Baaghi TV

Author: +9251

  • نومولود بچہ کی نعش قبر سے غائب

    نومولود بچہ کی نعش قبر سے غائب

    بورےوالا کے نواحی گاؤں 513 ای بی میں اشفاق نامی شخص کا نو مولود بچہ وفات پا گیا تھا، جس کی گزشتہ روز عصر کے ٹائم نماز جنازہ ادا کردی گئ تھی، صبح سویرے والدین قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے پہنچے تو قبر کھود کر نعش نکال کر قبر کھلی چھوڑی ہوئی تھی، میت نکالنے والے قبر کو پہلی حالت میں بنا کر اس پر ڈالنے کے لئے پھولوں کی پتیاں بھی اپنے ساتھ لائے تھے، تاکہ کسی کو شک نہ گزرے کہ قبر سے میت نکالی گئی ہے.

    چوکی تھانہ صدر پولیس نے موقع پرپہنچ کر شواہد اکٹھے کرلئے ہیں، جس سے ملزمان تک پہنچنے میں آسانی پیدا ہوسکے گی، پولیس کا کہنا تھا کہ قبر کھود کر میت نکالنے والوں میں ایک مرد اور ایک عورت شامل ہیں، جن کے پاؤں کے نشان قبر پر موجود ہیں.

    ورثاء نے احتجاج کرتے ہوئے بچے کی میت کو جلد بازیاب کرنے کا مطالبہ کیا ہے.

  • پولیس بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج نہ کرسکی

    پولیس بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج نہ کرسکی

    پھول نگر میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، بگڑے امیر زادوں نے اپنی ہی عدالت لگا لی ہے، غریب بیوہ کے بیٹے پر بہیمانہ تشدد کیا گیا ہے، با اثر افراد کے تشدد کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، تین ماہ گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہوسکا ہے.

    نوجوان کی والدہ کا کہنا ہے کہ راشد گھر سے بازار گیا تو ملزمان اسے اغواہ کر کے ویران علاقے میں لے گئے، ملزمان رسیوں سے باندھ کر میرے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے ہیں، ملزمان نے الٹا میرے ہی بیٹے کو چوری کے جھوٹے مقدمہ میں پھنسا دیا ہے، 3 ماہ گزرنے کے باوجود تھانہ سٹی پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی ہے، غریب بیوہ نے ڈی پی او قصور، آر پی او شیخوپورہ اور آئی جی پنجاب سے انصاف کی اپیل کی ہے.

  • 75کروڑ روپے مالیت کے سونے و رقم کے غبن کا معاملے میں دوران تفتیش مزید حقائق سامنے آئے

    75کروڑ روپے مالیت کے سونے و رقم کے غبن کا معاملے میں دوران تفتیش مزید حقائق سامنے آئے

    نجی بینک کی2برانچز میں75کروڑ روپے مالیت کے سونے و رقم کے غبن کا معاملہ میں دوران تفتیش مزید حقائق سامنے آئے ہیں، جعل ساز ملزمہ اپنے طریقہ واردات میں بینک ملازمین قیمتی تحائف دیتی رہی۔

    اس حوالے سے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ماسٹر مائنڈ خاتون رقم بٹورنے کے ساتھ بینک ملازمین کو حصہ بھی دیتی رہی، بینک ملازمین جعل ساز خاتون سے بیش قیمت تحائف بھی لیتے رہے۔

    دوران تفتیش فراڈ کیس میں گرفتارملزم عدیل کے اکاؤنٹ میں24لاکھ روپے موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے، اس کے علاوہ گولڈ فنانس ایگزیکٹو عدیل کو ماسٹر مائنڈ خاتون نے ایک کار بھی تحفے میں دی تھی۔

    تفتیشی حکام نے بتایا کہ گلستان جوہر برانچ کی گرفتار خاتون منیجر کو بھی ایک پلاٹ تحفے میں دیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ ملزمہ نے گیگر بینک ملازمین کو قیمتی موبائل فونز بھی بطور تحفہ دیے۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ملزمہ نے جعل سازی سے حاصل ہونے والی رقم سے اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کی اور بینک سےحاصل شدہ رقم سے بیش قیمت گاڑیاں بھی خریدی۔

    پولیس کے مطابق ماسٹرمائنڈ خاتون دونوں برانچز میں عملے کو جیب خرچ بھی دیتی تھی،75کروڑ روپے کے بینک فراڈ میں اب تک14ملزمان گرفتار کیا جاچکا ہے۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔

  • سندھ کابینہ نے نیب سے 1.59 بلین روپے کی واپسی کا مطالبہ کر دیا

    سندھ کابینہ نے نیب سے 1.59 بلین روپے کی واپسی کا مطالبہ کر دیا

    سندھ کابینہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کو 1.59 بلین روپے ادا کرے جو اس نے گزشتہ 11 سال کے دوران رضاکارانہ واپسی اسکیم کے تحت مجموعی وصولی کا 25 فیصدایٹ سورس کٹوتی کی تھی۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں نیب سے 1.59 بلین روپے کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2016 کے سو موٹو کیس نمبر 17 اور بلوچستان ہائی کورٹ نے سی پی نمبر 1048، 2014 میں تحفظات کا اظہار کیاگیا اور نیب کی رضاکارانہ واپسی اسکیموں کے تحت واپس لی گئی رقومات وفاق اور صوبوں کے متعلقہ پبلک اکاؤنٹس میں جمع کرانے کی ہدایت جاری کی تھیں۔

    کابینہ نے معاملے پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ سندھ حکومت نیب سے 1.59 ارب روپے واپسی کی درخواست کرے گی جو کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 25 کے تحت 25 فیصد کی شرح سے ایٹ سورس کٹوتی کی گئی تھی۔

    محکمہ قانون نے ملازمت کے دوران مرنے والے سرکاری ملازمین کے قانونی وارثوں کے فوتی کوٹے کے تحت بھرتی کے لیے اہلیت کے معیار کی تجویز پیش کی۔متوفی کوٹہ 2 ستمبر 2002 سے نافذ العمل ہوگا، 2 ستمبر 2002 سے پہلے جو ملازم انتقال کرگیا ہو وہ فوتی کوٹہ کا اہل نہیں ہوگا۔

    اگر بچے نابالغ ہیں اور بیوہ فوتی کوٹہ کے تحت بھرتی کے حوالے سے درخواست جمع کرانا نہیں چاہتی تو قانونی وارث مرنے والے ملازم کی موت کے دو سال کے اندر اندر متعلقہ محکمہ کو مطلع کرنے کا پابند ہوگا کہ اس کا ایک وارث 18 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد تین ماہ کے اندر درخواست جمع کرائے گا۔

    کابینہ کوبتایاگیا کہ کے ایم سی کو 101 ایکڑ اراضی حکومت سندھ نے مذبح/سلاٹر ہاؤس کے قیام کے لیے فراہم کی تھی۔ کے ایم سی نے بھینس کالونی کی اراضی پر سلاٹر ہاؤس قائم کیا تھا۔

    فی الوقت فنی وجوہات کی بنا پر یہ سلاٹر ہاؤس فعال نہیں ہے۔سندھ حکومت نے بھینس کالونی میں جہا ں پر سلاٹر ہاؤس قائم ہے وہاں پر بی آر ٹی ریڈ لائن کے لیے بایو گیس پلانٹ کے قیام کی منظوری دی۔

    کابینہ نے کراچی واٹر بورڈ کی درخواست پر حکومت پنجاب کی طرح بوتل پانی اور مشروبات کی کمپنیوں سے فی لیٹر 1 روپے لیوی کی منظوری دی۔کابینہ نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کی درخواست پر مقامی حکومت کی سطح پر فنڈ قائم کرنے کی تجویز منظور کی۔

    کابینہ نے لوکل گورنمنٹ کے سب انجینئرز BS-11 SCUG) کے سروسز ڈھانچے کو دیگر محکموں جیسے آبپاشی ، ورکس اینڈ سروسز ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور ایجوکیشن ورکس کے برابر لانے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ 138.384 ارب روپے کی لاگت سے 1646 جاری اسکیمیں شروع کی گئی ہیں جن کے لیے اس نئے مالی سال 21-2020 کے دوران 38.706 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔

    محکمہ زراعت نے کابینہ کو بتایا کہ بیج کا تعین وفاقی سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایف ایس سی اینڈ آر ڈی) کرتاہے۔ فی الحال ایف ایس سی اینڈ آر ڈی کا انفرااسٹرکچر اور عملہ پورے سندھ کا احاطہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

    کابینہ کے اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیلی میڈیسن کے کئی فوائد ہیں جو کہ مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں ، بشمول خدمات تک تیز رسائی۔

    یہ خاص طور پر دیہی علاقوں کے لوگوں کے اخراجات اور کاوشوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جو علاج کے لیے لمبی دوری کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

    محکمہ صحت نے سندھ ٹیلی ہیلتھ اینڈ ٹیلی میڈیسن ایکٹ 2021 کو کابینہ میں پیش کیا اور وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ ایکٹ ٹیلی میڈیسن کی پریکٹس کے لیے معیاری گائیڈ لائنز کی فراہمی میں مدد کرے گا۔

    کابینہ نے سندھ ایلوپیتھک نظام (غیر مجاز استعمال کی روک تھام) ایکٹ -2014 کے قواعد کی بھی منظوری دی تاکہ ادویات کے ایلوپیتھک نظام کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

    کابینہ نے سندھ میں وکلاکی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لیے سندھ لائرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن بل 2021 کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے سندھ بلڈ ٹرانسفیوڑن اتھارٹی کے ضوابط کی بھی منظوری دی۔

    کابینہ نے محکمہ صحت کی درخواست پر سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS) بنانے کی تجویز کی منظوری دی محکمہ صحت ایک ڈونر ایجنسی کے تعاون سے 200 ایمبولینسوں کا بیڑا شامل کر رہا ہے جو کہ SIEHS کے تحت کام کرے گا۔

    کابینہ نے نئی تشکیل شدہ کمپنی SIEHS کے لیے 500 ملین روپے کی سیٹ اپ لاگت کی منظوری بھی دی۔کابینہ نے وضاحت کے لیے ایس آر بی قوانین کے کچھ حصوں میں ترمیم بھی کی۔

    ایس آر بی نے ایک آئٹم پیش کیا جس کے تحت 5 فیصد ایس ایس ٹی اسکول فیس اور نجی صحت کے اداروں پر عائد کرنے کی تجویز دی تھی جسے کابینہ نے مسترد کر دیا۔

  • پانی ہزار نعمت  تحریر:  ام سلمیٰ

    پانی ہزار نعمت تحریر: ام سلمیٰ

    اللہ پاک کی نعمتوں میں اہم نعمت پانی جس کی اہمیت کو ہم اس طرح سمجھ لیں کے ہمارے جسم میں کم از کم 55 فیصد جسم ہے۔ دوسری طرف زمین کی سطح 71 فیصد پانی ہے۔ ہمارے ماحولیاتی نظام میں ایک عام مادہ ، کیا ہمیں اسے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے؟
    پانی ایک نایاب اور محدود وسیلہ ہے۔
    یقین کریں یا نہ کریں ، جبکہ ہماری زمین کا 71 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے ، اس پانی کا صرف 3 فیصد حصہ میٹھا پانی ہے۔ اس 3 فیصد میں سے ، صرف 1 فیصد ابھی ہمیں دستیاب ہے ، باقی 2 فیصد گلیشیئرز میں میں بند ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1 فیصد اکیلے ہی انسانوں ، جانوروں اور پودوں کی زندگی سمیت آبادیوں کے پورے دُنیا کو برقرار رکھنا کے موجود ہے۔ جتنی تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے ، اگر ہم اسے محفوظ نہیں کرتے ہیں تو ہمارے پاس اس ایک فیصد دستیاب پانی میں پورا کرنا مشکل ہوگا.

    زندگی کے لیے پانی ضروری ہے۔
    پانی کو بچانے کی وجہ اتنی ہی واضح ہے۔ ہمیں زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے نہ صرف ہمیں برقرار رکھنے کے لیے بلکہ ہمارے رہن سہن کو۔ جو کھانا ہم کھاتے ہیں ، فصلیں ، مویشی ، سب میٹھے پانی پر انحصار کرتے ہیں تاکہ مستقبل کے استعمال کے لیے قابل عمل ہو۔

    پانی ضائع کرنے سے دیگر اشیاء کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔کیوں جب سمندری پانی کو پروسیس کر کے استعمال کیا جائے تو وہ کہیں زیادہ قیمت بڑھ جاتی ہے.
    پانی کم ہونے کی وجہ سے ، کچھ اشیاء جن کو اس کی ضرورت ہو پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، کچھ اشیاء نایاب ہو تی جائیں گی یا ان کی قیمت زیادہ ہو تی جائے گی.

    ہمارے پاس پینے اور نہانے کے علاوہ میٹھے پانی کے بہت سارے استعمال ہیں کپڑے دھونے میں کاشت کاری اور روزمرہ کی اسی طرح کی دیگر سرگرمیاں ہیں جن میں میٹھے پانی کا استمعال ہے.

    ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی پانی ضروری ہے۔
    جیسے کے ہمیں معلوم ہے کے ہمارے نباتات اور حیوانات کو زندہ رہنے کے لیے میٹھے پانی کی ضرورت ہے اگر ہم پانی کا استعمال مناسب کریں گے تو ان کے لیے بھی پانی بچا سکیں گے۔

    ہمیں میٹھے پانی کے استمال پر توجہ رکھنی ہوگی اور اس ضائع ہونے سے محفوظ کرنا ہوگا اور اس میں ناکامی ہماری آگے آنے والی نسلوں کے لیے نقصان دے ہوگی.پانی واضح طور پر ایک اہم ضرورت ہے ۔ جتنا ہم پانی کو بچائیں گے ، زمین اتنی ہی زیادہ آباد ہوگی۔
    پانی کا تحفظ اپنے گھر سے شروع کریں۔ پانی کی کھپت کو کم کرنے کے لیے چھوٹے طریقوں کو اپنانے سے ، ہم اجتماعی طور پر طویل عرصے میں اپنے ماحول اور کمیونٹی پر بڑا اثر پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں گے انشاء اللہ.

    @salmabhatti111

  • سندھ حکومت نے ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل فون سم بند کرنے کے لیے نادرا کو خط لکھ دیا

    سندھ حکومت نے ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل فون سم بند کرنے کے لیے نادرا کو خط لکھ دیا

    سندھ حکومت نے ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل فون سم بند کرنے کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)کو خط لکھ دیا ہے
    ڈی ایچ او سینٹرل ڈاکٹر مظفر اوڈھو کے مطابق 31 اگست تک جس نے ویکسین نہیں لگوائی اس کی سم بند ہوجائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ افسوس ہے لوگ سم بند ہونے کے ڈر سے ویکسین لگوانے آرہے تھے۔31 اگست سے پہلے لوگ ویکسین لگوالیں، اب تک صوبے میں 80 لاکھ سے زائد لوگوں کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

  • وزیر اعظم کی آمد کے حوالے سے مجھے یا وزیر اعلی سندھ کو کوئی آگاہی نہیں تھی : مرتضی وہاب

    وزیر اعظم کی آمد کے حوالے سے مجھے یا وزیر اعلی سندھ کو کوئی آگاہی نہیں تھی : مرتضی وہاب

    ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون وبیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ وزیر اعظم کی آمد کے حوالے سے مجھے یا وزیر اعلی سندھ کو کوئی آگاہی نہیں تھی وزیر اعظم کا کراچی کی ترقی کے حوالے سے کوئی اجلاس نہیں تھا وہ گزشتہ روز میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی کے حوالے سے وزیراعظم نے کوئی اجلاس نہیں کیا وزیر اعظم نے صرف ایک پروگرام میں شرکت کی 2018 سے کہا جا رہا ہے کہ گرین لائن شروع ہو رہی ہے مارچ 2018 میں ن لیگ کی حکومت نے کہا تھا کہ گرین لائن منصوبہ مکمل ہوگیا ہے بطور وزیر اعظم عمران خان نے 2018 میں اعلان کیا کہ 6 ماہ میں گرین لائن منصوبہ شروع ہوجائے گا،بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ تین سال گزر چکے ہیں لیکن گرین لائن ابھی تک نہیں چلی وفاق کو اعلان کرنے سے گریز کرنا چاہئے کام ہوجائے گا تو عوام کو نظر آجائے گا۔
    گرین لائن منصوبے کے لئے گورنر سندھ کی جانب سے 80 بسوں کی چین سے آئندہ ہفتے آمد کے اعلان پر بیرسٹرمرتضی وہاب نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بسیں کہاں ہیں ہمیں تو نظر نہیں آرہیں.

  • وزیر اعلیٰ سندھ کو وزیر اعظم کے دورہ کراچی کا سرکاری طور پر کوئی پروگرام نہیں دیا گیا، ناصر شاہ

    وزیر اعلیٰ سندھ کو وزیر اعظم کے دورہ کراچی کا سرکاری طور پر کوئی پروگرام نہیں دیا گیا، ناصر شاہ

    صوبائی وزیر بلدیات و پبلک ہیلتھ انجیئنرنگ سید ناصر حسین شاہ نے وزیر اعظم پاکستان کے کراچی کے دورے کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میری وزیر اعلیٰ سندھ سے بات ہوئی ہے ان کو وزیر اعظم کے دورہ کراچی کا سرکاری طور پر کوئی پروگرام نہیں دیا گیا۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ انتظار کر رہے تھے، لیکن کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
    انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ ٹرانسفارمیشن کے حوالے سے اجلاس تھا، لیکن نہ تو وزیر اعلیٰ سندھ کو اور نہ ہی دیگر اسٹیک ہولدرز کو اجلاس میں بلایا گیا۔صوبائی وزیر بلدیات نے مزید کہا کہ وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ان کے پاس کراچی کے لئے چند ہی گھنٹے ہیں۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم تو کہتے ہیں وزیر اعظم صاحب سندھ آئیں، ہمیں بلائیں نہ بلائیں خوش رہیں، لیکن وہ جو اعلانات کرتے ہیں، ان پر عمل کریں .

  • ملک میں کسی بھی وقت انتخابات ہو سکتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

    ملک میں کسی بھی وقت انتخابات ہو سکتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یہ حکومت جانے والی ہے، ملک میں کسی بھی وقت انتخابات ہو سکتے ہیں۔ کشمیر کے پہاڑوں پر رہتے ہوں یا کیماڑی میں، عوام اب پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔کراچی کے وائی ایم سی اے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوِئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت سندھ صوبے کی عوام کی بہود و ترقی کے لیئے بہتر کام کر رہی ہے۔
    وائی ایم سی میں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے لیئے مواقعے فراہم کرنا بھی حکومتِ سندھ کا بھتر اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور پی پی پی کی حریف جماعتوں کی عادت بن گئی ہے، کراچی کے لیئے وہ خود کچھ کرتے ہیں نہ کسی اور کو کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
    ساتھ نہ دینے اور محدود وسائل کے باوجود کراچی سمیت پورے صوبے کام ہو رہا۔

    وفاقی حکومت اسِ صوبے اور کراچی کے ساتھ جو ناانصافی بار بار کر رہی ہے، عوام وہ دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پورے پاکستان کی عوام کی واحد امید اب پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ انتخابات کے لیئے بھی مسلسل تیاریاں جاری رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ الیکشن موڈ میں ہوتی ہے۔ کشمیر سے لے کر کوئتہ تک، اوپر سے لے کر نچلی سطح تک تیاریاں جاری ہیں، بڑے بڑے لوگ پارٹی میں شامل ہو رہی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ قوم نے دونوں باقی جماعتوں کو بھگتا ہے۔ عوام دیکھ چکے ہیں کہ تبدیلی کا اصل چہرہ تاریخی بے روزگاری، غربت اور مہنگائی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ پی پی پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ناجائز حکومت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت کمزور حکومت بھی ہے۔ اسی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی وقت عام انتخابات ہو سکتے ہیں اور اس لیئے ہم الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں۔
    ایک سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ مولانا فضل رحمان کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ متحدہ اپوزیشن حکومت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
    پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ کسی کے خلاف نہیں، بلکہ عوام دوست جماعت ہے۔ جس کی پالیسی عوام دشمن ہوگی، ہم ان کے دشمن ہوں گے اور جس کی پالیسی عوام دوست ہوگی، ہم ان کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو پیپلز پارٹی میں آتا ہے، تو وہ برا ہوجاتا ہے۔ یہ رویئہ مناسب نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے، اس کے دروازے ان سب کے لیئے کھلے ہیں، جو اس حکومت کو ہٹانا، عمران خان کو بھگانا، اور ملک کو ایک پرامن، ترقی پسند اور خوشحال پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔
    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعلی سندھ اور ان کی ٹیم کی محنت سب کے سامنے ہے۔ صحت، تعلیم، پانی اور حتی کے توانائی کے شعبے میں محدود وسائل کے باوجود کراچی کے مسائل حل کرنے لیئے نمایاں کام کیا ہے۔ اپنے دورہِ امریکا کے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ائندہ کچھ مہینوں میں وہ واشنگٹن کا دورہ بھی کریں گے، اور پھر موجودہ حکومت کی چیخیں نکل جائیں گی۔
    انہوں نے کہا کہ شیخ رشید ماضی میں جنرل مشرف کی حکومت کے بارے میں دعوے کرتا تھا کہ مشرف ہمیشہ برسرِ اقتدار رہے گا، لیکن صدر آصف علی زرداری نے اس مژرف کو بھی بھگا دیا تھا۔ پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت جو بھی یکطرفہ فیصلہ کرے گی، اور صوبے کی عوام اور حکومت کو نظرانداز کرکے قدم اٹھائے گی وہ متنازعہ ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں کراچی کی عوام پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو اپنے ووٹ کی طاقت سے جواب دیں گے۔
    عوام کو پتا ہے کہ ان کو درپیش مسائل کی ذمیدار یہ ہی دو پارٹیاں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو شہرِ کراچی کی بھتری کے لیئے محنت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے کراچی میں ایڈمنسٹریٹر اور اسپیشل اسسٹنٹس کی مقرریوں کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

  • سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری سے پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال کی ملاقات

    سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری سے پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال کی ملاقات

    سربراہپاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے اپنی رہائشگاہ قادری ہائوس پر پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال سے ملاقات، ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے سندھ کے مظلوموں کی آواز بننے اور سندھ کے دارالخلافہ کراچی کے ساتھ نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کیلئے ایک ہوکر کام کرنے پر زور دیا ، ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پاکستان سنی تحریک ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ کراچی سے لے کر خیبر تک ہمیں مظلوموں کے حقوق کے لئے آواز اُٹھانی ہے ، کراچی سندھ کے دارالخلافہ ہے اس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہورہا ہے کراچی ، حیدرآباد ، لاڑکانہ، سکھر جیسے شہروں کی حالت بہت خراب ہے، سندھ دھرتی ہماری ماں ہے سندھ دھرتی کے بیٹے کراچی سمیت سندھ کے کسی بھی شہر کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کرینگے ، کراچی میں ناجائز تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کردیا گیا سندھ حکومت پہلے متبادل جگہ فراہم کرتی پھر انہیں ہٹایا جاتا ، عوام سے جینے کا حق چھیننے جیسی پالیسیاں جمہوریت کے منافی ہیں ، دس محرم کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کرینگے جہاں ظلم ہوگا وہاں ملکر آواز اُٹھاتے رہینگے ، کراچی شہر بری طرح برباد ہورہا ہے، دس محرم کے بعد ملکر جدوجہد کرینگے ،جوبلی مارکیٹ ہو یا الہٰ دین پارک توڑنے پر متاثرین کا خیال بھی کرنا چاہئے ، مظلوم عوام کو کسی طور بھی تنہا نہیں چھوڑینگے ،اس موقع پر پی ایس پی کے سربراہ سید مصطفی کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ثروت بھائی کا اور ہمارا پرانا واسطہ ہے ، جب انسانی جانوں کا ضیاع ہورہا تھا اس وقت بھی ہم حق کہنے سے نہیں ہٹے، آج ہماری ملاقات کا مقصد و محور عام انسان پریشان ہے ، اس پر ظلم بڑھتا چلا جارہا ہے ، کراچی سے کشمور تک اور کشمور سے کشمیر تک لوگ خوش نہیں ہیں، ہم جس شہر کراچی میں رہتے ہیں وہ پورے پاکستان کو 70فیصد اور سندھ کو 90فیصد ریونیو کما کر دیتا ہے یہ شہر تباہ ہوگا تو پاکستان تباہ ہوگا، ماضی میں اس شہر کو تباہ کرنے کیلئے بیرونی ملک کی ایجنسیوں نے اربوں ڈالر خرچ کئے اور اس شہر کو خون میں نہلایا ، اللہ نے ہم پر کرم کیا آ ج وہ تمام انوسٹمنٹ اور دشمن کی سازشیں تباہ ہوئی ، آج جو کراچی کے ساتھ ہورہا ہے اس وقت خاموش رہنا ظلم کا ساتھ دینا ہے اُس وقت جب سچ بولنے کی سزا موت تھی جب ہم نے سچ بولا ہے ، آج زبان اور مسلک کی بنیاد پر بھائی بھائی کو نہیں مارہا ماضی میں ہر جماعت نے شہداء قبرستان بنا لیئے تھے ، تیرہ سالوں میں پیپلز پارٹی نے کراچی کو کچرا کنڈی بنا دیا ، پہلے اسکولوں سے لوگ انجینئر ، ڈاکٹر بنتے تھے، تاجر پنجاب جارہے ہیں تو ان کو پانی بھی مل رہا ہے اور بجلی بھی مل رہی ہے ، تاجر ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سندھ سے پنجاب جارہے ہیں ، آج جو حالات ہیں اس پر خاموش رہنا ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے جب ہم را کے تسلط سے لڑ سکتے ہیں تو پاکستان میں اپنا حق لینا جانتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے عشرے کے بعد انشاء اللہ احتجاج کریں گے مظلوموں کے لئے آواز اُٹھاتے رہینگے ظالم یاد رکھے اللہ رب العالمین ہے ،ظلم کو ختم ہونا ہے، صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی کے مسائل وزیر اعظم کے کرنے کے نہیں ہیں نالوں کی صفائی کونسلر کا کام ہے ، توپ سے مکھی مارنا عجیب ہے کچرہ اُٹھانا اور نالے صاف کرنا روز کا کام ہے سندھ میں ایڈ منسٹریٹر نہیں لگنا چاہئے ، ایڈمنسٹریٹر کی بجائے الیکشن کرائے جائیں ، عوام کے مسائل اس وقت تک حل نہیں ہوتے جب تک مقامی سطح پر اختیارات منتقل نہیں ہونگے ۔