Baaghi TV

Author: +9251

  • کابل شہرمیں افغان طالبان کے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے:باربارکی لڑائی میں افغان رُل گئے

    کابل شہرمیں افغان طالبان کے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے:باربارکی لڑائی میں افغان رُل گئے

    کابل: شہرمیں افغان طالبان کے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے:باربارکی لڑائی میں افغان رُل گئے ،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے افغانستان کے مزید دو شہروں پر قبضہ کر لیا ہے اور مجموعی طور پر نو پر قبضہ کر لیا ہے ، امریکی انٹیلی جنس نے خبردار کیا ہے کہ دارالحکومت کابل ایک ماہ کے اندرافغان طالبان کے قدموں میں‌ گرسکتا ہے

     

     

    ڈیلی میل کے مطابق صوبہ بغلان کا دارالحکومت پل خمری اور بدخشاں کا دارالحکومت فیض آباد راتوں رات اسلام پسندوں کے قبضے میں آگئے جبکہ کمانڈوز کی ایک یونٹ جو قندوز شہر کے ہوائی اڈے پر موجود تھی – طالبان نے کئی روز قبل قبضہ کر لیا تھا۔ اور اب یہ قبضہ مضبوط سے مضبوط ترکرلیا ہے

    ڈیلی میل نے واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ مزار شریف جو کہ شمال کا سب سے بڑا شہر اور طالبان مخالف جنگجوؤں کا روایتی گڑھ ہے ، اب صدراشرف غنی کے ساتھ ایک بھرپورحملے کی تیاری کر رہا ہے

    امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ کابل جو کی افغان حکومت کے پاس آخری گڑھ ہے اوریہ ہی وہ جگہ ہے جس سے افغانستان کے دیگرعلاقوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے اب یہاں‌بھی خطرے کی گھنٹیاں‌بجنے لگی ہیں‌

    یاد رہےکہ اس سے پہلے امریکی عہدیداروں نےکہا تھا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد کابل چھ ماہ سے ایک سال کے درمیان ہاتھ سے نکل سکتا ہے لیکن یہ پیشن گوئی غلط ثابت ہورہی ہے اب تویہ قبضہ چند دنوں‌ میں ہونے جارہا ہے

    کابل میں امریکی سفارت کاروں کو سیکورٹی فراہم کرنے والے امریکی سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں‌کہ حالات خراب ہونے کی صورت میں کیسے یہاں سے بحفاظت نکلا جاسکتا ہے

    دوسری طرف ڈیلی میل نے واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر دارالحکومت ہاتھ سے نکل گیا تو یہ مہاجرین کے ایک نئے بحران کو جنم دے گا جس نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کی لڑائی کے دوران تقریبا 2.5 ملین افغانیوں کو ملک چھوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ ملک میں تقریبا ایک ملین بے گھر افغان ہیں ، ہزاروں کابل میں حکومتی افواج کے تحفظ میں ہیں ، حالانکہ اگر طالبان نے قبضہ کر لیا تو اس تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

     

     

    افغان حکومت کے ختم ہونے کی صورت میں زیادہ تر پاکستان اور ایران کی طرف بھاگنے کا امکان ہے – جو اس وقت اندازہ لگایا جاتا ہے کہ 90 فیصد مہاجرین ہیں – حالانکہ بڑی تعداد میں ترکی جانے کی توقع ہے ،

    ترکی کی اہم اپوزیشن پارٹی کے رہنما کمال کلیسداروگلو نے گزشتہ ماہ اس خدشے کا اظہار کیا کہ دس لاکھ تک ا فغان مہاجرین ان کے ملک آسکتے ہیں – یہ کہتے ہوئے کہ برسلز اردگان کو وہاں رکھنے کے لیے ‘رشوت’ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    بھارت نے پہلے ہی مزار شریف سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے اور منگل کو شہر کے مضافات میں لڑائی شروع ہونے کے بعد انہیں باہر نکال دیا۔

    طالبان کی پیش قدمی کو روکنے کی کوشش میں ، غنی بدھ کو شہر گئے اور مزار کے طاقتور رہنما عطا محمد نور اور سوویت صفوں میں خدمات انجام دینے والے بدنام زمانہ طالبان مخالف جنگجو عبدالرشید دوستم سے ملاقات کی۔

     

    اس سے پہلے دوستم کو مزار میں پرواز کرنے سے پہلے دارالحکومت کابل میں اپنے سینکڑوں وفادار کمانڈوز کے ساتھ ہوائی جہاز پر لادتے ہوئے دیکھا گیا تھا جہاں وہ لڑائی میں شامل ہوں گے۔

     

    جنگجو پچھلے ہفتے ترکی میں اپنے اڈے سے افغانستان واپس آیا تاکہ سیکورٹی کی صورتحال کا اندازہ لگا سکے ، اور مزار کے لیے اس کی پرواز طالبان جنگجوؤں نے صوبہ جوزجان میں اس کی ایک وسیع و عریض حویلی پر قبضہ کرنے کے صرف دو دن بعد کی ہے۔

    یہاں تک کہ جب حکومت کی توجہ شمال کی طرف منتقل ہوئی ، افغانستان کے مغرب اور جنوب میں لڑائیاں جاری رہیں – ہرات ، لشکر گاہ اور قندھار کے بڑے شہروں میں جھڑپیں جاری ہیں۔

     

    قندھار میں ، طالبان باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوئیں ، شہر کی جیل کے قریب شدید لڑائی کی اطلاع ہے ، جس پر عسکریت پسند کئی ہفتوں سے پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ان حالات کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ افغان مہاجرین پھردنیا کا رخ‌ کریں‌ گے اوراس کا سب سے زیادہ شکارپاکستان ہوگا

  • قمر سلیم کے تیسرے گانے نے بھی مداحوں‌ کے دل جیت لیے

    قمر سلیم کے تیسرے گانے نے بھی مداحوں‌ کے دل جیت لیے

    قمر سلیم نے اپنا تیسرا گانا "سونا” ریلز کر دیا ہے، جسے سوشل میڈیا پر بے حد پذیرائی ملی ہے، گانا پہلی محبت کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے.

    قمر سلیم کا کہنا ہے کہ پہلی محبت وہ جذبہ ہے جو ہمیشہ ساتھ رہتا ہے، کتنے بھی سال گزر جائیں، اسکی ایک یاد خوشگوار احساس پیدا کرتی ہے، گانے کی میوزک ویڈیو سنگاپور میں غیرملکی فنکاروں کے ساتھ عکس بند کی۔ اب تک سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مختلف نامور بلاگ میوزک ویڈیو کے کلپس شئیر کرچکے ہیں۔

    قمرسلیم سنگاپور میں عالمی ادارے میں فنائنس ایگزیکٹو کے طور پر کام کر رہے ہیں، لیکن انہیں پچپن سے ہی موسیقی سے گہرا لگاو رہا ہے، کورونا وائرس کے دوران یہ تیسری میوزک ویڈیو ریلز کی ہے، انکے پہلے گانے "جانا” کو بھی بے حد پذیرائی ملی تھی، یوٹیوب پر قمر سلیم کی چینل پر انکے گانے "جانا” کو تین ملین سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں.

  • پرائمری سکول بنا بھینسوں کا باڑہ

    پرائمری سکول بنا بھینسوں کا باڑہ

    وہاڑی کے نواحی گاؤں موضع تجوانہ میں با اثر زمیندار نے گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کو مویشیوں کے بھانے میں تبدیل کر دیا ہے.

    وہاڑی کے نواحی گاؤں موضع تجوانہ میں گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول پر بااثر زمیندار نے قبضہ کرکے سکول کے کمروں میں مویشی باندھ لیے ہیں، سکول کی چاردیواری کو ختم کرکے اینٹیں، مین گیٹ اور ونڈوز وغیرہ غائب کر دیں ہیں، سکول میں لاکھوں روپے کے سرکاری درخت بھی کاٹ کر فروخت کر دیے ہیں، جس پراہل علاقہ نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ سکول کئی ماہ سے بند ہوچکا ہے، سکول کا عملہ گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہا ہے، یہاں پر کوئی دوسرا سکول نہ ہونے پر ہمارے بچوں کو دورداز کے سکولوں میں جانا پڑتا ہے، جس پر اہل علاقہ نے احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے.

    طیب اشرف
    نمائندہ باغی ٹی وی لڈن
    تحصیل وہاڑی ضلع وہاڑی

  • سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنے والا نوجوان پولیس کی حراست میں

    سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنے والا نوجوان پولیس کی حراست میں

    نیکے تھانیدار نے کاروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پراسلحہ کی نمائش کرنے والے نوجوان کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے.

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وہاڑی ڈی ایس پی صدر سرکل وہاڑی کے احکامات کی روشنی میں منصور منیر خان ایس ایچ او تھانہ لڈن نے محمد اقبال اے ایس آئی اور دیگر ملازمان پر مشتمل ٹیم کو سوشل میڈیا پر مسمی محمد مبشرعرف باشو ولد حاجی ممتاز قوم رکھیہ سکنہ حسن محمود کالونی لڈن کی کھلے عام اسلحہ کی نمائش اور خوف و ہراس پھیلانے کی تصویر وائرل ہونے کے بعد فوری گرفتاری کا ٹاسک دیا جنہوں نے ملزم کی فوری گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے مقدمہ نمبر 641/21 مورخہ 09.08.2021 بجرم AO13(2)A20/65 تھانہ لڈن درج کرکے تفتیش مقدمہ شروع کر دی ہے.

    طیب اشرف
    نمائندہ باغی ٹی وی لڈن
    تحصیل وہاڑی ضلع وہاڑی

  • امن و امان کی فضا کو قائم رکھنے کیلئے علماء اپنا کردار ادا کریں سعید الحسن

    امن و امان کی فضا کو قائم رکھنے کیلئے علماء اپنا کردار ادا کریں سعید الحسن

    صوبائی وزیراوقاف و مذہبی امور پیرسعید الحسن شاہ کی زیر صدارت محرم الحرام کے امن و امان کا جائزہ لیا گیا ہے، اس اجلاس میں انہوں نے کہا ہے کہ قیام امن کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے، محرم الحرام کے مقدس مہینے میں بھی بھائی چارے اور رواداری کی فضاء کو پروان چڑھانے میں علماء کرام اپنا بھرپور تعاون جاری رکھیں، محرم الحرام کے موقع پرضلعی انتظامیہ، پولیس تمام سرکاری اداروں اور ضلعی و تحصیل امن کمیٹیوں سے مل کر تمام انتظامات قبل از وقت مکمل کرے، صوبائی وزیر اوقاف کا محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، مجالس اور جلوسوں کی فول پروف سکیورٹی، راستوں میں روشنی، صفائی، نکاسی آب سمیت دیگر انتظامات کے بارے میں ہدایت جاری کی ہیں.

    اجلاس میں ڈپٹی کمشنرنبیلہ عرفان، ڈی پی او سید اکبرعلی شاہ کے علاوہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد حنیف، عائشہ غضنفر، اسسٹنٹ کمشنرزعثمان سکندر، عرفان مارٹن، عثمان اکرم، سی ای او ڈاکٹر خالد جاوید، ڈی او ڈاکٹرمحمد طارق، ڈی ایس پی ٹریفک فوزیہ، سی ڈی او عاصم ریاض، سی اوز میونسپل کمیٹیزو دیگر محکموں  کے افسران نےاجلاس میں شریک کی ہے.

    ڈپٹی کمشنر نبیلہ عرفان نے صوبائی وزیر اوقاف کو بتایا کہ  ضلع کی سطح پر مسلسل مانیٹرنگ  کیلئے ڈی سی آفس میں کنٹرول روم  قائم  کیا گیا ہے، جہاں سے حساسں  جلوسوں، مجالس  کی بذریعہ سی سی ٹی وی کیمروں سے لائیو مانیٹرنگ کی جائے گی، ڈی سی آفس میں کنٹروم روم بنا دیا گیا ہے، اس کے علاوہ جلوس کی گزرگاہوں میں صفائی ستھرائی اور بجلی کی لٹکتی تاروں کے لیے ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

    ڈی پی او سید اکبر علی شاہ نے بھی صوبائی وزیر اوقاف کو ضلع بھر میں منعقدہ جلوس اور مجالس کی سیکورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا ہے.

    صوبائی وزیر اوقاف پنجاب نے کہا کہ محرم الحرام میں غیرملکی امن دشمن قوتیں فرقہ وارایت کی آگ بھڑکانے کے مذموم ایجنڈا کی تکمیل کیلئے متحرک ہوجاتی ہیں، ایسی قوتوں کے خلاف ہمیں اپنی صفوں میں مکمل اور مثالی اتحاد پیدا کرتے ہوئے مسلسل چوکنا رہنا ہوگا، بالخصوص ہمسایہ ملک افغانستان میں موجودہ حالات کے تناظر میں تخریبی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے سوشل میڈیا اور امن دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھنا ہوگی، تمام مسالک کے جید علماء کرام مکمل ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ساتھ قیام امن کی حکومتی کوششوں کو کامیاب بنائیں، کسی بھی شرانگیزی، فرقہ واریت اورمذہبی منافرت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، سوشل میڈیا کو  بالخصوص ملکی قوانین کے تابع بنانے کیلئے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، نفرت انگیز پوسٹ، مواد اپ  لوڈ کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق  فوری ایکشن سے بہتر نتائج حاصل ہوں گے، آل رسول ؐ کی  محبت ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے، جس کا پہرہ دینا ہمارا اولین فرض ہے، تمام مسالک کے علماء مل کرایسی تمام قوتوں کے مکروہ عزائم کو ناکام بنائیں گے، جو امت مسلمہ کی صفوں میں انتشار اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے  ہیں.

    صوبائی وزیر اوقاف نے متعلقہ کو ہدایت کی کہ وہ مجالس اور جلوس کے روٹس پر پیچ ورک اور لائٹس کا کام جلد مکمل کریں تا کہ عزا داروں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، تمام مجالس میں کورونا ایس او پیز کو بھی سختی سے ملحوظ خاطر رکھا جائے، سماجی فاصلہ اور ماسک کا استعمال لازمی ہوگا، کسی بھی عزادار کو ماسک کے بغیر جلوسوں یا مجالس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی، کورونا ویکسی نیشن بھی ضروری ہوگی، سی اوزمیونسپل کمیٹیز کو مزید ہدایت کی کہ وہ جلوسوں اور مجالس کے راستوں سے تجاوزات کا خاتمہ بھی کروائیں، تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز بھی اپنی اپنی تحصیلوں میں عاشورہ محرم الحرام کے انتظامات کومکمل کریں، تجاوزات، لائٹس اور پیچ ورک کا کام جلد مکمل کروائیں.

    محمد عارف راشد باغی ٹی وی نارووال

  • تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    تعلیم و تربیت تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں آنے والا انسان پہلے دن سے ہی عالم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ انسان بغیر استاد کے کچھ سیکھ سکتا ہے۔دنیا میں آنے کے بعد بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود کہلایا گیا ہے ۔میرے نزدیک والدین ہی اپنے بچے کے بہترین استاد ہوتے ہیں۔ ان کی دی گئی تربیت بچے کی زندگی کو اسی راستے پر لاتی ہے۔ جس پر والدین نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہوتا ہے۔اور کچھ سبق زندگی سکھا دیتی ہے۔ تو کچھ استاد کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    استاد جس علم کی روشنی کو تقسیم کرتا ہے اس سے بہت سارے چراغ روشن ہوتے ہیں۔ علم ایک سے دوسرے میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہےگا۔ قارئین علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے تعلیم آپ نے حاصل کر بھی لی اگر کسی چیز کے بارے میں تعلیم مکمل کرلیں اور اس کو یاد بھی کر لیا۔ لیکن اس پر خود عمل نہیں کرتے تو ایسے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ علم پھیلانا دوسروں میں تقسیم کرنا صدقہ جاریہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ہوتا کیا ہے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کے اندر تکبر آ جاتا ہے۔جسے اپنے علم پر گھمنڈ ہو جو تعلیم یافتہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھے تو ایسے عالم سے وہ جاہل بہتر ہے جس کے اندر کسی چیز کا گھمنڈ نہیں ہوتا بڑی عاجزی کے ساتھ بات سنتا اور عمل بھی کرتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک علم والا اپنے بہترین اخلاق اور بہترین تعلیمات کے ذریعے علم و شعور کی بیداری کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ سننے پڑھنے والوں کے اندر مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا ہو اور اس کو حاصل کرنے کے بعد عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔
    بہت سی ایسی شکایات سننے کو ملتی ہیں کہ نوجوان نسل بدتمیز ہے اور ان میں کوئی شعور نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر یہ سوال بھی جنم لیتا ہے ۔

    کیا آج کے دور میں علم تقسیم کرنے والے خود باعمل ہیں ؟
    کیا ان کا مقصد دوسروں تک علم کو امانت سمجھ کر پہنچانا ہے۔ یا پھر حصول روزگار کے لئے اس شعبے کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔اور ترجیحات میں صرف ذاتی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔

    یاد رکھیں جہاں آج ایک نسل کو بد اخلاق تصور کیا جاتا ہے وہاں صرف آج کی پروان چڑھتی یہ نوجوان نسل قصوروار نہیں۔ بلکہ اس نسل کے والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے بغیر تحقیق کیئے اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ایسا انتخاب کیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والا ہر باشعور شخص قصوروار ہے ۔ان سب کے سامنے علم کو صرف بیچا گیا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج جہاں علم کی قیمت لگائی جاتی ہے علم کو بیچا جا رہا ہے۔ اس کے خریدار بھی اتنے ہی زیادہ ہیں جو جتنا طاقتور ہے وہ تعلیم کی ڈگریاں خرید لیتا ہے۔وہ لوگ جو دن رات محنت کرنے والوں بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ وہ کردار ذمہ دار ہیں جو بیچتے اور خریدتے ہیں سچ کہوں تو برا لگے گا حقیقت تو یہ ہے اب علم کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ جو جتنا پیسے والا ہو گا اس کے پاس اتنی بڑی ڈگری ہو گی۔ اب ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس کو خرید تو لیا جائے لیکن بے عمل ہو اس منڈی میں جب علم کے ہی سودے ہوں گے تو قوم میں علامہ اقبال کے شاہین نہیں بلکہ ایک جاہل نسل پروان چڑھے گی۔

    پھرہو گا کیا یہ کتابیں کسی سڑک کے کنارے آپ کو ملیں گی یا کسی کباڑیے کے پاس چند کوڑیوں کے عوض بک رہی ہوں گی۔ جب تعلیم حاصل کرنے کا مقصد روزگار ہو پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ایک باشعور شہری ہیں اس ملک کے یا ایک پڑھے لکھے جاہل ہیں ۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @No1Hasham

  • سکول  میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    سکول میں ڈانس کلچر معاشرے کی تباہی تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ماں کی گود کے بعد بچے کی درسگاہ کی زمہ داری اس کے اساتذہ پر عائد ہو جاتی ہے. جو اسے زندگی کے جھمیلوں سے نمٹنے کے لیے ہیرے کی طرح تراشتا ہے. اس زمرہ میں معاشرتی اصول و ضوابط کے مطابق تعلیمی اداروں میں یہ کام سر انجام دیا جاتا ہے. جہاں اساتذہ اپنے علم و ہنر کے جوہر آزماتے ہوئے طالب علم کو تراشتے اور انمول ہیرا بناتے ہیں.
    تعلیمی سرگرمیوں میں بچوں کی صحت اور جسمانی تروتازگی کے لیے مختلف کھیلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے.
    گزشتہ چند سالوں میں جب تعلیمی اداروں میں Co-Education نظام کے ترجیحات کو ایک نیا رنگ دیا. پہلے پہل تو اوقات کار بچوں اور بچیوں کے الگ تھے. پھر رفتہ رفتہ اوقات کا تو درکنار کمرہ جماعت بھی اکٹھے ہو گئے. اس پر پھر جو آزادی دی گئی اس نے تعلیمی اداروں کے معیار کو برباد کر کے رکھ دیا. آج میٹرک جماعت کے طلبہ ٹک شاپس پر گلچھرے اڑاتے دکھائی دیتے ہیں. رہی سہی کسر سکولوں اور کالجز میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی مد میں ڈانس پارٹیوں نے نکال دی. آج کل تو معروف ادارے ماڈرنائزیشن کے نام سےکپل ڈانس جیسی لعنتوں کا سہرہ اپنے سر سجاتے نظر آتے ہیں. جس عمر میں بچوں کو اچھائی اور برائی کا شعور آنا چاہیے تھا اس عمر میں ان کی آپسی انڈرسٹینڈنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے.
    یہ کیسی تعلیم ہے جس میں بچوں کو انڈرسٹینڈنگ کے نام پر عشق و معشوقی کے جزبات سکھاے جا رہے ہیں. ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے. میرا اتفاق ہوا انگلش لینگوج کا کورس کرنے کا. اتفاقاً اس ادارے میں صبح میں سکول اور شام میں ٹیوشن سنٹر قائم تھا. میں اور میرے برادر محترم سمیت ان کے چند دوست بھی جو کہ اس کورس میں دلچسپی رکھتے تھے نے شمولیت اختیار کی. شام میں ہم سب بھائی اور دوست اس ادارے میں اپنے انگریزی زبان کہ تقویت کا عزم لیے داخل ہوئے. وہاں ایک تعداد آٹھویں سے دسویں جماعت کے طلبہ اور طالبات کی بھی تھی. پہلا دن تو تعارف میں گزرا. لیکن انکی اٹکیلیوں اور شرارتوں سے فضا نامعقول محسوس ہوئی. اگلے دن جب ہم دوبارہ کلاس لینے پہنچے تو ہم سے پہلے ایک بڑی تعداد اس ادارے میں بچوں کی صف اول میں موجود تھی. مختصر تعارف سے معلوم ہوا کہ یہ اسی سکول کے بچے ہیں جو صبح یہاں سکول پڑھتے ہیں. کلاس کو شروع ہوئے 15 منٹ گزرے تو چٹ چیٹ کا آغاز ہو گیا. جو کہ بڑھتے بڑھتے کاغذ کے گولے بنا کر ایک دوسرے کو مارنے تک جا پہنچا. استاد محترم وہاں تہزیب کا درس دیتے بے بس دکھائی دے رہے تھے. بالآخر استاد محترم کی جوانی پر بات چھڑ گی اور نو عمر 28 سالہ استاد محترم بھی خوش گپیوں میں مشغول ہو گئے. کلاس کا وقت انہی خوش گپیوں میں مکمل ہوا. ہمارے بار بار اصرار پر کلاس پر توجہ دلانے کی ناکام کوشش بھی جاری رہی. وہ دن ہمارا اس ادارے میں آخری دن تھا. کیا یہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں؟
    میرا سوال ان طالبات سے بھی ہے جنہیں چٹ چیٹ سے فرصت نہیں تھی.
    جن طلبا کے جزبات چکنی چپٹی باتوں سے ابھارے گئے کیا وہ کل روشن مستقبل بنا پائیں گے. پھر گناہ سب لڑکوں کا ہوتا کہ اچھے رشتے نہیں ملتے. پڑھی لکھی بیٹیاں بوڑھی ہو رہی ہیں. کیا ہم یہ اپنا مستقبل بنا رہے ہیں. میرا سوال ان طلبا سے بھی ہی جنہیں بکنی چپٹی باتیں سننے کا شوق ہے. کیا اپنی گھر کی بہن بیٹی کو یہ آزادی دو گے. کہ وہ تمہاری من چاہی گڑیا کی طرح اپنے کسی شہزادے کی باہوں میں جھومتی پھرے؟
    کیا ماں باپ اس لیے بھیجتے کہ ان کے بڑھاپے کو اپنے نکھٹو مستقبل سے برباد کرو؟
    میرا سوال تعلیمی اداروں سے ہے. یہ انڈرسٹینڈنگ کے نام پر بچوں کے جزبات ابھار کر اور ڈانس پارٹیوں سے ان میں قربتیں بڑھا کر ڈانس پارٹیوں میں تنگ لباس سے بچیوں کے جسموں کی نمائش کروا کر اور شہوت کو فروغ دے کر کونسا بھلائی کا کام انجام دیا جا رہا ہے؟ اللہ رب العزت کے متعین کردہ حج و عمرہ کے فرائض جہاں عورت کو صفا مروہ دوڑنے تک کی اجازت نہیں تم بنت ہوا کو نا محرموں میں نچا کر کونسی روزی حلال کر رہے ہو؟
    حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا. جو شخص چاہے کہ مسلمانوں میں فحاشی پھیلے اس کے لیے درد ناک عزاب ہے.
    خدارا ہوش کے ناخن لیں. ماں باپ اپنے بچوں کے لباس اور تہزیب کا خیال کریں. اساتذہ بچوں کے مستقبل کو خراب ہونے سے روکیں. تعلیمی ادارے اس طرح کے ماحول کو ترک کر کہ ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کریں. جہاں سے نکلنے والے طلبہ اور طالبات تمہارے سکھاے ہوے علم و اداب کی بدولت اپنا مستقبل روشن کر سکیں. تاکہ مستقبل کی نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے.

    @EngrMuddsairH

  • گھر کی خاطر ہر دکھ سہنا گھر تو آخر اپنا ہے تحریر: سحر عارف

    گھر کی خاطر ہر دکھ سہنا گھر تو آخر اپنا ہے تحریر: سحر عارف

    اگر آپ کے گھر میں کوئی مشکل وقت آجائے تو کیا آپ اپنا گھربار اور رشتے چھوڑ دیتے ہیں؟ یا ان کے ساتھ مل کر ان تمام چیزوں کا سامنا کرتے ہیں جو آپ کے گھر کے لیے پریشانی کا باعث بنے؟ کیا انسان ہونے کے ناطے ہمارا ضمیر ہمیں اس چیز کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنوں کو مشکل میں اکیلا چھوڑ کر خود مزے سے زندگی گزاریں؟

    انسان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اپنی خاطر نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے جیتا ہے جو اپنے سے جوڑے رشتوں کے لیے ہر تکلیف سے لڑ جاتا ہے۔

    ٹھیک ویسے ہی جیسے ہم اپنے گھر اور گھروالوں کے لیے ان کے محافظ بن کر ان کی مشکلات سے لڑتے ہیں اسی طرح ہمیں اپنے ملک پاکستان کے لیے بھی ہمیشہ کھڑا رہنا چاہیے۔ کیونکہ پاکستان بھی تو ہمارا گھر ہی ہے جہاں ہم سب مل کر پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ جہاں ہماری نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔

    مانا کہ آج ہمارا ملک مشکلات میں گرا پڑا ہے۔ آج یہاں کرپشن عام ہے، چوڑی ڈکیتی عام ہے، قتل و غارت کے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ آج یہاں مہنگائی بھی ہے، بےروزگاری بھی ہے، رشوتیں دے کر لوگ اپنا ہر جائز اور ناجائز کام کرواتے ہیں۔ بے شک آج ہمارا ملک بےشمار برائیوں میں لپٹ چکا ہے۔ پر کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ یہ ملک جب وجود میں آیا تو ان تمام برائیوں سے پاک تھا۔

    اس ملک کو آج اس نہج پر لانے والا کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ کوئی بھی برائی خود سے ہی نہیں شروع ہوجاتی اسے شروع کرنے اور پھر بڑھانے میں پہل ہم جیسے انسان ہی تو کرتے ہیں۔ تو پھر ملک سے شکوہ کیسا؟ ہم لوگ اس قدر دماغی طور پر مفلوج ہوچکے ہیں کہ آج کتنی آرام سے ہر چیز کا الزام اپنے ہی ملک کو دے کر خود بری الزمہ ہوجاتے ہیں۔

    بڑے بڑے امیر لوگ جنہوں نے ساری زندگی اس ملک کا کھایا اس ملک پر حکومت کی اس ملک میں عزت کے ساتھ زندگی گزاری آج جب ملک پر مشکل وقت آیا تو یہ کہہ کر ملک کو چھوڑ گئے کہہ پاکستان میں ہے ہی کیا؟ یہ تو ہر قسم کی برائی میں جکڑا جا چکا ہے، یہاں تو نوکریاں ہی نہیں ہیں، غربت ہی غربت ہے، یہاں تو ہمارے پچوں کا کوئی مستقبل ہی نہیں یے۔

    لیکن ان میں سے کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس ملک نے ہمیں کیا کچھ نہیں دیا۔ آج ہم جس مقام پر بھی ہیں تو صرف اسی سر زمین کی بدولت۔ اتنا سب کچھ ملا اس ملک سے لیکن ہم نے کیا کیا؟ جب مشکل وقت آیا تو منہ اٹھا کے چلے گئے۔ نہیں سوچا کہ ہم اس زمین کے کتنے مقروض ہیں۔ خدارا اپنے ملک کی قدر کیجیئے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے بےانتہا قربانیاں دیں۔ اس ملک کو آج اپنوں کی ضرورت ہے جو اسے مشکلات سے نکال سکے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے یہ بات باور کروا سکے کہ ہم ہر گھڑی ہر وقت اپنے ملک کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں تم اس کا کچھ نہیں بیگاڑ سکتے۔

    @SeharSulehri

  • ہمارئے نبی ﷺ کی خاص صفت حیا  تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارئے نبی ﷺ کی خاص صفت حیا تحریر : راجہ ارشد

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی خاص صفت حیا ہے۔
    کوئی گناہ یا نا پسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے دل میں جو شرم اور بے چینی پیدا ہو۔ اسے حیا کہتے ہیں۔اور حیا ہی گناہوں اور برائیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جس شخص میں جتنی زیادہ حیا ہوگی۔ اتنا ہی وہ گناہوں سے محفوظ رہے گا اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حیا سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے اتنے حساس اور غیرت مند تھے کہ انہوں نے اپنا بوجھ چچا ابو طالب پر ڈالنا پسند نہ کیا ۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ایک ملازمہ فرماتی ہیں کہ : آپ ﷺ کبھی گھر میں کھانا مانگ کر نہ کھاتے۔ جو بھی ملتا کھا لیتے اس پر اعتراض نہ کرتے نہ ہی کھانے میں نقص نکالتے۔
    بے حیائی کا تعلق گناہ کا زکر کرنے سے بھی ہے ہمارے پیارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی خطا کار اپنے گناہ بتا کر معافی بھی مانگتا تو آپ ﷺ شرم سے گردن جھکا لیتے تھے ۔

    اچھے اخلاق کی بنیاد ادب پر ہوتی ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اعلی ترین اخلاق میں ادب نظر آتا ہے۔حالانکہ آپ ﷺ نے اپنے والد کو نہیں دیکھا تھا اور والدہ کے ساتھ بھی بچپن کا بہت کم حصہ گزارا مگر آپ ﷺ نے والدین کے آداب و احترام پر بڑا زور دیا ہے۔اپنی رضاعی والدہ حلیمہ سعدیہ کا بہت احترام فرماتے۔ میری ماں میری ماں کہہ کر کھڑے ہو جاتے اور چادر ان کے لیے بچھا دیتے ۔بوڑھوں بزرگوں بلکہ سب ہی کا احترام فرماتے ہمیں بھی اپنے نبیﷺ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔

    مشہور کہاوت ہے کہ بے ادب بے نصیب با ادب با نصیب۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی ادب کرے اس کے نصیب اچھے ہوں گے۔ادب ایک ایسی خوبی ہے جو خدمت جیسی اعلی عادت بھی سکھاتی ہے۔کیونکہ جو بے ادب ہو گا وہ کسی کی کیا خدمت کرئے گا؟؟
    خدمت خلق ہر ایک کی اور ہر قسم کی خدمت شامل ہے۔اللہ تعالٰی کی یہ پسندیدہ عادت ہے۔اور یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت زیادہ عطا کی گئی ۔ آپ ﷺ اپنے پرائے مسلم اور کافر غرض ہر کسی کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی بغیر کسی مقصد اور لالچ کے کر دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ محتاجوں بیواوں یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفائی کا ذکر بھی بہت بار فرماتے ہیں ہم یہاں چند ایک مثالیں دیکھتے ہیں۔ صفائی بھی ایک ایسی خوبی ہے جو اعلی اخلاق کو مکمل کرتی ہے ۔ آپﷺ نے خاص طور پر جگہ جگہ تھوکنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔
    ایک بار دیوار پر تھوک کے دھبوں کو کھرج کھرج کر خود صاف فرمایا ۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نماز کی امامت کر رہے تھے ۔انہوں نے حالت نماز میں تھوک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شخص نماز نہ پڑھائے۔پوچھنے پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی۔ دوسری جگہ فرمایا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچو کہ قبر میں عام طور پر اسی گناہ کے باعث عذاب ہوتا ہے۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • افغان طالبان کابل کےقریب پہنچ گئے:اشرف غنی نےافغان      آرمی چیف کوعہدے سےہٹا دیا:فوج میں بغاوت کاامکان

    افغان طالبان کابل کےقریب پہنچ گئے:اشرف غنی نےافغان آرمی چیف کوعہدے سےہٹا دیا:فوج میں بغاوت کاامکان

    کابل:افغان طالبان کی پیش قدمی : اشرف غنی نے افغان آرمی چیف کو عہدے سے ہٹا دیا ،طلاعات کے مطابق ملک میں افغان طالبان کی پیش قدمی اور سرکاری فوج کی پسپائی کی وجہ سے افغانستان کے آرمی چیف ولی محمد احمد زئی کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑ گئے ، جس کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے ہیبت اللہ علی زئی کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا گیا ہے۔

    معتبرذرائع کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے آرمی چیف ولی محمد احمد زئی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب افغان طالبان نے مزید 2 اہم شہروں پر قبضہ کرلیا ،افغان طالبان صوبہ فراہ کے دارالحکومت فراہ اور صوبہ بغلان کے دارالحکومت پل خمری پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ، جس کے بعد جمعے سے اب تک فتح ہونے والے بڑے شہروں کی تعداد 8 ہوگئی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق افغآن طالبان افغان سیکیورٹی فورسز سے مختصر جنگ کے بعد فراہ شہر میں داخل ہوگئے اور انہوں نے گورنر ہاؤس ، پولیس ہیڈکوارٹرز اور صوبے کی مرکزی جیل پر قبضہ بھی کرلیا ، فراہ پر قبضے کے نتیجے میں افغان طالبان کو ایران سے متصل ایک اور سرحدی گزر گاہ پر بھی کنٹرول حاصل ہوگیا ، جب کہ افغان فورسز شہر سے باہر ایک فوجی اڈے کی طرف پسپا ہوگئی ،

    ادھر ذرائع کے مطابق پل خمری پر بھی زیادہ سے زیادہ 2 گھنٹے کی لڑائی کے بعد افغان طالبان قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ، افغان طالبان نے ملک کے 34 میں سے 8 صوبائی دارالحکومتوں پر ہفتے بھر میں قبضہ کیا ہے ، جس کے بعد کہا جارہا ہے کہ افغان طالبان کا 65 فیصد ملک پر قبضہ ہوچکا ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ رواں ہفتے کے شروع میں افغان طالبان نے قندوز اور تخار کو فتح کیا ، اب ان کا کابل کو بدخشاں سے ملانے والی 378 کلومیٹر طویل سڑک پر تقریباً مکمل قبضہ ہوچکا ہے ، یہ شاہراہ مسافروں کی نقل و حمل اور تجارت کا بنیادی ذریعہ ہے ، جب کہ پل خمری کی فتح کو اس لیے بھی اہمیت دی جارہی ہے کیوں کہ یہ شہر کابل کے قریب ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ اب ملک کے دارالحکومت کے دروازے پر دستک دے رہی ہے جو افغان حکومت کے لیے پریشانی کی بات ہے۔