Baaghi TV

Author: +9251

  • پٹرول پمپس کی ملک بھر میں ہڑتال، کہیں پٹرول پمپس کُھلے تو کہیں بند:پٹرول پمپس پرلمبی قطاریں

    پٹرول پمپس کی ملک بھر میں ہڑتال، کہیں پٹرول پمپس کُھلے تو کہیں بند:پٹرول پمپس پرلمبی قطاریں

    لاہور:پٹرول پمپس کی ملک بھر میں ہڑتال، کہیں پٹرول پمپس کُھلے تو کہیں بند:پٹرول پمپس پرلمبی قطاریں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ملک بھر میں ہڑتال جاری ہے، کئی شہروں میں کہیں پٹرول پمپس کھلے تو کہیں بند ہیں، جہاں پٹرول دستیاب وہاں لوگوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں، نئے بحران پر شہری پریشان ہیں.

    یاد رہےکہ پچھلے کئی دنوں سے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے کمیشن مارجن کو 6 فیصد کرنے کے مطالبے کو برقرار رکھتے ہوئے آج ہڑتال کا اعلان کررکھا تھا۔

    صبح صبح ملک بھر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ عوام کی طرف سے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے طرز عمل کی سخت مذمت کی جارہی ہے اور دوسری طرف اس مشکل وقت میں عوام الناس کو سہولت فراہم کرنے والے پٹرول پمپس مالکان کو دعائیں دی جارہی ہیں

    دوسری طرف ترجمان وزارت پٹرولیم نے کہا کہ ملک بھر میں آج تمام پٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔ ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ وزارت توانائی پٹرولیم ڈویژن نے پٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن کو بڑھانے کےلئے کیس ای سی سی بھیجوا دیا، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈیلرز کے مارجن میں مناسب اضافے کے لئے وزارت کوشاں ہے.

    وزارت پٹرولیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آئل سیکٹر کی مختلف تنظیموں نے وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ عوام کو کوئی فکر کرنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

    ترجمان پی ایس او کے مطابق ملک بھرمیں پی ایس او کے پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے، حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں، پیٹرول پمپس پر فیول کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ پی ایس او کی سپلائی چین بھرپور طور پر فعال ہے اورپی ایس او عوام کی خدمت کے لیے ہمیشہ کی طرح مستعد ہے۔

    ادھر آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

    ترجمان اوگرا کے مطابق صورتحال کی مانیٹرنگ کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، ڈیلرز مارجن میں اضافے سے متعلق چند عناصر پٹرول کی سپلائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تمام آؤٹ لیٹس پر پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ تیل سپلائی میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ادھر مختلف علاقوں سے یہ بھی خبریں مل رہی ہیں کہ پٹرول پمپس پرلمبی لائنوں کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں لیکن اس کےباوجود شہری مطئمن دکھائی دے رہےہیں،

     

  • اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا آرڈیننس جاری:طریقہ کار بھی وضع کردیا گیا

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا آرڈیننس جاری:طریقہ کار بھی وضع کردیا گیا

    اسلام آباد :اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا آرڈیننس جاری:طریقہ کار بھی وضع کردیا گیا،اطلاعات کےمطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا آرڈیننس جاری کر دیا ۔

    ذرائع کے مطابق صدر پاکستان کی طرف سےجاری 109 صفحات پر مشتل آرڈیننس کے مطابق اسلام آباد بلدیاتی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور آئی ووٹنگ کا استعمال کیا جائے گا جبکہ بلدیاتی حکومت کے میئر کااسلام آبادکیپیٹل ٹیریٹری( آئی سی ٹی) سے براہ راست انتخاب ہوگا۔

    صدارتی آرڈیننس کے مطابق آئی سی ٹی کی میٹروپولیٹن کارپوریشن ، نیبر ہیڈ کونسل ہو گی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن میں آئی سی ٹی کے سوائے کنٹونمنٹ کے تمام علاقے ہوں گے جبکہ ہر نیبر ہیڈ کونسل کی آبادی 20ہزار ہو گی ۔

    اس کے علاوہ اسلام آباد بلدیاتی حکومت کا براہ راست منتخب میئر ہو گا جبکہ اسلام آباد میں بلدیاتی حکومت اور نیبر ہیڈ کونسل کی مدت 4 سال ہو گی اور میئر اسلام آباد کی کابینہ 12 رکنی ہو گی۔

    آرڈیننس کے مطابق آئی سی ٹی کونسل کے ارکان کی تعداد 70 ہو گی اور الیکشن میں حصہ لینے کے لیے امیدوار کی عمر 22 سال سے کم نہیں ہوگی جبکہ یوتھ ممبر کی عمر 18 سے 25 سال ہوگی۔

    نیبر ہیڈ کونسل میں جنرل ممبر ، خواتین ،اقلیت، یوتھ اور بزرگ شہری شامل ہوں گے اس کے علاوہ آئی سی ٹی کونسل میں خواتین ،اقلیتی ارکان ، نوجوان ، تاجر ،لیبر کسان اور بزرگ شہری شامل ہوں گے۔

    یاد رہےکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کے پی ، بلوچستان،سندھ اوراسلام آباد میں‌ بلدیاتی انتخابات کروانے کے حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ اس حوالے سے حتمی مرحلے کی تفصیلات بھی جلد پیش کردی جائیں گی

  • پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی : وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔حاملہ خواتین کی خوراک، فوڈ سپلیمنٹ کو ممکن بنایا جائیگا۔تین سال تک ہم حاملہ خواتین کی کیئر کرینگے۔بچے کی گروتھ کو پراپر بنایا جائیگا۔ڈاکٹرز کی کمی کو دور کیا جائیگا۔
    یہ بات انہوں نے بدھ کو وزیراعلی ہاؤس میں سی ایم سیکریریٹ کی جانب سے شروع کئے گئے "سوشل پروٹیکشن اسٹریٹیجی یونٹ” کے تحت منعقدہ مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ پروگرام میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور مختلف محکموں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔
    انہوں نے کہا کہ آج کا یہ ایونٹ بہت اہم ہے۔
    سوشل پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے ہمارے کیا مقاصد ہیں اس بارے میں بتایا جا چکا ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ آج چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اس پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے لیکر دیگر پروگرام اسکی مثالیں ہیں اوریہ ہمارے الیکشن منشور کا حصہ تھا۔
    انہوں نے کہا کہ صوبے کے لوگوں نے جب دوبارہ ہمیں منتخب کیا تو ہم نے اپنے منشور پر کام شروع کیا اور کرنا بھی تھا۔2019 اور 2020 کے دوران صوبے میں فلڈ اور کورونا کی صورتحال سے مسائل پیدا ہوئے ۔کہیں زلزلہ اور سیلاب آتا ہے تو ہمارے پاس پراپر ڈیٹا موجود نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس پر کام شروع کیا اور سوشل رجسٹری کی۔ مردوں کو تو رجسٹرڈ کرلیا جاتا تھا مگر خواتین سے متعلق یہ مشکل ٹاسک ہوتا تھا ہم نے اسکو ممکن بنایا۔
    انہوں نے کہا کہ حمل سے لیکر بچے کی پیدائش تک ہمیں اس کو لیکر چلنا ہے کہ بچے کو کس قسم کی خوراک اور ادویات کی ضرورت ہوگی۔حاملہ خواتین کی خوراک، فوڈ سپلیمنٹ کو ممکن بنایا جائیگا۔تین سال تک ہم حاملہ خواتین کی کیئر کرینگے۔بچے کی گروتھ کو پراپر بنایا جائیگا۔ڈاکٹرز کی کمی کو دور کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو ابتدائی طور پر دو اضلاع اور اگلے دو سال تک پورے صوبے میں پھیلایا جائیگا۔
    اس کے علاوہ دیگر پروگرامز بھی ہیں جن پر ہم کام کررہے ہیں۔انشااللہ اس پروگرام کو ملک کے دیگر حصوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکورٹی، بے زمین ہاری، سمیت کئی پروگرامز پر کام جاری ہے۔ہمارا الیکشن منشور پورے ملک کیلئے تھا۔بدقسمتی سے ہم پورے ملک میں نہیں آسکے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی ہر خامی کا الزام ہم ڈال دیتے ہیں۔
    مہنگائی پورے ملک میں ہے اور انہوں نے صوبہ سندھ کو ٹارگٹ بنارکھا ہے ۔یہ آٹے چینی، دال گھی چار اشیا پر سبسڈی کی بات کرتے ہیں مگر عوام کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام میں رجسٹر ہونے کے لئے اسمارٹ فون ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پہلے غریب آدمی اسمارٹ فون کہاں سے لائیگا لگتا ہے پہلے یہ اسمارٹ فون کی فروخت بڑھانا چاہتے ہیں۔
    وہ کہتے ہیں آٹے پر 20روپے مثال کے طور پر سبسڈی دینگے۔اس پر ایشوز آئینگے پھر وہ کیسے اس پروگرام کو مینج کرینگے۔اس پروگرام میں بدعنوانی کا عنصر ہوسکتا ہے۔ہم نے انہیں کیش پروگرام شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔رجسٹرڈ افراد اپنی مرضی سے خریداری کرسکیں گے یا اپنے بچوں کی فیس دے سکیں گے۔بے نظیر پروگرام اسکی بہترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ نام بدل بھی لیں مگر پھر بھی لوگوں کی دلوں سے بے نظیر بھٹو کی محبت کو مٹا نہیں سکتے۔
    کل الزام دید یا کہ سندھ سے 16لاکھ میٹرک ٹن گندم چوری ہوگئی۔انھوں نے کہا کہ اتنی تو ہم نے ذخیرہ بھی نہیں کی تھی ۔16 لاکھ تو کیا سولہ کلو بھی چوری نہیں ہوئی۔پرائیویٹ ملاقاتوں میں انکے لوگ کیا کہتے ہیں وہ میں کوٹ نہیں کرونگا۔انہوں نے کہا کہ یہ اسلام آباد میں غلط طریقے سے سلیکٹ ہوکر بیٹھا ہے۔وفاق میں جو لوگ جس طرح بھی آئے وہ عوام کا سوچیں تو بہتر ہے۔
    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے حالات کو دیکھ کرملازمین کی کم از کم تنخواہ پچیس ہزار کی۔ہمیں علم نہیں تھا کہ یہ ملک کی یہ حالت کردینگے۔ہمیں اپنی قیادت کی طرف سے ہدایت ہے کہ غریب کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہا کہ کم از کم اجرت 25 ہزار نہیں رہے گی بلکہ یہ بڑھے گی۔وفاقی حکومت بھی اس طرف دھیان دے ۔وزیراعلی سندھ نے تقریب میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے تشکر کا اظہار کیا۔
    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ پائلٹ پروجیکٹ پہلے مرحلے میں تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع میں شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو دیگر اضلاع میں بھی شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ عالمی ادرہ صحت کے عین اصولوں کے تحت شروع کیا جارہا ہے۔ یہ سہولیات ماں اور بچے کیلئے ہونگی۔انہوں نے کہا کہ دوران حمل ماں کا مفت چیک اپ کے ساتھ 1000 روپیہ وظیفہ بھی دیا جائیگا۔
    یہ پروگرام بچوں کی نشو نما اور ماں کی صحت کیلئے شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان میں "Stunting” بچوں کا قد نہ بڑھنے کی شرح 38 فیصد ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ایک لاکھ ماں میں سے دوران زچگی 189 مائیں انتقال کرجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ماں اور بچوں کیلئے سپورٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ زچگی کے شروع کے دنوں سے لیکر بچوں کی نشونما تک مکمل سہولیات دی جائینگی۔
    ماں کے ہر چیک اپ پر ان کو 1000 روپیہ وظیفہ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام بچے کی پیدائش سے پہلے کا چیک اپ، پیدائش، بچے کی نشونما اوربچے کی ویکسی نیشن تک جاری رہے گا۔ یہ پروگرام بچے کی نشو نما سے لیکر 2 سال کی عمر تک جاری رہے گا۔ حاملہ خواتین کو فوری طور پر اپنے صحت کے مراکز پر جانا ہوگا۔ ماں کی رجسٹریشن کیلئے ایم آئی ایس سسٹم کی اپلیکیشن متعارف کرائی گئی ہے۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعہ حاملہ خاتوں کا مکمل طور پر کمپیوٹرائیز ریکارڈ بنتا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے حاملہ خاتوں کو جاز کیش کے ذریعہ 1000 روپیہ ہر وزٹ پر فراہم کیا جائے گا ۔

  • کراچی والوں کو نئے سال کا تحفہ نہیں ملے گا

    کراچی والوں کو نئے سال کا تحفہ نہیں ملے گا

    کراچی والوں کو نئے سال کا تحفہ نہیں ملے گا، شہر قائد کا سب سے پہلا جدید ماس ٹرانزٹ منصوبہ گرین لائن مزید تاخیر کا شکار ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق 2 ہفتے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ دنیا کے سب سے تباہ حال پبلک ٹرانسپورٹ نظام والے شہر کراچی کے پہلے اور جدید ماس ٹرانزٹ منصوبے کو آپریشنل کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
    دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان رواں ماہ کراچی گرین لائن بس منصوبے کا افتتاح کر دیں گے، اس حوالے سے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزیراعظم کو خصوصی بریفنگ بھی دی۔ تاہم اب نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران گرین لائن منصوبے کے افتتاح کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔ گرین لائن ٹریک پر تعمیر شدہ کئی اسٹیشنز کی حالت انتہائی خراب ہے، جہاں سے قیمتی الیکٹرانک اور دیگر سامان چوری کیا جا چکا۔

    وفاقی وزراء گرین لائن منصوبے کے افتتاح کی کئی تاریخیں دے چکے، تاہم تاحال منصوبہ آپریشنل نہیں ہو سکا۔ یاد رہے کہ کراچی گرین لائن بس منصوبے کیلئے 80 جدید بسیں کراچی پہنچ چکی ہیں۔ منصوبے کیلئے چین میں تیار کی جانے والی جدید بسیں 2 علیحدہ شپ منٹس کے ذریعے کراچی پہنچائی گئیں۔ حکام کے مطابق پہلے فیز میں گرین لائن بسیں سرجانی ٹائون سے نمائش چورنگی(گرومندر)تک چلائی جائیں گی، جہاں اب تک ٹریک مکمل ہوچکا ہے۔
    واضح رہے کہ یہ منصوبہ 2016 میں شروع ہوا تھا۔ کراچی گرین لائن منصوبے کے لیے بسیں فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق کراچی کی بسیں لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں چلنے والی بسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جدید ہیں، یہ بسیں یورو تھری معیار کی اور ہائبرڈ ہیں ، ان میں ڈیزل کے ساتھ خودکار طریقے سے چارج ہونے والی بیٹری بھی استعمال ہوگی جس سے ایندھن کی بچت کے ساتھ ماحول کو بھی فائدہ ہوگا۔
    بسوں میں خصوصی سسٹم نصب ہے جو انجن میں آگ لگنے کی صورت میں خودکار طریقے سے آگ بجھائے گا۔18 میٹر لمبی بسوں میں 40 نشستیں ہیں۔ کھڑے ہوکر اور نشستوں پر بیک وقت 150 افراد سفر کرسکیں گے، زیادہ رش کی صورت میں 190 مسافروں کی گنجائش ہوگی۔ بسوں میں معذور افراد کے لیے جگہ خصوصی ہے اور خودکار ریمپ نصب ہے۔ ہر بس میں دو وہیل چیئرز کی جگہ مخصوص ہے۔ بسوں میں خواتین اور معذور افراد کیلئے مخصوص نشستیں ہوں گی۔ کراچی گرین لائن ٹرانسپورٹ منصوبے کے لیے بنائی گئیں ہائبرڈ بسیں چین میں تیار کی گئی ہیں۔کراچی کی روائتی لوکل بسوں کی نسبت یہ بسیں لمبی اور مکمل ایئرکنڈیشنڈ ہوں گی۔ ہر بس میں 200 سے 250 افراد کے سفر کرنے گنجائش موجود ہے۔

  • پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن کا روا دار ہے: شاہ محمود قریشی

    پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن کا روا دار ہے: شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن وآشتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہے۔ مغرب اظہار رائے کی آزادی کے غلط استعمال کی حوصلہ افزائی نہ کرے،اسلام امن کا دین ہے جو تشدد وانتہائ پسندی کو قبول نہیں کرتا۔مختلف تہذیبوں کے گہوارے کے طور پر پاکستان،مختلف ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔

    وہ بدھ کو یہاں عالمی بین المذاہب امن کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ انتہا پسندی، بالادست نظریات، تنازعات اور دیرینہ جھگڑوں سے تقسیم درتقسیم کا شکار آج کی دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی نے نہایت کلیدی اہمیت اور خاص حیثیت حاصل کرلی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شرانگیز پراپیگنڈے کے باوجود دنیا میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اسلام امن کا دین ہے جو تشدد وانتہاء پسندی کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے فروغ یا حوصلہ افزائی کی ترغیب دیتا ہے۔ اسلام نسلی برتری کے نظریات اور رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ تہذیبوں کے درمیان حقیقی مکالمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کی آج ہمیں جس قدر ضرورت ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تحمل وبرداشت، ہم آہنگی اور اقلیتوں کی ثقافت واقدار کے احترام کی شاندار روایات کا امین ہے۔

    ہمارے قومی پرچم میں موجود سبز اور سفید رنگ بین المذاہب ہم آہنگی کی روح کی عکاسی کرتا ہے اور ہمارے آئین میں ضمانت کے طورپر درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صوفیاءکرام کی دھرتی ہے جنہوں نے،انسانیت کے احترام، رحم دلی، ہمدردی اور بھائی چارے کا پیغام ہر سو پھیلایا۔ مختلف تہذیبوں کے گہوارے کے طور پر پاکستان،مختلف ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی تحمل وبرداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے وڑن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، پاکستان نے سکھ بھائیوں کے لئے کرتارپور راہداری کھولی۔ اسی طرح دیگر مذاہب کے مذہبی مقامات کے تحفظ اور تہواروں کے فروغ کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ اور جاری رہیں گی۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کی سوچ اور کوششیں ان پالیسیز اور اقدامات سے قطعی برعکس ہیں جن پر ’بی۔جے۔پی‘ کی نسل پرست حکومت، عمل پیرا ہے۔اقلیتوں سے عام طور پر اور کشمیریوں سے خاص طورپر ناروا سلوک بھارت کے سیکولر اور جمہوری ملک ہونے کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔

    دنیا کو، بھارتی حکومت کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے اسی نوع کے واقعات ،علاقائی امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن وآشتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہے۔

    کورونا کی عالمی وبا نے، ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی مواقع فراہم کیے ہیں۔ اسی سے یہ شعور بیدار ہوا ہے کہ تنازعات اور عدم برداشت ترک کرکے ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دیا جائے جو بنی نوع انسان کی بقا کی کلید ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مغرب اظہار رائے کی آزادی کے غلط استعمال کی حوصلہ افزائی نہ کرے اور نہ ہی ایسے رویوں سے صرف نظر کیاجائے جن سے دو ارب کے قریب مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے اعلی ترین فورمز پر اس نیک مقصد کو پوری شدت اور قوت سے اجاگر کیا ہے۔وزیر خارجہ نے تووع ظاہر کی کہ ہمارے علما کرام اور مشائخ عظام، پاکستان کے اندر اور دنیا بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں گے

  • گورنر بلوچستان  سے  بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات

    گورنر بلوچستان سے بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات

    کوئٹہ:گورنر بلوچستان سے بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات،اطلاعات کے مطابق گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا سے عبدالمالک کاکڑ کی قیادت میں بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ملاقات کی ہے

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز کو درپیش مشکلات، وفاق میں بلوچستان کیلئے مختص کوٹہ پر تعینات ہونے والے جعلی ڈومیسائل کی منسوخی کے عمل کو تیز کرنے، وفاق اور صوبوں کے درمیان ملازمین میں توازن قائم کرنے کے امور زیر غور آئے.

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا کہ معاشرے کے صاحب اختیار اور ذمہ دار افراد میں اپنی احساس ذمہ داری سے غفلت سب بڑی تباہ کن سوچ ہے.

    اس موقع پر گورنربلوچستان نے کہا کہ گوڈ گورنینس کو قائم اور برقرار رکھنے میں سرکاری آفیسروں کا کلیدی کردار ہے. ہمیں ماضی کی غلط روایات اور فرسودہ طریقہ کار کے مکمل خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھانے ہونگے. آفسرز کو کسی دباﺅ میں آنے کی بجائے ایک سچے خادم کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔

    گورنر بلوچستان نے اس موقع پر کہا کہ ذہن نشین رہے کہ تمام سرکاری آفسرز عوام کے حاکم نہیں بلکہ خادم ہوتے ہیں.بعض سرکردہ افراد اپنے حقیر ذاتی مفاد کے حصول کیلئے مفاد خلق اور پورے اجتماعی نظام کو داو پر لگا دیتے ہیں.گڈ گورننس قائم کرنے اور معاشرے کو ناجائز سفارشوں اور کرپشن سے پاک رکھنے میں آفیسرز حضرات اپنا کرد ار ادا کریں‌، گورنر بلوچستان نے بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز کو ان کے تمام قانونی حقوق دلوانے کی یقین دہانی کرائی.

  • شافع حسین سے طارق حسن کی ملاقات چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت کی

    شافع حسین سے طارق حسن کی ملاقات چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت کی

    کراچی :شافع حسین سے طارق حسن کی ملاقات چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت کی،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم پاکستان چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری شافع حسین سے مسلم لیگ سندھ کے اہم رہنماوں نے ملاقات کرکے چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی

    ذرائع کے مطابق صدر محمد طارق حسن. سینئر نائب صدر نعمت خان خلجی. کراچی کے صدر محمد جمیل احمد خان . بزنسں ونگ کے سید سفیر اور مسلم لیگ لیڈیز ونگ کی صدر محترمہ نواب ہما ٹالپر صاحبہ نے ملاقات کی اور پارٹی قائد چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت اور عیادت کی انکی مکمل صحت و تندرستی کیلئے خصوصی دعائیں کیں

    اس موقع پر چوہدری شافع حسین نے کہا کہ والد محترم چوہدری شجاعت حسین کی طبعیت پہلے سے بہتر ہے اس موقع پر مسلم لیگ سندھ کے صدر محمد طارق حسن نے کہا قائد چوہدری شجاعت حسین قومی. سیاسی اور محب وطن رہنما ہیں اس موقع پر صوبہ سندھ کی جانب سے پھولوں کا گلدستہ پیشں کیا.

  • سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کا جنوبی پنجاب کے لیے پیکج

    سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کا جنوبی پنجاب کے لیے پیکج

    ملتان:سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کا جنوبی پنجاب کے لیے پیکج ،اطلاعات کے مطابق سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود نے کہا ہے کہ تونسہ میں بیوٹیفیکیشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ پی ایچ اے کی چار اسکیموں پرترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔ تونسہ پارک میں عوامی سہولیات کی تمام اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔ صاف پانی اور سیوریج کی سکیموں پر خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار تونسہ میں پی ایچ اے،پی ایچ ای، سیوریج، ٹف ٹائلز، لائٹس، ہسپتال اور بیوٹیفیکیشن پلان کے معائنے اور بریفنگ کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری زاہد اقبال، ڈی جی پی ایچ اے سیف الرحمٰن، اسسٹنٹ کمشنر محمد سعد اور سپرنٹنڈنٹ انجینئر ملک جواد بھی موجود تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تونسہ میں بیوٹیفیکیشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ تونسہ میں پارک کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔پارک کو فیملیز کے لئے ساز گار بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹائلز اور لائٹس کی معیاری انداز میں تنصیب کی جائے۔ شہر میں درختوں کی شجر کاری کو یقینی بنایا جائے انڈس روڈ تونسہ پر درختوں کی شجر کاری کے لئے پی ایچ اے اور پی ایچ ای کو ٹاسک دے دی گیا ہے۔

    پار ک میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائز ہ لیتے ہوئے کہا کہ پارک میں عوامی سہولیات کی تمام اشیاء مہیا کی جائیں۔ جنوبی پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔ عوامی مسائل کا حل موجود ہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تونسہ ہسپتال کے دورہ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ مریضوں کو بہتریں سہولیات مہیا کی جائیں۔ایمبولینس کو فعال رکھا جائے۔ پارک کے دورہ کے موقع پر سیکرٹری ہاؤسنگ نے شجرکاری کے سلسلے میں پودا لگایا اور ملکی سلامتی کے لئے دعا کی۔
    شعبہ تعلقاتِ عامہ

  • ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام ہونے کا خدشہ.

    ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام ہونے کا خدشہ.

    ‏کراچی : ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام ہونے کا خدشہ.

    ذرائع کے مطابق ملک بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ناکام بنانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔
    آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا.
    آئل ٹینکرز کی لاتعلقی سے 80 فیصد پیٹرول پمپ کھلیں رہیں گے۔
    صدر آئل ٹینکرز میر شمس شہوانی نے کہا ہے کہ 26 ہزار آئل ٹینکرز ملک بھر میں سپلائی جاری رکھیں گے.

  • سینیٹ کی قائمہ برائے نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے بڑے اوراہم فیصلے

    سینیٹ کی قائمہ برائے نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے بڑے اوراہم فیصلے

    اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ برائے نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے بڑے اوراہم فیصلے ترامیم بھی کی گئیں ،اطلاعات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن نے اتفاق رائے سے کچھ ترامیم کے ساتھ سینیٹر سیمی ازدی اور سینیٹر سنا جمالی کی جانب سے “دی ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنزاینڈ ٹیشوز (ترمیمی) بل 2021 منظور کرلیا۔

    لیجنڈ کالج ملتان کو این او سی جاری نا کرنے اور پاکستان کونسل آف فارمیسی (پی سی پی )پر رشوت مانگنے کے حوالے سے الزام پر چئیرمین کمیٹی نے سینیٹر حافظ عبدالکریم کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔سینیٹر سناجمالی اور سینیٹرخالدہ عطیب ذیلی کمیٹی کے رکن مقرر۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس سینیٹر محمد ہمایون مہمند کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ کمیٹی کے آغاز میں سیکٹری ہیلتھ کی صحت یابی کیلئے دعا کی گئی۔

    سینیٹرسیمی ایزدی اور سینیٹرثناءاجمالی کی جانب سے پیش کیا گیا پرائیویٹ ممبربل، “دی ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹیشوز (ترمیمی) بل 2021” قائمہ کمیٹی نے بحث کے بعد کچھ ترامیم کے ساتھ اتفاق رائے سےمنظورکرلیا۔چئیرمین کمیٹی کے سوال پر ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کے حکام نے بتایا کہ جو ہسپتال بھی ٹرانسپلانٹ کرے وہ ہوٹا کے پاس رجسٹرڈ ہونا چائیے۔

    انہوں نے بتایا کہ ہوٹا صرف اسلام آباد تک محدود ہے اور اتھارٹی کے پاس 20 رجسٹرڈ ہسپتال ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پبلک سیکٹر میں کوئی ٹرانسپلانٹ نہیں ہو رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپلانٹ سنٹر زیادہ رجسٹرڈ ہونےچائیے۔چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ کیا کوئی ایسا ادارہ ہے جو انسانی اعضا کی پیوندکاری کرتا ہو؟ کوئی ایسا ادراہ موجود نہیں کہ جو ڈونر اور رسیور کو رجسٹر کرے؟ چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ ایک اچھے کام کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

    لیجنڈکالج ملتان کو این او سی جاری نا کرنے اور پاکستان کونسل آف فارمیسی (پی سی پی) پر رشوت کے الزام کا معاملہ بھی کمیٹی میں زیربحث آیا۔سینیٹررانا محمود الحسن نے کمیٹی کو بتایا کہ پی سی پی معیار پر پورا اترنے کے باوجود لیجنڈ کالج ملتان کو این او سی جاری نہیں کررہا انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کیلئے پی سی پی نے 50 لاکھ روپے دینے کا کہا ہے۔ جس پرنائب صدر پی سی پی نے بتایا کہ انکوائری ہونی چاہئے کہ کون ہمارے نام پر پیسے لے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ضابطہ کار پورا نا ہونے کی وجہ سے لیجنڈکالج ملتان کو این او سی جاری نہیں کیا گیا۔کالج میں ضروری الات، کتابیں اور گلاس ویئرناکافی ہیں اور لیب کیلئے جگہ بھی موجود نہیں۔

    چئیرمین کمیٹی نے معاملے کی جانچ پڑتال کیلئے سینیٹرحافظ عبدالکریم کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔چئیرمین کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کو لیجنڈ کالج کا دورہ کرکے رپورٹ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔پی سی پی پر رشوت کے الزام کے معاملے پر ایڈیشنل سیکٹری ہیلتھ نے متعلقہ افراد کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کو ایف آئی اے کے زریعے حل کرائیں گے۔سینیٹر رانا محمود الحسن نے معاملے کو نیب بھجوانے کا مشورہ دیا۔

    قائمہ کمیٹی میں سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے دوا ساز فیکٹریوں کی آلودہ علاقوں میں لگائے جانے کا معاملہ اٹھایاگیا۔انہوں نے کہا فارما فیکٹریز ان علاقوں میں لگائی گئی ہیں جہاں آلودگی کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دواساز فیکٹریاں اسی علاقے میں بنا دی جاتی ہیں جہاں سریا، سرف اور دیگر فیکٹریز موجود ہوتی ہیں۔ فیکٹریاں ہوا کو آلودہ کر رہی ہیں، ایسی میڈیسن فیکٹریز آخر ان علاقوں میں بنتی کیوں ہیں؟ سی ای او ڈریپ نے آلودہ علاقوں میں موجود فارما انڈسٹریز میں بننے والی ادویات کے معیار پر اٹھنے والے سوالات پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔

    انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت فارما انڈسٹری کی سائٹ کو ویریفائی کیا جاتا ہے۔پہلے ہیٹنگ اور کولنگ سسٹم نہ ہونے کے باعث اس قسم کے مسائل زیادہ تھے۔ سال میں کئی بار فلٹرز تبدیل کیے جاتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہیٹنگ اینڈ کولنگ نظام کے تحت باقائدہ مانیٹرنگ کی جاتی ہے کہ کوئی ادویات متاثر نہ ہوں۔ رپورٹس ملنے کی صورت میں سال میں تین چار بار ٹیمیں جا کر فارما فیکٹریز کا معائنہ کرتی ہیں۔ پاکستان کے پاس عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ تین پری کوالیفایڈ لیبز موجود ہیں دو لیبارٹریز مزید منظور ہوجائیں گی۔

    چیرمین کمیٹی نے ڈریپ حکام کو کمیٹی میں زیربحث آنے والی فارما کمپنیوں کا سرپرائز وزٹ کرنے کے بعد رپورٹ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ مریضوں کے مفاد میں ہے اگر کوئی مسئلہ موجود ہے تو اس کو ٹھیک کریں۔

    پولی کلینک ہسپتال کے معاملے پر ذیلی کمیٹی بنانے کا معاملہ موخر کردیا گیا۔

    سینیٹرحافظ عبدالکریم،سینیٹر خالدہ عطیب کے علاوہ سینیٹر سیمی ایزدی، سینیٹر ثناءجمالی اور سینیر محسن عزیز بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے۔ایڈیشنل سیکٹری ہیلتھ، نائب صدر پی سی پی ، سی ای او ڈریپ اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔