Baaghi TV

Author: +9251

  • کےالیکٹرک لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے:کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ اس کا مالک کون ہے؟:سپریم کورٹ

    کےالیکٹرک لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے:کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ اس کا مالک کون ہے؟:سپریم کورٹ

    کراچی :پیسہ ،پیسہ اور بس پیسہ یہ ہے کے الیکٹرک کا ماٹو:بلیک میلنگ بھی اورڈھٹائی بھی:سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس ،اطلاعات کے مطابق کراچی کو بجلی کی فراہمی کرنے والے معروف ادارے کے الیکٹرک کے بارے میں آج سپریم کورٹ کے ریمارکس نے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پی ای سی ایچ ایس میں گرین بیلٹ پر کےالیکٹرک کے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے اور صرف پیسہ بنا رہی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کے الیکٹرک کو کیا گرڈ اسٹیشن گرین بیلٹ پر ہی بنانا تھا؟ جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پی ایس سی ایچ ایس کے وکیل سے پوچھا کہ کے الیکٹرک نے آپکو بجلی دینی تھی اس لیے جگہ دے دی آپ نے؟سماعت کے دوران عدالت نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا۔

    سماعت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وکیل پی ای سی ایچ ایس نے کہا کہ ہم نے قومی مفاد میں کے الیکٹرک کو نارمل ریٹس پر جگہ دی تھی۔جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کس بات کا قومی مفاد، کےالیکٹرک کاروبار کر رہا ہے، کونسی عوامی خدمت کر رہا ہے۔

    وکیل کے الیکٹرک نے کہا کہ آپ کو محمود آباد اور پی ای سی ایچ ایس کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جی ہمیں معلوم ہے ہم سب کرکٹ کھیلتے رہے ہیں وہاں، لیکن گرین بیلٹ پر گرڈ اسٹیشن بنانے کی اجازات نہیں دیں گے۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کے الیکٹرک والے پرائیویٹ لوگ ہیں پتہ نہیں کہاں سے آئے ہیں، جتنے مرضی گرڈ اسٹیشن بنالیں لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوئی، لوگوں کو صرف دو دو، تین تین گھنٹے بجلی ملتی ہے۔

    جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا ہمیں ایک ایک انچ کا پتہ ہے کے الیکٹرک کے، جہاں گرڈ اسٹیشن بنائے گئے وہاں کے لوگوں سے پوچھیں وہاں بھی لوڈ شیڈنگ ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کے الیکٹرک کو گرڈ اسٹیشن ہٹانے کے لیے کتنا وقت درکار ہے؟جس پروکیل کوئی تسلّی بخش جواب نہ دے سکا ، جبکہ اس دوران جسٹس قاضی امین نے وکیل کے الیکٹرک سے استفسار کیا کہ کے الیکٹرک گرڈ اسٹیشن کب ہٹائے گی؟ سادہ سی بات ہے آپ ایک نجی ادارہ ہیں۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک کس کی ہے کسی کو معلوم ہے ہی نہیں، شاید ان کے سی ای او کو پتہ ہو، کے الیکٹرک بورڈز آف ڈائریکٹرز میں صرف یہی کہا جاتا ہے پیسہ پیسہ پیسہ۔

    سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کے وکیل کو گرین بیلٹ پر بنا گرڈ اسٹیشن ہٹانے کے معاملے پر ہدایت لینے کے لیے کل تک کی مہلت دیدی۔

     

     

  • پشاورمیں تحریک انصاف وکلا ونگ کا اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج

    پشاورمیں تحریک انصاف وکلا ونگ کا اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج

    پشاور:پشاورمیں تحریک انصاف وکلا ونگ کا اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج،اطلاعات کے مطابق پشاورمیں تحریک انصاف وکلا ونگ کا اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج بڑی دلچسپ صورتحال اختیارکرگیا ہے

    پشاور سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ انصاف لائرز فورم نے احتجاج کرتےہوئے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اورپھرمظاہرین نےوزیراعظم سے گورنر اور وزیراعلی کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیاہے

    اس موقع پر پی ٹی آئی مظاہرین کا کہنا تھا کہ نااہل گورنر, اور وزیراعلی کی وجہ سے حکومت ناکام ہے۔ مظاہرین اپنے ورکرز کو نظر انداز کرکے دوسرے جماعتوں کے لوگوں کو عہدوں پر بٹھایا گیا۔

    سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل آفس میں دوسرے جماعت کے وکلاء لگائے ہیں۔ سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم شاہ فیصل اگر ان ہی پارٹیوں کے لوگوں کو آگے لانا تھا تو ہمیں تبدیلی کے سبزباغ کیوں دکھائے گئے۔

    سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم شاہ فیصل نے اس موقع پر مزید کہا کہ حکومت ابھی تک ناکام ہے اور اس ناکامی کی وجہ نااہل لوگوں کو بڑے عہدے دینا ہے۔

    سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم شاہ فیصل نے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم اپنا حق لے کر رہیں گے, آئندہ احتجاج وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہوگا۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور گورنر نے ان احتجاجی مظاہرین کے مطالبے کو مسترد کرتےہوئے کہاہے کہ یہ ملک اور ادارے سب کے ہیں ، یہاں کسی کو پارٹی یا وابستگی کی بنیاد پرکسی دوسرے پرفوقیت نہیں دی جاسکتی ، ہاں اگرکوئی میرٹ پر آتا ہے تو پھراس کا شکوہ جائز ہے لیکن کسی کےساتھ کوئی زیادتی نہیں کی گئی

     

     

  • خواتین پر تشدد کی روک تھام کا عالمی دن:مگرکشمیری خواتین پرمظالم جاری

    خواتین پر تشدد کی روک تھام کا عالمی دن:مگرکشمیری خواتین پرمظالم جاری

    لاہور: دنیا بھر میں آج خواتین پر تشدد کی روک تھام کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ایک طرف تو عالمی ایوانوں میں خواتین کے حق میں بلند و بانگ دعوے سنائی دیتے ہیں تو دوسری جانب کشمیری خواتین بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 1989 سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں سفاک بھارتی فوجیوں نے 2 ہزار300 سے زائد کشمیری خواتین کو شہید کیا جبکہ 11 ہزارسے زائد خواتین کے تقدس کو پامال کیا گیا۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق کرونا کی عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، مگر ہمارے ہاں خواتین پر جتنا بھی ظلم ہو، ہم اسے ہمیشہ ہلکا ہی لیا جاتا ہے، ایک طرف تو عالمی ایوانوں میں خواتین کے حق میں بلند و بانگ دعوے سنائی دیتے ہیں تو دوسری جانب کشمیری خواتین بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں۔ عالمی برادری کا دہرا معیار۔ کشمیر کی بیٹیاں بھارتی ظلم و ستم کا شکار۔

    خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے عالمی دن پر بھی کشمیری خواتین مسیحائی کی منتظر ہیں۔ جنت نظیر وادی پر ناجائز بھارتی تسلط کے باعث خوف، دہشت، عدم تحفظ، ظلم و تشدد، سوگ اوراذیت کا شکار کشمیری خواتین کا ہر دن جبر کے سائے میں گزرتا ہے۔ کسی کو بیٹے کی شہادت کا غم مارتا ہے، تو کوئی شوہر کی شہادت کی خبر سن کر بے موت مر جاتی ہے۔ کسی بہن کا بھائی قابض فورسز کی سفاکیت کا شکار ہوتا ہے، تو کسی مظلوم پر خود بھارتی درندے آ جھپٹتے ہیں۔

    25نومبر کو دنیا بھر میں خواتین پرتشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا گیا،مقبوضہ کشمیرمیں کشمیر ی خواتین بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروںکی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔میڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 2201خواتین کو شہید کیا ۔

    بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم700خواتین کو شہید کیا۔1989 میں ہندوستان سے آزادی پسندجدوجہد شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی ، تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، معذور اور قتل کیا گیا۔ کشمیری خواتین دنیا میں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 1989سے اب تک 22ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے 11,142خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والے خواتین بھی شامل ہیں۔

    بھارتی فوج کی چوتھی اجپوتانہ رائفلز کے جوانوں نے 23 فروری 1991 کو جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ایک گاؤں کنن پوش پورہ میں سرچ آپریشن شروع کیا ۔جس کے بعد 23 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خواتین کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ شوپیاں میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی دو خواتین بھی اس میں شامل ہیں

  • پٹرول پمپس کی ہڑتال کےپیچھےکیاسازش ہےحماداظہر      نےسچ سچ بتادیا:شہبازشریف بھی چُپ نہ رہ سکے

    پٹرول پمپس کی ہڑتال کےپیچھےکیاسازش ہےحماداظہر نےسچ سچ بتادیا:شہبازشریف بھی چُپ نہ رہ سکے

    اسلام آباد:پٹرول پمپس کی ہڑتال کے پیچھے کیا سازش ہے حماد اظہر نے سچ سچ بتا دیا،اطلاعات کے مطابق حماد اظہر نے کہا ہے کہ پٹرول پمپس کی ہڑتال کی آڑ میں کچھ گروپس 9 روپے کا اضافہ کروانا چاہتے ہیں، چند کمپنیوں کو نوازنے کے لئے 9 روپے کا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔

    پاکستان بھر میں آج پٹرول پمپس کی ہڑتال پر بڑے دُکھ کا اظہارکرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے اپنے بیان میں کہا کہ جائز مطالبات مانیں گے، ناجائز مطالبات تسلیم نہیں کریں گے، عوام کو پریشان کرنا درست نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطالبہ پر مارجن میں اضافے کی سمری پہلے ہی ای سی سی میں پیش کر دی گئی ہے، آئندہ اجلاس میں اس کا فیصلہ ہو جائے گا لیکن جائز مطالبہ تسلیم کیا جائے گا۔

    حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پٹرول پمپ مالکان کی مشکلات کا احساس ہے، پٹرول پمپ مالکان بھی عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

    دوسری طرف پاکستان کی حزب مخالف جماعتوں کے لیڈرش لیگ کے سرپرست شہباز شریف نے کہا ہے کہ راشن کارڈ، قطاریں، مہنگائی، یوٹرن، جھوٹ نئے پاکستان کی شناختی علامات ہیں، ملک میں گیس کا بحران عمران نیازی کی بدانتظامی اور کرپشن کی وجہ سے ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قطاروں میں کھڑے عوام آج نوازشریف اور پرانے پاکستان کو حسرت سے یاد کر رہے ہیں، ظالم حکمرانوں کی بے حسی غریبوں کے زخموں پر نمک ہے،

    شہبازشریف کہتے ہیں‌ کہ پورے ملک کو تین سال سے نااہلی، نالائقی، کرپشن اور مہنگائی کی سموگ نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، پٹرول، آٹے، چینی اور اشیائے ضروریہ کے لئے قوم کو قطاروں میں دھکے کھاتے دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔

     

     

  • بیٹنگ کوچ پاکستانی ٹیم کوچھوڑ گئے:بابراعظم سوچنے پرمجبورہوگئے

    بیٹنگ کوچ پاکستانی ٹیم کوچھوڑ گئے:بابراعظم سوچنے پرمجبورہوگئے

    ڈھاکہ :بیٹنگ کوچ پاکستانی ٹیم کو چھوڑ گئے:بابراعظم سوچنے پرمجبورہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ واپس چلے گئےہیں‌ تو دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ بنگلاد دیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے بیٹنگ کوچ ساتھ نہیں ہے جس کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ بنگلا دیش کے دورے میں پاکستان ٹیم کو بیٹنگ کوچ کی خدمات حاصل نہیں ہیں کیونکہ میتھیو ہیڈن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد قومی ٹیم کو دستیاب نہیں رہے۔جبکہ پاکستان اور بنگلادیش کی ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ کل سے چٹاگانگ میں شروع ہو رہا ہے۔

    ادھر ڈھاکہ سے ملنےوالی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ورچوئل پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ سیریز میں بیٹنگ کوچ نہیں ہے اور بیٹنگ کوچ کی کمی بھی محسوس کر رہے ہیں لیکن یہ میرا نہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کام ہے۔

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں اچھا پرفارم کرتی آ رہی ہے، بیٹنگ لائن میں سینئیر کھلاڑی شامل ہیں جو اسپنرز کو اچھا کھیلتے ہیں، ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل ہونے والے کھلاڑی پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہوئے آئے ہیں جس کا فائدہ ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹیسٹ سیریز بھی اہم ہے، ہم تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے، مجھے ٹیم پر اعتماد ہے کہ ٹیسٹ سیریز میں اچھا پرفارم کرے گی۔

    کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ہماری ٹیسٹ ٹیم اچھی ہے، اس مرتبہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے، ہوم گراونڈز پر زیادہ میچز ہیں لہذا اس مرتبہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اچھا کھیلیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش کی ٹیم سینئر کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں بھی اچھی ہے، انہیں آسان نہیں لیا جا سکتا، بنگلا دیش میں کنڈیشنز مشکل ہوتی ہیں، یہاں کھیلنا آسان نہیں ہوتا، فوکس ہوکر تحمل کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے، ہماری بھی یہی کوشش ہو گی کہ وکٹ پر ٹھہر کر کھیلیں۔

    بابر اعظم نے کہا کہ ٹیسٹ سیریز سے قبل وقت کم ملا ہے لیکن ہم پروفیشنل کرکٹرز ہیں ہمیں ٹیسٹ کرکٹ میں جلد سوئچ ہونا ہے، ہم کئی ماہ سے وائٹ بال کرکٹ کھیل رہے ہیں، اب ہمیں ریڈ بال کرکٹ کے لیے جلد از جلد خود کو ڈھالنا ہے، ہمارے پاس ٹاپ اسپنر ہیں ہمیں ان سے فائدہ ہو گا۔

    ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اپنے رنز نہ کرنے کے بارے میں بابر اعظم نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر سیریز میں میں نے ہی رنز کرنے ہیں، دوسرے بھی ساتھ آئے ہیں اچھی بات یہ ہے دوسرے بیٹسمینوں نے ذمہ داری لی اور رنز کیے۔

     

  • چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم بٹ کی طرف سے مکمل ہڑتال کی اپیل پروادی میں سناٹا چھا گیا

    چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم بٹ کی طرف سے مکمل ہڑتال کی اپیل پروادی میں سناٹا چھا گیا

    سرینگر:چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم بٹ کی طرف سے مکمل ہڑتال کی اپیل پروادی میں سناٹا چھا گیا ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آج کشمیریوں کی طرف سے بھارتی مظالم کےخلاف ہڑتال جاری ہے اوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ وادی میں اس وقت سناٹا چھایا ہوا ہے اورسڑکوں پر بھارتی فوجی دندناتے پھر رہے ہیں‌

    ادھر وادی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جعلی مقابلوں میں معصوم شہریوں کے قتل کے خلاف آج مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ نے کل نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کشمیری عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی مقابلوں میںبے گناہ شہریوں کے قتل کے واقعات کے خلاف کل مکمل ہڑتال کریں۔

    ادھربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل شام سرینگر کے علاقے رام باغ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ایک اورجعلی مقابلے میں مزیدتین کشمیری نوجوانوں کے قتل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نوجوانوںکے قتل کے خلاف علاقے میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ نوجوان بے گناہ شہری تھے اور انہیں فوجیوں نے ایک جعلی مقابلے میں شہیدکیا۔عینی شاہدین نے صحافیوںکو بتایا کہ فوجیوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے نوجوانوں کو گاڑی سے باہر نکالا اور سڑک پر گولی مار کر شہید کر دیا۔

    انہوں نے کہا کہ فوجیوں نے تینوں کو گاڑی سے گھسیٹ کرباہرنکالا گیا اور پانچ چھ فوجی اہلکاروں نے ان پر اندھا دھند گولیاں چلائیں جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

     

     

  • دفترآتے ہی عثمان بزدار نے بڑا اعلان کردیا:ن لیگ سخت پریشان

    دفترآتے ہی عثمان بزدار نے بڑا اعلان کردیا:ن لیگ سخت پریشان

    لاہور:دفترآتے ہی عثمان بزدار نے بڑا اعلان کردیا:ن لیگ سخت پریشان،اطلاعات کےمطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صبح ہوتے ہی ایسا اعلان کیا ہے کہ ن لیگ کی دوڑیں لگ گئی ہیں، عثمان بزدار نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ نوازشریف اینڈ کمپنی نے ہمیشہ ذاتیات کی خاطرملک اور ملکی اداروں کا وقار مجروح کیا اوراب ملک کے قومی اداروں کے خلاف سازشیں بھی کررہے ہیں،

    وزیراعلیٰ‌ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، اداروں کے خلاف باتیں کرنے والوں کا کوئی مستقبل نہیں، پاکستان کے عوام شر انگیز بیانیے کو مکمل مسترد کرتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ن لیگ کی جانب سے مخصوص ایجنڈے کے تحت اداروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک امر ہے، اپوزیشن اداروں کو متنازعہ بنا کر مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات ناقابل فہم اور قومی مفادات کے یکسر منافی ہیں، ایسے بیانات ملک دشمن کے بیانیے کا عکاس ہیں،

    اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے عوام شر انگیز بیانیے کو مکمل مسترد کرتے ہیں، ملک دشمن بیانیے کی پاکستان میں رتی بھر بھی گنجائش نہیں، اداروں کے خلاف ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، قومی اداروں کی عزت پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے، قومی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے آئندہ تین ماہ میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے عمل میں تیزی لانے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلی پنجاب نے متعلقہ اداروں سے منصوبوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ عثمان بزدار نے ہدایت کی کہ جو منصوبے افتتاح کے لئے تیار ہیں، ان کی فہرستیں ایوان وزیر اعلی کو ارسال کی جائیں، جن منصوبوں کے آئندہ تین ماہ میں سنگ بنیا د رکھنے کے انتظامات مکمل ہیں، اس سے بھی آگاہ کیا جائے۔

    عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ جاری ترقیاتی فنڈز کو ٹائم فریم میں استعمال میں لایا جائے، حکومت کے مقرر کردہ اہداف میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، حکومت عوامی ریلیف اور ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لئے پر عزم ہے۔

    ادھر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ خواتین پر تشدد خلاف انسانیت فعل ہے، خواتین پر تشدد معاشرتی برائی اور قانوناً جرم ہے، خواتین کو بااختیار بنا کر اور برابر کے حقوق دے کر ایسی معاشرتی برائی کا خاتمہ ممکن ہے، دین اسلام نے خواتین کو جن حقوق سے نوازا ہے، کسی معاشرے میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

    عثمان بزدار نے خواتین کے حقوق ان کی عزت ،عصمت اور چادر اور چاردیواری کی حفاظت کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ نئے پاکستان کا خواب خواتین پر تشدد کے مکمل خاتمے تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا، یہ دن تشدد کا شکار خواتین کو تحفظ دے کر انہیں معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے، خواتین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کیلئے ہم سب کو مذہبی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی، ہمیں اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ خواتین پر تشدد کی روک تھام اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات تسلسل کیساتھ جاری رکھیں گے۔

     

  • این اے 133:پی ٹی آئی آوٹ:ن لیگ کی جیت یقینی

    این اے 133:پی ٹی آئی آوٹ:ن لیگ کی جیت یقینی

    لاہور:این اے 133:پی ٹی آئی آوٹ:ن لیگ کی جیت یقینی،اطلاعات کے مطابق این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف نے میدان خالی چھوڑ دیا۔ پی ٹی آئی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف سپریم کورٹ نہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔

    ادھر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار جمشید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی مسترد جبکہ الیکشن ٹریبونل اور ہائیکورٹ نے اعتراض برقرار رکھا، سپریم کورٹ جانے کے لیے 7 دن کا وقت لگ سکتا ہے،

     

     

    پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار جمشید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ اگروہ اس وقت عدالت جائیں گے تو انتخابی مہم نہیں کر سکیں گے، سپریم کورٹ سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حلقے میں 40 ہزار بوگس وٹ ہیں، اس کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔

    خیال رہے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات تجویز کنندہ کا تعلق حلقے سے نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد ہوئے جبکہ مسرت چمشید چیمہ کے کاغذات تائید کنندہ حلقے کا نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد ہوئے۔ این اے 133 میں ضمنی انتخاب 5 دسمبر کو ہوگا۔

    این اے 133 لاہور ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری، الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں پولنگ 5 دسمبر کو ہو گی، این اے 133 کی نشست ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

    این اے 133 کی نشست مسلم لیگ نون کے پرویز ملک کی وفات سے خالی ہوئی تھی، اب مسلم لیگ نون کی طرف سے ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک اور پیپلز پارٹی کے اسلم گل سمیت 12 امیدوار میدان میں ہیں۔

    پی ٹی آئی امیدوار جمشید چیمہ نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے وجہ سے اس دوڑ‌سے باہر ہیں

  • کراچی ائیرپورٹ کےاطراف میں کیا چل رہا ہے، پروازیں تاخیر کا شکارکیوں ؟اہم خبرآگئی

    کراچی ائیرپورٹ کےاطراف میں کیا چل رہا ہے، پروازیں تاخیر کا شکارکیوں ؟اہم خبرآگئی

    کراچی:کراچی ائیرپورٹ کےاطراف میں کیا چل رہا ہے، پروازیں تاخیر کا شکارکیوں ؟اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق کراچی ائیرپورٹ اور اطراف میں صبح سویرے بہت بڑی موسمیاتی تبدیلی کے باعث کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہو گئیں۔

    سول ایوی ایشن فلائٹ انکوئری کے مطابق کراچی سے صبح 7 بجے اسلام آباد کی پروازیں دھند کے باعث تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ لاہور جانے والی پروازوں میں بھی تاخیر ہوئی۔ اس کے علاوہ کراچی سے پشاور جانے والی پرواز کو دوپہر ایک بجے شیڈول کر دیا گیا ہے۔

    فلائٹ انکوائری کے مطابق کراچی سے دبئی جانے والی پروازبھی دو گھنٹے تاخیر کا شکار رہی جبکہ کراچی سے استنبول جانے والی غیر ملکی ائیرلائن کی پرواز بھی تاخیر کا شکار ہو گئی۔

    سول ایوی ایشن حکام کے مطابق دھند کم ہوتے ہی پروازیں مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی اور تاخیر کا شکار ہونے والی پروازوں کو ری شیڈول کر دیا جائے گا۔

    ادھرملک بھرمیں سموگ میں کچھ کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، لاہوراور گردونواح کے علاقوں میں صورت حال قدرے بہتر ہےاورامید کی جارہی ہےکہ اگلے چند دنوں تک صورتحال مزید بہترہوجائے گی

    ادھرمحکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگرملک بھرمیں موسمیاتی تبدیلیاں ایسے ہی جاری رہیں تو پھراس بات کا امکان ہے کہ جب تک موسم میں بہتری نہیں آتی اس وقت تک پروازیں لیٹ ہوسکتی ہیں لیکن اس میں پہلی ترجیح مسافروں کی صحت اورحفاظت ہے اس لیے گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں

  • کورونا وائرس کے حملے مزید 13 جانیں لے گئے، چوبیس گھنٹے میں 363 نئے مریض رجسٹرڈ

    کورونا وائرس کے حملے مزید 13 جانیں لے گئے، چوبیس گھنٹے میں 363 نئے مریض رجسٹرڈ

    اسلام کورونا وائرس کے حملے مزید 13 جانیں لے گئے، چوبیس گھنٹے میں 363 نئے مریض رجسٹرڈ ،اطلاعات کے مطابق وائرس سے 13 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 28 ہزار 690 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 12 لاکھ 83 ہزار 223 ہوگئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 363 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 4 لاکھ 42 ہزار 714، سندھ میں4 لاکھ 74 ہزار 772، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 79 ہزار 774، بلوچستان میں 33 ہزار 458، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 411، اسلام آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار 554 جبکہ آزاد کشمیر میں 34 ہزار 540 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں اب تک 2 کروڑ 17 لاکھ 96 ہزار 915 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 41 ہزار 240 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 12 لاکھ 40 ہزار 995 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار 2 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 13 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 28 ہزار 690 ہوگئی۔ پنجاب میں 13 ہزار 7، سندھ میں 7 ہزار 619، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 825، اسلام آباد میں 952، بلوچستان میں 359، گلگت بلتستان میں 186 اور آزاد کشمیر میں 742 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    ادھر دنیا بھر میں کرونا سے متاثرین کی تعداد 259,403,369ہو چکی ہے

    جبکہ دنیا بھر میں اس مہلک وائرس سے جاںبحق ہونےوالوں کی تعداد 5,188,390 ہوچکی ہے، اس دوران احتیاطی تدابیراختیارکرنے اور ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ صحت مند ہونے والوں کی تعداد بھی 234,666,159 سے تجاوز کرچکی ہے ، اگردنیا بھر میں بڑے ملکوں میں اس وائرس سے متاثرہ ملکوں کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو امریکہ میں کل متاثرہونےوالے افراد کی تعاد 48,848,156. چین میں متاثرین کی تعداد 98,546, جبکہ برطانیہ میں یہ تعداد 9,974,843 سے تجاوز کرگئی ہے

    عالمی ادارہٴ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ یورپ اب بھی کرونا وائرس کا گڑھ ہے جہاں گزشتہ ہفتے وبا کے 20 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ وبا کے آغاز کے بعد خطے میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

    یورپی ملک سوئٹزر لینڈ کے شہر جینیوا میں جمعے کو بریفنگ کے دوران ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ کرونا مشرقی یورپ کے ان ممالک میں پھیل رہا ہے جہاں کرونا ویکسین لگانے کی تعداد کم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ویکسین کی بدولت اسپتالوں میں داخلے کی شرح کم، شدید بیماری سے بچاؤ اور اموات سے بچا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ چیزیں احتیاطی تدابیر کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

    ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ ویکسین کرونا وائرس کی منتقلی کم کرتی ہے تاہم ویکسین مکمل طور پر نہیں بچاتی۔ویکسین کی غیر مساوی تقسیم، امیر ممالک کو ترجیح دینے اور غریب ملکوں کو نظر انداز کرنے کے پر ایک بار پھر ٹیڈروس نے بات کی۔