Baaghi TV

Author: +9251

  • گھبرانا نہیں :سب کو پٹرول ملے گا:ترجمان وزارت پٹرولیم کا اعلان:اوگرا بھی حرکت میں آگیا

    گھبرانا نہیں :سب کو پٹرول ملے گا:ترجمان وزارت پٹرولیم کا اعلان:اوگرا بھی حرکت میں آگیا

    اسلام آباد:گھبرانا نہیں :سب کو پٹرول ملے گا:ترجمان وزارت پٹرولیم کا اعلان،اطلاعات کے مطابق پٹرولیم مارجن میں عدم اضافے کو بنیاد بناکر پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے آج ہڑتال کا اعلان کردیا ہے، جبکہ دوسری طرف ترجمان وزارت پٹرولیم کا کہنا ہےکہ پٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن کو بڑھانے کےلئے کیس ای سی سی بھیجوا دیا ہے،

    ذرائع کے مطابق پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے کمیشن مارجن کو 6فیصد کرنے کے مطالبے کو برقرار رکھتے ہوئے جمعرات کو ہر صورت ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے،حکومتی رابطے کے باوجود پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ڈٹ گئی ہے اور ملک بھر میں پٹرول پمپ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    ادھربدھ کے روز رات گئے تک پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ہڑتال کے اعلان کے بعد ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر شدید رش کا منظر دیکھنے کو ملا،گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جس کے بعد عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    شہریوں نے پٹرول پمپ بند کرنے کے اعلان کے بعد حکومت پر شدید الفاظ میں تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ کئی پٹرول پمپوں پر پٹرول ہونے کے باوجود عوام کو نہیں دیا جارہا،تبدیلی سرکار کی مافیا پر گرفت کمزور ہونے کے باعث قوم کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    دوسری طرف ترجمان وزارت پٹرولیم نے کہا کہ آئل سپلائی کے لیے ٹینکروں کوروانہ کردیا گیا ہے اس لئے جمعرات کو ملک بھرمیں تمام پٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔

    ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ وزارت توانائی پٹرولیم ڈویژن نے پٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن کو بڑھانے کےلئے کیس ای سی سی بھیجوا دیا ہے، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈیلرز کے مارجن میں مناسب اضافے کےلئے وزارت کوشاں ہے جبکہ وفاقی کابینہ کے ذریعے سے دس روز میں فیصلے کا امکان ہے۔

    وزارت پٹرولیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آئل سیکٹر کی مختلف تنظیموں نے وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ عوام کو کوئی فکر کرنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

    ترجمان پی ایس او کے مطابق ملک بھرمیں پی ایس او کے پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے، حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں، پیٹرول پمپس پر فیول کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے جبکہ پی ایس او کی سپلائی چین بھرپور طور پر فعال ہے اورپی ایس او عوام کی خدمت کے لیے ہمیشہ کی طرح مستعد ہے۔

    آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) نے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

    ترجمان اوگرا کے مطابق صورتحال کی مانیٹرنگ کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، ڈیلرز مارجن میں اضافے سے متعلق چند عناصر پٹرول کی سپلائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تمام آؤٹ لیٹس پر پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ تیل سپلائی میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    سیکریٹری پیٹرولیم ارشد محمود نے بھی چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسو سی ایشن سے رابطہ کیاہے ، سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ پیٹرولیم مارجن سے متعلق سمری پیٹرولیم ڈویژن کو بھیج دی ہے تاہم ‏سمری کے نکات ابھی نہیں بتائے جاسکتے۔

    چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ سمری کے نکات معلوم نہ ہونےتک ہڑتال کی کال واپس نہیں ‏لیں گے ۔
    قبل ازیں پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پٹرول پمپ مالکان کو جمعرات کی صبح چھ بجے سے فروخت بند رکھنے کی ہدایت جاری کر دی۔

    جہاں ایک طرف ملک میں پیٹرول پمپس بند ہونے کی خبر میڈیا پر آتے ہی شہریوں میں بے چینی پھیل گئی اور پمپس پر رش لگ گیا۔تاہم اس ہڑتال کے دوران بھی ملک بھر میں کچھ پمپس ایسے ہیں جو معمول کے مطابق ایندھن کی فراہمی جاری رکھیں گے۔

    پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور شیل نے اس حوالے سے وضاحت جاری کی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ملک بھر میں ہمارے وہ تمام پیٹرول پمپس جو کمپنی کے زیر ملکیت اور زیر انتظام ہیں، بدستور کھلے رہیں گے اور معمول کے مطابق کام کریں گے۔‘

    پی ایس او کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی کمپنی شیل نے اس ہڑتال کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہےکہ شیل پاکستان 25 نومبر کو پیٹرول کی فراہمی جاری رکھے گی

    اس حوالے سے شیل پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ 25نومبر کوپیٹرولیم ڈیلرزایسوسی ایشن کی ہڑتال کاحصہ نہیں،اعلامیے کے مطابق کمپنی آپریٹڈریٹیل سائٹس سےتیل کی فراہمی جاری رہےگی،اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنی آپریٹڈ ریٹیل سائٹ سےتیل کی فراہمی جاری رہےگی

    یاد رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ہڑتال کے اعلان کے بعد اپوزیشن کچھ زیادہ خوش دکھائی دے رہی تھی اورپی ڈی ایم اس ایشو کو بھی سیاسی کارڈ کے طور پراستعمال کرنا چاہتی تھی، مگرجب سے پی ایس او اور شیل نے اعلان کیا ہے وہ اس ہڑتال کا حصہ نہیں ہیں اوروہ پاکستان بھرمیں پٹرول لینے والوں کو پٹرول فراہم کریں گے تو یہ سن کر عوام تو خوش ہوگئی مگراپوزیشن میں مایوسی کی لہر دور گئی ہے

  • فاروق ستار سے ملاقات اتفاقیہ نہیں تھی کراچی ان سے ہی ملنے آئی تھی : حریم شاہ

    فاروق ستار سے ملاقات اتفاقیہ نہیں تھی کراچی ان سے ہی ملنے آئی تھی : حریم شاہ

    کراچی : ٹک ٹاکر حریم شاہ نے کہاہے کہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ فاروق ستار سے ملنا حادثاتی نہیں تھا وہ ان ہی سے ملنے کراچی آئیں تھیں۔

    حریم شاہ کے انسٹاگرام اکائونٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں وہ یوٹیوب کے مشہور شو میں اس بات کا دعوی کر رہی ہیں کہ وہ کراچی فاروق ستار سے ہی ملنے آئی تھیں، تاہم اس سے پہلے فاروق ستار بھی اس شو میں مہمان بن چکے ہیں۔

    ان سے بھی میزبان نے یہی سوال کیا، جس پر انہوں نے کہاکہ ان کی حریم شاہ سے ملاقات اتفاقیہ طور پر ہوئی۔اس ویڈیو کی کیپشن فاروق ستار ورسز حریم شاہ دیا گیا ہے

    ۔نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے حریم شاہ نے کہا کہ وہ جس سے دوستی کرتی ہیں اسے نبھاتی ہیں، فاروق ستار نے غلط بیانی کی ہے ان کی سابق ایم کیو ایم رہنما سے ملاقات ہوٹل میں باقائدہ پلینڈ تھی۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد ہوٹل میں پہلی ملاقات میں فاروق ستار نے نمبر دیا ، دوسری ملاقات لاہور میں ہوئی اس کے بعد 6 ماہ تک وہ فاروق ستار سے رابطے میں رہیں اور پھر کراچی آئیں جس کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں۔

  • وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آج بڑے اہم فیصلے کردیئے

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آج بڑے اہم فیصلے کردیئے

    کوئٹہ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آج بڑے اہم فیصلے کردیئے ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو آسکانی ہاؤس کوئٹہ پہنچے ، ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزیر فشریز و محکمہ حیوانات میر حاجی اکبر آسکانی سے ملاقات بھی کی ہے

    اطلاعات کے مطابق حاجی اکبر آسکانی نے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کو حلقے کے مسائل اورعوامی ضروریات سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر ماہیگیری نے بیروزگاری, گڈ گورننس اور محکمہ ماہیگیری کے مسائل پر تفصیلی بات چیت کی جس میں غیر قانونی ٹرالنگ اور گوادر کے مقامی ماہی گیروں کے مسائل زیرِ بحث لائے گئے۔

    وزیر فشریز میر اکبر آسکانی نے یقین دلایا کہ محکمہ فشریز میں جتنے بھی حل طلب مسائل ہیں ان تمام مسائل کا ادراک کیا جائیگا اور انہیں پوری طور پر حل کریں گے۔ صوبائی وزیر فشریز نے غیر قانونی ٹرالنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ فشریز کے افسران کو ہدایات جاری کیں کہ بلوچستان کے ساحلی پٹی کو غیر قانونی ٹرالنگ سے پاک کیا جائے اور غریب ماہی گیروں کے مسائل کا تصفیہ کیا جائے۔

    ادھر آج وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نےاہم اقدام کرتے ہوئےصوبائی سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی ریکارڈ وقت میں منظوری دے دی ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلئ کی منظوری سے 232 افسران ترقی پا گیۓ

    ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں بورڈ کا اجلاس چئیرمین چیف سیکریٹری بلوچستان کی زیر صدارت 5 نومبر 2021 کو منعقد ہوا تھا،بورڈ میں مختلف محکموں کے افسران کے گریڈ 17 سے 18 گریڈ 18 سے 19 اور گریڈ 19 سے 20 میں ترقی کے کیسز زیر غور آئے

    چیف سیکریٹری کی جانب سے بورڈ کی سفارشات کی سمری 22 نومبر کو حتمی منظوری کے لیۓ وزیراعلئ کو ارسال کی گئی تھی، وزیراعلئ کی جانب سے بلا تاخیر منظوری دی گئی

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ سمری مزید کاروائی اور ترقیوں کے نوٹیفیکیشن کے اجراء کے لیۓ آج واپس چیف سیکریٹری کو بھجوا دی گئی

    واضع رہے کہ اس قبل سلیکشن بورڈ کی سمری کی منظوری میں وزیراعلئ سیکریٹریٹ میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی تھی،کئی مرتبہ اعتراضات کے ساتھ سمری واپس بھیج دی جاتی تھی ،غیر ضروری اعتراضات سے افسران کی ترقیوں کے کیسز غیر ضروری التواء کا شکار ہو جاتے تھے

    ۔وزیراعلئ نے سمری کی فوری منظوری دیکر افسران کو بروقت انکی ترقی کا حق دیکر ایک نئی روایت قائم کی ہے،ترقی پانے والے افسران نے خوشی اور اطمینان کا ااظہار کرتے ہوۓ وزیراعلئ کا شکریہ ادا کیا ہے

  • پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے : بلاول بھٹو زرداری

    پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے : بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتِ سندھ کی جانب سے ماں و بچے کو دوران حمل، دوران زچگی اور پیدائش کے بعد علاج و معالجے کی مفت سہولیات اور وظیفے کے اجرا کے پروگرام کو صوبے میں صحتِ عامہ کے لیئے ایک تاریخی اقدام اور انقلابی منصوبہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔
    سندھ حکومت کے سوشل پروٹیکشن اسٹریٹجی یونٹ کے تحت ماں اور بچے کو دوران حمل، دوران زچگی اور پیدائش کے بعد علاج و معالجے کی مفت سہولیات اور وظیفے کے اجرا کے حوالے سے امدادی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غریب عوام کی خدمت کرنا ہی پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم یہ وعدہ نہیں کرتے کہ اگر پی پی پی کی حکومت ہوگی تو ہمیشہ اچھا وقت ہوگا، لیکن ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر عوام تکلیف میں ہوگی، تو ہم دن رات کام کرکے اس تکلیف کا حل نکالیں گے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی جماعت کی تاریخ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ عوام کی بہبود و ترقی کے لیئے کام کیا ہے۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا لینڈ ریفارم پروگرام ملک کا بہت بڑا معاشی انقلاب تھا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور حکومت لیڈی ہیلتھ ورکز(ایل ایچ ڈبلیو)جیسے انقلابی پروگرام پر ملک کے اندر اور باہر سے بہت تنقید کی گئی۔
    لیکن اس پروگرام کے آغاز کے بعد بنگلادیش، بھارت اور دیگر ممالک نے بھی اس کی تقلید کی اور یہ منصوبہ ان کے لیئے بھی کامیاب ثابت ہوا۔ پی پی پی کی سابقہ حکومت کے دوران جب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام(بی آئی ایس پی)کا آغاز کیا جا رہا تھا، تو اس کی بھی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اس پروگرام کے ذریعے فقیر پیدا کیئے جارہے ہیں۔ لیکن سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک عزم کے ساتھ، اِس پروگرام کو عوامی حکومت کے پہلے سال سے شروع کرنے کو یقینی بنایا۔
    انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے پاکستان کی غریب خواتین کو اس وقت مالی معاونت ملی، جب پوری دنیا میں معاشی بحران تھا۔ عالمی بحران کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے تھے، لیکن ہم نے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریب خواتین کی معاونت اس وسیع منصوبے کا ایک جز تھا۔
    وسیلہ روزگار، وسیلہ صحت، اور وسیلہ تعلیم بھی اس پروگرام کے دیگر اجزا میں شامل تھے۔ یہ درحقیقت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا منشور تھا، جسے پی پی پی کی مخالفین حکومتیں چاہتے ہوئے بھی ختم نہیں کرسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں غربت کا پہلا سروے پی پی پی کے گذشتہ دورِ حکومت میں کیا گیا تھا اور اس وقت ملک میں جو واحد سوشل سکیورٹی کا پروگرام موجود ہے، وہ پی پی پی حکومت کا بنایا ہوا ہے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ حکومتِ سندھ کا ایک اور مثالی منصوبہ پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام ہے، جس کے تحت غریب خواتین کو کاروبار کے آغاز کے لیئے بے سود قرضے فراہم کیئے جاتے ہیں۔ اس پروگرام سے تاحال 13 لاکھ خواتین مستفید ہوچکی ہیں، اور وہ اب اپنے خاندانوں کی معاشی استحکام کو یقینی بنا رہی ہیں۔ انہوں نے نشان دہی کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ پروگرام کی رکوری کا تناسب 99 فیصد ہے، اور اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ بلاسود قرضہ حاصل کرنے والی خواتین کا کاروبار کامیابی سے چل رہا ہے۔
    اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سندھ کی خواتین ایک چھوٹی سے مدد پر پوری معیشت میں انقلاب لاسکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ چند سال قبل نولومود اور چھوٹے بچوں کی شرح اموات کے معاملے پر بہت تنقید کی جاتی تھی، لیکن یو ایس ایڈ اور اس طرح کے دیگر اداروں کے اعداد شمار اب سندھ میں ایک بہتر صورتحال پیش کر رہے ہیں۔ سال 2013 سے سال 2018 کے دوران پنجاب میں نومولود بچوں میں شرحِ اموات 19 فیصد تھی۔
    اسی عرصے کے دوران خیبر پختونخواہ میں 2 فیصد اضافہ، جبکہ سندھ میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سال 2013ع سے 2018ع تک کے عرصے میں پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شرح اموات 17 فیصد کم ہوا، اور خیبر پختونخواہ میں 7 فیصد، جبکہ سندھ میں 19 فیصد کمی آئی ہے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ صوبہ سندھ میں پی پی پی حکومت نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر کام کیا ہے، لیکن ہمارے لیئے یہ اب بھی کافی نہیں ہے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2018ع کے بعد ملک میں معاشی بحران ہے، اور مہنگائی میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ غربت اور مہنگائی کا سب سے زیادہ نقصان دیہی میں ہوتا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے ماں اور بچے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت سندھ کے نئے پروگرام پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ اس پروگرام کے تحت ماں اور بچہ کی صحت پر توجہ مرکوز کیا جائے گا۔
    یہ پروگرام بچے کے پہلے ایک ہزار دنوں پر فوکس کرے گا، اور پہلا دن ماں کے حاملہ ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حاملہ ماں کو اسپتال میں معمول کے مطابق چیک اپ کرانے پر 1000 روپے، جبکہ صحت مرکز میں بچے کی پیدائش پر 4000 روپے مالی معاونت کے طور پر دیئے جائیں گے۔ اس طرح سے بچے اور ماں کی صحت کے لیئے تمام ضروری اقدام کو یقینی بنایا جائے گا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے تحت ہر ماں اور بچہ پر 20000 ہزار روپے خرچ ہوں گے۔ یہ پروگرام پہلے مرحلے میں دو اضلاع تھرپارکر اور عمرکوٹ میں شروع کیا جائے گا، اور آئںدہ دو سال کے دوران اس منصوبے کو سندھ بھر میں توسیع دی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت 10 لاکھ خواتین مائیں مستفید ہوں گی۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرِصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور دیگر وزرا، مشیران، ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

  • سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    کراچی: الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں بڑی پیشرفت، سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں بڑی کمی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10 لاکھ 80 ہزار روپے سے کم کرکے 1 لاکھ 6 ہزار روپے کردی ہے۔ رجسٹریشن فیس میں ہونے والی بڑی کمی سے سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوگا۔

    سندھ کے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10لاکھ 80 ہزار روپے تھی تاہم سندھ کابینہ کی منظوری کےبعد الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں ریکارڈ کمی کردی گئی ہے۔
    مکیش چاولہ کے مطابق سندھ میں تاحال 11 الیکٹرک گاڑیاں رجسٹرڈ ہوچکی ہیں جب کہ 1490 گاڑیوں کی رجسٹریشن کی درخواست صوبائی محکمہ ایکسائز کے پاس جمع ہوچکی ہے۔

  • پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال، کون سے پمپ کھلے رہیں گے؟

    پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال، کون سے پمپ کھلے رہیں گے؟

    پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا لیکن کچھ پمپ کھلے رہیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے دیگر آئل کمپنیز کی کمپنی ملکیتی نے پمپس کھلے رکھنے کا اعلان کردیا۔

    پی ایس او کا کہنا ہے کہ ہمارے پیٹرول پمپس جو کمپنی زیر ملکیت ہیں وہ کھلے رہیں گے۔

    شیل پاکستان کی جانب سے بھی کمپنی کی ملکیت والے پمپس چلانے کا اعلان کیا گیا ہے، پی ایس او کے ملک بھر میں 23، شیل کے 40 کمپنی ملکیت زیر انتظام پمپس ہیں۔

    واضح رہے کہ پی ایس او کے کراچی میں 7، شیل کے 6 کمپنی ملکیت پیٹرول پمپس ہیں ۔
    پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے 21 نومبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ جمعرات سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورے ملک میں پٹرول پمپس بند رہیں گے۔

    آل پاکستان پٹرولیم ریٹیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پٹرولیم ڈیلرز کی 25 نومبر کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے، شعیب خان کا کہنا ہے کہ 25 نومبر صبح 6 بجے سے تمام پٹرول پمپس احتجاجاً بند رکھیں گے۔

    پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ملک بھر میں ہڑتال کے اعلان پر سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کا ہڑتال کا اعلان انتہائی اہم معاملہ ہے، پٹرول پمپس کی بندش سے پٹرول کا شدید بحران پیدا ہوگا۔

    سلیم مانڈوی والا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پٹرولیم ڈیلرز سے مذاکرات کرکے معاملے کا حل نکالے۔

    خیال رہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے ڈیلر مارجن 6 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

  • پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،سفیر پاکستان

    پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،سفیر پاکستان

    واشنگٹن:پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،سفیر پاکستان کا بی بی سی کو انٹریو،اطلاعات کے مطابق سفیر پاکستان ڈاکٹر اسد مجید خان نے بی بی سی ورلڈ نیوز کے پروگرام یلدا حکیم کے ساتھ انٹرویومیں کہا ہےکہ پاکستان افغان عوام کی مدد کیلئے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے،

    بی بی سی کو انٹریودیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ،افغانستان میں 5 بلین روپے کے سازوسامان سمیت ویزہ کے اجراء ، انسانی بنیادوں پر امداد اور طبعی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنا رہا ہے۔

    سفیر پاکستان کا بی بی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغان عوام کے ساتھ ساتھ ہم بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کو بھی مدد اور سہولیات دے رہے ہیں۔افغان عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان نے بھی اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان افغانستان میں انسانی بنیادوں پر سب سے زیادہ امداد اور سہولیات فراہم کر رہا ہے۔عالمی برادری کو افغانستان میں معاشی تباہی اور انسانی المیےکو روکنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گئے۔

    افغانستان میں اطلاعات کے مطابق ابھی تک سیکورٹی کےحالات معمول کے مطابق ہیں اور مثبت تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

  • مریم نوازنےبھی نعرہ لگا دیا”روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے”…تحریر:جمال عبداللہ عثمان

    مریم نوازنےبھی نعرہ لگا دیا”روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے”…تحریر:جمال عبداللہ عثمان

    مریم نواز کا اعتراف جرم!!! یا ڈھٹائی کا جمہوری انداز

    مریم نواز کا اعتراف سامنے آیا۔ بہت سوں کے لیے انکشاف ہوگا، میڈیا والوں کے لیے مگر نہیں۔ "اعتراف” بھی شرمندگی یا”بڑے پن” کی علامت کے طورپر نہ تھا۔ "انا” اور خودپسندی کا اعلان تھا گویا ہاں میں نے کیا ہے، کچھ کرسکتے ہو تو کرلو۔

    تفصیل چند جملوں میں بتادیتا ہوں۔ آڈیوز اور ویڈیوز کا موسم ہے، سو اسی ہنگام میں مریم نواز کی ایک آڈیو لیک ہوگئی۔ محترمہ جس میں کچھ چینلز کے نام لے کر فرمارہی ہیں کہ انہیں اشتہارات نہیں دینے۔ وجہ یہ کہ وہ ہمارے خلاف بول رہے ہیں۔

    آج نیوز کانفرنس میں مریم نواز سے اسی لیک آڈیو سے متعلق سوال ہوا کہ کیا وہ آڈیو آپ کی ہی ہے؟ محترمہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیتی ہیں، ہاں وہ آڈیو میری ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گی کہ ٹکڑے جوڑے گئے ہیں۔

    مریم نے اچھا کیا کہ عوام میں "اعتراف” کرلیا۔ لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا یا دلایا گیا ہوگا کہ آپ "اعتماد” میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئی ہیں، سو ن لیگ نے 8 بجے کے شوز میں اسے دوسرا رنگ دینے کی کوشش شروع کردی۔ بتایا کہ مریم نواز حکومت کے نہیں، پارٹی اشتہارات کی بات کررہی تھیں۔

    بات یہ ہے کہ جسے بھی حکومت ملتی ہے، وہ اپنے آپ کو تاحیات حکمراں سمجھنے لگ جاتا ہے۔ اس کا خیال ہوتا ہے میرے عروج کو زوال نہیں۔ میرا ہر قدم غلطی سے پاک ہوتا ہے۔ میں تنقید سے بالاتر ہوں۔ مسلم لیگ ن کو تین بار حکومت ملی اور تینوں بار وہ بھی اسی خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا رہی۔

    نتیجہ یہ رہا کہ اسے بھی تنقیدی آوازوں سے نفرت ہوگئی۔ اپنے دور حکومت میں ہر وہ حربہ آزمایا جس سے میڈیا کا گلا گھونٹا جاسکے۔ جنگ اخبار کے ساتھ جھگڑا ہو یا پھر الیکٹرونک میڈیا آنے کے بعد چینلز اور پروگرامات کا بائیکاٹ۔ اس نے اپنا یہ آمرانہ رویہ جاری رکھا۔

    آج جب ببانگ دہل وہ کہہ رہی تھیں کہ ہاں میری آواز ہے۔ میں نے اشتہارات دینے سے منع کیا تھا تو مجھے چند دن پہلے مریم نواز کی پی ایف یو جے کی وہی تقریر یاد آرہی تھی جس میں وہ فرمارہی تھیں کہ میڈیا کو کیوں روکا جاتا ہے؟ وہ جھوٹ بولے تب بھی اسے بولنے دیں، آخر وہ کتنا جھوٹ بولے گا؟ مگر تنقیدی آوازیں تو نہ بند کرو۔

    میں سوچ رہا تھا یہ وہی مریم نواز ہیں۔ فرق بس یہ ہے کہ اقتدار میں تھیں تو میڈیا برا تھا، اپوزیشن میں ہیں تو میڈیا اچھا ہے۔ اور یہ المیہ صرف ن لیگ کا نہیں، ہر حکمران جماعت کا ہوتا ہے۔ یقین نہ آئے تو پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو دیکھ لیں۔

     

     

  • کراچی چڑیا گھر میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر ہلاک

    کراچی چڑیا گھر میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر ہلاک

    کراچی: چڑیا گھر میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر ہلاک ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی زو میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر 13 دن بیمار رہنے کے بعد آخر کار مر گیا، زو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شیر نمونیا کا شکار تھا، اور نہایت کمزور ہونے کے باعث دوران علاج مر گیا۔

    چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق نایاب نسل کے اس سفید شیر کو افریقا سے 2012 میں درآمد کیا گیا تھا، شیر کو اُس وقت ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم ادا کر کے لایا گیا تھا، شیر کی عمر 14 سے 15 سال تھی۔

    ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ سفید شیر کو ٹی بی کا مرض لاحق تھا، اور اس کے پھیپھڑوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا، شیر کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے، رپورٹ سامنے آنے پر موت کی وجہ سامنے لائی جائے گی۔

    دوسری طرف ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی چڑیا گھر میں سفید شیر کے مرنے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل کراچی زو میں جانوروں کو کھانا فراہم کرنے والے ٹھیکیدار نے بقایہ جات ادا نہ ہونے کی وجہ سے جانوروں کو کھانا دینا بند کر دیا تھا، جس کے باعث تین روز تک چڑیا گھر کے جانوروں نے کچھ نہیں کھایا۔

    تاہم ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی نے تردید کرتے ہوئے کہا چڑیا گھر میں جانوروں کی خوراک سے متعلق خبریں حقائق کے منافی ہیں، کے ایم سی افسران کے دورے میں یہ بات سامنے آئی کہ چڑیاگھر میں موجود جانوروں کے لیے ایک ہفتےکی خوراک موجود ہے، اور چڑیا گھر اور سفاری پارک کے تمام جانور صحت مند ہیں۔

  • کراچی میں ڈرائیور نے رکشے کو آگ لگادی

    کراچی میں ڈرائیور نے رکشے کو آگ لگادی

    کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں ٹریفک پولیس کے رویے سے تنگ آکر ڈرائیور نے رکشے کو آگ لگادی۔

    میڈیا نیوز کے مطابق کراچی کے علاقے گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب رکشے ڈرائیور نے ٹریفک پولیس کی مبینہ رشوت مانگنے سے تنگ آکر اپنے رکشے کو آگ لگا دی ۔ آگ لگنے کے سبب رکشہ جل کر تباہ ہوگیا۔

    رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکار نے رشوت مانگی، رشوت نہ دینے پر بلا وجہ چالان کاٹ دیا گیا۔

    رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ کرایے پر رکشہ چلا رہا ہوں، رشوت کہاں سے دوں، اہلکار نے کہا کہ ہاں رکشے کو آگ لگا دو۔

    یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل کراچی کے علاقے ناظم آباد میں غربت کے مارے رکشہ ڈرائیور نے سی این جی نہ ملنے پر رکشہ جلادیا تھا، پمپ سے پیٹرول خریدا اور کچھ دور جاکر رکشے پر چھڑکا اور آگ لگائی اور خودسوزی کی کوشش کی جسے شہریوں نے ناکام بنایا تھا۔

    رکشہ ڈرائیور شاہد کا کہنا تھا کہ دو مہینے سے گھر کا کرایہ نہیں دیا مالک مکان گھر خالی کرنے کا کہہ رہا ہے بچوں کو تڑپتا نہیں دیکھ سکتا، شاہد کے پانچ میں سے تین بچے پراسرار بیماری میں مبتلا ہیں انہیں مغرب کے بعد کچھ نظر نہیں آتا تھا۔