Baaghi TV

Author: +9251

  • بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    اسلام آباد:، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف،اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا انکشاف، قائمہ کمیٹی تعلیم کے رکن ممبر قومی اسمبلی حامد حمید نے معاملہ کو آئندہ کمیٹی اجلاس میں اٹھانے کا عندیہ دے دیا۔

     

     

    ممبر قومی اسمبلی چوہدری حامد نے گزشتہ روز قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ ہاسٹل میں مقیم طالبات ہاسٹل کا وقت ختم ہونے کے بعد باہر نکلتی ہیں، یونیورسٹی اس معاملہ کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی، میں یہ معاملہ اگلے اجلاس میں بھی لے کر آؤں گا۔

     

     

    دوسری طرف ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ترجمان اسلامی یونیورسٹی ناصر فرید نے بتایا کہ یہ خبرسراسر غلط اور بے بنیاد ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یونیورسٹی نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں ہراسانی کے حوالے سے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے،

     

     

    ترجمان اسلامی یونیورسٹی ناصر فرید کا کہنا تھا کہ مذکورہ بے بنیاد واقعے کے بابت نہ تو اس کمیٹی کو کوئی اطلاع یا شکایت کی گئی اور نہ ہی سکیورٹی آفس کو اطلاع دی گئی ہے، ایسی کسی بھی قسم کی شکایت یا واقعے پر سخت ایکشن لیا جاتا ہے اور جامعہ کی انتظامیہ کیمپس میں طلباو طالبات کے جان و مال کی حفاظت کے ضمن میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی میں 30 ہزار طلبا و طالبات کے لیے اعلی معیاری تعلیم اور اسلامی و اخلاقی اقدار کی روشنی میں ان کی تربیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے تاہم کسی بھی منفی سرگرمی کو جامعہ میں برداشت نہیں کیا جاتا ہے۔

     

     

    ترجمان جامعہ نے امید ظاہر کی کہ جامعہ میں شروع ہونے والی داخلہ مہم کو متاثر ہونے سے بچانے میں میڈیا بھرپور کردار ادا کرے گا اور اس موقع پر ایسی غلط فہمی پر مبنی خبروں سے اجتناب کیا جائے گا۔

  • بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    سری نگر : بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں‌ بھارتیوں کوکشمیریوں‌ کی زمینیں‌ چھین کردی جارہی ہیں ، اس حوالے سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب لوگوں سے انکی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 370اور 35اے کی دفعات کی بحالی کی لڑائی میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے بھدرواہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوں سے انکی زمینیں چھیننے کا مقصد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ زمینیں تو برسہا برس سے یہاں کے لوگوں کے تصرف میں ہیں تو آج یہ ان سے کیوں چھینی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کو ہند مسلم سکھ اتحاد ورثے میں ملا ہے جبکہ یہاں کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی طرح لوگوں میں جھگڑے پیدا کیے جائیں تاہم ہمیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور اپنے بھائی چارے کو قائم و دائم رکھنا ہے۔

    انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ جب کشمیر میں حالات مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں گے تب ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بتائے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں یہاں کون سا امن قائم ہوا جبکہ الٹا امن کے ماحول کو بگاڑ دیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹیری ٹری میں تبدیل کر کے یہاں کون سی بہتری آئی ہے ، کہاں امن قائم ہوا، کس کو روزگار ملا، کہاں سرمایہ کاری ہوئی ، کس جگہ پر نئی یونیورسٹی یا کالج بنا اور کون سا نیا منصوبہ شروع ہوا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے اس سب جھوٹ اور فریب کا جواب کون دے گا۔

    دیں اثنا انڈین نیشنل کانگریس کی مقبوضہ علاقے کی شاخ کے رہنما غلام نبی آزاد نے جموں خطے کے ضلع راجوری میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعدجموںوکشمیر 30برس پیچھے چلا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموںوکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے پہلے جموں خطے میں تیرہ ہزار کے لگ بھگ صنعتی کارخانے تھے جن میں سے اب ساڑھے سات ہزار کارخانے بند ہو گئے ہیںجبکہ وادی کشمیر میں تما م کارخانے بند پڑے ہیں۔

     

     

  • کالا بلدیاتی قانون :ایم کیو ایم کے بعد جماعت اسلامی بھی میدان میں‌ آگئی

    کالا بلدیاتی قانون :ایم کیو ایم کے بعد جماعت اسلامی بھی میدان میں‌ آگئی

    کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ کالا بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی 12دسمبر کو ”حقوق کراچی مارچ“کر ے گی، سندھ حکومت کے منظور کردہ بلدیاتی ترمیمی بل آئین کے آرٹیکل 32اور 140-Aکے خلاف ہے۔

    جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کی وڈیرہ شاہی آمریت مسلط کرنے ، شہری اداروں پر قبضے اور کراچی دشمن کالے بلدیاتی قانونی کے خلاف کراچی بھر میں 11مقامات پر احتجاجی دھرنے دیئے گئے۔

    جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے خلاف آئین اقدامات اور غیر جمہوری رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متنازع بلدیاتی ترمیمی بل 2021کو فی الفور واپس لینے ، بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی طور پر خود مختار بنانے اور کراچی کو میگا میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ دیتے ہوئے با اختیار شہری حکومت کے قیام کے لیے از سر نو قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا ۔

    حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترمیمی بل کی اسمبلی سے جبری منظور ی کراچی کے عوام کو غلام بنانے اور شہری اداروں پر قبضے کی کوشش ہے ، یہ بل کراچی کے وسائل پر ڈاکہ اورلوٹ مار کا گھناﺅنا کھیل ہے جسے عوام مسترد کرتے ہیں ، آج کراچی بھر میں دیئے گئے دھرنے پیپلز پارٹی کی آمرانہ سوچ، فسطائیت اور کراچی پر قبضہ کرنے کے خلاف ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جمعہ 3دسمبر کو اسی حوالے سے پورے شہر میں یوم سیاہ منایا جائے گا اور سینکڑوں مقامات پر مظاہرے ہوں گے جبکہ اتوار 12دسمبر کو کراچی میں ایک بھر پور اور تاریخی ”حقوق کراچی مارچ “کیا جائے گا ،جعلی بل کے خلاف لاڑکانہ، جیکب آباد اور دیگر اندرون سندھ کے شہر ی بھی سڑکوں پر موجود ہیں اور احتجاج کررہے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلےمتحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے سندھ حکومت کے لائے گئے بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا ہے ۔

    ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ، کے ڈی اے، بلدیہ کے پاس ہونا چاہیے لیکن بلدیاتی بل میں ترمیم سے آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں انہوں نے بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا اور احتجاج کا بھی فیصلہ کیا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی میں سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021 کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا۔

     

  • اسلام آباد میں پہلی پلاسٹک روڈ پر کام کا آغاز:پلاسٹک روڈ اسفالٹ سے متعلق تفصیلات آگئیں

    اسلام آباد میں پہلی پلاسٹک روڈ پر کام کا آغاز:پلاسٹک روڈ اسفالٹ سے متعلق تفصیلات آگئیں

    اسلام آباد میں پہلی پلاسٹک روڈ پر کام کا آغاز کر دیا گیا،اتاترک ایونیو پر ایک کلو میٹر پلاسٹک روڈ تعمیر کی جا رہی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ایف نائن پارک میں گزشتہ ماہ اس منصوبے پر پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر کام شروع کیا گیا تھا۔پائلٹ پروجیکٹ سے تھرڈ پارٹی انجینئرنگ نتائج حاصل کئے گئے ۔نتائج کامیاب اور حوصلہ افزا ہونے کے بعد اس منصوبے پر اب باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اتاترک ایوینیو پر ایک کلو میٹر پلاسٹک روڈ کو دو دنوں میں مکمل کیا جائے گا ۔ایک کلو میٹر پلاسٹک روڈ پر 170 ٹن پلاسٹک ویسٹ استعمال ہوگا .پلاسٹک روڈ روایتی روڈ کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ثابت ہوگی ۔.وزیراعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق پلاسٹک روڈ کی تعمیر سے ماحول پر بھی بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔ملک کے دیگر شہروں میں بھی پلاسٹک روڈ کی تعمیر کے لئے سی ڈی اے معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے۔

    سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی روزافزوں ترقی زندگی کے مختلف شعبوں میں تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہے۔ ان میں تعمیراتی شعبہ بھی شامل ہے۔ آج چین سمیت چند ممالک میں تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے مکانات اور بلند و بالا عمارات تعمیر کی جارہی ہیں۔

    چند برس پہلے تک کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے ’ چھاپی‘ گئی دیواروں اور چھتوں کو جوڑ کر چند گھنٹوں میں مکان تعمیر کرلیا جائے گا۔ اسی تصور کی بنیاد پر ہالینڈ کی ایک کمپنی نے ’جوڑ دار‘ سڑک بنانے کے پروجیکٹ پر کام شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بڑے بڑے ٹکڑوں کو زمین پر بچھاکر سڑک کی شکل دی جائے گی، مگر خاص بات یہ ہے کہ ٹکڑے اسفالٹ یا کنکریٹ کے نہیں بلکہ پلاسٹک کے ہوں گے!

    وولکر ویسلز نامی تعمیراتی کمپنی کے مطابق ’ پلاسٹک روڈ‘ کی تعمیر کے منصوبے سے ان کا مقصد اسفالٹ سے بنی روایتی سڑکوں کا متبادل پیش کرنا ہے۔ اس کی ضرورت یوں پیش آئی کہ روایتی میٹیریل سے تیار کردہ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ان کی مرمت یا نئے سرے سے تعمیر میں خاصا وقت صرف ہوتا ہے۔
    اس کے علاوہ تعمیر و مرمت پر آنے والی لاگت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اکثر ملکوں میں شہری ادارے بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے مرمت کے کام یا نئی سڑک تعمیر نہیں کر پاتے اور لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں تاخیر کی وجہ سے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ ان پر گڑھے پڑ جاتے ہیں جو حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹریفک جام رہتا ہے اور گڑھوں کی وجہ سے گاڑیوں کی باڈی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

    مذکورہ بالا صورت حال کا تدارک کرنے کے لیے ہی ڈچ کمپنی پلاسٹک روڈ کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ منصوبے کے تحت پلاسٹک کی بڑی بڑی ٹائلیں بنائی جائیں گے اور انھیں Lego bricks کی طرح آپس میں جوڑ کر زمین پر بچھایا جائے گا۔ اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے مطابق اس طریقے سے تیار کردہ سڑکیں منفرد اور کئی لحاظ سے عام سڑکوں سے مختلف ہوں گی۔ عام سڑکوں کی تیاری میں اسفالٹ یا تارکول استعمال ہوتا ہے۔

    اسے گرم کرنے سے فضا میں آلودگی اور مضر صحت گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس پلاسٹک روڈ کے لیے بنائے گئے ٹکڑے ماحول دوست ثابت ہوں گے، کیوں کہ یہ ری سائیکل شدہ پلاسٹک سے بنائے جائیں گے۔ اس طرح ان سے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    پلاسٹک روڈ کے کسی حصّے کے خراب ہوجانے کی صورت میں صرف اس ٹکڑے کو اکھاڑ کر اس کی جگہ پر نئی ٹائل لگا دی جائے گی۔

    تعمیراتی کمپنی کے مطابق پلاسٹک روڈ ایک کم لاگت منصوبہ ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ کسی وجہ سے نقصان پہنچنے پر اس کی مرمت پر بھی عام سڑکوں کے مقابلے میں اخراجات کم ہوں گے۔ پلاسٹک روڈ کی ایک اور خاصیت شدید درجۂ حرارت میں بھی اس کی شکل و صورت کا برقرار رہنا ہے۔ جب درجۂ حرارت 45 ڈگری سیلسیئس سے بڑھ جاتا ہے تو تارکول سے بنی سڑکیں اپنی شکل و صورت برقرار نہیں رکھ پاتیں۔

    یہ گویا پگھلنے لگتی ہیں اور انھیں اصل حالت میں واپس لانے پر بھی کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس پلاسٹک روڈ کے لیے تیار کی گئی ٹائلیں منفی 40 ڈگری سے لے کر 80 ڈگری سیلسیئس تک درجۂ حرارت برداشت کرسکیں گی۔ علاوہ ازیں ٹائلیں کم وزن ہوں گی، نتیجتاً عام سڑک کے مقابلے میں زمین پر کم بوجھ پڑے گا اور زیرزمین بجلی کی کیبلز اور پانی، گیس اور نکاسی آب کی لائنیں بچھانا بھی آسان ہوگا۔

     

     

  • بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

    بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

     

    نئی دہلی:بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہر روز کسی فوجی جوان اور افسرکی خودکشی کی خبر آرہی ہے ، ادھر اسی حوالے سے بھارت نے فورسز میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے وزارت داخلہ کے سینئر افسروں مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کر لی ہے۔

     

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ٹاسک فورس کی سربراہی بھارتی سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ کر رہے ہیں جب کہ بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف، ایس ایس بی اور آسام رائفلز کے خصوصی یا ایڈیشنل ڈی جی فورس کے رکن کے طور پر کام کریں گے۔ٹاسک فورس انفرادی سطح پر متعلقہ خطرے کے عوامل اور حفاظتی عوامل کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گی۔

     

     

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے اگست تک اپ ڈیٹ کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) یا مرکزی نیم فوجی دستوں کے 680 اہلکاروں نے خودکشی کی۔وزارت داخلہ کی طرف سے ٹاسک فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ خطرے والے عوامل کی نشاندہی کرے جیسے فورسز اہلکار کی طرف سے ماضی میں خودکشی کی کوشش، شخصیت کی خاصیت کے طور پر جذباتیت، ذہنی بیماری، شراب یا منشیات کا استعمال، جارحانہ رجحانات، شدید جذباتی بحران، شدید جسمانی بیماری یا دائمی جسمانی بیماری۔

     

     

    بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ٹاسک فورس فورسز میں خودکشیوں کے مسئلے کو جامع طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر ے گی

  • عرب امارات فلک بوس عمارتوں کی سرزمین نہیں ہے بلکہ کردارکی بلند و بالا شخصیات کا گہوارہ بھی ہے:سید بخاری

    عرب امارات فلک بوس عمارتوں کی سرزمین نہیں ہے بلکہ کردارکی بلند و بالا شخصیات کا گہوارہ بھی ہے:سید بخاری

    لاہور:عرب امارات صرف بادل چھیدنے والی فلک بوس عمارتوں کی سرزمین نہیں ہے بلکہ بلند و بالا شخصیات کا گہوارہ بھی ہے:اطلاعات کے مطابق آج عرب امارات میں اس ملک کے قیام کی 50 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے اور اس مناسبت سے عرب امارات کی طرح پاکستان میں بھی خوشیاں منائی جارہی ہیں‌

    اسی مناسبت کے حوالے سے معروف سماجی شخصیت سید شیراز بخاری جو کہ عرب دنیا کے حوالے سے بہت زیادہ معلومات رکھتے ہیں‌آج پھرایک خوبصورت بات کی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عرب امارات کا چپہ چپہ چھان مارا ہے ، وہاں انہوں نے صرف فلک بوس عمارتیں ہی نہیں دیکھی بلکہ فلک بوس عرب دنیا کی وہ شخصیات بھی دیکھی ہیں جو خدمت انسانیت میں بہت زیادہ بلندوبالا ہیں‌

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عرب امارات صرف بادل چھیدنے والی فلک بوس عمارتوں کی سرزمین نہیں ہے بلکہ بلند و بالا شخصیات کی بھی ہے۔ میں کبھی نہیں بھول سکتا کہ کس طرح میری والدہ کی جان ایک بار شک زید ہسپتال لاہور میں اور حال ہی میں شیخ رشید ہسپتال دبئی میں بچائی گئی۔

    سید شیرازبخاری کہتے ہیں کہ سچ یہ ہے کہ عرب امارات کے یہ صرف نام نہیں ہیں، یہ وہ افسانے ہیں جنہوں نے ایک قوم کی تعمیر کی اور آج وہی قوم ایک درخشندہ ستارہ بھی ہے جو دنیا بھر میں چمک رہا ہے

    یاد رہے کہ آج عرب امارات جسے 7 ملکوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے اپنے قیام کی 50 سالگرہ منارہے ہیں اور اس سلسلے میں‌ آج عرب امارات میں رنگ برنگ دنیا نظر آرہی ہے ، پاکستان بھی آج اپنے برادرملک کے قیام کی 50 سالگرہ منارہا ہے اور امید کی جاری ہے کہ پاکستان اور عرب امارات کے درمیان یہ رشتے اور محبت مزید بڑھے گی

  • بلدیاتی ملازمین کی ہڑتال کے باعث شہر قائد میں کچرے کے ڈھیر

    بلدیاتی ملازمین کی ہڑتال کے باعث شہر قائد میں کچرے کے ڈھیر

    کراچی: بلدیاتی ملازمین کی ہڑتال کے باعث کچرا اٹھانے کا کام رکنے سے شہر میں کچرے کے ڈھیر لگنے لگے۔ بلدیاتی عملے نے کچرا اٹھانے اور سیوریج کا کام چھوڑ رکھا ہے ۔

    کراچی سمیت سندھ بھر میں بلدیاتی ملازمین نے تنخواہوں کے معاملے پر ہڑتال کررکھی ہے جس سے شہر کے مختلف علاقوں میں کچرے کے انبار لگنا شروع ہوگئے ہیں بلدیاتی عملے نے کچرا اٹھانے اور سیوریج کا کام احتجاجاً چھوڑ رکھا ہے جس سے شہر کے گلی محلوں میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں ۔

    شہریوں کا کہنا ہےکہ دو تین روز سے بلدیاتی عملہ کچرا اٹھانے نہیں آرہا جس سے گلی محلوں میں بدبو پھیل رہی ہے اور بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے دوسری جانب بلدیاتی ملازمین کا کہنا ہے کہ او زیڈ ٹی کی کمی کے باعث کٹوتی سے ہر ماہ 35 فیصد تنخواہوں سے محروم ہورہے ہیں ۔

    ورکرز فیڈریشن اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔

    بلدیاتی ملازمین کی ہڑتال کےباعث جہاں کراچی میں صورتحال انتہائی خراب ہے وہیں حیدرآباد ، سکھر ،لاڑکانہ، نواب شاہ اور سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی صفائی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔

    واضح رہے کہ بلدیاتی ملازمین کی جانب سے آڈیٹر جنرل آف سندھ کےذریعے ٹریژری سےتنخواہیں دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

  • کراچی میں دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ فوٹیج منظر عام پر آگئی

    کراچی میں دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ فوٹیج منظر عام پر آگئی

    کراچی : کراچی میں دن دیہاڑے ٹارگٹ کلنگ ، فوٹیج منظر عام پر آ گئی

    سندھ بار کونسل کے سیکرٹری عرفان مہر کے قتل کی فوٹیج منظرعام پر آ گئی ۔ ٹارگٹ کلرز نے دیدہ دلیری سے گاڑی کو روکا اور گولیاں برسادیں، کار میں موجود بچہ محفوظ رہا
    تفصیلات کے مطابق ژکراچی کے علاقے گلستان جوہر میں بچی کو اسکول چھوڑنے جانے والے سیکریٹری سندھ بار کونسل کو موٹر سائیکل سوار دو ملزمان نے کار پر فائرنگ کرکے قتل کردیا ریسکیو ذرائع کے مطابق عرفان مہر کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ گلستان جوہر بلاک 13 میں پیش آیا، عرفان علی مہر کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے پولیس کے مطابق ملزمان نے عرفان پر پے در پے کئی گولیاں ماریں اور فرار ہو گئے جبکہ وکیل رہنما نعیم قریشی ایڈووکیٹ کے مطابق 45 سالہ عرفان مہر گلستان جوہر کے رہائشی تھے اور اپنی بچی کو کار میں اسکول چھوڑنے کے لیے بلاک 13 میں پہنچے تو واپسی پر موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان نے انہیں کار میں ہی نشانہ بنایا ۔

  • افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    کابل، تہران: افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا ،اطلاعات کےمطابق افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، یہ جھڑپ مغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کُنگ میں ہوئی ہے۔

     

     

    افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ نمروز کے سرحدی ضلع میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں۔ لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ کا بھی استعمال کیا گیا۔

     

    مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے تین سرحدی چوکیوں پر قبضہ کا دعوی کیا گیا ہے، جبکہ طالبان نے مزید فوجی کمک بھی طلب کرلی ہے۔مقامی افغان صحافیوں کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔

    طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلال کریمی نے جھڑپوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ لڑائی کے دوران بعض طالبان فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، لیکن ایران کی جانب کسی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغان اور ایرانی سرحد پر یہ پہلی جھڑپ ہے۔دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں غلط ہیں، طالبان نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایرانی کسانوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔

     

     

  • شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ٹکٹ جاری دیا گیا

    شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ٹکٹ جاری دیا گیا

    اسلام آباد:شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ٹکٹ جاری دیا گیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔

    شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنانے کے لیے انہیں سب سے پہلے سینیٹر منتخب کروایا جائے گا جس کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انہیں سینیٹر بنوانے کے لیے ٹکٹ جاری کر دیا ہے،

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عامر کیانی نے دستخط کے بعد ٹکٹ جاری کردیا ، وہ خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹ الیکشن لڑیں گے۔ جس کے لیے مشیر خزانہ کل اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محمد ایوب نے سینیٹر کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد انہیں وزیراعظم عمران خان کا معاون خصوصی بنایا گیا تھا، ان کی اس سیٹ پر شوکت ترین سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا نے سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست کے لئے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا، سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی۔

    الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کاکہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 2 دسمبر 2021 تک ہے، 11 دسمبر کو کاغذات جمع کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری ہوگی۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے شوکت ترین کو اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے چھ ماہ کے وزیر خزانہ بنایا تھا اور امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سینیٹر اسحق ڈار کی سیٹ کی ڈی نوٹیفائی کر کے ان کی جگہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنایا جائے گا تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان نہ مل سکا جس کے باعث انہیں مشیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔