Baaghi TV

Author: +9251

  • طیب اردوان نے وعدہ پورا کردیا ،ایلان کردی کے ’قاتلوں‘ کو 125 سال قید

    طیب اردوان نے وعدہ پورا کردیا ،ایلان کردی کے ’قاتلوں‘ کو 125 سال قید

    انقرہ :ترکی کی ایک عدالت نے 2015 میں جاں بحق ہونے والے معصوم شامی بچے ایلان کردی سمیت 5 افراد کی موت کے ذمہ دار 3 ملزمان کو 125 سال قید کی سزا سنادی۔تینوں ملزمان کو ترکی کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک خفیہ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی عدالت نے تینوں ملزمان کو 125 سال قید کی سزا سنائی اورحکم دیا کہ تینوں کو سزا کے دوران کسی مرحلے پر پیرول پر رہا بھی نہیں کیا جائے گا۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2015 میں شام سے ایلان کردی کے اہل خانہ کے علاوہ درجن سے زائد افراد کو کینیڈا پہنچانے کا جھانسا دیا تھا لیکن کشتی کے کھلے سمندر میں طوفان کی زد میں آنے کے سبب وہ مسافروں کو تنہا چھوڑ کر سمندر میں کود کر فرار ہوگئے تھے۔

    خیال رہے کہ 2015 میں ایلان کی ساحل پر پڑی ہوئی لاش کی تصاویر سامنے آنے پر دنیا بھر میں شامی مہاجرین کے لیے آواز اٹھائی گئی تھی جبکہ یورپی ممالک میں ان کو آنے کی اجازت دی گئی تھی، جرمنی نے سب سے زیادہ مہاجرین کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہا تھا۔

    سرخ ٹی شرٹ اور نیلی نیکر پہنے ایلان کردی ان 12 شامی پناہ گزینوں میں سے ایک تھا جنہوں نے یونان پہنچنے اور وہاں ایک بہتر زندگی کے حصول کے لیے سمندر میں موت کا سفر کیا اور کشتی ڈوب جانے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

    اس حادثے میں ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی بھی شامل تھے تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ ایلان کا بڑا بھائی 5 سالہ گیلپ اور والدہ بھی اس حادثے میں جان کی بازی ہار گئی تھیں۔یہ تمام مسافر شامی کرد تھے جنہوں نے داعش کے دہشت گردوں کی وجہ سے ترکی میں پناہ لی تھی۔ان تینوں کو انسانی اسمگلنگ کے شواہد سامنے آنے کے بعد سزا سنائی گئی۔

    یاد رہے کہ ایلان کردی کی دردناک موت پرترکی کے صدرطیب اردوان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کے قاتلوں کوگرفتارکرکے اس جرم کی ضرور سزا دیں گے ، اس وعدے کی آج تکمیل ہوگئی ہے

  • کورونا وائرس: بنگلہ دیش میں 25 ہزار مسلمان دعا کیلئے جمع،دنیا حیران وپریشان

    کورونا وائرس: بنگلہ دیش میں 25 ہزار مسلمان دعا کیلئے جمع،دنیا حیران وپریشان

    ڈھاکہ :کورونا وائرس: بنگلہ دیش میں 25 ہزار مسلمان دعا کیلئے جمع،دنیا حیران وپریشان ،اطلاعات کےمطابق بنگلہ دیش میں کم سے کم 25 ہزار افراد نے کئی گھنٹوں تک ایک جگہ جمع ہوکر کورونا سے حفاظت کے لیے دعائیں مانگیں۔

    ادھر دنیا بھرمیں اس واقعہ پرحیرانگی کا اظہارکیا جارہا ہے، بنگلہ دیش میں کم سے کم 25 ہزار افراد نے ایک ساتھ جمع ہوکر کئی گھنٹوں تک ملک اور دنیا سے کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے دعائیں کیں اور ہزاروں افراد کے اس عمل پر دنیا بھر میں حیرانگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    بنگلہ دیش کے اخبار ڈھاکا ٹربیون کے مطابق چٹاگانگ ڈویژن کے ضلع لکشمی پور کے مرکزی عید گاہ میں ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے کورونا وائرس سے تحفظ اور اس کے خاتمے کے لیے دعا کا اہتمام کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دعائے شفا کے لیے دور دور سے لوگ علی الصبح مرکزی عیدگاہ پر پہنچنا شروع ہوئے اور تقریبا صبح 7 بجے دعائیہ تقریب کا آغاز کیا گیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اندازا دعائیہ اجتماع میں 25 ہزار افراد نے شرکت کی جو کئی گھنٹوں تک عالمی وبا سے تحفظ اور اس کے خاتمے کے لیے دعائیں کرتے رہے۔رپورٹ کے مطابق اجتماع میں شاہی جامع مسجد کے مولانا محمد انور حسین نے دعائیں پڑھائیں اور اجتماع کے دوران بیماریوں اور وباوں سے حفاظت اور ان کے خاتمے کے لیے بتائی گئی 6 دعاوں کو پڑھا گیا۔

    ہزاروں لوگوں کے اچانک ایک جگہ پر جمع ہونے اور کئی گھنٹوں تک ان کی جانب سے دعائیں مانگیں جانے کے حوالے سے مقامی انتظامیہ نے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کسی نے بھی ان سے اجتماع کی اجازت نہیں لی اور نہ ہی انہیں اس بات کا بروقت علم ہوسکا کہ علاقے میں ہزاروں افراد جمع ہوئے ہیں۔

    مقامی انتظامیہ اور پولیس نے اچانک ایک ہی جگہ پر خوف کے ماحول میں ہزاروں لوگوں کے جمع ہونے پر حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی بھی تنظیم یا شخص نے انتظامیہ سے دعائیہ اجتماع کی اجازت نہیں لی۔ہزاروں افراد کے جمع ہوکر دعائیں مانگنے کا یہ واقعہ 18 مارچ کو پیش آیا جب کہ بنگلہ دیش میں کورونا وائرس کی وجہ سے پہلی ہلاکت ہوئی۔

    بنگلہ دیش میں ہزاروں افراد کے ایک ساتھ جمع ہونے پر دنیا بھر میں حیرانگی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جہاں 10 لوگ ایک ساتھ مل کر بیٹھنے سے ڈر رہے ہیں،وہیں ہزاروں افراد نے کئی گھنٹے انتہائی قریب رہ کر کیسے اور کیوں گزارے؟

  • حالیہ دنوں چین میں طلاق کی شرح کیوں  بڑھی، رپورٹ جاری

    حالیہ دنوں چین میں طلاق کی شرح کیوں بڑھی، رپورٹ جاری

    چین میں طلاق کی شرح بڑھ گئی

    باغی ٹی وی :کورونا وائرس نے چین کے اندر طلاق کی شرح کو بھی زیادہ کردیا . کہا جاتا ہے کہ کورونا نے خانگی معاملات کو بھی متاثر کیا ہے .ملک میں رجسٹرڈ دفاتر کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے خود کو قرنطینہ یعنی الگ تھلگ کرنے کے دوران چین میں طلاق کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ جوڑے گھر میں ایک ساتھ بہت زیادہ وقت گزار رہے ہیں اور اس دوران ناچاکیاں بڑھ رہی ہیں.

    رپورٹ میں کہا گیا ہے .چوبیس فروری سے 300 سے زائد جوڑوں‌ نے طلاق لینے کے لئے اپنا شیڈیول طے کیا ہے ، یہ بات جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے شہر دازہو میں شادی رجسٹری کے منیجر لو شیجون نے بتایا۔

    ماہرین اور عہدیداروں کا خیال ہے کہ طلاق کی درخواستوں میں تیزی سے اضافہ اس حقیقت کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ شراکت داروں نے قرنطین کے تحت قریبی حلقوں میں بہت زیادہ وقت صرف کیا ہے۔
    مسٹر لو نے مقامی پریس کو بتایا ، ضلع میں طلاق کی شرح کورونا وائرس پھیلنے سے پہلے کے مقابلہ میں بہت بڑھ گئی ہے۔

    واضح‌رہے کہ چین اب کورونا اثرات سے نکل رہا ہے ، خبررساں ادارے اے پی کے مطابق کورونا وائرس سے متعلق چینی حکام کا بیان دنیا بھر میں ایک مثبت امید کی علامت بن گیا ہے۔علاوہ ازیں چینی حکام نے کہا کہ گزشتہ روز کورونا وائرس سے متاثرہ تمام 34 نئے کیسز غیر ملکی مسافروں میں رپورٹ ہوئے۔
    اس ضمن میں چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے سینئر انسپکٹر جیو یاہوئی نے کہا کہ ’ہم نے آج اتنے دنوں کی سخت کوشش کے بعد طلوع آفتاب کو دیکھا ہے.جب کوئی بھی کیس کرونا وائرس کے حوالے دائر نہیں‌ ہوا ہے .

    واضح رہے کہ چین کے شہر ووہان سے نئے نوول کورونا وائرس کووِڈ 19کا پھیلاﺅ شروع ہوا تھا جو دنیا کے 162 سے زائد ممالک میں پھیل گیا۔

    چین کا شہر ووہان جنوری سے لاک ڈاؤن تھا، جہاں کسی کو داخلے یا نکلنے کی اجازت نہیں تھی اور صرف خصوصی اجازت نامے کے ذریعے ہی لوگ باہر نکل سکتے تھے۔

  • کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    گزشتہ سال چائنہ سے شروع ہونے والا کرونا وائرس دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں 370 کے قریب شہری اس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے چار کامیاب علاج کے بعد اپنے گھر جا چکے ہیں جبکہ دو افراد کے لیے یہ وائرس جان لیوا ثابت ہوا ہے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں عام شہری کی ذمہ داریاں کیا ہو سکتی ہیں؟ میں پاکستانی شہریوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ انتہائی عقلمندی اور ہوش سے کام لینا ہو گا ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنا ہو گا کہ جس سے ہماری ذات کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لئے چند باتوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے سب سے پہلے یہ کہ کرونا وائرس سے متعلق کوئی بھی خبر شئیر کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ یہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے اور اس کو جاری وہی ادارہ کر رہا ہے جس کا یہ کام ہے؟ مصدقہ خبریں ضرور شئیر کریں لیکن خدارا کوئی بھی ایسی خبر شئیر نہ کریں جو غیر مصدقہ ہو اور اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔کیونکہ کرونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دشمن کرونا وائرس پر بھی گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں وہ ہم سے لاشعوری طور پر ایسے کام کروانا چاہتے ہیں جن سے پاکستان میں کرونا وائرس ذیادہ تباہی پھیلا سکے۔ اس چال کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہمیں جو ہدایات دے ہم ان پر پوری طرح سے عمل کریں۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے چند باتوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں سب سے پہلے اپنی اور اپنے خاندان کی نقل و حمل کو انتہائی محدود کر دیں اور گھروں سے انتہائی مجبوری کی صورت میں باہر نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاص طور پر بچوں اور 50 سال سے زائد عمر کے لوگ کسی صورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ گھر کے تمام افراد روزانہ 20 بار ہاتھ دھوئیں اور ہر بار 20 سیکنڈ کا دورانیہ ہو۔ ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال بھی دن میں کئی بار کیا جائے۔ جب بھی انتہائی ضروری کام سے گھر سے باہر جائیں تو فیس ماسک پہن لیں۔ کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کریں۔ تمام قسم کی چھوٹی بڑی تقریبات میں شرکت نہ کریں ۔ گھر پہنچتے ہی ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں۔ یہ ایسی ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد کر کے ہم اپنے آپ اور خاندان کو کرونا وائرس سے بچا سکتے ہیں اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے آپ کا یہ عمل آپ کے ذمہ دار ہونے اور پاکستان کو کرونا سے ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ اس دوران اگر کوئی شخص جس میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبر پر اطلاع دی جائے۔ آخر میں امید کرتا ہوں کہ آپ میری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کریں گے اور کرونا وائرس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی گھنائونی چال کو بھی ناکام بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان ذندہ باد

  • حکومتِ پاکستان نے کورونا وائرس کے حوالے سے سرکاری ویب سائٹ لانچ کردی

    حکومتِ پاکستان نے کورونا وائرس کے حوالے سے سرکاری ویب سائٹ لانچ کردی

    اسلام آباد:حکومتِ پاکستان نے کورونا وائرس کے حوالے سے سرکاری ویب سائٹ لانچ کردی،اطلاعات کےمطابق ویب سائٹ پر عوام پورے پاکستان میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے حوالے سے معلومات بھی حاصل کرسکیں گی— فوٹو: اسکرین گریب

    اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ عوام کو کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ ترین اور مصدقہ اطلاعات پہنچانے کیلئے حکومت پاکستان نے سرکاری ویب سائٹ تیار کرلی ہے۔

    ڈاکٹرطفرمرزا نے بتایا کہ https://covid.gov.pk پر عوام پورے پاکستان میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے حوالے سے معلومات بھی حاصل کرسکیں گی۔

  • ‘ایران میں کورونا وائرس سے ہر 10منٹ میں ایک شخص کی موت’اپنے ہی مرنے والوں سے نظریں چرانے لگے

    ‘ایران میں کورونا وائرس سے ہر 10منٹ میں ایک شخص کی موت’اپنے ہی مرنے والوں سے نظریں چرانے لگے

    تہران :’ایران میں کورونا وائرس سے ہر 10منٹ میں ایک شخص کی موت’اپنے ہی مرنے والوں سے نظریں چرانے لگے ،اطلاعات کےمطابق ایران کی وزارت صحت کے مطابق ایران میں کورونا وائرس سے ہر 10 منٹ میں ایک شہری کی موت واقع ہو رہی ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہاںپور کا کہنا ہے کہ ہے کہ تقریباً ہر ایک گھنٹے میں 50 ایرانی شہری کورونا وائرس میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ترجمان نے اپنی ٹوئٹ میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس سال نئے سال کا تہوار نوروز بھی گھروں میں منائیں۔یاد رہے کہ ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چار ہندسوں تک پہنچ گئی ہےاور 1135 ایرانی شہری اب تک کورونا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایران کے ڈپٹی وزیر صحت علی رضا رئیسی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 147 شہری ہلاک ہوئے جب کہ 1192 نئے کیسز بھی سامنےآئے جس کے بعد ایران میں متاثرہ افراد کی تعداد 17 ہزار 361 ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد سو دو لاکھ ہو چکی ہے جن میں سے 84 ہزار مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

  • وبا پر قابو پانے کے لئے افواج پاکستان پوری طرح متحرک ہے،تمام ادارے ملکرکرونا سے نبٹنے کے لیے کام کررہے ہیں : ڈی جی آئی ایس پی آر

    وبا پر قابو پانے کے لئے افواج پاکستان پوری طرح متحرک ہے،تمام ادارے ملکرکرونا سے نبٹنے کے لیے کام کررہے ہیں : ڈی جی آئی ایس پی آر

    اسلام آباد:وبا پر قابو پانے کے لئے افواج پاکستان پوری طرح متحرک ہے،تمام ادارے ملکرکرونا سے نبٹنے کے لیے کام کررہے ہیں ،اطلاعات کےمطابق پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لئے افواج پاکستان پوری طرح متحرک ہے۔ عوام کا اعتمادافواج پاکستان کا اثاثہ ہے۔ ہر کسی کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    اسلام آباد میں معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج سول اداروں کے ساتھ مل کر تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ پاک فوج سول اداروں کے ساتھ مل کر قرنطینہ میں مدد کر رہی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کے 13 مارچ کے اجلاس میں ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وبا سے پاکستان کو محفوظ رکھے۔ پاک فوج حکومت کے ساتھ ملک کر کرونا وائرس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے فارمیشن کو ہر ممکن مدد کی ہدایت کی ہے۔ تینوں مسلح افواج کی میڈیکل سہولتوں کو ہر طرح سے تیار کیا گیا ہے۔ فوج کے تمام ادارے مشترکہ نگرانی کر رہے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ قرنطینہ سینٹر بنانے سے متعلق بھی معاونت کر رہے ہیں۔ ملتان کے قرنطینہ سینٹر میں پاک فوج بھرپور مدد کر رہی ہے۔ سکھر میں رینجرز قرنطینہ سینٹرز کے قیام میں معاونت کر رہی ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ لوگوں کو بروقت اور درست معلومات دینا ضروری ہے۔ موبائل کمپنیوں کیساتھ مل کر پیغامات عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے موجودہ صورتحال سے عوام کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ زمینی راستوں پر فوج اور سول انتظامیہ سکریننگ میں مصروف ہیں۔ ایئرپورٹس پر مسلح افواج کے جوان سکریننگ میں معاونت کر رہے ہیں۔ 21 مارچ سے ملتان، فیصل آباد اور کوئٹہ ایئرپورٹ آپریشنل ہوں گے۔

    دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں 326 کنفرم کیسز ہیں، لیکن گبھرانے کی ضرورت نہیں، پاکستان اس میں تنہا نہیں، دنیا بھر میں 2 لاکھ 20 ہزار کنفرم کیسز ہیں اور ان میں بہت سے ایسے افراد ہیں جو اس وائرس کو بیرون ممالک سے اپنے ساتھ لائے، پچھلے 24 گھنٹوں میں کورونا سے ہمارے دو پاکستانیوں کی جان گئی۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ عوام ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریز کریں، عوام بلاضرورت اسپتالوں میں نہ جائیں، اسپتالوں میں مریضوں کا بہت بوجھ ہوتا ہے، مریض کی صحت بہت خراب ہے تو ساتھ صرف ایک فرد جائے، طبی عملے کو محفوظ رکھنے کیلئے سامان کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے اور عوام بغیر تصدیق کے اطلاعات کو نہ پھیلائیں۔

  • کورونا وائرس: اسرائیل میں مذہبی پیشواؤں کا حکومتی ہدایات ماننے سے انکار،مذہبی ادارے بدستورکام کررہے ہیں‌

    کورونا وائرس: اسرائیل میں مذہبی پیشواؤں کا حکومتی ہدایات ماننے سے انکار،مذہبی ادارے بدستورکام کررہے ہیں‌

    تل ابیب :کورونا وائرس: اسرائیل میں مذہبی پیشواؤں کا حکومتی ہدایات ماننے سے انکارکا معاملہ شدت اختیارکرگیا، ادھراطلاعات کےمطابق اسرائیل میں قدامت پسند مذہبی پیشواؤں نے حکومت ہدایات ماننے اور درسگاہیں بند نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے جس سے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل بھی دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح وائرس کی زد میں ہیں جہاں گزشتہ 24گھنٹوں 100 سے زائد کیسز رپورٹ ہونے کے سبب متاثرہ افراد کی تعداد 529ہو گئی ہے جن میں سے 10 کی حالت نازک ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ ہفتے تمام ملک میں اسکولوں اور جامعات کی بندش کا حکم دیا تھا تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور ملک کے اکثر علاقوں میں اس حکم کی تعمیل کی گئی لیکن قدامت پسند یہودیوں کے علاقے ہریدی میں اب بھی کچھ تعلیمی ادارے کھلے ہوئے ہیں۔

    تاہم یہودیوں کے مذہب پیشواؤں ‘ربی’ نے رواں ہفتے کے اوائل میں حکومت کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے اسکول اور درسگاہیں کھلے رکھنے کا اعلان کیا تھا۔رواں ہفتے اس بات کے شواہد ملیں ہیں کہ ہریدی کے گرد و نواح میں وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہر چار میں سے ایک شہری کو گھر تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے البتہ اس کے باوجود انتہا پسند ربی اپنے موقف پر قائم ہیں۔

    ربی کے اہم حلقے کے رکن شمولک وولف نے کہا کہ توریت کی تعلیمات منسوخ کرنا کورونا سے زیادہ خطرناک ہے، توریت ہماری حفاظت کرتی ہے، ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔دوسری جانب یروشلم میں کورونا وائرس کے پیش نظر سخت حکومت ہدایات کے باوجود وائرس کے خاتمے کے لیے خصوصی دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

    مغربی دیوار کی حفاظت سمیت تمام تر انتظامات کے لیے قائم فاؤنڈیشن نے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ جمعرات کو 10شرکا پر مشتمل دعائیہ تقریب منعقد کرائیں گے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ ہو سکے۔ان دعائیہ تقریب کو ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جائے گا تاکہ گھر بیٹھے اس تقریب میں میں شرکت کر سکیں۔

    ویسٹرن وال ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ کوتل میں دعائیہ تقریب وزارت صحت کی ہدایات پر منعقد کی جا رہی ہے جبکہ اس موقع پر مغربی دیوار کے ربی شیموئل ربی نووٹز اور مشہور گلوکار یشائی ریبو بھی موجود ہوں گے۔فاؤنڈیشن نے کہا کہ وہ سخت حکومتی ہدایات کے باوجود کوتل کے علاقے کو کھلا رکھیں گے اور عبادت کے خواہشمند افراد کے لیے مذہبی مقامات کو کھلا رکھا جائے گا۔

  • کورونا وائرس کے 80 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو سکتے ہیں،  ڈاکٹر یاسمین راشد

    کورونا وائرس کے 80 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد

    80 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد

    باغی ٹی وی :صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا ہے کہ کرونا کے 80 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔پنجاب میں کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد 78 ہو چکی ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 384 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے جو کیس مثبت آئے ان کی تعداد 78 ہے۔ کرونا وائرس کی تشخیص والے افراد کو الگ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 فیصد لوگ پیناڈول کیساتھ ہی ریکور کر لیں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس وقت لاہور کے میو ہسپتال میں کرونا وائرس میں مبتلا 4 مریضوں کا علاج جاری ہے اور وہ ریکور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گجرات میں بھی دو مریض سامنے آئے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں سب کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے نمبر آئیں گے ہم بتاتے رہیں گے۔ زائرین کا اگلا گروپ آ رہا ہے، ان کو ملتان میں رکھا جائے گا۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ رات دس بجے کے بعد سب کچھ بند ہو جائے گا۔ ہم نے مدارس، کالج اور تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔ کرونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے بہت پہلے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران والوں نے کہا ہے کہ پاکستانی زائرین کو سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔ اگلے دو سے تین ہفتے کے اندر 5 ہزار کے قریب زائرین اور طالبعلم وطن واپس آئیں گے

  • ہونہارہیں ، عظیم ہیں میرے ملک کے شاہین،پاکستانی جامعات کا کارنامہ، کورونا ٹیسٹ کی سستی ترین کٹس تیارکرکے دنیا کوآفرکردی

    ہونہارہیں ، عظیم ہیں میرے ملک کے شاہین،پاکستانی جامعات کا کارنامہ، کورونا ٹیسٹ کی سستی ترین کٹس تیارکرکے دنیا کوآفرکردی

    اسلام آباد :ہونہارہیں ، عظیم ہیں میرے ملک کے شاہین،پاکستانی جامعات کا کارنامہ، کورونا ٹیسٹ کی سستی ترین کٹس تیار،اطلاعات کےمطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ہونہار سائنسدان کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے استعمال ہونے والی "سستی” کٹ بنا کردنیا کے سامنے اپنی صلاحیتوں کالوہا منواچکے ہیں‌

    10 مارچ 2020 کو نیشنل یونیورسٹی اف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) نے اعلان کیا کہ عطا الرحمٰن اسکول اف اپلائڈ بائیوسائنسز کے سائنسدانوں نے ووہان انسٹیٹیوٹ اف وائرالوجی (چین)، جرمن سینٹر فار انفیکشن ریسرچ (جرمن)، کولمبیا یونیورسٹی (امریکا) اور آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ اف پیتھالوجی (راولپنڈی) کے اشتراک سے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کٹ تیار کرلی ہے، جس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کٹ ان کٹوں سے سستی ہے جو پاکستان چین سے درآمد کررہا ہے۔ چین سے درآمد شدہ ایک کٹ کی قیمت تقریباً 8 ہزار روپے ہے جبکہ نسٹ کے سائنسدانوں کی بنائی ہوئی کٹ کی قیمت تقریباً 2 ہزارروپے بتائی گئی ہے۔

    نسٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر انیلا جاوید اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر علی زوہیب نے اس مشکل میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کٹ تیار کرکے نہ صرف انسانیات کی خدمات میں اپنا حصّہ ڈالا ہے بلکہ ملک کے لیے سستی کٹیں بناکر مہنگی کٹوں کی درآمد میں لگنے والے پیسے بھی بچائے ہیں۔

    اس سے پہلے رواں ماہ پاکستان کے وزیر سائنس فواد چوہدری نے یو کے پاکستان سائنس انوویشن گلوبل سائنس کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں پاکستانی یونیورسٹیز میں ہونے والی تحقیق کے بارے میں دنیا بھر سے آئے 70 سے زائد ماہرین اور سائنسدانوں کو بتایا کہ نسٹ کے سائنسدانوں نے لوگوں میں کورونا وائرس کی بروقت تشخیص کے لیے کٹ تیار کی ہے جس کی قیمت چین سے منگوائی گئی کٹوں سے ایک چوتھائی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا کہ کامسٹ یونیورسٹی کے تحقیق دانوں نے مصنوعی جلد بنائی ہے جو کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے خوش آئند بات ہے۔

    ابھی نسٹ سے خبر آئی ہی تھی کہ 16 مارچ 2020 کو پنجاب یونیورسٹی کے سینٹر اف ایکسیلنس ان مالیکیولر بائیولوجی سے بھی خبر آگئی کہ پروفیسر ڈاکٹر ادریس اور ان کی ٹیم نے نسٹ کی تیار کردہ کورونا وائرس کٹ سے بھی سستی کٹ تیار کرلی ہے۔

    یہ خبر بہت حیرت انگیز تھی کیونکہ اب تو یوں لگنے لگا ہے کہ جیسے "کون سب سے سستی کورونا وائرس کٹ بنائے گا؟” کا مقابلہ شروع ہوگیا ہو۔ملک میں جہاں حکومتی نظام سے لے کر تعلیمی نظام تک کا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے وہاں ایسے ‘سائنسی’ مقابلے ہونا اچھی بات ہے کیونکہ آج کے دور میں ملکی ترقی کے لیے سائنسی ترقی لازمی ہے۔

    ڈاکٹر ادریس نے بتایا کہ اس کٹ میں پولیمریز چین ریکٹشن کے ذریعے بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے۔ سائنسی اصطلاح میں پولیمریز چین ریکٹشن ایسا کیمیائی عمل ہوتا ہے جس میں خلیے کی کاپی کی جاتی ہے جس سے ان کی تعداد اتنی بڑھ جاتی ہے جو تشخیص کے قابل ہو۔

    کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے مریض کے حلق اور ناک سے بلغم کا نمونہ لیا جاتا ہے جسے لیبارٹری میں پولیمریز چین ریکٹشن کے ذریعے زیادہ کرکے وائرس کے ہونے یا نہ ہونے کا بتایا جاتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی اس ٹیم کا دعویٰ ہے کہ نسٹ کی کٹ 2 ہزار روپے کی تھی جبکہ انہوں نے جو کٹ بنائی ہے وہ صرف 500 روپے کی ہے (یعنی درآمد شدہ چینی کٹوں سے سولہ گناہ سستی)۔یونیورسٹی کے ڈاکٹر ادریس نے بتایا کہ اگر حکومت کیمیکلز کے لیے فنڈز دے تو 500 روپے کی ہزاروں کٹس تیار کی جاسکتی ہیں۔