٹیز غیر قانونی قرار دے دیں تھیں‌،۔سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ!شہری دھوکے میں نہ آئیں اور سوسائٹیز سے متعلق پہلے تحقیق کرلیں۔

     

     

     

    سی ڈی اے نے غیر قانونی قرار دی گئیں 117 ہاؤسنگ سوسائٹیز کی فہرست جاری کردی۔

     

     

  • جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان

    جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان

    بیجنگ: جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے امریکہ کی مشرقی ایشیا اور ایشیا پیسیفک علاقے میں تفرقہ ڈالنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے افغان عوام کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

    چائنا ڈیلی کے مطابق، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ ون بین نے افغان عوام کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجیوں کو سزا نہ ملنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنٹاگون کے کابل میں ڈرون کے ذریعے‏عام لوگوں پر حملے میں ملوث اپنے فوجیوں کے سزا نہ دینے کے فیصلے پر خاموش نہیں بیٹھا رہا جا سکتا۔

    وانگ نے کہا کہ جس وجہہ سے زیادہ غم و غصہ ہے وہ یہ کہ امریکہ اس قتل عام کے ذمہ داروں کو عدالتی تحفظ دے کر انکی جرأتیں بڑھا رہا ہے۔ چین نے کابل قتل عام کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پنٹاگون نے ان امریکی دہشتگردوں کے خلاف کسی بھی طرح کی قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 29 اکتوبر کو کابل میں ڈرون حملے میں ملوث تھے۔

    امریکہ کے اس دہشتگردانہ حملے میں 10 بے گناہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں اکثر بچے بتائے جاتے ہیں۔