Baaghi TV

Author: +9251

  • قوم کے لیے اجتماعی استغفار کی ضرورت ہے اوربعض لوگ ذہنی مریض بنارہےہیں ، شاہ اویس نورانی بھی بول اٹھے

    قوم کے لیے اجتماعی استغفار کی ضرورت ہے اوربعض لوگ ذہنی مریض بنارہےہیں ، شاہ اویس نورانی بھی بول اٹھے

    کراچی :قوم کے لیے اجتماعی استغفار کی ضرورت ہے اوربعض لوگ ذہنی مریض بنارہےہیں ، شاہ اویس نورانی بھی بول اٹھے ،اطلاعت کےمطابق بزرگ مرحوم عالم دین شاہ احمد نورانی کے صاحبزارے اویس نورانی نے بھی کرونا وائرس کی تباہ کاریوں پراپنے ردعمل کا مختلف انداز میں اظہارکیا ہے،

    باغی ٹی وی کےمطابق شاہ اویس نورانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں کہا ہےکہ انتہائی معذرت کے ساتھ پاکستانی میڈیا کو کرونا وائرس سے اموات کا ایسی بیتابی سے انتظار ہے کہ جیسے بس نہیں چل رہا خود ہی چند افراد کو ہلاک کر دیں۔

    شاہ اویس نورانی نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہےکہ کرونا کی تباہ کاریوں کے خلاف یہ اجتماعی استغفار کا وقت ہے قوم کو ذہنی بیمار کرنے کا نہیں۔لہٰذا میڈیا سمیت ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نازک وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اورقوم کو مایوسیوں کا نہیں بلکی امیدوں اورآسانیوں کا درس دے

  • بھارتی فوج میں کورونا پھیل گیا ،  استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بھارتی فوج میں کورونا پھیل گیا ، استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بھارتی فوج میں کورونا پھیل گیا ، استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    باغی ٹی وی :بھارتی فوج نے کرونا وائرس کے باعث استعفے دینا شروع کردیے ، بھارتی فوج میں‌کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد بھارتی فوج میں کافی افرا تفری کی خبریں ہیں. اس سلسلے میں بھارتی فوج نے اپنے سینئرز کے احکام ماننا بھی ختم کر دیے ہے . معروف صحافی رانا عظیم نے نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فوج اس وقت شدید خوف و ہراس ہے . بھارتی فوج کی لداخ میں تعینات بٹالین میں ایک فوجی کی ہلاکت ہوئی جب پتا چلا کہ اس کی ہلاکت کورونا سے ہوئی ہے تو پوری بٹالین میں افرا تفری پھیل گئی. اس کے بعد پتا چلا کہ پوری بٹالین کورونا کا شکار ہے .

    کورونا کی خبر کے بعد فوج میں خوف اور دہشت کا یہ عالم ہوا کہ بھارتی فوج نے چھٹیاں لینے کے لیے درخواستیں جمع کرانا شروع کروادیں. اکثر نے ڈیوٹی دینے سے انکار کردیا . رانا عظیم نے مزید کہا کہ بھارتی فوج میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس وجہ سے دہشت اور خوف کے ماحول کو بھارتی میڈیا چھپا رہا ہے.

    ادھر پاکستان نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کے حوالہ سے تفصیلات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرونا کی صورت حال پر تشویش ہے، بھارتی حکومت تفصیلات فراہم کرے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ضروری سپلائی یقینی بنائے،بھارت کورونا پھیلاؤ کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون ختم کرے،مقبوضہ کشمیر میں کورونا کی وجہ سے سخت تشویش ہے،وزارت خارجہ میں کرونا کے سلسلے میں خصوصی سیل قائم ہے جو سفارت خانوں سے رابطے میں ہے، دفتر خارجہ میں چوبیس گھنٹے کی ہیلپ لائن بھی قائم کر دی گئی ہے، پاکستانی سفارت خانوں نے کمیونٹی کی رہنمائی کے لیے فوکل پرسنز بھی مقرر کر دیے ہیں.واک ان قونصلر سروسز وزارت خارجہ نے بند کردی ہیں،تمام شہریوں سے کہا گیا ہے کہ حفاظتی اقدامات پرعمل کریں،

  • بحث و تکرار—–از——حافظہ قندیل تبسم

    بحث و تکرار—–از——حافظہ قندیل تبسم

    ایک صاحب فنِ مکالمہ پر لیکچر دے رہے تھے اس سلسلے میں انہوں نے یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جب وہ قرآن کی اس آیت پر پہنچے
    وَدَخَلَ مَعَہُ السْجْنَ فَتَیٰنِ
    "اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے۔”
    تو انہوں نے حاضرین کو بغور دیکھا ،پھر ان سے دریافت کیا :
    ,,اس کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے ؟ ان تینوں میں سے کون پہلے داخل ہوا ؟
    یوسف یا دونوں نوجوان ؟
    ایک پکارا:
    "یوسف علیہ السلام”
    دوسرے نے کہا :
    "نہیں دونوں جوان”
    تیسرا بولا :
    "نہیں ،نہیں، یوسف، یوسف”
    چوتھے نے ذرا ہوشیار بننے کی کوشش کی :
    "وہ اکٹھے داخل ہوئے تھے”
    پھر پانچواں بولا اور ایک شور بپا ہو گیا اصل بات کہیں غائب ہو گئی لیکچرار صاحب یہی چاہتے تھے انھوں نے حاضرین کے چہروں کو غور سے دیکھااور مسکرائے، پھر انہیں خاموش ہو جانے کا اشارہ کیا اور کہنے لگے :
    "آخر مشکل کیا ہے؟ یوسف علیہ السلام پہلے داخل ہوئے ہوں یا دونوں نوجوان ، بات ایک ہی ہے کیا یہ مسئلہ اتنے اختلاف اور بحث و تکرار کا مستحق ہے ؟”
    واقعی بسا اوقات ہم لوگ خواہ مخواہ دوسروں کی باتیں کاٹ کر اعتراض کرتے اور ساری بات کا مزہ کرکرا دیتے ہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کی حقیقت سمجھے بغیر اس پر اعتراض جڑ دیتے ہیں اور صبر یا انتظار کرنے کا تکلف نہیں کرتے
    اللہ تعالی نے سچ فرمایا :
    (وَکَانَ الْاِنْسِانُ عَجُوْلاً )
    "اور انسان جلد باز واقع ہوا ہے”

    بحث و تکرار
    حافظہ قندیل تبسم

  • کرونا وائرس کی صورت معاشی جنگ، چین ہوا سرخرو ، امریکا و یورپ کو نقصان ہی نقصان، اہم رپورٹ

    کرونا وائرس کی صورت معاشی جنگ، چین ہوا سرخرو ، امریکا و یورپ کو نقصان ہی نقصان، اہم رپورٹ

    کرونا وائرس کی صورت معاشی جنگ چین ہوا سرخرو ، امریکا و یورپ کو نقصان ہی نقصان، اہم رپورٹ

    باغی ٹی وی رپورٹ :کورونا وائرس نے صرف ایک ماہ میں دنیا بھر کی سٹاک ایکسچینچ مارکیٹ کو بری طرح تباہ کردیا ہے

    🇺🇸 -26%
    🇬🇧 -26%
    🇨🇦 -25%
    🇧🇷 -27%
    🇷🇺 -20%
    🇦🇪 -19%
    🇿🇦 -16%
    🇦🇺 -24%
    🇮🇳 -14%
    🇸🇬 -17%
    🇭🇰 -12%
    🇰🇷 – 17%
    🇨🇳 (China) + 0,3
    اس چارٹ کے مطابق امریکا کی سٹاک مارکیٹ منفی 26 فیصد کم ہوگئی ، برطانیہ کی منفی 26 فیصد اور بھارت کی سٹاک مارکیٹ پر منفی 17 فیصد فرق پڑا ،اسی طرح دیگر یورپین ممالک بھی بھاری نقصان کا شکار ہوگئیں ہیں اور یہ سلسلہ اب جاری ہے . جبکہ چین جس سے یہ کرونا کا وائرس شروع ہوا تھا وہاں یہ سٹاک مارکیٹ اس وقت 0.3 فیصد مثبت اوربہتری میں ہے.کرونا وبائی مرض کا خالق چین ،معجزانہ طور پر اس مرض کے خلاف لڑ کر بازیاب ہو چکا ہے. اس میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ نہیں ہو رہے ہیں اور جو شہری اس مرض میں مبتلا تھے وہ صحت مند ہو چکے ہیں.
    دنیا کو اب اس وبائی بیماری کے اثرات اور خوف و ہراس کا شدت سے سامنا ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ وائرس امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ میں ہونے والے نقصان کے جواب میں چینی حکومت کی طرف سے ایک اقدام تھا۔

    دنیا کو کساد بازاری میں ڈال کر ان کو یہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا جائے اور پھر ان کے املاک اور سٹاک کو سستے داموں خرید لیا جائے.چین نے دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینج مارکیٹس پر جس قدر کم قیمت لگائی گئی اس کو چین نے خرید لیا ..اس کے ساتھ ہی چینی عالمی کمپنیوں کے مالک بن گئے جو چین میں ہیں . اور بیرنی ممالک کے شہری جو اصل مالک تھے انہوں نے اپنی جان بخشی کو غنیمت سمجھتے ہوئے سب کچھ اونے پونے داموں چھوڑنے کو ترجیح دی .یوں چین کو اب کورونا کا فاتح تصور کیا جا رہا ہے . جبکہ باقی دنیا بقا کی جنگ لڑ رہی ہے

  • کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات —از–عثمان علی

    کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات —از–عثمان علی

    کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے آج عالمی میڈیا بھی اسلام کے دیئے ہوئے زیریں اصولوں کی تعریف کررہا ہے، اسلامی اصولوں کو ہی دنیا بھر میں جہاں جہاں کرونا وائرس پھیلا ہے، اپنایا گیا ہے، اسلام نے آج سے 14 سو سال پہلے ایسی وباء پھیلنے کے بارے میں بتایا کہ یہ کسی ایک آدمی سے دوسری آدمی میں منتقل ہوسکتی ہے پھیل سکتی ہے۔

    صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ شام کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ایک مقام پر آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھیل چکی ہے ۔تو اس وقت قافلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے آپ نے عرض کی یا امیرالمومنین میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "کے جب تم کسی علاقہ کے متعلق سنو کے وقت وہاں وباءپھیل چکی ہے تو اس علاقہ کی طرف مت جاؤ اور اگر تم اس علاقہ میں ہوں جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے تو وہاں سے اپنی جان بچانے کے لئے مت بھاگو”۔

    ایک اور صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے کہ کوڑسے متاثرہ شخص سے اس طرح بھاگو کہ جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو۔ اب آئیے دوسری جانب جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ وباء نہیں پھیلتی کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” لا عدویٰ ولا طیرة” اس لاعدوی کی حقیقت یہ ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمان فرمایا اس وقت زمانہ جاہلیت میں لوگ بیماری کو بیماری کی ذات کی وجہ سے متعدد تصور کرتے تھے نہ کہ اللہ تعالی کی قدرت و منشا کی وجہ سے ۔

    مثال کے طور پر ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کو خارش پڑ گئی ہے ۔اور یہ ایک اونٹ ا سے دوسرے اونٹ میں پھیلی ہے ۔اور زمانہ جاہلیت میں ان کا تصور یہ تھا کہ یہ بیماری ایک اونٹ سے دوسرے اونٹ میں بذات خود منتقل ہوئی ہے یعنی اس نے اللہ تعالی کی مشیت و منشا نہیں ہے ۔تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ پہلے کو کس طرح بیماری لگی ہے ۔ یہ جولا عدوی والی حدیث مبارکہ ہے اس ساری حدیث مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ مشیت باری تعالی اور اللہ کی قدرت کو تسلیم نہیں کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسن کو لگتی ہے ۔

    یہ بیماری بذات خود بدلتی ہے ۔اس میں اللہ تعالی کی کوئی قدرت نہیں ہے ۔ اور یہ اوپر والی تمام احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسلام بابا کے پھیلنے کو تسلیم کرتا ہے ۔ آج جو پوری دنیا میں یہ مسئلہ بنا ہوا ہے کرونا وائرس کے متعلق اس کے لئے بھی اختیاطی تدابیر وہی ہے جو میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف والی روایت ذکر کی ہے ۔آج پوری دنیا میں احتیاطی تدابیر وہی استعمال کی جارہی ہیں۔ اہل پاکستان کو بھی چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی وبا کے بچاو کیلئے اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ جذباتی باتوں کے بجائے حکومت کے دئیے گئے لائحہ عمل پر عمل کریں۔

    کرونا وائرس اور اسلامی تعلیمات
    تحریر : عثمان علی

  • چک پنڈی کا رہائشی گورنمنٹ سکول ٹیچر محمد بلال پرسرار طور پر لاپتہ، مقدمہ درج

    چک پنڈی کا رہائشی گورنمنٹ سکول ٹیچر محمد بلال پرسرار طور پر لاپتہ، مقدمہ درج

    Koگجرات(طارق محمود سے) چک پنڈی کا رہائشی گورنمنٹ سکول ٹیچر محمد بلال پرسرار طور پر لاپتہ، گمشدگی کا مقدمہ تھانہ کنجاہ میں درج تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز دن 11 بجے سے گجرات کے نواحی علاقے چک پنڈی کا رہائشی گورنمنٹ سکول ٹیچر محمد بلال پرسرار طور پر لاپتہ ہے ان کے ورثاء کے مطابق محمد بلال دن 11 بجے بچے کے ساتھ گھر آیا اور دروازے پر اتار کر یہ کہہ کر کہیں گیا کہ میں ابھی آتا ہوں اس کے بعد سے محمد بلال کا فون بھی بند ہے اور اس کے بارے کسی بھی قسم کی کوئی معلومات نہیں ہیں محمد بلال کے ورثاء نے تھانہ کنجاہ میں اس پرسرار گمشدگی کا مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ اور اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو محمد بلال کے بارے میں کوئی اطلاع ہو تو فوری طور پر تھانہ کنجاہ میں رابطہ کرے۔

  • اٹلی میں ایک ہی روز میں 475 افراد ہلاک،79 سالہ اطالوی شخص کےصحت مند ہونے کی اطلاعات سےامید کی کرن پیدا ہوگئی،لاک ڈاون  جاری

    اٹلی میں ایک ہی روز میں 475 افراد ہلاک،79 سالہ اطالوی شخص کےصحت مند ہونے کی اطلاعات سےامید کی کرن پیدا ہوگئی،لاک ڈاون جاری

    اٹلی : اٹلی میں ایک ہی روز میں 475 افراد ہلاک،اطالوی حکومت نے ملک کومزید محصورکرنے کا حکم جاری کردیا ،اطلاعات کےمطابق اٹلی میں ایک ہی روز میں 475 افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں اموات کی مجموعی تعداد 2978 ہو گئی ہیں

    ادھر ذرائع کےمطابق امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہےکہ ایک نئی دوائی کی آزمائش میں ایک 79 سالہ اطالوی بوڑھا آدمی جو کہ کرونا وائرس کی زد میں بہترین علاج کی وجہ سے صحت یا ب ہوگیا ہے اوراس کے بعد ماہرین طب نے اس تجرباتی دوا سے کرونا وائرس سے بچاو کے لیے ایک امید قائم کرلی ہے

    ذرائع کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس سے مزید 475 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد یورپ کے سب سے زیادہ متاثرہ ملک میں کل ہلاکتوں کی تعداد 2978 ہوگئی ہے۔چین کے بعد اٹلی میں کورونا وائرس نہایت تیزی سے پھیلتا جارہا ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

    خطرناک کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے اٹلی کے 14 صوبوں کی ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی کو لاک ڈاؤن کر دیا ہے جس کے بعد اٹلی کی سڑکیں اور سیاحتی مقامات ویران پڑے ہیں۔

    یاد رہے کہ اٹلی میں کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی یہ تعداد کل رات کی ہے، اس کے بعد مزید لوگ کرونا وائرس کی زد میں آکرہلاک ہوئے جن کی صیح تعداد ابھی موصول ہونا باقی ہے

  • کرونا وائرس ایشیامیں تباہی پھیلاتے ہوئے براعظم آسٹریلیا پہنچ گیا ، آسٹریلیا نے 6 ماہ کے لیے سرحدیں بند کرنے کا اعلان کردیا

    کرونا وائرس ایشیامیں تباہی پھیلاتے ہوئے براعظم آسٹریلیا پہنچ گیا ، آسٹریلیا نے 6 ماہ کے لیے سرحدیں بند کرنے کا اعلان کردیا

    سڈنی :کرونا وائرس ایشیامیں تباہی پھیلاتے ہوئے براعظم آسٹریلیا پہنچ گیا ، آسٹریلیا نے 6 ماہ کے لیے سرحدیں بند کرنے کا اعلان کردیا ،باغی ٹی وی کےمطابق کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کا سلسلہ وسیع سے وسیع ترہورہا ہے اوریہ موذی اور جان لیوا کرونا وائرس چین سے جنم لینے کے بعد دنیا بھی میں تباہی پھیلاتے ہوئے اب سمندروں پاربراعظم آسٹریلیا پہنچ گیا ہے،

    باغی ٹی وی کےمطابق کرونا کے سامنے بے بسی ہونے کے بعد اب ملکوں نے بچاوکے مختلف طریقے اپنانے شروع کردیئے ہیں ، جن میں فضائی راستے بندکرنے کے بعد اب سرحدوں کوبھی سیل کردیا گیا ہے، اوراطلاعات کےمطابق حکومت نے 6 ماہ کے لیے ملکی سرحدیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    ذرائع کےمطابق یہ فیصلہ کرونا سے بچنے کےلیے حفاظتی اقدامات کے طورپرکیا گیا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ حکومت نے یہ فیصلہ دیگرممالک کی طرف سے سرحدوں کوسیل کرنے کے بعد کیا ہے ، تاکہ اس وائرس کوملک کے اندرگھسنے ہی نہ دیا جائے

    امریکا سمیت دنیا کے جدید ترین ممالک بھی کورونا سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہو گئے، اٹلی، اسپین، فرانس اور برطانیہ میں ایک ہی روز میں 700 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔جبکہ آسٹریلیا میں ابھی تک 2 مریضوں کی تصدیق کی جارہی ہے

    امریکا میں بھی ایک ہی روز میں 46 اموات کے بعد مجموعی تعداد 155 ہو گئی جب کہ 9 ہزار سے زائد افراد بیمار ہیں جن میں دو امریکی اراکین کانگریس بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد سے ملاقات کرنے کے سبب ایک درجن سے زائد امریکی اراکین کانگریس قرنطینہ میں چلےگئے ہیں۔

  • کرونا وائرس کے آجانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جامد ہوکربیٹھ جائیں،نوابزادہ جمال خان رئیسانی

    کرونا وائرس کے آجانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جامد ہوکربیٹھ جائیں،نوابزادہ جمال خان رئیسانی

    کوئٹہ:کرونا وائرس کے آجانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جامد ہوکربیٹھ جائیں ، بلکہ اس کے خلاف لڑنا ہوگا،باغی ٹی وی کےمطابق فرزند پاکستان شہید نوابزادہ سراج رئیسانی کے بیٹے نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے اپنے باپ کی طرح نسل نواوراس قوم کے بڑوں کوایک امید افزا پیغام دیا ہے

     

    باغی ٹی وی کےمطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں شہید نوابزادہ سراج رئیسانی کے بیٹے نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے مشکل وقت میں پاکستانی قوم کو ایک اہم پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاو کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جامد ہوکربیٹھ جائیں

    جمال خان رئیسانی نے امیدبھراپیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی ایک محنتی اپنے مشن کے لیے بہت کچھ کرنے والے اس کھلاڑی کی طرح جزبات رکھنے ہوں گے جو جیتنے کے لیے سرتوڑکوشش کرتے ہیں، ساتھ ہی جمال خان رئیسانی نے ایک ویڈیو بھی شیئرکی ہے جس میں وہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں بہادربن کرکرونا سے لڑنا چاییے اس کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے ،ایک کھلاڑی کی یہی خوبی ہےکہ وہ مشکل وقت میں بھی اپنا کھیل جاری رکھتا ہے

  • کرونا وائرس کا خطرہ کم کرنے کے لیے سٹیٹ بینک کا اہم قدم

    کرونا وائرس کا خطرہ کم کرنے کے لیے سٹیٹ بینک کا اہم قدم

    کرونا وائرس کا خطرہ کم کرنے کے لیے سٹیٹ بینک کا اہم قدم

    باغی ٹی وی :سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرونا وائرس کے عدم پھیلاؤ کے سلسلے میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنے صارفین کو آن لائن اور موبائل بینکنگ کی ترغیب دی ہے. آن لائن بینکنگ کو پروموٹ‌کرنے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آن لان فیس میں کمی کی ہے
    تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی موجودہ وبا کے پیش نظر اسٹیٹ بینک وبا اور اس کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے معاشرے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کررہا ہے۔

    عوام خصوصاً کاروباری اداروں کو خدمات کی فراہمی میں مالی شعبے کے اہم کردار کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنی خدمات اس طرح ہموار طور پر فراہم کریں کہ کرونا وائرس وبا کا خطرہ کم سے کم ہو۔

    اسٹیٹ بینک نے انٹرنیٹ، موبائل بینکنگ کیلئے بائیو میٹرک تصدیق کی شرط عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بائیومیٹرک تصدیق غیرمعینہ مدت کےلئےملتوی کردی گئی ہے جبکہ بینکوں کے درمیان آن لائن ٹرانزیکشن فیس ختم کردی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ بینک برانچز یا اے ٹی ایمز میں جانے کی ضرورت کم ہو اور ڈیجیٹل پے منٹ سروسز جیسے انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل فون بینکنگ وغیرہ کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔

    اسٹیٹ بینک نے ڈیجیٹل لین دین کے دوران ممکنہ فراڈ کا خدشہ محسوس کرتے ہوئے مالی صنعت کو ہدایت کی ہے کہ ڈیجیٹل چینلز پر کڑی نظر رکھی جائے اور سائبر خطرات کے لحاظ سے نگرانی بڑھا دی جائے۔

    مرکزی بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ انٹربینک فنڈ ٹرانسفر جس میں آن لائن بینکاری ذرائع اور صارفین کے لیے اسٹیٹ بینک کے رئیل ٹائم گراس سیٹلمنٹ سسٹم کے ذریعے رقوم کی منتقلی پر تمام چارجز ختم کردیں تاکہ لوگ کسی لاگت کے بغیر موبائل فونز یا انٹرنیٹ بینکاری کے ذریعے رقوم منتقل کر کے بینک کی برانچ یا اے ٹی ایم جانے کی زحمت سے بچ سکتے ہیں۔